Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 2

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 2

عیشال کے سامنے ایک عمدہ,عالیشان گھر تھا اس کے لب ہکے ہلکی سی جنبش سے اس نے کیا واہ . جیسے وہ سکتہ کے عالم مے تھی,اس نے اپنے اپ سے دھیما سا کہا بالکل یہ تعبیر ہے جسے پانے کا ہم عام لوگ تو صرف تصور مے ہی سوچھ سکتے ہے . اس نے ارد گرد دیکھا تو چار پانچ نوکر اس کے اشارے کو بجا لانے کے لیے بےتاب تھے . اس نے پھر سے سامنے اس قلعہ نما گھر کو دیکھا اور قدم قدم اس کی جانب چلنے لگی . وہ دکھنے مے بہت اچھی تھی چاند سا روشن چہرہ .لمبے کمر کو چھوتے سنہرے بال گلابی لب بلاشبہ وہ دلکش و دلفریب تھی اور اداکار بھی کمال کی . وہ اپنی دلکشی سے واقف تھی اس لیے اسے برباد نہی کرنا چاہتی تھی اس لیے اسے بروکار لاتے ہوے وہ شہر مے فیشن سے وابستگی کے لیے ای تھی . اب وہ ایک مشہور فلمی اداکارہ کے گھر کے سامنے تھی . پیچھے ایک ویگو اکر رکی اور دو تین ہتھیار سے لیس ادمی اس سے نیچے اترے اور دروازہ کھولنے لگے . اس نے بے ساہتہ کہا واہ کیا کار ہے زبردست .میری بھی جلد ہی ایک ایسی کار ہو گی . اب کے وہ زرا تیز بولی تھی .پیچھے نوکر نے دوسرے کو کہا یہ دیہاتی کون ہے اسے کار اور ہیوی وہیکل کا فرق ہی نہی پتہ وہ ہلکے سے مسکراے . عیشال نے جیسے اپنی بےعزتی کو بھانپ لیا تھا وہ ندامت سے ہاتھ پر ہاتھ مار کر رہ گی.وہ شرمندہ سی ہوگی . کس وجاہت سے وہ اسکی جانب ارہا تھا وہ تو جیسے سکتہ مے تھی . اسے پہلی ملاقات بلکے ملاقات سے بھی پہلے بس دیکھتے ہی سچا پیار ہو گیا اوہ میرے مالک وہ صرف یہی کہ سکی . اسکا دل بند ہونے لگا تھا ہاتھ جمنے لگے تھے اور ہا وہ اب بے ہوش ہونے لگی تھی اگلے ہی پل وہ زمین پر گری تھی اس کا زہن اس بات پر رک سا گیا تھا .
اے خدا! تیرا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر
لیکن مجھے دنیا اور آخرت میں وہ چاہیے
___________________­­________________,
مجھے لگتا ہے اب اپ کو جانا چاہیے شاید اپ کا مقصد پورا ہو چکا ہے . مشایل کی یہ بات اس کے دل پر کسی چاقو کے وار سے کم نہ تھی . تہمینہ رونے لگی نہی ایسا مت کہو
اب وہ پہلے والی تہمینہ مر چکی ہے یہ تمہاری تہمینہ ہے خدارا پہچانو اسے مجھے تمہارا ہر فیصلہ قبول ہے.مجھے کچھ نہی سننا نہ ہی کچھ کہنا ہے مشایل ترش لہجے میں کہ رہی تھی . خدارا مشایل مجھے معاف کردو . میں مانتی ہو میں نے برا کیا تمہارے ساتھ وہ اک بھول تھی. تہمینہ اپنی صفای دے رہی تھی . بھول , سچ میں بھول تھی وہ , مشایل کچھ پل رکی پھر روتے ہوے تر چہرے کے ساتھ کہنے لگی نہی وہ گناہ تھا , اب کے وہ چیخی تھی , وہ جرم تھا , میں کیسے معاف کرسکتی ہو وہ گناونا الزام جو مجھ پر لگا جو میرا سب کچھ مجھ سے چھین کر لے گیا. اب وہ زاروقطار رو رہی تھی میری امی, شفق سب کچھ . اب میں آپکو معاف کردو .نہی اتنی ہمت نہی ہے مجھ میں .تہمینہ اسکی طرف لپکی گویا گلے لگانا چاہتی ہو مگر مشایل دو قدم پیچھے ہو گی . اسکی آنکھوں
میں آنسو تھے . کتنے ہی دن اس نے سکتے میں گزارے تھے .

وہ کتنا روتی تھی . خوشیاں اس سے دور تھی
کتنے پل اس نے ازیت

میں گزارے تھے . زندگی سے بہت دور وہ اندھیروں میں قید تھی .
تہمینہ تم نے مجھ سے امی , میری زندگی , میری عزت ,میرا مان سب کچھ چھین لیا . کیسے میں کیسے اب تمھیں خود بیٹھے بیٹھے معاف کردوں . نہیں ایسا ممکن نہیں

خدا کے لیے مشایل مجھے معاف کردو. تہمینہ اب سسکیاں لے رہی تھی . جانتی ہو تہمینہ, مشایل مایوسی سے بولی بےچارگی اس کی باتوں میں عیاں تھی جب امی مجھے ملی تھی تو کہ رہی تھی تم نے میرا مان میرا بھرم کرچی کرچی کردیا میں بےبس تھی اس وقت کیا کہتی ان سے آپ کی مشایل ناکام رہی. نہیں مشایل کو اپنوں نے
دھوکے دیا برباد کیا .مشایل خود سازش کا شکار ہوی .

___________________­­___________________­_­________
اوہ ہو امبر مجھے تنگ مت کرو اتنا شور ,توبہ. سونے دو مجھے پلیز یار . امبر چونک کر بولی کیا کہا شور مم میں . کہاں میں تو چپ چاپ بیٹھی اپنا اساءنگمنٹ بنا رہی ہوں. ارم ہنسی اور شوخی سی ہو کر بولی ارے تم بھی نا . دیکھاؤ کیا اسءنگمنٹ ہے. امبر اسے اب بھی کھا جانے والی نگاہ سے دیکھ رہی تھی . ساءکولوجی کا ہے ٹاپک ایموشنز . ھمم اچھا کیا لکھنا ہے .ارم نے لیپ ٹاپ اپنی طرف کرتے ہوے پوچھا . ٹھک ٹھک دروازہ کھٹکا . کون ارم نے پوچھا فورا امبر بولی آجائیں . وہ مم, میں شارم وہ میں . کیا شارم بھای کیا کام تھا امبر نے بھنویں اوپر کرتے ہوے پوچھا .تم چپ کرو امبر شارم ہلکا چلا کر بولا. ارم مجھے تم سے بات کرنی ہے . شارم ارم سے چھ سال عمر میں زیادہ تھا ارم اسکی چہیتی تھی اور بہت معصوم تھی واقع ارم کا وہ دل و جان سے عزیز رکھتا اور اسکی ہر چیز کا باپ کی طرز پر خیال رکھتا تھا ابو کے بعد وہ مسسز عمر رفیق اور امبر شہزادی کا اکلوتا سہارہ تھا وہ بارہ سال کا تھا جب اس سے اباجان کا سایہ چھین گیا تب سے وہ ہی گھر کا نگہبان تھا.ابا کے جانے کے بعد چاچو نے اسکا خوب ساتھ دیا مگر گھریلو ناچاقی امن نگل گی چاچی بھی فطرت کی اچھی تھی مگر لوگ اور انکی باتیں. اس لیے شارم پچپن سے ہی سمجھدار تھا اور اپنے مزاج کا مالک تھا خوش شکل اور قابل قبول خوبیوں کا مالک تھا . خدا کا کرم تھا مسسز عمر رفیق اور بچوں کی زندگی اچھی گزر رہی تھی. ایک پورشن کرایہ پر تھا اور ایک گھر مزید کرایہ پر دیا ہوا تھا . شارم نے ایک دکان اپنے دوست کو دی تھی اس کی بھی کچھ رقم شارم کو ملتی تھی

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: