Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 1

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 1

–**–**–

چڑھا جو مجھ پے سرور ہے
اثر تیرا یہ ضرور ہے
تیری نظر کا قصور ہے
دلبر دلبر
آ پاس آ تو کیوں دور ہے
یہ عشق کا جو فطور ہے
نشے میں دل تیرے چور ہے
دلبر دلبر
تو ہوش نہ خبر ہے
یہ کیسا اثر ہے
ہوش نہ خبر ہے
یہ کیسا اثر ہے
تم سے ملنے کے بعد دلبر
شاہ طائرانہ نظر ڈالتا اندر آیا تو دوشیزائیں دھن پر رقص کر رہیں تھیں۔
مدھم جلتی روشنیوں میں رقص کرتی حسینائیں, اردگرد اندھیرا اور ان پر روشنیاں جل بجھ رہیں تھیں۔
کیا خوابناک ماحول بنا رکھا تھا۔
وہ آ کر اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو گیا۔
شاہ کی گہری نظریں وسط میں رقص کرتی حسن کے شاہکار پر تھیں۔
اسے ہمیشہ اس کی آنکھوں میں کچھ دکھائی دیتا نا جانے کیا تھا جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
تو میرا خواب ہے
تو میرے دل کا قرار
دیکھ لے جان من دیکھ لے
بس ایک بار
چین کھو گیا ہے
کچھ تو ہو گیا ہے
چین کھو گیا ہے
کچھ تو ہو گیا ہے
تم سے ملنے کے بعد دلبر
اپنے حسن کے تیر چلاتیں وہ بجلیاں گرا رہیں تھیں,وہاں موجود تمام عزت دار افراد مدہوشی کے عالم میں ان کے رقص سے لطف اٹھا رہے تھے,کچھ پیسے لٹانے میں محو تھے, کچھ شراب نوش فرما رہے تھے,
شاہ پرسکون سا تکیے سے ٹیک لگاےُ بیٹھا تھا۔
یہ حسینہ تھی جسے شاہ فرصت سے دیکھتا,, بھورے لمبے بال جو کمر سے نیچے تک جا رہے تھے, بھوری سحر انگیز آنکھیں جن پر گھنی پلکوں کی باڑ تھی,دودھیا رنگ سرخ رنگ کی لپ اسٹک سے پوشیدہ نازک لب, مہارت سے کیا گیا میک اپ اس پر ستم یہ کہ نازیبا لباس زیب تن کئے وہ آفت لگ رہی تھی۔
شاہ کے چہرے پر سنجیدگی تھی اگلے لمحے اس کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں, ایک شرابی ڈولتا ہوا اس قاتل حسینہ کی جانب بڑھ رہا تھا, شاہ اب دلچسپی سے اس منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا,
نشے میں مدہوش وہ مہرماہ کی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے قریب ہو گیا,
اب تو ہوش نہ خبر ہے
یہ کیسا اثر ہے
ہوش نہ خبر ہے
مہرماہ کی پشت اس شرابی کی جانب تھی جونہی اسے اپنی کمر پر کسی کے ہاتھ کا گمان ہوا تو جھٹکے سے مڑی,
یہ کیسا اثر ہے
تڑاخ…..
اس کے تھپڑ کی آواز سب کو ہوش میں لے آئی, تمام افراد پھٹی پھٹی نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
مہرماہ کی آنکھوں میں شعلے آٹھ رہے تھے, چہرے پر سختی عود آئی۔
موسیقی کی آواز بند ہو چکی تھی ایک سکوت سا چھا گیا تھا, خاموشی نے ڈیرے جما لئے۔
سب کے منہ پر قفل لگ گئے , مہرماہ نے اس شرابی کو گریبان سے پکڑ لیا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔۔” وہ حلق کے بل چلائی.
ساتھ ہی ایک اور تھپڑ اس کے گال کی زینت بنا دیا۔۔
نثار جٹ اس دوسرے تھپڑ سے ہوش میں آ گیا…
“مہرماہ میری جان ایسے نہیں کرتے۔۔۔”زلیخا بیگم طوفان سے پہلے سنائی دینے والی خاموشی کو سن کر اس کے پاس آئیں اور نثار جٹ سے دور کیا۔
مہرماہ بھوکی شیرنی بنی آس کی جانب لپکی۔
“اسے اندر لے جاؤ۔۔
وہ عقب میں کھڑی دوشیزہ کو گھورتی ہوئی بولیں۔
“انٹرسٹنگ۔۔۔” شاہ اس ڈرامے سے محظوظ ہوتا ہوا بولا..
بانی مہرماہ کو اندر لے جا چکی تھی۔
حسن کی ملکہ آنکھوں سے اوجھل ہوئی تو شاہ بھی کھڑا ہو گیا۔
دل کو بھانے کو اب کچھ نہیں بچا تھا۔
تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکلا,جیب میں ہاتھ ڈال کر چابی ٹٹولنے لگا,چابی نکال کر گاڑی میں بیٹھ گیا, گاڑی فل سپیڈ میں سڑک پر دوڑانے لگا۔
شاہ کی گاڑی دیکھ کر چوکیدار نے حویلی کا گیٹ کھول دیا۔
شاہ نے گاڑی پورچ میں روکی, باہر نکلا شانے پر رکھی شال کو درست کیا اور اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
****//////****
حرم دوپٹہ سنبھالنی چل رہی تھی۔
دوپٹہ زمین پر صفائی کر رہا تھا جسے اٹھانے کے باعث اس کا چہرہ نیچے جھکا ہوا تھا۔
اسی لمحے حرم ایک فولادی سینے سے ٹکرائی۔
“آؤچ۔۔۔۔” وہ چہرہ اوپر اٹھاےُ پیشانی مسلتی ہوئی اس نفس کو دیکھنے لگی جو اندھوں کی طرح چل رہا تھا۔
“نظر نہیں آتا تمہیں۔۔۔۔مقابل اس پر برس پڑا۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“آمنہ یہ تو وہی بات ہوئی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔۔۔” حرم اپنی پہلو میں کھڑی سہیلی کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔
“ہیلو میڈم وہاں کیا کھسل پھسل کر رہی ہو میں بات کر رہا ہوں تم سے, لگتا ہے آنکھوں کے ساتھ ساتھ کان بھی ایکسپائر ہیں۔۔۔۔” وہ چبا چبا کر بولا۔
“وہ میں تو دیکھ کر ہی چل رہی تھی۔۔۔۔”حرم نے کمزور سی دلیل دی۔
کہاں نیچے زمین پر؟ آنکھیں بھی پھر پاؤں پر لگوا لو تم۔۔۔۔” وہ ہنکار بھرتا چلنے لگا۔
اس کا دوست زمین پر گری بکس اٹھانے لگا ایک گھوری سے حرم کو نوازتا آس کے عقب میں چل دیا۔
حرم چہرہ موڑ کر اس بد دماغ کو دیکھنے لگی جو بولتا ہوا چہرہ موڑے حرم کو گھور رہا تھا۔
“پاگل انسان۔۔۔۔”حرم نے بڑبڑاتے ہوۓ چہرہ آگے کر لیا۔
“تم سامنے دیکھتی نیچے کیا پیسے ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔” چند قدم کی مسافت طے کرنے کے بعد آمنہ بول پڑی۔
” میں دوپٹہ اٹھا رہی تھی اب مجھے کیا معلوم تھا سامنے سے وہ جاہل انسان آ رہا ہے پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو۔۔۔۔”حرم پیشانی پر بل ڈالتی کوفت سے بولی۔
“تماشہ بنوا کر اب اچھے سے معلوم ہو گیا نہ کیا سمجھتا ہے۔۔۔۔” آمنہ باقی سٹوڈنٹس کی نظر میں اپنے لیے دیکھی گئی سبکی کے باعث بولی۔
“میری غلطی ہے نہ جاؤ تم بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔۔۔۔” حرم پیر پٹختی وہاں سے نکل گئ ۔
آمنہ اسے جاتا دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔
****//////****
“پتہ نہیں کس بات کا غرور ہے اس مہر کو۔۔۔۔” رانی سامنے بیٹھی مہر کو دیکھتی ہوئی سرگوشی کرنے لگی۔
“مجھے تو لگتا ہے بیگم صاحبہ کو کچھ گھول کر پلایا ہے یا پھر کوئی جادو ٹونہ کر رکھا ہے تبھی تو اس کے نخرے اٹھاتی ہیں۔۔۔۔” آئمہ بھی حسد کا شکار تھی۔
“رات اتنا بڑا ہنگامہ کیا اور دیکھو کیسے سکون سے بیٹھی ہے نہ ہی بیگم صاحبہ نے آ کر خبر لی۔۔۔۔” رانی مہر کو گھورتی ہوئی بولی۔
مہرماہ نزاکت سے ناخن تراشے میں محو تھی۔
“میں تو حیران ہوں یہ اس نے تیسرا تھپڑ مارا ہے اور ابھی تک ملکہ بنی بیٹھی ہے کوئی کچھ کہتا ہی نہیں۔۔۔۔”آئمہ صدمے سے بولی۔
“سنو, زلیخا بیگم کو کہ دینا آج میری پارلر میں آپوئنٹمیٹ ہے۔۔۔۔”وہ روشن پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“جی وہ نثار جٹ سے بات کر رہیں ہیں جیسے فارغ ہوتیں ہیں میں مطلع کر دوں گی۔۔۔۔”بانو کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔
“جب سے یہ منحوس آئی ہے مجھے تو کوئی پوچھتا ہی نہیں ہے پہلے سب کی زبانوں پر رانی کا نام ہوتا تھا۔۔۔۔”
رانی کی آنکھوں سے نفرت چھلک رہی تھی۔
“کیا کر سکتے ہیں اس نے ایسا سحر پھونکا ہے جس میں سب گرفتار ہو گئے ہیں اب تمہاری ہماری کیا وقعت۔۔۔۔” آئمہ آہ بھرتی ہوئی بولی۔
رانی سر جھٹکتی باہر چل دی۔
مہر نے نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔
وہ انہماک سے اپنے کام میں مشغول تھی البتہ کام اتنا اہم نہیں تھا لیکن اس کا یہی انداز تھا۔
“نثار جٹ تمہیں اچھے سے معلوم ہے نہ وہ کسی وہ اپنے پاس نہیں آنے دیتی پھر کیوں وہ حرکت کی۔۔۔۔” زلیخا بیگم ضبط کرتی ہوئیں بولیں۔
“یہ کیا بات ہوئی بھلا دور دور سے ہی دیدار کرواتی ہے پاس بھی تو آےُ نہ۔۔۔۔” وہ برا مان گیا۔
“اس کے علاوہ جس پر ہاتھ رکھے گا حاضر ہو جاےُ گی لیکن مہر ناممکن ہے۔۔۔۔” وہ قطعیت سے بولیں۔
“ہوں۔صرف تڑپاتی ہے۔۔۔۔” وہ ہنکار بھر کو بولا۔
“شکر کرو دیدار تو کرواتی ہے ورنہ ایسے انمول موتی کہاں ملتے ہیں۔۔۔۔” وہ بولتی ہوئیں اپنے تخت پر بیٹھ گئیں۔
“عجیب ہی کوئی مصیبت ہے۔۔۔۔” وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
“اب دوبارہ یاد رکھنا مہر کے پاس جانے کی غلطی مت کرنا ورنہ کل رات تو میں نے روک لیا دوبارہ بیچ میں نہیں آؤں گی۔۔۔۔” وہ چھالیہ منہ میں ڈالتی ہوئیں بولیں۔
“اور مجھے جو سب کے سامنے تھپڑ مارا وہ۔۔۔۔”
“تم کیا سب آشنا ہیں اس بات سے کہ مہر صرف رقص کرتی ہے پھر غلطی تمہاری ہے۔۔۔۔” وہ طمانیت سے بولیں۔
“آج رات پھر رانی کو میرے ساتھ کر دینا کل کا غم بھول جاؤں گا۔۔۔۔”
“رانی نے بھی قیمت بڑھا دی ہے جیب بھر کر لانا ۔۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“بیگم صاحبہ مہر کی جانب سے پیغام ہے۔۔۔۔” بانی اندر آتی ہوئی بولی۔
“کیا۔۔۔۔” وہ آبرو اچکا کر بولیں۔
“وہ کہ رہیں ہیں آج پارلر جانا یے۔۔۔۔”
“ہممم, اچھا میں آتی ہوں اس کے پاس۔۔۔۔” وہ پان منہ میں ڈالتی پاندان بند کرتیں ہوئیں بولیں۔
بانی سر ہلاتی نکل گئی۔
زلیخا بیگم جب کمرے میں داخل ہوئیں تو مہر بیزار سی بیٹھی تھی۔
وہ ایسی ہی تھی نہ کسی سے بات کرتی نہ بلاتی, چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ پتھر کی مورت بنی بیٹھی رہتی, احساسات سے عاری نہ کسی کے آنے سے فرق پڑتا نا جانے سے۔
“مہر تم ایسے کیوں بیٹھی ہو؟۔۔۔”
زلیخا بیگم اس کے بائیں جانب بیٹھتی ہوئیں بولیں۔
“میں ہمیشہ ایسے ہی رہتی ہوں آپ جانتی ہیں۔۔۔۔” مہر کا انداز جتانے والا تھا۔
“ہم نے بات کی ہے نثار سے آگے سے محتاط رہے گا, لیکن تم بھی تھوڑا خیال کیا کرو یہ تو عام سا بندہ تھا خاموش کروا دیا ورنہ لینے کے دینے پڑ جاتے اگر کوئی بڑی شخصیت ہوتی تو۔۔۔۔” زلیخا بیگم کھڑکی سے باہر جھانکتی ہوئیں بولیں۔
“اگر آئیندہ کوئی اور آیا میرے پاس تو نتیجے کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔۔۔۔” مہر نے باور کرانا بہتر سمجھا۔
“رانی اندر آؤ۔۔۔۔” زلیخا بیگم کی گرج دار آواز گونجی۔
مہر اکتا کر انہیں دیکھنے لگی۔
“رانی تم نے سنا نہیں۔۔۔۔” اب زلیخا بیگم قدرے چلا کر بولیں۔
رانی دانتوں تلے زبان دیتی اندر آئی, چہرے پر خوف کی لہریں واضح تھیں۔
“اس حرکت کو ہم کیا سمجھیں؟۔۔۔۔” وہ تیکھے تیور لئے بولیں۔
“وہ, وہ میں گزر رہی تھی یہاں سے بیگم صاحبہ۔۔۔۔”رانی نے عذر پیش کیا۔
مہر نفی میں سر ہلاتی اسے دیکھنے لگی۔
“باز آ جاؤ تم اپنی حرکتوں سے یہ مت سمجھو ہم ناآشنا ہیں۔۔۔۔” وہ گھورتی ہوئیں بولیں۔
“جی میں سمجھ گئی, مجھے آئمہ بلا رہی تھی میں جاتی ہوں۔۔۔۔” رانی تیز تیز بولتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
“رات کے لئے تیاری کر لینا, آج چودھری عنایت حسین بھی آئیں گے, تم ہمیشہ کی مانند آخر میں آنا۔۔۔۔” وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولیں۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔” مہر منہ بناتی ہوئی بولی۔
****//////****
“جانتے ہو کل رات کوٹھے پر جو تماشہ لگا۔۔۔۔” شاہ کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتا ہوا بولا۔
“میں خوشنصیب تھا جو عین اس وقت پہنچا ورنہ مس ہو جاتا۔۔۔۔” عدیل مسکراتا ہوا بولا۔
“کیا نام ہے اس کا, ہاں مہر,آخر سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔۔۔” شاہ ریوالونگ چئیر کو دائیں بائیں ہلاتا ہوا بولا۔
“بس یار کوٹھے کی شان ہے وہ تبھی مغرور ہے ویسے غرور اس پر ججتا بھی ہے۔۔۔۔” عدیل کی آنکھوں کے سامنے مہر کا دلکش سراپا آ گیا۔
شاہ لب بھینچے چئیر موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا؟۔۔۔۔” شاہ کو خاموش پا کر وہ پھر سے گویا ہوا۔
“کچھ نہیں بس اس نیوز کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔” شاہ اپنی سوچوں کو جھٹکتا ہوا بولا۔
“کون سی نیوز؟۔۔۔۔”
عدیل کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“وہ جو دو دن پہلے چلائی تھی, منی لانڈرنگ کی, ایکٹریس حریم ستار کی۔۔۔۔” شاہ اس کی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔
“اووہ اچھا وہ۔۔۔۔”
عدیل اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“مجھے دھمکی دے رہی تھی میں اس نیوز کو اڑانا بند کر دوں۔۔۔۔”بولتے بولتے شاہ کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
“پھر تم نے کیا کہا۔۔۔۔” عدیل آبرو اچکا کر بولا۔
میز جو کہ دونوں کے وسط میں پڑا تھا شاہ نے اس پر سے قلم اٹھایا۔
“تجھے لگتا ہے میں کسی کی دھمکی سن کر ڈر جاؤں گا وہ بھی ایک لڑکی کی۔۔۔۔” شاہ تمسخر اڑاتا ہوا بولا۔
“ویل, اچھا کیا اس حریم ستار کو بھی معلوم ہونا چائیے نہ۔۔۔۔” عدیل دانت پیستا ہوا بولا۔
“کافی پئے گا۔۔۔۔” شاہ ریسیور اٹھا کر بولا۔
“پلا دے گا تو باہر نہیں آ جاےُ گی۔۔۔۔” عدیل منہ بناتا ہوا بولا۔
شاہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری جسے دباتے ہوۓ وہ ریسیور کان سے لگاےُ بولنے لگا۔
****//////****
“اس دفعہ اگر گندم کا ریٹ گرایا تو تمہاری چھٹی کر دیں گے ہم۔۔۔۔” وہ رعب و دبدبہ سے بولے۔
“جی کمال صاحب۔۔۔۔” مقابل گھبرا کر بولا۔
“شاہ ویز۔۔۔۔” کمال صاحب کی گرج دار آواز گونجی۔
شاہ ویز منہ کے عجیب عجیب زاویے بناتا ان کے پاس آ گیا۔
“جی بابا سائیں۔۔۔۔” وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا۔
“ہم دیکھ رہے ہیں تم گھر سے غائب رہنے لگے ہو۔۔۔۔” وہ تفتیشی انداز میں بولے۔
شاہ ویز نے صفدر کو گھوری ڈالی تو وہ ایک لمحے میں غائب ہو گیا۔
“تو کیا لڑکیوں کی طرح گھر میں بیٹھا رہوں۔۔۔۔” وہ بیزاری سے بولا۔
“دو دن بعد تم گھر میں قدم رکھ رہے ہو کہاں غائب تھے۔۔۔۔” وہ شاہ ویز کو ایسے دیکھ رہے تھے مانو اندر باہر کیا چل رہا سب معلوم کر لیں گے۔
“بابا سائیں دوستوں کے ساتھ تھا, کہاں جانا ہے میں نے؟۔۔۔۔” اب کہ وہ سنبھل کر بولا۔
“کسی کام کاج میں لگو یہ کیا فراغت میں وقت کا ضیاع کر رہے ہو۔۔۔۔” ان کی آواز میں دبہ دبہ غصہ تھا۔
“اچھاااا ۔۔۔۔” شاہ ویز اچھا کو لمبا کرتا وہاں سے نکل گیا۔
کمال صاحب ہنکار بھرتے اسے دیکھنے لگے۔
****//////****
آج شاہ وقت سے قبل ہی آ گیا, اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو کر وہ غائب دماغی سے رقص کرتی طوائفوں کو دیکھ رہا تھا, منتظر تو وہ مہر کا تھا۔
مہر ستون کے عقب سے نمودار ہوئی چہرے پر خفگی سجاےُ وہ مقابل پر برس رہی تھی۔
شاہ دلچسپی سے اس صنف نازک کا جائزہ لے رہا تھا۔
شاہ اسے گہری نظروں کے حصار میں لئے ہوۓ تھا, اس کی نظروں کی تپش تھی یا کچھ اور مہر نے نگاہ اٹھا کر اس سمت دیکھا جہاں شاہ براجمان تھا۔
آنکھیں بے تاثر تھیں, ایک لمحہ تلف ہوا تھا اور وہ پھر سے نگاہوں کا زاویہ موڑا گئ ۔
شاہ کے لب دھیرے سے مسکرا رہے تھے۔
“کچھ تو ہے اس میں۔۔۔۔” وہ کش لیتا ہوا بولا۔
گھنی مونچھوں تلے عنابی لبوں سے دھواں اڑاتا وہ مہر کو ہی دیکھ رہا تھا۔
سرمئی دھواں کے پار وہ قاتل حسینہ کھڑی تھی۔
ماربل کے فرش پر گورے پیر رکھتی وہ چلتی ہوئی آ رہی تھی۔
اردگرد لوگ تکیے لگاےُ بیٹھے تھے۔
وہ وسط میں آ کر کھڑی ہو گئی۔
تمام نگاہیں اس پر اٹھیں, لوگ بےصبری سے اسے دیکھ رہے تھے۔
دھن بجنی شروع ہوئی موسیقی سنائی دینے لگی۔
پھینکے نظر کے سکے اس نے
بک گئی ہوں میں
اس نے جو چھو لیا تو
ہاےُ
مہر اپنی اداؤں سے سب کے دلوں کے تار چھیڑ رہی تھی۔
لگے کہ نئی ہوں میں
یوں تو پریمی پچھتر ہمارے
لے جا تو کر ستتر اشارے
دل میرا
مفت کا
خوامخواہ ہی ترستے بیچارے
لے جا تو کر ستتر اشارے
دل میرا
مفت کا
دل کے دکاندار ہیں دوسرے بھی
ہم تھوڑا اچھے ہیں وہ ہیں فریبی
نی میں کمی نہ میں کملی نی میں کملی
ہاں
دل کے دکاندار ہیں دوسرے بھی
ہم تھوڑا اچھے ہیں وہ ہیں فریبی
مہنگا ہے دل سب کے بس کا نہیں یہ
بکنا ہے پر تیری خاطر مجھے بھی
آج بازار ہی بک گیا رے
لے جا تو کر ستتر اشارے
دل میرا
مفت کا
یوں تو پریمی پچھتر ہمارے
لے جا تو کر ستتر اشارے
دل میرا
مفت کا
نوٹوں کی برسات ہو رہی تھیں۔
مہر اپنا جلوہ دکھانے میں محو تھی۔ جبکہ شاہ اس کی آنکھوں میں کچھ تلاش رہا تھا۔
موبائل کی رنگ ٹون نے شاہ کی یکسوئی کو توڑا۔
بابا سائیں کا نام جلتا بجھتا دیکھ کر شاہ کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
عدیل کی جانب پیسے اچھال کر اشارہ کرتا باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
“جی بابا سائیں۔۔۔۔۔” شاہ فون کان سے لگاےُ باہر نکل آیا۔
“کہاں ہو تم۔۔۔۔” وہ نرمی سے بولے۔
“خیریت۔۔۔۔” شاہ نے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔
“شاہ ویز کا معلوم کرو ہم نے سنا ہے آج کل برہان کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔” وہ ناگواری سے بولے۔
“مطلب آج بھی گھر پر نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔” شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
“نہیں اسی لئے تو تمہیں فون کیا ہے۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے میں معلوم کرواتا ہوں۔۔۔۔۔” شاہ نے کہ کر فون بند کر دیا۔
برہان کے نام پر چہرے پر ناگواری عود آئی۔
“شاہ ویز کا بھی دماغ خراب ہے۔۔۔۔۔” شاہ بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
***********
“یار یہ ازلان مجھے ایسے گھورتا ہے جیسے میں نے اس کا قرضہ دینا ہو۔۔۔۔۔”
حرم خود پر ازلان کی خونخوار نظریں محسوس کرتی ہوئی بولی۔
“پوچھ لو شاید تم نے اس کی بھینس کھولی ہو۔۔۔۔”
آمنہ نہایت سنجیدگی سے بولی۔
حرم قہقہ لگاتی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان چہرہ موڑے ناگواری سے انہیں دیکھنے لگا۔
وہ سب اس وقت کلاس میں بیٹھے تھے اور چند سٹوڈنٹس ہی تھے باقی سب باہر تھے۔
“لو اب بندہ ہنس بھی نہیں سکتا۔۔۔۔” حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“تمہیں معلوم نہیں اس کے باپ کی یونی ہے, یہاں کی ایک بھی اینٹ ایسی نہیں جو اس کے باپ نے لگوائی نہ ہو۔۔۔۔۔”
آمنہ جل کر بولی۔
“دفع کرو تم کیوں اپنا بی پی شوٹ کر رہی ہو۔۔۔۔” حرم اس کے گال کھینچتی ہوئی بولی۔
“ویسے آمنہ پتہ ہے میرا کیا دل کرتا ہے۔۔۔۔” حرم ازلان کو نگاہوں کے حصار میں لیتی ہوئی بولی۔
“کیا۔۔۔۔۔” آمنہ آبرو اچکا کر بولی۔
“یہ جو ازلان ہے نہ اسے گدھے پر بٹھا کر پوری یونی کا چکر لگوانا چائیے۔۔۔۔۔”
حرم خود کو قہقہ لگانے سے باز رکھتی ہوئی بولی۔
“خیالات تو بہت نیک ہیں۔۔۔۔۔” آمنہ ازلان کے خاموش بیٹھے گروپ کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔
“دونوں میلے میں بچھڑے ہوۓ بھائی لگتے ہیں۔۔۔۔” حرم قہقہ لگاتی ہوئی بولی۔
آمنہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی۔
“بس کرو اسے معلوم ہو گیا نہ وہ آندھی طوفان کی طرح ہمارے سر پر آ پہنچے گا۔۔۔۔”
آمنہ سر جھٹکتی نگاہیں فون پر مرکوز کیے چلنے لگی۔
“کہاں۔۔۔۔” حرم کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“یار وہ انشرح آئی ہے۔۔۔۔” آمنہ میسج ٹائپ کرتی ہوئی بولی۔
“یقیناً کہ رہی ہو گی لینے آؤ۔۔۔۔۔” حرم اس کے عقب میں چلتی ہوئی بولی۔
“ہاں تمہیں پتہ تو ہے یونی میں ایک قدم اکیلے نہیں اٹھا سکتی۔۔۔۔” آمنہ محظوظ ہوتی چلنے لگی۔
“ایسا کرو تم اسے لے آؤ میں یہیں انتظار کرتی ہوں اور ہاں کینٹین سے کچھ لیتی آنا۔۔۔۔” حرم اب کہ ذرا چلا کر بولی۔
آمنہ ہاتھ ہلاتی نظروں سے اوجھل ہو گئ۔
حرم بیگ کندھے پر ڈالے ٹہلنے لگی۔
اسے اپنے عقب میں آہٹ سنائی دی۔
چہرہ موڑ کر دیکھا تو ازلان اس کے سر پر کھڑا تھا اگر ایک لمحے بعد وہ اپنے قدموں کو بریک لگاتی تو دونوں کی ٹکر ہو جاتی۔
“تم۔۔۔۔” حرم کا حلق خشک ہو گیا۔
“بلکل میں۔۔۔۔” وہ چبا چبا کر بولتا حرم کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
حرم الٹے قدم اٹھانے لگی۔
وہ خونخوار نظروں سے گھورتا حرم کی جانب آ رہا تھا اور حرم پیچھے ہوتی جا رہی تھی۔
حرم پیچھے ہوتی دیوار سے ٹکرائی۔
آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں۔
دوپٹہ اس سے سر ڈھلک کر شانے پر آ گیا تھا۔
“کیا کہ رہی تھی تم ابھی۔۔۔۔” وہ چہرے پر سختی لئے بولا۔
“میں نے کیا کہنا ہے بھلا۔۔۔۔” حرم اس کی آنکھوں میں دیکھتی بمشکل بول پائی۔
“اووہ تو تمہاری یاداشت حد سے زیادہ کمزور ہے جو پانچ منٹ پہلے کی گئ بات تم بھول گئی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان ضبط کرتا ہوا بولا۔
دونوں کے بیچ فاصلہ بہت زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں تھا۔
“دیکھو تم اس طرح غنڈہ گردی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔” حرم ہمت بندھائی ہوئی بولی۔
“میں کیا کر سکتا ہوں اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔۔۔۔۔” وہ حرم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا بولا۔
“بھائی نے منع کیا تھا کسی لڑکے سے فضول بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔”
حرم اس پاس دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔
“آئیندہ کوئی فضول گوئی سنی۔۔۔۔۔۔۔” ازلان انگلی اٹھاےُ بول رہا تھا جب حرم نے مداخلت کی۔
“ہاں آئیندہ میں کچھ نہیں بولتی ٹیپ لگا لی میں نے اب میرے آگے سے ہٹو کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے۔۔۔۔۔۔”
حرم اس کی بات کاٹتی فکرمندی سے بولی۔
ازلان چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ حرم کے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں گھبراہٹ اور خوف دکھائی دے رہا تھا۔
“دیکھتا ہے تو دیکھ لے میں ڈرتا نہیں کسی سے۔۔۔۔۔۔” ازلان کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
“تمہیں ڈر نہیں لگتا لیکن مجھے تو لگتا ہے نہ اب ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔” حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
کسرتی جسم رکھنے والا ہٹا کٹا ازلان اس کے مقابل اس طرح کھڑا تھا کہ اگر وہ ایک جانب سے نکلنے کی کوشش کرتی تو اس کے شانے سے ٹکرا جاتی۔
“نہیں ہٹ رہا میں پہلے مجھے حساب دو۔۔۔۔”
“کون سے کاروبار تمہارے ساتھ کئے ہیں جو حساب مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔”
حرم کی حالت ایسی تھی مانو کسی نے سولی پر لٹکا رکھا ہو۔
“ابھی جو میرے بارے میں بولا۔۔۔۔۔”
“سر آصف۔۔۔۔۔” حرم پوری آنکھیں کھولے دائیں جانب دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان ایک قدم پیچھے ہوا چہرہ موڑا تو راہداری میں کوئی بھی نہیں تھا۔
حرم موقع دیکھ کر کھسک گئ۔
تمہیں تو۔۔۔۔۔” ازلان اسے گھورتا ہوا بولا۔
حرم نے سپیڈ کھینچی اور وہاں سے غائب ہو گئ۔
ازلان محظوظ ہوتا واپس کلاس کی سمت آ گیا۔
“بدتمیز انسان ہر کسی پر اپنی دھونس جمانے کا شوق ہے اگر بھائی کو معلوم ہو گیا تو میری خیر نہیں۔۔۔۔۔”
حرم خود کلامی کرتی چلنے لگی۔
****//////****
“شاہ ویز کو بھیجو۔۔۔۔” شاہ آئینے کے سامنے کھڑا ملازم سے مخاطب تھا۔
وہ سر ہلاتا چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں شاہ ویز آنکھیں مسلتا نمودار ہوا۔
“بھائی اتنی صبح صبح۔۔۔۔” وہ شاہ کے سامنے آتا ہوا بولا۔
“رات کہاں تھے تم۔۔۔۔۔” شاہ اس کی شرٹ کا گریبان درست کرتا ہوا بولا۔
“بھائی دوستوں کے ساتھ ہی۔۔۔۔” شاہ ویز سنبھل کر بولا۔
“مجھ سے جھوٹ مت بولو اگر تمہیں کچھ کہ نہیں رہا تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ میں ناآشنا ہوں۔۔۔۔۔” شاہ سختی سے بولا۔
“بھائی وہ۔۔۔۔” شاہ ویز مناسب بہانہ تلاشنے لگا۔
“آج سے تم شہریار کے ساتھ کام کرتے دکھائی دو بہت ہو گئ آوارہ گردی۔۔۔۔۔” شاہ چہرہ موڑ کر سٹڈ لگاتا ہوا بولا۔
“جی بھائی۔۔۔۔۔” شاہ کے سامنے کسی کی نہیں چلتی تھی۔
“اور ہاں برہان کے ساتھ دکھائی دئیے تو دوبارہ تم کسی کو دکھائی نہیں دو گے ابھی نرمی سے سمجھا رہا ہوں سمجھ جاؤ۔۔۔۔۔۔” شاہ چبا چبا کر بولا۔
شاہ ویز جو کہ دروازے کی سمت بڑھا رہا تھا تھوک نگلتا شاہ کو دیکھنے لگا۔
“جا سکتے ہو اب۔۔۔۔۔” شاہ کوٹ پہنتا ہوا بولا۔
شاہ ویز بنا کچھ بولے باہر نکل گیا۔
“بابا سائیں نے بتایا ہو گا بھائی کو۔۔۔۔۔” وہ بولتا ہوا اپنے کمرے میں آ گیا۔
“اب نیند کہاں سے آےُ گی موت کی ردا سنا دی ہے بھائی نے۔۔۔۔” وہ بولتا ہوا بیڈ پر گر گیا۔
“ہاےُ کیا کمال تھی عینی, میری بانہوں میں,اف۔۔۔۔۔” وہ گزشتہ رات کا منظر یاد کرتا ہوا بولا۔
“اب بھائی کو معلوم ہو گیا تو سارے مزے بھی ختم, نہیں نہیں میں برہان سے بات کروں گا کوئی نہ کوئی حل تو وہ نکال ہی لے گا۔۔۔۔” شاہ ویز کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔
فون اٹھایا تو عینی کا نام جگمگا رہا تھا۔
“گڈ مارننگ بےبی۔۔۔۔” عینی کو جواب دے کر موبائل سینے پر رکھے وہ چھت کو گھورنے لگا۔
****//////****
“زہے نصیب شاہ صاحب آپ خود تشریف لاےُ ہیں۔۔۔۔
مصطفی شاہ کو دیکھ کر زلیخا بیگم کا دل باغ باغ ہو گیا۔
شاہ جواب دئیے بنا بیٹھ گیا۔
شلوار قمیص پہنے شانوں پر شال اوڑھے وہ اپنی وجیہہ شخصیت سے مقابل کو مرعوب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔
“آج آپ مجرے سے لطف اندوز نہیں ہو رہے۔۔۔۔” زلیخا اسے اس پہر دیکھ کر حیران تھی۔
“مجھے اس کوٹھے سے ایک لڑکی چائیے صرف ایک رات کے لیے۔۔۔۔۔”
شاہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاےُ بیٹھا تھا۔
“حکم کریں حضور بھلا یہ ناچیز آپ کو کیسے انکار کر سکتی۔۔۔۔۔” زلیخا کا چہرہ کھل اٹھا۔
اس کا خیال تھا کہ شاہ رانی کے متعلق کہ رہا ہو گا۔
“مہرماہ۔۔۔۔۔” شاہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
زلیخا کی خوشیوں پر اوس پڑ گئ۔
چہرے پر فکر نمایاں تھی۔
“شاہ صاحب آپ کو انکار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی لیکن آپ بخوبی واقف ہیں مہر صرف رقص کرتی ہے۔۔۔۔۔” وہ سنبھل کر بولی۔
“میں نے بتایا ہے پوچھا نہیں چائیے تو مطلب چائیے۔۔۔۔۔”
شاہ زور دے کر بولا۔
“یہ کیسی مصیبت آن پڑی ہے نہ اگل سکتی ہوں نہ نگل سکتی ہوں۔۔۔۔۔” زلیخا شاہ کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔
“شاہ صاحب مہر کے علاوہ جس لڑکی پر ہاتھ رکھیں گے وہ آپ کی لیکن مہر کا ممکن نہیں میں نے زبان دی ہے اسے, وہ یہ کام نہیں کرنا چاہتی, آپ سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔”
زلیخا سے جو بات بنی اس کے گوش گزار کر دی۔
“دو دن کا وقت دے رہا ہوں تیسرے دن مہر کو لینے آؤں گا میں۔۔۔۔۔۔”
شاہ حتمی انداز میں فیصلہ سناتا کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا۔
زلیخا ہاتھ مسلتی اسے جاتا دیکھنے لگی۔
“قیمت تو بہت ملے گی لیکن مہر کو بھی زبان دے چکی ہوں وہ راضی نہیں ہو گی, کچھ نہ کچھ تو سوچنا پڑے گا۔۔۔۔۔”
وہ ٹہلتی ہوئی بولنے لگی۔
شاہ باہر نکلا تو مہر رقص میں محو تھی۔
ایک نظر اس پر ڈالتا باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
****//////****
“یار ازلان مرضی ہے تو نے ہمیں کچھ بتایا ہی نہیں وقاص عرف وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“کیا۔۔۔۔۔” ازلان پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
“یار وہ جو حرم ہے تجھ سے ٹکرائی تھی بھول گیا۔۔۔۔”
“کیا بتاؤں؟۔۔۔۔۔۔” ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“تو گیا اس کے پیچھے پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔” سیفی اشتیاق سے بولا۔
ازلان قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔
سیفی ہنکار بھرتا پھر سے کتاب پر جھک گیا۔
“تم سب تو ایسے پوچھ رہے ہو جیسے میں ڈیٹ پر گیا تھا اور اب جاننا چاہتے ہو کہ باپ بننے کی خوشخبری کب سناؤں گا۔۔۔۔۔”
ازلان سمیت باقی سب بھی ہنسنے لگے۔
“باپ بھی بن جاےُ گا اتنی جلدی کیا ہے بھائی۔۔۔۔۔” وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“اوو یار وہ جو میری جی ایف تھی نہ۔۔۔۔”
سیفی پھر سے سر اٹھا کر بولا۔
” وہ جس کے بال گھوڑے کی دم جیسے ہیں۔۔۔۔۔ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
سیفی قہقہ لگاتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“کیا وہ خوشخبری سناےُ گی؟۔۔۔۔۔” ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“لڑکا ہو گا یا لڑکی۔۔۔۔۔” وکی اس کے عین سامنے آتا ہوا بولا۔
“بھئ گود بھرائی کی رسم تو میں کروں گا۔۔۔۔۔”زین کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
“مرو تم لوگ بکواس کر لو میری مت سننا۔۔۔۔” سیفی جی بھر کے بدمزہ ہوا۔
“چل چل بول تو۔۔۔۔” ازلان کھڑکی میں بیٹھا اسے اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“مجھے کہتی بےبی گفٹ دو۔۔۔۔” سیفی پرجوش سا بولا۔
“پھر تو نے کھوتا گفٹ کر دیا کیا؟۔۔۔۔۔” وکی نے پھر سے ٹوکا۔
“اگلی بار تجھے دوں گا گفٹ میں۔۔۔۔” سیفی سلیپر پھینکتا ہوا بولا وکی نیچے ہوا اور وہ دیوار کو جا لگا۔
سب کے قہقہے فضا میں گونجے۔
“اب سنو میں نے اس کے باپ کو تصویریں بھیج دیں چنگی کُوٹ پڑی پھر۔۔۔۔” سیفی قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
“یار تیرے والی فری ہے تو پھر مجھے دے دے کچھ دن کے لیے۔۔۔۔”
“بھائی تو ہی رکھ لے میری تو جان کھا گئ ہے جتنے میں اس کو گفٹ دلواتا ہوں اتنے میں مہینے کا راشن آ جاےُ۔۔۔۔”
سیفی بےچارگی سے بولا۔
سیفی کی شکل دیکھ کر سب قہقہے لگانے لگے۔
“وکی تجھے میں نے کوئی کام بولا تھا؟۔۔۔۔۔” ازلان فون سے نظریں ہٹاتا سنجیدگی سے بولا۔
“یار ذوناش گھر گئ ہے اس کی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں اب وہ واپس آےُ گی تو تیری بات بنے گی۔۔۔۔” وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
ازلان خاموش ہو کر سوچنے لگا۔
“کیا ہو گیا بھائی؟۔۔۔۔۔” سیفی اسے دیکھتا ہوا بولا۔
ازلان نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“کہاں؟۔۔۔۔۔” سیفی اس کی پشت کو دیکھتا ہوا بولا۔
“تمہیں ماموں بنانے جا رہا۔۔۔۔۔” ازلان ہانک لگاتا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
کمرے میں سب کے قہقہے گونجنے لگے۔
****///////****
مہر بال خشک کر رہی تھی جب اسے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔
مہر برش رکھتی کمرے سے باہر نکل آئی۔
راہداری میں کھڑی ہو کر سمت کا تعین کرنے لگی۔
پھر چلتی ہوئی آگے آ گئی ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے میں مہر کو ایک لڑکی دکھائ دی۔
“پلیز مجھے جانے دو میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔” وہ روتی ہوئی منت سماجت کر رہی تھی۔
مہر کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔
“طوائف بننا اتنا آسان نہیں یہ طعنے دینے والے لوگ کیا جانیں۔۔۔۔۔”
مہر اس نو عمر لڑکی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
چہرہ آنسوؤں سے تر تھا وہ بانی کے سامنے گڑ گڑا رہی تھی جو مسلسل اسے جھٹک رہی تھی۔
طوائف ہونا کیا ہے
حقارت کے تیز اچھالنے والے کیا جانیں۔
ہوتی ہے کتنی تکلیف قبر میں
اوپر سے پھول چڑھانے والے کیا جانیں۔
مہر چلتی ہوئی اندر آ گئی۔
“کیا ہوا بانی۔۔۔۔۔”
بانی اس کی آواز پر چونک گئی کیونکہ وہ بہت کم کسی کو خود سے مخاطب کرتی۔
“کچھ نہیں بس یہ آج آئی ہے نہ اس لئے تنگ کر رہی ہے۔۔۔۔۔”
بانی اس لڑکی پر غصیلی نگاہ ڈالتی ہوئی بولی۔
مہر چلتی ہوئی آگے آئی تو پائیل کی جھنکار سنائی دینے لگی۔
لڑکی چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
مہر کو اس پر ترس آ رہا تھا لیکن یہ جگہ ترس کھانے والوں کے لئے نہیں بنی۔
“تمہیں ایک عقلمندانہ مشورہ دیتی ہوں۔۔۔۔۔” مہر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی بولی۔
“پلیز مجھے یہاں سے باہر لے جائیں یہ لوگ مجھ سے,, نہیں کر سکتی میں وہ سب۔۔۔۔۔”
وہ زور سے آنکھیں میچ کر بولی۔
“جو یہ کہ رہے ہیں خاموشی سے مان لو کیونکہ ہتھیار تو تمہیں ہی ڈالنے ہوں گے ورنہ خسارہ صرف تمہارا ہو گا۔۔۔۔۔۔”
مہر کے لہجے میں ٹھراؤ تھا۔
وہ تڑپ کر مہر کو دیکھنے لگی۔
“یہاں تقریباً روز ہی لڑکیاں آتی ہیں اگر تمہیں لگتا ہے کہ رو دھو کر یہاں سے چلی جاؤ گی تو بےسود ہے۔۔۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“پلیز ایسا مت کہیں۔۔۔۔”
وہ آس بھری نظروں سے مہر کو دیکھنے لگی جو نرم لہجے میں بات کر رہی تھی جبکہ بانی اس پر برس رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: