Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 15

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 15

عشما اب تک عبایا میں لپٹی تھی۔

وہ اپنے کمرے میں بیٹھی سو طرح کی سوچوں میں گم تھی۔
ایک لہر کی طرح یہ سب کچھ اس کی زندگی میں آیا اور ساری ترتیب بدل کے رکھ دی۔

وہ خوشی اور حیرانی کے درمیان پھنس کر رہ گئ تھی۔
جو بھی ہوا کیا صحیح تھا۔

اس میں بہتری ہے ۔
کیا ایسا ہونا چاہئیے تھا۔

وہ یکہ بعد دیگرے خود سے سوالات کر رہی تھی۔
انجلین بھی آج یہیں رکنے والی تھی۔

شائن اگرچہ اپنے گھر جا چکی تھی۔

یہ اسکا آخری مشن تھا۔
ارم اپنے کمرے میں تھی۔

شاید جو کچھ ہوا اس سب سے انجان۔

اللہ اکبر اللہ اکبر۔
مؤزن کے الفاظ تاریک رات کی خاموشی کو چیرتے ہوئے گونجے تھے۔

عشما اپنے کنگ سائز سنہرے رنگ کے بیڈ سے اٹھی تھی۔
وہ وضو کر رہی تھی۔

حی الالصلوہ ۔ حی الالصلوہ۔

آؤ کامیابی کی طرف ۔

وہ پانی کے ٹپکتے قطرے سوکھا رہی تھی۔
بسم اللہ ارحمن ارحیم •

لا اللہ الاللہ محمد رسول اللہ •
اشھدان اللہ الاللہ واشھدان محمد عبدہ و رسول•

وہ جائے نماز بچھا رہی تھی۔
دو سنت دو رکعت کی نیت باندھے وہ اللہ اکبر کہتی ہوئ اپنے رب سے ہمکلامی کرنے لگی۔

اھدن الصراط المستقیم •

سبحان ربی العلی •

سجدے میں جھکا سر ہر قسم کی پریشانی سے آزاد ہوچکا تھا۔
تمام سوچیں ہوا میں غائب ہو چکی تھیں۔

اندر تھا تو صرف سکون اور تسکین و فرحت۔
چھلنی روح کی پیوندکاری ہو چکی تھی۔

وہ دعا کے لیئے ہاتھ بلند کر رہی تھی۔
یا ارحم ارحمین •

اے دعاؤں کے قبول فرمانے والے رب۔
ہم سب کے پروردگار۔

مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھ۔
مجھے شیاطین کے شر اود حاسدوں کے حسد سے بچا۔

اے میرے رب۔۔۔ رب محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم صدقہ یا رسول اللہ۔
میری غلطیوں کوتاہیوں کو معاف فرما۔

مجھے زلت و رسوائ سے بچا ۔
میرے مالک مجھے ویسا بنا دے جیسا تو چاہتا ہے۔

وہ آنکھیں بند کئیے دور کہیں اجالوں میں کھوئ تھی۔
دل کی باتیں بے دھڑک اپنے پروردگار سے کہتی وہ خود کو ایک الگ دینا میں محسوس کر رہی تھی۔

آمین یا رب العالمین۔

وہ ہاتھ چہرے پر ملے تو وہ تر تھا۔
الحمدللہ •

وہ دل کی سختی سے آزاد تھی۔
دور اندر نئ کونپلیں پھوٹی تھیں۔

وہ جائے نماز تہہ کر کے پلٹی تھی۔
دروازے کی چوکھٹ پر میکال کھڑا تھا۔

داڈھی غائب ہو چکی تھی ہاں البتہ کنچی آنکھیں ویسی ہی تھیں۔
آپ ۔۔۔

وہ جائے نماز ہینگر پر لٹکا رہی تھی۔
ہاں آج جو ہوا اس بارے میں بات کرنی تھی۔

وہ چلتا ہوا صوفہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔
عربی لباس کی جگہ فوم کلر کے قمیض شلوار نے لے لی تھی۔

عشما کو نا جانے کیوں آج وہ کچھ مختلف سا لگا تھا۔
عشما ساکت کھڑی اسے دیکھے گئ۔

وہ صوفہ پر ہاتھ
سے پاس آکر بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا۔

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 26

عشما دو قدم چل کر راکنگ چیئر پر بیٹھ گئ تھی۔

Well as u wish .
میکال میسج ٹائپ کر کے فون صوفے پر پھینکنے کے انداز میں اٹھا تھا وہ سامنے کھڑکی کی طرف جا رہا تھا۔

ہاتھ کے زور سے بالوں کو چسپاں کرتا وہ پلٹ کر عشما سے مخاتب ہوا تھا۔
کچھ سال پہلے جب میں اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کر کے آیا تھا

ایک دن لانگ ڈرائیو پر۔۔۔

اٹھو
وہ بات ادھوری چھوڑ کر عشما کی طرف ہاتھ بڑھا رہا تھا اسکا لانگ ڈرائیو کا موڈ بنا تھا۔

نہیں میکال ۔
عشما راکنگ چیئر کو ہلکا ہلکا ہلانے لگی تھی۔

چلو جیسے تمہاری مرضی۔ خیر ۔۔۔
وہ پھر سے بتانے لگا تھا۔

لانگ ڈرائیو پر اچانک سے ہماری کار کے سامنے ایک لڑکی آئ تھی۔
میں جب باہر اسکی طرف گیا تو وہ زندہ تھی۔

اس نے مجھے ایک فلیش ڈرائیو دی۔
اور انجلین کا نام لیا بس پھر اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔

مجھ پر ایکسیڈنٹ کا کیس بھی ہوا تھا۔
لیکن یہ تو صاف خودکشی دی اس لیئے میں بری ہو گیا۔

وہ عشما کی طرف متوجہ ہوا کہ جو ہوا صحیح تھا یا نہیں۔
مگر عشما جزبات سے عاری محض اسے سنتی گئ۔

وہ واپس بولنے لگا تھا۔
اس فلیش ڈرائیو میں شاہ ویز شجاع ۔

وہ ایک مرتبہ پھر عشما کو دیکھنے لگا تھا وہ اب بھی بلینک فیس کے ساتھ چئیر پر جھول رہی تھی۔
اس کے سارے کالےچٹے کارنامے سیو تھے۔

اسلحہ بارود ، چرا گانجا سے لے کر انسانوں اور انکے اعضاء تک کی فروحت کے تمام ریکورڈز اور وڈیوز ۔
اب کے عشما کی ساکت پتلی سے دو آنسو ٹپکے تھے۔

اس کا وجود کانپا تھا۔
اگر میں یہاں نا ہوتی تو اس. وقت نا جانے کہاں اور کس حال میں ہوتی۔

وہ لب سکیڑے اپنے وجود کو بے جان ہوتا محسوس کر رہی تھی۔
میکال جھکا اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے اپنے دونوں انگھوٹوں سے اس کے آنسو پونچھ رہا تھا۔

اس نے ایک سرد آج بھری تھی۔
نہیں.

میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔
وہ پیار سے عشما کو تسلی دے رہا تھا۔

اسے سزا مل کر رہے گی۔
شہزور ہے نا وہ سنبھال لے گا سب۔

عشما نے چہرے کو ہاں میں ہلکی سی جنبش دی تھی۔
چائے یا کافی۔

وہ عشما کا دھیان دوسری طرف کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
عشما بس مسکرا کر رہ گئ تھی۔

وہ رات بھر کی جاگی تھی اور بہت روئ بھی تھی۔
اس کی آنکھیں جلن کرنے لگی تھیں۔

بوجھل ہوتی آنکھوں پر پہرہ دیتی پلکیں گرنے لگی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ نیند کی وادی میں ڈوبتی گئ۔

میکال دو کپ کافی بنا کر لایا تھا۔
وہ ٹیبل پر ٹرے رکھتا ۔

سلیپنگ بیوٹی عشما کی جانب بے ساختہ چلنے لگا. تھا۔
عشما راکنگ چئیر سے اٹھ کر صوفے پر آبیٹھی تھی۔

میکال بیڈ سے بلینکٹ لا کر عشما پر اوڑھا رہا تھا ۔
بالوں کی شریر لٹیں ادھر ادھر پھسل رہی تھی۔

Read More:  Shahzadi Jolia Novel By Rizwan Ali Ghuman – Last Episode 4

چہرے پر پھیلی لٹیں سمیٹ کر وہ انہیں کان کے پیچھے اڑھستے ہوا عشما کو سیدھا کر کے واپس کافی کی جانب لوٹا تھا۔
وہ کافی کا مگ ہاتھ میں اٹھائے عشما کے سحر میں ڈوبنے لگا تھا۔

آج سے پہلے اس نے عشما کو کبھی اس طرح آنکھ بھر کے نہیں دیکھا تھا ۔
اور شاید نا ہی عشما نے ۔

اگرچہ وہ پہلی ملاقات سے ہی میکال کو چاہنے لگی تھی مگر اس سے نظریں ملانے سے کتراتی تھی۔
جب ہی تو آج میکال کے بدلے بھیس میں اسے پہچاننے میں مات کھائ تھی ۔

وہ کافی کا سپ لیتے ہی واپس اپنے اصل میں لوٹا تھا۔
شکر ہے یہ کافی عشما نے نہیں پی تھی۔

اتنی بدمزہ ۔
وہ عجیب عجیب سی شکلیں بنا رہا تھا۔

یکھھھ۔۔۔🤢

___________________­____________________­____________________­___________________

یہ کیا غل غپاڑہ مچایا ہوا ہے تم لوگوں نے۔

بائیک پر سوار دو پولیس اہل کار زیان کو قابو کئیے پوچھ رہے تھے۔
کچھ نہیں سر بس دوست کی منگنی ہے۔

وہ ہاتھ باندھے بولا تھا۔
منگنی ہے اللہ دتے دیکھ۔

شہزادے کسی ریاست کے لگتے ہیں۔
وہ آپس میں بھاری آوازوں میں باتیں کر رہے تھے۔

آئیں نا سر آپ لوگ بھی مٹھائ وغیرہ کچھ۔
زیان جیب میں ہاتھ ڈالتا کچھ نکال رہا تھا۔

خوشی کا موقع ہے مٹھائ ہے سر ۔
اب کے آس کے ہاتھ میں پانچ ہزار کے دو تین نوٹ تھے۔

اللہ دتہ تیری بھابھی اور بتیجوں کو مٹھائ بہت پسند ہے ۔ وہ آہستہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے نوٹ لے رہے تھے۔
اور سر کوئ خدمت ۔۔۔

زیان سینے پر ہاتھ رکھے مؤدبانہ انداز میں بولا تھا۔
اگلے ہی لمحے پولیس والے اڑن چھو ہو چکے تھے۔

ہمارہ ملک اور اس کے جانباز سپاہی۔

وہ واپس فارم ہاؤس جا رہے تھے۔

مشا کھڑکج سی ٹکی دور افق پر چمکتے چاند کے سحر کے زیر اثر تھی۔
I am so happy …

Thanx Misha…
تہیم بانہیں اس کے گرد کئیے ، اس سی چپکی بولی

تھی۔

میں جس چیز کی تمنا کر رہی تھی وہ فائنلی مجھے مل گئ۔ تہیم اپنی رنگ دیکھتے بولی تھی۔ الحمدللہ ۔
مشا دل میں ہماری تھی۔

اس رات شاید ہی ان تینوں کو نیند آئ تھی۔ تہیم کو خوشی سے
اور مشا کو ایک انجانے احساس کے زیر اثر۔ وجاہت شاہ بھی گزر کل اور آنے والے مستقبل کی سوچ میں تھا۔ کہیں میں نے تہمینہ کے ساتھ نا انصافی تو نہیں کی۔ اگر میں اپنے فرض سے چوک گیا تو۔

میرے دل میں مشا ہے مگر تہیم وہ تو صرف مجھے چاہتی ہے۔ وہ بستر پر سیدھا لیٹا چھت کو تکتا اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے مسل رہا تھا۔

••••••••••••••••••••­••

کتنی شدت سے تمھیں چاہا تھا
کتنی عقیدت سے ہار مانی ہے…

••••••••••••••••••••­•••

________________________________________________

وہ تہیم کی مہندی تھی۔
ہاتھوں پر حنا کا لال رنگ سجا تھا۔

وہ ایکوا کلر کی میکسی میں گڑیا کی طرح سجی سنوری بیٹھی مشا کا انتظار کر رہی تھی۔
اتنی دیر ۔

وہ مشا سے ناراض تھی۔
سورررری۔

مشا کان پکڑے اس کے سامنے تھی۔
تم میری بیسٹی ہو تمہیں سب سے پہلے آنا چاہئیے تھا۔

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 40

تہیم اپنا نیکلیس سیدھا کرتی بولی تھی۔
سوری جان کل ان شاء اللہ سب سے پہلے آؤں گی میں۔

مشا اس کا دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی۔
نہیں تم آج گھر ہی نہیں جاؤ گی۔

میرے پاس رکو گی تم۔
تہیم اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئیے بولی تھی۔

ماسٹرز کے پیپر ہو چکے تھے۔
وہ سب فارغ تھے اور یہی صحیح موقع تھا کہ ایک نئے بندھن کی ابتداء کی جائے۔

کئ کلاس فیلوز کی پیشن گوئ سب ثابت ہوئ تھی۔
تہیم اور وجاہت شاہ کے پیرنٹس دونوں کی رضا مندی اس رشتے کو حاصل تھی۔

اب تک شاید وجاہت شاہ مشا کو بھلانے کی بہت سی ناکام کوششیں کر چکا تھا۔

••••••••••••

دل کسی اور کا نہ ہو پایا

آرزو میری آج بھی تم ہو

•••••••••••
رسم حنا کا فنکشن نہایت خوبصورتی سے انجام پایا تھا۔

وجاہت شاہ کی تو خواہش تھی کہ مہندی ساتھ ہی ہوتی مگر تہیم نے الگ الگ فنکشن رکھوایا تھا۔
یقینا وجاہت شاہ کے ہاں اس کے دوسروں نے خوب دھمال ڈالا ہو گا۔

مگر کون جانے کہ دل کے اندر جو خلا تھا وہ آج بھی باقی تھا۔

مبارک ہو ۔
تہیم کے گلے لگی نئ زندگی کی خوشیوں کی دعا دیتی مشایل اسے ماتھے پر بوسہ دے رہی تھی۔

بچپن سے ساتھ رہنے والی پکی سہیلیاں کچھ دوری پر جانے والی تھیں۔
آپ کو بہت خیال رکھنا ہے ہماری تہیم کا ۔

مشا تہیم کا ہاتھ وجاہت شاہ کے ہاتھوں میں دیتے بولی تھی۔
حالصتا لال جوڑے میں مقید تہمینہ خوبصورتی و جمال کا پیکر لگ رہی تھی۔

سراپا حسن کی ملکہ ۔
آج اس کے کمبخت پاؤں زمین پر ٹکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

زمین پر لگتے بھی کیوں اسے اس کی محبت اس کی پرواز جو مل گئ تھی۔
شاید ہی کوئ ایسی چیز ہو جس کی اس نے تمنا کی ہو اور حاصل نا کیا ہو۔

وہ تہیم کی کیا جو اپنی خواہش کو ادھورہ چھوڑے۔
اسے تکمیل پسند تھی۔

مکمل ۔
وہ کبھی ادھورے چاند کو نہیں دیکھتی تھی۔

آج بھی وہ چودہویں کے چاند کی مانند تھی مکمل اور پر نور۔
زیان بھنگڑا ڈال رہا تھا۔

مگر وجاہت شاہ کے اندر اتھل پتھل کچھ تھی۔
دور کہیں مشا کے دل میں بھی کچھ ٹوٹا تھا۔

نہیں ۔۔۔ یہ تہیم کا مقدر ہے ۔۔ اس نے ہمیشہ سے وجہیہ کو چاہا ہے میں تو بس ایک کلاس فیلو۔۔۔۔ دوست کی طرح اس کے ساتھ رہی ہوں۔۔۔۔
تہیم نے اس کی خوشی کو خوشی اور درد کو درد سمجھا تھا۔

میں تو بس۔۔۔۔
نہیں مجھے گمراہ نہیں ہونا۔۔۔۔

یا اللہ میرے قلب کو سکون دے۔۔۔
بے شک کسی کو قسمت سے بڑھ کر نا ہی گھٹ کر ملتا ہے۔

وہ نم آنکھوں سے تہیم کو رخصت کر رہی تھی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: