Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 7

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 7

–**–**–

اس دن کے بعد ساحر نے اسے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا اس کی موجودگی میں بھی انجان بنا رہتا حالانکہ کالج چہوڈنے اور گھر لانے کا کام اب بھی اسی کے زمے تھا لیکن اس سارا وقت میں بھی وہ اس طرح رہتا جیسے وہاں دوسرا کوئ موجود ہی نہیں عیشا کو اس کی ناراضگی یا بے نیازی کی کوئ پرواہ نہیں تھی اسے بس ساحر سے ہمیشہ کے لئے جان چہڑانے کا انتظار تھا دادی کی طبیعت اکثر ناساز ہو جاتی تھی اس لئے وہ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پارہی تھی
فجر کا الارم بجا تو وہ آنکھیں ملتے ہوۓ اٹھ کر بیٹھ گئ لڑکھڑاتے ہوے قدموں سے واش روم میں آکر ٹھنڈے پانی سے وضو کیا تاکہ نیند کا خمار اتر جاے باہر آکر اپنا دوپٹہ باندھا اور جاے نماز بچھا کر فجر کی نماز ادا کی اس کے بعد کچھ دیر قرآن مجید کی تلاوت کرتی رہی
یہ اس کا روز کا معمول تھا نماز کے بعد ساحر کے واپس آنے تک وہ قرآن شریف پڑھتی تھی اس کے بعد کبھی تھوڑی دیر کے لیے سوجاتی یا کبھی دادی کے روم میں آکر انہیں قران شریف پڑھ کر سناتی اس کے بعد دونوں مارنگ واک کے لئے باہر چلے جاتے دادی کو ڈاکٹر نے پرسکون و صاف ماحول میں رہنے کی صلاح دی تھی کیونکہ اج کل زیادہ تر بیماریوں کی وجہ ہوا کی آلودگی ہی ہے
ساحر کے آنے پر اس نے تھوڑی دیر پڑھ کر قران مجید رکھ دیا جاےنماز بھی لپیٹ کر اپنی جگہ پر رکھی انٹرکام پر کافی کا کہا اور لائٹ بند کرکے ڑریسنگ روم میں آئ سکای بلیو کلر کی گھٹنوں کے اوپر تک اتی ٹی شرٹ پر بلیو ٹریک پینٹ پہنے دوپٹہ کاندھے پر پھیلائے ا وہ ہمیشہ ہی مختلف کپڑے پہنتی تھی لیکن صرف ایسے جن سے بدن کا کوئ حصہ نظر نا آۓ اور کپڑے چاہے ویسٹرن ہو دوپٹہ ساتھ ہونا لازمی تھا بھلے سر پر نا اوڑھے کپڑے چینج کرکے باہر آئ تبھی ملازم نے دروازے پر دستک دی دروازے کو تھوڑا سا کہول کر اس نے کافی کا کپ تہام لیا اور شیشے کے ڈور کو سلایڈ کر کے بالکونی میں اگئ یہ روم گھر کے باقی کمروں کے مقابلے بہت خوبصورت تھا رنگ سے لیکر سامان تک بیسٹ چوائس تھا جیسے کسی ریاست کے شہزادے کا کمرہ ہو بیڈ ایسی جگہ رکھا ہوا تھا کی بالکونی کے سلائڈنگ ڈور سے پردے ہٹانے پر روشنی سیدھے بیڈ پر پڑتی بالکونی کی سفید دیواریں جامنی پھولوں کی بیل سے سجی ہوئ تھی جو چھت سے نیچے آرہی تھی وہیں ایک جانب کچھ ایگسرسائز مشینیں اور ڈمبلس رکھ کر ساحر نے اپنا چہوٹا سا جم بنایا ہوا تھا اس کی باڑی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اسے جمنگ کا کتنا شوق ہے دوسری طرف ایک ارام دہ کرسی تھی عیشا گرل کو تھامے کھڑی کافی پیتے ہوۓ وسیع عریض لان کا جائزہ لے رہی تھی بارش کا موسم ہونے کی وجہ سے ہوا میں ہلکی ہلکی سردی تھی سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا لیکن مالی اپنے کام سے لگ چکا تھا وہ ایک کے بعد ایک سارے پودوں کو پانی دے رہا تھا سارے لان میں گھاس کی ہری چادر سی بچھی ہوئ تھی اطراف میں طرح طرح کے پھولوں والے پودے تھے جن پر گری شبنم کی بوندیں موتیوں کی مانند چمک رہی تھی اتنا خوبصورت نظارہ تھا کہ روح تک پرسکون ہوجاے
کافی ختم کرکے وہ روم میں اگئ کپ میز پر رکھ کر پرس لینے الماری کی جانب بڑھی لیکن اچانک پیر مڑ گیا اور وہ لڑکھڑا کر صوفے پر سیدھے ساحر کے اوپر گر گئ
اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی عیشا کو اتنے قریب دیکھ کر اسے ایک پل کو خواب سا گمان ہوا وہ اسے دیکھتا ہی رہا عیشا بھی پریشان ہوگئ چار دن بعد اس سے سامنا ہوا بھی تو کیسی حالت میں جہاں اس کے اتنے قریب تھی کہ اس کی گرم سانسوں کی تپش سیدھے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس کے گلے کی چین ساحر کے شرٹ کی بٹن میں الجھ گئ تھی اسلیے دوبارہ وہیں گر گئئ
کیا ہے یہ سب
ساحر نے دھیمے مگر سخت لہجے میں پوچھا لیکن عیشا نے کوئ جواب نہیں دیا بلکہ اپنی چین آزاد کرنے لگی
زرا دیکھ کر چلا کرو خود بار بار آکر مجھ پر گرتی ہو اور گرا ہوا مجھے ہی کہتی ہو
عیشا نے اس کےطنز پر اسے غصے سے دیکھا
مجھے کوئ شوق نہیں ہے تم پر گرنے کا میرا پیر مڑ گیا تھا
وہ دوبارہ چین چھڑانے میں لگ گئی
میں مان لونگا کیونکہ میں تمہاری طرح نہیں ہو
ساحر نے ایک جھٹکے سے چین کو کھینچ کر الگ کر دیا چین تو نہیں لیکن شرٹ کی بٹن ٹوٹ گی عیشا سکون کا سانس لے کر اس سے الگ ہوئ لیکن اس سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا پیڑ مڑنے سے موچ اگئ تھی بڑی مشکل سے خود کو سنبھالے وہ بیڑ تک آئ اور پیر کا جائزہ لیا ہلکی سی سوجن اگئ تھی درد کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگے ساحر غور سے اسے ہی دیکھ رہا تھا عیشا کے آنسو تو اس کی کمزوری تھے فوراً اٹھ کر ڑریسنگ ٹیبل سے سپرے لیا اور بیڈ پر اس کے پیر کے قریب بیٹھ گیا عیشا نے اپنے دونوں پیر سمیٹ کر اس سے دور کر لیے اس کی اس حرکت پر ساحر نے اسے غصے سے دیکھا اور موچ والا پیر کھینچ کر پینٹ کو ٹخنے کے اوپر کیا
کیا کر رہے ہو تم—– چھوڑو میرا پیر
اس نے دوبارہ پیر کو کھینچنا چاہا لیکن ایک تو درد اس پر اتنی مضبوط پکڑ کہ وہ ایک انچ بھی ہلا نہیں پائ ساحر نے پیر کا جائزہ لیا اور ایک زور سے انگھوٹھے کو کھینچ کر پیر کو جھٹکا دیا درد کے مارے اس کی چینخ نکل گئ اس نے ساحر کو پیچھے دھکیلنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن ساحر نے خود تک پہنچنے سے پہلے اس کی کلائ کو پکڑ لیا دوسرے ہاتھ سے پیر پر ٹھیک سے اسپرے کیا اور عیشا کا ہاتھ چھوڈ کر وہاں سے اٹھ گیا سارے وقت میں وہ کچھ نہیں بولا جبکہ عیشا غصے کے مارے اسے گھورتی رہی جسے نظر انداز کرتا وہ واش روم میں آگیا
تم خود کو سمجھتے کیا ہو
وہ اس کے باہر آتے ہی برس پڑی ساحر نے کوئ جواب نہیں دیا انٹرکام پر کافی کا کہا اور ڈریسنگ ٹیبل کے اگے اکر بالوں میں برش کرنے لگا
میں تم سے پوچھ رہی ہوں
ساحر نے پہلے آئینے میں اسے دیکھا اور برش رکھ کر اس کے مقابل اکر کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لئے
کیا ہے
اس کا لہجہ سخت تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے ہاتھ لگانے کی
وہ دانت پیستے ہوئے بولی
میں یہ جاننا چاہتا تہا کہ کیا واقعی تمہارا پیر مڑ گیا تھا یا تم جان بوجھ کر مجھ پر——-
شٹ اپ یو راسکل میں تمہاری گندی صورت کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی
وہ غصے سے بولی
جانتا ہوں لیکن اگر ایک ہی چیز اتنی بار ہو تو کسی کو بھی ڈاؤٹ ہوگا
بے نیازی سے کہتا ہوا وہ دروازے کی جانب بڑھا کافی کا کپ لیا اور صوفے پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ آن کرلیا
تہارا مطلب ہےمیں جان بوجھ کر تمہیں اٹریکٹ کرنے کی کوشش کررہی ہوں
اس نے بے یقینی سے پوچھا
اتنا صاف صاف تو کہ رہا ہوں
سکرین پر نظریں جماے وہ بے نیازی سے بولا عیشا صدمے سی کیفیت میں اسے دیکھتی رہی
یا اللہ اگلی بار اگر میں گرجاؤں تو بھلے ہی میرے جسم کی ساری ہڈیاں ٹوٹ جاے لیکن مجھے اس آدمی کا سہارا مت دینا
وہ غصے میں اسے گھور کر بولی
سوچ سمجھ کر دعا مانگا کرو— تمہاری دعا کا اثر دیکھ چکا ہوں ایک بار
اس نے ایک سپ لے کر کپ میز پر رکھا عیشا کا دھیان اب تک اس طرف نہیں گیا تھا ساحر کے کہنے پر اسے یاد آیا واقعی اس نے ساحر کو کبھی نا دیکھنے کی دعا مانگی تھی لیکن وہی اس کی زندگی کا سب سے اہم شخص بنادیا گیا اس نے شکوہٰ کناں نظروں سے چھت کی جانب دیکھا اور دل ہی دل میں اللہ سے ناراضگی جتایء وہ یہ بھول گئ تھی کہ جب بندے کا فیصلہ اللہ اپنی مرضی سے کرتا ہے تو اس میں ہماری بہتری چھپی ہوتی ہے لیکن ہم نا شکری کرکے اپنی ہی خوشیوں کے دشمن بن جاتے ہیں
اس نے دادی کو فون کرکے اپنی صورت حال بٹائ اور ان سے معزرت کی دادی نے اسے آرام کرنے کا کہ کر دعائیں دیتے ہوۓ فون بند کردیا
وہ کافی دیر تک سوتی رہی جب آنکھ کہلی تو دادی اس کے نزدیک بیٹھی شفقت سے اس کے بالوں میں انگلیاں پہیر رہی تھی وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئ
دادی آپ یہاں—–آپ اوپر کیوں آے——- مجھے کہ دیتے میں آجاتی
وہ جانتی تھی دادی کو سیڑھیاں چڑھنے میں کتنی تکلیف ہوئ ہوگی
اس حالت میں تم کیسے آتی—— کیا اپنی بیٹی کے لیے میں چند سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی
اس کی موجودگی میں اج وہ پہلی بار اوپر آئ تھیں وہ بھی اس کی خاطر عیشا کو ان پر بہت پیار آیا
دادی آپ بہت اچھے ہو
وہ ان کے گلے لگ کر بولی اسے اپنے امی ابو کی محبت یاد اگئ تو آنکھوں میں آنسو اگئے
ارے تم رو رہی ہو ——کیا بہت درد ہورہا ہے
اس نے انگلیوں کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوۓ گردن نفی میں ہلادی
دادو میں نکل رہا ہوں آپ سیڑھیاں اترنے کے لئے نینا کو ساتھ میں ضرور لینا
وہ ڈریسنگ روم سے باہر آکر بالوں کو جیل سے سیٹ کرتے ہوے بولا
تم جا کہاں رہے ہو—— وہ بھی بنا ناشتہ کئے
ایک امپورٹمٹ میٹنگ ہے دادو ——میں وہیں پر کچھ کہالونگا
وہ ٹائی باندھنے لگا
نہیں تم کہیں نہیں جاونگے—– عیشا کو تمہاری ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے اج سارا وقت اس کے ساتھ رہنا
دادی نے سختی سے حکم دیا
دادو میں بس میٹنگ اٹینڈ کرکے واپس آجاؤنگا تھوڑی دیر میں
اب کے وہ اُن کے پاس آکر بولا
بلکل نہیں میں نے کہ دیا کہ تم نہیں جاؤگے تو نہیں جاؤگے—- ڈاکٹر کو فون کرکے بلاؤ
نہیں دادی اس کی ضرورت نہیں ہے میں بلکل ٹھیک ہوں
عیشا نے اُنہیں روکنا چاہا
دیکھ رہی ہوں کتنی ٹھیک ہو چہرہ دیکھو کیسا مرجھا گیا ہے —–اور تم اب تک یونہی کھڑے ہو جاؤ ڈاکٹر کو بلاؤ اور اس کے لئے کچھ کھانے کو بھی لے آؤ
اس بار انہوں نے کچھ سختی سے کہا
سوری دادو میں اپنا قیمتی وقت ان لوگوں کو نہیں دیتا جنہیں میری ضرورت نا ہو اپنا خیال رکھیے گا خدا حافظ
ایک ساتھ کہ کر وہ بنا دیر کئے باہر نکل گیا عیشا اس کی پشت کو دیکھتی رہ گئ
تم اس کی باتوں کا برا مت مانو بیٹا شروع سے ہی زرا کم دماغ ہے زرا زرا سی بات پر غصہ ہوجاتا ہے- لیکن دل کا برا نہیں ہے– بس کبھی کبھی ہٹ دھرمی کرنے لگتا ہے
سات سال کا تھا جب ماں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا_— اس وقت تو کچھ سمجھنے کا بھی شعور نہیں تھا ماں باپ کی موت کا دکھ کیسے مناتا—– ہر کسی سے بس ایک ہی بات کہتا تھا دونوں بزنس ٹور پر گئے ہے آۓ گے تو اس کے لیے ڑھیر سارے کھلونے لے کر آۓ گے —–کبھی کبھی گیٹ سے جھانک کر ان کا انتظار کرتا تھا —-مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اسے بتاتی کہ اب وہ دونوں کبھی نہیں آۓ گے—– اکلوتے بیٹے کو کھونے کا دکھ بھول کر اس کا درد کم کرنا چاہتی تھی —–میرے بیٹے کی آخری نشانی جو وہ میرے بھروسے چھوڑ گیا تھا—– لیکن تمہارے داداجان اس دکھ کو برداشت نہیں کرسکے اور انہوں نے بھی میرا ساتھ چہوڑ دیا –اس وقت میں حقیقت میں ٹوٹ گئ تھی زندہ رہنے کی خواہش ختم ہو گئ تھی—– لیکن ساحر کا معصوم چہرہ مجھے اپنا دکھ بھولنے پر اکساتا تھا وقت کے ساتھ ساتھ اس نے یہ یقین تو کرلیا کہ اس کا انتظار لاحاصل ہے لیکن اج بھی افسوس کرتا ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ گزارا ایک لمحہ بھی یاد نہیں جسے یاد کرکے سکون پاسکے
ان کا چہرہ آنسووں سے تر ہو چکا تھا عیشا نے روتے روتے اپنے ہاتھوں سے ان کے آنسو صاف کی اور ان کے گلے لگ گی
لیکن اب مجھے اس کی کوئ فکر نہیں ہے تم جو ہو اس کا خیال رکھنے کے لئے
وہ کہنا چاہتی تھی کہ میں اس کاخیال نہیں رکھ سکتی دادی اپ نے مجھ سے غلط امید لگائ ہے
لیکن وہ صرف سوچ کر رہ گئ دادی نے اسے خود سے الگ کیا
دادی اپ کی طبیعت خراب ہو جاے گی
سوری بیٹامیں نے تمہیں بھی پریشان کردیا
نہیں دادی آئ ایم سوری اگر مجھ سے کوئ غلطی ہوگئ تو آپ مجھے معاف کر دینا پلیز
دادی نے اس کی معصومیت پر مسکراکر اس کی پیشانی چوم لی تبھی دروازہ کہول کر ساحر اندر داخل ہوا
ڈاکٹر کو فون کردیا ہے میں نے ——پہنچتا ہی ہوگا وہ
وہ اپنی ٹائی نکال کر سائڈ میں رکھتے ہوئے بولا
مجھے معلوم تھا تم واپس آؤگے
دادی نے عیشا کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا
اپ کی وجہ سے آنا پڑا ورنہ اپ خود کو بھول کر دوسروں کی خدمت میں لگ جاتی
یہ کوئ دوسری تھوڈے ہی ہے یہ تو میری بیٹی ہے
انہوں نے عیشا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا
لیکن اپ نے تو بتایا تھا پاپا اپ کے اکلوتے بیٹے تھے تو اب یہ بیٹی کہاں سے اگئ میری کوئ چھوٹی دادی بھی ہے کیا
وہ چہرے پر سنجیدگی لیے شرارت سے بولا
ساحر مار کہاوگے میرے ہاتھ سے چلو مجھے نیچے چھوڑ آؤ اور عیشا تم کھانا کھا کر آرام کرنا اور کوئ بھی ضرورت ہو تو بلا جھجھک ساحر سے کہنا
انھونے پیار سے اس کا گال تھپتھپایا
جی دادی
ساحر انہیں لئے نیچے چلا گیا جب وہ واپس آیا تو ڈاکٹر کے ساتھ تھا ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کرکے دوائ دی اور آرام کرنے کی صلاح دی ساحر نے ملازم سے کہ کر اس کا کھانا وہیں لگوادیا وہ سارا دن وہ دوائ کے زیر اثر سوتی رہی اس لئے اسے ساحر کی مدد کی ضرورت ہی نہیں پڑی ساحر دن بھر گھر کو ہی افس بناے فائلوں میں الجھا رہا لیکن وقفہ وقفہ سے ایک نظر اس کے سوتے ہوے وجود پر ڈال لیتا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: