Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 3

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 3

پیشے سے شارم ہارٹ سرجن تھا . ایک پراءویٹ ہاسپٹل میں اچھی تنخواہ پر کام کرتا تھا . سب اباجان کی چھوڑی ہوی جاءیداد اور چاچو چاچی کے ساتھ کا صلہ تھا امی نے بھی بہت ہمت کی تھی ہر قدم پر اسکا ساتھ دیا ہمت باندھی. اگرچہ ارم کچھ ناسمجھ تھی مگر وہ بھی اس سب سے واقف تھی .
تہمینہ بوجھل قدموں سے مشایل کے گھر سے نکلی تھی چہرے پر اب بھی آنسو لڑھک رہے تھے .اس نے کار کا دروازہ کھولا اور اندر سیٹ پر بوجھل سی ٹک گی شیشہ نیچے کو کھولا اور اس کے گھر کو تکتی رہی, ایک جھٹکے میں زن سے کار دور چلی گی

مشایل کھڑکی سے لگی اب یادوں کے دریچے میں کھو سی گی. وہ کسی کی شادی تھی ہر طرف گہما گہمی, برقی روشنی , رنگوں کی بہار اسکی آنکھیں ہلکی سی چمکی تھیں یہ سنہرے لباس میں وہ تھی ہاں وہی تھی ہنستی مسکراتی معصوم سی سب کی مشا . ہلکا سنہرہ میک اپ ہلکی سی گلابی لپ اسٹک ,درجن بھر سنہری سادھی چوریاں گلے میں نفیس سا چاند کی شبہیہ ولا نیک لیس ہاں مگر کان میں کچھ جھمکے جو دکھنے میں زرا بھاری معلوم ہوتے تھے سفید شفون کی چنی اور پاوں میں ہیل یہ تھا اس کا گھایل کرنے والا بارات لک . وہ بال سہلاتی میرج ہال میں اپنی کزنز کے ساتھ ابھی ابھی ای تھی ,اگرچہ شادی شروع ہوے پونا گھنٹہ ہو چکا تھا
وہ ایک پل رکی ادھر ادھر دیکھا پھر چلنے لگی

ارے یہ کیا وہ دھڑام سے گرتے گرتے بچی کچھ پل تو اسی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اس نے خود کو بامشکل سنبھالا وہ ہاتھ رکھے اپنی بےترتیب دھڑکن سننے لگی تیز تیز سانس لیتی زرا سنبھلی تو مڑ کر جوتے کو دیکھا جو اک برقی قمقموں کی لڑی میں اٹکا ہوا تھا اوہ خدایا بار بار منہ کے بل گرنے کا سوچ کر وہ کانپ گی .اگر میں گر جاتی تو عزت کا کباڑہ ہو جاتا امی بھی نا مل ہی نہیں رہیں نا جانے کہاں گم ہو جاتی ہیں .وہ پھر سے جلنے لگی . ہلکا گلابی سوٹ ارے یہ تو آنی جان ( خالہ جان کو وہ یہی کیتی تھی ) ہیں .آآآآنی جان اس نےخوشی سے چیختے ہوے کہا .آنی بھی اسکے گلے لگی اور دعا دےتے ہوے سدا خوش رہو کہنے لگی . ماشاءاللہ کیا بات ہے سادگی بھی پرکشش وہ اس پیار کرتے ہوے بولی.
امی نہیں دکھ رہی مجھے انہیں تلاش کر رہی ہوں. جی آپ کی امی تو شاید امان کے پاس ہیں آنی زرا مسکراتے ہوے بولی . اف. امی سامنے تھی اور اسے دیکھای نہیں دی واہ رے مشا, وہ خود سے خود کلام تھی. اپنے آپ کو سنبھالتی امی کے پاس جا کر رکی. امان تو اسے سر سے پاوں تک دیکھتا ہی رہ گیا تھا . یہ سیسری بار تھا کہ وہ اس قسم کی شادی میں ملے تھے .پہلی بار رافع (پھوپھو کے دیور کی شادی پر ) پھر رمزہ ( آنی کی نند)اور اب فہیم ( ابو کے کزن کا بانجھا) .فہیم اس کا بھای سا تھا .بچپن تقریبا ساتھ ہی گزرا تھا انکل فواد کا بھی انکے گھر بہت آنا جانا تھا .

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 50

وہ دلہا دلہن کے پاس باقی کزنز کے ساتھ تھی . فہیم نا نہ اب تو آپ دلہا بھای ہے . ہیں فہیم چونکہ کیا مطلب تم دلہن کی طرف واہ . جی بالکل وہ اترا کر بولی رمزہ بھی اسکا ساتھ دے رہی تھی ہاہاہا امان ہنسا تھا کوی بات نہیں ہم ہیں آپ ساتھ . فہیم بھی اب تیور دکھاتے ہوے ہنسے . کیا آپ بھی اتنی جلدی واپسی شفق جو ابھی زرا ٹین ایج بچی تھی بولی. ابھی تو میری بھابھی سے دوستی ہوی تھی . تو ایک کام کرو رکھ لو بھابھی کو تم ہی رمزہ مزہ لیتے ہوے بولی . مشایل بھی چہکی تھی. بھابھی آپ بتائیں ,رہنا چاہیں گیں ہمارے ساتھ . ویسے ہماری لو میریج ہے مشا , فہیم بے دھڑک بولا . آنی بی نے اجازت دے دی تھی مشا بولی . آنی بی (فہیم کی امی ,مشایل ان کو بھی آنی “مگر ساتھ بی” ہی کہتی تھی ) بھی اب وہی تھی .انہے دیکھ کر فروا (فہیم کی ممانی) فورا بولی ہا نا جب آنی بی کی خود کی لو میریج ہو تو وہ اسے کیسے روکتی . آنی بی زرا شرما کر مسکرای تھی . مشا بھی اب مسکرا رہی تھی .
دودھ پلای کی رسم کر کے ابھی وہ کزنز کا گروپ پیسے لینے میں مصروف تھا .تمھیں میں صرف 1 ایک لاکھ ہی دے سکتا ہو . بالکل نہی ہم تو پورے پانچ لاکھ لے گے . رمزہ مشا کو آنکھ مارتے ہوے بولی . دلہا بھای اتنی کنجوسی .آپ کو تو دس بیس لاکھ ایسے ہی ہمیں دینا چاہیے تھا مشا جوابا بولی .

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 19

اچھا یہ لو دس لاکھ اب خوش.فہیم نے تقریبا ہنستے ہوے بولا اور شیروانی کی جیب سے پیسے بلکہ پانچ پانچ لاکھ کی گھتی نکالتے ہوے بولا. جلدی سے جان بچا کر نکلنا اس کا اولین مقصد تھا. دروازے ناک ہوا, وہ مچھلی کی مانند سمندر سے نکل کر ریت پر خود کو معلوم ہونے لگی . یادیں دھواں دھواں ہوی تھی. آجائیں وہ چونک کر بولی . اب بھی وہ وہی ہاتھ میں پردہ لیے کمرے کے کونے میں بیٹھی تھی. باہر سے ایک عمر رسیدہ چالیس پینتالیس سالہ عورت کمرے میں ای . اماں بی آجائیں. وہ اسکے قریب ای اور سر پر ہاتھ پھیرنے لگی . رو مت میری بچی . سب کا وقت پر اس دنیا سے رابطہ ٹوٹتا ہے . بس ہم انسان تو زریعہ بنتے ہے کسی کے جانے کا . وہ ان کے گلے لگ گی آنسو رواں تھے اور چہرہ پہلے سا تر .وہ ہمیشہ سے انہی سے اپنے سکھ دکھ کہتی تھی . امی کی زندگی میں بھی اور بعد میں بھی. وہ انہے اپنے بچپن سے جانتی تھی اور اب بھی اماں بی اسکے پاس ہی کام کرتی تھی .

شارم ہچکچاتا ہوا کہنے لگا وہ ہارٹ سرجری والے کو ہوش آگیا ہے.ارم امبر دونوں چونکی . سچ امبر پوچھنے لگی شکر خدایا شکر ہے تیرا . پچھلے ہفتے لاہور سے واپسی پر امبر اور شارم کو ایک بےجان زندگی راستے میں بے ہوش ملی جسے سینے پر دو تین گولیاں ماری ہوی تھی. اس کی شارم پچھلے کچھ دنوں سے نگہداشت جر رہا تھا اور علاج بھی .خوش قسمتی سے اس کی جان بچا لی گی تھی مگر وہ قومہ میں تھا اور اس کے بارے میں کچھ معلوم نہی تھا . کسی نے اسے مرنے کے لیے پھینک دیا تھا مگر وہ بچ گیا بے شک موت کا وقت مقرر ہے نا پہلے نا ہی بعد میں.آپ نے اس سے پوچھا اسکے بارے میں .ارم فکر کرتے ہوے بولی. میں نہیں یہ نہیں پوچھ پایا وہ ابھی صرف ہوش میں ہے پر کچھ بول نہیں سکتا فی الہال صدمہ ہے اسے ابھی .بس صرف مشا مشای کچھ بولتا ہے سمجھ نہیں سکا میں کیا کہنا چاہتا ہے وہ .

Read More:  Maqsoom Novel by Huma Waqas – Episode 19

ہیلو مس ہوش میں آجائیں . اس نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولی. کون . کون ہو تم عشال کے سامنے ایک نفیس سیاہ سفید لباس میں ملبوس عورت تھی جو اس پر پانی کے قطرے پھینک رہی تھی. عشال کسی نرم سے گدے پر گری ہوی تھی اردگرد دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کے وہ باہر لان میں بے ہوش ہو گی تھی .ہاں یاد آیا میکال ,کار, دل ,عشق , پہلی نگاہ کا ملنا . اف وہ فورا سے چونکی . کیسی ہے آپ مس عیشال . یہ میکال کا ہی لہجہ تھا اف قیامت کیا آواز تھی کمال . عشق ایک درجہ اور بلند ہوا تھا . بےچاری عیشال خود پر قابو پانے لگی . خود کو ہی قوسنے لگی بےوقوف, سنبھالو خود کو, پاگل انسان, جنونی پتہ نہی کیا کیا کہتی رہی خود کو. کیا فیشن کی دنیا کا چمکتا ستارہ بننا تھا اسے اور وہ اس انسان میکال پر مر مٹی تھی .کمرے میں موجود تمام نوکر منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہے تھے. عیشال خود اپنے بس سے باہر تھی پاگل پن اور بےوقوفی کی انتہا پر .اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ چیخ چیخ کر میکال کو کہے ای لو یو میکال . یو ار مای ایوریتھنگ . وہ سوچتے سوچتے مسکرانے لگی . میکال اسے دیکھتے ہوے بس یہی سوچ رہا تھا عجیب ہاگل ہے . بےوقوف یہ نکمی ہے اس پر پیسے نہیں لگانے چاہیے . میکال اپنی ایک عزیزہ اور دوست کے پاس عیشال کو فیشن کی دنیا سے روشناس کروانے لایا تھا مگر بےکار . یہ تو نالاءق تھی پیسے کی چکا چوند پر پگھل جانے والی . میکال کی دوست انجلین عیشال کو دیکھتے ہوے میکال سے اشارے میں بولی اس کا کچھ نہیں ہوسکتا امید رکھنا بےکار ہے .یوز لیس, ناکارہ جیسے عیشال نے انکے اشارے سمجھ لیے اور اگلی چال بھانپ لی ہو وہ فورا نارمل ہوی اور اتراء کر بولی یہ گرمی دھوپ بھی نا, اچھے بھلے بندے کو پاگل کر دے.اس نے وقت اور موقع کا استعمال سیکھ لیا

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: