Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 12

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 12

200 joule charge

شوٹ ۔
تہیم کا بے جان وجود جھٹکے سے اچھل کر بیڈ سے دو تین انچ بلند ہوا تھا۔ پھر ڈھرام سے واپس بستر سے لگا تھا۔

نہیں ۔
لائف لائن اب بھی سیدھی تھی۔

سرجن اس کے پھٹے ماتھے پر سٹیچز لگا رہے تھا۔
مشا کے دعا میں اٹھے ہاتھ بے جان سے ہو کر نیچے کو گرے تھے۔

______________________________________

زیشان امجد ، وہ کالج اینڈ گورنمنٹ اسکول میں ٹیچر ہیں ۔

ماموں کے بیٹے ہیں۔
بس ۔۔۔۔تم اپنے بارے میں بتاو کچھ۔

شائن اس کی طرف متوجہ ہو کر بولی تھی۔
کچھ خاص نہیں۔

پھوپھو جان نے پالا انکے بعد فرینڈ کے ساتھ ۔ بلکہ وہ ہی میری فیملی ہیں۔
فرینڈ اس کی متھر اور ایک بھائ ۔

بس ۔۔۔ ایک جاب سے دوسری پر ۔۔۔. سات سال سے ساتھ ہیں۔ ہم ۔۔. ابھی اس سے ہی بات کر رہی تھی۔۔۔۔ روم میں۔
صحیح ۔

شائن آسمان کو دیکھ رہی تھی۔

____________________________________

تم رو رہی ہو ۔
تہیم دیکھو ادھر۔

تہیم گھٹنوں میں سر پینکھے بیٹھی تھی۔
یہ دیکھو۔

تہیم مشا کو اپنا ہاتھ دکھا رہی تھی۔
کیا ۔۔۔ روز ہی دیکھتی ہوں تمہارے ہاتھ میں۔

مشا اس کے چہرے پر نظریں گاڑھے گھٹنے زمین پر بچھائے بیٹھی تھی۔
زیشان نے بریک اپ کر لیا۔

دو موٹے موٹے آنسو تہیم کے رخساروں پر بہے تھے۔
سٹوپڈ ۔

وہ کون سا تمہارا منگیتر تھا۔
بریک اپ ہی ہوا تھا نا ۔

اٹھو کیا روتو حالت بنائ ہوئ ہے۔
مشا اپنی ننھی سی ہتھیلی پر اپنی تھوڑی ٹکائے اسے دیکھ رہی تھی۔

ہاں ۔ ۔۔۔ واقعی ۔۔۔ بٹ ۔۔۔۔ وی آر ان اے ریلیشن۔۔۔ نو ویٹ۔۔۔ وی آرنٹ ۔۔۔۔
but we are in a relationship….

No wait … We aren’t….
وہ خود کو وضاحت دے رہی تھی۔

ہمم وہ آنسو پوچھتے ہوئے اٹھی تھی۔
چلو ۔

تہیم چہرے پر ہاتھ سے ہوا جھلنے لگی تھی گو یا چہرہ سکھا رہی ہو۔
By the way…

اس نے اپنے پیرنٹز کی مرضی سے اپنے ماموں کی بیٹی کے لیئے ہاں کی ہے ۔
وہ فون پر شائن کی پک دیکھتی ہوئ مشا کو بتا رہی تھی۔

ڈیلیٹ ۔
ڈن۔

اس نے زیشان کا نمبر ڈیلیٹ کرتے ہوئے فون پر ابھرنے والے اپشانز کو سرسری طور پر دیکھا۔

مس مشایل ۔
یس۔

کیسا لگا آپکو گفٹ۔آپ نے بتایا نہیں۔
وجاہت شہادت کی انگلی ابرو پر رکھے اسے کھجاتا ہوا بول رہا تھا۔

یو کین کال می مشایل اونلی ۔
مشا شاید اسے احساس دلا رہی تھی کہ وہ زیادہ فارمل بی ہیو کر رہا ہے۔

وی آر گوئننگ فار لنچ ۔

وہ انہیں بھی جانے کی آفر کر رہا تھا۔
نو تھینکس۔

حیرت کی بات تھی اس بار تہیم نے اسے ٹھکرایا تھا۔
ہم کہیں اور جا رہے ہیں۔

وہ سکستھ 6 سمسٹر کا فائنل پیپر تھا۔

اوفو تھینکس گاڈ وی آر فری ناؤ ۔
تہیم ایم سی کیو پیپر کا جہاز اڑاتے ہوئے بولی تھی۔

فائنلی سیمسٹر بریک ۔
کہاں کا پلان ہے ۔

ایک ویک ہے جسٹ تہیم۔

کون سا ہم اس میں کراچی گھومنے جاسکیں گے۔
وہ مرجھائ سی مشا، کھلکھلاتی تہیم کو جواب دے رہی تھی۔

ہئ گرلز ،وٹس اپ ۔
وجاہت اپنا بیگ کندھے پر ڈالتا ان سے قدم ملانے لگا تھا۔

اگرچہ وہ لمبے لمبے قدم اٹھا رہا تھا۔مگر پھر بھی انکے برابر ہی چل رہا تھا۔

یوہو ایکزامز اوور۔
تہیم دو انگلیوں سے “وی ۷” کی شکل بناتی ہوئ بولی تھی۔

وہ ہاتھ کو مکے کی شکل میں ڈھال کر تہیم کی طرف بڑھا رہا تھا۔
وہ بھی جوابا ویسا ہی کر رہی تھی۔

دونوں کے بیچ چلتی مشا پل بھر کو رکی تاکہ وہ اپنی شوخی ختم کر لیں۔
ہوگیا تم دونوں کا ۔

مشا اپنے نوٹس ٹرانسپیرنٹ بیگ میں ڈال رہی تھی۔
ویسے اس ویک میری برتھ ڈے ہے۔

اور میں اپنے سبھی فرینڈز کو کراچی کے ٹور پر لے کر جا رہا ہوں۔
وووہ ۔

گڈ پلین۔
تہیم چہکی تھی۔

یس ۔ اینڈ یو تو آر انوائٹڈ ۔
وہ ان دونوں کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا۔

Wait…. What???
مشا اسے حیران کھڑی دیکھ رہی تھی۔

کیا اس آدمی نے ٹریکر لگایا ہوا ہے ۔ ہمارے ٹھوٹز ڈائون لوڈ کر رہا ہے۔
سوری گائز میں نہیں اسکتی۔

مشا منظر سے غائب ہوئ تھی ۔
تہیم کھڑی ہنس رہی تھی۔

وجاہت بھی ایک آنکھ دبا کر مسکرا رہا تھا۔
لاسٹ ٹائم والا سین پھر سے دہرانا پڑے گا۔۔۔۔۔

مشا کی برتھ ڈے پر بھی کار پلان کے مطابق خراب ہوئ تھی۔

اور پارٹی تہیم اور وجاہت شاہ کی ملی بھگت تھی۔
اس بار بھی کوئ جگاڑ کرنا پڑے گا۔۔۔۔

واہ بھئ دوست ہوں تو ایسے۔
تہیم اور وجاہت شاہ نے ہائ فایو

مارتے ہوئے جگاڑ ڈھونڈ لیا تھا۔

انٹی پلیز ۔۔۔۔
میں بھی تو جا رہی ہوں نا۔

اور ویسے بھی آپ تو جانتی ہیں۔
وجاہت شاہ کتنا اچھا لڑکا ہے۔

اور پھر ہم کون سا اکیلے ہیں۔
یونیورسٹی کے پروفیسر بھی تو ہیں ساتھ ۔ ان اوفیشل ہی صحیح کلاس فیلوز کا ٹرپ ہے۔

تہیم چکنی چپڑی مگر سچی بات کر رہی تھی۔
آئ نو بیٹا۔

آپ مشا کو قائل کرو ۔
میری طرف سے تو پرمیشن ہے۔

وہ ہی نہیں مان رہی۔
مشا کی امی نے کبھی اس پر زبردستی نہیں کی تھی اول تو مشا کسی کی سنتی نہیں تھی اور پھر وہ ایسا کوئ کام بھی تو نہیں کرتی تھی کے باپندیاں لگائ جائیں وہ اپنا اچھا برا جانتی تھی۔

آنی بھی اسے کتنی بار اپنے پاس بلا چکی تھی مگر وہ جانے کا ہی نام نہیں لیتی تھی۔
جا کر کیا کروں گی۔

مجھ سے نہیں رہا جاتا کسی اور کے گھر ۔
الجھن ہوتی ہے۔

کیسے لوگ دوسروں کے گھر جا کر رہ لیتے ہیں۔
جب بھی امی اسے کراچی جانے کا کہتی وہ اپنی ہی منطق سنا کر امی کو چپ کروا دیتی۔

تہیم اپنا فیصلہ سنانے کے انداز میں بولی تھی ۔

تم جا رہی ہو مشا اور یہ طہ رہا۔
بس اب ایک لفظ نہیں۔

وہ اسے چپ کروا چکی تھی۔
وہ پہلی بار اسلام آباد سے باہر نکلی تھی۔

دل بے چین سا ہو رہا تھا۔ وہ کراچی کی فضائ حدود میں تھی۔
ہم یہاں سے ہوٹل جائیں گے۔پھر کچھ دیر کے سٹے بعد گھر ۔

وجاہت شاہ کے گاڈز انہیں رسیو کرنے آئے تھے۔
نہیں ۔۔ مجھے آنی کے گھر جانا ہے۔ اسکی طبیعت واقعی بگڑ رہی تھی۔

وہ اپنا مؤقف دے رہی تھی۔
صحیح اور کسی کو کچھ کہنا ہے۔

وجاہت شاہ غصے سے غرایا تھا۔
خاموشی برقرار تھی۔

وہ سب اپنا اپنا سوٹ کیس لیئے ائیر پورٹ کے باہر ڈائیوو میں بیٹھے تھے۔
سوائے مشا تہیم اور وجاہت شاہ کے۔

مشا میں تمہارے ساتھ جاتی مگر فی الحال میں وجاہت شاہ کی گیسٹ ہوں۔ مجھے انکے ساتھ جانا ہے۔
تہیم مشا سے گلے ملتی اسے رخصت کر رہی تھی۔

وہ آنی کے بیٹے امان کے ساتھ ان کے گھر جارہی تھی۔
دیکھنے میں وجہیہ ، اعلی اوصاف کا مالک وہ وجی کی ٹکر کا تھا۔

وجاہت شاہ بھی اسے اپنا مخالف ہی تصور کر رہا تھا۔
اچھا تو یہ موصوف ڈاکٹر بن رہے ہیں۔

مشا نے یہ فیلڈ چھوڑ کر زولوجی ایکسپٹ کی تھی نا۔
وہ کڑیاں ملا رہا تھا۔

دوپہر کے پونے تین بجے وہ لوگ پرل کانٹینینٹل پی سی ہوٹل پہنچے تھے۔
فرش سے چھت تک خوبصورتی و مہارت کے پیکر کمرے ۔

بلکہ ایک طرح کا اپارٹمنٹ ۔
جھت پر بھی خوبصورت سٹائلش سیلنگ ٹائلز آراستہ کی گئ تھی۔

وہ باری باری اپنے اپنے روم میں گے۔
کوئ بیڈ پر الٹا گرا تو کوئ فریش ہونے لگا۔

سوشل میڈیا کے دیوانے ہئیر ان کراچی اور ویلکم ٹو کراچی کی پکچرز پوسٹ کرنے لگے ۔
کچھ برگرز کو اپنے جانو یاد آئے تو کچھ ممی ڈیڈی اسلام آبادینز اپنے موم ڈیڈ کو اپنی خیریت بتانے لگے۔

گرلز تو تقریبا ویزیٹنگ اینڈ شاپنگ سینٹرز کی تلاش میں لگ چکی تھی۔

کیسی ہے میری جان میری چندا ۔
آنی اسے پیار سے گلے رہی تھی۔

امی کیسی ہیں۔ ہماری پٹاخہ شفق کا کیا حال ہے۔ وہ اسے روم میں لے جا رہی تھی۔
سب ٹھیک ہیں امی نے ہی فورس کیا تبھی آئ ہوں۔ وہ سفر کی تھکان سے چور ہو رہی تھی۔

اچھا چلو تم آرام کرلو۔
اور کھانا۔

وہ بیڈ کے پر کونے پر بڑی اکتائ سی بیٹھی تھی۔ نہیں.
بس کچھ لائٹ سا۔

سینڈوچ.
وہ گردن کی پشت پر ہاتھ رکھے اسے ہلکا ہلکا دبا رہی تھی۔ صحیح۔

ابھی لاتی ہوں۔
آنی باہر چلی گئ تھی۔

________________________________________________

تہیم بس سے اتر رہی تھی۔

سامنے فارم ہاؤس تھا۔
انٹرینس کی لفٹ سائیڈ پر دو ہیوی وہیکل کھڑے تھے۔ سامنے وسیع لان تھا۔

جس میں. بیٹھنے کا اچھا خاصا خوبصورت انتظام تھا۔ رائٹ سائیڈ پر سوئمنگ پول تھا۔
اس سے پیچھے جائیں تو دو پورشنز پر مشتمل کمروں کا سلسلہ تھا۔ وہ سب تقریبا ہاتھ میں پکڑے مہنگے موبائل فونز کو بروئے کار لا رہے تھے۔ برگرز فوٹوگرافی میں مصروف تھے۔

وجاہت شاہ پروفیسر کو کمپنی دئیے آگے آگے جا رہا تھا ۔ واؤ ۔۔۔
کیا بات ہے سوچا نہیں وجاہت شاہ ایسی جگہ لاؤ گے۔ اس کا دوست زیان اس کی پیٹھ تھپتھپا رہا تھا۔

گرلز اوپر کے رومز لے لیں اور بوائز گراؤنڈ فلور پر میرے ساتھ ۔۔۔۔ کسی کو مسئلہ۔

پروفیسر صاحب اپنا آرڈر سنا چکے تھے۔

___________________­____________________­

وہ دونوں پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی۔
ریکلیس ڈرائیونگ کرتا میکال کار سے اتر رہا تھا۔

تم لوگ یہاں۔ عشما ۔
وہ اوپر ہیں۔

شائن مؤدبانہ انداز میں بول کر اوپر عشما کو ان فارم کرنے گئ تھی۔
کیسا لگا ارم ۔

وہ جینز کی جیبوں میں ہاتھ ٹھونسے جھٹکے سے بال اڑاتا پوچھ رہا تھا۔
ہاں اچھا ہے۔

ارم کندھے اچکا کر بولی تھی گو یا ابھی تو سب سے ملاقات بھی نہیں ہوئ کچھ بھی کہنا قبل اس وقت ہوگا۔
وہ اندر جانے لگا تھا۔

تھینکیو ۔ تم نے ہر بار میری مدد کی ہے۔

وہ رکا۔ پلٹا ۔
اور ہلکا سا ارم کی طرف جھک کر اس کے کان میں کہنے لگا۔

ایسی بات دوبارہ کی تو ہم.۔۔۔ دوست نہیں، صرف ایک دوسرے کے احسان تلے دبے رہیں گے۔
وہ سیدھا ہوا اور اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں ہلکی سی اس کی گال کے ساتھ مس کر کے آگے چل دیا گو یا اسے تھپڑ لگانا چاہتا ہو۔

ارم شرما کر اس کے دور جاتے قدموں کے نشان تکنے لگی۔
وہ عجیب سے سحر میں ڈوبنے لگی تھی۔

بالوں کی ایک لٹ کان کے پیچھے اڑھستی ہوئ دھیمے دھیمے چلنے لگی۔
عشما ۔۔۔

کل تمہیں مسٹر ۔۔۔ مسٹر شجاع علی کے اسسٹنٹ سے ملنے ہے۔۔۔۔
تیار ہو ۔

مجھے
۔۔۔

کچھ وقت چاہئیے سوچنے کے لیئے ۔۔۔ عشما ٹیرس پر کھڑی اپنی بلی کو گود میں لیئے ہوئے تھی۔
آج رات کو ہی جانا ہے ۔۔۔۔

ٹھیک ایک بجے ۔۔۔
میکال لائٹ بلو کوٹ اتار کر بازو کی پشت پر ڈال رہا تھا۔

ارم اب تک ٹہل رہی تھی۔
وہ اچانک اوپر ٹیرس پر دیکھ رہی تھی۔

وہ خودساختہ مسکرا رہی تھی۔
میکال کو اپنی نگاہوں کے خصار میں لیئے وہ اپنا رخسار ہلکا سا چھو رہی تھی گو یا اس کا لمس محسوس کر رہی ہو۔

میکال کے اچانک اس کی جانب دیکھنے پر وہ نظریں چرا کر تیز قدموں سے چلنے لگی تھی۔
کچھ قدم دور جا کر پھر سے بے ترتیب دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے مڑ کر دیکھا تھا۔

میکال اسے نظروں سے دود جاتا اب تک دیکھ رہا تھا ۔
اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ ارم کے دل میں وسوسے ڈال رہی تھی۔

وہ بھاگنے کے سے انداز میں اندر لاؤنچ کی جانب بڑھی تھی۔
عشما میکال کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتی اس سے بولی تھی۔

ارم ساتھ جائے گی۔
نہیں ۔۔۔ شائن ایکسپیرینسڈ ہے اسے کہا ہے میں نے وہ تمہارا خیال رکھے گی۔

میکال اس کی جانب مڑا اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے عین اپنے سامنے کھڑا کئیے بولا تھا۔

اور انجلین
۔

وہ نظریں چرا کر بولی تھی۔
نہیں انجلین نہیں ،وہ کچھ مینٹلی ڈسٹرب ہے ۔

اور ویسے بھی انجلین اپنا کیرئیر ختم کرنا چاہتی ہے۔
بارہ سال چار بلاکبسٹر فلمز، پانچ سوپر ہٹ

سیریلز اینڈ سوپز ۔
ماڈلنگ ، نجی ٹی وی چینل پر ہوسٹنگ ۔۔۔۔ اور کیا چاہئیے اسے ۔۔۔۔ فین فالوونگ۔۔۔ لوگ دیوانے ہیں اسکے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: