Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 7

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 7

کچھ نہی بس یہ لوگ ایک دو سوال پوچھے گے
مے تمہارے پاس ہی ہو .

مشا اب تک کانپ رہی تھی . وہ نگاہ چھکاے کمرے کے سفید بستر پر اسی جگہ جمی رہی .
مشایل بی بی اس نیک لیس کو پہچانتی ہے اپ.

باسط ہاتھ مے نازک سا بہت ہی قیمتی سا نیک لیس لہراتے ہوے بولا.
مشا نے بند جھکی نگاہ نیک لیس پر جما دی یہ اسی کا تھا .

بہت اچھے سے یاد تھا اسے , گزرا کل اس کے سامنے زہن کے پردے پر نمایا تھا ایک فلم کی مانند لہراتا جا رہا تھا.
بی بی یہ

باسط پھر سے پوچھنے لگا تھا.
ہا وہ چلای تھی.

کانو پر ہاتھ رکھے پانی کے دو قطرے اس کے چہرے پر پھیلے تھے . پلک پر چمکتے موتی ایک ایک کر کے گرتے گے.
وہ اسے چپ کروا رہا تھا .

.تو پھر یہ وجاہت شاہ کے پاس کچھ سمجھے نہی کیسے وہ سوال کررہا تھا .
ہمارے گھر پولیس یونیفارم مے کچھ لوگ اے تھے انہو نے بہت کچھ ہماری قیمتی چیزے

میری امی سب کچھ . وہ سب کچھ لے گے
.

اس نے چہرہ ہاتھ سے چھپا لیا بھیگا چہرہ ,روتی مشایل پرانے کل مے ہنستی مسکراتی امی سے چپکی تھی انہے چوم رہی تھی.

امی اس سے بات نہی کر رہی تھی . امی جان پیاری امی جان وہ بارہ سالہ بچی امی کو منا رہی تھی .
پیاری امی اچھی امی مان جاے نا پلیزززززز

وہ سر لگا لگا کر گنگنا رہی تھی .
امی بھی شاید مسکرا رہی تھی .

نہی امی جان کر بولی تھی
امی مشا سے بات نہی کر رہی امی صرف میری امی ہے . شفق اور امی . شفق بھی امی جان کے بازو سے چپکی تھی .

جاو جاو اپ تہمینہ کے ساتھ جاو . امی کو بنا بتاے مشا اج اسکول کے بعد تہمینہ کے گھر گی تھی . یہ پہلی بار تھا کہ اس نے امی سے کچھ چھپایا تھا .
ورنہ تو وہ بےتکی بات بھی اکر امی کو بتاتی تھی.

وہ کھوی کھوی بولی وہ یہ بھی کے گے تھے . باسط نے ساتھی پولیس والے کو دیکھا کے گویا وجاہت شاہ کا ہاتھ ہو اس چوری کی واردات مے . مگر مشا نے نفی کر دی ..

نہی یہ میری .
وہ رکی اور کوی بھی بات سوچے بنا پی بولی .

دوست نہی بس صرف تہمینہ نے یہ سب رچایا تھا چوری, قتل ,لاش, لال فرش, دم نکلتا ترپتا بدن بانہو مے بےجان زندگی وہ ہچکی باندھے رو رہی تھی گلے مے درد کا گولہ تھا
سب اس.

وہ رکی لمبی سانس لی
وہ پھر سے جھکی بند نگاہ اندھیرے مے کھوی سی بولنے لگی

تہمینہ قصوروار تھی مے نے معاف کردیا اسے امی کے قاتل کو معاف کردیا .
ہچکی کمرے مے گونج رہی تھی.

باسط اپنے ساتھی کے ساتھ کمرے سے نکل رہا تھا .شارم نے انہے باہر بلایا تھا

___________________­____________________­

عشما .
مسسز روہاب پیار سے اسکا گال سہلاتے ہوے ایک نگاہ اسکا جاءیزہ لیتے ہوے بولی .

عشما یہ مسسز روہاب ہے انہو نے ہی مجھے بھی اس دنیا مے متعارف کروایا تھا
میری پہلی واک سے لے کر پہلی فلم تک صرف اور صرف مسسز روہاب کی ہی شکرگزار ہو مے .

مسسز روہاب زرا اتراتے ہوے مسکرای تھی.
وہ پکی عمر کی عورت تھی مگر مجال ہے کہ نکھرا کم ہو . سلیو لیس کرتی اور کھلا فلاپر ساتھ تین چار انچ کی ہیل .

واہ
عشما انکی عمر اور ادا پر شرارتی سی ہنسی .

کندھے تک بال مرون کلر مے رنگے تھے اور گلے پر تین الگ الگ نگینے اوپر تلے لگے نازک سا لیک لیس تھا جسے وہ دو انھگلیو سے گما رہی تھی .

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 54

کم ان .وہ ہیل کا شور بکھراتی ہوی اگے لاونچ کو چلی تھی .
انجلین عشما کو بازو سے تھے اگے کو چلنے لگے.

وہ صوفے پر براجمان گھر کا جایزہ لگا رہی تھی.
ہا کافی امیر ہے, باہر پانچ نہی چھ چھ کار اور گھر مے مہنگا فرنیچر واہ .

عشما رشک کرنے لگی . ہممم اب تو میری بھی ایسی ہی موج ہوگی ,نوکر چاکر ناز نکھرے.
روپے پیسے کی ریل پیل , عزت شہرت.

عزت
عزت

وہ زیرلب دہرای گی .
نگاہ جھک گی اشک ابھرے . پلکے چمکی . موتی گرے .

عزت تو صرف اللہ تعالی کی دین ہے
روپیہ پیسہ تو صرف ہماری سوچ ہے

شہرت یا عزت .
وہ سوچ مے گم تھی

کیا ہوا عشما.
انجلین نے اسے ہلایا کہا گم ہو

تم رو رپی ہو .
عشما دیکھو مجھے کیا ہوا.

یہ اسکی پرانی عادت تھی بولتی ہی جاتی تھی.
عشما نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی .

نہی کچھ بھی تو نہی .
عشما تم رو رہی ہو . اور کہتی ہو کچھ نہی. .

بتاو مجھے . انجلین زور دینے لگی
وہ بس مجھے امی یاد اگی . عشما بہانہ بناتے ہوے بولی .

نی زندگی نے لوگ مگر امی ابو ہمیشہ یاد اتے ہے مجھے بھی.
انجلین بھی اندیدہ تھی .

مسسز روہاب کچھ پیپرز سامنے میز پر رکھ رہی تھی.
ان پر ساءین کرنا ہوگے تمہے .

تمہارے کیریر کا سب سے اہم کام تمہارا پہلا سیریل یا پھر فلم ہوگی . تم بتاو کیا چاہو گی تم
.

وہ کھوی کھوی سی بولی .
عزت .

ہا مجھے عزت چاہیے.
انجلین اسے گھور رہی تھی . اس نے ہاتھ چہرے پر رکھا اور اپنی نگاہ جکھاے اپنے پیر دیکھنے لگی گو کہ یہ بہت ہی کم کا سودا ہو .

.
اللہ اللہ اللہ

اسکا زہن کہی گم کسی گہری سوچ مے تھا.

___________________­____________________­

امبر وہ کمرے مے کچھ تلاشتے ہوے بولی .

دوپہر کا سوچ رہی ہو .
ہمم

امبر مایوس سی بستر پر دبکی تھی .
مت سوچو ازیت ہو گی ارم گلے پر ہاتھ رکھے بول رہی تھی البتہ اب تک کچھ تلاش رہی تھی .

ازیت .. واقعی بہت ازیت ہے . سوچو انہے شرمندگی کیو نہی ہوتی جو ایسی سوچ رکھتے ہے .
امبر نے چہرے پر تکیہ رکھتے ہوے بولا .

اونہہ سنو نا ہم نہی جاے گے کل سے ادھر . مے نے میکال کو منع کردینا ہے .
ارم چھت کو گھور رہی تھی.

اس سے کیا ہو گا . ایسے لوگ ہر جگہ ہے. .ے نے وہ گندگی اپنے وجود پر دیکھی ہے جانتی ہو ارم وہ جب مجھے دیکھ رہا تھا مے کلمہ دہرا رہی تھی .
میرا تن من کانپ رہا تھا .

مے , مے .
وہ رونے لگی تھی .

گلے مے درد کا گولہ لیے وہ کچھ کہتے کہتے رک گی .
امبر مت دہراو وہ سب .

وہ کان ہاتھ سے بند کر رہی تھی پورا وجود کانپا تھا . اس نے وہ سب پھر سے اپنے سامنے دیکھا
گھورتی گندگی بھری نگاہ .

وہشت .
وہ سب.

اس نے انکھے میچ لی .
.

امی
امبر دروازے کو لپکی تھی .

امی چونک کر اسے دیکھ رہی تھی . اسے کیا ہوا .
انہو نے ارم کی جانب دیکھا وہ بھی عجیب سی نگاہ چھت پر جماے تھی .

اج جو بھی ہوا وہ بہت برا تھا . گناونا . اسے الجن ہورہی تھی . اس پر جیسے کوی بوجھ ہو . قہ اس کیفیت سے نکل نہی پا رہی تھی دونو پریشان تھی .

مگر جو بھی یہی المیہ ہے ,سچ ہے
زہنی دباو کا شکار ہوتا وجود اسے پریشان کر رہا تھا وہ تنگ اجکی تھی سر جھکاے سوچ کے سمندر مے گم . وہ الجھی ہوی تھی چہرے پر باطنی پریشانی صاف دکھای دیتی تھی.

Read More:  Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 1

وہ جاے نماز بچھا رہی تھی .
الجھنے سب ہوا ہو رہی تھی .

امبر امی کیساتھ نیچے جا چکی تھی وہ بھی شاید پاکیزگی کی تلاش مے تھی .
عصر کی ازان اسکے کانو مے گونج رہی تھی وہ کلمہ طیب بار بار دہرا رہی تھی .

ازان کی دعا کے بعد اس نے نیت باندھی چار سنت چار رکعت .
وہ اپنے رب سے ہمکلام تھی .

نماز کی پابند مگر اب اور بھی زیادہ چاہت کے ساتھ وہ اپنے سے گفتگو کر رہی تھی ہدایت مانگ رہی تھی.
سجدہ مے سر جھکا. سکون اندر تک اترتا گیا .

انکھ سے انسو روا دل مے سکون کا نور .
پاکیزگی اسے گھیرے ہوے تھی .

.
اس نے سوبارہ چار رکعت کی نیت باندھی.

اللہ اکبر .
مجھے ان کوگو کے راستے پر چلا جن سے تو رازی ہوا.

رکوع ,قیام ,سجدہ, قعدہ .
وہ سلام پھیر رہی تھی .

درودپاک زبان سے جاری تھا دل کو قرار مل چکا تھا ہاتھ بلند ہوے
یا اللہ .

یا قادر یا کریم .
یا ستار یا قہار .

یا مالک و مولی .
میرے رب .

مجھے پاکیزگی عطا کر . مجھے نیک بنا دے ویسا جیسا تو مجھے چاہتا ہے .
میرے مالک میری لاج رکھ لے .

مجھے رسوای سے بچا .
مجھے نور سے پر کردے .

میرے باطن کو پاک کردے میرے نفس کو پاک کردے .
تیرے رسول کا صدقہ مجھے اپنے امان مے رکھ .

وہ پاکیزگی مانگ رہی تھی.
پاکیزہ سوچ , تن من کی پاکیزگی.

اور شاید وہ اسے مل بھی چکی تھی
.

اندر تک تھا تو صرف سکون بے چینی ہوا ہو چکی تھی.
وہ پرمسرت تھی .

___________________­____________________­_

رات کا ایک بج رہا تھا .
ادھے چہرے کو ہاتھ سے چھپاے وہ اپنی واچ پر دیکھنے مے مگن تھا جب نرس نے اکر بتایا .

مبارک ہو اللہ نے اپکو چاند سی . اس سے پہلے کہ نرس کچھ بولتی وہ کہہ چکا تھا .
یا اللہ شکر . تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے .

مشایل
مشایک نام ہے .

نرس ادھر ادھر دیکھ رہی تھی گویا عجیب پاگل ادمی ہے .
بچی ابھی دیکھی نہی پہلے سے ہی نام رکھ دیا.

اور میری مسسز .
وہ مسکراتا اللہ کا شکر ادا کرتا بولا تھا.

جی وہ بھی .
وہ پھر سے بات سننے سے پہلے ہی دعا کے لیے ہاتھ بلند کر چکا تھا .

نرس ہنس رہی تھی پہلا ادمی ہے جو اتنا پر مسرت ہے
.

ورنہ لوگ تو بچی کا سن کر لال پیلے ہوجاتے ہے.
وہ کندھے اچکا کر اگے کو چل دی.

ماشاءاللہ واقعی چاند سی ہے ہماری مشایل.
امی اسے جھولے مے پیار سے رکھتی ہوی بولی .
وہ انکھے موندے مسکرا رہی تھی .
پانچ ماہ کی بچی چہرے پر معصومیت سجاے امی کی پیار بھری نگاہ کے گھیرے مے تھی .
جھولے کے اوپر لگے دو تین ننھے ننھے چاند ہلچھل رہے تھے .

عجیب مگر رسیلی اواز .
با با بولو با با .

بابا جان مشایل کو بولنا سکھا رہے تھے .
امی پاس مسکرا رہی تھی .

دیکھنا یہ بابا کہے گی پہلے.
بابا جان اتراے تھے پیار سے مشایل کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوے بولے.

مشایل جھولے مے اوپر کو لگے چاند ہاتھ مے لینے کی کوشش کر رہی تھی.
دیکھیے ہماری مشایل کو چاند چاہیے .

امی جان اسے مدد کر رہی تھی.
.

سات سالہ مشایل فرش پر صوفے کے گرد چکر لگا رہی تھی.
بب ببا ب بب وہ منہ سے بلبلے بنا رہی تھی.

کیا کہا میرے چاند نے با با .
بابا . بتاو امی کو .

بابا جان اب بھی بولنے کی مشق کروا رہے تھے.
بب بببا .

وہ تو اپنی ہی موج مے لگی تھی.
اج زرا جلدی اییے گا ہمے امی کی طرف جانا ہے وہ اداس ہے اپنی پوتی سے.

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 33

امم ام
امی مشایل بھاگتی امی کے پیر سے لپکی تھی.

امی کے چہرے پر مسکان تھی.
بابا جان .

بابا جااان .
وہ مشایل کو دیکھ رہے تھے جو اتنے مہینے سے اسے بابا کا ورد کروا رہے تھے وہ بولی بھی تو کیا.

امی .
انہو نے جان کر چہرہ اداس بنایا.

اب جس کے پاس وہ زیادہ رہے گی اسی کو بلاے گی نا.
امی جان نے کندھے اچکاے تھے .

باباجان اسے گود مے اتھاے چوم رہے تھے.
ویسے اج افس نا بھی جاو تو چلے گا.

وہ مشایل کے ہاتھ چوم رہے تھے.

نہی .
کیو نہی جانا ہے اپکو مس کیا کہے گی اپ اسکول نہی جارہی .

امی اسے منانے مے مصروف تھی .
ارے جب ہماری مشا کو نہی جانا تو کیو زبردستی بھیج رہی ہو

.بابا جان
وہ پیار سے انکی طرف بھاگی .

جو اپنا بھیگ ہاتھ سے رکھے بانہے پھلاے زمین پر جھکے تھے.
اپ دونو بھی نا.

پہلے عادت ہے نہی اسے کسی کی سننے کی اپ اور سر پر ..
امی جان شکایت لگانے کے انداز مے بولی .مگر مشا کا معصومانہ سا چہرہ دیکھ کے چپ سی رہ گی.

.
امی دیکھے مجھے پراءیز ملا ہے.

93% .
یوہو

وہ بیگ صوفے پر پھینکتی ہوی بولی.
وہ نانتھ کلاس مے تھی.

فاءنل مے اسکی 93
%

ای تھی .
وہ بجپن سے ہی لاءق تھی . ہر کلاس مے % + 90

.
تہمینہ یہ کون ہے وہ اپنی پکی دوست کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کے اداس تھی .

میرا boyfriend.
وہ اترا کے بولی تھی.

کیا.
مشا اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنے ساتھ لےجاتے ہوے بولی.

نہی تہیم .
یہ برے لوگو کے کام ہے .

مجھے ردا اسے لیے اچھی نہی لگتی وہ .
مشا اسے اپنی کلاس فیلو کی یاد دہانی کروا رہی تھی جس سے وہ نفرت کرتی تھی.

Boyfriends وہ ہر وقت اپنے
کی ہی بات کرتی رہتی .

اج مے اسکے ساتھ یہا گی اج وہا ہم نے یہ کھایا .
اس نے یہ دیا .

فلا فلا.
اور اب تہیم.

نہی وہ ایسی نہی تھی نا ہی اسکی دوستے ایسی تھی.
اسے یہ سب پسند نہی تھا. نا ہی اسکی تربیت ایسی تھی . وہ تو اپنے کزنز سے بھی زیادہ میل جول پسند نہی کرتی تھی. ایسی مہفلے اسے زہر لگتی تھی.

عشق معشوقی فلا فلا.
وہ تہیم کو سمجھا رہی تھی بری بات ہے یہ سب ہمے اسلامنع کرتا ہے ایسی ہر چیز سے مس لاریب نے بھی تو بتایا تھا اسلامی شہزادی ایسی ہر چیز سے دور رہتی ہے.

اوفو مشا .
مے کون سا اسکے ساتھ بھاگ رہی تھی.

ہم صرف بات کر رہے تھے.
ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہے .

اور ویسے بھی ہم کچھ برا نہی کر رہے صرف دوست ہے .
جیسے تم مے ویسے ہی وہ.

وہ اجھا ہے بہت .
پلیز مس لاریب کو نا مے اچھی لگتی تھی نا وہ مجھے.

انکا نام مت لو تم.
اور ہا مے نماز بھی اور ساری سنت بھی روز ادا کرتی ہو .

اسلام دوستی سے منع نہی کرتا .
اور ہم .

تہمینہ بولے جارہی تھی.
اچھا رہنے دو مے بس سمجھا رہی تھی تمہے.

مشا اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ رہی تھی.

وہ کالج کا اینول فنکشن تھا مشا کسی کی تلاش مے تھی . تہیم,
تہیم کہا رہ گی .

ارے اجاو.
مشایل

کسی اجنبی نے اسے پکارہ تھا .
وہ چونکی تھی.

دل تیز تیز دھک دھک کر رہا تھا.
چہرے پر پسینہ کی ایک دو بوند ماتھے سے گر رہی تھی .

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: