Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 17

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 17

میکال اپنے والد کے آفس میں کرسی کی پشت پر سارا وزن ٹکائے بیٹھا ایک فائل کا اوور ویو لے رہا تھا۔
اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ آگے کو سامنے رکھے ٹیبل پر فائل مار کر وہ لیپ ٹاپ میں لگی فلیش ڈرائیو کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

کئ بار کی کوشش کے بعد بھی وہ پاسورڈ نہیں کھول پایا تھا۔
سامنے رانگ پاسورڈ کی پوپ اپ نوٹیفیکیشن اسے زہر لگ رہی تھی۔

انگلیاں جنبش کرنے لگی تھیں۔
A.N.J.L.E.E.N

انجلین ۔۔۔
پاسورڈ ایکسیپٹڈ۔

اب کے چہرے پر کامیابی کی مسکراہٹ تھی۔
فلیش ڈرائیو اوپن ہو چکی تھی۔

سامنے مرنے والی لڑکی کا وڈیو پیغام تھا۔
میکال کی گاڑی سے ٹکرا کر مرنے والی لڑکی شاہ ویز شجاع کی بیوی تھی۔

وہ پچھلے چار سال سے شاہ ویز کے خلاف ثبوت اکٹھے کر رہی تھی۔
یہ وہی پس پردہ شخصیت تھی جو خفیہ طور پر انجلین اور شہزور کی شاہ ویز کے خلاف مدد کر رہی تھی۔

اس دن انجلین کا سودا ایک دبئ کے شیخ سے ہونا تھا۔
شاہ ویز کے تعلقات بہت سے ملکی اور غیر ملکی ایجنٹز سے تھے جو چرس گانجے ، اور ہتھیار بارود سے لیکر انسانوں اور انسانی اعضاء کی خرید و فروحت میں ملوس تھے۔

بلدنگز کے ٹھیکے کی آڑ میں شاہ ویز شجاع ایک
Human trafficking Network

چلا رہا تھا۔
جو ماڈلنگ اور میڈیا یا نوکری کی تلاش میں آنے والی خواہشمند لڑکیوں کو دوسرے ملکوں میں سپلائ کرتا تھا۔

کچھ کا اچھی جگہ نکاح کروا کر جیسے اکثر اوقات غیر ملکی باشندے آتے ہیں اور انہیں لڑکیوں کی طلب ہوتی ہے تو وہ ہفتہ یا مہینہ بھر ان لڑکیوں سے نکاح میں رہتے ہیں جو محض پیپر میریج کی حد تک ہوتا ہے۔
یا پھر انکے ورثاء کو بھاری بھرکم رقم دے دی جاتی ہے اور جاتے وقت انہیں خیر آباد کہہ جاتے ہیں یا پھر آگے کسی اور کے ہاتھ فروحت کر جاتے ہیں۔

انجلین اس سب سے واقف تھی مگر شاہ ویز شجاع جیسے درندے کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے لئیے یہ اقدام نہایت ضروری تھا۔
انجلین نکاح سے پہلے شاہ ویز شجاع کے فارم ہاؤس کے ایک کمرے میں بند تھی وہ پریشانی کے عالم میں ٹہلتی ہوئ بس شہزور کے آنے کی منتظر تھی۔

وقت بیتا جا رہا تھا اور اب تک شہزور کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔
اچانک سے دروازے کے باہر شور مچا تھا۔

کڑک کی آواز سے دروازہ کھلا تھا۔
نقاب پوش اندر داخل ہوا تھا۔

کیچی آنکھیں اور سامنے کھڑی شخصیت انجلین کے لیئے انجان تھی ۔
وہ موباکی اسکرین پر دکھنے والی لڑکی کے چہرے سے سامنے خیران پریشان لڑکی کو ملا رہا تھا۔

انجلین ؟
نقاب کے پیچھے سے آواز آئ تھی۔

تم کون ہو؟
انجلین دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔

بگ باس۔
وہ انجلین کو ہاتھ سے کھینچ کر اس کے منہ پر ہاتھ سختی سے رکھتے ہوئے بولا تھا۔

وہ ادھر ادھر کا جائزہ لے رہا تھا۔
انجلین کا ایک بازو اس کی کمر کر پیچھے مروڑے دوسرے ہاتھ سے اسکا منہ بند کئیے وہ زور سے کھڑکی سے ٹکرایا تھا۔

انجلین نے آنکھیں بند کی اور شاید بند منہ سے ہی چیخ بھی ماری تھی۔
کانچ کی کھڑکی کرچی کرچی ہوئ تھی۔

وہ دونوں کھڑکی سے باہر چار فٹ نیچے فرش پر گرے تھے۔
انجلین نے مزاحمت کی تھی مگر بے سود۔

وہ شخص اسے شاہ ویز کے گارڈز سے بچاتا ہوا باہر کار تک لایا تھا۔
انجلین کے ہاتھ پیچھے کمر پر بندھے تھے۔ اور منہ پر ٹیپ تھی۔

وہ کار کی پچھلی سیٹ پر تھی۔
نقاب پوش فرنٹ سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا۔

لڑکی آرام سے ۔۔۔۔ مجھے مجبور نا کرو کہ میں تمہاری آنکھوں پر بھی پٹی باندھ دوں۔
وہ اپنا نقاب اتارتے ہوئے بولا تھا۔

انجلین غصے سے دھارڑی تھی۔
مگر آواز کے بغیر۔

تقریبا آدھے گھٹنے کی مسافت کے بعد گاڑی رکی تھی وہ پیچھے پلٹا تھا۔
بلا کا خوبرو جوان۔

کنچی آنکھوں سے باتیں کرنے والا۔
وہ اس کی جانب انڈرائڈ موبائل بڑھا رہا تھا دوسرے ہاتھ سے اسکے منہ پر لگی ٹیپ اتارتے بولا تھا۔

کسی کو کال کرنی ہے۔
وہ غصے سے پھنکاری تھی۔

اوہ تو میں ہی ملا دیتا ہوں۔
بلکہ ملوا دیتا ہوں۔

وہ واپس اپنی سیٹ پر سیدھا ہوا تھا۔
اب یہ کیا مصیبت تھی۔

آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔
اس سے پہلے کے انجلین کچھ بولتی اسکا منہ واپس ٹیپ سے بند تھا۔

وہ کوئ بنگلہ تھا۔
کار رکی ۔۔. دروازہ کھولنے والی کوئ لڑکی تھی۔

انہیں اندر روم میں لے جاؤ۔
افراتفری کے دوران انجلین کا لال سرخ پیروں تک جاتی فراک کا دوپٹہ وہیں شاہ ویز کے فارم ہاؤس میں رہ گیا تھا۔

باہر لان میں رکھی کرسیوں پر کوئ ادھ مرا نیم بے ہوش پڑا تھا۔
کپڑوں سے مار دھاڑ کے اثار صاف ظاہر تھے۔

انجلین کے منہ سے ٹیپ اتر چکی تھی۔
ہاتھ بھی آزاد تھے۔

اسے گرما گرم سوپ پیش کیا جا رہا تھا۔
ابھی اسے آئے ہوئے دس منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ یہ سب۔

جیسے پہلے سے ہی اس سب کا انتظام ہو۔
وہ ہر چیز سے انکاری تھی۔

بند دروازہ ناک ہوا تھا۔
سایہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔

شہزور ۔۔۔
انجلین سایہ کی جانب لپکی تھی۔

اگلے لمحے دو سناٹے داد تھپڑوں کی آوازیں گونجی تھی۔
کہاں رہ گئے تھے تم؟

مجھے کتنی ازیت ہوئ۔۔
وہ غصہ اتار رہی تھی۔

اندر کا غبار باہر نکلا تھا۔
تھپڑ کھانے والا شخص انجلین کا منگیتر شہزور تھا۔

بے چارہ۔۔۔
وہ دونوں گالوں پر ہاتھ رکھے پیچھے کھڑے ہنسی دباتے میکال کو دیکھ رہا تھا۔

نہیں میں تو بڑے آرام سے لایا ہوں بھابھی کو۔
میکال اب کے شاہ ویز کے دو تین گارڈز سے ہونے والی ہاتھا پائ کے دوران بازو پر لگنے والی چوٹ کو سہلا رہا تھا۔

وہ دن تھا اور آج کا دن ہے ۔۔۔ شاہ ویز کے خلاف دو کیسز ہارنے اور تیسرے میں اس کی فرضی موت کے بعد سے بگ باس ، کیپٹن اور انجلین دی بیوٹی شاہ ویز کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے تھے کب انکے ہاتھوں کے شکنجے میں اسکا گلا ہو۔
شائن ، مسسز روہاب اور عشما بھی اسی مشن کے مہرے تھیں ۔

کیونکہ صنف نازک اور خاص کر حسین چمکتی چیزیں شاہ ویز کی کمزوری تھی۔
شہزور اب تک شاہ ویز کی لاش اسکے والد تک پہنچانے کی تیاری کر چکا تھا ۔

جنہوں نے شہزور کو جب وہ انکے گھر انکے لاڈلے کو گرفتار کرنے گیا تھا اور اسکے نا ملنے پر شاہ ویز کی گرفتاری کے وارنٹ دیکھانے پر کہا تھا اگر تمہیں شاہ ویز ملے تو ہمیں بھی بتانا ۔
اسی دن شام میں شاہ ویز کی کار ایکسیڈنٹ میں مرنے اور لاش جل جانے کی اطلاع آئ تھی۔

___________________­____________________­_________
مشا کے رخصتی کو ایک سال چار ماہ ہو چکے تھے ۔۔۔ وقت کیسے اتنا جلدی بدل گیا تھا۔

وہ کمرے میں بیٹھی اپنا پینٹ کیا ہوا کافی مگ ایک ہاتھ میں لئیے ۔۔۔ کولڈ کافی کے سپ بھرتی شادی کا البم دیکھ رہی تھی۔
کل ہی کی تو بات تھی تہیم اور وجاہت کا ولیمہ تھا۔

اور اب اسکی اپنی چہیتی شفق کی منگنی اور نکاح کو بھی تو پانچ ماہ ہونے کو تھے۔ اور پھر وہ امی کے ساتھ حج کر کے بھی تو پچھلے ہفتے ہی لوٹے تھے۔
لال اوور کوٹ پہنے بلیک پینٹ اور گردن اور منہ کو ڈھکے برف میں پوز بنائے کھڑی مشا کی تصویر کے پیچھے کچھ لکھا ہوا تھا۔۔۔

••••••••
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔۔۔🥀

••••••••
یہ وہ لائن تھی جو اکثر امان اسکی تعریف میں کہا کرتے تھے۔

Almond Brown Eyes….
امان اسے اکثر

Brown eyed Butterfly
کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

وہ البم ایک طرف رکھ کر اٹھی تھی۔
کھڑکی کا پردہ زرا سا سائیڈ پر کئیے وہ آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرائ تھی۔

سیاہ تاریکی چھانے کو تھی ڈھلتا سورج اور ابھرتا چاند۔۔۔
الحمدللہ۔۔۔

اس سب کے لیئے جو میرے پاس ہے۔ میں جس کے قابل بھی نہیں تھی وہ بھی عطا ہے۔
کافی کا آخری سپ لیتی وہ مگ کھڑکی کے پاس پڑے چھوٹے سے

ٹیبل پر رکھ رہی تھی۔
بے دھیانی سے وہاں رکھا مرر گر کر چکنا چور ہوا تھا۔

خدا خیر۔۔۔
آہ ۔۔۔

کانچ کے ٹکرے چنتے اس کے ہاتھ میں کرچی چبھی تھی۔
انگلی کے پور سے رستا خون دیکھ کر اسکا دل عجیب سا ہونے لگا تھا۔

ایک سال میڈیکل کرنے کے بعد بھی وہ اتنی ہمت نہ جھٹا پائ تھی کہ خون دیکھ کر خود کو سنبھال سکے۔
وہ کانچ وہیں بکھرا چھوڑ کر کمرے سے نکل گئ تھی۔

امی ۔۔
اس کی آواز بھرآئ تھی۔

کیا ہوا مشا۔
امی اس کے لہجے کی پریشانی کو سمجھ چکی تھی۔

مجھے آپ کے پاس آنا ہے۔
وہ گاڑی اسٹارٹ کر رہی تھی۔

تو آجاؤ بیٹا کس نے منع کیا تمہیں۔
امی بھی اس کے چونچلوں سے پریشان تھیں۔

وہ فون بند کر کے سائیڈ سیٹ پر پھینک چکی تھی۔
ٹن ٹن ٹن ٹن۔۔۔۔

کوئ بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا تھا۔
امان بی اتنی دیر وہ اپنی پر آنی ملازمہ کے گلے لگی شکوہ کر رہی تھی۔

امی کدھر ہیں۔
وہ اندر جاتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

آفت ہے یہ لڑکی بھی۔
لیو تمہیں تمہارے پاپا مزاق میں کہتے تھے۔

تم تو ہر وقت ہی دھاڑتی رہتی ہوں ۔
امی جائے نماز تہہ کر کہ رکھ رہی تھی۔

ہاتھ میں تصبیح ۔۔ وہ ابھی نماز پڑھ کر اٹھی تھیں۔
امییییی۔

وہ انکی توجہ انگلی پر بندھے سنی پلاسٹ فرسٹ ایڈ بینڈچ کی طرف کروا نا چاہ رہی تھی۔
مشا بچکانہ حرکتیں چھوڑ دو اب تم بڑی ہو زمہ دار بنو۔ میرے بعد کیا ہو گا تمہارا ؟

امی اسکی سلامتی کی لیئے دم کر رہی تھی۔
امی کیا ہو گیا ہے ایسی باتیں نا کریں آپ کہیں نہیں جا رہی مجھے چھوڑ کر۔

وہ غصہ ہوئ تھی۔
اماں بی کہاں چلی گئیں ۔

اماں بیییی۔
وہ انہیں بلا رہی تھی۔

باہر گئ ہیں انہیں بھی کام کاج سے فرست ملنی چاہیئے۔
امی چہرے کے گرد لپیٹا شانوں پر بکھرائ چادر تھوڑی ڈھیلی کرتے ہوئے بولی تھیں۔

اور کوئ نہیں ہے کیا گھر میں؟
مشا بیڈ پر اوندھی ہوئ تھی۔

نہیں بابا کوئ نہیں ہے سب کو چھٹی دے دی میں نے۔
امی اس کے بال سہلا رہی تھیں۔

باہر کچھ گرنے کی آواز آئ تھی۔
کون ہے؟

امی باہر کو گئ تھی۔
واقعی انہوں نے سب کو چھٹی دے دی تھی۔

امی۔
باہر سے کوئ آواز نہیں آرہی تھی۔

امییی کیا ہوا؟
وہ بیڈ سے اٹھی آہستہ آہستہ باہر کو گئ تھی۔ نا امی تھی نا کی کوئ اور وہ جواب نا پا کر بے چین ہوئ تھی۔ امییی کہاں ہیں آپ؟

جواب دیں امی۔۔۔۔
اممم۔۔ آہ۔۔

امی کے کراہنے کی آواز آئ تھی وہ ڈری سی پاس والے کمرے میں گئ تھی۔ اس کی چیخ نکلتے نکلتے رکی۔
امی کو دو لوگ بازؤوں سے پکڑے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں پستول پکڑے وہ اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ امی ۔۔۔

وہ انکی طرف لپکی تھی۔
ڈز ڈز۔۔۔

دو گولیاں امی کے آر پار ہوئ تھی۔
ایک کندھے میں ایک پیٹ میں۔

چلو وہ تین مسلح افراد تھے۔
بہت شوق تھا بڑھیا کو ایف آئ ار کٹوانے کا۔ وہ بھاگ نکلے تھے۔

مشا بھاگ کر امی کو بانہوں میں تھامے ہوئ تھی۔ درد کو شدت سے امی کی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں۔ امی امی ۔۔۔
مشا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

فون تو گاڑی میں پڑا تھا۔
وہ امان کو بھی کیسے بلاتی۔

کس سے مدد مانگتی ۔۔۔
کوئ ہے؟؟؟

وہ چلائ تھی۔
مدد کرو۔۔۔۔

وہ چیخ اٹھی تھی۔
لوگ آواز اور شور سن کر آئے تھے۔ ایمبولینس کے شور میں وہ ہاسپٹل پہنچی۔ امان دیکھیں نا امی میری بات نہیں سن رہیں ۔ وہ جواب نہیں دے رہیں۔ امان امی ناراض ہیں۔۔۔ امی میں کوئ بچوں والی حرکتیں نہیں کروں گی۔ حالانکہ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ امییی۔

دیکھیں آپ کی مشا کے ہاتھوں پر خون ہے۔ امی۔
وہ امی سے لپٹی ان کے چہرے کو چوم رہی تھی۔

مشایل حوصلہ کرو۔
جیسی رب کی مرضی۔ ہم سب کو مالک حقیقی سے ایک نا ایک دن ملنا ہے۔ امان اسے سنبھالتے ہوئے بول رہا تھا۔

وہ اچھے سے جانتا تھا امی کو ان سے بچھڑے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ وہ پھر بھی اس کی تسلی کے لئیے امی کا چیک اپ کرنے کا کہہ رہا تھا۔ سر بٹ شی از نو مور۔
آئ ایم سوری۔۔۔

ڈاکٹر افسردہ سا بولا تھا۔
آہوں اور سسکیوں میں امی کو دفنا دیا گیا تھا۔

اماں بی کے گلے لگی مشا سکتے میں تھی۔ آنسووں سے بھیگا چہرہ اب بالکل سپاٹ تھا۔ وہ گم سم تھی۔
مشا بیٹا کچھ کھا لو۔

تم نے پرسوں سے کچھ نہیں کھایا۔
اماں بی اسے بہلا رہی تھی۔

شفق کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو رواں تھے۔ وہ بھی امی کے جانے سے ٹوٹ چکی تھی۔
ایک تو وہ چھوٹی تھی اوپر سے امی اور مشا دونوں کی لاڈلی۔ مشا کے کندھے پر سر ٹکائے وہ ہاتھ میں امی کی تصویر لئیے چپ چاپ رو رہی تھی۔

امی کے قل پر سارا خاندان اکٹھا تھا۔
مشا اور شفق دونوں ہی کمرے میں بند رہنے لگیں تھیں۔

امی سے لگاؤ تھا کہ انکے بغیر ایک ایک پل ازیت ناک گزر رہا تھا۔
وہ امی کا چالیسواں تھا جب مشا گھر سے نکلی تھی۔

قبرستان سے واپسی پر اسے ایک پرانا مانوس چہرہ دکھا تھا۔
مشا ۔۔۔

مشایل۔
رکو میں تہیم۔

مشاااا۔۔۔
تہمینہ اسکے پیچھے پیچھے تھی۔

مشا بغیر پلٹے چلتے ہوئے کار میں بیٹھ گئ تھی۔
مشا۔۔ میری بات تو سنو۔

میں ابھی ابھی واپس آئ ہوں مجھے افسوس ہے تمہاری امی کا۔
میرا نام شنایل ہے۔

مشا سپاٹ چہرے سے بولی تھی۔
ڈرائیور چلو۔

مشاااا۔
تہمینہ اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔

کون تھا وہ؟
امان تھانے میں اس رپورٹ کا پتا کرنے گیا تھا جس کے بارے میں وہ پولیس کی وردی میں ملبوس ہتھیارے بول کر گئے تھے۔

سر جس کے خلاف اغوا کی رپورٹ کٹوائ ہے وہ تو سال پہلے مر چکا ہے۔
کار ایکسیڈنٹ میں۔

یہ دیکھیں اس کی فائل تو کب کی کلوز ہے۔
حوالدار ایک فائل پر ہاتھ مار کر بولا تھا۔

لیکن امی تو ۔۔ انہوں نے خود اس اغوا کار کو دیکھا تھا۔ اور جو اہلکاروں کی وردی میں لوگ آئے تھے وہ بھی اسی واردات کی رپورٹ کی بات کر رہے تھے۔
پچھلے ہفتے قتل سے تین دن قبل مشا کی امی ہاسپٹل سے واپس آرہی تھی کہ راستے میں کچھ لوگ ایک راہ چلتی لڑکی کو اغوا کر رہے تھے

امی کے کہنے پر ڈرائیور نے مزاحمت کی تھی۔
وہ زحمی ہوا تھا۔

اس لیئے ڈرائیور چھٹی پر تھا۔
پولیس نے بھی کچھ خاص پیش رفت نہیں کی تھی۔

اور کچھ ہونے والا بھی نہیں تھا۔
کیس کلوزڈ۔

ہیلو ۔
شنایل میں تہمینہ ۔

مشا ابھی ابھی تجہد سے فارغ ہو کر بیڈ پر لیٹی تھی۔
شاہ ویز شجاع مشا کی والدہ کا قاتل تھا اور تہمینہ اس کی بہن۔ یہی وجہ کافی تھی کہ مشا کو اس پر غصہ آیا تھا اور نفرت ہونے لگی تھی۔ لاکھ کوشش کے بعد مشا تہمینہ سے ملنے کو راضی ہوئ تھی۔ تہیم اسے معافی مانگتی رہی مگر مشا کا دکھ بڑا تھا۔ وہ تہیم کو معاف کرنے سے قاصر تھی۔

البتہ دل میں اب بھی تہیم کے لیئے محبت دوستی پہلے جیسی ہی تھی۔
شنایل تہیم کی بچپن کی دوست مشا ہی تھی۔ مشایل.

___________________­____________________­____________________­___________________
آپریشن تھیٹر کی لال جلتی بتی بجھی تھی۔ ڈاکٹر افسردہ چہرے کے ساتھ نکلے تھے۔

آئ ایم سوری۔
وہ منہ سے ماسک اتار رہے تھے۔

نہیںں۔
نہیںیں۔

تہیم
وہ چیخی تھی۔

بے جان سے وہ زمین پر گری تھی۔
مشا

امان نے قدم بڑھا کر اسے تھاما تھا۔ امان دیکھیں یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
آئ ایم سوری۔۔۔

نہیں امان تہیم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی ۔ ابو ، امی پھر اب تہیم ۔ نہیں امان۔۔ اور کچھ بھی کھونے کی ہمت نہیں مجھ میں۔ مشا ٹپکتی نم آنکھوں سے بولی تھی۔
پرانے سارے غم تازہ ہوئے تھے۔

امان تہیم مجھے سے معافی مانگتی رہی تھی۔ مشا غش کھا کر بے ہوش ہوئ تھی۔
سامنے اسٹریچر پر سفید چادر سے ڈھکی ڈیڈ باڈی پڑی تھی۔ مشا اس کے ہاتھ چومتی بولی تھی۔

تہیم ۔۔۔ اٹھو تہیم میں نے تمہیں معاف کیا۔ اس ناکردہ گناہ کی سزا دی مجھے معاف کردو۔ مگر اب تہیم کہاں اٹھنے والی تھی۔
دوسری طرف وجاہت شاہ بھی بوجھل قدموں کے ساتھ چلتا ہوا آرہا تھا ۔ تہیم ۔۔۔ ہم نے ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کہاں ہو تم؟

کیوں گئ مجھے چھوڑ کر تم۔
اٹھو ۔ دیکھو میری طرف ۔

وہ تہیم کو جنجھوڑ رہا تھا۔
وہ ساکت ٹھنڈی پڑ رہی تھی۔

بے وفا ۔۔۔۔
بے وفائ کی تم نے تہمینہ۔

مشا اپنا دکھ بھول کر وجاہت شاہ کو دیکھ رہی تھی۔
اس نے تو دوست کھوئ تھی۔

مگر سامنے کھڑے شخص نے تو شریک حیات کھوئ تھی۔ دکھ سکھ کی ساتھی۔
اس نے ابو کے

بعد امی کی زندگی دیکھی تھی۔
اس کا تو محض سوچ کا تعلق ٹوٹا تھا مگر وجاہت شاہ کا تو روح کا رشتہ ٹوٹا تھا۔

___________________­____________________­____________________­___________________
شجاع علی کے سامنے دو لاشیں تھی۔

اسکی سرطان اسکے سامنے سفیدی میں لپٹی پڑی تھی۔ بوجھل طبیعت سے سامنے پڑی اپنی نازوں سے پالی اولاد کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
شہزور کو دیکھتے ہوئے وہ بولا تھا۔

تو آخر کار تم نے اسے ڈھوند نکالا۔
وہ غصہ دباتے ہوئے بولا تھا۔

سوگ کا سا سماں چھایا ہوا تھا۔
تدفین کا انتظام کرو۔

شجاع علی نے بیٹے شاہ ویز شجاع
کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔

بہت شوق تھا نا آگ سے کھیلنے کا۔۔۔ اسی آگ نے جلا دیا ۔۔۔
اور تہمینہ شجاع کے چہرے پر چادر واپس پھیلاتے ہوئے بولا تھا۔ گارڈز اور سٹاف نے ڈز کی آواز کے ساتھ شجاع علی کا آخری حکم سنا تھا۔ اب کے وہاں تین لاشیں تھیں۔شجاع علی کی روح پرواز کر چکی تھی۔ خودکشی۔۔۔۔

یہی آخری حل شجاع علی کو نظر آیا تھا ۔
___________________­____________________­____________________­___________________

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: