Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 1

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 1

اندھیری سیاہ رات چھا چکی تھی مگر چاندنی اپنے جوبن پر تھی . وہ رب تعالی کی بارگاہ مے تر چہرے کےساتھ موجود تھی یہ وہ بھی بھول چکی تھی کہ کب سے , کتنی ہی دیر سے ہچکی باندھے دعا مانگ رہی تھی رو رو کر اپنے رب سے التجاء کر رہی تھی . اے ربالعزت بےشک تو میرے باطن کو بھی جاننے والا ہے میرے دل کے تمال راز تجھے معلوم میرا اصل نقل سب تیرے سامنے ہے میرے رب تو مجھے اپنی پناہ مے رکھ اور مجھے ہر بری شے سے بچا .بے شک تو کریم ہے معاف فرمانے والا ہے میرے گناہ بھی معاف فرما اور مجھے پاکیزہ بنا
اسنے دعا مانگتے ہاتھ چلے پر ملے اور جاءے نماز کو تہ کرنے لگی . مسلسل روتے ہوے اب وہ اوپر چھت کی طرف جارہی تھی , چھت پر بارش کا پانی اب بھی جگہ جگہ موجود تھا .وہ چلتے چلتے اب دیوار کے قریب پہنچ چکی تھی .وہ ہلکا سا نیچے کو جھکی اور پاس رکھے گملے مے کھلے گلاب کے پھول دیکھنے لگی اور پھر ایک ادھ کھلی کلی کو سونگھنے لگی .اب اسکا چہرہ قدرے سوکھ چکا تھا اور اسکی ہچکی بھی اب رک چکی تھی. وہ واپس اپنے بستر کی جانب چلنے لگی . اب وہ ایک مرتبہ پھر سے کسی پرانی یاد مے کھو چکی تھی.
وہ نو, دس سال کی بچی تھی جو ہچکی لیتے رو رہی تھی . مما مجھے اب اس اسکول نہی جانا مجھے نہی پتہ مجھے کسی دوسرے اسکول جانا ہے ہماری مس اچھی نہی ہے وہ میرے ساتھ نا انصافی کرتی ہے .. نہی میری جان بری بات ایسا نہی کہتے استاد تو بہت اچھے ہوتے ہے مے نے کبھی اپنے اساتزہ کے بارے می کچھ برا , کچھ بھی ایسا ویسا نہی کہا. جیتنا صرف مادی چیز کا ملنا نہی ہوتا بہت دفع ہمارے لیے سکون بہت اہم ہوتا ہے . چلو شاباش ہمت کرو روتے نہی ہے . وہ بچی اب کچھ کچھ سمجھ چکی
تھی ہار جیت ہماری زندگی کا اہم جز ہے. اپی لو مت( اپی رو مت)اپ میلا پلایز لے لو (اپ میرا پرایز/ انعام لے لو ) اوہ شفق, شہزادی اپی کی جان , اپی اس لیے نہی رو رہی .اس نے پیار سے اپنی بہن شفق کو چوما اور مسکرانے لگی . وہ گم سم تھی کہ اچانک اسکا فون بجا وہ چونکی اور اب یاد کے بند کمرے سے نکل کر اپنے ارد گرد دیکھنے لگی. اس نے فون کان سے لگایا دوسری طرف سے کسی عورت نے کہا: ہیلو شنایل ,ای ایم تہمینہ, شنایل شاید فون بند کرنے ہی والی تھی کہ اک لمہے کو رکی. دوسری طرف اب بھی بات جاری تھی.تہمینہ کہ رہی تھی, مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے .پلیز فون مت بند کرنا . شنایل نے فون اسکرین پر چمکنے والے نمبر کو دیکھا .
___________________­______________
یار سر سرمد کو کیا ہوا امجد کہتے کہتے رکا .مجھے تو معلوم نہی مگر کچھ بھی ہو اج تو شامت پکی ہے اللہ بچالے, ہم بےچارے لوگ ہے کرم کر ہم پر ہمارے رب رافع التجا کرنے لگا تھا . پاس سے گزرتے میکال نے جب یہ سب سنا تو رک کر کچھ سوچا پھر باس کے روم( کمرے) کی جانب جانے لگا .پھر کچھ سوچ کر رک گیا اور اپنے کیبن کی طرف واپس ہوا . سوری باس! ارم باس کو اپنی صفای دے رہی تھی , سوری. کیا کرو مے اس سوری کا اس بات کا اندازہ ہے کہ کتنی بےعزتی ہوی میری مس ارم . سر پلیز . نہی مس ارم یو ار فایر ( اپ کو جاب سے نکال دیا گیا ہے ) کل سے اس جاب پر مت انا . سر سر پلیز ارم اب رونے لگی تھی . نو یو مے گو (جا سکتی ہو تم) باس نے زور سے ہلکا سا چلاتے ہوے کہا . ارم روتے روتے اپنا سامان کلوز کرنے لگی .وہ اب جانے کو تیار تھی اس نے بیگ لیا اور کمرے سے نکل کر بچتے بچاتے افس سے باہر نکل چکی تھی جب میکال نے اسی روکا . کیا یوا ارم میکال کے پوچھنے پر بھی ارم نے جواب نا دیا اور اس
نے کسی کو کال کر کے کہا شارم مجھے گھر جانا ہے راستے سے اور بھی کچھ سامان لینا ہے یہ کہتے ہی اس نے رکشہ روکا اور چلنے لگی . جیسے وہ میکال کو دیکھ ہی نا رہی ہو. میکال اسے دیکھتا رہا پھر کسی کو کال کی اور وقت ملتے ہی ملنے کا کہنے لگا.
___________________­_____________
مشایل نے دروازہ کھولا سامنے ایک دلکش سی پچیس چھبیس سالہ دوشیزاہ تھی . اسلام علیکم مشایل! شکریہ, میری مدد کرنے کےلیے بہت شکریہ. مشایل نے جواب نا دیا اور صوفے کی طرف اشارہ کی کہ ادھر جاو . تہمینہ کے ہاتھ مے ایک تصویر تھی جسے وہ بار بار دیکھ رہی تھی وہ کہنے لگی یاد ہے مشا ہم کتنے گہرے دوست تھے . مگر اب نہی ,وہ دوستی اب نہی رہی تم مجھے سمجھو میرا قصور صرف اتنا ہے کہ . مشایل نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوے کہا مجھے اب وہ سب یاد نہی کرنا . دوبارہ ازیت نہی دو مجھے . پلیز تہمینہ اب چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی. نوکرانی نے کمرے کا دروازہ کھولا اور دو نوکر ہاتھ مے اناع واقسام کا سامان لیے اندر اے, ان سب نے کانچ کے برتن ,اور سلیقے سے کھانے پینے کی بہت سی اشیاء میز پر سجا دی . تہمینہ اب یہ سب کچھ دیکھتے ہوے بولی اب بھی میری پسند ناپسند کا اتنا اہتمام کس لیے . مشایل نے بس یہ کہا کہ یہ ہماری اچھی دوستی کی یاد کا صلہ ہے .اب مجھے لگتا ہے ہم دوبارہ نہی مل سکتے . ملنا تو ہم نے پپلے بھی نہی تھا مگر دیکھو ہم ملے اور کیسے ملے . تہمینہ مسکراتے مسکراتے کہنے لگی . وہ واقع بہت دلکش تھی مسکراتے ہوے اور بھی زیادو .اس نے سامنے رکھے کیک کا پیس چکھا اور کہنے لگی نفرت مے بھی وہی کیک جو دوستی مے تھا, اور ایک دو چیز چھکنے کے بعد بھی اسکی زبان صرف تعریف ہی کیے جا رہی تھی سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا مشایل پہلے بھی اچھی کک تھی اور اب بھی مگر بس اب دوست نہی تھی.
___________________­____________
ارم کی دوست اسے تسلی دے رہی تھی . اور ساتھ اس نے برگر ارم کی طرف کرتے ہوے کہا تمہارا پسندیدہ ہے چیز برگر , پتہ ہے اسپیشل تمہارے لیے لیا اور اتنی پریشان تھی مے, شکر تم اب بہتر ہو . وہ مسلسل بولے جا رہی تھی .ارم نے تنگ اکر کہا امبر چپ ہوجاو پلیز . بہت بولتی ہو تم . امبر چپ کر کے رہ گی اچھا دکھاو یہ برگر ادھر ارم نے اس کے ہاتھ سے برگر چھینا اور ہنسنے لگی . امبر بھی ہنس دی . ارم اور امبر سات سال سے ایک ساتھ کراے پر رہ رہی تھی ارم یتیم تھی اسکی پھوپھو نے ہی اسے پالا تھا مگر انکے بعد اب وہ اکیلی تھی اور امبر ہی اسکا سب کچھ تھی .امبر کی امی اور ایک بھای تھا شارم. امبر کی فیملی ارم کا بھی اس جیسا ہی دھیان رکھتی تھی جیسے یہ ایک ہی گھر کے فرد ہو . ارم کی نوکری کو چار سال ہو گے تھے مگر باس تو جیسے اسکے دشمن ہو ہر بات پر بےچاری کو تنقید کا نشانہ بناتے .مگر یہ بھی چپ کر ک سہتی رہی کہ اور جاب ملے نہ ملے مگر اب بس بہت ہوا اب وہ بھی باس سے تنگ تھی مانو اچھا ہوا جان بچی باس تو مار کر ہی سکون لیتے اس بےچاری کو . امبر کی بھابی کا کزن تو ارم کو بہت پسند کرتا تھا مگر وہ ابھی اس سب سے بچنا چاہتی تھی. ایک تو اکیلی جان اور اوپر سے امبر کے گھر والے پہلے ہی اتنے اچھے تھے اسکے ساتھ اب مزید وہ کسی مہربانی کے قابل نہی سمجھتی تھی اپنی زات کو .
___________________­____________
میکال کسی قدوقامت والے مرد کے ساتھ مقررہ وقت پر ملنے گیا .گندمی رنگت مگر وجیہہ اور پہلی ہی بار مے دل موہ لینے والی شہسیت کے مالک میکال کے سامنے وہ مرد کچھ کمال کا نہی تھا . میکال کچھ دو سال پہلے اپنی فیملی کے پاس پاکستان ایا تھا اور اپنے چاچو کی کمپنی مے برابر کا مالک تھا
لندن مے رہنے کے باوجود وہ اپنے ملک سے وفادار تھا اور پاکستان مے ہی جاب اور بزنس کرنا چاہتا تھا ویسے تو اس کے ابو کا شوروم تھا مگر اسے اس کام مے دلچسپی نہی تھی . اپنے والدین کا اکلوتا بچا اوپر سے ساری فیملی مے باہر کی تعلیم رکھنے والا . اسے پسند کرنے ک لیے یہ سب کافی تھا . اسکے برعکس وہ مرد دکھنے مے نارمل عام شکلو صورت والا مگر قدوقامت والا کسی کو شاید سوچ بچار کے بعد ہی پسند اسکتا تھا .میکال نے بات شروع کرتے ہوے کہا تم جانتے اس وقت کس لیے بلایا ہے تمہے مینے .جی بالکل جناب جانتا ہو کام کہیے بندہ پوری کوشش کرے گا. شہزور مجھے کوشش نہی نتیجہ چاہیے اور تم اس رقم کے قابل نہی جو تم ہر ماہ مجھ سے لیتے ہو . شہزور پیشہ سے پولیس والا تھا. اور جو کام میکال کروانا چاہتا تھا وہ شہزور ہی کرسکتا تھا . اگلی بار مجھے تم سے ملنے نا انا میکال ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ شہزور نے اسے روکتے ہوے کہا جناب ہو گیا سمجھو کام اور اپنا فون لے کر چلا گیا . میکال نے اسے جاتا دیکھا اور کسی کو کال کر کے کہا تیار رہو تم کو شام کو ملنا ہے مجھ سے .

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: