Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 10

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 10

آئیے میڈم ۔
ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے پیچھے جا کر ارم کا سوٹ کیس ڈگی میں سے نکال رہا تھا۔

” عشما ویلاز ”
وہ گیٹ کے باہر لکھا ہوا پڑھتی ہوی کار سے نکلی تھی۔

سائیڈ پر بہت سے خوبصورت پھولوں سے سجا لان تھا۔
ایک کونے میں بڑی سی ڈولفن والا فوارہ سا بنا تھا پانی کے اطراف میں مختلف رنگوں کے برقی قمقمے جگمگا رہے تھے۔

وہ سامنے کو چلتی ہوئ اندر داخل ہوئ تھی۔
لاؤنچ میں لوز فلاپر اور گھٹنوں سے زرا اوپر کرتی پہنے ایک کھڑی تھی چہرے پر مسکراہٹ پھیلائے وہ یقینا ارم کو رسیو کرنے کے لیئے وہاں موجود تھی ۔

میم آپ یہاں آرام کریں میڈم ابھی زرا باہر گئ ہیں۔
آپ کچھ لیں گی۔

وہ نہایت مؤدبانہ انداز میں بولی تھی۔
نہیں کچھ نہیں۔

ارم اپنا بیگ صوفے پر سائیڈ پر رکھ رہی تھی۔
یس شور میم۔

وہ وہاں سے چلی گئ۔
ارم سرسری طور پر ویلا کا جائزہ لینے لگی ۔

سامنے دیوار پر عشما کی ایک خوبصورت سی
4×3

کی فوٹو لگی ہوئ تھی۔
پیچ کلر کی کرتی کیپری پہنے گلے میں اورگینزہ کی چنی لیئے نازک سے انداز میں ہاتھ باندھے پوز میں تھی۔

وہ اس کے ہاتھ پر سجی چھوٹی سی پلاٹینم کی انگوٹھی کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔
وہ ایک بلی کی شکل کی تھی۔ جیسے کوئ بلی کسی چیز کے گرد لپٹی ہو ۔

نیلی نیلی آنکھیں۔
وہ اس میں محو تھی کہ اسے پاؤں کے پاس کچھ محسوس ہوا ۔

وہ چونک کر نیچے دیکھنے لگی ۔ ایک پیاری سی پرشین کیٹ اسے دیکھتے ہوئے میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔
آں۔۔۔

وہ پیار سے اسے سہلانے لگی بلی وہاں اس کے پاس ڈھے گئ۔
باہر کار رکنے کی آواز آئ تھی۔

عشما لاؤنچ میں داخل ہوئ تھی۔
بلی ارم کے قدموں سے دوڑتی سے عشما کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہونے لگی۔

وہ برانڈڈ بلیک ٹراؤزر پر چاکلیٹ کلر کی سٹائلش شرٹ پہنے ہوئے تھی۔
یہ بہت موڈی ہے مگر اچھی بات ہے تم سے گھلنے لگی ہے۔

عشما بلی کو گود میں اٹھاتے ہوئے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔

میم آئیں میں آپ کو آپکا روم دیکھاؤں ۔
وہ ارم کو اوپر کی طرف گائیڈ کرتی ہوئ بولی تھی۔

وہی کرتی فلاپر والی لڑکی ایک مرتبہ پھر منظر میں امڈی تھی۔
یہ شائن ہے ۔

عشما ارم کو بتا رہی تھی ۔
تمہیں کچھ بھی چاہیے ہو، اس سے کہہ سکتی ہو۔

عشما بلی کی اٹکلیاں دیکھتی اوپر اپنے روم میں جا رہی تھی۔
___________________­_______________

مشایل سنبھل چکی تھی۔

وہ اب تک اس کے کندھے سے سر ٹکائے بیٹھی تھی۔
چلو کب تک یہیں رہنے کا ارادہ ہے۔

وہ شرارتا بولا تھا۔
جب تک آپ یہاں ہیں۔

وہ بھی جوابا شرارتی ہو کر بولی ۔
آپ واپس کب آئے آپ تو اسلام آباد تھے۔

وہ چہرہ اس کی جانب موڑے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھے ان پر تھوڑی سجائے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
بس ایمرجنسی کیس آیا تھا۔

آنا پڑا۔
وہ گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔

تو چلیں گی آپ میرے ساتھ ۔
وہ دائیاں ہاتھ آگے بڑھاتا ہوا بولا تھا۔

کہاں۔
مشایل ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے بولی ۔

اس دنیا میں میری آخری سانس تک ۔۔۔۔ اور اس کے بعد جنت میں آنکھ کھلنے کے بعد تک۔
وہ اس کے ہونٹ پر ہاتھ رکھے ۔

اس کے بول روک رہی تھی۔
ان شاءاللہ۔

ہمارا ساتھ اس دنیا کے آخری پل تک ہوگا۔ ہم ساتھ رہیں گے۔

___________________­________________

کچھ معلوم ہوا ۔ یہ سب کس نے کیا ہے ۔
بیٹے کے غم میں چور وارث بیگ شاہ غصہ سے غراتے ہوئے پولیس انسپیکٹر سے واردات کا پوچھ رہے تھے۔

گولی تو کسی شاہ ویز نام کی رجسٹرڈ پسٹل سے چلی ہے ۔
اسکا فی الحال کچھ پتا نہیں چلا۔ پولیس پوری کوشش کر رہی ہے۔ قصوروار کو سزا ضرور ملے گی۔

شاہ ویز۔
وارث بیگ شاہ کو کسی کا دھندلا چہرہ یاد آیا تھا۔

چہرے پر اگی ہوئ بے جا ڈارھی میں سے جھلکتا چالیس بتالیس سالہ چہرہ شجاع علی کا تھا۔
قہقہا لگاتا شخص کوئ اور نہیں تہمینہ شجاع اور شاہ ویز شجاع کے والد صاحب تھے ۔

وہ دونوں بزنس پارٹنرز تھے۔
امید ہے پراجیکٹ کامیاب ہو ۔

وارث بیگ شاہ جائے کا کپ منہ سے لگاتے ہوئے بولے تھے۔
کیسے نہیں ہو گا۔ آپ شجاع علی کے پارٹنر نہیں ۔

وہ لان میں کچھ فاصلے پر کھڑے وجاہت اور شاہ ویز کو دیکھتے ہوئے بولے تھے ۔
ہمارے تو صاحب زادے بھی اچھے دوست بن گئے ہیں۔

جی جی ۔
وارث بیگ شاہ انکی ہاں میں ہاں کرتے ہوئے گردن ہلا رہے تھے۔

دونوں نے ففٹی ففٹی پرسنٹ پر ایک پلازے کے پارٹنر شپ کا کانٹریکٹ کیا تھا۔
پرافٹ ہی پرافٹ۔

سودا اچھا تھا۔
دونوں کی باہمی رضا مندی سے بلڈنگ کا سٹرکچر بننا شروع ہوچکا تھا۔

شجاع علی کی فیملی مسٹر وارث بیگ شاہ کے گھر دعوت پر مدعو تھی۔
تہمینہ اندر وجاہت شاہ اور اپنی والدہ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی وہ ایک دو مرتبہ پہلے بھی ان کے گھر اچکی تھی۔

وجاہت شاہ کی اور اس کی اچھی بات جیت تھی بلکہ یونیورسٹی میں تو اب ان کے ریلیشن شپ کے بھی چرچے تھے۔
مگر وہ دونوں اس بات سے صاف انکاری تھے۔

ہم صرف اچھے دوست ہیں اور ہمارے فیملی ٹرمز ہیں۔
مگر ساتھ ساتھ گھومنا پھرنا سب کو شک میں مبتلا کر رہا تھا ۔ کئ سٹوڈنٹز کا تو یہ تک کہنا تھا کے فائنل ائیر میں ہم وجاہیم “وجاہت + تہمینہ ” انکا کپل اسی نام سے مشہور تھا۔ کی شادی کا فنکشن اٹینڈ کر رہے ہوں گے۔

آپ اگر اس بارے میں جانتے ہیں تو ۔
پولیس انسپیکٹر کچھ اگلوانے کی کوشش کر رہا تھا۔

نہیں۔کچھ نہیں معلوم۔۔۔ زبیر ۔۔۔ یہ پولیس کا کام ہے۔ جلد پتا لگاؤ تم ۔
وارث بیگ شاہ اس کی نیم ٹیلی پر لکھا نام دہراتے بولے تھے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: