Sunahri Ghora By Mukhtar Ahmad

0
سنہری گھوڑا از مختار احمد – بچوں کی ایک طبعزاد کہانی

–**–**–

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی ملک میں ایک امیر کبیر سوداگر رہتا تھا۔اس سوداگر کا ایک بیٹا تھا جس کا نام ہادی تھا اور وہ اپنے باپ کے تجارت کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتا تھا۔

ہادی کا ایک دوست بھی تھا اور وہ تھا اس ملک کا شہزادہ  جمال۔ان کی دوستی کی ابتدا یوں ہوئی تھی کہ بادشاہ کو شطرنج کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ایک روز اسے پتہ چلا کہ ہادی کا باپ  جس کا شمار اس کے امرا  میں ہوتا ہے وہ  شطرنج  کا بہت اچھا کھلاڑی ہے۔بادشاہ نے اس سے کہا  کہ وہ روزانہ رات کو اس کے محل میں آکر اس کے ساتھ شطرنج کھیلا کرے۔یوں اس سوداگر کا محل میں آنا جانا ہوگیا۔

اس وقت شہزادہ جمال اور ہادی دونوں چھوٹے چھوٹے تھے۔سوداگر جب محل آتا تو ہادی  بھی اس کے ساتھ ہوتا تھا۔بادشاہ اور سوداگر تو تو شطرنج کی بازی لگا لیتے اور شہزادہ جمال ہادی کے ساتھ کھیل  کود میں مصروف ہوجاتا۔کچھ عرصہ کے بعد جب  بادشاہ نے دیکھا کہ شہزادے اور ہادی میں بہت دوستی ہوگئی ہے اور شہزادہ جمال  اسے بہت پسند کرنے لگا ہے  تو اس نے ہادی کو اجازت دے دی کہ وہ محل میں آکر  نہ صرف شہزادے کے ساتھ کھیلا کرے بلکہ اس نے شہزادے کے ساتھ ہی اس کی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام کردیا۔یوں وہ دونوں بچپن  ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ  رہنے لگے تھے جس کی وجہ سے  دونوں کی دوستی اور بھی مضبوط ہوگئی۔

وقت گزرتا رہا اور وہ دونوں بڑے ہوگئے ۔ہادی تجارت کے کاموں میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگا۔اس سلسلے میں اسے اکثر دوسرے ملکوں کا سفر بھی کرنا پڑتا تھا۔وہ تجارت کا مال لے کر  اپنے باپ کے ساتھ سفر پر چلا جاتا تو اس کی غیر موجودگی میں  شہزادہ جمال بے حد اداس ہوجایا کرتا تھا۔

آج کل بھی ہادی اپنے باپ کے ساتھ تجارت کا مال لے کر ایک دوسرے ملک میں آیا ہوا تھا۔ان کا قیام کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا تھا مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ ان کا سارا سامان فروخت ہوگیا تھا اور انھیں بہت منافع ہوا تھا۔

اب ان کا واپسی کا ارادہ تھا۔واپسی سے ایک روز پہلے ہادی گھومنے پھرنے کے لیے سرائے سے باہر  نکل گیا۔گھومتے گھومتے وہ دریا کے کنارے آ نکلا۔دریا کے نزدیک ہی ایک گھنا  جنگل بھی تھا۔ہادی نے سوچا کہ جنگل کی بھی سیر کی جائے۔وہ جنگل میں داخل ہوا تو  اس نے شہتوت کے درخت کے نیچے ایک خوب صورت چھوٹے سے بونے کو دیکھا وہ اپنے گھٹنوں میں منہ چھپائے بیٹھا تھا۔ہادی اس کے قریب آیا اور بولا۔ “پیارے دوست۔تم کون ہو اور اس جنگل میں کیا کر رہے ہو؟”۔

بونے نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر ہادی  کو دیکھا اور کہا۔ “نوجوان تمہارا شکریہ کہ تم نے میرا حال معلوم کیا۔میرا نام جوجو ہے۔ میں پرستان میں رہتا تھا اور  وہاں کی شہزادی دل آرا پری کا خادم خاص تھا۔لیکن اب میں اس کی نوکری چھوڑ کر آگیا ہوں”۔

ہادی کو اس کی بات بہت دلچسپ لگی۔وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوے بولا۔ “پرستان کی شہزادی کی نوکری کیوں چھوڑی؟ کیا وہ بدمزاج تھی اور تمھارے ساتھ اس کا  اچھا سلوک نہیں  تھا؟”۔

“خیر یہ بات تو نہیں ہے۔وہ بہت اچھی پری ہے۔مگر  ایک روز وہ   کسی بات پر منہ پھلائے بیٹھی تھی۔میں نے اس  کا سبب پوچھا  تو اس نے مجھے جھڑک دیا اور مجھ سے درشت لہجے میں کہا کہ میں اپنے کام سے کام رکھوں۔اس کے رویے نے میرا دل توڑ دیا اور میں اس سے کہہ کر آگیا کہ اب نہ تو  میں اس کی نوکری کروں گا اور نہ ہی  پرستان میں  رہوں گا۔جب سے میں ادھر ادھر پھر رہا ہوں”۔

ہادی کو  جوجو  بہت اچھا لگا تھا۔اس نے کہا۔ “جوجو تم اب بالکل فکر مت کرو۔تمھارے ساتھ جو بھی ہوا   اسے  بھلا دو۔آج سے تم میرے دوست ہو اور میں تمہارا دوست۔اب تم  میرے ساتھ ہی رہو گے”۔

جوجو نے اس کی بات سنی تو جھٹ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوا اور ہادی کے ساتھ چل پڑا۔

ہادی  اسے ساتھ لے کر سرائے میں آیا اور اپنے باپ کو بتا دیا کہ اب جوجو  اس کے ساتھ ہی رہے گا۔اگلے دن وہ لوگ گھر جانے کے لیے نکل گئے۔ایک دن اور ایک رات کی مسافت کے بعد وہ اپنے شہر پہنچ گئے۔

گھر پہنچ کر ہادی  کچھ دیر اپنی ماں کے پاس بیٹھا اور سفر کے دوران پیش آنے والی باتیں اسے بتائیں۔اس کی ماں جوجو کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اسی وقت ہادی کو بازار بھیج کر اس کے لیے اچھی اچھی پوشاکیں اور جوتے منگوائے۔جوجو نے نہا دھو کر جب یہ کپڑے پہنے تو بہت ہی خوب صورت نظر آنے لگا۔

ان کاموں سے فراغت ملی تو ہادی اور  جوجو   دو گھوڑوں کی بگھی میں بیٹھ کر شہزادے سے ملنے کے لیے محل کی جانب چل پڑے۔ہادی کو شہزادہ جمال سے ملے   کافی عرصہ ہوگیا تھا۔ہادی  محل پہنچا تو شہزادہ جمال اسے دیکھ کر بہت خوش  ہوا اور اسے گلے سے لگا لیا۔

ہادی نے جوجو کا تعارف شہزادہ جمال سے کرواتے ہوئے کہا۔ “یہ  میرا  نیا دوست ہے جوجو۔جوجو سے میری ملاقات جنگل میں ہوئی تھی”۔

پھر اس نے شہزادہ جمال کو پوری کہانی سنا دی۔شہزادہ جمال نے جوجو  کو بڑی محبّت سے اپنے پاس بٹھالیا اور اس سے ادھر ادھر کی  باتیں کرنے لگا۔

ہادی نے محسوس کیا  تھا کہ شہزادہ جمال کچھ پریشان سا ہے۔جب شہزادہ اس کی طرف متوجہ ہوا تو ہادی نے کہا۔ “شہزادے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کچھ پریشان سے دکھائی دیتے ہو۔کیا بات ہے؟”۔

شہزادہ جمال ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔“ہادی۔میں بہت پریشان ہوں۔تم تو اپنے ابّا کے ساتھ تجارت کا مال لے کر گئے ہوئے تھے۔اس دوران مجھے ملک روشن نگر کے بادشاہ کی تاجپوشی کے سالانہ جشن میں جانا پڑ گیا۔وہاں میں نے ان   کی بیٹی  شہزادی مہر بانو کو دیکھا۔وہ دنیا کی سب سے زیادہ خوب صورت شہزادی ہے۔میں چاہتا ہوں  کہ میری شادی اس سے ہوجائے مگر  بہت سارے شہزادوں نے اس کے لیے پیام  بھجوا رکھے  ہیں۔ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی شادی اس سے ہو۔اس لیے بادشاہ سلامت   نے ایک شرط رکھ دی ہے کہ جو کوئی بھی گھڑ دوڑ کے مقابلے میں اول آئے گا اس کی شادی مہر بانو سے ہوگی۔اب تم ہی بتاؤ کہ شہزادی کی شادی اور گھوڑوں کی دوڑ کا آپس میں کیا تعلق بنتا ہے؟”۔

“تعلق تو بنتا ہے۔شہزادی کے تم سمیت  بہت سارے شہزادوں کے  رشتے آچکے ہیں۔اگر بادشاہ سلامت  ایک کو چھوڑ کر  باقی سب  شہزادوں کو ٹکا سا جواب دے دیں  تو دوسرے ملکوں سے ان  کے تعلقات خراب ہوجائیں گے۔انہوں نے تو بڑا دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔تمہارا گھوڑا تو بہت اعلیٰ نسل  کا ہے۔میں نے  دیکھا ہے یہ دوڑتا نہیں ہوا سے باتیں کرتا ہے۔ گھبراتے کیوں ہو۔دوڑ میں حصہ لو۔خدا نے چاہا تو تم ہی مقابلہ جیتو گے”۔

ہادی کی باتوں سے شہزادہ جمال کو کچھ اطمینان ہوا۔

ہادی کا باپ چونکہ بہت عرصے کے بعد ایک لمبے سفر سے واپس لوٹا تھا اس لیے اس نے سوچا تھا کہ وہ دو ایک مہینے آرام کرے گا اس کے بعد ہی رخت سفر باندھے گا۔یوں ہادی کو بھی چھٹی مل گئی تھی۔اس کا  اور جوجو کا زیادہ تر وقت شہزادہ جمال کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔وہ تینوں  گھوڑے کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے۔اسی گھوڑے پر سوار ہو کر شہزادہ جمال کو دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینا تھا۔

مقابلہ ایک ہفتے کے بعد تھا۔اس میں شرکت کرنے والوں کی آمد شروع ہوگئی تھی۔شہزادہ جمال بھی ہادی اور جوجو کے ساتھ روشن نگر آگیا تھا۔دوسرے ملکوں کے بھی بہت سے شہزادے آئے ہوئے تھے اور  ان سب کو شاہی محل کے مہمان خانے  میں ٹہرایا گیا تھا اور ان کی خوب آؤ بھگت کی جا رہی تھی۔جوجو تو ان شہزادوں کو دیکھ کر  بہت ہی خوش تھا۔

 ایک شہزادہ جس کا نام شہزادہ شرافت تھا وہ جوجو کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ چھوٹے قد اور سانولے رنگ کا تھا اور اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں دیکھ کر جوجو نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک لالچی اور حریص آدمی ہے۔ تمام شہزادے اپنے اپنے گھوڑے بھی ساتھ لائے تھے۔ان گھوڑوں کو ایک بہت بڑے اصطبل میں رکھا گیا تھا اور ایک  تجربہ کار سائیس اور بہت سے خادم  ان کی دیکھ بھال کے لیے مقرر   کیے گئے تھے۔جوجو نے یہ بات بھی محسوس کی تھی کہ شہزادہ شرافت اصطبل کے آس پاس گھوم کر دوسرے شہزادوں کے گھوڑوں کا جائزہ لیتا رہتا تھا۔شہزادہ جمال کے گھوڑے کو تو وہ بڑی نفرت سے دیکھتا تھا کیوں کہ وہ سب سے تندرست اور قد آور گھوڑا تھا۔

مقابلوں سے ایک روز پہلے ایک عجیب واقعہ ہوا۔شہزادہ جمال جب ہادی اور جوجو کے ساتھ اصطبل میں اپنے گھوڑے کو دیکھنے آیا تو اصطبل خالی پڑا تھا۔ہادی نے جلدی سے ایک خادم  کو بلا کر گھوڑے کی گمشدگی کے  بارے میں پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر ہر طرف پھیل گئی کہ شہزادہ جمال کا گھوڑا غائب ہوگیا ہے۔

تمام شہزادے وہاں جمع ہوگئے۔ان ہی میں شہزادہ شرافت بھی تھا۔اس نے  شہزادوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ “یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہار کے خوف سے  شہزادہ جمال  نے خود ہی اپنے گھوڑے کو غائب کردیا ہو”۔

ہادی نے اسے تیز نظروں سے گھورا اور کچھ کہنے ہی والا تھا کہ شہزادہ جمال نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔شاہی ہرکارے چاروں طرف پھیل گئے اور گھوڑے کو تلاش کرنے لگے مگر گھوڑے کو نہ ملنا تھا  نہ ملا۔

مایوس ہو کر وہ اپنے کمرے میں آگئے۔اس صورت حال سے شہزادہ جمال سخت پریشان ہو گیا تھا۔وہ اداسی کے عالم میں اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ہادی سوچ رہا تھا کہ اب کیا کیا جائے۔جوجو کھڑکی کے پاس  کھڑا باہر دیکھ رہا تھا۔اچانک وہ کسی چیز کو دیکھ کر جلدی سے  مڑا  اور  ہادی کے پلنگ کے نیچے گھس گیا۔

 ہادی یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا۔وہ اٹھ کر کھڑکی کے نزدیک آیا اور باہر اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔اچانک اس کی آنکھیں ایک عجیب سی روشنی سے چکا چوند ہوگئیں۔اس روشنی نے کمرے کو بھی منور کردیا تھا اور شہزادہ جمال بھی بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔وہ روشنی ایک نہایت حسین و جمیل پری کے پروں سے نکل رہی تھی جو اب کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوچکی تھی۔

کمرے میں آکر اس پری نے   ہادی اور شہزادہ جمال کو مسکرا کر دیکھا اور بولی۔ “جوجو۔تمہارا چھپنا بے کار ہے۔میں نے تمہیں دیکھ لیا ہے۔اب تمہیں میرے ساتھ  واپس چلنا ہوگا۔شہزادی دل آرا  صاحبہ تمہاری یاد میں بیمار پڑ گئی ہیں۔وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہیں۔انھیں اپنے اس برے سلوک پر بہت افسوس ہے جو انہوں نے تمھارے ساتھ کیا تھا۔انہوں نے مجھے بھیجا ہے کہ میں تمہیں ڈھونڈ کر لاؤں۔خوشی کی بات ہے کہ تم مجھے مل گئے ہو”۔

“اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا”۔ جوجو نے بستر کے نیچے سے نکلتے ہوئے کہا۔“میں اپنے دوست ہادی کے ساتھ بہت مزے سے رہتا ہوں۔شہزادی کی طرح وہ مجھ سے برا سلوک بھی نہیں کرتا۔میری بغیر کسی غلطی پر شہزادی نے مجھے جھڑکا تھا جس کا مجھے بہت رنج ہے۔میں اب کبھی پرستان کا رخ نہیں کروں گا”۔

پری بے بسی سے ہادی اور شہزادہ جمال کو دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو کہ وہ جوجو کو سمجھائیں۔ہادی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے تسلی دی اور پھر اس سے بیٹھنے کو کہا۔کمرے میں ایک میز پر پھل اور مشروبات رکھے ہوئے تھے۔جوجو نے پھلوں کی طشتری  اور مشروب کا  پیالہ  پری کو پیش کیا۔

پری نے جوجو سے کہا۔“شہزادی صاحبہ  کو اپنے رویے پر بہت افسوس ہے۔تمہیں ڈھونڈنے کی ذمہ داری انہوں نے مجھے سونپی تھی۔میں جگہ جگہ تمہیں ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔شکر ہے کہ میں تمہیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئی ہوں”۔

 جوجو کا دل کچھ نرم پڑ چکا تھا۔اس نے کہا۔“دیکھو چندا پری۔میں سوچوں گا کہ تمھارے ساتھ پرستان چلوں کہ نہیں۔مگر ابھی تو ہم ایک الجھن میں گرفتار ہیں۔کل دوڑ کا مقابلہ ہے مگر  ہمارے شہزادے کا گھوڑا کہیں گم ہوگیا ہے۔کیا تم اس سلسلے میں ہماری کوئی مدد کرسکتی ہو”۔

چندا پری نے کہا۔ “مجھے یہ یقین تھا کہ تم مجھے ضرور مل جاؤ گے۔اس لیے میں  شہزادی دل آرا سے کہہ کر شاہی اصطبل سے تمھارے لیے سنہرا گھوڑا بھی  لے کر آئی تھی تاکہ تم اس پر بیٹھ کر پرستان جاسکو۔اس گھوڑے کو میں نے ایک غار میں چھپا دیا ہے۔میں روز جاکر اس کے چارے اور پانی کا انتظام کر کے آتی ہوں۔ہم صبح پہاڑوں پر جا کر اسے اپنے ساتھ لے آئیں گے۔شہزادے صاحب اس گھوڑے پر سوار ہو کر مقابلے میں حصہ لیں گے”۔

“شہزادے کے گھوڑے کے گم ہوجانے سے بادشاہ سلامت بھی بہت برہم ہیں اور انہوں نے داروغہ کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد سے جلد چور کا پتہ چلائے”۔ہادی نے کہا۔پھر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد سب سو گئے۔

صبح ہوئی تو شہزادہ جمال اور ہادی نے دیکھا کہ جوجو اور چندا پری کمرے میں موجود نہیں ہیں۔خادموں نے کمرے میں ناشتہ لگا دیا تھا۔وہ انتظار کرنے لگے کہ وہ دونوں آجائیں تو ساتھ مل کر ناشتہ کریں۔مگر ان دونوں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔دوڑ کے مقابلوں کا وقت تیزی سے قریب آتا جا رہا تھا۔

 محل کے باہر والے میدان میں لوگ جمع ہوگئے تھے اور ان کے تیز تیز باتیں کرنے کی آوازیں ان کے کانوں میں آ رہی تھیں۔شہزادہ جمال نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔مقابلے میں حصہ لینے والے تمام شہزادے میدان میں آچکے تھے۔ان کے تازہ دم اور چاق و چوبند گھوڑے دیکھ کر شہزادہ جمال دل مسوس کر رہ گیا۔اگر اس کے ساتھ دھوکہ نہ کیا گیا ہوتا تو وہ بھی اپنے گھوڑے کے ساتھ ان ہی شہزادوں کے درمیان موجود ہوتا۔

“وہ دونوں تو اب تک نہیں آئے ہیں”۔ہادی نے پریشانی سے کہا۔“دوڑ شروع ہونے والی ہے۔ہم ایسا کرتے ہیں کہ بادشاہ سلامت سے کہہ کر ان کے اصطبل سے کوئی گھوڑا لے لیتے ہیں”۔

ابھی اس کی بات ختم ہوئی ہی تھی کہ شہزادی مہر بانو کی خاص کنیز کمرے میں داخل ہوئی۔پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔اس نے کہا۔ “شہزادہ جمال۔مجھے شہزادی مہر بانو نے بھیجا ہے۔آپ اب تک میدان میں کیوں نہیں پہنچے،   انھیں بہت تشویش ہے۔انہوں نے یہ بھی کہلوایا ہے کہ آپ  کا گھوڑا غائب ہو گیا ہے تو شاہی اصطبل سے کوئی دوسرا  گھوڑا لے لیں۔شہزادی صاحبہ چاہتی ہیں کہ آپ دوڑ کے مقابلے میں ضرور حصہ لیں۔انھیں یقین ہے کہ آپ یہ مقابلہ ضرور جیت جائیں گے”۔

“ٹھیک ہے ہم آتے ہیں”۔شہزادہ جمال  نے کنیز سے  کہا۔اچانک ان کے کانوں میں جوجو کی آوازیں آئیں۔“ہادی۔ہادی۔

جلدی سے باہر آؤ۔دیکھو – میرے ساتھ کون آیا ہے”۔

اس کی آواز سن کر ہادی بجلی کی سی تیزی  سے باہر آیا اور پھر  وہ خوشی سے اچھل پڑا۔سامنے سے جوجو آتا نظر آرہا تھا اور اس نے ایک نہایت خوبصورت اور صحت مند گھوڑے کی باگ تھام رکھی تھی۔اس گھوڑے کا رنگ سنہری تھا۔شہزادہ جمال بھی ہادی کے پیچھے پیچھے تھا اور خوشی بھری نظروں سے سنہری گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔

 جوجو  نے گھوڑے کی راس شہزادہ جمال کے ہاتھ میں دی اور بولا۔“لو شہزادے۔خدا کا نام لے کر اس گھوڑے  پر سوار ہوجاؤ اور دوڑ میں حصہ لو۔یہ نہایت سبک رفتار ہے ۔اس کا مقابلہ کوئی دوسرا گھوڑا نہیں کرسکے گا”۔

شہزادہ جمال نے رکاب میں پاؤں رکھا اور پھر اس پر سوار ہو کر اسے  دوڑاتا ہوا میدان کی جانب روانہ ہو گیا۔ہادی اور جوجو بھی میدان کی طرف چل دیے۔راستے میں جوجو نے ہادی کو بتایا کہ چندا پری گھوڑا اس کے حوالے کر کے  پرستان چلی گئی ہے تاکہ اس کے مل جانے کی خبر شہزادی دل آرا کو دے سکے۔وہ دو ایک روز میں واپس آجائے گی۔

ادھر شہزادی مہر بانو کے علاوہ بادشاہ کو بھی فکر ہوگئی تھی کہ شہزادہ جمال اب تک وہاں کیوں نہیں آیا ہے۔اس کے اچھے کردار اور خوب صورتی کی وجہ سے بادشاہ کی بھی یہ خواہش تھی کہ مہر بانو کی شادی اسی سے ہو۔بادشاہ کو بھی اس بات کا علم ہوگیا تھا کہ شہزادہ جمال  کا گھوڑا غائب ہوگیا ہے اور اسے امید تھی کہ وہ اب تک کسی دوسرے گھوڑے کا انتظام کر چکا ہوگا۔وہ بار بار بے چینی سے میدان کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا مگر شہزادہ جمال کا کہیں پتہ ہی نہ تھا۔

بادشاہ سر جھکا کر کچھ سوچنے لگا۔اچانک اس کے کانوں میں مہر بانو کی خوشی بھری  ہلکی سی چیخ کی آواز آئی۔اس نے چونک کر دیکھا۔شہزادی میدان کے دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔بادشاہ کی نظریں بھی اس طرف اٹھ گئیں۔شہزادہ جمال ایک خوب صورت سنہری گھوڑے پر سوار ہو کر  میدان میں داخل ہوا اور دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والے شہزادوں کے درمیان کھڑا ہوگیا۔شہزادہ شرافت  کی نظر بھی اس پر پڑ گئی تھی۔شہزادے جمال  اور اس کےگھوڑے کو دیکھ کر اس کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔

بادشاہ کے بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔تھوڑی دیر بعد  دوڑ شروع  ہوئی۔شہزادے جمال کا اشارہ پاتے ہی سنہری گھوڑے نے ایک جست لگائی اور انتہائی تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا  سب سے آگے نکل گیا۔دوڑ کے اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے وہاں پر عوام کی ایک بہت بڑی تعداد جمع تھی۔شہزادے جمال کے گھوڑے کی برق  رفتاری دیکھ کر تمام لوگ جوش و خروش سے نعرے بلند کرنے لگے۔سب لوگوں کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ شہزادہ جمال اس مقابلے میں جیت جائے گا۔جب ایک لمبا چکر کاٹ کر وہ سب شہزادے واپس آئے تو لوگوں کا یقین سچ میں بدل چکا تھا۔شہزادہ جمال کا  سنہری گھوڑا سب سے آگے تھا۔وہ جیت گیا تھا۔

دوڑ کے اختتام پر بادشاہ خوشی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا اور شہزادہ جمال کو گلے سے لگا لیا۔شہزادی مہر بانو کا چہرہ بھی خوشی سے گلنار ہورہا تھا۔ملکہ نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تو سمجھ گئی کہ وہ بھی چاہتی تھی کہ شہزادہ جمال کامیاب ہوجائے۔

شہزادی کو خوش دیکھ کر وہ بھی مسکرانے لگی۔

شہزادہ جمال کی جیت کی خوشی میں ہر طرف شادیانے بجنے لگے تھے اور لوگوں نے میدان میں آکر ناچنا گانا شروع کردیا تھا۔اسی اثنا میں داروغہ ایک غلام کی مشکیں کس کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور بادشاہ کو فرشی سلام پیش کر کے بولا۔

“جہاں پناہ۔آپ کے حکم کے مطابق میں نے شہزادے جمال کے گھوڑے کے بارے میں تفتیش کی تھی۔یہ ہے وہ نمک حرام جس نے اس گھوڑے کو غائب کیا تھا”۔

“حضور مجھے معاف کردیجیے۔میں لالچ میں آگیا تھا۔شہزادہ شرافت نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میں شہزادہ جمال کے گھوڑے کو غائب کردوں تو وہ مجھے اشرفیوں کی ایک تھیلی دے گا۔اسے ڈر تھا کہ شہزادہ جمال کا گھوڑا مقابلہ جیت جائے گا۔اس نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ شہزادی سے شادی ہوجانے کے بعد وہ مجھے محل کے خادموں کا سردار بھی بنا دے گا”۔

شہزادہ شرافت بھی وہیں کھڑا تھا۔اس نے جب دیکھا کہ اس کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے تو اس نے وہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی،   اس نے اپنا گھوڑا موڑا اور اسے تیزی سے بھگاتے ہوئے نظروں سے غائب  ہوگیا۔وہاں پر موجود سب لوگ اسے برا بھلا کہہ رہے تھے۔بادشاہ کے حکم پر اس غلام کو جیل میں بند کردیا گیا۔

چند روز کے بعد شہزادہ جمال اور شہزادی مہر بانو کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہوگئی۔شہزادہ جمال کی ماں اور باپ دونوں بہت خوش تھے کہ ان کے شہزادے کی شادی شہزادی مہر بانو سے ہوگئی تھی۔چندا پری اور جوجو نے بھی اس شادی میں شرکت کی تھی۔شادی کی تقریبات ختم ہوئیں  تو جوجو سنہرے گھوڑے پر سوار ہو کر چندا پری کے ساتھ پرستان روانہ ہوگیا۔

وہ لوگ پرستان پہنچے تو شہزادی دل آرا  جوجو کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔اس نے چندا پری کو بہت سارا انعام دیا اور جوجو سے اپنے برے سلوک کی معذرت کی۔جوجو بھی شہزادی کو بہت یاد کرتا تھا۔اس نے پہلے تو تھوڑے سے نخرے دکھائے مگر پھر مان گیا۔اپنی بات اونچی رکھنے کے لیے اس نے کہا۔“شہزادی صاحبہ۔اگر آپ نے پھر کبھی مجھے جھڑکا یا مجھ پر غصہ کیا تو میں ایسی جگہ چلا جاؤں گا کہ چندا پری بھی مجھے نہیں ڈھونڈ سکے گی”۔

اس کی دھمکی سن کر شہزادی مسکرانے لگی اور بولی “میں نے بھی عہد کر لیا ہے کہ اب ایسی کوئی بات نہیں کروں گی کہ جس کی وجہ سے میرا پیارا جوجو مجھ سے ناراض ہو کر کہیں چلا جائے”۔

یہ سن کر جوجو نے مارے خوشی کے ایک چھلانگ لگائی اور دوڑتا ہوا باغ میں چلا گیا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ شہزادی دل آرا بھی وہاں آگئی۔پھر وہ دونوں چاندی کی زنجیروں والے جھولوں پر بیٹھ کر  جھولا جھولنے لگے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: