Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 6

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 6

نروسنس اس کے سر پر سوار تھی . اف اسکے دل نے ایک عجیب سی ہلچل مچای ہوی تھی وہ ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی .
اس کا نام پکارہ گیا مس عشما شاہ ایک پل کو اس کی سانس رکی پھر قابو پاتے ہوے وہ سامنے کو دیکھتی پر اعتماد طریقے سے ریمپ واک کرنے لگی .

جیسے وہ پچپن سی یہی کام کرتی ہو مہارت و دلکشی کی دیوی بنی سجی سنوری وہ اور بھی دلکش و دلفریب لگ رہی تھی .
پستہ کلر کی میکسی پہنے جو گز بھر پیچھے زمین پر بکھری اس کا تعاقب کر رہی تھی .

لمبے بال کمر تک بکھرے تھے .
دلکشی کی مورت بنی وہ چار انچ کی ہیل پہنے ننھے ننھے قدم لیتی ریمپ پر ادا سے چل رہی تھی گویا دیکھنے والے فدا ہورہے تھے .

کیمرے سے نکلتی روشنی چہرے کو جگمگا رہی تھی اطراف سے کہی بنا جھکتی ایک نگاہ اسے پریشان کر رہی تھی .
وہ ہی وجاہت کا پتلا میکال اسے دیکھے جا رہا تھا مگر اس بار مشا کو کچھ اپنانیت سی لگی تھی میکال کے چہرے پر مسکان تھی جو اس ہمیشہ دکھنے والی ترچھی مسکان سے بالکل الگ تھلگ تھی .

اسکی سانس تھمنے لگی تھی .
وہ واپس کو چل دی اب تک کچھ سو دوسو تصویر تو اتر چکی ہوگی .

ہر طرف سے کیمرہ مینز اس کی تصویر لے رہے تھے فلیشز کی چکا چوند سے پرے وہ میکال کا بدلا بدلا انداز اسے اب پریشان کر رہا تھا.
پردے کے پیچھے انجلین تھی جو اسے گلے ملتی مبارکباد دے رہی تھی . واو امیزنگ .

(Wow amazing)
یو ار فیبولس

(You are fabulous)
بہت عمدہ .

اسکی زبان رکنے کا نام نہی لے رہی تھی
انجلین بولے چلی جا رہی تھی اور عشما کہی اور گم تھی .

___________________­______________

مشایل دھیرے دھیرے پلکیں جھپکا رہی تھی اس نے اردگرد کا جاءیزہ لیا سب کچھ انجان سا تھا

دھیمے دھیمے سانس لیتا وجود واپس اپنے اصل میں پہنچا. ڈاکٹر اور ایک پاس ہی تھے اسکی پلس بہت دھیمی تھی .

سر

نرس ڈریپ اتارے ہوے بولی
پلس تو اب تک لو ہے .

وہ زرا پریشان تھی .
کتنی

سر 64
ادھر ادھر دیکھتے ہوے بولی.

(Don’t worry that pulse rate is normal)
.ڈاکٹر کے کہنے پر اسے سکون سا ملا

مشایل زرا زرا ہلنے لگی جیسے کافی دیر سے ایک ہی جگہ پر ہو . پلیز ریلکس ڈاکٹر اسے بستر پر ہی رہنے کا کہہ رہا تھا . اس نے ایک جانا پہچانا سا لہجہ سنا تھا.

وہ چہرے کی طرف متوجہ ہوی .
یہ اپ . اپ تو .

یہا کیسے مجھے بتایا بھی نہی اور .
وہ بے تکے جملے کہتی گی

وہ زرا مسکرایا تھا.
اپ مسکرا رہے ہے .

وہ ناراضگی کا عالم واللہ .
وہ شرارت سے بولا جسکی ایسی پیاری بیوی ہو جو ناراض ہو کر اور بھی زیادہ پیاری لگے وہ مسکرات گا .

وہ چھینپ کر چپ ہوگی اور اسے دیکھے گی .
اچھا سوری معاف کردو پلیز .

وہ معصوم سا ہوکر بولا .
اگر کسی نے مجھے سن لیا تو کہے گا زن مرید ہے وہ بےچارگی سے بولا .

ناراضگی کی جگہ اب ایک قہقہا تھا.

بڑے ھی پیار سے وہ اسے دیکھ رہا تھا .
دروازہ ناک ہوا .

کون .
اس نے پوچھا

باہر نرس سدرہ تھی
سر

وہ کچھ پروگرس ہوی ہے .
وہ فورا سے باہر کو گیا .

مشا سفید روم ,سفید بستر سفید کمرہ , انجانی نگاہ سے چھت کو دیکھے گی .

___________________­______________

سر وہ انہے ہوش اگیا ہے
نرس تقریبا پیچھے پیچھے بھاگتے ہوے بولی تھی

رءیلی
وہ دروازہ کھولتی ہوے بولا

سامنے وہ جسکے پیرالاءیز اور قومہ کے چانسز تھے پھر سے زندگی کی طرف واپس ایا تھا
ہاتھ کی انگلی جنبش کر رہی تھی .

پلکے جھپکتے ہوے وہ سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا . اس پاس کے شور سے انجان وہ اب بھی کسی نشے کے زیر تھا.
ڈاکٹر پوچھ رہا تھا بی پی

نرس بلا تسلسل جاب دیتی گی .
80/120 نارمل

ہارٹ بیٹ
70-72

پلس
70

ٹمپریچر
99°F

ڈاکٹر نےٹارچ لاءٹ سے انکھ کی پتلی دیکھی .
ہوش اگیا ہے مگر مکمل نہی .ڈاکٹرشارم بھی ای سی یو پہنچ چکے تھے .

ہیلو جی باسط .
شارم پولیس کو بلا رہا تھا تاکہ وہ اکر

اپنا کام کرے .اب تک اسکا کچھ اتا پتا معلوم نہی ہوسکا تھا . شارم اپنی زمہ داری پوری کر رہا تھا.

___________________­__________

شاہ ویز جانے دو مجھے . پلیز ایک بار ملنے دو .
نا اسکے پاس وقت ہے نا میرے پاس سمجھو پلیز .

تہمینہ رورو کر التجا کر رہی تھی.
شاہ ویز پلیز اب کے وہ اسکے پیر اپنے ہاتھ سے تھامے ہوے تھی . پلیز شاہ ویز اس بار . ایک بار دیکھ لینے دو اسے .

شاہ ویز کمرے سے نکلنے لگا تھا وہ اسکے سامنے ای چہرے پر بہتے پانی کے قطرے گرتے جا رہے تھے .
بابا جان ہوتے تو جانے دیتے مجھے .

ہا شاید .مگر وہ بابا جان ہے اور تم شاہ ویز کی منت کر رہی ہو .
وہ اب کے پہلی بار بولا تھا اسے دھکا دے کر پرے کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا

نفرت ہے مجھے تم سے وہ چلای تھی

ہر کسی میں احساس نہیں ہوتا ۔

اس لیۓ گرتے آنسو بھی انھیں پانی کی مانند لگتے ہیں

شاہ ویز پر نا اسکے چلانے کا نا ہی رونے دھونے کا کوی فرق ہوا تھا . وہ بھی تو اسکا ہی بھای تھا اس کے جیسا سنگدل اور دوسرے کی مجبوری بےبسی پر ہنسنے ولا .
کمرے کے باہر دو اسلہہ بردار تھے جنہے تہمینہ کو مار دینے کی اجازت تھی اگر وہ باہر گی تو.

تہمینہ دروازے کے ساتھ لگی سسک رہی تھی

___________________­_____________

عشما جلدی کرو جانا ہے .
انجلین نے عشما کو کار کی طرف لے جاتے ہوے کہا .

پر کہا عشما چونکی .
مسسز روہاب کے ساتھ لنچ پر بھول گی .

اوہ مجھے بالکل یاد نہی رہا .
عشما کچھ بھی بھول جاے قطعی نہی .

وہ اپنی کمعقلی پر افسوس کرنے لگی.
کچھ نہی ہوتا ایسا ہوجاتا ہے ہم کہی اور لگ جاتے ہے اور کچھ اہم بھول جاتے ہے . انلین گویا طعنہ دے رہی ہو مگر اسکی نیت صاف تھی

. عشما کا منہ بن چکا تھا
یہ کون ہوتی ہے مجھے سیکھانے والی اب تو یہ بھی میری ہی کلاس لے گی پہلے ہی میکال کم تھا . کار زن سے اگے کو بھاگی .

ہا میکال وہ کہا ہے عشما سوچتے سوچتے پھر سے میکال تک جا پہنچی تھی .
جتنا منع کرتی اتنا اس کی طرف کچی چلی جا رہی تھی مانا کے وہ

handsome ہے
Dashing ہے.

ہا کوی بھی اسے پہلی ملاقات سے ہی چاہنے لگے گا
مگر اتنا سر پر تو کوی بھی سوار نہی کرےگا .

عشما اپنے اپ سے مزاکرات کر رہی تھی مگر وہ ناکام ہی رہنے والی تھی اس سے انجان تھی .
چلو انجلین نے اسے بازو سے کھینچا تھا . وہ کافی دیر سے اسے بلا رہی تھی مگر عشما گم سم تھی اس نے تنگ اکر اسے کھینچتے ہوے بولا

یار ہوش کیا کرو کہا کھو جاتی ہو .
عشما پھر سے منہ بنانے لگی . اف ایک تو یہ عزاب جان کے پیچھے ہے .

ہممم
___________________­__________________

امبر کیسا لگا پہلا دن کوی مسلہ تو نہی .

ارم نے چہکتے ہوے امبر سے پوچھا جو اج پہلے دن جاب پر ای تھی .
نہی ایسا کچھ تو نہی بس پہلا دن ہے نیو اکسپیرینس

وہ بھی جوابا چہکی .
کسی سے ملی بات جیت ہوی تمہاری . امبر سوچ کر بولی .

ہا بس ارم نے اہ بھری تھی نیو لوگ ہے پہلے والے کتنے اچھے تھے فواد,رمشا,میکال,امجد­ سب کو یاد کر رہی ہو .
پرانی جاب کا سب کچھ اسے یاد ایا . چہرے پر مسکان پھیلی . اور سر سرمد . اف منہ بناتے ہوے بولی .شکر ان سے جان بچی . امبر نے قہقہا لگایا.

وہ لنچ کرنے باپر نکلی تھی .لنچ بریک کچھ لمبی تھی سوچا کیا ادھر ہی رکنا گھوم پھیر اتے ہے .
وہ پاس کی بیکری پر تھی کیک پیس کھاتی ہنس بول رہی تھی.

عجیب . دکان والا گھور رہا تھا . ارم کا پارہ گرم ہو رہا تھا وہ پاس جا کر مہزب طریقے سے بولی پہلی بار دیکھا ہے گھر پر کوی عورت نہی . شرم کرو اپنی بہن کو بھی انہی گندگی بھری . وہ شرمندہ ہوکر چپ ہوی مگر دکاندار بےشرمی کی انتہا پر تھا .
امبر اسے وہا سے چلنے کا کہہ رہی تھی .

نہی اسے سبق سیکھانا چاہیے .
وہ اب تک گھور رہا تھا بلکہ اب تو عجیب عجیب شکلے بنا رہا تھا . ارم نے ایک زوردار گونجتا ہو ا

تیز غصے سے
تھپڑ مرا .

اب عقل درست جگہ اچکی ہو گی .
وہ غصے سے غرای .

چلو امبر وہ اسکو بازو سے تھامے بیکری سے نکل گی جاتے جاتے وہ کیک پیس جو اس نے شوق سے لیے تھے وہ بھی وہی رکھ گی.
وہ اب بھی غصے سے کہہ رہی تھی ایسے لوگ تو اس معاشرے کو بدنام کرتے ہے . کرے کوی بھرے کوی کیو چپ رہو جب زیادتی ہو تو اپنے لیے بولو چپ ہی انہی اور بےشرم بناتی ہے . امبر سمجھنے کے انداز سے گردن ہا مے ہلا رہی تھی .

ارم بولتی جارہی تھی . وہ ایک پل کو چپ ہوی ہی تھی کے پاس سے باءیک چلاتا ہوا ایک بندہ بولتا ہوا گزرا
چلو گی جان من

.
ارم نے اپنی پانی والی بوتل اسے دے ماری وہ اگے جا کر پیچھے دیکھتا ہوا انکھ مار کر ہنس رہا تھا .

ارم نے سوالیا سا امبر کو دیکھا کہ پوچھ رہی ہو دیکھا تم نے . عجیب گندگی بھری ہوی ہے لوگو کے زہن مے .
اس کا بس نہی چل رہا تھا کہ بری نگاہ نیت سے دیکھنے والو کی گردن الگ کر دے .

اسنے ایسا کوی عجیب لباس بھی زیب تن نہی کیا تھا نا ہی تھوپ تھوپ کر دو کلو میک اپ کیا ہوا تھا جو اسے ایسی گندگی دیکھنے کو مل رہی تھی.
وہ امبر کی نگاہ کے تعاقب مے دیکھنے لگی جہا سامنے دو بندے پاس سے گرتی عبایا پہنے تین چار عورتو کو ماشاءاللہ, کہہ کر گھورنے مے مصروف تھے .

لو بھای یہ معاشرے کیسے سدھرے گا جہا اسلام کی شہزادیا بھی ہوس بھری نگاہو سے بچ نا سکے . وہ بےبسی سے چلا کر رہ گی .
مایوسی انتہا پر تھی دونو نے ایک دوسرے کو دیکھا اور شرمندہ سی واپس جاب پر جانے لگی لنچ بریک کا اگرچہ ابھی بہت وقت بچا تھا.

___________________­__________________

اب کیسا ہے یہ

باسط افسر کو جواب دیتے ہوے بولا کچھ کہہ نہی سکتے سرجنز تو یہی کہہ رہے ہے ہوش ایا ہے بات جیت نہی کر رہا .دیکھنے مے تو نارمل ہے شاید یادداشت کھو چکا ہو .
اچھا اس کا کیا نام تھا نیک لیس والی کا.

سر مشایل رفیق .
باسط یاددہانی کراتے ہوے بولا .

مشایل بی بی کہا ہے .
سر وہ انکے گھر گیا تھا پتہ چلا طبیعت نہی درست تھی بے ہوش ہو گی تھی .

اچھا ایسا کیو .
مجھے کیا معلوم امیر لوگ کیا پتہ کب کیا ہوجاے انہے .بھلے چنگے ہوتے ہے پولیس کا نام سنتے ہی بیمار .

ہاہاہا تیری بات ہی اور ہے باسط گجر .
باسط گجر وہ اپنے نے نام پر بےچارگی لیے منہ بنا رہا تھا . گجر اور کوی زات نہی بچی تھی. وہ سوچنے لگا.

اوے تم تو مشایل کے گھر ملے تھے مجھے . باسط نے شاید مشایل کے شیف جو دیکھ کر بولا تھا . جی ملا تھا وہ مشایل بی بی کو یہا لاے ہے . انکی طبعیت .

ہا معلوم ہے کہا ہے تمہاری مشایل بی بی . باسط پوچھ رہا تھا . وہ اس کمرے مے .
شیف نے اشارہ کر کے بتایا.

نرس کیسی ہے اس کمرے والی کی طبعیت اب ہمیے کچھ تفتیش کرنی ہے . نرس سدرہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جیسے کسی کو تلاش کر رہی ہو . بہتر ہے مگر اپ مل نہی سلتے .
بہتر ہے نا چلو کچھ نہی بس بات ہی کرنی ہے ہمے تو

سدرہ روکتی رہی مگر وہ دروازہ کھول چکے تھے .
ہیلو مس مشایل .

وہ باہر لان کو دیکھتی ہوی چونکی
ہمنے کچھ پوچھنا تھا اپ سے.

وہ سہمی جا رہی تھی . کانپ رہی تھی . گویا سامنے کوی اسے مارنے ایا ہو
وہ دہشت کے عالم مے ہاتھ چہرے پر رکھے چلانے لگی .

اچانک دروازہ کھلا پولیس والے بوکھلا گے.
وہ مشایل کی طرف ہوا مشایل اس کے گلے لگی رو رہی تھی . وہ اب بھی کانپ رہی تھی.

پولیس والے کمرے سے نکل چکے تھے . وہ مشایل کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا.
کچھ نہی بس بس چپ

دیکھو مے ہو . مجھے دیکھو چپ.
وہ اس کو اپنی طرف دیکھنے کا کہہ رہا تھا .

بس یے کو پانی پیو.. ہمت کرو کچھ نہی ہے .
مے یہی ہو تمہارے پاس .

.
سر اصل مے میری مسز کی موم کو کچھ پولیس یونیفارم مے ملبوس لوگو نے اسکے سامنے گولی ماری تھی جس سے انکی وفات ہوی وہ پل بھر جو رکا ابدیدہ نم انکھے پونچھی پھر کہنے لگا میری مسز کی ہفتو تک کمرے مے بند رہی ہے وہ پولیس سے .

جی جی ہم سمجھ رہے ہے . بس ہمے دو تین سوالات کے جواب چاہیے بس .
جی سر مے .

وہ سمجھانے کے انداز مے بولا .

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: