Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 9

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب قسط نمبر : 9

سٹوپڈ ۔ ایڈیٹ ۔
وہ غصہ سے منہ بناتے ہوئے اسے بولی تھی ۔

جج جی۔ وہ بھنویں اچکا کر بولا تھا ۔
اپنا سٹولر سیٹ کرتی وہ مڑ چکی تھی۔

وہ حیران کھڑا اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔
مشایل بنا پیچھے مڑے ،بالوں کو جھٹکے سے پیچھے کرتے ہوئے آگے چل پڑی تھی ۔

تقریبا پوری کینٹین اس فلمی سین سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔
تہیم جیسی کئ لڑکیوں کے دل میں ایسے ارمان امڈ رہے تھے ۔

آس پاس کے لوگ اس جگہ نظریں جمائے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔

واہ کیا رومانس تھا ۔
تہیم چپس کا پیکٹ رکھتی، کرسی سے اٹھ کھڑی ہوی تھی ،وہ مشا کو اپنی طرف آتا دیکھ کر تالی بجا کر بولی تھی۔

شٹ اپ تہیم ۔
وہ غصہ سے غرائ تھی ۔

میرا کیا قصور ہے تم مجھ پر کیوں غصہ کر رہی ہو ۔ کم آن یار
Don’t be silly.

تہمینہ اسے طنز کر رہی تھی ۔
بات یہ نہیں ہے ۔ تم سمجھ نہیں رہی ۔

I am not narrow minded but.
مشایل اسے سمجھانے کے انداز میں بولی تھی ۔

نہیں تو اور کیا ۔ تم ہی الٹا سوچتی ہو ۔
تہیم اس کے کندھے پر گرے شیک کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔

تمہے اس سے معافی مانگنی چاہیئے تھی ۔ دیکھو بےچارے کے سارے کپڑے خراب کردیئے تم نے مشا.
وہ اب ٹشو سے ہاتھ تک آتا شیک صاف کر رہا تھا ۔

مشا اسے دیکھ کر ہنسی روکتے ہوئے۔ تہیم کے چپس کھا رہی تھی۔
نظریں اب بھی وہی جمی تھیں ۔

اچانک سے اس نے مشا کو دیکھا تھا ۔
مشا نظریں چرا کر ارد گرد دیکھتے ہوئے بولی کون سا میں نے کہا تھا اکر کھڑا ہوجائے میرے پیچھے۔

وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے پیر ہلارہی تھی۔

تہیم اپنے بیگ میں کچھ تلاش رہی تھی۔

یہ کیا ہوا وجی ۔
اس کا دوست اس کے کندھے پر ہاتھ مارتا قہقہا دبا کر بول رہا تھا ۔

بس ہو گیا ایک فلمی سین۔
وہ ایک آنکھ دبا کر بولا تھا۔

تو بھی نا۔
اسکا دوست ترچھا سا ہنسا تھا۔

وجی ۔

تہیم کچھ سوچ کر زیر لب بولی تھی ۔
وجییی۔

وہ ذہن پر زور ڈال رہی تھی۔
ہاں وجاہت شاہ۔

ہاں یہی نام ہے وہ ایڈمیشن لسٹ میں اپنا نام ڈھونڈ رہی تھی تب یہ نام بھی اسکی نظر سے گزرا تھا۔
وہ مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئ تھی۔

کہاں جا رہی ہو تہیم ۔
مشا اسکا ہاتھ پکڑ کر پوچھ رہی تھی۔

کہیں نہیں ۔ تم رکو میں آتی ہوں ۔
وہ وجاہت شاہ کی طرف چل پڑی تھی۔

مشا آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔

مسٹر وجاہت شاہ۔۔۔ رائٹ۔

وہ اس کے سامنے کھڑی اس سے ہمکلام تھی
وہ بس کنفرم کرنا چاہ رہی تھی ۔

ایگزیکٹلی اینڈ یو آر مس تہیمینہ ۔
یس۔ آئ ایم۔

وہ ہاتھ کراس میں باندھتے ہوئے بولی تھی۔
وہ میرا فون ۔

وہ وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
ہیں کیا! نمبر دینے آئ ہے۔۔

یہ اپنا۔۔۔ کیا چالو لڑکی ہے ۔ خیر مجھے کیا ۔
اسکا دکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک ہے ۔ سیٹ ہے۔

اسکا دوست خود سے ہی سب کچھ امیجن کر رہا تھا بلکہ وہ تو اپنا فون پکڑے ڈائل پیڈ میں تہیم کا نمبر نوٹ کرنے کے لیئے بے تاب کھڑا تھا۔
جی ۔

وجاہت حیران کن نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

میرا فون آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
وہ آنکھوں سے اس کے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھ کر بولی تھی۔

وہ بھی چونک کر اپنے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھ رہا تھا ۔
یہ آپکا ۔

اسے کچھ سمجھ نہ آیا ۔
میری دوست ۔

تہیم دور بیٹھی مشایل کو دیکھ کر بولی۔
وہ بھی اسے دیکھ رہا تھا۔

اوہ وہ انکو سنبھالتے ہوئے۔
وہ فون تہمینہ کی طرف بڑھاتے ہوئے شرمندہ سا بولا تھا۔

آئ نو ۔
وہ ٹکا کر جواب دے کر فون پکڑتے ہوئے آگے کو چل دی۔

___________________­___________________

عیشال یہ تمہارے گھر اور کار کی چابیاں ۔
میکال اسی کرتے اور جینز والے لک میں عشما کے سامنے تھا ۔

تھینکس۔
عشما مسکراتے چہرے کے ساتھ چابیاں لیتے ہوئے بولی۔

وہ فرنیچر تم نے ڈیسائڈ کرلیا۔۔
میکال نے جینز کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا۔

ہوں۔.ہاں کر لیا تھا ۔
گولڈ تھیم ۔

وہ سرسری سی تفصیل بتا رہی تھی۔
ہمم اچھا ہے ۔

سرمئ شام عروج پر تھی، ڈوبتا سورج آسمان پر رنگوں کی خوبصورت آمیزش بکھیر رہا تھا ۔
وہ لان میں ٹہلنے لگا تھا۔

چہرہ آسمان کی طرف کیئے لمبا سا سانس لے کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا ۔
تمہیں کوئ مسئلہ تو نہیں ۔ میرا مطلب تم بدلی بدلی سی لگ رہی ہو۔

نن. نہیں ۔ کچھ بھی نہیں۔
بس تھوڑا مینٹلی سٹریسڈ ہوں ۔

وہ ہاتھ باندھے میکال کے قدموں پر قدم رکھتی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔
وہ اچانک سے پلٹا تھا ۔

وہ چونک کر ایک ہچکی سے رکی تھی۔بال ہوا میں لہرائے تھے ۔
وہ بھی نظریں ادھر ادھر دوڑاتا ہوا سوری کہنے لگا تھا۔

مجھے معلوم نہیں تھا تم پیچھے آرہی ہو۔
وہ ساکت کھڑی اسے سن رہی تھی۔

وہ فون کی شعائیں چھوڑتی اسکرین پر اسے کچھ دکھا رہا تھا۔
یہ لڑکی ۔۔۔ ارم ۔۔۔ آج سے تمہاری مینیجر ہے۔

وہ رک رک کر بول رہا تھا۔
ہاں جیسے تمہاری مرضی ۔

وہ ہاں میں سر ہلا رہی تھی۔
میکال اس کا رویہ بھانپ چکا تھا۔ وہ پہلے دن سے بہت مختلف تھا۔

دیکھو عیشال تم پر کوئ زبردستی نہیں کرےگا ۔تم جانا چاہو یا کوئ اور بات ہے تو میں سننا چاہوں گا۔
وہ سنہرے بالوں کی ایک لٹ کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولی ۔

آپ زیادہ فکر کر رہے ہیں ۔ میں ٹھیک ہوں ۔
وہ اپنا دائیاں ہاتھ بائیں بازو پر ملنے لگی تھی ۔

اگر شاید میکال کے پاس کوئ جیکٹ یا بڑی سی مردانہ شال ہوتی تو وہ ضرور اسے عیشال کے گرد لپیٹ دیتا۔ عموما یوں بازو ملنا سردی لگنے کی ہی علامت ہوتی ہے۔

___________________­____________________­_

ٹون ٹوں ۔ گاڑی کا ہارن بج رہا تھا۔

ارم اپنا بیگ اٹھاٹی ہوئ امبر کو مل رہی تھی ۔
ملنے ضرور آؤں گی۔

امی ۔ اللہ حافظ ۔
وہ امی کو الوداع کر رہی تھی۔

ڈرائیور دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔
وہ اندر بیٹھی آنسو صاف کر رہی تھی۔

ڈرائیور گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا۔
امبر کھڑکی میں کھڑی ہاتھ ہلا رہی تھی۔

کتنی دور ہے ۔
وہ پچھلے تیس منٹ سے سیدھے روڈ پر دوڑتی گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے اکتا گئ تھی ۔

بس میڈم آدھا گھنٹہ اور ہے ۔
یہ لیں آپ میکال سر سے بات کر لیں ۔

وہ فون پچھلی سیٹ پر اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
میکال۔

اسلام علیکم ۔
وہ گاڑی کا شیشہ نیچے کر رہی تھی۔

واعلیکم اسلام ۔ میکال کا لہجہ پریشان تھا۔
مگر وہ زبردستی مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ارم تمہیں ڈرائیور مال لے جائے گا ۔ تم کچھ شاپنگ کر لینا۔
نہیں میکال اس سب کی ضرورت نہیں۔

وہ اسے منع کر رہی تھی ۔ شاید وہ دکان والا سین دوبارہ اس کے سامنے گزرا تھا۔
چلو جیسے تمہاری مرضی۔

آجاؤ پھر بات کرتے ہیں۔
وہ واقعی پریشان تھا۔

ارم اسکا لہجہ پہچان چکی تھی ۔
مگر وہ خود ابھی گزری تلخ حقیقت میں کھوئ ہوئ تھی۔

___________________­___________________

انجلین گنگ سائز بیڈ پر ڈھیروں تصویریں بکھرائے کسی چیک والی شرٹ کو آدھے چہرے سے لگائے اس سے اٹھنے والی بھینی بھینی خوشبو سونگھ رہی تھی۔
وہ مسکرا رہی تھی اس کی آنکھیں. چمک رہی تھیں۔

وہ بیگی سٹائل شرٹ کے ساتھ لوز ٹراؤزر پہنے پاؤں بیڈ سے لٹکا کر بیٹھی تھی۔
وہ اٹھی شوکیس سے درجن بھر سادھی کاپر کلر کی چوڑیاں اٹھا کر ٹیرس کی طرف چل پڑی ۔

باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔
وہ چوڑیاں سامنے گریل پر رکھتے ہوئے ہلکا ہلکا ہاتھ پھیلائے گول دائیرے میں گںومنے لگی ۔ جیسے ان بوندوں کو خود میں سما رہی ہو۔

مٹی سے ہلکی ہلکی خوشبو اٹھنے لگی تھی۔
وہ آنکھیں بند کیے ذہن کے پردے پر گردش کرنے والے خیالوں میں کھو گئ۔

اس کے سامنے گندمی رنگت والا خوش شکل شہزور گھٹنوں کے بل بیٹھا ایک ہاتھ کی پشت پیچھے کمر سے لگائے دوسرے ہاتھ میں چھوٹا سا رنگ باکس پکڑے انجلین کو پرپوز کر رہا تھا۔
وہ جھکی نظریں ہاں کی چمک دیکھنا چاہتی تھیں۔

Do you like to spend your life with me ?.
وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔

No.
انجلین کے جواب سے اس کی آنکھوں کی چمک دھیمی پر گئ تھی۔

I would love to .
وہ اس کے ہاتھ میں پکڑا باکس انگلی سے چھو رہی تھی۔

وہ پھر سے مسکراہٹ چہرے پر بکھیرے اسے دیکھ رہا تھا ۔
جو انگلیاں چہرے پر رکھے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے ہاں میں گردن ہلا رہی تھی۔

وہ اٹھا اور اس کی رنگ فنگر میں چمکتی ہوئ ڈائمنڈ رنگ پہنانے لگا ۔ ہر طرف تالیوں اور اپریسی ایشن کی آوازیں تھیں ہر کوئ انہیں مبارک باد دے رہا تھا۔
وہ انجلین کی تئسویں برتھ ڈے پارٹی تھی ۔

اس کے کو ایکٹرز اور اس کے ساتھ کام کرنے والے فیلڈ مینز
سبھی موجود تھے۔

بلیک کلر کی فل لینتھ مکسی میں ہائ ہیل پہنے وہ شہزور سے پانچ انچ چھوٹی لگ رہی تھی۔
بالوں کو نازک سے جوڑے میں باندھے وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔ فوٹو گرافر مختلف پوزز میں. پکچرز کلک کر رہا تھا ۔ اس کی فرینڈز باری باری اس کے ساتھ سیلفیز لے رہی تھی ۔

شہزور نے اس کی اسپیشل ایوننگ اور بھی اسپیشل بنا دی تھی ۔
میکال شہزور کے گلے لگے اسکو مبارک باد دے رہا تھا۔

وہ اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا۔
کمینے مجھے بتایا بھی نہیں اور میری بیسٹ فریڈ کو فیانسی بھی بنا لیا۔

وہ ترچھی ہنسی ہنستا ہوا بھی بہت پر کشش لگتا تھا۔
وہ اس کی کمر پر ہاتھ مار رہا تھا جیسے عموما دوست ایک دوسرے کو مل کر خوشی سے داد دیتے ہیں۔

وہ کاپر کلر کا سوٹ پنٹ پہنے بہت ہی وجہیہ لگ رہا تھا۔
معمول کی طرح وہ فون پر ٹائپنگ کرتا ہوا سین سے غائب ہوا تھا۔

___________________­____________________­_

سر وہ پیشنٹ کے پیرنٹز آپ سے ملنا چاہ رہے ہیں۔

وہ ادھر ویٹنگ روم میں ہیں۔
(چل باسط ایک اور کیس نبیڑھیں(ختم کریں

۔
[

سر

وہ پیشنٹ کی فیملی کا کچھ پتا چلا
شارم آفیسر سے وجاہت کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔

وجاہت شاہ نام ہے اسکا وڈیرے وارث بیگ شاہ کا بیٹا ہے ۔ اثرو رسوخ والا بندہ ہے۔
باپ کو معلوم ہی نہیں تھا بیٹا یہاں ہے وہ تو اسکا جنازہ بھی پڑھوا چکے تھے ۔ پہنچ جائیں گے آج وہ بھی۔

آفیسر دو دن پہلے کی وجاہت کے ہوش میں آنے کے بعد اس کی بتائ گئ چند ایک بات پر اس کی فیملی کا شارم کو بتا رہا تھا۔
وہ لوگ بیٹے کو اپنے پاس امریکہ بلا رہے تھے سال پہلے اسکا باہر کا ویضا نا لگنے کی وجہ سے وہ یہیں رہ گیا تھا۔ اور امی ابو ادھر رہنے لگے تھے ۔

جس دن اس کی فلائٹ تھی اس دن ہی اسے شاہ ویز نے ائیر پورٹ پہنچنے سے پہلے اغوا کر سا لیا تھا اور گولیاں مار کر ہائ وے پر پھینک دیا تھا۔
وہ تو شکر ہے اس دن امبر اور شارم اسے ہاسپٹل لے آئے ۔

راستے میں ایک اچھا ڈاکٹر اور فرسٹ ائیڈ ملنےپر اس کی جان بچ گئ۔
پھر ہاسپٹل میں پراپر ٹرینمنٹ نے اسے پھر سے نئ زندگی دی تھی۔

ایک طرح سے اچھا ہی ہوا تھا جس پلین کی فلائٹ تھی اس میں فنی خرابی کے باعث وہ حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ جل جانے کی وجہ سے اور کوئ بھی اچھی خبر نا ملنے پر اس کے والدین اسکا غائبانا نماز جنازہ ادا کر چکے تھے۔]
___________________­­__________________

بیٹے کے زندہ بچ کی خوشی اور معزور ہوجانےکا غم برابر تھا ۔ ماں کا تو تو تو کر برا حال تھا۔

وارث بیگ شاہ بھی خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: