Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 9

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – قسط نمبر 9

–**–**–

صبح جب آنکھ کھلی تو اسے اپنے سامنے پایا وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا عیشا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ ایک غصہ بھری نظر اس پر ڈالی اور منہ پہیر لیا
یہ لو دوائ کہالو
ساحر نے اسے بے حد سرد لہجے میں مخاطب کیا عیشا نے اس کی جانب دیکھا اور اطمینان سے گولیاں اس کے ہاتھ سے لےلی اور اگلے ہی لمحے زور سے اس کے چہرے پر اچھال دی ساحر کو اس کے اس ردعمل کی پوری امید تھی اس لیے نا وہ حیران ہوا نا غصہ
Accha—– لگتا ہے کل کی رات بھول گئ تم
وہ طنز کرتے ہوئے بولا
اگر تم یہ سوچتے ہو کہ تمہارے ڈرانے دھمکانے سے میں ڈر جاونگی تو یہ محض تمہاری خوش فہمی ہے
کہ کر وہ بیڈ سے اترنے لگی لیکن اس کے لئے یہ نا ممکن تھا اس کی حالت پر ساحر ہنسنے لگا اسے نظر انداز کرکے اس نے انٹرکام کے زریعے ملازمہ کو بلایا
دادی کے سامنے اگر کوئ بھی بکواس کی نا تو یاد رکھنا—–
اس کا نیچے جانے کا ارادہ دیکھ کر وہ دھمکی امیز لہجے میں بولا
میں دادی کو کچھ نہیں بتاونگی—– صرف اس لیے کہ میں تم جیسے انسان کے وجہ سے انہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتی
بہت سمجھدار ہو
ملازمہ کی مدد سے کپڑے بدل کر دوائ لی اور نیچے اگئ دادی پہلے سے وہیں موجود تھیں اسے دیکھ کر خوش بھی ہوئیں اور حیران بھی
دادی بہت خراب لگ رہا تھا روم میں بیٹھے بیٹھے اس لئے میں اگئ
اس نے دادی کی سوالیہ نظروں کو پڑھ لیا
چلو اچھا کیا کمرے میں رہ رہ کر بور ہورہی ہوگی
دونوں نے ناشتہ شروع کیا تبھی ساحر بھی آگیا تینوں خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے دادی ناشتہ کرتے کرتے عیشا کو غور سے دیکھنے لگی جو آج اتنی خاموش تھی جیسے وہاں موجود ہی نا ہو ورنہ ہمیشہ وہ ناشتہ کم اور باتیں زیادہ کرتی تھی انہیں اس وقت وہ کوئ اور لگی مرجھایا ہوا چہرہ تھکی تھکی آنکھیں خاموش سی
فوک سے پلیٹ میں چھوٹے چھوٹے دائرے بنارہی تھی ساحر دادی کو دیکھ کر ان کی سوچ پڑھ گیا دادی نے اسے پکارا لیکن وہ رات والے واقعے کو ہی سوچ رہی تھی اسلئے ان کی آواز سنی ہی نہیں دادی نے دو تین مرتبہ آواز دی لیکن وہ متوجہ نہیں ہوئ تو انہونے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا وہ چونک گئ اور چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجالی
دادی یہ بہت اچھا بنا ہے نا
اس نے خود کو نارمل دکھانے کی کوشش کی
پہلے یہ بتاؤ تمہیں کیا ہوا ہے
دادی نے فکرمندی سے پوچھا
مجھے کیا ہوگا دادی میں تو بلکل ٹھیک ہوں
عیشا میں نے ابھی ابھی تمہیں تین بار اواز دی تھی
انہوں نے اسے حیران نظروں سے دیکھا
اوہ سوری دادی میرا دھیان ہی نہیں تھا
وہ واقعی شرمندہ ہوئی
کیا ہوا عیشا اتنی اداس کیوں ہو تم
انھونے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
کچھ نہیں دادی—– بس امی ابو کی یاد آرہی تھی-_—— دادی کیا میں کچھ دن کے لئے امی ابو کے گھر جاؤں
وہ رکتے ہوئے بولی
کچھ دن کے لئے —–
دادی نے انکار کرنا چاہا لیکن اس کی اداس صورت دیکھ کر مانتے ہوۓ بولی
ٹھیک ہے لیکن جلد سے جلد آنے کی کوشش کرنا
وہ خوش ہوگئ کچھ دن کے لیے ہی سہی لیکن وہ ساحر سے دور جارہی تھی دادی نے ساحر کو اسے گھر چھوڑ کر انے کو کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا
عیشاملازمہ کی مدد سے تیار ہونے اوپر چلی گئ ساحر بھی ناشتہ کرکے باہر گاڑی میں بیٹھے اس کا ویٹ کرنے لگا جب وہ تیار ہوکر باہر آئ ساحر کی نظر اس پر پڑی اور وہ نظر ہٹانا بھول گیا وھائٹ سلوار سوٹ میں ہائ لائٹ پنک کلر کا دوپٹہ دونوں کاندھے پر پہیلاے کانوں میں چاندی کے جھمکے اور ناک میں چھوٹی سی رنگ پہنے ہلکے سے میک اپ میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی کلائ پر پڑے انگلیوں کے نشان کوچھپانے کے لئے اس نے فل آستین والے ڈریس کا انتخاب کیا تھا اپنی سینڈل کو ٹھیک کرتی ہوئ ساحر اس کے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد بھی اسے ہی دیکھتا رہا عیشا نے اس کی جانب دیکھ کر نفرت سے رخ پہیر لیا اس نے ہلکا سا مسکرا کر گاڑی آگے بڑھادی
تو تم مجھ سے پیچھا چھڑاکر بھاگ رہی ہو– لیکن مجھ سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان نہیں ہے
تم جہاں جاوگی میں ہر جگہ موجود رہونگا اپنے نام کی صورت میں جو تم سے جڑ چکا ہے میری طرح
وہ مسکراتے ہوئے بولا
ول یو پلیز شٹ اپ —-مجھے تمہاری بکواس نہیں سننی ہے
وہ کچھ دیر خاموشی سے مسکراتے ہوۓ ڈرائیو کرتا رہا
اج یہ پہننے کی کوئ خاص وجہ
وہ اکثر الگ الگ ٹائپ کے کپڑے پہنتی تھی لیکن ساحر نے اج پہلی بار اسے سلوار سوٹ میں دیکھا تھا
کیوں کیا اب مجھے کپڑے سلیکٹ کرنے سے پہلے تمہاری عدالت میں اپیل دینی ہوگی کہ کب کیوں اور کیسے کپڑے پہننے ہے
وہ غصے سے بولی
تمہاری اس طرح کسی بھی بات پر اوور ری ایکٹ کرنے کی عادت نے مجھے ایسا رویہ رکھنے پر مجبور کیا ہے
ویسے اج قاتل لگ رہی ہو
اس کی جانب جھک کر کان کے نزدیک سرگوشی کی عیشا نے اسے گھور کر دیکھا تو اس کے گھورنے پر وہ مسکرا کر گانا گاتے ہوۓ پیچھے ہو گیا
جادو تیری نظر
خوشبو تیرا بدن
تو ہاں کر
یا ناں کر
تو ہے میری کرن
تو ہے میری کرن
سامنے دیکھتے ہوۓ وہ لگاتار یہی گنگناتا رہا اور بار بار بےباک نظروں سے اس کی جانب دیکھتا رہا عیشا نے بیزار ہوکر بیگ سے موبائل اور ہیڈ فون نکال لیا اور فل اواز میں گانے سننے لگی ساحر اس کی حالت پر ہنسنے لگا
گھر آنے پر اس نے گاڑی روک دی
رات تک آجانا یا مجھے بلا لینا لینے آجاؤنگا اوکے
عیشا ڈور کھولتے کھولتے رک گئ اور اسے دیکھنے لگی جو بڑے اطمینان سے آنکھوں سے گلاسس نکال کر سامنے دیکھ رہا تھا
میں یہاں کچھ دن رہنے کے لیے آئ ہوں
جانتا ہوں لیکن میں چاہتا ہو تم رات تک آجاؤ—- مطلب آجاؤ
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے کہنے لگا
تم کیا چاہتے ہو اس سے مجھے کوئ مطلب نہیں ہے—- میں دادی سے پوچھ چکی ہوں اور میرے لئے اتنا ہی کافی ہے
وہ کہ کر گاڑی سے نکل گی ساحر بھی باہر آگیا
اگر تم رات تک واپس نہیں آئ تو میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دونگا
عیشا کے قدم ایکدم رک گۓ حیرانی سے اسے مڑکر دیکھا ساحر اس کے پاس آیا
سارا دن ہے تمہارے پاس —–سوچ لینا—– یا تو رات تک گھر آجانا –_–یا کل صبح میں تمہیں سب کے سامنے ہاتھ پکڑ کر واپس لے جاونگا –_-اوکے ٹیک کیئر
گلاسس لگاکر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا ایک طنزیہ مسکراہٹ سے اس کی جانب دیکھا اور گاڑی آگے بڑھالی عیشا دیر تک وہیں کھڑی شاکی کیفیت میں اس راستے کو دیکھتی رہی اور تھکے قدموں سے اندر اگئ
اس نے گھر والوں پر اپنی کیفیت بلکل محسوس نہیں ہونے دی کیونکہ وہ انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ساحر کے ڈر سے جھکے گی نہیں اپنوں سے مل کر وہ سب کچھ بھول گئ تھی سارا وقت خوشی خوشی باتیں کرتی رہی سب ہی اس کے آنے پر بہت خوش تھے اتنے دن بعد وہ زوبی سے بھی ملی تھی اور اب تک کی ساری کسر پوری کرلی تھی
رات کا کھانا کھاکر وہ اپنے روم میں کھڑکی کے پاس آکر بیٹھ گئ تب صبح کا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا
وہ کیا سمجتا ہے میں اس سے ڈر کر اس کی ہر بات مان لونگی دیکھتی ہوں کیا کرتا ہے اب تک بہت برداشت کرلیا اس کی حرکتوں کو لیکن اب نہیں—–_
یا اللہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے میں نے تو سب کی خوشی چاہی تھی نا اپنی قسمت کے فیصلے کو خوشی خوشی قبول کیا تھا اپ کی رضا جان کر تو پھر یہ سب کیوں——- میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کروں
پہلے بھی مجھے اپ پر پورا بھروسا تھا اور اب بھی ہے یا اللہ میری مدد کریں میں جو بھی کروں اس میں بس اپکی رضا ہو کیونکہ اپ کی رضا میں ہی میری بہتری ہے یا اللہ مجھے ہمت دینا کہ میں ہر حالات کا سامنا کر سکوں
کچھ دیر یونہی کھلے آسمان کو تکتی رہی
وہ کچھ نا کچھ ضرور کرے گا دادی کو کتنی تکلیف ہوگی یہ سب جان کر وہ پہلے ہی بیمار ہے اگر ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئ تو نہیں جو بھی ہو اس انسان کی وجہ سے میں دادی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتی کتنی اچھی ہے دادی مجھے کتنا پیار کرتی ہے کتنا خیال ہے انہیں میرا اگر میری وجہ سے انہیں کچھ ہو گیا تو
نہیں مجھے اس وقت واپس چلے جانا چاہئے ورنہ اسے بہانہ مل جاے گا اور اگر سچ میں اس نے مجھے طلاق دینے سے انکار کردیا تو نہیں میں ساری زندگی خود کے ساتھ اس کا نام بھی برداشت نہیں کرسکتی ابھی چلی جاتی ہوں ورنہ سب کے سامنے تماشہ کرے گا سب پریشان ہو جاےگے امی ابو کی کتنی بے عزتی ہوگی نہیں میں ایسا نہیں ہونے دونگی میری وجہ سے میرے اپنوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے
اس نے گھڑی پر نظر ڈالی جو رات کے پونے بارہ بجا رہی تھی فورا باہر اکر ادھر ادھر نظریں دوڈای ریحان اور فائزہ اب بھی ڈروائنگ روم میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے
بہائ جان مجھے گھر چھوڑ دیجیے
ریحان نے اسے حیرت سے دیکھا اور اٹھ کر پاس آیا فائزہ بھی حیران نظروں سے اسے دیکھتی رہی
کیا ہوا عیشو
کچھ نہیں بہائ جان دادی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے انہیں میری ضرورت پڑ سکتی ہے اسلیے مجھے واپس چلے جانا چاہئے میں بعد میں آجاونگی
عیشو بہت دیر ہوگئ ہے اس وقت جانا صحیح نہیں ہے صبح ہوتے ہی چلی جانا
فائزہ نے اسے روکنا چاہا
نہیں بھابھی مجھے رات بہر فکر ہوتی رہے گی اس سے اچھا ابھی ہی چلی جاتی ہوں
اس کا پکا ارادہ دیکھ کر دونوں نے مزید کچھ نہیں کہا اور وہ ریحان کے ہمراہ گھر اگئ ریحان اسے باہر ہی اتار کر چلا گیا اور اس نے بھی اسے اندر انے کا نہیں پوچھا کہ کہیں ساحر اس کے سامنے ہی کچھ نا کہہ دے
اندر آتے ہی اس کی نظر ساحر پر پڑی جو بڑی شان سے پورچ کے ستون سے ٹیک لگاے ہاتھ سینے پر باندھے مسکراتے ہوۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا عیشا کے دیکھنے پر دونوں ہاتھ اپنی بلیک ٹراؤزر کی جیب میں ڈالتے ہوے اس کے قریب اگیا
مجھے پتا تھا تم ضرور آؤگی
مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی
میں یہاں صرف دادی کے لیے آئ ہوں کیونکہ میں تم جیسے انسان کی وجہ سے انہیں تکلیف نہیں پہنچاسکتی
چلو یہی سہی ——-اج دادی کے لئے آئ ہو کل کو میرے لئے بھی آ ہی جاوگی
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ تمہارا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا تم جیسے انسان کی بات ماننے سے میں مرنا پسند کرونگی——_– ہٹو میرے راستے سے
اس پر ایک نفرت بھری نظر ڈال کر وہ سائڈ سے نکل کر اندر اگئ ساحر نے ایک گہری سانس لی اور اسے جاتے دیکھتا رہا
****************************
وہ واپس تو یہ سوچ کر آئ تھی کہ اس انسان کا ڈٹ کر مقابلہ کریگی لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئ اگلے ہی دن وہ کسی کام سے کہیں باہر چلا گیا اسے دادی کی باتوں سے پتا چلا کہ وہ کچھ دنوں کے لئے لنڈن گیا ہے اور عیشا کو لگا کہ وہ خوشی کے مارے پاگل ہوجاے گی وہ اپنی پہلی زندگی میں واپس اگئ تھی وہی ہنسی مزاق وہی بےفکری سب کچھ جو وہ چاہتی تھی ہر دن وہ یہی دعا کرتی کہ ساحر اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے نکل جاے اور اس کی ساری زندگی اسی طرح سکون سے گزرے تو دوسری طرف وہ ہر لمحہ اس کی کمی محسوس کررہا تھا دشمنی ہی سہی پر وہ نظر کے سامنے تو ہوتی تھی جس کی ایک جھلک اس کی ساری بے چینی کو ختم کرنے کے لئے کافی تھی اس کا لنڈن آنا ضروری نہیں تھا لیکن وہ عیشا کی خاطر اس سے دور آیا تھا اس نے عیشا کو ناشتے پر جب بہت اداس دیکھا تو اسے اپنے اپ پر بہت غصہ آیا کہ اس کی وجہ سے عیشا اتنی پریشان ہے اور اپنے امی ابو کے گھر جانے پر مجبور ہوگئ ہے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کچھ دن کے لیے باہر چلا جایگا تاکہ وہ سنبہل سکےاور دادی کو بھی عیشا کے بغیر نا رہنا پڑے اسی لیے اس نے عیشا کو اسی دن واپس انے کو کہا تھا لیکن جانتا تھا اگر اس سے سیدھی طرح بتایا تو کبھی نہیں مانے گی اس لیے اسے دھمکی دی تاکہ وہ مجبور ہوجاے اور اس کے انے کے اگلے دن صبح ہی لنڈن آگیا اس نے اپنا کام دو دن میں ہی ختم کرلیا تھا لیکن پھر بہی ایک ہفتہ مزید وہیں رہا….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: