Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 8

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 8

–**–**–

دو دن تک ریسٹ لے کر وہ لگ بھگ ٹھیک ہو گئ تھی لیکن چلتے ہوے اب بھی تکلیف محسوس ہو رہی تھی دو دن تک ساحر نے ایک ملازمہ کو سارا دن اس کے پاس رہ کر اس کا دھیان رکھنے کی تاکید کر رکھی تھی اس لئے وہ مکمل بیڈ ریسٹ لے رہی تھی ساحر کے انے تک ملازمہ اس کے پاس ہی رہتی
وہ رات کا کھانا کھاکر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاے بیٹھ گئ دادی کو فون کرکے ان سے دیر تک بات کرتی رہی دو دن سے وہ اپنے روم میں ہی تھی دادی اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود صبح آکر اس سے ضرور ملتی تھی دو دن کمرے میں بند رہنا اسے دو مہینے قید میں ہونے کے برابر لگ رہا تھا فون بند کرکے اس نے ٹی وی ان کرلیا اور گانے دیکھنے لگی ساحر کے آنے پر ملازمہ کھانے کے برتن لئے باہر نکل گئ
عیشا کو ہلکا ہلکا سا بخار تھا جس سے کمزوری محسوس ہورہی تھی اس نے بیڈ سائڈ ٹیبل سے باکس نکال کر بخار کی گولی لی پانی پیتے ہوۓ غلطی سے پانی اس کے کپڑوں پر بھی گر گیا بخار کی وجہ سے پانی گرنے پر اس کے جسم میں کپکپی سی ہونے لگی وہ پریشان ہوکر بیڈ سے اترنے لگی کھڑے ہوتے ہی اسے پیر میں ایکدم سے شدید درد ہوا جس سے اس کی چیخ نکل گئ لیکن وہ سنبہلتے ہوے اگے بڑھنے لگی
کیا ہوا– تم ٹھیک تو ہو
ساحر اس وقت ڈریسنگ روم میں کپڑے چینج کر رہا تھا اس کی چیخ سن کر فوراً باہر آگیا اس نے صرف ڈارک گرین کارگو پینٹ پہن رکھی تھی عیشا کی چینخ پر گھبرا کر بنا شرٹ کے ہی باہر آگیا تھا
عیشا نے اسے پہلی بار ایسے دیکھا تھا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا اس لئے اس نے نظریں نیچے کرلی
کچھ چاہئے کیا تمہیں
جواب نا پاکر اس نے دوبارہ پوچھا عیشا نے بنا دیکھے گردن نفی میں ہلادی اور لڑکھڑاتے ہوۓ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھانے لگی
کہا جا رہی ہو
ساحر نے بیزاری سے پوچھا
کپڑوں پر پانی گر گیا ہے چینج کرنے جارہی ہوں
وہ بنا اُسے دیکھے ہی بولی
اوکے آؤ میں تمہیں وہاں تک چھوڑ دوں
اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاکر کہا
نہیں میں چلی جاونگی
عیشا نے اسے نظر انداز کر دیا
تم اتنی ضدی کیوں ہو—– دو قدم بڑھا نہیں پا رہی ہو اور وہاں تک جاوگی-_—- چلو میرے ساتھ
مجھے تمہاری کوئ ہیلپ نہیں چاہئے
اس نے تلخ لہجے میں کہا
جہنم میں جاؤ
غصے میں آکر اس نے اپنا ہاتھ جھٹک کر رخ پھیر لیا وہ مشکل سے چل کر چار قدم آگے بڑھی تھی کہ اگلے قدم پر بری طرح لڑکھڑا کر گرنے لگی لیکن ساحر نے اس کی کلائ پکڑ کر کھینچتے ہوۓ اپنے قریب کرلیا اس نے شکر ادا کیا کیونکہ اس بار گرتی تو دیوار سے ٹکراکر سیدھے سر پھٹ جاتا ساحر نے اسے قریب کرکے ہاتھ اس کی کمر پر رکھ دیے
چار قدم چل نہیں سکتی اور اکڑ دنیا سے زیادہ دکہاتی ہو—- ابھی اگر گرجاتی تو پیر نہیں ساری کی ساری تم ٹووسٹ ہو جاتی
اس کے لہجے میں طنز تھا
چھوڑو مجھے
وہ اب بھی اس کی جانب دیکھنے سے گریز کررہی تھی
تم ایسی کیوں ہو بچپن میں کسی پاگل کتے نے کاٹ لیا تھا کیا
آۓ سے لیو می
عیشا نے اسے غصے سے کہا جبکہ وہ بڑے سکون سے اپنی کہتا رہا
اتنی ضدی ہو تم کہ من کرتا مار مار کر تمہاری ساری اکڑ نکال دوں
وہ غصے سے بولا
تم نے سنا نہیں میں نے کہا چھوڑو مجھے
اب کے سختی سے کہنے کے ساتھ وہ پوری طاقت لگاکر اس کی قید سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ساحر بس اسے دیکھتا رہا
بہت جلدی ہے مجھ سے پیچھا چھڑانے کی کسی اور کے قربت کی عادی ہو کیا جو میرے قریب انے پر یوں پسینے چھوٹتے ہے
کاٹ دار لہجہ میں کہتے ہوۓ اس نے ایک ہاتھ کی دو انگلیوں سے اس کے پیشانی پر آۓ پسینے کے قطرے صاف کئے عیشا شاکی کیفیت سے اسے دیکھتی رہی اور دونوں ہاتھوں سے زوردار دھکا دے کر خود کو چھڑالیا اور پوری قوت سے اسے مارنے کو ہاتھ اٹھایا لیکن ساحر نے خود تک پہنچنے سے پہلے ہے اس کی کلائ کو جکڑلیا
میں تو بڑے بڑے فائٹرس کی مار نہیں کھاتا تو تمہارے نازک ککڑی جیسے ہاتھوں کی مار کیسے کھالونگا
جسٹ شٹ اپ—- تمہاری ہمت کیسے ہوئ میرے بارے میں اتنی گھٹیا بات کرنے کی
وہ غصے سے بولی
اگر کوئ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ ایسا سلوک رکھے گی تو بیچارہ شوہر اور کیا سوچ سکتا ہے
اس نے کلائی پر اپنی گرفت اور مضبوط کردی
تم میرے شوہر نہیں ہو سمجھے تم_—- ہاتھ چھوڑو میرا
اس نے دانت پیستے ہوئے کہا
اچھا اگر شوہر نہیں ہوں تو میرے ساتھ تنہا اس کمرے میں کیوں رہتی ہو
اس کا لہجہ سپاٹ تھا
تمہارے ساتھ رہنا صرف میری مجبوری ہے اگر دادی کی پرواہ نہیں ہوتی نا تو میں کیا میرا سایا بھی اس کمرے میں نہیں ہوتا
وہ حقارت سے بولی
مطلب اگر مجبوری ہو تو کسی بھی نامحرم کے ساتھ رہ لیتی—- بنا کسی رشتے کے
وہ بڑے اطمینان سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کررہا تھا جبکہ عیشا کا سارا دھیان اپنا ہاتھ چھڑانے میں تھا
شٹ اپ—- اینڈ لیو مائے ہینڈ
وہ بھلا اسکا کیا جواب دیتی
پہلے بتاؤ میں تمہارا شوہر ہوں کے نہیں
نہیں میں تم جیسے شرابی آوارہ اور بدکردار انسان کو کبھی اپنا شوہر قبول نہیں کرسکتی
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی
ارے واہ—- یہ ساری خوبیاں بھی ہے کیا مجھ میں
اس نے مسکراتے ہوئے کہا
زیادہ بھولے بننے کی کوشش مت کرو—– میں نے خود تمہیں ڈرنک کرتے ہوۓ دیکھا ہے
غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی
بڑی ہی تیز آنکھیں ہے تمہاری—— ویسے کہاں پکڑا گیا میں
ولیمے والی شام تم اپنے دوستوں کے ساتھ ایک طرف بیٹھے شراب پی رہے تھے میں نے خود اوپر اتے وقت تمہیں دیکھا تھا روم میں تمہارے کپڑوں سے سمیل بھی آرہی تھی
اس نے نفرت اور غصے سے کہا
او نو کتنا چھپا کر پیتا تھا میں —-لیکن تمہیں پتا لگ ہی گیا—- یو آر سو انٹیلیجنٹ یار —-تب تو تم نے مجھے کسی لڑکی کے ساتھ کوئ شرمناک حرکت کرتے ہوۓ بھی دیکھا ہی ہوگا
وہ اس کی جانب جھکتے ہوئے بولا
مجھے تمہارے کسی حرکت سے کوی لینا دینا نہیں ہے—-جسٹ گو ٹو ہیل.—– یو باسٹرڈ
عیشا————
اُسے ایکدم سے غصّہ آگیا اس نے ایک ہاتھ سے عیشا کا چہرہ دبوچ لیا
اپنی حد میں رہو—_- اگر میں سن رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمہارے جو جی میں آۓ کہدو— تم مجھے نہیں جانتی ——بتارہا ہوں اگر میں اپنی والی پر آگیا نا تو تم بہت پچھتاوگی——- نرمی سے بات کررہا ہوں تو فائدہ مت اٹھاؤ
وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا
چہوڈو مجھے ورنہ میں ابھی دادی کو سب کچھ بتادونگی—– سارا قصہ ابھی ختم ہو جایگا
اس نے اپنے چہرے سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ مشکل سے کہا ساحر نے اس کا چہرہ تو چھوڑ دیا لیکن کلائی ویسے ہی پکڑے رکھا اور مکروہ ہنسی ہنستے ہوے بولا
مائ ڈئیر وائف ——مجھے دھمکی سننا بلکل بھی پسند نہیں ہے—— دادی کو بتانا چاہتی ہو نا —–بتادو—— لیکن اس کے بعد دادی کا جو ری ایکشن ہو گا اس کے مطابق میں تمہارا فیوچر ڈیسائڈ کرونگا
.
اس نے عیشا کو اپنے قریب کھینچ لیا اتنا کہ صرف ایک انچ کا فاصلہ رہ گیا
مجھے ہلکے میں مت لو عیشا—– اگر میں چاہوں نا تو اسی وقت تمہارے ساتھ کچھ بھی کرسکتا ہوں—– کچھ بھی–* اور مجھے کوئ نہیں روک سکتا —–تم بھی نہیں
کہ کر واپس تھوڑی دور ہوگیا
لیکن میں ایسا کرونگا نہیں ——کیونکہ اس معاملے میں مجھے زبردستی منظور نہیں ہے
ساحر سکون سے کبھی اس کی آنسو بہاتی آنکھوں کو تو کبھی کپکپاتے ہونٹوں کو دیکھتا رہا عیشا پورے زور سے جھٹکے دے کر ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں لگی رہی ناکام ہو کر اس نے ساحر کو نفرت سے گھورا اور اس کی کلائ میں اپنے دانت گاڑ دیے وہ جانتا تھا وہ ایسا ہی کچھ کرےگی لیکن وہ ٹس سے مس نا ہوا اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچ کر درد برداشت کرتا رہا لیکن چہرے پر درد کی ایک شکن تک نہیں آئ مقصد صرف اسے اپنی ہمت کا احساس دلانا تھا تھک کر عیشا نے اس کی کلائ چہوڈ دی اس نے اتنی سختی سے کانٹا تھا کہ اس کے ہٹتے ہی خون اُبھرنے لگا
بس اتنی ہی طاقت ہے اس لئے انسان کو ہمیشہ ہیلدی فوڈس کھانا چاہئے چڑیا کی طرح کھانا کھاتی ہو اور غصہ شیرنی کی طرح کرتی ہو
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا اس کی ہمت جواب دے گئ اور اس نے ساری کوشش ترک کردی
پلیز—–مجھے چھوڈ دو——- مجھے ب——-بہت چکر آرہے ہے پیٹ بھی درد کررہا ہے——پ پلیز
ہارمانتے ہوۓ اس نے تھکے تھکے انداز میں پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا اور بے ہوش ہوکر اس کے سینے پر گر گئ- ساحر اس کی ایسی حالت دیکھ کر گھبرا گیا
عیشا——-عیشا کیا ہوا —-او نو
اس نے فکرمندی سے اس کا گال تھپتھپاتے ہوۓ پوچھا کوئ جواب نا پاکر اسے یونہی ساتھ لگاۓ بیڈ تک لے آیا بیڈ پر لٹا کر اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کیا عیشا نے آنکھیں کہولی اور دوبارہ بند کرکے سونے لگی
تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تم صرف دادی کی خاطرمجھے یہاں روک رہے ہو—- اسی لئے میں نے تمہاری بات مان کر ان کے سامنے کچھ ظاہر نہیں ہونے دیا اب تم میرے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہو—— کم سے کم دادی کا تو خیال کرو انہیں کتنا برا لگے گا اگر وہ تمہارا یہ روپ دیکھے گے
وہ اپنے آپ میں ہی بڑبڑارہی تھی ساحر کو اپنی حرکت پر بےحد افسوس ہوا اس کا مقصد ہر گز عیشا کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا اس سے عیشا کی ضد اور ہٹ دھرمی برداشت نہیں ہوتی تھی وہ صرف اسے اپنے اور اپنے رشتے کی اہمیت کا احساس دلانا چاہتا تھا
تم میرے کوئ نہیں ہو میں تمہیں——– اپنا شوہر نہیں مانتی میں تم سے نفرت کرتی ہوں—— میں
ساحر نے اسے تسسلی دینے کے لیے منہ کھولا لیکن اسے نیند میں ایک ہی بات بڑبڑاتا دیکھ بیزار ہوکر وہاں سے اٹھ گیا اسے چادر اوڈھا کر بالکونی میں آگیا رات کے تین بجے وہ بنا شرٹ کے ٹھنڈ سے بے نیاز بالکونی میں کھڑا ایک نقطہ پر نظر جماے صرف اتنا سوچ رہا تھا کہ وہ اس سے اتنی بدگمان کیوں ہے کیوں اس سے اتنی شدید نفرت کرتی ہے کیوں اس کے لئے اپنے دل میں اتنی غلط فہمیاں رکھتی ہے مگر لاکھ سوچنے پر بھی اسے ان سوالوں کا جواب نہیں ملا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: