Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 5

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 5

اسپیشل اسٹ نے رپورٹ دیکھی ہے ان کا کہنا ہے گولی سے بیک بون کو بھی نقصان ہوا ہے جسکی وجہ سے عین ممکن ہے انکی ٹانگیں کبھی نہ ہل سکیں یہ معزور ہو چکے ہے اور شاید شدید صدمے سے یہ عارضی طور پر یادداشت بھی کھو دیں . نرس سارہ افسوس کے عالم میں ساتھی نرس کو بتا رہی تھی . میں انکی کیر کر رہی ہو شاید کہ وہ ای سی یو والا پیشنٹ بہتر ہو جاے مگر چانسس کم ہے . نرس نایاب جنکی ڈیوٹی اسکن وارڈ تھی بولی ہم بھی کتنے ہی ایسے پیشنٹز کو کیور کرتے اب ہر ایک کو بچانا ہمارے بس میں ہے تو ہے نہی ہم تو صرف دل سے تندرستی کی دعا ہی کرسکتے ہے اللہ بہتر جانتا ہے وہی تو دل کی مراد بر لانے ولا, دعا قبول کرنے والا ہے .
___________________­___________________

دھیان سے شفق کو یہ بہت پسند ہے وہ چیری ونیلا کیک پر رکھتے ہوے پاس رکھی چیز میکرونی کو دیکھتے ہوے بولی جو ربیہ (نوکرانی) باول میں سجا رہی تھی مشا نے شفق کے لیے بہت اہتمام کیا تھا اس کی پسندیدہ ایک ایک چیز بنای تھی .اس کی آنکھیں نم تھی وہ پرانے دن یاد کرتے ہوے بولی امی ہمیشہ شفق کی پسندیدہ چیزیں بناتیں جب بھی وہ فرماءش کرتی, آج امی کی کمی نہ ہو اسے . دو آنسو اسکے چہرے سے ہوتے ہوے چہرے کے گرد نفاست سے لپیٹے اسکارف میں جزب ہو گیے. شفق پلاو کی شوقین تھی بیف پلاو .اس نے
کتنی چاہت سے بنایا. سب کچھ ڈاءننگ ٹیبل پر سجانے کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا . شفق اور ارحان صبح کی فلاءٹ سے کنیڈا سے کراچی پہنچے تھے . شادی کے بعد سے ہی وہ لوگ کنیڈا سٹ ہوگیے تھے پچھلے سال امی کے ساتھ وہ چاروں حج پر گے تھے . اور اب وہ صبح ہی قبرستان فاتحہ پڑھنے گے تھے اب بھی چاروں ساتھ تھے مگر معاملات کچھ اور تھے . مشا تو پچھلے چار ہفتوں سے روزانہ قبرستان جاتی امی سے ڈھیروں باتیں کرتی اور گھنٹوں وہاں قبرستان کے باہر اپنی کار میں بیٹھے بیٹھے روتی رہتی. وہ امی کی چہیتی تھی ہر بات ان سے کہتی تھی اپنے راز بلکہ دن بھر کی ہر بات کبھی کبھی تو امی بھی تنگ اکر کہتی بس کردو کتنا بولتی ہو تم . شاید وہ امی کے جانے سے پہلے ان سے ہر بات کہہ دینا چاہتی تھی.

Read More:  Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 4

شفق جامنی رنگ کی اونچی فراک ,کیپری اور کالے رنگ کی شال شانے پر بکھراے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی . وہ دوپہر کے کھانے کے بعد زرا ڈراءونگ پر نکلے تھے تا کہ مشایل کا بھی دل بہک جاے پچھلے کچھ مہینے بہت ازیت میں گزرے تھے . دو ہفتے تو مشایل نے جیسے سکتے میں گزارے تھے کمرے میں بند رہ کر
.____________­_________________

عشما دن رات فیشن کے گر سیکھنے میں گزار رہی
تھی . وہ واقع بہت اچھی طرح اس نی دنیا میں رچ بس گی تھی . اب تک شاید ہی اس نے غلطی کی ہو جیسا جیسا انجلین سمجھاتی وہ کرتی جاتی.

ویری گڈ عشما یو ار ڈوننگ ریلی گڈ. ماروالس ڈیر .
وہ اسے شاباشی دے رہی تھی خود اسے بھی تو کتنی مشکل ہوی تھی شروع شروع میں مگر یہ تو کمال تھی . ایرر لس جسے کل تک یوزلس کہا جارہا تھا اس نے اپنا وجود منوا لیا .

سچی لگن اور کچھ کر گزرنے کا جنون عشما میں بھرپور طریقے سے رچا بسا تھا یہی وجہ تھی کہ انجلین کو مات ہوی.
اب تک عشما کو بہت کچھ سکھا دیا جاچکا تھا کس طرح کون سا کام کرنا ہے کیسے لوگ فیس کرنے ہے اور کس طرح خود کو منوانا ہے .

وہ سبھی چال ڈھال سیکھ چکی تھی اب اسے کل کا انتظار تھا جب اس کے لیے نی دنیا کا پہلا سورج طلوع ہوگا.
عشما راج کرنے کے سپنے لیے دن بھر کی تھکا دینے والی جدوجہد کے بعد نرم ملاءم بستر پر نیند کی وادی میں پہنچ گی .

انجلین میکال کو اس پوری داستان کی تفصیلات دینے میں مصروف ہو گی .
کل تک اس کا سارا وارڈ روب بھی اجانا تھا میکال نے اس کے لیے نیو بنگلہ , کار , نوکر چاکر سب جا انتظام کر رکھا تھا بس کل اسے وہ سب کچھ ملنا تھا جسکی اسے خواہش تھی ہا مگر وہ کمیاب ہوی تب .

Read More:  Bloody Love Novel by Falak Kazmi – Episode 14

میکال اپنی چال چل چکا تھا اب مہرے پر انجام کی تمام تر زمہ داری تھی کہ وہ کیسے اچھے طریقے سے نبھاے یا تو منہ کی کھاے یا جیت کا جشن مناے .
عشما پر تو اب سے ہی جیت کا خمار چھایا ہوا تھا جو کہ کچھ بھی رنگ لا سکتا ہے .

اچھا یا برا .
___________________­______________

شفق واپس جا چکی تھی ایک بار پھر سے مشا اکیلی بیٹھی تھی سوچوں میں گم سم سی.
وہ پھر سے ان حسین یادوں میں کھو گی .

وہ چھ فٹا اس کا ہاتھ تھامے دھیرے سے سرگوشی کر رہا تھا گو کہ کوی اور یہ نہ سن لے …. وہ آہستہ آہستہ دبی دبی سانس لیے کہہ رہا تھا…
“وہ جب ناراض ھوتی ھے ؛

میں اکثر اس سے کہتا ھوں ؛
ہزاروں عیب ہیں مجھ میں ؛

تو رشتہ توڑ لو نہ تم ؛
مجھے پھر چھوڑ دو ناں تم ؛

وہ کچھ لمحے تو بالکل ؛
چپ سی ھو جاتی ھے ؛

امڈتے اشکوں کو اپنے ؛
چھپا کر پلکوں کے پیچھے ؛

دَبا کر درد سینے میں ؛
بڑے ھی پیار سے ؛

بـے ربط لہجے میں ؛
میرے ہاتھوں کو ؛

اپنے ہاتھ میں لے کر ؛
تھپکتی ھے ؛

وہ کہتی ھے ؛
دوبارہ ہجر کی باتیں ؛

نہ کرنا تم ؛
میرا دل ایسی باتوں سے ؛

دھڑکنا بھول جاتا ھے ؛
میری سانسیں اٹکتی ہیں ؛

زمیں رکتی ھوئی ؛
معلوم ھوتی ھے ؛

میری جاں سوچ کر دیکھو ؛
کبھی ایسا جو ھو جائے ؛

زمیں چلنے سے رک جائے ؛
تباہ ھو جائے گی دنیا ؛

نہ دن سے رات ھو گی ؛
اور نہ کوئی رُت ھی بدلے گی ؛

جدھر نظریں اٹھیں گی پھر ؛
بیاباں دشت ھی ھو گا ؛

میری جاں یاد رکھنا تم ؛
میں زندہ ھوں ؛

فقط جو ساتھ ھے تیرا ؛
رہیں سانسیں میری چلتی ؛

ضروری پیار ھے تیرا ؛
میں یہ بھی جانتی ھوں کہ ؛

Read More:  Khoj Novel by Zeeshan Ul Hassan Usmani – Episode 10

ذرا ھوں تیز غصے کی ؛
مگر تم ھو جنوں میرا ؛

یہ ھے معلوم تم کو بھی ؛
ھو حاصل زندگی کا تم ؛

چلو مانا کہ تم کو چھوڑ دیتی ھوں ؛
میں رشتہ توڑ لیتی ھوں ؛

مگر ۔ ۔ ۔ بولو ؛
میرے بن رہ سکو گے تم ؛

نہ کوئی خواب ٹوٹے گا ؛
لبوں پہ درد کا نغمہ نہیں ھو گا ؛

میں سن کے ساری باتوں کو ؛
بہت حیران ھوتا ھوں ؛

کہ میری کیفیت سے
کس قدر ھی آشنا ھے وہ ؛

میں سر اپنا خاموشی سے
لگا کر اس کے کاندھے سے ؛

میں آنکھیں موند لیتا ھوں
مجھے پھر دیکھ کر ؛

وہ یوں مسکراتی ھے
اُسے اپنے سوالوں کے

سبھی جواب مل گئے ھوں جیسے…..”
وہ سب مشایل کے زہن میں گونجا تھا . وہ اس لمحے اس سے ناراض تھی اور اب شرمای شرمای اس سے پوچھ رہی تھی.

یہ کب یاد کیا, شعروشاعری تو سر کے اوپر سے گزرتی ہے نا …. ایک مرتبہ یہی کہا گیا تھا مجھ سے تو.
وہ اب کے مسکرایا تھا مگر کچھ سوچنے کے انداز میں.

کچھ لمحے پہلے کی ناراضگی اب ہوا ہورہی تھی.
وہ واپس اپنے کمرے میں موجود تھی شادی کا سما ہوا ہوچکا تھا . اس نے مۃتھے کو ہلکا سا مسلا پھر مسکراتی مسکراتی کہنے لگی….

میری جاں یاد رکھنا تم ؛
میں زندہ ھوں ؛

فقط جو ساتھ ھے تیرا ؛
رہیں سانسیں میری چلتی ؛

ضروری پیار ھے تیرا ؛
وہ پھر سے اسی کو دہراتی گی .

فقط جو ساتھ ھے تیرا ؛
فقط جو ساتھ ھے تیرا ؛

ضروری پیار ھے تیرا ؛
اسکا فون بجنے لگا تھا دوسری جانب کوی انجان بندہ تھا اس نے پہچانا نہی .

کون وہ پریشان سی بولی.
مس مشایل رفیق .

جی کون .
پولیس تھانے سے باسط .

اس نے گھبرا کر فون پاور اف کر دیا . وہ برے طریقے سے کانپ رہی تھی پسینے سے شرابور . دماغ چکرا رہا تھا وہ بے ہوش ہو گی .

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: