Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 8

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 8

وہ پیچھے دیکھے بنا ہی اگے کو چل دی .
دل بدستور دھک دھک کیے جا رہا تھا .

وہ تیز تیز قدم لیتی راہ فرار اپنا چکی تھی ہال کے دروازے کے ہاس جا رکی سانس بے ترتیب تھی وہ سینے پر ہاتھ بے ترتیب دھک دھک کرتا دل تلاشنے لگی .
گلا درد کرنے لگا تھا .

لرزتے قدم بے جان پیر, وہ پاس رکھی کرسی پر دھیرے سے گری .
ہاتھ نیچے کو جھول رہے تھے وہ کمر اور سر دیوار سے لگاے دروازے کے باہر تکتی رہی .

مشا
کسی نے اسے تیزی سے اپنی طرف متوجہ کیا تھا.

وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی تھی .
کہا تھی تم تہیم. کتنی دیر سے تلاش رہی تھی .

وہ بے جان لہراتے ہاتھ اپنے بازو پر ملنے لگی تھی.
نگاہ نے باہر سے پیر تک کا سفر کیا تھا اب وہ زمین کو گھور رہی تھی

. سامنے ایک نازک سی چاند کی شبہیہ والا چمکتا سا
جھمکا تھا اس نے انگلی سے کان کو چھوتے ہوے کچھ تلاشا تھا .

تہیم نے اسے بازو سے تھام کر سہارا دیتے ہوے کھینچا گویا اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہو.
قدم لیتی وہ اس جھمکے پر پیر رکھ ے ہوے تھی .

مشا اب بھی اسی جگہ نگاہ جماے ہوے تھی .
تہمینہ کے اگلے قدم پر پیچھے گرا جھمکا کرچی کرچی بکھر چکا تھا . جیسا مشا کا وجود .

وہ دیکھو سامنے تہیم کسی کی طرف اشارہ کر رہی تھی.
کالے کلر کے کرتے ,کھلے گھیر والی بلوچی شلوار مے ملبوس زیشان یہ اسکا کلاس فیلو تھا .

تہیم دھیرے سے مشا کے کان مے سرگوشی کر رہی تھی
مے اسکے ساتھ تھی.

اس نے پرپوز کیا ہے مجھے .
وہ پرمسرت لہجے مے چہک کر مشا کو بتا رہی تھی .

مشا نے سب کچھ سنا ان سنا کر دیا وہ کہی اور کھوی ہوی تھی.
کاپر کلر کی کرتی ساتھ مے بلیک جینز کھلے بال ہلکا سا میک اپ کان مے نازک سے جھمکے . اور پیر ہیل مے سجے تھے .

وہ انگلی مسلتی کسی اور طرف چل دی تھی .
تہیم مسکرا رہی تھی .

زیشان بال سہلاتا مشا کو جاتا دیکھ کر بولا تھا یہ تھی تمہاری سب سے اچھی دوست جو ملی بھی نی اور چلی گی.
یہ ایسی ہی ہے رہنے دو اسے .

تہیم انگلی مے پہنی سنہری رنگ دیکھتے ہوے بولی تھی جو کچھ لمہے پہلے زیشان نے اسے پرپوز کرتے ہوے پہنای تھی.
___________________­­__________________

میکال کار سے نکلا تھا .
سامنے پولیس کی وردی مے شہروز کار سے تیک لگاے ہاتھ باندھے تھا .

کیا بنا کام کا
میکال تیز لہجے مے بولا تھا .

ہو گیا بس سمجھے.
وہ صفای دے رہا تھا .

کہا تھا اگلی بار کام ہو جاے کوشش نہی نتیجہ .
وہ اب کے مزید اگ بگولہ ہوا تھا.

کہا تھا جناب پوری کوشش ہے . ہم بھی یہی چاہتے ہے .
اب کچھ مسلہ ہو جاے تو ہمارا کیا قصور .

وہ کندھا اچکا کر بولا تھا
میکال نے کار کا دروازہ زور سے مارا تھا.

وہ اسکے منہ پر گھوسہ راید کردیتا اس سے پہلے اسے انجلین کی کال اگی .
انجلین . تم اس سے بھی بات کرتے ہو .

اب کے پولیس والا چونکا تھا .
جو کام تم سے نہی ہو پا رہا وہ تو کردے گی . یقین ہے اس پر .

میکال فون جیب مے رکھ رہا تھا .
مجھے بھی اس پر .

وہ پولیس والا بھی شرمندہ سا بولو تھا.
میکال اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا .

وہ پیر سے زمین پر کچھ مسل رہا تھا .
میکال انگلی گھما کر اسے واپس جانے کا کہہ رہا تھا

تین دن
اس نے ہاتھ کا اشارہ کیا .

اور کار کا دروازہ کھول کر اندر جھک گیا
.

ہا انجلین کیا ہوا
. انجلین رونی سی ہو کر بول رہی تھی

تم شہری کے ساتھ تھے.
ہا اس سے ملا تھا .

تم نے تو کہا تھا وہ .
ہا انجلین سنبھالو مے اتا ہو پھر بتاتا ہو سب مل کر .

عشما کہا ہے .
وہ اپنے کمرے مے . کچھ بدلی بدلی سی ہے .

انجلین ہاتھ مے پہنی رنگ دیکھنے لگی تھی .
سامنے شوکیس پر رکھا باکس اس کی توجہ کھینچ رہا تھا .

میکال فون بند کر چکا تھا.
کار زن سے اگے کو بھاگی تھی .

انجلین اسے کھول رہی تھی فون بستر پر پھینک کر وہ اسکی جانب ہولی تھی .
اسکا دل زرا بےتر تیب سا ہوا تھا .

ہاتھ کانپے تھے .
مگر شاید وہ اداس نہی تھی وہ پریشان بھی نا تھی مگر یہ سب .

وہ پھر سے سوجنے لگی تھی میکال نے کیو چھپایا مجھ سے وہ بتا بھی تو سکتا تھا .
شہری زندہ ہے وہ شہید نہی ہوا اس میشن مے بچ گیا تھا . وہ سب تکلیف . وہ نا ہوتی . ہم ساتھ رہتے .

مگر ہم ساتھ رہتے تو بچتے نہی اس دن تو میکال نے سب سنبھال لیا تھا . نہی مگر …..
وہ اگر مگر مے پھنس کر رہ گی تھی .

وہ شوکیس کے پاس نیچے زمین پر انگلی سے شہری لکھ رہی تھی .
عشما باتھ روم مے شیشہ کے سامنے اپنے چہرے پر بہتے پانی کے قطرے دیکھ رہی تھی .

نل کھلی تھی پانی بہہ رہا تھا . عجیب سا شور مچا ہوا تھا.
بیسن پانی سے بھر چکا تھا

فرش پر پھیلے پانی سے وہ پھیسل رہی تھی.
زہن مے ایک ہی جملہ گونج رہا تھا

کیا چاہتی ہو تم فلم یا سیریل .
مجھے عزت چاہیے .

بہت ملے گی لوگ پسند کرے گے.
مسسز روہاب کے جملے اسے اندر تک چھلنی کر رہے تھے .

لوگ .
کون لوگ جو اکیلا کر دے جب مصیبت ہو تو

جو اپنے بن جاے جب پیسہ ہو تو.
جو مرنے پر مجبور کردے جو ہماری زندگی چھین لے .

مطلبی دنیا … مطلبی لوگ …. مطلبی رشتے … دکھاوا . سب فانی … سب کھیل تماشہ …
اس نے نل بند کیا چہرہ صاف کیا .

اور باہر نکلی .
اسکارف چہرے کے گرد سجایا . اور بیگ مے سے مصہف نکالی اور سورہ یسین کی تلاوت کرنے لگی .

___________________­­__________________
نہی میکال بس اس جگہ جاب نہی کرنی .

ارم التجا کر رہی تھی .
ہا جیسا تم چاہو .

ارم نے سکھ کا سانس لیا تھا مگر اب یو گھر پر ہی رہنا مفت کا کھانا یہ سب بھی تو اسے پسند نا تھا .
اف کیسی مصیبت ہے وہ پھنس کر رہ گی.

ارم اگر کوی بات ہوی ہے تو بتا سکتی ہو.
نن نہی تو ککچھ بھی نہی بس ویسے ہی

وہ الجھ چکی تھی
اوکے

میکال کا لہجہ دھیما تھا .
پرسکون .

اور کچھ
میکال نے اسے پرسکون لہجے مے پوچھا تھا

میکال وہ مے … وہ ایسے گھر پر … نہی مجھے بھی تو یہا کچھ نا کرنا چاہیے نا . امبر کی فیملی نے مجھے اپنے بن کر . گھر کا فرد سا بنایا ہوا ہے
مے انکی مدد کرنا چاہتی ہو . فری مے رہنا ۃپنی توہین ہے .

مے بوجھ نہی بننا چایتی . وہ قدرے پریشۃن تھی اور لہجے مے ان بن صاف تھی .
ای نو

میکال اس کی بات سن رہا تھا اور سمجھ بھی رہا تھا
نہی میکال بس اس جگہ جاب نہی کرنی .

ارم التجا کر رہی تھی .
ہا جیسا تم چاہو .

ارم نے سکھ کا سانس لیا تھا مگر اب یو گھر پر ہی رہنا مفت کا کھانا یہ سب بھی تو اسے پسند نا تھا .
اف کیسی مصیبت ہے وہ پھنس کر رہ گی.

ارم اگر کوی بات ہوی ہے تو بتا سکتی ہو.
نن نہی تو ککچھ بھی نہی بس ویسے ہی

وہ الجھ چکی تھی
اوکے

میکال کا لہجہ دھیما تھا .
پرسکون .

اور کچھ
میکال نے اسے پرسکون لہجے مے پوچھا تھا

میکال وہ مے … وہ ایسے گھر پر … نہی مجھے بھی تو یہا کچھ نا کرنا چاہیے نا . امبر کی فیملی نے مجھے اپنے بن کر . گھر کا فرد سا بنایا ہوا ہے
مے انکی مدد کرنا چاہتی ہو . فری مے رہنا ۃپنی توہین ہے .

مے بوجھ نہی بننا چایتی . وہ قدرے پریشۃن تھی اور لہجے مے ان بن صاف تھی .
ای نو

میکال اس کی بات سن رہا تھا اور سمجھ بھی رہا تھا.
دیکھو ایک جگہ ہے جہا شۃید تمہے پرابلم نا ہو . اقر انے جانے جا بھی مسلہ نا ہو .

وہ کچھ سوچتا ہوا بولا .
مم مے .

وہ ہچکچای تھی . پہلے ھو بھی ہوا تھا سب برۃ ہی تھا . سرمد باس , پھر دوکان والا سین وہ سہم سی گی .
تم ایک …. مینیجر کی جاب کر سکتی ہو .

وہ کچھ دیر رک کر بولا تھا.
مینیجر پھر سے کمپنی . وہی فلور, کیبن مے بند رہنے والی جاب , فایلز , فایدہ نقصان ,

ہیر پھیر .
وہ اپنے اندر مچے طوفان سے باہر نکلنا چاہ رہی تھی .

کوی بھی جواب نا ملنے پر میکۃل دوبارہ بولنے لگا تھا .
وہ جاب مینیجر نہی .

تم نے فلمی مینیجرز کے بارے مے سنا ہے .
ارم کے زہن مے فورا فینز گونجا تھا .

ہا جو انکے سب کیسز سنبھالتے ہے .
نیوز , روزمرہ کی ملاقات . کب کیا کرنا ہے ,کس سے ملنا ہے . ہا جانتی ہو .

وہ اپنے سے ہی بولے جارہی تھی .
واو سمجھو جاب پکی . ہاہا میکال ہلکا سا ہنسا تھا .

ارم بھی مسکرا رہی تھی.
چلو پھر کار بھجوا رہا ہو تیار ہو جاو .

ابھی
ارم چونکی .

ہا ابھی اور اسی وقت سے جاب شروع .
وہ چابی انگلی کے گرد گھما رہا تھا .

فون کان سے نیچے رکھتے ہوے بولا . کیا سمجھی تھی اتنا سب کچھ ہو جاے گا اور میکال کو پتہ نیی چلے گا .
پاگل

اس نے اپنے سے انداز می ترچھی مسکان چہرے پر سجای تھی.
وہ ایسا ہی تھا مدد کرنے والا . دوسرو سے الگ . جان بھوج کر پنگے کرنے والا .

مگر دل کا صاف .
وجہیہ مگر معصوم بھی .

چابی اب بھی انگلے کے گرد دایرے بنا رہی تھی .
جینز پر کرتا پہنے وہ کار کے باہر سے فون شیشے سے اندر پھینک چکا تھا اور اب سگار کا کش لگا رہا تھا . بہت کم مگر کبھی کبھی وہ اس انداز مے بھی دیکھای دیتا تھا

امبر سنو مجھے ایک جگہ جاب ملی ہے .
نہی مجھے جانا امبر کان ہاتھ سے بند کر رہی تھی گویا اب کچھ ایسا ویسا نہی سننا چاہتی تھی.

ارے نہی ویسے والی نہی .
ارم اسکے ہاتھ نیچے کروا رہی تھی پتہ ہے کسی سیریل مے کام کرنے والے نہی والی نہی .

وہ الجھ گی …..
یہ تو پوچھا ہی نہی کون ہے جس کا مجھے مینیجر بننا ہے … اف وہ اپنی زہانت کو کوس رہی تھی .

وہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گی .
دیکھو نا امبر مے یہ تو پوچھنا ہی بھول گی کون ہے وہ .

چچ چچ بےچاری ارم پاگل ہوگی .
امبر مزاق کرنے لگی تھی .

ارم بنا کر ایک طرف ہو گی ….
فون کے سکرین جگمگا رہی تھی .

میسیج میسیج وہ فون دیکھتے یوے سر مے بولی .
میکال ….

تھینکس وہ لکھ رہی تھی .
یہ دیکھو …

اس نے فون امبر کو دیتے ہوے کہا .
یہ ہے جسکی مے منیجر بن رہی ہو .

واہ یار کیا کمال کی ہے یہ تو …
امبر رشک کرنے لگی .

واقعی بہت اچھی جاب ہے تمہاری تو….
وہ تو پےہ چلے گا

ارم کندھے اچکا کر بولی تھی.
ہے تو واقعی وہ دل مے ہی عشما کی تصویر دیکھ کر بولی تھی .

نام کیا ہے …. امبر تصویر کے نیچے لکھے ہوے میسیج مے تلاش رہی تھی.
عشما … عشما نام ہے .

ارم سکرین پر انگلی رکھتے ہوے بولی تھی.
یونیک نیم ہے نا .

امبر
.

ارم کو مستی سوجھی .
ہا جی امبر تو بہت ہی یونیک نیم ہے … تھک جاو ایسا نام نہی ملے گا .

وہ زبان نکالتے ہوے بولی تھی.
بندریا مے تمہارا نہی عشما کا کہہ رہی ہو.

ارم نے بھی ترچھی ہنسی ہنستے ہوے کہا.
وہ فون چھین جر بھاگ رہی تھی . امبر بھی ہمت کر کے پیچھے بھاگی تھی .

تم لوگ بچے ہو کیا ایسی ادھم مچاتے ہو نیچے تک شور جا رہا ہے .
.

امی یہ ارم کی مستی ہے یہ مجھے بندریا کہہ رہی ہے .
امبر بچی بن کر شکایت لگا رہی تھی.

امی چہرہ ہلاتے ہوے بولی کچھ نہی ہوسکتا تمہارہ .
کیا کہنے ای تھی بھلا دیا مجھے تم نے . امی سر پر ہاتھ رکھے سوچ رہی تھی.

اور ارم امبر یو معصوم بنی تھی جیسے ان سے زیادہ کوی معصوم ہے ہی نہی اس دنیا مے .
ہا ارم چندا . وہ مسسز شمس ہے نا کونے والے گھر مے رہتی ہے ,شارم کے دوست کی بہن . وہ انا چاہ رہی تھی .

.امی کی بات ابھی ادھوری تھی کہ امبر بیبی بولنے لگی کیو وہ کیو اے گی وہ جب بھی اتی ہے اپنے ولید کی ہی تعریف کرتی رہتی ہے میرا ولید یہ میرا ولید وہ
جیسے صرف انہی کا بھای ہو اس پوری دنیا مے . ہنہ وہ منہ بنا کے بولی تھی.

امی اسے مارنے لگی تھی کہ وہ پیچھے ہو گی . کم عقل کب عقل اے گی امبر … کیا کہنا ہے …. کہا کہنا ہے کچھ عقل نہی .
امی کے طنز پر وہ

رونے والا منہ بنا رہی تھی.
ارم اسے گلے لگاے امی کو اشارہ کر رہی تھی مے سمجھاتی ہو …

امی کچھ نہی ہو سکتا والے انداز سے ہاتھ لہرا کر کمرے سے چلی گی.
___________________­­___________________­_­___

تہمینہ چادر لیے کمرے سے نکلی تھی … سامنے وجاہت تھا …
منع کیا تھا .

وہ چلایا .
نہی تم مجھے مار دو مے نہی رکنے والی ….. تم مے بھی انہی کا لہو ہے , جنکا میرے جسم مے بھی ہے

ہم بھای بہن ایک دوسرے کو مار ہی زندہ رہ سکتے ہے تو ایسے ہی پھر …
تم چلاو گولی مار دو مجھے … تمیاری انا کی جیت ہو جاے … تم , تمہاری شان و شوکت جیت جاے …

اور مے … میرا وجود لاش بن جاے … نہی بلکہ مے تو پہلے ہی لاش ہو … زندہ لاش….
…مارو گولی رکے کیو ہو … اس ازیت

چہرہ انسو سے تر تھا …دل کا درد چہرے پر عیا تھا …
اس ازیت کو انجام تک پہنچاو … مار دو مجھے مے ایسے جینا بھی نہی چاہتی … …

وہ روتی جارہی تھی اقر چلا رہی تھی …
وہ ازیت جو اسے اندر ہی انداز کھاے جارہی تھی اسے نکال باہر پھینکنا چاہتی تھی….

بے جان وجود مے سرایت کرتا زہر اسے گدھ کی مانند کمزور بنا رہا تھا..
وہ اکتکا چکی تھی اس سب سے …

سب اب اور نہی . یہ اسکی برداشت سے باہر تھا .
وجاپت ایک جانب کو ہو چکا تھا گویا سے جانے کا راستہ دے رہا ہو … اسے معلوم تھا یہ وجود بھی اسکی مانند ہی انا پرست ہے . مر جاے گا لیکن پیچھے نہی ہوگا . جھکے گا نہی .

کار کا دروازہ کھلا اگے لمھے کار زن سے بھاگتی ہوی دور چلی گی وہ کار چلاتی ہوی بھی رق رہی تھی .
اسکے چہرے پر دہشت تھی.

انکھے بند ہو رپی تھی مگر وہ کار دگنی تیزی سے چلا رہی تھی.
ہارن پر ہارن دیتی وہ تیز تیز سانس لے رہی تھی.

اندھیرا چھانے لگا تھا اسکی انکھے تقریبا بند ہو چکی تھی .
کار کسی چیز سے جا لگی تھی.

ہارن بجا چلا جۃ رہا تھا.
نہی میرا قصور نہی … مے تو اپنے راستے پر تھا یہ اپنی کار اس جانب لای ہے

کار ہیوی وہیکل سے لگی تھی .اسکا مالک صفاییا دے رہا تھی .
لوگ اس ہاس جمع ہو رہے تھے.

رش لگ رہا تھا وہ لہو لہو تھی .
بے ہوش

. کوی شور کر رہا تھا یہ مر جاے گی اینبولینس بلاو
ایمرجنسی کیس ہے .

سر کو انفارم کرو
کون لایا ہے … ساتھ کون ہے …

اس نے ایک بار انکھے کھولی تھی .
پلس گر رہی ہے .

ایمرجنسی سیچویشن ہے اسے بچانا مشکل ہے ہم اپنی پوری کوشش کرے گے.
ای سی جی نارمل نہی .

انجری شدید ہے
steering wheel

سے سر لگا تھا .
نرس بتا رہی تھی ,ساتھ مے روی سے اسکا چہرہ صاف کر رہی تھی … یہ وہی لہو تھا جو وجاہت کے جسم مے بھی تھا … وہ بے جا بہہ رہا تھا

وہ لت پت بستر پر تھی بےجان,
اندھیری کھای مے کہی گم .

انجیکشن
اسے سر پر

Stitches
لگاے جا رہے تھے

Drip
سے لال لال لہو کے قطرے دھیمی رفتار سے اس کے جسم مے موجود لہو سے مل رہے تھی .

دل کی رفتار سست ہوتی جا رہی تھی .
لایف لاین سیدھی ہوتی جا رہی تھی.

شاک ہمے شاک دینا ہوگا .
On 3

1,2,3
اسے شاک دیا گیا .

لاین اب بھی سیدھی تھی .
Again 1,2,3

___________________­­___________________­_­__
افف شکر اچھے مارکس اگے .

فورتھ
Semester is the though one .

تہیم مشا کو اپنی پراگرس بتا رہی تھی وہ کلاس کے بعد کچھ دیر یو ہی گھوما کرتی تھی.
اسکول کالج اور اب وہ اپنا کیریر بناتے ہوے بھی ساتھ ساتھ ہی تھی .

زولوجی مے بی اس کرتے ہوے انکا دوسرا سال تھا .
بہت سی پرانی یادو مے نی یادے بھی شامل ہو چکی تھی .

تہیم کے ہاتھ مے اب بھی وہی زیشان والی رنگ موجود تھی .
زیشان نے میتھز چوز کیا تھا .

انجینرنگ کا سپنا میتھ پر رکا تھا .
مشا اور تہیم دونو ہی

ایم بی بی ایس سے تنگ ہو کر ایک سال بربۃد کرنے کے بعد زولوجی مے ای تھی اور یہا بھی وہی تھا . بس دھکے سے بی ایس مکمل کر کے اگے کا کوی پلان نہی تھا.
بوایز گرلز ساتھ ساتھ تھے . تہیم کا دل یہا بھی ایک ہر پگلا تھا مگر وہ اس پر موم نہی ہوا.

شروع کے دن تھے وہ کلاس کے بعد باہر گراس مے گھوم رہی تھی .
سامنے کار کو دیکھ کر ایسے ہی تہمینہ بولی .

یار تمہے نہی لگتا تمہارا کرش ایسی کسی کار سے اترے اور اکر تمہے پرپوز کردے .
Don’t be so materialistic .

میرا دل ایسا کبھی نہی کیا .
اور نا ہی کبھی کرے گا .

مشا اترا کر بولی تھی ویسے بھی اسے یہ سب پسند نا تھا وہ اس سب اے کوسو دور بھاگتی تھی .
کیسے لوگ ریلیشن شپ مے اجاتے پیار ویار کچھ نہی ہوتا .

سب بیکار باتے ہے .
جب بھی تہیم اسے پیار کے گنسناتی وہ ایسے ہی بولتی تھی اور سچمچ وہ اس سب سے دور ہی رہنا چاہتی تھی.

تہمینہ اب تک اس کار کو دیکھ رہی تھی . وہ ۃمیر گھرۃنے سے تعلق رکھتی تھی مگر ایسی کوی کشش اسے اس کار اور اسکے مسافر کی جانب کھینچ رہی تھی .
کار کا دروازہ کھلا تھا . ادھر تہیم کا دل تھمنے لگا تھا .

اوپر کی سانس اوپر نیچے کی نیچے .
سب کچھ سلو موشن مے ہونے لگا تھا.

واقعی کار کا مسافر وجہیہ شھسیت کا مالک تھا .
تہمینہ اس سے دوستی کرنا چاہتی تھی.

مگر مشا پر اس کی کشش کا زرہ برابر جادہ نا چلا تھا.
وہ کلاس روم مے تھی .

زولوجی کی میم لیکچر دے رہی تھی سامنے لکھا تھا
Introduction to kingdoms

Origin
History

بہت کچھ لاین مے لکھا چلا گیا تھا
وہ اکتانے لگی تھی .

میم کا لیکچر تہیم کی برداشت سے باہر تھا اسے وہ سب کچھ زہر لگ رہا تھا جیسے ایک سال تک ایم بی بی ایس کے کورسز اسے زہر لگتے تھے.
وہ مشا کے کندھے پر سر رکھے.

اسی کار والے کے بارے مے سوچنے لگی.
He is handsome , dashing , what else a girl can want ??

وہ زیر لب بول رہی تھی .
Are u asking something?

میم نے اسے بات کرتے دیکھ لیا تھا .
No no mam nothing, I’m just revising whatever you are saying, I mean teaching .

وہ تنگ سی جواب دینے لگی
Are you getting my point ?

میم اسکے گم سم چہرے پر بجے بارہ دیکھ چکی تھی انہو نے اسے سامنے بلایا اور کہا جو کچھ ابھی مے نے بتایا اپ جو جو بھی سمجھ ایا کلاس کو بتاو .
وہ بمشکل اگے گی اور جا کر چپ سادھ لی . پوری کلاس اسے دیکھ رہی تھی .

اسکی برداشت جواب دے رہی تھی .
اس نے کچھ سوچا اور بے ہوش ہونے کی اداکاری کرنے لگی.

وہ میم کے سامنے فرش پر بے ہوش تھی.
اسے کیا ہوا کلاس مے شور سا ہونے لگا .

مشایل بھی پریشان تھی ابھی تو ایک دم تندرست تھی یہ ابھی کیا ہوا تہیم کو .
وہ بھاگ کر اسکے پاس گی .

تہیم نے انکھ ماری.
وہ چونک کر میم کو کہنے لگی .

Mam I think she is starving ,
انہو نے کچھ بھی کھایا پیا نہی .یہ ایاے ہی بے ہوش ہو جاتی ہے . کمزوری سے .

مشایل کی زبان ہر جو ایا اس نے بہانہ بنا دیا .
اب ہر کلاس مے تقریبا مس تہمینہ سے باقایدہ پوچھا جاتا ہے پہلے کہ اپ نے کچھ کھایا پیا تو ہے نا نہی تو کچھ کھا پی اے.

وہ ہاتھ مے ملک شیک لیے کرسی کی تلاش مے تھی کہی بھی جگہ نہی مل رہی تھی کہ وہ مینگو شیک پی سکے . وہ پیچھے کو ہوی اچانک سے پیچھے کوی تھا وہ توازن برقرار نا رکھ سکی
شیک ہوا مے تھا اور وہ کسی کے ہاتھ کے سہارےادھی ہوا مے جھول گی . ایک ہاتھ زمین پر رکھے وہ برے طریقے سے گرتے گرتے بچی تھی .

سامنے تہمینہ کا
Handsome, dashing

کرش تھا جو اسے گرنے سے بچا رہا تھا اور شاید وہی وجہ بھی بنا تھا اس سب فلاپ فلمی سین کا. .
شیک جو اب تک ہوا مے تھا اب اس وجہیہ شھسیت کے مہنگے سفید کرتے پر گرا تھا پیلا رنگ کندھے سے شروع ہو کر بازہ تک پھیلتا جا رہا تھا .

تہمینہ پاس چپس کھاتے ہوے سۃرے سین سے لطف اندوز ہو رہی تھی
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: