Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Last Episode 18

0

سنہری چاندنی از میمونہ زیب آخری قسط : 18

پانچ ماہ بعد۔۔۔۔۔

وہ کسی ریسٹورانٹ کا منظر تھا۔
سمندر کنارے۔۔۔

عشما، میکال، انجلین اور شہزور بیٹھے تھے۔
عشما کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھا میک کہنی پر چہرہ ٹکائے تھا۔ چٹکی کی آواز کے ساتھ انجلین بولی تھی۔ ہیلو۔۔۔ ایکسکیوزمی۔۔۔۔

یہاں تم دونوں کے علاوہ اور بھی لوگ ہیں۔
عشما ٹیبل پر انگلی سے اپنی انگوٹھی گھما رہی تھی۔ عشما جھکی نظریں اٹھا کر بولی تھی۔

ویسے مجھے لگتا ہے۔۔۔ ان دونوں نے آج ہمیں پہلی دفع دیکھا ہے۔۔۔
اب تم ہو ہی اتنی خوبصورت۔۔۔

میکال اور شہزور دونوں ایک ساتھ بولے تھے۔
کھلکھلاتی حسینائیں۔۔۔ اور بھی دلکش لگ رہی تھیں۔

عشما تمہیں پتا ہے جب یہ میکال پہلی بار مجھ سے ملا تھا اس کا منہ توڑنے کا دل کیا تھا۔
لیکن قسمت اچھی تھی یہ خوبصورت تھوبڑا بچ گیا۔

انجلین میکال کے منہ کی طرف اشارہ کر کے بولی تھی۔
انگلی کو چہرے کے اطراف میں گول دائیرے کی شکل میں گھما رہی تھی۔

خونخوار ۔۔۔
Oppss.

شہزور کے منہ سے نکلا تھا۔
کیپٹن صاحب ۔۔۔۔ زرا کنٹرول۔

میکال جیب میں ہاتھ ڈالتا کچھ تلاش رہا تھا۔
ایک دبا کر اشارہ کرتا بگ باس اٹھا تھا۔

ساتھ ہی شہزور بھی اٹھا۔
اگلے لمحے دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھے ہاتھ میں مڑا تڑا کاغز لئیے ہوئے تھے۔ اس پر کوئ تاریخ لکھی ہوئ تھی۔

یہ کیا؟
لڑکیاں خیران تھیں۔

جی نہیں ہم آپکو پرپوز نہیں کر رہے بس ایک فارمیلٹی ہے ۔
کیا آپ اپنی زندگی ہمارے ساتھ گزارنا پسند کریں گی۔

وہ یک زبان ہو کر بول رہے تھے۔
آپ کے پاس کوئ اپشن نہیں ۔

وہ دونوں دوسرے ہاتھ کی انگلی میں پہنی انگوٹھی بلند کرتے ہوئے بولے تھے۔
جو انکی منگنی کی نشانی تھی۔

ہاہا کیوں نہیں۔
عشما انجلین ہائ فایو مارتی ہنسی تھی۔

وہ دونوں سیدھے ہوئے اور ہاتھ بڑھا کر بولے تھے۔
!چلیں پھر

کہاں؟
انجلین کے پوچھنے پر شہزور جوابا بولا تھا۔ سوری ہمارے پاس یہاں فی الحال کوئ مولوی صاحب اویل ایبل نہیں ۔۔۔ نکاح خواہ کے پاس ہی جانا پڑے گا۔

وہ کندھے اچکا کر بولا تھا۔
ویسے تو مجھے عشما پسند ہے مگر شاید عیشال مجھ سے عشق کرتی ہے۔ میکال عیشال کا تھامتے بولا تھا۔

ہاں ۔
عیشال چونک کر اسے دیکھ رہی تھی۔

ویسے اہل میکال سے زیادہ عشما کو چاہتا ہے ۔ اور عشما بھی اہل ریان کو ۔
وہ اپنے اور میکال کے فرضی کرداروں کی الف نون عشقیہ داستان سنا رہی تھی۔

نکاح کی تقریب پہلے سے ہی پلین کی گئ تھی۔ گواہان کی موجودگی میں دونوں جوڑوں کو خوشحال زندگی کی دعائیں دی گئیں ۔
•••••••••••••••

آج کے بعد زندگی کے اوراق پر ہماری خوبصورت شامیں تحریر ہوں گی۔
•••••••••••••••

یہ وہ الفاظ تھے جو عیشال کی اپنے محرم کے ساتھ نئ زندگی کی شروعات تھے۔ اس تڑے مڑے کاغز پر محرموں کے ساتھ حج کی ادائیگی کی تاریخ لکھی تھی۔ میکال نے عیشال کی ہتھیلی پر سودی عرب کے دو ٹکٹ رکھے تھے۔
___________________­____________________­____________________­___________________

مشایل تم سوئ نہیں اب تک ۔
رات کے پچھلے پہر امان کی آنکھوں کھلی تھی۔ سائیڈ ٹیبل کی بتی میں مشا قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی۔ وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔

ان گزرے کچھ مہینوں میں مشا نے بہت تکلیف دیکھی تھی۔
آپ جانتے ہیں امان ۔

ازیت کیا ہوتی ہے۔۔۔؟
جب کوئ اپنا آپ کے سامنے اس دنیا کو چھوڑ دے .

جب آپکی زات پر سیاہی ملی جا رہی ہو .
جب آپ کے اپنے آپ کے خلاف ہو جائیں

جب محبت کی جگہ نفرت آجائے
جب آپ کے سارے خواب کرچی کرچی آپ کے سامنے بکھیر جائیں

وہ آنکھیں کبھی جو آپ کو دیکھنے کو تڑپے وہ آنکھیں آپ کو دیکھنا بھی گوارہ نا کریں
ازیت وہ ہوتی ہے جب اندھیرا آپ کے وجود کو دھواں دھو اں کردے آپ کی زات کا نام و نشان مٹا دے۔

امان پر سکون سا اسے دیکھ رہا تھا۔
مشا اٹھی تھی سامنے دیوار پر قرآن کریم کو اسٹینڈ پر غلاف میں لپیٹ کر رکھا۔

امان اس کے پیچھے گیا تھا۔
اس کے کندھوں پر سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور ماتھے پر مہر محبت لگا کر کہا۔

ہم ہمیشہ سے رات کے شر سے پناہ مانگتی ہیں۔
بے شک رات کی تاریکی میں کالے دھندے ، برائ عروج پر ہوتی ہے، مگر ۔۔۔

اللہ کے نیک بندے بھی تو رات کی تاریکی میں دنیا سے بے خبر اپنے رب سے رشتہ جوڑتے ہیں۔
یہ تو ہم پر ہے نا کہ ہم کیسا راستہ اپناتے ہیں۔

مگر امان میری زندگی میں تو صرف سیاہی اور اندھیرا ہی ہے۔
میری زندگی میں تو اکثر صرف تاریکی ہی آئ ہے۔

مشا غمگین سی بولی تھی۔
امی کا جانا پھر تہیم ۔۔۔

اس میں کیا بہتری ہو سکتی ہے؟
مشا شکوہ کر رہی تھی۔

بعض اوقات اللہ تعالئ ہمیں آزماتے ہیں کبھی کچھ دے کر اور کبھی کچھ لے کر۔
امی اور تہیم ۔۔۔ دونوں ہی اللہ کی امان تھیں ۔۔۔ اللہ تعالئ نے واپس لے لیں۔

اور ہمیں بھی تو لوٹ کر اسی زات کے پاس جانا ہے نا۔۔
امان اسے سمجھا رہا تھا۔

اور جہاں تک بات رہی تاریکی اور سیاہی کی تو۔۔۔
یہ رات کی تاریکی ہی تو ہے جو ہمیں سنہری چاندنی سے ملواتی ہے .

کیا تم نے محسوس کیا ہے؟
امی کے جانے کے بعد تم کتنی بدل گئ ہو۔۔۔

اللہ تعالئ سے تمہارا رشتہ گہرا ہو گیا ہے۔
ہم صرف اس پر دھیان دیتے ہیں جو فرضی ہے حقیقت سے دور۔

ایک مؤمن صرف موت کی تاریکی سے گزر کر ہی تو اپنے رب کے نور سے ملتا ہے۔۔۔۔
اندھیری قبر۔۔

ہی تو چمکتی روشن جنت تک جانے کا دروازہ ہے۔
اور یہ سیاہ سفید تو ہمارے ذہن کا فتور ہے۔۔۔۔

ہماری مکمل حیات انہی دو رنگوں کے درمیان بھٹکتی ہے۔
اندھیرے سے روشنی میں کھلتی آنکھیں ۔

گناہوں کی کالک سے عبادت و توبہ کے نور تک۔
حج کو دیکھو کتنی بڑی عبادت ہے۔۔۔ کالے غلاف میں لپٹے خانہ کعبہ کے گرد سفید احراموں میں ملبوس حاجی۔

ہماری زندگی کا نچوڑ بھی تو بالوں کی سیاہی سے لے کر سفید چاندی کے درمیان ہے۔
تاریک شب ۔۔۔روشن سویرا۔۔

اور۔۔
ہمارا آخیر۔۔

سفید کفن اور اندھیری قبر۔۔۔
مشا یہ فلسفہ سمجھ چکی تھی۔

واقعی۔۔۔
سنہری چاندنی تک پہنچنے کے لئیے تاریک رات نہایت ضروری ہے۔

امان آپ میری ایک بات مانیں گے۔
مشا امان کے کندھے سے لگی اس کے سینے پر ہاتھ رکھے پر سکون دھڑکتے دل کو محسوس کر رہی تھی۔

میں تمہاری ہر بات مانوں گا۔
وہ سچ بول رہا تھا۔

میں آپکے ساتھ ہمیشہ تجہد ادا کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
وہ مسکرایا تھا۔

اب جو لڑکی اپنے حق مہر میں سورۂ رحمن بمع ترجمہ یاد کرنے کا کہے گی وہ اپنی زندگی میں اپنے محرم کے ساتھ باجماعت تجہد کی ہی فرمائش کر سکتی ہے۔۔۔۔
اس وقت شاید امان کا دل اپنے رب کی یہی آیت دہرا رہا تھا۔

•••••••••••
اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

••••••••••
تاریک رات میں سرمئ آسمان پر دور تاروں کے بیچ چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔

مشایل وضو کر کے امان کے برابر میں مگر زرا سا پیچھے جائے نماز بچھائے تجہد کی نیت باندھ رہی تھی۔
——————————————————————————–

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: