Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 13

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 13

رات کو میٹنگ ۔۔۔۔ عشما کے دماغ میں کچھ کھٹکا تھا۔
رات کی تاریکی ، سیاہی ۔۔۔ جب گناہ کا دھندا عروج پر ہو۔۔۔

اس کے دماغ چکرایا تھا۔
مسسز روہاب کے جملے اس کے سر پر ہتھوڑے کی طرح بج رہے تھے۔

رات کی تاریکی دن کا اجالا دیکھاتی ہے۔۔۔
سیاہی سے گزر کر ہی چمکا جا سکتا ہے۔۔۔

یوں تو تم دن کے اجالے میں ہی دھندلا جاؤ گی۔۔۔۔
ایک رات کی تو بات ہے۔۔۔

اس دن کے بعد سے اسے آج تک نیند نہیں آئ تھی۔
وہ راتوں کو اٹھ کر تجہد ادا کرتی ۔۔۔۔ خدا سے صرف اپنی عزت کی درخواست کرتی۔۔۔۔

مگر یہ اسکا اپنا فیصلہ تھا۔
اب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔ واپس پلٹنا مشکل تھا۔

گزرتا ہر ایک لمحہ مزید ازیت ناک ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اس کا سر پھٹنے لگا تھا۔۔۔

تیار ہو تم ۔۔۔۔

وہ اسی لباس میں بیٹھی اب تک سوچ رہی تھی کہ میکال کی وڈیو کال آگئ ۔۔۔
چہرے سے بغاوت صاف ظاہر تھی۔۔۔

وہ اپنے آپ پر نگاہ دوڑاتی کانپی تھی۔۔۔۔
میں پوچھ رہا تھا تم مینٹلی پریپیر ہو۔۔۔

وہ شرمندہ سا نظریں جھکائے بولا تھا۔
میں فیصلہ نہیں کر پا رہی ۔۔۔ میکال۔۔۔

وہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لئیے بولی تھی۔

تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے۔
اب کے میکال نے نگاہ اٹھا کر بولا تھا ۔۔۔

بے چارگی اس کے چہرے سے عیاں تھی اگرچہ وہ بھی اس سب سے قوسوں دور جانا چاہتا تھا مگر حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا۔

میکال مجھے ڈر لگ رہا ہے۔

آنسو اس کے گال سے بہہ کر تھوڑی پر ٹکے تھے۔
میں ہوں تمہارے ساتھ ۔۔۔

میری آنکھوں میں دیکھو۔
وہ موبائل فون کی اسکرین سے عشما کو اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا۔

میم۔

شائن دروازے پر تھی۔
وہ لوگ آگئے ہیں۔

شائن کے چہرے پر نہ ڈر تھا نہ ہی خوف۔
وہ پر سکون کھڑی بڑے اطمینان سے انفارم کر رہی تھی۔

شاید وہ اس سب سے پہلے بھی گزر چکی تھی۔

عشما اپنے آنسو پونچھتی نیچے ہال کی جانب گئی تھی ۔

دو گاڈز کے جھرمٹ میں سے جھانکتا سوٹڈ بوٹڈ شخص شجاع علی کا بیٹا شاہ ویز تھا۔

جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔
وہ گھمنڈی انداز میں عشما کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

وہ پلٹ کر اب اپنی گھڑی کو سامنے وال کلاک کے ٹائم سے پانچ منٹ آگے کر رہا تھا۔

اس کی سوچ شاید سیدھا عشما کے دماغ میں ٹرانسفر ہوئ تھی۔

غلیظ۔
وہ پہلا لفظ تھا جو شاہ ویز کو دیکھنے کے بعد عشما کے زہن میں کلک ہوا تھا۔

شاہ ویز کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اسے زہر معلوم ہوئ تھی۔

تو چلیں مس۔
آپ کے خلیے سے معلوم ہوتا آپ خاصی نا خوش ہیں۔

وہ قدم بڑھاتا باہر نکل رہا تھا ۔
ہاتھ میں

A- 47
گن پکڑے گاڈز بھی اس کے پیچھے ہو لیئے تھے۔

وہ ہاتھ میں پہنی بلی کی طرح کی انگوٹھی گھما رہی تھی۔

اس کی پرشین کیٹ بھی میاؤں میاؤں کرتی پیروں سے لپٹ رہی تھی۔

نہیں سنوؤ وائٹ آج نہیں۔
مگر بہت جلد ۔

وہ جھک کر بلی کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔
سنوؤ وائٹ بھی اٹکلیاں کر رہی تھی۔

وہ سیڑھیوں سے اترتی ارم کو دیکھ کر بولی تھی۔

اس کا خیال رکھنا ۔۔۔ جب میں نہ لوٹ آؤں۔

وہ لیموزین میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

شکل سے ہی عیاش اور فریبی
عشما شاہ ویز سے نظریں چرا رہی تھی مانو اسے سامنے بیٹھے وجود سے گھن آرہی ہو۔

Read More:  Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Episode 6

مسٹر میکال نے آپ کو بتا دیا ہو گا میرے بارے میں۔

وہ لائٹر جلائے آگ پر سے انگلی گزار رہا تھا۔

جی نہیں۔
اور نہ ہی جاننا ہے مجھے۔

عشما نے دو ٹوک جواب دیا تھا۔

یہ تو بہت اچھا ہوا۔
آپ کو خود موقع مل جائے گا ۔مجھے جاننے کا۔

اس نے آگ کا شعلہ بلند کرتے ہوئے غصے سے کہا تھا۔

ویران تاریک روڈ پر گاڑی سے نکلتی روشنی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔

رات کے دو بج رہے تھے۔ وہ ایک فارم ہاؤس میں داخل ہورہے تھے۔

دیوان پر براجمان عشما کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔
چھت سے نیچے گرتے، قالین سے ڈھکے فرش کو چھوتے پردے کمرے کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔

سیون سیٹر صوفے ، درمیان میں شیشے کا ٹیبل ، دیوار پر دیو ہیکل پینٹینگز بتا رہی تھی ،
آرٹسٹنگ سے لگاؤ رکھنے والی شخصیت سے ملاقات کا امکان ہے۔

وہ سائیڈ پر رکھے دیوان پر ٹیک لگائے، ٹانگ پر ٹانگ رکھے قدرے اطمینان سے بیٹھی تھی۔
ہاں اچھنبے کی بات تھی کچھ دیر پہلے تک جینز ٹاپ میں ملبوس عشما اب خوبصورت سے عبایا میں گیھری ہوئ تھی۔

مدھم سی پیلی روشنی میں فرنیچر ایک عجیب سا تاثر دے رہا تھا۔

کمرے پر سکوت چھایا تھا۔
عشما ایک عجیب سے سحر کے زیر اثر تھی۔

بھاری قدموں کے چلنے کی آوازیں آئ تھیں۔

قہقہوں کی آواز گونجی تھی۔
تین چار عربی شیخ اور انکے ساتھ انکے ٹرانسلیٹر یا اسسٹنٹ کمرے میں داخل ہوئے تھے۔

شاہ ویز اسسٹنٹ سے بات کرتا اس کی طرف اشارہ کرتا مسکرا رہا تھا۔
عشما کا دل چاہا ابھی اسی وقت اس کا قتل کردے۔

شیخ صوفوں پر براجمان تھے ، مکمل عربی لباس میں ملبوس کوچی ڈارھی سے جھلکتی سفید رنگت اور کنچی آنکھیں خاموشی سے ٹکٹکی لگائے اسے دیکھ رہی تھیں۔

وہ خود کو مینی کین سمجھتی شرم اور دہشت سے زمین بوس ہو رہی تھی۔

یہ کیا ۔۔۔، کمرے میں مولوی ٹائپ کے آدمی کی خاضری کافی پریشان کن تھی۔

بہت وقت لگا دیا مولوی صاحب آپ نے۔

شاہ ویز ہاتھ میں لائٹر گھما رہا تھا۔
برخودار نیند سے اٹھا کر کسی لایا جائے تو وقت لگتا ہے۔

مزید دیر نہیں کرنی چاہئیے۔

مولوی صاحب نکاہ پڑھانے لگے تھے۔۔

ایک مرتبہ پھر سے وہی نسوانی آواز اس کے سر پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔

اب جو اچھی فائنینشیال فیملیز سے آتی ہیں انکے سپورٹ ہوتی ہے ۔
اور تمہیں یہ سپورٹ حاصل کرنے کے لئیے ان پیپرز پر سائن کرنا ہونگے۔

بیٹا آپکو قبول ہے۔

وہ چونکی تھی۔
عشما بنت واجد آپکو

شیخ اہل ریان بن سلیمان ولد شیخ سلیمان ،دو کروڑ حق مہر سکہ رائج الوقت آپکو قبول ہیں۔

جج جی ۔
وہ خالی بھٹکتے وجود کے ساتھ بولی تھی۔

دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا ۔
انکار کردو اب بھی وقت ہے ۔

مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

وہ اس کی جانب نکاہ نامہ بڑھا رہے تھے۔

یہ وہی نکاہ کے پیپرز تھے جو مسسز روہاب اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ چکی تھی۔
وہ آنکھیں میچے سائن کر رہی تھی۔

آس پاس کی آوازوں سے بے خبر وہ دور ریگستان میں بھٹک رہی تھی۔

جھلستا وجود ، بے جان جسم اسے ہوا ہوتا نظر آیا۔

________________________________________________

کیسی ہو کوئ رابطہ ہی نہیں۔

تم تو آنی کی ہی ہو کر رہ گئ ہو ۔۔۔
یاں پھر اس ہینڈسم کی۔

Read More:  Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 7

لہجے میں شرارت تھی۔

نہیں تہیم ۔ بس جسم بوجھل سا ہو رہا ہے ۔
تم بتاؤ کیسا ہے وہاں سب۔

بہت اچھا ۔

ابھی کچھ دیر پہلے پہنچے ہیں۔
تمہیں پتہ ہے ، وجاہت میں پرنس چارمنگ والی ساری خوبیاں ہیں۔

وہ ہارس رائڈنگ کا ماہر ہے۔
تہیم بیڈ پر الٹی لیٹی کانوں میں ہینڈ فری لگائے، موبائل فون سائیڈ پر رکھے، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر پچھلے آدھے گھٹنے کی پکچرز دیکھ رہی تھی۔

اوفو تہیم اب شروع مت ہوجانا۔

مشا اکتا کر بولی تھی۔

اوہ ہیلو میڈم ۔
ہوش میں آئیں اور اپنی آنی اور انکے شونے سے شہزادے کو گڈ بائے کریں ۔ یہاں آپ کی اشد کمی محسوس ہو رہی ہے مجھے۔

تہیم فون رومپر کی جیب میں ڈالتی بیڈ سے اٹھی تھی،

چار پانچ قدم کی دوری طہ کر کے کھڑکی سے لگی تھی۔
وہ باہر دگڑ دھگڑ سفید گھوڑی دوڑاتے وجاہت کو دیکھ رہی تھی۔

کہاں کا پلان ہے۔ اینی آئیڈیا۔

مشا ہاتھ میں چائے کا کپ لئیے کمرے میں مدھم سی رنگ برنگی لائٹوں کی لڑی جلائے بیڈ پر بیٹھی تھی۔

نو بےبز آپ تشریف لے آئیں پھر ہم پروفیسر کے چنگل سے نکل سکتے ہیں۔

مطلب۔
مشا چائے کا سپ لیتے بولی تھی۔

ہمم تو ۔۔۔ انہوں نے خوب منطق لگائ ۔۔۔۔ گرلز کو اوپر کا پورشن اور بوائز کو گراؤنڈ فلور الاٹ کیا ہے۔

مشا کھلکھلائ تھی۔

اچھا ہوا۔ علاج ہے تم سب کا ۔۔۔۔ اب پروفیسر سر کو کیا پتا انکی کلاس میں کتنے کپلز ہیں۔
ہاتھ کو سامنے کیئے،

وہ اپنی چاند کی شکل والی انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی۔

مشا ہمیں شاپنگ کرنی ہے۔
جلدی آؤ یار یہاں۔

تہیم بےچاری سی بن کے بولی تھی۔

________________________________________________

عشما بڑے سے بیڈ کے کونے پر بیٹھی تھی۔

مانا کہ آج اسکا نکاہ ہوا تھا مگر ان چاہا ۔
بظاہر نظر نا آتی وہ اندر سے سسک رہی تھی۔

کمرے میں مناسب روشنی تھی۔

کھڑکی پردے سے ڈھکی تھی۔
ایک کونے میں بھاری سا لکڑی کا دلکش شوکیس تھا۔

سامنے والی دیوار کے ساتھ دیو ہیکل الماری کھڑی تھی۔
فرنیچر پرانے زمانے کا معلوم ہوتا تھا مگر اپنی اہمیت اور قیمت کا پتا دیتا تھا ۔ کسی دلدادہ شخصیت کی پسند اور چناو، یہ سب مل کر اسے مزید سحر میں مبتلا کر رہا تھا۔

دروازہ جنبش سے کھلا تھا۔

وہی کنچی آنکھیں اسے اپنے حصار میں لیئے ہوئے تھیں۔
وہ ساکت ہوئ اسے دیکھ رہی تھی۔

اسکارف ڈھیلا کئیے وہ عبایا کا رعب ختم کر چکی تھی۔
خالی، تاثرات سے عاری سرد پڑتا

چہرہ اب بھی اپنی آب و تاب پر تھا۔
جب نین نقش ہی خوبصورتی کے پیکر ہوں تو اور مزید

کیا آرائش چاہئیے۔

وہ سر پر ڈالا لال سفید چیک پرنٹ والا عربی رومال اتار کر بیڈ کے کونے پر پھینکتا ہوا بولا تھا۔

یہ صرف ایک پیپر میریج ہے۔
اور مجھے نہیں پسند کوئ میرا بیڈ شئیر کرے ۔

گو کہ وہ عشما کو صاف یہاں سے جانے کا کہہ رہا تھا۔
وہ بیڈ کے دوسرے کونے پر بیٹھا عشما کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

اردو سمجھ میں نہیں آتی۔
وہ غرا کر بولا تھا۔

جواب میں ہاں میں گردن ہلاتی عشما تکیہ اٹھائے دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بے جان سی ہو کر گری تھی۔

وہ سیدھا ہو کر منہ پر بازو رکھے بیڈ پر لیٹ چکا تھا۔

کنچی آنکھیں اندھیرے میں غائب تھیں۔

وہ ٹانگیں صوفے پر رکھے سر گھٹنوں میں گرائے سسک رہی تھی۔
اب کے آواز آرہی تھی۔

Read More:  Dastan E Mujahid Novel By Naseem Hijazi – Episode 1

آنسو رواں تھے۔
کمرے میں بیڈ کے اطراف پر سائیڈ ٹیبل پر رکھے بوگے اور شو کیس پر پھیلی کچھ پتیاں فضا کو معطر کر رہی تھی۔

باہر دور کسی جگہ میوزک بج رہا تھا۔

کمرے میں وقفہ وقفہ سے عشما کی ہچکی گونجتی تھی۔
وہ اب تک صوفہ پر دبکی بیٹھی تھی۔

________________________________________________

کیسی ہیں امی آپ ۔ شفق کیسی ہے۔
بہت یاد آرہی ہے آپ دونوں کی۔

وہ آبدیدہ تھی۔

مشا ۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا. میری بیٹی اتنی ڈرپوک۔
تمہارے بابا تمہیں تو لیو (برج اسد یعنی شیر) کہتے تھے۔

اب کوئ شیرنی اتنی ڈرپوک ہو گی تو کیسے چلے گا۔
امی سوچ رہی تھی اس لڑکی کا سسرال میں کیا بنے گا۔

ہمیں تو تمہارے لئیے کوئ گھر جمائ ڈھونڈنا پڑے گا۔

وہ سوچتے ہوئے بولی تھیں۔

امییییی ۔
شرمائ سی مشا چیخی تھی۔

کچھ پل خاموشی کے بعد وہ دوبارہ ہچکچائ سی بولی تھی۔

امی آنی کچھ بدلی سی تھیں اس بار۔
امی اس کے دل کی بات سمجھ چکی تھیں۔

مشا آپ کسی کو لائک کرتی ہو۔

امی. پلیز ۔۔ ایسی کوئ بات نہیں ہے۔

میری مشا باتیں چھپانے لگی ہے۔
وہ مشا جو پل پل کی بات مجھے بتاتی تھی۔

امی اگلوانا چاہ رہی تھیں۔ حالانکے سچائ سے واقف تھیں۔

امی میں کچھ کنفیوزڈ ہوں۔

میں ہمیشہ سے آپ کے فیصلے کی قدر کرتی ہوں ۔ میں آج بھی۔۔۔

مشایل آپ اپنے فیصلوں میں آزاد ہو بیٹا۔
میں نے اور آپ کے بابا نے ہمیشہ آپ کو اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی دی ہے ۔ ہمیں معلوم ہے آپ اپنا بہتر جانتی ہو۔ اپنے اچھے برے سے واقف ہو۔

مما پھر بھی۔

مشا امی سے جاننا چاہتی تھی انکے دل میں کیا ہے۔
میں اپنا اچھا برا جانتی ہوں، اپنے لئیے بہتر چوز کر سکتی ہوں ، بٹ مما میرے لئیے کیا بہترین ہے یہ آپ صرف جانتی ہیں۔

بیٹا آپ کی آنی نے آپ کے بابا سے بچپن میں آپ کے بارے میں بات کی تھی۔

آپ کے بابا نے یہی کہا تھا فائنل ڈیسیزن آپکا ہوگا۔

مما آپی ہیں۔
شفق کالج سے واپس آگئ تھی اور بیگ صوفے پر پھینک کر کولڈ ڈرنک کا سپ لیتے ہوئے امی سے چپکی تھی۔

وہ انکا ماتھا چوم رہی تھی۔

________________________________________________

وہ ہاکس جارہے تھے۔

ڈائیوو میں ہلا گلہ جاری تھا۔
وجاہت کا فرینڈ زیان انگلش بیٹ پر بریک ڈانس کے سٹشز کر رہا تھا۔

تعجب کی بات تھی پروفیسر صاحب بھی تالیاں بجاتے انجوائے کر رہے تھے۔
سیٹیوں کی آوازوں میں ڈانس ختم ہوا تھا۔

ونس مور ونس مور کے نارے لگ رہے تھے۔

سب کو شانت کرواتا زیان پروفیسر کے پاس ہاتھ میں مائیک پکڑنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا تھا۔
آج ہم آپکو ملوا رہے ہیں ایک بہت ہی سریلے سنگر سے۔

تالیوں اور سیٹیوں کا شور واپس لوٹا تھا۔
گلے کو صاف کرتے پروفیسر والے ہاتھ میں پکڑے گنگنانے لگے تھے۔

آج پھر جینے کی تمنا ہے ۔۔۔۔

آج پھر مرنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔

واہ واہ
اپریسی ایشن کا شور ہوا تھا۔

زیان پیچھے کی طرف بڑھا تھا۔
اسے پاس آتے دیکھ کر چہرہ چھپاتا وجاہت شاہ اسے رکنے کا اشارہ کر رہا تھا۔

نو ۔۔۔ نو۔۔۔۔ ناٹ ناؤ
وجاہت شاہ اسے چپ رہنے کا کہہ رہا تھا۔

گائز وی ہیو اے گیٹارٹس ہئیر۔

ود اے رئیل سنگر ووکل۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: