Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 16

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 16

امبر پروفیسر کی مسسز کے روم میں داخل ہوئ تھی۔

امبر رائٹ ۔
وہ نہایت شائستہ انداز میں سامنے ٹیبل پر فائل رکھتے ہوئے بولیں تھیں۔

بالوں میں ہلکی ہلکی اترتی چاندی صاف ظاہر تھی۔
انچاس-پچاس کے لگ بھگ ہونے کے باوجود وہ اپنی عمر سے زیادہ ایکٹیو لگ رہی تھی۔

امبر نے کلینیکل سائیکولوجی کی تھی۔
ایکسپیرنس کے لئیے اسسٹنٹ کی جاب بیسٹ تھی اور پھر وہ بھی اپنے پروفیسر کی مسسز کے ساتھ ۔ کمال کی بات تھی۔

مسسز رانا جمشید اس کی اکیڈمک رپورٹ دیکھتے ہوئے بولی تھیں۔
تم ایک اچھی سائیکولوجسٹ بنو گی۔

تمہیں تو سائکیٹرسٹ ہونا چاہئیے تھا۔

میم مجھے یہ زیادہ پسند تھا۔
امبر کرسی کے ساتھ

ٹیک لگاتی بولی تھی۔

___________________­____________________­_________

میکال کچھ پل ادھر ادھر ٹہلنے لگا تھا۔ مگر کمبخت سوچ تھی کہ بار بار عشما کی طرف متوجہ ہو رہی تھی۔

وہ گنگنانے لگا تھا۔۔۔۔
دل کہہ رہا ہے گناہ گار بن جا۔۔۔

بڑا چین ہے ان گناہوں سے آگے۔۔۔۔

اف یہ کیا ہو گیا ہے مجھے ۔۔۔
وہ اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ مسلنے لگا تھا۔

وہ لاکھ چاہنے کے بعد بھی بار بار عشما کا ہی سوچ رہا تھا۔
شاید ایک پاک رشتے میں بندھنے کے بعد اسے عشما کے علاوہ اور سب فنا ہوتا نظر آیا تھا۔

وہ خود کو روکتا عشما کی جانب بڑھا تھا۔
دل بغاوت پر اترا تھا وہ اسے ماتھے پر بوسہ دینا چاہ رہا تھا۔

جھکی پلکیں اٹھی تھیں ۔۔۔۔
عشما اسے اپنے اتنا قریب دیکھ کر انگلی سے اسکے ماتھے کو پیچھے کی جانب دھکیلنے لگی تھی۔

وہ خمار میں کھویا ، کسی نشے میں چور اچانک سے ہوش میں آیا تھا۔
یہ ایک پیپر میریج ہے ۔

ہے نا ۔۔۔
عشما اب کے کہنیوں کے بل صوفہ سے اٹھی تھی۔

ہا۔۔۔ ہاں ۔۔۔
پیپر میریج ہے ۔۔۔ بالکل

میکال شرمندہ سا سیدھا ہوا تھا۔
وہ سر کو کھجا رہا تھا۔

عشما بھی دبی سی مسکرائ تھی۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے ۔ آنکھوں سے پوچھ رہی تھی ۔

Read More:  Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 2

تو پھر یہ سب کیا تھا۔
میکال نظریں چراتا پیچھے کو چلنے لگا تھا۔

عشما صوفہ سے اٹھی تھی۔
اپنے سلیپرز ڈھوندتی بولی تھی۔

ویسے اہل ریان کچھ برا نہیں تھا۔
ویسے بھی مجازی خدا تو جیسا بھی ہو ۔۔۔ سب کچھ ہوتا ہے ۔۔۔ پھر چاہے وہ پیپر میریج ہی کیوں نا ہو۔

وہ کھلکھلائ تھی۔
میکال بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے تھا۔

اچھا جی تو اہل ریان قبول ہیں اور پہلی محبت ،
آپکا سچا عشق۔۔۔ اس کا کیا بنا۔۔۔

میکال شرارتا بولا تھا۔

اس کے بارے میں بھی سوچیں گے۔
عشما اسکارف سر پر لیتی کمرے سے نکلی تھی۔

••••••••••••••••••••­•

جمع ہم کو نہیں آتی، نفی سے ہم کو نفرت ہے۔۔۔۔
تمہیں تقسیم کرتے ہیں تو ضربیں دل پر لگتی ہیں۔۔۔۔

••••••••••••••••••••­••

___________________­____________________­_________

وجاہیم (وجاہت شاہ+ تہمینہ شجاع)

گھر پر رسمیں جاری تھیں۔
سامنے شیشے کے ٹیبل پر ایک باؤل میں گلاب کی پتیاں ملا دودھ دکھا تھا۔

اس میں انکی منگنی والی انگھوٹیاں ڈوبی ہوئ تھی۔

جس نے پہلے انگوٹھی ڈھوند لی اسکی حکمرانی ہو گی۔
وجاہت کی خالہ زاد بولی تھی۔

تہیم وجاہت شاہ کو دیکھ رہی تھی۔

بھاری پلکوں کے سایہ تلے چمکتی آنکھیں منتظر تھیں ۔۔۔

•••••••••••••

دل جیت لیجئیے میرا محترمہ…
سر خود بخود جھک جائے گا…

•••••••••••••

وجاہت نے سرگوشی کی تھی۔

تو مطلب ابھی تک دل میرا نہیں ہوا ۔
تہیم نے آنکھ اٹھا کر سوال کیا تھا۔

وجاہت بس مسکرا کر رہ گیا۔
اب کیا بتاتا دل میں مشا کی کمی کا اک خلاء تھا جیسے اب شاید تہیم کی محبت پورا کر پائے ۔

ہاتھوں سے ہاتھ ٹکرائے تھے۔

انگوٹھی وجاہت شاہ کی انگلی کے پور پر تھی۔
اس نے تہیم کے ہاتھ پر رکھ دی تھی۔

جلدی کریں ۔۔۔ اتنی دیر ۔۔۔

وجاہت شاہ کی خالہ زاد پھر سے بولی تھی۔
تہیم کے ہاتھ میں انگوٹھی دیکھ کر وہی کندھے اچکا کر بولی تھی۔

مطلب آپ کی حکمرانی ختم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔

Read More:  Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 23

ولیمہ کے فنکشن پر مشا کسی کے ساتھ ہال میں داخل ہوئ تھی۔

وہی اس کی آنی کا شونا شہزادہ بقول تہیم کے۔

اگلے مہینے مشا کا نکاح تھا۔
تہیم کا تو دل تھا دونوں سہیلیوں کو اکٹھی شادی ہوتی مگر پھر دونوں انجوائے کیسے کرتیں۔

پوائنٹ۔

You two are looking such a gorgeous couple together.
تہیم مشا سے گلے ملتے بولی تھی۔

& You too.

مشا بھی جوابا بولی تھی۔

سلور کلر کی سلیو لیس مکسی پر پرپل کلر کا رائل دوپٹہ اور گلے میں خوبصورت سا مون شیپ پینڈنٹ ساتھ میں امان کا میچنگ سوٹ سیلور کوٹ پینٹ اور پرپل ٹائ انہیں منفرد بنا رہا تھا اور فنکشن میں انہیں باقی کپلز سے زیادہ چار چاند لگا رہا تھا۔
برائڈ اینڈ گروم کے بعد مشا اور امان ہی سب کی نظروں میں تھے۔

کیک کٹنگ سیریمنی کے بعد کپل ڈانس کے لئیے تہیم نے مشا کو کتنا فورس کیا تھا یہ وہی جانتی تھی۔

اف مشا کب بدلو گی تم۔
تہیم پرنسس تھیم وائٹ سلور میکسی فراک پہنے ہوئے تھی۔

بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا خوبصورت ادھ کھلی کلیوں سے سجا تھا۔
گلے میں نازک سا ڈائمنڈ سیٹ تھا جو شاید وجاہت شاہ نے ہی گفٹ کیا تھا۔

وہ بھی بلیک کلر کے سوٹ میں نہایت خوبرو لگ رہا تھا۔

امان مشا کی کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔
چھ انچ کی ہیل پہنے مشایل بھی اس کے کچھ برابر ہی پہنچ رہی تھی۔

گلے کے گرد بازو کا گھیرا بنائے وہ باقی کپلز کی طرح سلو میوزک پر سٹیپز کر رہے تھے۔
امان اسے پیار بھری نظروں کے حصار میں لئیے ہوئے تھا۔

کیا اس سے بڑھ کر بھی کچھ قیامت اور ہو گی۔
وہ زیر لب بولا تھا۔

•••••••••••••••

‎نگاہیں ڈال دوں جس پر اسے مرنا ہی پڑتا ہے

بڑی معصوم قاتل ہوں کبھی پکڑی نہیں جاتی …….

••••••••••••••••

وجاہت شاہ ایک نظر مشا کو دیکھ کر واپس تہیم کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

•••••••••••••••

میری تکمیل تیرے ہاتھ میں ہے
عہد کر کے __ کبھی نبھا مجھے

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 14

•••••••••••••••

وہ واقعی مشا کو اب کسی اور کے سپرد کر چکا تھا ۔

___________________­____________________­____________________­___________________

شاہ ویز شجاع کو ایک میں الٹا لٹکایا ہوا تھا اسکا سر ایک ٹب میں اس طرح سے تھا کے بال پانی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔
تین چار انچ مزید پانی اسکی چلتی سانسیں روکنے کے لئیے کافی تھا۔

یہ یقینا تھرڈ ڈگری ٹارچر تھا۔
Hell in a Cell.

مگر شاہ ویز شجاع جیسے درندے کے لئیے یہ سزا بہت چھوٹی تھی۔
جس انسان کے گناہوں کی فہرست اتنی لمبی ہو کہ اس کے خلاف ثبوت جمع کرنے میں چار سال لگ جائیں اور ہر بار محض ایک بے ضمیر انسان کے لالچ کی وجہ سے وہ رہا ہو جائے ۔

افسوس صد افسوس۔
مگر اس بار معاملہ کچھ الگ تھا۔

کیس اس بار شہزور ہینڈل کر رہا تھا اور شاہ ویز شجاع کا سارا کالاچٹا اس کے پاس تھا بس وہ اس کے اقرار کا منتظر تھا۔
شہزور پانی کا گلاس ٹب میں انڈیل رہا تھا۔

بس ایک گلاس اور پھر ایک منٹ کافی ہے تم جیسے حیوان کو جہنم واصل کرنے کی لیئے۔
تمہارے لیئے مجھے کسی عدالت کے فیصلے کی ضرورت نہیں۔

میں ہی تمہارا جج ہوں ، جیلر ہوں ، اور جلاد بھی ۔
شہزور نے پانی کا گلاس انڈیل دیا تھا۔

پانی کی لہریں ٹب میں دائیرے کی شکل بنا رہی تھیں۔
ماتھے سے آنکھوں اور پھر نام سے منہ تک آتا پانی شاہ ویز شجاع کی سانس بند کرنے لگا تھا۔

سر یہ تو ایسے کر جائے گا۔
شہزور کے ساتھ گارڈ کے لباس میں ملبوس شخص قدرے پریشانی کے عالم میں بولا تھا۔

جو شخص دو سال پہلے کار ایکسیڈنٹ میں کر چکا ہو اس کے دوبارہ مرنے سے کسے فرق پڑتا ہے۔
اسکی تو ہڈیاں بھی دنیا کے لیئے چٹخ کر ختم ہو چکی ہوں گی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: