Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 10

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 10

–**–**–

اللہ معاف کرے ایسی لڑکیوں سے اپنی ماں کو تو کھا گئی اب ہمارے گھر بھی فساد برپا کرنے آ گئی۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئیں اندر کی جانب چل دیں۔
حرائمہ مرے مرے قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔
مہر اس کے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھ کر اس کی جانب آئی۔
“کیا ہوا حرائمہ؟ معلوم ہوا کچھ؟”
حرم اسے شانوں سے تھامتی ہوئی بولی۔
حرائمہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
“نہیں آئیں گیں وہ اب کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔”
حرائمہ آنسو بہاتی بول رہی تھی۔
“کیا مطلب؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“چلی گئیں وہ۔ میں آخری بار انہیں دیکھ بھی نہ سکی۔۔۔”
حرائمہ نے سسکتے ہوۓ سر مہر کے شانے پر رکھ دیا۔
مہر کی آنکھوں میں بھی نمی تیرنے لگی کچھ وقت قبل وہ بھی اسی نوعیت کے کرب سے گزری تھی۔
مہر اس کا سر تھپکنے لگی۔
حرائمہ کو جیسے ہی اردگرد کا احساس ہوا مہر سے الگ ہو گئی۔
دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
حرائمہ نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکی۔
“اگر تم ٹھیک نہیں تو ہم گھر۔۔۔۔”
“نہیں آپی میں ٹھیک ہوں آپ میری وجہ سے اپنا جانا ملتوی مت کریں۔ آپ کی طبیعت زیادہ اہم ہے۔۔۔”
حرائمہ اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
مہر جانتی تھی وہ ٹھیک نہیں ہے لیکن اپنی طبیعت کے باعث وہ بھی مجبور تھی۔
“ٹھیک ہے آ جاؤ زیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔۔”
مہر گاڑی کی جانب چلتی ہوئی بولی۔
حرائمہ خود پر قفل لگاتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
****////////****
“امی شاہ ویز بھائی اب واپس نہیں آئیں گے؟”
حرم معصومیت سے بولی۔
“پتہ نہیں شاہ نے تو بولا تھا اسے کہ جب سمجھ میں آ جاےُ بات تو آ جانا گھر کو اور وہ بے عقل ابھی تک واپس نہیں آیا نجانے کہاں مارا مارا پھر رہا ہو گا۔۔۔”
وہ فکرمندی سے بولیں۔
حرم کے سامنے اس رات کا منظر گھوم گیا۔
“امی آپ سوچ رہیں ہیں وہ مارا مارا پھر رہا ہو گا جب کہ وہ تو شاید گھوم پھر رہا ہو گا۔۔۔”
حرم تلخی سے سوچنے لگی۔
“چل آ نیچے بیٹھ مالش کرو تیرے سر میں بال کیسے خراب کر لئے ہیں۔۔۔۔”
وہ تیل اٹھاتی خفگی سے بولیں۔
“کہاں خراب ہوۓ ہیں امی سہی تو ہیں بلکل۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“میں نے جیرو کو بولا تھا دیسی گھر والا پراٹھا بنا کر دے گی وہ کھانا کیسی کمزور ہو گئی ہے۔۔۔”
وہ تیل لگاتی ہوئیں بولیں۔
“امی لسی نہیں پیوں گی میں۔۔۔”
حرم ناک چڑھاتی ہوئی بولی۔
ہلکی ہلکی دھوپ دونوں کو گرمائش بخش رہی تھی۔
“بچپن میں گلاس بھر بھر کر پیتی تھی اور اب تو ناک منہ چڑھانے لگ جاتی ہے۔۔۔”
وہ حرم نے سر پر چت لگاتی ہوئیں بولیں۔
حرم دھیرے سے مسکرانے لگی۔
“امی مصطفیٰ بھائی کہاں گئے؟ صبح سے دکھائی نہیں دے رہے۔۔۔”
حرم اپنے ہاتھوں کو گھورتی ہوئی بولی۔
“رات سے گیا ہوا ہے واپس ہی نہیں آیا دن رات کام میں ہی لگا رہتا ہے نہ کھانے کی ہوش نہ پینے۔۔۔۔”
“دکھائی بھی کیسے دیں گے آپ لوگ کون سا باہر نکلتے ہیں جو معلوم ہو گا۔۔۔۔”
شاہ ویز دھاڑتا ہوا آیا۔
“کیا ہو گیا آتے ہی چلانے لگا ہے؟”
ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔
شاہ ویز کو دیکھ کر حرم کے چہرے پر ناگواری در آئی۔
“آپ لوگ یہاں بیٹھے ہیں اور وہ شہر میں دو لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا ہوا بولا۔
“عقل تو ٹھکانے پر ہے نہ تمہارے بابا سائیں نے سن لیا تو بخشیں گے نہیں۔۔۔”
وہ حرم کو اٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئیں بولیں۔
“بلا لیں بابا سائیں کو میں جھوٹ نہیں بول رہا بلکہ میں تو کہتا ہوں مصطفیٰ بھائی کو بھی بلائیں۔۔۔”
وہ تاؤ کھاتا ہوا بولا۔
“چھوٹے عقل سے کام لے کیوں گھر میں فساد کھڑا کر رہا کے؟”
ضوفشاں بیگم کو اس کی عقل پر شبہ ہوا۔
کمال صاحب چہرے پر خفگی طاری کئے اِدھر آ نکلے۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
وہ گرج دار آواز میں بولے۔
شاہ فون کو دیکھتا ہوا گھر میں داخل ہوا تو آوازیں سن کر وہ بھی یہاں چلا آیا۔
“بھائی آگئے۔ بھائی بتائیں کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں؟”
شاہ ویز اس کے پاس آتا ہوا بولا۔
“شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“بھائی کیا آپ آج صبح دو لڑکیوں کے ساتھ اپنی گاڑی میں نہیں تھے؟”
شاہ ویز اس کی آنکھوں میں دیکھتا معصومیت سے بولا۔
شاہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔
نہ چہرے پر خوف تھا نہ فکر۔
“ہاں تھا میں دو لڑکیوں کے ساتھ تو؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
شاہ ویز گڑبڑا کر اسے دیکھنے لگا۔
اتنی صاف گوئی کی توقع اسے نہیں تھی۔
“شاہ یہ کیا کہ رہے ہو تم؟”
کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔
“بیوی ہے وہ میری بابا سائیں اس میں کیا برائی ہے؟”
شاہ بھرپور طمانیت سے بولا۔
شاہ ویز کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا شاہ؟” وہ غراےُ؟
“نکاح کیا ہے میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔۔۔”
شاہ کی آواز بلند ہوتی گئی۔
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
شاہ ویز لب بھینچے کبھی شاہ کو دیکھتا تو کبھی باقی سب کو۔
سب اپنی اپنی نشست پر ہقہ بقہ تھے۔
“پھر اسے یہاں کیوں نہیں لاےُ؟”
اب کہ وہ نرمی سے بولے۔
“ایک دو دن تک لانے والا تھا لیکن اب چونکہ سب کو معلوم ہو چکا ہے تو آج ہی لے آؤں گا۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
کمال صاحب اثبات میں سر ہلانے لگے۔
“تم نے تو کہا تھا شادی نہیں کرو گے؟”
ضوفشاں بیگم تیکھے تیور لیے بولیں۔
شاہ نے ایک اچٹتی نگاہ ان پر ڈالی۔
“اب یہ کس کو بیوی بنا لیا ہے؟”
وہ ہنکار بھرتی ہوئیں بولیں۔
“بابا سائیں سمجھائیں اپنی زوجہ کو میں نے ایک بے سہارا لڑکی کو اپنایا ہے اسے لے کر آتا ہوں۔۔۔”
شاہ کہہ کر واپس چلا گیا۔
“یہ تو اچھی بات ہے اس نے کسی بے سہارا کو سہارا دیا کیوں اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو؟”
کمال صاحب غصے سے گویا ہوۓ۔
ضوفشاں بیگم منہ بناتی چل دیں۔
حرم بےیقینی کی کیفیت میں گھری تھی۔
شاہ ویز باہر کو بھاگا۔
“بھائی؟”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“آئم سوری بھائی۔۔۔”
شاہ ویز ندامت سے سر جھکاتا ہوا بولا۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔”
شاہ نے مسکراتے ہوۓ اسے گلے لگا لیا۔
“کسی بہانے تو تم گھر آےُ اب سدھر گئے ہو نہ؟”
شاہ اسے اپنے سامنے کرتا ہوا بولا۔
“جی بھائی۔۔”
وہ سعادت مندی سے بولا۔
“اچھی بات ہے جاؤ اندر مجھے جانا ہے۔۔۔”
شاہ اس کا شانہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
وہ سختی کرتا تھا لیکن شاہ ویز سے محبت بھی بے حد کرتا تھا۔
حرم اپنی سوچوں میں غلطاں کمرے میں آ گئی۔
****///////****
حرائمہ گھر داخل ہوتی سیدھی اپنے کمرے میں آ گئی۔
آنسو جو وہ کب سے ضبط کئے ہوئے تھی تمام بندھ توڑ کر نکل آےُ۔
“امی آپ کیسے چلی گئیں مجھے چھوڑ کر؟
اس دنیا میں تنہا مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہیں آپ میرا تو آپ کے سواء کوئی بھی نہیں۔۔۔۔”
حرائمہ سر بیڈ پر رکھے زمین پر بیٹھی بلک رہی تھی۔
وہ دوہری اذیت سے گزر رہی تھی۔
“میں تو آپ کو دیکھ بھی نہ سکی کتنی بد نصیب ہوں میں امی دیکھیں آخری بار آپ کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکی میں تو۔۔۔”
حرائمہ ہذیانی انداز میں بول رہی تھی۔
“امی… کیوں چلی گئیں آپ… امی۔۔۔”
وہ اپنے حواس میں نہیں تھی نجانے کیا کیا بولے جا رہی تھی۔
“مہر الماری میں اپنے کپڑے رکھ رہی تھی جب اسے آہٹ سنائی دی۔
“شاہ تو ابھی گئے ہیں پھر کون ہو سکتا ہے؟”
مہر سوچتی ہوئی باہر نکل آئی۔
مہر نے ابھی کمرے سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ شاہ نے اس کی بازو پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔
“شاہ آپ! “
مہر کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں۔
“ڈرا دیا مجھے آپ نے۔۔۔”
مہر خفگی سے بولی۔
“وہ کیا ہے نہ میرا دل نہیں لگ رہا تھا اس لئے آ گیا۔۔”
شاہ کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
“اچھے سے جانتی ہوں میں آپ کو کسی کام سے آئیں ہیں بتائیں اب۔۔۔”
مہر اس کی گرفت میں کسمسائی۔
“تمہیں لینے آیا ہوں۔۔”
شاہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا۔
“مذاق کر رہے ہیں نہ؟”
مہر بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔
“آج تک تم سے مذاق کیا ہے؟”
شاہ حیرت سے بولا۔
“اب جلدی سے پیکنگ کرو اور میرے ساتھ چلو۔۔”
شاہ اسے آزاد کرتا ہوا بولا۔
“لیکن شاہ حرائمہ اس کا کیا ہو گا؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“ایسا کرتے ہیں اسے بھی ساتھ لے جاتے ہیں تمہاری بہن بنا کر کیسا خیال ہے؟”
شاہ دیوار سے ٹیک لگاےُ مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ بھی ٹھیک ہے اسطرح وہ بے سہارا نہیں رہے گی۔۔۔”
مہر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“اچھا بات سنو؟”
شاہ کے الفاظ پر مہر کے بڑھتے قدم تھم گئے۔
“جی؟”
وہ چہرے موڑے شاہ کو دیکھنے لگی۔
“میں نے سب کو یہی کہا ہے کہ تمہارے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اس لئے تم سے نکاح کر لیا۔ تم کوٹھے پر تھی اس بات کا علم کسی کو نہیں ہونا چائیے باقی میں سنبھال لوں گا۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں جھجھک تھی۔
مہر خود میں سمٹ گئی۔
ایک تلخ حقیقت جسے وہ چاہ کر بھی نوچ نہیں سکتی تھی۔
مہر اپنی سوچیں جھٹکتی کمرے میں چلی گئی۔
شاہ بھی اس کے پیچھے کمرے میں آ گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ تینوں نفوس حویلی میں کھڑے تھے۔
ضوفشاں بیگم کڑے تیور لئے مہر اور حرائمہ کو گھور رہیں تھیں۔
“امی؟”
شاہ گھورتا ہوا بولا۔
شاہ کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر وہ ماریہ کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
مہر شاہ کے پہلو میں بیٹھی مسلسل ہاتھ رگڑ رہی تھی۔
حرائمہ بھی سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔
“شاہ مجھے عجیب لگ رہا ہے؟”
مہر سرگوشی کرنے لگی۔
شاہ نے اسے نظروں سے تسلی دی۔
“ہو گئی آپ سب کی تشویش تو میں اب کمرے میں جاؤں؟”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“ہاں جاؤ۔ ہمیں تو بہت خوشی ہے تم نے بن ماں باپ کی بچیوں کو سہارا دیا۔۔۔”
کمال صاحب خوشی سے چہکے۔
ماریہ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
“میری بہن سے تو شادی کی نہیں یہ پتہ نہیں کون ہے جس کو اٹھا لاےُ ہیں۔۔۔”
وہ کدورت سے بولی۔
شاہ ویز کی نظریں مہر پر تھیں۔
دودھیا رنگت، خوبصورت نقوش کی مالک، ہلکی سی لپ اسٹک لگاےُ قیامت خیز لگ رہی تھی۔
شاہ ویز کا دل اس قاتل حسینہ پر آ گیا جو اس کے دل پر چھریاں چلا رہی تھی۔
شاہ نے مہر کو اشارہ کیا تو وہ کھڑی ہو گئی۔
“حرم تم حرائمہ کو اپنے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
شاہ حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔
“جی بھائی۔۔۔”
حرم کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
اسے یہ گھبرائی گھبرائی سی لڑکی اچھی لگی تھی جو نہ کہ حسین بلکہ معصوم بھی معلوم ہو رہی تھی۔
ایک ہفتہ خاموشی سے بیت گیا۔
مہر شاہ کے ہمراہ اس کی خواب گاہ میں تھی۔
“آج ہمارا ولیمہ ہے۔۔۔”
شاہ مہر کے سرہانے بیٹھتا ہوا بولا جو ابھی نیند سے جاگی تھی۔
مہر کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
“شاہ ایک بات پوچھوں؟”
مہر نے دماغ میں سر اٹھاتے سوال کو آج پوچھنے کا قصد کر ہی لیا۔
“ہاں پوچھو؟”
شاہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا نرمی سے بولا۔
“شاہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟”
مہر اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ کو اس سوال کی توقع نہیں تھی۔
“میں نہیں جانتا مہر لیکن سچ کہوں تو تم نے جو خوشی مجھے دی ہے نہ یہ سب اسی کے باعث ہو رہا ہے میرا خود میں تغیر و تبدل لانا، تمہیں عزت دینا شاید تم سے محبت ہو رہی ہے۔۔۔”
شاہ صاف گوئی سے بولا۔
“اور اگر آپ کو یہ خوشی نہ ملتی؟ یا پھر کچھ غلط ہو گیا پھر؟”
مہر کے دل میں وسوسے جنم لے رہے تھے۔
“جو ہوا نہیں جو ہونا نہیں اس کو سوچ کر کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو میں تم سے صرف وفا چاہتا ہوں بس اور کچھ بھی نہیں جس دن تم نے مجھ سے بے وفائی کی اس دن شاہ تمہیں اپنی زندگی سے بے دخل کر دے گا۔۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
مہر کا دل مانو کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
“شاہ میں مرتے دم تک آپ کے ساتھ وفا نبھاؤں گی۔۔”
مہر اس کے گرم ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں لیتی ہوئی بولی۔
شاہ نے اپنے لب مہر کے مرمریں ہاتھوں پر رکھ دئیے۔
“میری ایک بات ماننی ہو گی تمہیں۔۔۔”
شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“نماز پڑھا کرو۔ میں چاہتا ہوں ہماری اولاد نیک ہو۔۔۔”
شاہ دھیرے دھیرے بول رہا تھا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
حرم بار بار فون دیکھ رہی تھی لیکن وہ ہر بار کی مانند خاموش تھا۔
“ازلان تم مجھے بھول گئے ہو نہ؟”
حرم خفا خفا سی بولی۔
“اس دن کے بعد سے تم نے مجھ سے ایک بار بات نہیں کی۔۔۔”
وہ خود کلامی کر رہی تھی۔
ازلان کی دوری حرم کو اس کے قریب لا رہی تھی۔
جتنا وہ اس کے خیال کو جھٹکتی اتنی شدت سے وہ یاد آنے لگتا۔ اس پر ستم یہ کہ وہ خود بھی لاپرواہ بنا ہوا تھا حرم کی جانب سے اور حرم کو یہ بات تیز کی مانند چبھ رہی تھی۔
حرم نے دھیانی میں حرائمہ کو دیکھنے لگی جو نماز پڑھ رہی تھی۔
“کچھ لوگ کتنے بے بس ہوتے ہیں نہ ماں باپ اتنی جلدی چلے جاتے اور وہ کچھ نہیں کر پاتے۔۔۔۔”
حرم افسردگی سے سوچ رہی تھی۔
“اور ہمیں دیکھو کتنی نعمتیں ملی ہیں اتنا پیار ملا ہے۔۔۔”
حرم کو خود پر رشک آنے لگا تھا۔
“سچ میں انسان خود سے نیچے دیکھے تو معلوم ہوتا کہ اللہ نے اسے کتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔
اوپر دیکھے گا تو ہمیشہ ناشکری کرے گا۔
شکر کرنا کے تو خود سے نیچے والوں کو دیکھو جو نجانے کتنی محرومیوں میں جی رہے ہیں لیکن پھر بھی زبان پر شکوہ نہیں۔۔
“چھٹیاں ختم ہوں گیں تو آپ شہر چلی جائیں گیں؟”
حرائمہ کی آواز نے حرم کو اپنی سوچ کے محور سے نکالا۔
“ہا ہاں پھر میں ہاسٹل چلی جاؤں گی۔۔”
حرم اداسی سے بولی۔
“آپ ایم بی اے کر رہیں ہیں نہ؟”
حرائمہ نرمی سے استفسار کر رہی تھی۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“میں بھی ایم ایس سی کر رہی تھی۔۔”
حرائمہ تاسف سے سوچنے لگی۔
“کہاں گم ہو گئی؟”
وہ حرائمہ کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتی ہوئی بولی۔
“کہیں نہیں۔ میں سوچ رہی تھی آپی کے ولیمے کے لئے تیاری شروع کر دیں۔۔۔”
“ہاں ٹھیک کہ رہی ہو آ جاؤ امی کے پاس چلتے ہیں۔۔۔”
حرم مسرور سی بولی۔
“شاہ ویز تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں آج پھر سے بتا رہا ہوں برہان سے تنازعہ جائیداد پر ہوا تھا اسی لئے ان سے بول چال بند ہے اور تم بھی سمجھ جاؤ۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“بس ایک سوال بھائی؟”
شاہ ویز مظلومیت سے بولا۔
“پوچھو؟”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“جھگڑا صرف جائیداد پر ہوا تھا نہ تو پھر اتنی کدورت اچھی بات تو نہیں ہے برہان صلح کا کہہ رہا تھا ہمیں بھی ہاتھ بڑھانا چائیے نہ کہ پرانی باتوں کو لے کر بیٹھیں رہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز نے لمبی چوڑی وضاحت پیش کی۔
“ہو گیا؟ اب دوبارہ بحث نہیں ہو گی وہ لوگ ملنسار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوری ہی عقلمندی کا تقاضا ہے۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“ٹھیک ہے بھائی۔۔۔”
شاہ ویز منہ بسورتا ہوا چل دیا۔
“جو حقیقت ہے تمہیں نہیں بتا سکتا میں۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
****////////****
آئمہ یہ لڑکی تو بلکل بیکار ہے جو تم لائی ہو۔۔۔۔”
زلیخا بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“بیگم صاحبہ رانی کو بولیں وہ سیکھا دے گئ مجرا کرنا۔۔۔”
آئمہ حل پیش کرتی ہوئی بولی۔
“رانی کو ہی بولا تھا سیکھانے کو لیکن زرا مزا نہیں اس میں ہاےُ مہر ہوتی تھی کیا رقص کرتی تھی لوگ اس کے سحر میں جکڑ جاتے تھے۔۔۔۔”
زلیخا بیگم آہ بھرتی ہوئی بولیں۔
مہر کے نام پر آئمہ کے چہرے پر تلخی در آئی۔
“ٹھیک ہے بیگم صاحبہ اس سے جو مرضی کام لیں ایک لڑکی ہے میری نظر میں اس سے آپ خوش ہو جائیں گیں۔۔۔۔۔”
آئمہ کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“زبیرہ سے سیکھ۔ دیکھا اس حرائمہ کو پکڑ کر لائی تھی لیکن وہ کم بخت نجانے کہاں غائب ہو گئ۔۔۔”
وہ پان منہ میں ڈالتی ہوئی بولیں۔
آئمہ جل بھن کر باہر نکل گئی۔
“کبھی زنیزہ تو کبھی مہر۔ ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہیں۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی چلنے لگی۔
****///////****
سب کو مصروف دیکھ کر حرم چھت پر آ گئی۔
حرائمہ کے باعث وہ ازلان کو فون نہیں کر سکی تھی اس لئے یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی تھی۔
ازلان اوندھے منہ لیٹا ہوا مووی دیکھ رہا تھا۔
یہ ایک ایکشن مووی تھی۔
اور ازلان نے چہرہ پر بیزاری تھی وہ صرف وقت گزاری کے لئے دیکھ رہا تھا۔
فون کی رنگ سنائی دی تو ہاتھ مار کر بیڈ سے فون اٹھایا۔
حرم کا نام جلتا بجھتا دیکھ کر لب مسکرانے لگے۔
“اووہ تو میڈم کو میری یاد آ ہی گئی ابھی خبر لیتا ہوں۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولتا ہینڈ فری لگانے لگی۔
“ہیلو؟”
حرم کی ہلکی سی آواز ابھری۔
“جی کون؟”
ازلان انجان بنتا ہوا بولا۔
حرم نے فون کان سے ہٹایا اور نمبر دیکھنے لگی۔
“نمبر تو ازلان کا ہی ہے پھر۔۔۔۔”
حرم فون کان سے لگاےُ سوچنے لگی۔
“کیا یہ نمبر ازلان کا ہے؟”
حرم نے گھبراتے ہوۓ استفسار کیا۔
“جی نہیں۔ آپ کی تعریف؟”
ازلان لب دباےُ اس کے جواب کا منتظر تھا۔
“میں میں کوئی نہیں۔۔۔۔”
حرم پریشانی سے گویا ہوئی۔
اس سے پہلے کہ حرم فون رکھتی ازلان بول پڑا۔
“کوئی نہیں ہو تو پھر اپنے شوہر کو کیسے فون کیا ہے؟”
ازلان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ احاطہ کئے ہوۓ تھی۔
“ازلان تم ہو؟”
حرم نے تصدیق کرنا چاہی۔
“جی ہاں میں ہوں۔ اتنے دنوں بعد فون کرو گی تو بھول ہی جاؤں گا نہ۔۔۔”
وہ خفگی سے بولا۔
“تم نے بھی تو دوبارہ فون نہیں کیا۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
” مجھے یہ بتاؤ تم کہاں ہو؟”
“گھر میں۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“بیوقوف میرا مطلب اتنے دنوں سے کہاں غائب تھی؟”
ازلان جانے انجانے میں شکوہ کر ہی گیا۔
حرم لب دباےُ سوچنے لگی۔
“تمہیں معلوم ہے میں تم سے بدلے لینے کے نئے نئے طریقے سوچتا ہوں روز۔۔۔”
ازلان اٹھ کر بیٹھ گیا۔
دل اس دشمن جاں کو دیکھنے پر اکسا رہا تھا۔
“کس بات کا بدلہ؟”
حرم کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“بھول گئی تم جانے سے پہلے؟ میرا پیپر؟”
“اچھا وہ۔۔۔۔”
حرم یاد آنے پر بولی۔
“بلکل میں تو سوچ رہا تھا تمہیں سوئمنگ پول میں پھینک کر بجلی کی تار تار گرا دوں گا۔ یہ زیادہ آسان ہے۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“ہاےُ ازلان تم مجھے مارنے کے منصوبے بناتے رہتے ہو؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“حرم؟”
ازلان کا لہجہ بدلا۔
حرم ششدہ رہ گئ۔
“میں سن رہی ہوں۔۔”
حرم لب کاٹتی ہوئی بولی۔
“ویڈیو کال پر آؤ۔۔۔”
ازلان نے اپنے دل کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔
“ویڈیو کال کیوں؟”
حرم اچھل پڑی۔
“ویسے ہی میرا دل کر رہا ہے۔۔۔”
ازلان جذبات سے چور لہجے میں بول رہا تھا۔
حرم خاموش ہو کر لب کاٹنے لگی۔
دل اس کا بھی چاہ رہا تھا ازلان کو دیکھنے کا لیکن عجیب بھی لگ رہا تھا۔
“تم آ رہی ہو یا میں آؤں؟”
ازلان کافی دیر بعد بولا۔
حرم جیسے ہوش میں آئی۔
“نہ نہیں میں کرتی ہوں نہ کال تم کیوں آؤ گے؟”
حرم گھبراتی ہوئی بولی۔
ازلان نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
ایک منٹ بعد حرم کی ویڈیو کال لے لگی ازلان نے ایک لمحے کی تاخیر کئے بنا کال اٹینڈ کر لی۔
حرم کا چہرہ جھکا ہوا تھا۔
ازلان چند سیکنڈز اسے دیکھتا رہا بلاشبہ تیار ہو کر وہ قیامت لگتی تھی۔
“تمہیں منہ دکھائی نہیں دینے لگا میں۔۔۔”
ازلان کا انداز مزاح سے بھرپور تھا۔
حرم نے نگاہیں اٹھا کر خفگی سے دیکھا۔
ازلان بنا شرٹ کے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاےُ بیٹھا تھا۔
حرم نے فوراً نگاہیں جھکا لیں۔
ازلان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر مسکرانے لگا۔
“یہ بتاؤ اتنا تیار کیوں ہوئی ہو میں تو یہاں بیٹھا ہوں؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“وہ میرے بھائی کا ولیمہ ہے آج۔۔۔”
حرم دائیں بائیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“بڑی بے مروت ہو بھائی کے ولیمے میں شوہر کو نہیں بلایا؟”
ازلان برا مان گیا۔
“میں کیسے بلاتی تمہیں بھائی نے مجھے جان سے مار دینا تھا۔۔۔”
حرم تاسف سے بولی۔
“اچھا اب ایسا کرو مجھے چاول بھیجو اپنے بھائی کے ولیمے کے۔ شادی پر تو تم نے بلایا نہیں۔۔۔”
ازلان خفا خفا سا بولا۔
“میں کیسے بھیجوں؟”
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی لیکن ساتھ ہی نظریں جھکا گئی۔
“خود دینے آؤ اور اگر تم نہ آئی تو دیکھنا خیر نہیں تمہاری۔۔۔”
ازلان گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
حرم کو مانو سانپ سونگھ گیا۔
“ازلان میں کیسے آ سکتی ہوں تم خود سوچو؟”
حرم افسردگی سے بولی۔
“اچھا ملازم ہیں نہ گھر میں؟”
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“ان کے ہاتھ بھیج دو۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراہٹ روکتا ہوا بولا۔
“نہیں۔میرا مطلب بھائی پوچھیں گے کس کے گھر بھیج رہی اور اگر انہیں معلوم ہو گیا تو؟”
حرم پھر سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“بس معلوم ہو گیا مجھے تم چاولوں کی بھوکی ہو۔ میں نے کون سا ساری دیگ مانگ لی تھی۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“نہیں ازلان قسم سے ایسا نہیں ہے میں تو پوری دیگ بھی دے دوں۔ میرے حصے کا بھی تم کھا لو چاہے لیکن مسئلہ بھیجنے کا ہے۔۔۔”
وہ معصومیت سے بولی۔
ازلان ہنستا ہوا اسے دیکھنے لگا۔
“ازلان پلیز شرٹ پہن لو۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
“کیوں ایسے کیا مسئلہ ہے؟”
ازلان اس کی ہچکچاہٹ کا لطف لے رہا تھا۔
حرم نے ابھی تک اسے نظر بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا۔
حرم خاموش رہی۔
“جب تم مجھے شرٹ لا کر دو گی میں تبھی پہنوں گا شرٹ۔۔۔۔”
ازلان ضدی انداز میں بولا۔
“ہا! “
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا میں واپس جا کر لا دو گی ابھی تو پہن لو؟”
ازلان بنا کچھ کہے کیمرے کے سامنے سے ہٹا واپس آیا تو بدن شرٹ سے پوشیدہ تھا۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا۔
“اب بولو بھیج رہی ہو چاول یا میں خود لینے آؤں؟”
ازلان چہرے پر سنجیدگی طاری کئے بولا۔
“ازلان تم نے کبھی چاول نہیں کھاےُ؟”
حرم متحیر سی بولی۔
“کھاےُ ہیں لیکن تمہارے بھائی کے ولیمے کے کبھی نہیں کھاےُ۔۔۔”
ازلان کا موڈ فریش ہو گیا تھا۔
حرم رونے والی شکل بناےُ اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان شاید کوئی آ رہا ہے میں بعد میں بات کروں؟”
حرم اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
اس ایک نظر میں حرم نے ازلان کو اپنی آنکھوں میں مقید کر لیا تھا۔
“ہاں جاؤ۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر مسکان تھی۔
حرم نے مسکراتے ہوۓ خدا حافظ بولا اور فون بند کر دیا۔
چہرہ موڑ کر عقب میں دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔
“شکر ہے کسی نے دیکھا نہیں۔۔۔”
حرم سانس خارج کرتی زینے اترنے لگی۔
شاہ اور مہر دونوں ایک ساتھ صوفے پر بیٹھے تھے۔
شاہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی۔
عدیل کو دیکھ کر شاہ سٹیج سے اتر گیا۔
مہر نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جس کی پشت مہر کی جانب تھی۔
حرم بھی سٹیج پر آ گئی۔
“بھابھی آپ نے کھانا کھا لیا؟”
حرم اس کے پہلو میں بیٹھتی ہوئی بولی۔
مہر نفی میں سر ہلانے لگی۔
“چلیں پھر میں کھلا دیتی ہوں۔۔۔”
حرم خوشدلی سے بولی۔
“حرم دراصل شاہ نے کہا تھا یہ سب نہیں کھانا جو ڈاکٹر نے ڈائیٹ بتائی ہے وہی سب کھانا ہے۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“چلیں کوئی بات نہیں مجھے تو بہت بےصبری سے اپنے بھانجے یا بھانجی کا انتظار ہے۔۔۔”
حرم اشتیاق سے بولی۔
مہر اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
شاہ ویز کچھ فاصلے پر کھڑا مہر کر اپنی نگاہوں کے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
شاہ ویز کی نظر نا چاہتے ہوۓ بھی مہر پر ٹھر جاتی۔
مہر کے حسن پر تبصرے تمام رشتے دار ہی کر رہے تھے وہ تو پھر ایک مرد تھا۔
شاہ ویز نے اپنے فون میں مہر کی ایک تصویر نظر بند کر لی۔
لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
“بھائی کہاں سے ڈھونڈ کر لاےُ ہو آپ مہر کو؟ کاش مجھے مل جاتی۔۔۔”
شاہ ویز آہ بھرتا حسرت سے بولا۔
“یار تو مہر کو حویلی لے آیا ہے؟”
عدیل جتنا حیران ہوتا اتنا کم تھا۔
“وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے ظاہر سی بات ہے اسے حویلی لے کر آنا تھا۔۔۔”
شاہ پرسکون انداز میں بولا۔
“لیکن شاہ وہ ایک طوائف ہے تو کیسے اسے اپنی بیوی کا درجہ دے سکتا ہے؟”
عدیل ششدہ سا بولا۔
“پہلے میں بھی طوائف سمجھتا تھا لیکن اب وہ میری بیوی ہے میری فیملی اور عدیل یاد رکھنا آج تو نے اسے طوائف بول دیا اگلی بار میں ہر گز برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے کے تاثرات بدلے اور سختی عود آئی۔
“تو محبت کرتا ہے مہر سے؟”
عدیل اب سنبھل کر بولا۔
“میں نہیں جانتا لیکن اس کی غیرموجودگی کِھلتی ہے مجھے۔ کچھ ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔۔۔”
شاہ نے چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھا جو سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔
“اور اس کے ساتھ؟”
عدیل بغور اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔
“اس کے ساتھ مانو سب مکمل ہو گیا۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“شاہ کیا وہ وفادار ثابت ہو گی؟ کیونکہ جس جگہ سے وہ آئی ہے وہاں تو۔۔۔”
عدیل نے اسے دیکھتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
“فلحال اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں میں اپنے بچے کو ایک نارمل زندگی دینا چاہتا ہوں۔۔۔”
شاہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اور اگر سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ کوٹھے سے آئی ہے پھر؟”
عدیل طوائف بولنے سے گریز برت رہا تھا۔
“جب ایسا ہو گا دیکھا جاےُ گا۔۔”
شاہ نے اسے ٹالنا چاہا۔
عدیل اس کی بات کا مفہوم سمجھتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“ارے یہ تو طوائف ہے! ہاےُ ہاےُ دیکھو شاہ خاندان نے ایک طوائف کو اپنی بہو بنا لیا؟”
شاہ کی سماعتوں سے وہ آواز ٹکرائی۔
وہ خاتون تقریباً چلانے والے انداز میں بولی تھی اور شاہ کے ساتھ ساتھ کئی مہمانوں نے سنا تھا۔
چہرے پر چٹانوں کی سی سختی عود آئی۔
شاہ پیچ و تاب کھاتا اس عورت کے پاس آیا۔
“کیا کہا آپ نے؟”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“کچھ نہیں بس دلہن کو دیکھ رہے تھے۔۔”
وہ گڑبڑا کر بولیں۔
“ابھی ایک منٹ پہلے میری بیوی کو کیا کہا؟”
شاہ طیش میں بولا۔
“یہی کہ وہ لڑکی طوائف ہے۔۔۔”
کچھ سوچ کر وہ خاتون بولی۔
“اچھا میری بیوی طوائف ہے؟ مطلب آپ بھی طوائف ہیں۔۔۔”
شاہ سینے پر ہاتھ باندھتا ہوا بولا۔
اس عورت کو آگ لگ گئی شاہ کی بات پر۔
“مجھے طوائف کیسے کہ سکتے ہو؟”
وہ دانت پیستی ہوئیں بولیں۔
“ایک طوائف کو دوسری طوائف ہی جان سکتی ہے نہ؟ آپ میں سے کوئی جانتا ہے؟”
شاہ ٹیبل پر براجمان دوسری خواتین کو دیکھتا ہوا بولا۔
سب کے سر نفی میں ہل رہے تھے۔
“چودھری صاحب نے مجھ بتایا ہے۔۔۔”
وہ غصے سے گویا ہوئیں۔
” اووہ مطلب چودھری صاحب کوٹھے پر جاتے ہیں زبردست جہاں تک میرا خیال ہے عزت دار لوگ اس جگہ پر نہیں جاتے۔ ایسا ہی ہے نہ؟”
شاہ اس عورت کو گھورتا ہوا بولا۔
آس پاس لوگ ان کی جانب متوجہ ہو رہے تھے۔
ضوفشاں بیگم پیشانی پر بل ڈالے اس جانب چلنے لگیں۔
“میرے شوہر پر کیسے الزام لگا سکتے ہو؟”
وہ تقریباً پھٹ پڑیں۔
“تو آپ میری بیوی پر کیسے الزام لگا سکتی ہیں؟”
شاہ ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا چلایا۔
“شادی میں آئیں ہیں نہ کھانا کھائیں اور گھر کو جائیں اور اپنے شوہر سے کہنا اگلی بار کوٹھے پر جاےُ تو ثبوت لے کر آےُ میری بیوی کے خلاف۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولتا پیچھے ہو گیا۔
ضوفشاں بیگم ششدہ سی انہیں سن رہیں تھیں۔
مہر گاہے بگاہے نظر شاہ پر ڈال رہی تھی۔
اور اس ہنگامے سے بھی بخوبی واقف تھی۔
مہر کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہیں تھیں۔
جس بات کا خوف تھا وہی ہو رہا تھا۔
مہر کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
نجانے کیوں؟ شاید وہ کمزور ہو گئی تھی۔
شاہ مہر کی جانب آ رہا تھا۔
آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئیں تھی۔
مہر کو پہلی بار شاہ سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
“چلو مہر۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
مہر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
شاہ کو اس کی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگ رہے تھے۔
“اٹھو اندر چلیں۔۔”
شاہ نے اسے پھر سے نرمی سے مخاطب کیا۔
مہر لہنگا سنبھالتی کھڑی ہو گئی۔
شاہ اس کا ہاتھ تھامے چلنا لگا۔
ان دونوں کو دیکھ کر سب چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔
شاہ ویز لاتعلق سا کھڑا تھا جبکہ حرم اور ماریہ ٹھٹھک گئیں۔
حرائمہ بھی سب سے نظر بچاتی اندر چلی گئی۔
شاہ حرم کے کمرے میں آ گئی۔
مہر کے آنسوؤں میں روانی آ گئی۔
“مہر کیا ہوا؟ کیوں رو رہی ہو؟”
شاہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
اس سے قبل کہ مہر کچھ بولتی ضوفشاں بیگم چلانے لگیں۔
“شاہ تم ایک طوائف کو اٹھا کر لاےُ ہو؟”
شاہ ناگواری سے چہرہ موڑے انہیں دیکھنے لگا۔
“آپ اس جاہل عورت کی بات سن کر میری بیوی کو طوائف بول رہیں ہیں؟”
شاہ خطرناک تیور لئے آگے بڑھا۔
مہر کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
“ہم عزت دار لوگ ایسی بے حیا لڑکیوں کو اپنے گھر کی بہو نہیں بناتے۔۔۔”
وہ مہر پر حقارت زدہ نظر ڈالتی ہوئی بولیں۔
“امی اپنے الفاظ پر غور کریں مجھے مجبور مت کریں کہ میں آپ سے سختی سے بات کروں۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
شہریار عقب سے دکھائی دیا۔
“کیا کر لو گے تم بتاؤ؟ اور اسے فارغ کرو ابھی کہ ابھی سارے خاندان میں ذلیل کروانا ہے کیا ہمیں؟”
وہ قہر برساتی نظروں سے مہر کو دیکھ رہی تھیں۔
“بیوی ہے میری عزت سے بات کریں۔۔”
شاہ ان کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
وہ جو مہر کی جانب بڑھ رہیں تھیں شاہ کو دیکھنے لگیں۔
“امی آپ یہ کیا کر رہیں ہیں؟”
شہریار نے مداخلت کی۔
“کیا مطلب کیا کر رہی ہوں؟ تم نے سنا نہیں یہ منحوس ایک طوائف ہے۔۔۔”
وہ حقارت سے بولیں۔
شہریار شاہ کے تاثرات دیکھ کر گھبرا گیا۔
“آپ چلیں میرے ساتھ اور خاموش رہنا ہے اب میں بتا رہا ہوں۔۔۔”
شہریار انہیں باہر لے جاتا ہوا بولا۔
مہر کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔
وہ جانتی تھی یہی سب ہو گا اسے کبھی عزت نہیں دے جاےُ گی اور اب تو شاید اس کا رشتہ بھی ختم ہو جاےُ۔
“کاش آپ مجھے نہ خریدتے شاہ؟”
مہر کرب سے بولی۔
روح کو دی جانے والی اذیت کا کوئی حساب نہیں ہوتا نہ ہی کوئی مداوا۔
“مہر تم کیوں یہ سب سوچ رہی ہو؟ میں ہوں تمہارے ساتھ پھر کیوں فکر رہی ہو؟”
شاہ اسے بازوؤں سے پکڑتا ہوا بولا۔
مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
“شاہ آپ کس کس کو خاموش کروائیں گے اور کب تک؟”
مہر درد بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“مہر میری بات سنو؟”
شاہ تحمل سے بولا۔
“شاہ مجھے آزاد کر دیں۔ ختم کر دیں اس رشتے کو۔ میرے باعث اپنے گھر والوں سے مت لڑیں۔۔۔”
مہر ہذیانی انداز میں بول رہی تھی۔
سر نفی میں ہل رہا تھا۔ متواتر آنسو گلاب کی پتیاں کی مانند رخساروں کو بھگو رہے تھے۔
مہر کی تکلیف دیکھ کر شاہ کو بھی تکلیف ہو رہی تھی۔
مہر نے اس کے ہاتھ ہٹاےُ اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی۔
“مہر میری بات سنو پاگل مت بنو۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا اس کے پیچھے لپکا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: