Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 4

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 4

جیسے ابھی کچھ دیر پہلے شدید عشق کی بیماری ہو گئی تھی اب اس کا وہ سب خمار اڑن چھو , پل بھر میں رفو چکر ہو چکا تھا. وہ اب پل بھر میں جان چکی تھی کہ اس نے کتنی بڑی بےوقوفی کی تھی.اف . وہی مشایل جسے ابھی میکال سے عشق کے دعوے تھے اب وہ اس کا کرش تک نہیں رہا تھا . واہ کیا موڈ سونگ تھا . میکال اس کے بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا . وہ سمجھ گیا کیا معاملہ تھا . اس نے بھنوئیں اچکائی اور انجلین کو دیکھنے لگا گو یہی چاہیے تھا تمھیں .

اب وہ عیشال کی طرف متوجہ ہوا تو مس عیشال شی از انجلین اب یہ آپ کی دوست , منیجر, بہن, ساتھی جو بھی آپ کہہ لیں. آج سے یہ آپ کو گاءیڈ کرے گی کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے .
وہ اٹھا اور انجلین کے پاس جا کر بولا ٹرین کرو اسے جلد از جلد . یس باس انجلین نے کندھے اچکا کر کہا. میکال کمرے سے باہر جا چکا تھا . عیشال اٹھ کر انجلین کے پاس آگئی. کہاں سے سٹارٹ کریں انجلین نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوے نوکر سے کہا سب سے پہلے پارلر کی اپاءنٹمنٹ کرواو اس کا لک چینچ کرنا ہے. پھر شاپنگ اور ڈاکومنٹینگ بھی کمپلیٹ کرنی ہے .

___________________­_________
روڈ پر گرا ہوا ملا تھا سر یہ ہمیں مجھے اور میری بہن کو لاہور سے واپسی کے راستے پر. شارم پولیس افیسر کو اپنے مریض کی تفصیل بتا رہا تھا . اچھا یہ کب ملا پولیس والے نے سوال داغا .کیوں کہ یہ ایک جرم کی واردات ہے اور اقدام قتل کا معاملہ ہے ,تمھیں شاید تھانہ بھی بکایا جاسکتا ہے , شہر سے باہر . شارم بات کے بیچ میں بولا میں خود اس معاملہ کا گواہ ہو. معلوم ہے اس جیسے کیس روز فالو کرتا ہو خود میں. پولیس والا اکڑ کر بولا اوہ تو شارم پھر تو کام اسان ہو گیا,

باسط بیان لکھ انکا ایف ای ار بنا, پتہ کر کون ہے بےچارہ وہ اپنے ساتھی سے بولا .
نرس انکا دھیان رکھنا ہے اچھے سے جیسے ہی یہ کچھ کہے مجھے بتانا .شارم نرس کو کہتے ہوے ای سی یو سے نکلا. نرس اس کی النیس رپورٹ چیک کرنے لگی اور دل میں, اللہ اسے اسکی فیملی سے جلد ملواے آمین. وہ دعا کرتے ہوے بولی.

سر یہ سامان ملا تھا اس کے پاس سے باسط اپنے پولیس افیسر کو دکھاتے ہوے بولا.ایک ریبل کمپنی کی واچ , لھیدر والٹ جو بالکل خالی تھا
ایک گرلز پنڈنٹ جو دکھنے میں ہی اہنی قیمت کا اور پتہ دے رہا تھا بہت ہی نفیس اور خوبصورتی و مہارت سے بنا ہوا شاید پلاٹینم کا بنا ہوا تھا. باسط اس کی معلومات نکالو کس کا ہے. شاید قاتل و ملزوم کا پتہ ملے اس سے . سر جی ویسے عجیب بات ہے صنف نازک اور قاتل باسط زرا سوچنے کے انداز میں بولا.

_____________________

شارم سر شارم سر وہ مری کیا ہوا اسے شارم پریشانی سے ای سی یو کی طرف بھاگا نرس بھی پیچھے پیچھے ہولی. نیم مردہ زندہ لاش بستر پر اٹکے اٹکے سانس لے رہی تھی . شارم نے اسے اکسیجن ماسک لگایا اور نرس کو انجیکشن کا کہا . نرس نے انجیکشن لگایا اب وہ جھٹکے لینا بند کر چکا تھا اور شاید نیم بےہوشی کی طرف جا رہا تھا.
نرس جلدی سے نیوروسرجن کو کانٹیکٹ کریں. اسپیشل اسٹ آچکے تھے اور انکا کہنا تھا کہ ای تھنک اٹز اے نروس بریک ڈاون. بہت چانسز ہے کہ یہ پیرالاءز ہو جاے یا پھر وہ بولتے بولتے رکا ان کی فیملی کہاں ہے انہیں بتا دیں انکی کنڈیشن سیریس ہے مے بی یہ قومہ میں چلے جائیں. ریکوری کے چانسز بہت کم ہیں. اسپیشل اسٹ کی باتیں کسی کے بھی لیے بہت پریشان کن تھیں. ایک انسان زندگی اور موت کی جنگ کے عین بیچ میں تھا . آی ہوپ سو یہ بہتری کی طرف جلد آجائے . اللہ بہتر کرے گا انشاءاللہ نرس اب بھی دل میں دعا کرنے میں مصروف تھی.

___________________­___________
واو ناو ڈیٹز لاءک اے ماڈرن گرل , ناو یو ار لوکنگ کاءک این اکٹریس . عیشال کا نیو لک دیکھ کر انجلین بے ساختہ بولے جا رہی تھی . عیشال ویسے بھی بلا کی خوبصورت تھی ولدین سے اسے ہلکی ہری آنکھیں تیکھے نین نقش والا تراشا یوا چہرہ اور گھنے خوبصورت بال قابل قبول ایشین خوبصورت رنگت جیسی عام طور پر ہماری اکٹریسسز کی ہوتی ہے دبلی ہتلی مگر لمبا قد . کل خوبصورتی کا پیکر . بس تھوڑی سی کمی تھی اب وہ بھی پارلر اور مہنگے لباس و اراءش کے جادو نے پوری کردی تھی.

نقلی پیپرز تیار تھے فیک پروفاءل نام , پیداءش , فیملی سب فیک انجلین اسے گلیمر کی دنیا کی رنگینی سمجھا چکی تھی یہ ایک دھوکہ اور فریبی چال کے سوا کچھ نہیں تم جیسے خود کو دنیا کے سامنے پیش کو گے ویسے ہی اصل سمجھے جاو گے تمہارا ہنسنا رونا سب دنیا کے لیے ہوگا. عیشال کے پاس تین دن تھے پھر اسے ایک مشہور برانڈ کے لیے ریمپ واک کرنی تھی جو اسے لاونچ کرے گا . ویلکم عشما انجیلن طاق کر بولی . عشما عیشال کچھ سمجھی نا تھی . انجیلن نے سویمنگ پول کے نیلے پانی میں ہاتھ زوردار طریقے سے لہرا کر بولی سب سے پہلے نام بدلا جاتا ہے اس دنیا میں راج کرنے کے لیے سمجھ جاو گی تم بھی جلد ہی وہ اندر کمرے میں جانے لگی عشما اسکے گھیلے ہاتھ سے گرتے پانی کے قطروں کو دیکھنے لگی .
وہ بھی اپنی پیر پانی میں لہرانے لگی تھی . ایک سرد آہ بھر کر آگلی زندگی کا سوچنے لگی ریمپ واک, تعریف قہقے روشنی یہ سوچ اسے آسیب کی مانند گھیرنے لگی.

___________________­_____________
آپ ہمت کرو بیٹے .آپ کو خود کو سنبھالنا ہے .کل شفق بیٹا بھی آجائیں گی . امی کے بعد آپ انکا سہارہ ہو وہ تو اماں بی کچھ کہہ رہی تھی وہ اچانک سے ماضی میں خود کو کھوجنے لگی . شفق بہت خوبصورت لگ رہی تھی سنہری ,لال کامدار فراک خوبصورتی سے سجایا گیا جالی کا سرخ دوپٹہ . کندنی زیور خودا اسکی نظر نا لگ جاے شفق شہزادی کو, مشا نے نظر جھکا کر شہزادی کی خوبصورت زندگی کی دعا مانگی اور پیار سے دوبارہ اسے دیکھنے لگی امی بھی پاس ہی مسکرا رہی تھی شاید وہ بھی دعا ہی مانگ رہی تھی. مشایل نے شفق کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوے کہا اللہ تعالی تمھیں بہہہہہہت سی خوشیوں سے نوازے امی نے بھی ساتھ آمین کہا تھا. رمزہ نے اسے ماتھے پر چومتے ہوے کہا بارات اچکی ہے . ابھی کل کینہی تو بات تھی کیسے فہیم کی شادی پر وہ سب کزنز گھوم رہے تھے اور شفق دلہن کے پاس بس بھابھی کرتے نا جانے کیا کیا کہتی جارہی تھی اور اب اسکی باری تھی وقت کو تو جیسے پیر لگے تھی . مشایل نے اب بھی سنہری سفید لباس اور جالی کا سرخ دوپٹہ اور سفید ہیل پہن رکھی تھی بس فرق اتنا تھا پہلے امی کی پسند تھی اور اب کسی اور کی چاہت . انگلی میں چمکتی رنگ جو وہ بار بار گھوما رہی تھی شاید کسی کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی . بظاہر مسکراتی نظر کسی کی تلاش میں مضطرب تھی. ماشاءاللہ کسی مردانہ بہت گہری جانی ہہچانی آواز نے اسے متوجہ کیا تھا. جھمکے چھن چھن ہلے تھے اور

کلای میں پہنی باریک سی سنہری کندنی درجن بھر چوڑیاں بھی کھنکی تھی وہ پیچھے کو مڑی دراز قد, وجہیہ شخسیت اسکی منتظر تھی . اس نے قاتل مسکراہٹ دیکھی اور جھکی شرماتی نگاہ اپنی سفید ہیل اور مردانہ مرون کھوسے کے درمیان جگہ پر رکھے ہلکی سی مسکرا کر بولی ناراض
ہو میں آپ سے . ایک مرتبہ پھر مشایل نے وہی آواز سنی تھی تو پھر اب کیا اس ناراضگی پر ٹیکس لگے گا , ہمیں کتنا ٹیکس ادا کرنا ہے , سوال کرتے ہوے اس نے مشایل کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے تھے.

مشایل کو ماضی کا لمس آج, ابھی بھی معلوم ہوا تھا وہ چونکی تھی اماں بی نے اسکے ہاتھ تھامے ہوے تھے.
اس نے کسی کو شدت سے یاد کیا تھا.

___________________­____________

امبر وہ اب کیسا ہے ,ارم کے ہوچھنے پر پردہ پیچھے کرتے ہوے امبر بولی کون وہ جسے گولی لگی تھی .بہت برا ہوا اسکے ساتھ پیرالاءز یا پھر قومہ یہی کہ رہے تھے وہ تو . شارم نے بتایا ارم نے تجسس سے پوچھا . اممم نرس سے بات ہوی ایمرجنسی تھی شارم بھیا تب فون پک نہی کرتے . اچھا اللہ اسے تندرستی دے ارم افسوس سے بولی . ہا یہی دعا ہے اسکے لیے . بےچارہ امبر کچھ سوچتے ہوے بولی ہوسکتاہ ہے زندہ رہے یا پھر . اللہ سب کو معاف کرے ہدایت دے سب کو ناجانے کون ہے , کیسے ہوا یہ سب اس کے ساتھ ہم تو بس دعا ہی کرسکتے .امبر کہتی جا رہی تھی اور ارم افسوس کر رہی تھی .
یار میری پروفایل بنای تھی نا تم نے 18/20 مارکس ملے مجھے . میم کو وہ پسند ای بہت اب تم ہی مجھے بنا کر دیا کرو گی ہر بار . امبر زرا چہک کر رعب دیکھاتے ہوے بولی. امبر مجھے جاب ملی ہے میکال تھا نا میرے ساتھ اسکے تھرو اسکے کسی رشتہ دار کے پاس ایز اے اکاونٹنٹ . اور ریسیپشن اسٹ کی بھی ویکینسی ہے تم کہو تو بات کرو تمہاری بھی. امبر مان گی اسے بھی اکسپیرینس چاہیے تھا اور یہ اچھا موقع تھا . لوکیشن بتاو امبر نے ہامی بھرتے ہوے پوچھا . اچھی سیلری ہے اور سروسز بھی ساتھ فری ہے کاف ساری تو ارم نے جوش سے بتایا . اوکے ہے پھر تو دیر کیسی . ایک مرتبہ پھر سے کمرہ سکوت تھا امبر ارم پھر سے اس زندہ لاش کا افسوس کرنے لگی تھی .

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: