Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 14

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 14

ناک ناک۔۔
یہ دروازہ نہیں چھت سے شروع ہوتی نیچے فرش کو چھوتی شیشے کی کھڑکی بجی تھی۔

آنسو سے تر چہرہ آواز کی جانب مڑا تھا۔

وہ چہرے سے بازو ہٹائے ادھر کو متوجہ ہوا تھا۔
چھن سے کھڑکی کے کانچ بکھرے تھے۔

کوئ فل کالے چست لباس میں کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا۔

I got her .
She’s safe.

I repeat , she’s safe.
کالے چست لباس ، نکاب میں ڈھکی آواز کچھ جانی پہچانی تھی۔

وہ بھی ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھ چکا تھا۔
عشما کان پر ہاتھ رکھے سر دبائے ڈری سہمی بیٹھی تھی۔

اندر شور کی بنا پر دروازے کے باہر گاڈز اکٹھے ہونے لگے تھے۔

اہل ریان ۔

یہ شاہ ویز کی آواز تھی ۔
اندر سے جواب نا آنے پر دروازہ توڑنے کا حکم ملا تھا۔

کمرہ خالی تھی ۔

وہ اندر داخل ہوئے تھے۔
شاہ ویز شجاع غصے سے صرف ہاتھ پر ہاتھ مار کر رہ گیا۔

وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے ہاتھ سے چہرہ ملتا ہوا چلایا تھا۔
جاؤ اور ڈھونڈو انہیں ۔ بج کر جانے نہیں چاہئیے وہ ۔

گاڈز باہر کو دوڑے تھے۔

وہ کھڑکی کے سامنے آکر بچے ہوئے شیشے کو زوردار طریقے سے مکا مار کر غرایا تھا۔
Bloody-fools .

Shit .

کیسے نہیں سمجھا میں ۔
دھوکے باز ۔

Damn it.
وہ دیوار پر ہاتھ مار کر بولا تھا۔

غصہ ختم ہو گیا ہو تو کچھ کام کی بات کریں۔

دروازہ بند کرتا اہل ریان کچھ بولا تھا۔
اس سے پہلے کے شاہ ویز پلٹ کر کوئ وار کرتا ۔

اہل ریان اسے ایک عدد چہرے پر زوردار مکا رسید کر چکا تھا۔

شاہ ویز چبڑا درست کرتا دو قدم آگے بڑھا تھا۔

اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔
اہل ریان نے ہاتھ میں پکڑی ایک چھوٹی سی ریموٹ نما چیز گھمائ ۔

بٹن دباتے ہی شاک کا ایک جھٹکا شاہ ویز کو محسوس ہوا تھا۔

وہ گھٹنوں کے بل گرا تھا۔
کچھ دیر پہلے جب وہ نکاح کی مبارک باد دینے کے لئیے گلے ملے تھے تو اہل ریان نے اس کے کندھے پر کچھ چپکایا تھا۔

یہ ہے تمہاری اصل اوقات مسٹر شاہ ویز شجاع۔

اہل ریان جھکا اس کا چہرہ بالوں سے کھینچتا ہوا اوپر کرتے ہوئے بولا تھا۔

وہ غصے سے دانت پیس رہا تھا۔
غدار ، دھوکے باز ، bloody buster

اہل نے پورے زور کے ساتھ اس کا چہرہ زمین کی طرف دھکیلا تھا۔

وہ ڈھیر پڑا تھا۔

میں غدار ۔
اہل ریان غرا کر کہہ رہا تھا۔

غدار تو تم ہو ۔۔۔
جس ملک نے تمہیں نام دیا ، عزت دی اسی کی بیٹیوں بہنوں کو بے عزت کرتے ہو۔

چرس،بارود فروحت کرنے سے لے کر جیتے جاگتے انسانوں تک۔۔۔کوئ فرق نہیں ہے نا۔
تمہارے لئیے تو سبھی پیسے کمانے کا زریعہ ہیں۔

کچھ شرم ہے تمہیں۔
اہل ریان نے ایک مرتبہ پھر سے اس کا سر بالوں سے کھینچ کر اٹھایا تھا اور اپنا منہ دوسری طرف کرتے ہوئے واپس پینکا تھا۔

وہ اٹھ کر اس غلاظت کے ڈھیر سے دور جا رہا تھا۔

شاہ ویز شجاع کے ناک منہ سے خون نکل رہا تھا۔وہ اب تک فرش پر بے سدھ پڑا تھا۔

حیرت کی بات تھی ۔
اب تک کوئ بھی گارڈ پلٹ کر کمرے میں واپس اطلاع دینے نہیں آیا تھا۔

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 31

کوچی ڈارھی چہرے سے چپکی تھی ۔ وہی کانچ سی آنکھیں لال ہونے لگی تھیں۔ آواز میں غصہ صاف ظاہر تھا۔

وہ سرد نگاہ شاہ ویز کے خون سے بھیگے چہرے پر ڈال کر پلٹا تھا۔ وہ معمول کے مطابق فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔

سامنے ہے میرے۔
دوسری جانب سے رعب داد آواز سنائ دی تھی۔ زندہ یا مردہ۔

اب تک زندہ ۔

مگر زیادہ دیر تک نہیں۔
ہم پہنچ رہے ہیں۔

شاہ ویز ہمت کر کے چلایا تھا۔

مدد کرو میری ۔

مگر فون کی دوسری جانب قہقہا گونجا تھا۔

________________________________________________

میں نے کیوں ان پیپرز پر سائن کئیے تھے۔ میں انہیں انکار بھی تو کر سکتی تھی۔

میں باغی بھی تو کو سکتی تھی۔
میرے پاس حق خود ارادیت تھا۔

میں اپنے فیصلے میں آزاد تھی۔
صبح کے چار بج رہے تھے۔

عشما اب تک پچھلے کچھ دردناک گھنٹوں میں خود کو کھپا رہی تھی۔ کیوں ۔۔۔ جو ہوا غلط تھا ۔۔۔۔ مگر میں کیوں کمزور پڑی ۔ وہ کسی گاڑی میں کھڑکی سے لگی خود سے سوال جواب کر رہی تھی۔

تم اب تک اس سب سے پریشان ہو ۔
وہ اپنا کالا نقاب اتارتے ہوئے بولی تھی۔ آواز عشما کے کانوں سے ٹکرائ تھی۔ انجلین ۔۔۔

وہ بے ساختہ پکاری تھی۔
وہ چہرہ موڑے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ جو کامیابی پر مسکرا رہی تھیں۔

تت تم۔۔

وہ چونک کر اگلی سیٹ پر بیٹھے اسی شیخ کو دیکھ رہی تھی۔ مرر میں وہی مسکراتی کانچ سی آنکھیں نظر آئی تھیں۔ وہ انہیں پہلے سے جانتی تھی۔
پہلی ملاقات سے ۔۔۔

وہ انہی کے زیر اثر ہی تو تھی۔

تم گھبرانہ نہیں۔
تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے۔

میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔
ڈرو مت۔

یہ جملے اس کے زہن کے پردے پر ابھرے تھے۔ میکال ۔
وہ مسکرائ تھی۔

مگر اہل ریان۔۔۔

وہ پیچھے ماضی میں لوٹی تھی۔
نکاہ نامہ پر سائن کرتی اس کی آنسو بھری آنکھوں نے کچھ پڑھا تھا مگر اسے وہ وہم معلوم ہوا تھا

Well done big boss.

انجلین دو انگلیاں ماتھے سے ٹکائے سلام کرنے کے انداز میں بولی تھی۔ میکال بھی پیچھے پلٹ کر شکریہ بولا تھا۔ تم بھی کچھ کم نہیں تھی۔
مجھے اندازہ نہیں تھا ۔ تم چھت سے ٹپکو گی۔ ہاہا۔۔۔

تو یہ وجہ تھی کہ عشما لاکھ انکاری ہونے کے باوجود بھی منع نہیں کر سکی۔ خود کو اس انجان بندھن میں بندھا دیکھ کر اب وہ مخفوظ جان رہی تھی۔ یہ صرف پیپر میریج ہے۔

وہ زیر لب دہرائے گئ۔

ویسے کوئ مجھے بھی پوچھ لے میں کوئ سوتیلا نہیں ۔ ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھا شخص قدرے بےچارگی مگر سرد لہجے میں بولا تھا۔

شہہہ۔۔۔ شہزور
انجلین ہچکچاتی سی بولی تھی۔

شہری۔۔۔
وہ آبدیدہ تھی۔

میکال ہاں میں سر ہلاتا اسے یقینا دلا رہا تھا۔۔. وہ صحیح تھی۔

Any command for the captain .
وہ گاڑی روک کر پیچھے مڑا تھا۔

سناٹے داد تھپڑ کی آواز گونجی تھی۔

شہزور کے کان میں سیٹی بجنے لگی تھی۔

عشما دونوں ہاتھ منہ پر رکھے خیرانی سے انجلین کے اس عمل کو دیکھ رہی تھی۔

یہ دوسری مرتبہ تھا جب ایسا حادثہ شہزور کے ساتھ پیش آیا تھا۔
••••••••••••••••

وہ اونچے ٹیبل کے ساتھ ویٹر کی جانب پشت کئیے کھڑا بدنام مشروب کے دو گلاس اپنے اندر انڈیل چکا تھا۔
وہ ایک اور گلاس مانگ رہا تھا۔

Read More:  Tumhare Jaisa Na Koi by Hadiya Sahar – Episode 1

جلتی بجتی رنگ برنگی بتیوں کے درمیان نیم عریاں ناچتی امیرزادیاں لڑکوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی تھیں۔
مگر وہ ان سب سے بے خبر و بے زار ٹیبل پر کہنی ٹکائے کسی اور دنیا میں مدہوش تھا۔

وہ جھولتی ہوئ اس کے قریب آکر انگلی دیکھاتی ہوئ نشے میں چور بولی تھی۔

آگئے تم۔
کہاں تھے۔

تمہیں کتنا ڈھونڈا میں نے۔۔۔
وہ زرا ڈگمگائ تھی ۔

شہزور نے اسے بانہوں میں سنبھالا تھا۔
انجلین نے اسے زوردار چماٹ رسید کی تھی۔

آس پاس ماحول میں خاموشی چھائ تھی۔
لوگ اس جانب متوجہ ہونے لگے تھے۔

وہ ساکت کھڑا گال پر ہاتھ رکھے انجلین کو دور جاتا دیکھ رہا تھا۔
••••••••••••••

بالکل جیسے ابھی ساکت اس کے سامنے تھا۔

Oppss.

وہ سیدھا ہو کر گاڑی چلانے لگا تھا۔
میکال کندھے اچکا کر ہنسی دباتے اسے دیکھ رہا تھا۔

___________________­____________________­_______

وہ سمندر کی ٹکراتی لہروں کو محسوس کر رہی تھی۔

قدم قدم چلتی اپنے اندر ایک سکون سا اتار رہی تھی۔
واقعی جو بات کراچی کے سمندر میں ہے وہ کہیں نہیں۔

کیوں صحیح کہا نا۔
تہیم پانی میں زور سے پاؤں مار کر بولی تھی۔

ہاں۔
مشا پاؤں کے نیچے سے پھسلتی ریت کو محسوس کرتے آنکھیں بند کئیے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی۔

سمندر کی ٹھنڈی ہوا اس سے ٹکرائ تھی۔
اڑتے بال ۔۔۔

وجاہت شاہ نے اپنے موبائل میں اس منظر کو قید کیا تھا۔
ہئ وجہیہ ۔

صحیح ٹائم پر آئے ہو۔
کم آن گائز گروپ فوٹوز۔

تہیم سب کو اشارے سے بلاتے ہوئے بولی تھی۔
ڈوبتا سورج سرمئ افق پر لال ، پہلے بکھرے رنگوں کا حسین امتزاج پیش کر رہا تھا۔

منظر اس قدر دلکش تھا کہ مشا محو سے کھڑی اس منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
آگ کے آلاؤ کے آس پاس بیٹھے ینگسٹرز موج مستی میوزک میں محو تھے۔

مشا آسمان پر بچھی چمکتے تاروں کی چادر میں چھپا چاند تلاش کر رہی تھی۔
ہاتھ باندھے افق کو تکتی امی کی باتوں پر غور کر رہی تھی۔

تمہاری خوشی میں ہماری خوشی ہے۔
جو تمہارے دل میں ہے اسے اہمیت دو۔

مشایل۔

وجاہت شاہ اس کے عین پیچھے کھڑا تھا۔
یہ منظر کو قدر دلکش ہے ۔

تمہیں چاند دیکھ رہا ہے۔
مشا پلٹے بغیر آسمان پر نگاہیں دوڑاتی بولی تھی۔

ہاں ۔
وہ دل موہ لینے والے انداز میں بولا تھا۔

کہاں ۔ مجھے تو نہیں ملا۔
وہ اب کے پلٹی تھی۔

وجاہت شاہ اس کے چہرے پر پیار سے نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔
وہ شرما کر نیچے پانی میں آسمان کا عکس دیکھ رہی تھی۔

وہ ایک قدم قریب آیا تھا اور پانی میں جھک کر ایک ٹانگ بچھائے ایک گھٹنے پر بیٹھا تھا۔
وہ چونکی تھی۔

نن نہیں ۔
وجاہت ۔۔۔

وہ کپکپانے لگی تھی۔ دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی تھی۔
ایک سرد لہر اس کے سر سے پاؤں تک دوڑی تھی۔

وجہیہ حیران اسے دیکھ رہا تھا۔

نہیں ۔۔۔ نہیں وہ قدم قدم اس سے دور جا رہی تھی۔
مشایل اس کی وجہ ۔

وہ بنا پلٹے ہی بولی تھی۔
تہیم تمہیں پہلے دن سے چاہتی ہے۔

میرا عنقریب نکاح ہے۔
تم ضرور آنا ۔

وہ منظر سے غائب ہو گئ تھی۔
آنسو بے ساختہ بہنے لگے تھے۔

Read More:  In Lamhon K Daman Main Novel By Mubashra Ansari – Episode 15

وہ آنسو پونچھ کر بون فائر میں جا بیٹھی تھی۔

وجاہت شاہ کچھ دیر بعد منظر میں داخل ہوا تھا۔ وہ اپنا گیٹار تھامے ہوا تھا۔

وہ گانے کے موڈ میں تھا۔

وہ آہستہ سے گٹار کے سٹرنگز ہلاتا دھن چھیڑنے لگا تھا۔
مجمع وووہ کے شور سے جھومنے لگا تھا۔

زیان سیٹیاں بجا رہا تھا۔
لبوں کو جنبش دئیے وہ مہارت سے ہلتی انگلیوں کے ساتھ بجتی دھن میں سر ملانے لگا تھا۔

Comin’ over in my direction۔۔۔۔

یہ تو اسکا فیورٹ سانگ تھا۔
مشا اور تہیم اکثر یہی سانگ گنگناتے تھے۔

So thankful for that, it’s such a blessin’, yeah
Turn every situation into heaven, yeah

Oh-oh,
مجمع میں سے کچھ کپلز اٹھ کر ناچنے لگے تھے۔

you are۔۔۔

My sunrise on the darkest day
Got me feelin’ some kind of way

Make me wanna savor every moment slowly, slowly۔۔۔
وجاہت نے زیان کو کچھ اشارہ کیا تو وہ اور دو تین دوست اٹھ کر گئے تھے۔

You fit me tailor-made, love how you put it on
Got the only key, know how to turn it on

The way you nibble on my ear, the only words I wanna hear
Baby, take it slow so we can last long

¡Oh!
Despacito…

اب کے تہیم بھی سر ملانے لگی تھی۔
اس نے مشا کو کندھے سے جھٹک کر آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کریں شروع ۔۔

مشا اور وہ تالی مارتے ہوئے شروع ہوئیں تھیں۔

Pasito a pasito, suave suavecito۔۔۔۔
تقریبا سب نے رک کر ان دونوں کو دیکھا تھا۔

تالیوں اور اپریسی ایشن کا شور پھر سے لوٹ آیا تھا۔۔۔۔
Nos vamos pegando, poquito a poquito

Cuando tú me besas con esa destreza
Veo que eres malicia con delicadeza

Pasito a pasito, suave suavecito
Nos vamos pegando, poquito a poquito

Y es que esa belleza es un rompecabezas
Pero pa’ montarlo aquí tengo la pieza

¡Oye!
Dessspaacitoooo.

آتشبازی شروع ہوئ تھی۔

سب کا دھیان ادھر ہوا تھا۔
وجہیہ گٹار سائیڈ پر رکھ کر تہیم کے آگے جھکا ، ایک ہاتھ سے رنگ باکس بلند کرتے اسے پرپوز کر رہا تھا۔

Will you marry me??
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے پوچھ رہا تھا۔

What if I say No??
تہیم نے جوابا سوال کیا تھا۔

You have no other option Miss Tehmina Shuja Ali.
وہ اسے یاددہانی کروا رہا تھا۔

So that you…
وہ بھی اسے جوابا جتا رہی تھی۔

اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے اقرار کیا تھا۔
وجاہت شاہ اسے رنگ پہنا رہا تھا۔

زیان شیمپن کی بوتل ہلاتے ہوئے کھولنے لگا تھا۔

جھاگ دار بوتل کا کاک پریشر سے دور جا کر گرا تھا۔

خوشی کے ماحول کو وجاہت شاہ اور تہمینہ شجاع علی نے اکٹھے قندیل اڑا کر اور بھی ایمیجنری اور رائل بنا دیا تھا۔
دیکھتے دیکھتے سمندر کا کنارہ جگمگا اٹھا تھا۔

مشا دل سے خوش تھی۔ اسکی بیسٹی کو جو چاہئیے تھا وہ اس نے پا لیا تھا۔

آسمان میں تیرتی قندیلوں کے پیچھے دور تاروں بھری سیاہ چادر پر چاندنی بکھیرتا چاند اب اسے واضع دکھائ دے رہا تھا۔
منظر میں کھلکھلاتی تہیم کے خوشی سے جگمگاتے چہرے کے سامنے یہ سنہری چاندنی بھی پھیکی پڑ رہی تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: