Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Last Episode 48

0
سن میرے ہمسفر از سنایا خان – آخری قسط نمبر 48

–**–**–

بہت قریب ہو کر بھی وہ سمر کو خود سے دور محسوس ہو رہی تھی وہ جانے کب سے بنا پلک جھپکے اُسے دیکھتا جا رہا تھا جنت اس بات سے بے خبر نیند میں تھی اُس کا سر سمر کے ہاتھ پر رکھا تھا سمر کی اُنگلیاں اُس کے بازو پر نرمی سے حرکت کر رہی تھی اور نظریں اُس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی
آنکھیں کھولنے کے بعد اُس پہلا کام وہی کیا جو وہ آجکل کر رہی تھی سمر کو نظر انداز کرنے کا اُسے خود کی جانب دیکھتے پا کر وہ فوراً نظریں چراتے ہوئے اٹھ گئی تھی سمر نے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے جانے سے روکا تھا وہ انتظار کر رہا تھا کے وہ اُس سے شکایت کرے غصّہ کرے مگر وہ خاموش رہی رات کی طرح کچھ لمحے بعد دھیرے سے اپنا ہاتھ آزاد کرواتے ہوئے وہ سمر کی نظروں سے دور ہو گئی
💜💜💜💜💜💜💜💜
اُس نے بہت مشکل سے جنت کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے راضی کیا تھا اُسے کسی فنکشن میں جانا تھا اور وہ جنت کے بنا نہیں جانا چاہتا تھا یہ وہ جنت کو منانے کا ایک موقع نہیں چھوڑنا چاہتا تھا لیکن جنت کا غصّہ اب تک قائم تھا اُسے خود چلنے کو کہنا بھی نہ ممکن تھا اس لیے اس نے ھنا کی مدد لی تھی
وہ بار بار بےچینی سے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا یہ سوچ سوچ کر کے اس سے کس طرح بات کرے کیسے اُس کی خاموشی کو توڑے لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
اُس نے ایک دم سے گاڑی کو بریک لگایا جس سے جنت کو زور کا جھٹکا لگا اور اُس نے حیرت سے اُسے دیکھا
Jannat please talk to me
اُس نے بے چینی سے اُسے دیکھا تھا اور جنت نے گہری سانس لے کر رخ پھیر لیا تھا
مجھے تمہارا ایسے خاموش رہنا بلکل اچھا نہیں لگ رہا تم غصّہ کرو مجھ سے لڑو لیکن پلیز اب یہ ناراضگی ختم کر دو مجھ سے تمہاری یہ خاموشی برداشت نہیں ہو رہی ہے مجھے پتہ ہے میں نے غلطی کی ہے اور بہت بڑی غلطی کی ہے پر پلیز تم اس غلطی کی سزا کسی اور طریقے سے دے دو ایسے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بس اس غلطی کی وجہ جاننا ہے۔۔۔۔۔اگر تم نے میرا اتنا دل دکھایا مجھ پر اتنا بڑا الزام لگایا تو کوئی تو وجہ ہوگی مجھے وہ وجہ بتاؤ سمر کیوں کے لاکھ سوچنے پر بھی مجھے نہیں سمجھ آرہی وہ وجہ۔۔۔۔بتاؤ مجھے
جنت نے اُس کی جانب دیکھا
وہ میں تمہیں نہیں بتا سکتا ۔۔۔۔میں پہلے ایک غلطی کر چکا ہوں اب دوسری نہیں کرنا چاہتا کچھ باتیں سیکریٹ ہی رہ جائے تو اچھا ہے۔۔۔اور جس بات کا کوئی وجود ہی نہیں جو صرف ایک غلط فہمی ہے اس کے بارے میں بات کرکے اور دل خراب نہیں کرنا مجھے۔۔۔۔پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔
وہ اپنی ایک غلطی کی وجہ سے کبیر کے لیے جنت کا دل خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اب جب کے کبیر کا دل بدلنے لگا تھا وہ اس قصے کو بس خود تک ہی ختم کر دینا چاہتا تھا
اگر اس سب کے وجہ کچھ ہے تو وہ یہ کے ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے سے اپنی فیلنگ شیئر ہی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔نا تم نے کبھی اپنے دل کی بات کی نا میں نے کبھی تمہیں بتایا کہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن میں نے کبھی تمہیں غلط نہیں سمجھا۔۔۔۔۔تم نے بھی اپنے دل کی بات نہیں کی کبھی لیکن میں نے پھر بھی تم پر یقین کیا تمہاری ہر بات پر یقین کیا تمہارے پیار پر یقین کیا۔۔۔۔۔۔میرے دل میں تمہیں لے کر کتنی غلط فہمیاں تھی مجھے ہمیشہ یہی لگتا تھا کے تم ہنی سے پیار کرتے ہو لیکن جب تم نے کہا کے وہ صرف تمہاری دوست ہے تو میں نے مانا۔اُس کے بعد ایک بار بھی یہ خیال اپنے ذہن میں نہیں آنے دیا
جنت نے اُس کی بات کاٹ کر کہا اور سمر خاموشی سے اُسے سنتا رہا
اُس بات کو بھی بھول گئی جو نیو ایئر والی رات کو ہوا تھا۔۔۔۔۔۔اُس بات کو بھی بھول گئی جب تم دونوں کو ایک ساتھ واش روم سے نکلتے دیکھا تھا اُس بات کو بھی بھول گئی جب تمہارے دوست نے مجھے تم دونوں کی تصویریں دکھائی تھی اُس بات کو بھی بھول گئی جب مجھے پتہ چلا کہ ہماری شادی والی ساری رات تم اُس سے بات کرتے رہے تھے
سمر اُسکی دوسری بات پر چونکا تھا
دوست نے۔۔۔۔۔کس دوست کی بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔اور کونسی تصویریں۔۔۔۔۔۔
وکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے مجھے کتنی ہی بار بتایا تمہارے اور ہنی کے بارے میں ۔۔۔۔اور مجھے خود بھی ہمشہ یہی لگتا تھا لیکن وہ سب باتیں اُس دِن بے معنی ہوگئی تھی جب تم نے مجھے آئے لوو یو کہا مجھے ہر ثبوت ہر سچ جھوٹا لگا اُس کے سامنے اپنا آنکھوں دیکھا بھی غلط لگا ۔۔۔۔۔۔
وہ جذبات میں کہتی رہی پھر اچانک رک گئی
اگر اب تک اتنا یقین کیا ہے تو اب بھی کرو میں نے اگر کبھی کسی سے پیار کیا ہے تو صرف تم سے ۔۔۔۔۔۔خود کو سمجھنے سے بھی پہلے۔۔۔۔۔پیار کو سمجھنے سے بھی پہلے ۔۔۔۔۔۔۔بہت پہلے۔۔۔۔۔۔۔
میرے اور ہنی کے بیچ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔وکی نے یہ سب تمہیں کیوں بتایا یہ میں بعد میں پتہ لگا لونگا لیکن جو تمہیں لگتا ہے وہ صرف غلط فہمی ہے نیو ایئر والی رات جو کیا ہنی نے کیا مجھے اُس بارے میں پتہ بھی نہیں تھا ہاں میں تم سے غصّہ تھا تمہیں دھمکی دی تھی لیکن میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
اور وہ واش روم والی بات اُس دِن گراؤنڈ میں کھیلتے ہوئے ہنی اچانک بے ہوش ہو گئی تھی اس لیے میں بس اُس کی ہیلپ کر رہا تھا اور کچھ نہیں
۔وہ اب تمام غلط فہمیوں کو صاف کر دینا چاہتا تھا جو اب تک قائم تھی اور جس کی وجہ سے اب تک اُن کے رشتے میں مشکلیں آتی رہی تھی
مجھے پکّا یقین ہے وہ بے ہوش نہیں ہوئی ہوگی بلکہ ناٹک کر رہی ہوگی تم سے چپکنے کے لیے
اُس کی بات پر جنت نے خود سے بڑبڑا ئی جس پر سمر مسکرایا جنت اُسے دیکھ کر گاڑی سے باہر نکل گئ
💜💜💜💜💜💜
کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکی نے ہنی کے بدلتے ری اکشن کو دیکھ کر کہا
اُن دونوں کو ہمیشہ کی طرح ایک ساتھ دیکھ کے ہنی کے بدن میں آگ لگ گئی تھی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے پائی تھی وہ سمر کی آنکھوں میں صاف جنت کے لیے محبت دیکھ سکتی تھی اُس نے گلاس پر اپنی گرفت مضبوط کر دی تھی
جتنا اس لڑکی کو سیم سے دور کرنے کی کوشش کی اتنی ہی اُس کے قریب آگئی یہ ۔۔۔۔۔میری ہر کوشش ہر چال ناکام ہوگئی ان دونوں کو الگ کرنے کی۔۔۔۔
وہ نفرت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی
میں نے آج تک جو بھی چاہا اُسے پا کر ہی رہی ہوں اور اگر سیم مجھے نہیں مل سکتا تو وہ اس جنت کا بھی نہیں ہو سکتا
اُس کے دماغ میں کسی شیطانی خیال نے جنم لیا اُس نے اپنے پرس سے ایک چھوٹی سے بوتل نکالی اور پاس ٹیبل پر رکھے پانی کے گلاس میں وہ بوتل خالی کر دی
یہ کیا کر رہی ہو تم۔۔۔
وکی کو سمجھ نہیں آیا کے وہ کیا کر رہی ہے کیا پہلے کی طرح جنت کو نشے کی دوائی دینے جا رہی ہے
آج اس کی کہانی کا دی اینڈ کردونگی میں۔۔۔۔۔۔نا یہ رہےگی نہ سیم اس کا ہوگا
ہنی نے اُس کی جانب دیکھ کر جواب دیا اُس کی آنکھوں سے ظاہر ہو رہا تھا کے وہ اپنی حسد میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اُس نے ویٹر سے کہہ کر وہ گلاس جنت تک پہنچایا تھا جنت نے پانی کا گلاس لینے سے پہلے ایک دفعہ پچھلی بار کا سوچا تو رک گئی لیکن پھر اسے فضول سوچ سمجھ کر جھٹکتے ہوئے گلاس اٹھا لیا
ہائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر جنت سے کچھ کہنے ہی والا تھا کے ہنی کی آواز پر رک گیا اور ہنی کو دیکھ کر اُس نے دوبارہ جنت کی جانب دیکھا کیوں کے وہ جانتا تھا جنت کو غصّہ آرہا ہوگا
کیا بات ہے اب کیا میرے ہیلو کا جواب دینے کے لیے بھی تمہیں اپنی وائف سے اجازت لینی پڑے گی ۔۔ماننا پڑے گا جنت تمہیں سیم کو کیا کنٹرول میں رکھا ہے تم نے۔۔۔۔
ہنی اُس کے اس انداز پر اندر تک کسل کر رہی گئی تھی اور اپنے دل کی بھڑاس اُس نے جنت کو طعنہ مارتے ہوئے نکالی
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے دبی آواز میں اُسے ڈانٹا لیکن اس کے پہلے وہ مزید کچھ کہے جنت بول پڑی
ہاں رکھا ہے کنٹرول میں نے ۔۔کیونکہ اگر شوہر کو کنٹرول میں نا رکھو تو تم جیسی آوارہ چڑیلیں چمٹنے میں دیر نہیں لگا تی۔۔۔اور مجھے بھی اچھی بیویوں کی طرح اپنے شوہر کو محفوظ رکھنا ہے تم جیسیوں سے
وہ غصے سے بولی اور سمر کو دیکھ کر باہر چلی گئی
تم ساری حدیں تو پہلے ہی پار کر چکی ہو اس لیے تمہاری اس بات پر افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔غصّہ نہیں بلکہ اب ترس آرہا ہے تم پر
سمر نے افسوس جتاتے ہوئے کہا جنت کے پیچھے چلا گیا
اب نا ترس آئیگا نا غصّہ اب صرف رونا آئیگا تمہیں اپنی پیاری بیوی کی موت پر
💜💜💜💜
جنت آکر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی سمر بھی اُس کے پیچھے چلا آیا
پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے جب دیکھو مٹکتی رہتی ہے آگے پیچھے اور جلی کٹی باتیں کرتی رہتی ہے ۔۔۔میں کیوں کسی کو کنٹرول کرنے لگی ۔۔۔آئیندہ اگر اُس نے مجھ سے ایسے بات کی نہ تو میں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Shhshshshhshsh
سمر نے ایک دم سے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا جس پر جنت نے اُسے چونک کر دیکھا وہ چہرہ اُس کے بہت قریب لے آیا تھا جنت کے ہونٹوں سے انگلی ہٹا کر اُس نے باہر کی جانب اشارہ کیا جس پر جنت نے اُس طرف دیکھا جہاں ایک پیڑ پر دو سفید پرندے بیٹھے تھے وہ منظر بہت دلکش تھا جنت نے دوبارہ سمر کی جانب دیکھا تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا جنت نے آنکھیں بند کر لی سمر نے اُس کے ہونٹوں کو چھونا چاہا لیکن اچانک جنت کا سر اُس کے کندھے پر آ گرا اس نے اسے جنت کی ناراضگی سمجھتے ہوئے دھیرے سے اُسے خود سے الگ کیا لیکن جب اُس کے ہونٹ سے نکلتے خون پر نظر پڑی تو اُس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی
جنت۔۔۔۔۔۔کیا ہوا۔۔۔۔۔۔جنت
وہ پریشان ہو کر جنت کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا جنت نے بہت مشکل سے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا
تم ٹھیک تو ہو نہ کیا ہورہاہے تمہیں۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے انگوٹھے سے اُس کے ٹھوڑی تک آتی خون کی لکیر کو صاف کیا
پتہ۔۔۔۔۔پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔چکر سا ۔۔۔۔۔۔آرہا ہے
جنت نے بمشکل آواز نکال کر کہا
کچھ نہیں۔۔۔۔۔ہم لوگ ابھی ہاسپٹل جا رہے اوکے ٹن بیٹھو ٹھیک سے
اُس نے خود جنت کو ٹھیک سے بٹھاتے ہوئے سیٹ بیلٹ باندھ دیا اور خود جلدی سے گاڑی سٹارٹ کرلی جنت کی آنکھیں بند ہوتی دیکھ کر اُس کے دل کو کچھ ہو رہا تھا اُس کا دھیان سڑک سے زیادہ جنت پر تھا
جنت آنکھیں کھلی رکھو پلیز۔۔۔۔۔۔بس دو منٹ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی پہنچ جاینگے۔۔۔۔۔
اُس نے ایک ہاتھ سے جنت کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور گاڑی کی رفتار اور تیز کردی تھی ہسپتال زیادہ دوری پر نہیں تھا اس لیے وہ اُسے جلدی سے لے کر پہنچ گیا تھا اُس نے ایکدم سے گاڑی کو بریک لگایا تھا اور جنت کو گود میں اٹھا کر تیزی سے ہسپتال کے اندر داخل ہوا تھا جنت کو دیکھتے ہی ڈاکٹر نے اُسے بتا دیا تھا کے یہ پوائزن کا اثر ہے اور جنت کو جلدی سے اندر لے جاتے ہوئے اُس کا علاج کرنا شروع کیا تھا لیکن اُن کے جانے کے کتنی دیر بعد تک وہ سن کھڑا رہا
اگلے ایک گھنٹے تک وہ دل ہی دل میں جنت کے ٹھیک ہونے کی دعا کرتا رہا اور ہے چینی نے آپریشن تھیٹر کی جانب دیکھتا رہا ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر نے آکر اُسے بتایا کہ جنت ٹھیک ہے اور اُس کے دلوں ڈھیروں سکون محسوس ہوا
ڈاکٹر نے اُسے یہ بھی بتایا کہ زہر بہت تیز تھا اور اگر وہ جنت کو جلدی نہ لے کر آتا تو مشکل ہو سکتی تھی اور اُس سے آگے سمر سننا نہیں چاہتا تھا نہ سوچنا چاہتا تھا
اُسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کے یہ کس نے کیا ہوگا اور اب وہ اُن کو اُن کے انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکا تھا جنت کو کھونے کے خیال سے ہی اُس کے اندر ایک جنون سا آگیا تھا اُن لوگوں سے بدلہ لینے کے لیے جنہوں نے یہ کیا تھا
💜💜💜💜💜💜💜
دو دن لگے تھے جنت کو ٹھیک ہو کر گھر آنے میں اور ان دو دنوں تک سمر نے اُسے ایک پل کے لیے بھی اکیلا نہیں رہنے دیا تھا ہر پل ہر وقت وہ اُس کے سامنے رہا اُس نے جنت کو بستر پر لیٹا کر كمفر ٹھیک سے اوڑھا دیا تھا
تم ریسٹ کرو میں تھوڑی واپس آؤنگا
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے باہر جانے لگا لیکن جب اُس کی شرٹ اوپر اٹھی اور جنت نے اُس کے پاس گن دیکھی تو اُسے جلدی سے آواز دی
سمر۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے اُس کی جانب دیکھا جنت نے ہاتھ بڑھا کر اُسے قریب آنے کا اشارہ کیا جس پر وہ اُس کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا
کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اٹھ کر دونوں ہاتھوں سے سمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
کچھ کام ہے ۔۔۔۔۔ابھی آجاونگا
نہیں پہلے بتاؤ کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔
جنہوں نے تمہیں تکلیف پہنچائی اُن سے بدلہ لینے۔۔۔۔۔
سمر نے اُس کی جانب دیکھ کر صاف صاف بتا دیا
نہیں تم ایسا کچھ نہیں کروگے۔۔۔۔۔
جنت نے جلدی سے کہا جس اور سمر نے اُسے حیرت سے دیکھا
تم چاہتی ہو میں اُن کو چھوڑ دوں ۔۔۔جنہوں نے تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہا۔۔۔اُن کو اس کی سزا نہ دوں
سمر نے اُس کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالتے ہوئے غصے کہا
اُنھیں سزا دینگے لیکن اس طرح نہیں۔۔۔۔۔۔تم کچھ نہیں کروگے۔۔۔۔۔تمہارے چہرے پر معصومیت اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ غصّہ۔۔۔۔یہ بدلہ۔۔۔ یہ سب تمہیں سوٹ نہیں کرتا سمر۔۔۔۔۔۔۔۔پرومس کرو کے ایسا کچھ نہیں کروگے
جنت نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا سمر نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئی اُس کی پیشانی سے پیشانی ٹکا دی
اگر تمہیں کچھ ہو جاتا نا تو میں بھی مر جاتا پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے سارے عاشق یہی کہتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے مسکراتے ہوئے کہا سمر نے پیچھے ہو کر اُسے دیکھا
لیکن تم ہی تو کہتی ہو نہ کے میں پاگل ہوں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔تو کیا میں یہ نہیں کر سکتا
لیکن اب تو میں زندہ ہوں نہ اور مجھے لگتا ہے تمہیں اُس ہنی ٹائپ کی لڑکیوں سے بچائے رکھنے کے لیے میرا ہونا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سمر بھی اس کی بات پر مسکرایا
اور میرے جینے کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمر نے کہتے ہوئی اُس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھے

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: