Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 11

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 11

ڈاکٹر اسے شاک دے رہے تھے ۔

آئ سی یو کے باہر لال بتی جل رہی تھی۔
جو اس نیم مردہ، خون میں لت پت وجود کو ہاسپٹل لائی تھی۔

آئ سی یو کے باہر دروازے سے چپکی زمین پر بیٹھی تھی ۔
لال خون سے رنگے ہاتھ سکتے کے عالم میں دیکھ رہی تھی۔

ڈاکٹروں کی افراتفری میں ادھر ادھر سچویچن پر قابو پانے کی کوششیں جاری تھیں۔
وہ پہلے بھی خون دیکھ چکی تھی۔

اپنے سامنے دم توڑتا وجود ، اکھڑتی سانسیں، بند ہوتا دل ، ٹوٹتا تعلق ۔
چند لمحے یوں ہی ہوا میں معلق رہے ۔

وہ ہمت جٹا کر اٹھی تھی ۔
آئ سی یو کے دروازے میں پیوست شیشے سے اندر کا لرزہ خیز منظر دیکھنے لگی۔

نم آنکھوں سے اشک رواں تھے۔
ایک کے بعد ایک۔۔۔۔ پلکوں سے چھوٹتے رخسار سے ہوتے ہوئے تھوڑی پر اکر تھمتے پھر ٹپ ٹپ اس کے وجود میں جزب ہو جاتے۔

جیسے زہر اس کی رگوں میں سرائیت کر رہا تھا۔
وہ سسکتی رب سے التجا کر رہی تھی ۔

نہیں ۔ نہیں ۔۔۔ اب کی بار نہیں۔
پہلے ابو پھر امی اور اب تہیم ۔۔۔۔

نہیں اس میں مزید کسی کو کھونے کی ساکت نہیں تھی۔
وہ ایک مرتبہ پھر اسی ٹوٹتے تعلق کے دہانے پر تھی جو حقیقی مالک سے جڑنے جا رہا تھا۔

نہیں اللہ تعالئ اب نہیں۔
وہ گھٹی گھٹی سی بولی تھی۔۔

مجھے تنہا مت کیجیئے ۔۔
تہیم۔

اس نے با مشکل کہا تھا۔ آنکھیں بند ہو رہی تھی اور ہونٹ یوں ہی آدھ کھلے تھے۔
وہ دونوں ہاتھ گردن پر رکھے ۔ چہرے پر بہتے آنسو محسوس کر رہی تھی۔

اندھیرے میں ڈوبی، وہ دبی دبی آوازیں سن رہی تھی۔

کہا گئ تھی تم ۔

مشایل سینڈل کا سٹرپ بند کرتے ہوئے اوپر دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
کہیں نہیں۔

تہیم کچھ چھپاتے ہوئے بولی تھی۔
جلدی کرو ۔ کتنا سلو کام کرتی ہو تم ۔

اٹھو چلو بھی ۔
تہیم اسے گھسیٹ رہی تھی تقریبا۔

مشایل گلے میں سلک کا پیچ کلر کا سٹولر سیٹ کر رہی تھی۔
بےبی پنک کلر کی شارٹ ویسٹرن سٹائل فراک کے ساتھ وائٹ کیپری سٹائل جینز میں بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔

وہ کار میں بیٹھ رہی تھی۔
چابی سے سٹارٹ کرتے ہوئے وہ رائٹ ہینڈ میں نازک سی انگلی کے گرد لپٹی چاند کی شبیہہ والی رنگ پہن رہی تھی۔

ہری اپ مشا۔
تہیم اسے گھورتے ہوئے بولی تھی۔وہ غصے سے اسٹیرنگ وھیل گھما کر اب ہارن بجانے والی تھی کے مشایل نے فورا سے کار کو آگے بھگایا۔

جانا کہاں ہے۔
مشایل ون ڈائیریکشن میوزک بینڈ کا سانگ پلے کرتے ہوئے جھومتے جھومتے پوچھ رہی تھی۔

سٹریٹ چلو لیفٹ کٹ پر ٹرن لینا۔
وہ مشا کا منہ سامنے سڑک کی طرف کرتے ہوئے بولی تھی۔

رات کے نو بجنے والے تھے۔
وہ لفٹ سائیڈ پر ٹرن لے رہی تھی۔

کار جھٹکے لیتی لیتی رک گئ تھی۔
وہ کار سٹارٹ کرنے کی زبردست کوشش کر رہی تھی۔

تہیم غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔
وہ کار کا دروازہ زور سے پٹخ کر باہر نکل کر کھڑی ہوگئ تھی۔

تہیم پلیز ۔۔۔۔ اچھا سوری نا۔۔۔۔ اب اس میں میری غلطی تو نہیں ہے نا۔۔۔۔ کک ۔۔ کار خود خراب ہوئ ہے۔
مشا کان پکڑے تہیم کو منا رہی تھی۔

تہیم ہاتھ باندھے دوسری جانب دیکھ کر لفٹ مانگنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔
ایک کار پاس آکر رکی تھی۔

فرنٹ ونڈو سے وجاہت شاہ جھانک رہا تھا۔

لفٹ۔۔۔ آپکو کہیں جانا ہے میں ڈراپ کردوں۔۔۔
وہ لفٹ کی آفر کرتا کار ڈور کھول رہا تھا۔

نو تھینکس ہمارا ڈرائیور آتا ہو گا۔
مشا تڑک کر بولی تھی۔

یس پلیز ۔
تہیم آگے کو بڑھی تھی۔

تھینکس فار دا آفر بٹ وی رئیلی ڈونٹ نیڈ اٹ ۔
وہ ایڑھی پٹخ کر بولی تھی۔

مشا وی ہیڈ ٹو گو ۔۔۔ کم آن۔
تہیم مسکرا کر بیک سیٹ پر بیٹھ رہی تھی۔

مشا ہچکچاہٹ کا شکار تھی۔کیا کہے گا میں ایسے ہی کسی کی کار میں بیٹھ جاؤں ۔ ہچکچاہٹ کا مسئلہ نہیں تھا یہاں بات انا کی تھی۔ وہ اڑے آرہی تھی۔
وہ یوں ہی کار سے ٹکی کھڑی رہی۔

مشا آرہی ہو یا ۔۔۔
تہیم اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی۔

وہ زور سے سڑک پر اپنی ہیل مار کر غصے سے چلتی ہوئ کار میں بیٹھ گئ۔
وجاہت شاہ مرر سے تہیم کو دیکھتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر مسکرا رہا تھا۔

تہیم بھی اسے دیکھتی ہوئے مسکرائ تھی۔
البتہ مشا غصے سے اب تک ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی ، سب سے بےخبر ۔

تہیم آنکھوں ہی آنکھوں میں وجاہت سے باتیں کر رہی تھی۔
تھینک یو۔

وہ بنا آواز نکالے بولی تھی۔
وجاہت بھی دو انگلیاں ماتھے پر رکھتے ہٹاتے مائین پلیشر بولا تھا۔

پندرہ منٹ بعد کار رکی تھی ۔
مشا چونک کر تہیم اور وجاہت کو دیکھنے لگی تھی۔

یہ کیا۔
کون سی جگہ ہے یہ۔

پارٹی کا سا ماحول ،
رنگ برنگی سجاوٹ ، طرح طرح کی سجی سنوری حوریں ،ادھر سے ادھر حسن کے جسمے ٹہل رہے تھے۔

سوٹڈ بوٹڈ پرنس چارمنگز ہاتھ میں مشروبات یا کھانے پینے کی چیزیں پکڑے کھڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
ویٹرز طرح طرح کے مشروبات لئیے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔

بڑے سے لان میں خوبصورت پنک اینڈ وائٹ روز فلاور تھیم ڈیکوریشن تھی سامنے اسٹیج نما جگہ پر دو فٹ بڑا ونیلا کیک خوبصورت ٹیبل ڈیکور میں درمیان میں سجا تھا۔
وہ حیران سی آس پاس دیکھ رہی تھی۔

وہ تہیم کو بازو سے پکڑے اس کے کان میں سرگوشی کر رہی تھی۔
یہ کیا ہم تو تمہاری فرینڈ سے ملنے جارہے تھے ۔ یہ ۔۔۔

ارے یہی تو ہے میری فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی۔
تہیم اسے سامنے اسٹیج کی طرف لے کر جا رہی تھی۔

تمہاری فرینڈ کہاں ہے۔
مشا تلاشتی نظروں سے کسی کو ڈھونڈتی ہوئ پوچھ رہی تھی۔

رکو ایک منٹ۔
تہیم

منظر سے غائب ہوئ تو وجاہت اسٹیج کی سائیڈ سے ہاتھ میں مائیک پکڑے اناونسمنٹ کر رہا تھا۔
ویلکم فرینڈز وی ار ہئیر ٹو سیلیبریٹ اے ویری اسپیشل ایوننگ ۔

ہووو ۔
مجمع سے تالیوں اور اپریسی ایشن کی آوازیں گونجی تھیں۔

مشا حیران سی ادھر ادھر تکتے زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتی تالی بجا رہی تھی۔
وہ تہیم کو تلاش رہی تھی۔

اسٹیج کے پیچھے سے اتشبازی چھیڑی تھی۔
سامنے سے تہیم کلاس فیلوز کے ساتھ برتھ ڈے سانگ گاتی آرہی تھی۔

وہ وائٹ کلر کی میکسی اور دونوں بازؤوں کے گرد بےبی پنک کلر کی فینسی شال لپیٹے آرہی تھی۔
وجاہت اسے کیک کاٹنے کے لیئے بلا رہا تھا۔

تہیم اسٹیج پر اس کے ساتھ کھڑی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔
مشا کیک کاٹ رہی تھی۔وہ بھول چکی تھی آج اس کی برتھ ڈے ہے۔

صبح تک تو اسے یاد تھا بلکے اسے تہمینہ پر بہت غصہ تھا۔ وہ اسے وش کرنا بھول چکی تھی۔
مگر یہ سب واو ۔۔۔۔

یہ بہت ہی بیسٹ سیلیبریشن تھی۔
وہ سب قندیلیں ہوا میں چھوڑ رہے تھے۔

افق پر سیاہ رات میں جگمگاتے چاند کے ساتھ سنہری چاندنی سی روشنی بکھر چکی تھی۔
بلا ترتیب ہوا کے ساتھ لہراتی قندیلیں آسمان پر خوبصورت سا سماں باندھتی اوپر کو بلند ہوتی دور جا رہی تھی۔

وہ محو سی کھڑی منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
یہ تمہارا گفٹ۔

وجاہت شاہ سنہری پیکنگ میں لپٹا ایک گفٹ اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
نو، نو تھینکس ۔

پہلے ہی آپ لوگ اتنا کچھ کر رہے ہیں۔
مشا شرمائ سی اسے شکریہ کہہ رہی تھی۔

ڈونٹ بی سو فارمل۔
وی آر کلاس میٹز اینڈ آی ہوپ وی آر فرینڈز ناؤ ۔

وہ آہستہ سے دائے ہاتھ سے سر کے پیچھے کھجاتے، نظریں ادھر ادھر دوڑاتا ہوا بولا تھا۔
وہ کھلکھلائ تھی ۔

یس وائے ناٹ۔
وہ اندر سے حیران تھی ہم فرینڈز کب بنے۔

ارم اسلام علیکم ۔
واعلیکم اسلام ۔

کہاں گم ہو تم، ہمیں تو بھول ہی گئ کوئ رابطہ ہی نہیں ۔ بہت بزی ہیں میڈم۔
امبر مزاق کے موڈ میں طنز کرتی ہوئ بولی۔

ہاں ۔ جی بہت ۔ نئ جگہ ہے سٹل ہونے میں ٹائم لگے گا۔

میم اچھی ہیں بہت ۔ اور یہاں تمہاری جیسی ۔۔۔ نن ۔۔ نہیں تم سے زیادہ پیاری میٹ ملی ہے مجھے۔
تمہاری تو بالکل بھی یاد نہیں آئے گی مجھے۔

امی بہت یاد آئیں گی۔ ملنے آؤں گی میں ۔

وہ روم میں ٹہلتے ہوئے بات رہی تھی۔
ہمم ٹھیک ۔

امبر بھی بات اوپر اوپر سے سن رہی تھی۔
ویسے مجھے بھی ایک جگہ اسسٹنٹ کی جاب آفر ہوئ تھی۔

میرے پروفیسر کی مسسز ہیں انکی طرف سے۔
واؤ تو کب جواننگ ہے پھر ۔

ارم ہنسی دباتی ہوئ پوچھ رہی تھی۔
شکر ہے امی کی جان چھوٹے گی تم سے جاو جاو۔

وہ بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے لیٹی تھی۔
دروازہ ناک ہوا تھا۔

ارم ۔
جج جی ۔

وہ آواز پر چونکی تھی۔
وہ فون بند کرتے ہوئے اٹھی تھی۔

کھانا نہیں کھانا۔
وہ پوچھ رہی تھی۔

ہاں ۔
کھانا تو ہے۔

ارم سلیپر پہن رہی تھی۔
اوکے آجاؤ ۔

وہ نیچے ڈائننگ ہال میں چلی گئ تھی۔
بس ہم دونوں ۔

ارم ڈائننگ چئیر کھینچتے ہوئے بولی تھی۔
ہاں کیوں تمہیں پوری فوج کے ساتھ کھانا کھانا تھا۔

وہ کھلکھلائ تھی۔
نہیں تو بس ویسے ہی۔

ہاں ابھی نئ ہوں نا اس لیئے ۔
ارم وضاحت دے رہی تھی۔

کب تک نیو کا ٹیگ چپکائے گھومو گی۔
وہ پلیٹ میں وجیٹیبل رائس نکال رہی تھی۔

اور کوئ نہیں ہو گا یہاں ۔
ارم کو کوفت ہونے لگی تھی۔

نہیں۔۔۔ دو ڈرائیور ہیں ، تین شیفز ہیں، میک اپ ارٹسٹ، ڈریسرز ، پانچ گاڈز ، دو اکاونٹنٹ ہیں۔۔۔
سوشل میڈیا ہینڈلرز،

وہ انگلیوں پر گنوا رہی تھی۔
ہمم ،تو مطلب ٹیم ہی ہے پوری۔

ارم میکرونی کھاتی ہوئ بولی تھی۔
ہاں ایسا ہی ہے۔

وہ رائس کے ساتھ روسٹڈ چکن کے پیس توڑتی کھا رہی تھی۔

میں انجلین میم کے ساتھ تھی پہلے انہوں نے ہی مجھے عشما میم کو پریفر کیا تھا۔
دو سال پہلے میں ان سے ملی تھی۔

میں ماڈل ہوں ویسے ۔
اب پروفیشن چھوڑ دیا ہے ۔

اب اسسٹنٹ ہوں ۔ سیلیری اچھی ہے پر سکون جاب اور بس۔
وہ اپنے بارے میں بتا رہی تھی۔

اور تمہارے پیرنٹس۔۔۔ وہ کہاں ہیں۔
اس نے سرد آہ بھر کر کہا۔

بابا کے ساتھ رہتی ہوں۔
امی ہمارے ساتھ نہیں رہتی وہ بہت پہلے ہی الگ ہو گئ تھی۔

بھائ ہیں وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔
بس ۔ اور ۔۔۔

وہ کلائ میں پہنے دو کنگن جھنکاتی بولی ۔
فیانسی ہے ۔ ہم نکسٹ ائیر شادی کر رہے ہیں۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: