Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 11

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 11

–**–**–

مہمان واپس جا رہے تھے۔
شاہ ویز چہرے پر بیزاری سجاےُ حویلی سے باہر نکل آیا۔
گاڑی میں بیٹھا اور زن سے بھگا لے گیا۔
“کیا ہوا خیر ہے اتنی جلدی میں کیوں بلایا؟”
برہان اسے گاڑی سے اترتا دیکھ کر بولا۔
“یار آج بھائی کا ولیمہ تھا۔۔”
شاہ ویز اداسی سے بولا۔
“شاہ کا ولیمہ؟”
برہان نے زیر لب دہرایا۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“شادی کب ہوئی اور ولیمہ کب؟”
برہان حیران ہوےُ بنا نہ رہ سکا۔
شاہ ویز نے مختصر مہر کے متعلق بتایا۔
“اب تو مجھے بھی یہی لگ رہا کہ بھائی مہر کو کوٹھے سے لاےُ ہیں۔۔۔”
شاہ ویز سپاٹ انداز میں بولا۔
“انٹرسٹنگ شاہ نے شادی کر لی وہ بھی ایک طوائف سے۔۔۔”
برہان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“یار مجھے مہر سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔”
شاہ ویز شکست خور سا بولا۔
برہان پیشانی پر بل ڈالے تعجب سے اسے دیکھنے لگا۔
“شاہ کی بیوی سے؟”
برہان نے تصدیق کرنا چاہی۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“مہر کو دیکھو گے نہ بس سب کو بھول جاؤ گے یار مکمل حسن ہے وہ ایسی آفت کہ بس دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔۔۔”
شاہ ویز گھائل سا بولا۔
“کیسی آفت ہے مجھے بھی دکھاؤ پھر۔۔۔”
برہان تجسس سے بولا۔
شاہ ویز نے فون نکالا اور مہر کی تصویر سامنے کر دی۔
برہان کی آنکھوں میں پسندیدگی کا عنصر تھا۔
“ہے تو کمال لیکن طوائف لگتی نہیں ہے۔۔۔”
برہان بغور اس کا جائزہ لیتا ہوا بولا
شاہ ویز کے چہرے پر خوف کے ساےُ منڈلا رہے تھے۔
“کیا ہوا؟”
برہان فون سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“یار مجھے مہر چائیے۔ اپنے ہی گھر میں اسے چلتا پھرتا دیکھوں لیکن بھائی کے ساتھ۔۔۔”
وہ بولتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“شاہ سے بات کرو شاید طلاق۔۔۔”
“وہ بھائی کے بچے کی ماں بننے والی ہے دوسری بات بھائی اس سے محبت کرتے ہیں آج سب سے جس طرح لڑائی کی انہوں نے سب کو باور کروا دیا۔۔۔”
وہ تاسف سے بولا۔
“جو چیز ملے نہ اسے چھین لو۔۔۔”
برہان کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی جسے رات کے اندھیرے کے باعث شاہ ویز دیکھ نہیں پایا۔
“کیسے؟”
شاہ ویز بےچینی سے پہلو بدلا۔
“پہلے ان کا بچہ ضائع کروا دو پھر بعد کی بعد میں دیکھی جاےُ گی۔۔۔۔”
برہان طمانیت سے بولا۔
“شاہ اب تو تم نہیں بچتے۔۔۔”
برہان تمسخرانہ انداز میں بولا۔
لیکن آواز اتنی آہستہ تھی کہ بمشکل برہان سن سکا تو شاہ ویز کے سننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
“اب تم گھر جاؤ اور کسی کو معلوم نہیں ہونا چائیے کہ تم مجھ سے رابطے میں ہو سمجھ گئے نہ؟”
برہان اس کا شانہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
شاہ ویز مایوسی سے دیکھتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
****//////****
زلیخا بیگم چلتی ہوئی زنیرہ کے کمرے میں آ گئیں۔
زنیزہ تاسف سے فون کو دیکھ رہی تھی۔
“زنیرہ چل تیار ہو جا آخر میں تو مجرا کرے گی۔۔۔”
زلیخا بیگم بولتی ہوئیں بیٹھ گئیں۔
“میں نہیں کر رہی بیگم صاحبہ۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ ہاےُ کیوں نہیں کرنا تو نے؟ پھر واپس چلی جاےُ گی چل اٹھ آج کل کمائی بہت کم ہو گئی ہے پھر تم دونوں پر الگ خرچ ہو رہا۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
“بیگم صاحبہ میں آج نہیں کر رہی کیونکہ میرا دل نہیں کر رہا اب مجھ پر دباؤ مت ڈالنا۔۔۔”
وہ فون کو گھورتی ہوئی بولی۔
“کہیں دل ول تو نہیں لگا لیا شہر میں؟”
زلیخا بیگم جانتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ہمارا دل لگانے کو بے شمار مرد موجود ہیں پھر کیا ضرورت دل لگانے کی۔۔۔”
زنیرہ استہزائیہ ہنسی۔
“یہ غلطی کرنا بھی مت کیونکہ ایک طوائف کو نہ کوئی اپناتا ہے نہ ہی کوئی عزت دیتا ہے۔
وقت گزاری کے لئے ساتھ رہ لے گا لیکن بیوی کا درجہ کبھی نہیں دے گا۔۔۔”
وہ آئینہ دکھانے لگیں۔
زنیرہ تلخی سے مسکرانے لگی۔
“جانتی ہوں اس حقیقت سے منہ کیسے موڑ سکتی ہوں؟”
وہ آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“چل پھر اٹھ جا شاباش میری جان۔۔۔”
زلیخا بیگم نرمی سے بولیں۔
“اب واپس جاؤں گی تو ایک زبردست قسم کی لڑکی لا کر دوں گی اس لئے ابھی مجھ تنگ مت کریں۔۔۔”
زنیرہ لحاف منہ پر اوڑھتی ہوئی بولی۔
زلیخا بیگم کلس کر باہر کو چل دیں۔
“میری ہی شہ پر دندناتی پھرتی ہیں سب کو کھینچ کر رکھنا پڑے گا۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئیں چلنے لگیں۔
****///////****
“مہر میری بات سنو! “
شاہ اس کے عقب میں چلتا ہوا بولا۔
مہر آنسو بہاتی دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
شاہ نے اس کی کلائی تھام لی۔
مہر چہرہ موڑے التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
شاہ بنا کچھ بولے چلنے لگا۔
“شاہ مجھے جانے دیں۔۔۔”
مہر اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔
“اب تم خاموش رہو گی۔۔۔
شاہ زینے چڑھتا ہوا بولا۔
مہر کی پائیل کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔
شاہ کمرے کی بجاےُ چھت پر آ گیا۔
مہر آنسو بہاتی اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہ نے ہاتھ بڑھایا اور مہر کے رخسار سے آنسو چننے لگا۔
شاہ کے لمس پر مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔
شاہ نے اسے خود سے قریب کیا۔
“مہر میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔ یہ بات اپنے پلو سے باندھ لو چاہے مجھے ساری دنیا سے لڑنا پڑے لیکن میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔”
رات کے اندھیرے میں, فلک پر ٹمٹماتے ستاروں کے ہمراہ, خاموشی میں وہ دھیرے دھیرے سرگوشی کر رہا تھا۔
“کیوں شاہ؟”
مہر تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں مہر۔تمہارے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا میں۔ تم میری روح کا حصہ بن گئی ہو جسے میں چاہ کر بھی خود سے جدا نہیں کر سکتا۔۔۔”
شاہ دھیرے دھیرے مہر کی بےقرار دھڑکنوں کو قرار بخش رہا تھا۔
مہر خاموش اسے سن رہی تھی۔
شاید وہ اسے سننا چاہتی تھی۔
“سچ کہوں گا تم سے پہلے میرا ایسا ارادہ نہیں تھا لیکن اب تمہیں خود سے الگ کرنا ممکن نہیں مہر۔ دنیا کی فکر تم مت کرو جب میں تمہارے ساتھ ہوں پھر کیوں فکر کرتی ہو؟”
مہر نے اپنی پیشانی شاہ کے بائیں رخسار سے لگا دی۔
ہوائیں رخ بدل رہیں تھیں۔
جذبات بدل رہے تھے۔
فلک کی چادر پر بکھرے ستارے اور مہتاب بھی مسکرا رہا تھا۔
اپنی روشنی سے تاریک دلوں کو منور کر رہے تھے۔
“اپنے دل میں یہ خیال کبھی مت آنے دینا کہ شاہ تمہیں چھوڑ دے گا۔ شاہ ساری دنیا کو چھوڑ سکتا ہے لیکن تمہیں نہیں۔۔۔”
مہر کی آنکھوں سے دو اشک ٹوٹ کر شاہ کی گردن پر آ گرے۔
اس کی محبت مہر کو ریزہ ریزہ کر رہی تھی۔
شاہ کو مہر سے محبت تھی آج وہ زباں پر لے ہی آیا۔
“شاہ کوئی مجھ جیسی کے لئے بھی اتنا کہ سکتا ہے؟”
مہر سسکتے ہوۓ بولی۔
“دنیا کچھ بھی سوچے مجھے فرق نہیں پڑتا میرے لئے تم بہت اہمیت کی حامل ہو اور تمہارا ماضی؟ میں نہیں سوچتا اس متعلق۔ تم میرے ہمراہ ہو، تمہارے نام. کے ساتھ میرا نام ہے، تم پر صرف شاہ کا حق ہے، بس یہی جانتا ہوں میں۔۔۔”
شاہ اسے اپنی محبت کا اعتماد بخش رہا تھا۔
مہر کی آنکھوں میں دکھائی دیتی بے یقینی آج وہ ختم کر دینا چاہتا تھا۔
شاہ خاموش ہو گیا۔
مہر نے اپنے لب نہ کھولے۔
وہ ٹوٹی تھی بکھری تھی لیکن آج اسے سمیٹنے والا اس کے ساتھ تھا۔
وہ تنہا نہیں تھی۔
اس کا غم خوار اسے اپنی پناہ میں لئے ہوۓ تھا۔
آج وہ اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔
“اب تم کمرے میں جا کر آرام کرو میں گھر والوں سے بات کر کے آؤں گا۔۔۔”
شاہ آہستہ آہستہ بول رہا تھا۔
جو اذیت تھی وہ ختم تو نہیں ہو سکتی تھی۔ اپنی ذات کی تذلیل کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔ مضحکہ خیز الفاظ کسی خنجر کی مانند دل میں پیوست ہو جاتے ہیں اور یہی دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں جنہیں سمیٹنا ناممکنات میں شمار ہے۔
لیکن وہ مداوا کرنے کی سعی کر رہا تھا۔
مہر چہرہ جھکاےُ اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
“میں کھانا بھیجوں گا ملازمہ کے ہاتھ چینج کر کے کھا لینا۔۔۔”
شاہ دروازے میں کھڑا اسے کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
مہر کی آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں۔
وہ اثبات میں سر ہلانے لگی تو شاہ چلا گیا۔
شاہ جانتا تھا اس وقت سب بابا سائیں کے کمرے میں ہوں گے اس نے اسی جانب قدم بڑھا دئیے۔
توقع کے عین مطابق سب وہیں پر تھے ماریہ اور حرم کے سوا کیونکہ عورتوں کو اتنا حق نہیں دیا جاتا کہ وہ مداخلت کر سکیں۔
شاہ کے قدم رکھتے ہی کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
شاہ ایک نظر سب پر ڈالتا سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔
“جی بابا سائیں بولیں؟”
شاہ بغور انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ ہم کیا سن رہے ہیں تم نے ایک طوائف کے ساتھ نکاح کیا ہے؟”
وہ ضبط کرتے ہوئے بولے۔
لیکن پھر بھی ان کی آواز کمرے سے باہر جا رہی تھی۔
“کس نے کہا مہر طوائف ہے؟”
شاہ بھرپور طمانیت سے بولا۔
“چودھری کی بیوی کہہ رہی تھی تم تو ایسے پوچھ رہے ہو جیسے معلوم ہی نہیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم پھٹ پڑیں۔
شاہ سلگتی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میں بابا سائیں سے بات کر رہا ہوں مناسب ہو گا آپ مداخلت نہ کریں تو؟۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولتا کمال صاحب کو دیکھنے لگا۔
“تو چودھری جھوٹ بول رہا ہے؟ کیا استفادہ حاصل ہو گا اسے اس سب سے؟”
کمال صاحب سوالیہ نظروں سے شاہ کو دیکھنے لگے۔
“مجھے ایک بات بتائیں کیا وہ قابل اعتبار انسان ہے؟ آپ میں سے کسی نے مہر پر الزام کیوں نہیں لگایا یا پھر گاؤں کے کسی اور انسان نے ایسا کیوں نہیں کہا؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“اگر وہ اتنے وثوق سے یہ بات کہ رہا ہے تو مطلب وہ کوٹھے پر جاتا ہے اور آپ اس چودھری سے ثبوت لا دیں مجھے کہ مہر کوٹھے سے آئی ہے۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“تو کیوں کہ رہا ہے چودھری یہ سب؟”
ضوفشاں بیگم پھر سے غرائی۔
“جو بکواس میں کر رہا ہوں وہ سمجھ نہیں آ رہی اور جو بکواس اس نے کر دی وہ پتھر کی لکیر ہو گئی ہے۔ کیا ہو گیا ہے آپ سب کو ایک چھوٹی سی بات بول رہا ہوں میرے بجاےُ اس چودھری کا یقین کر رہے ہیں؟ اگر اتنی تکلیف ہے میری بیوی سے تو بتا دیں میں اسے لے کر چلا جاتا ہوں؟”
شاہ بگڑ کر ضوفشاں بیگم کو دیکھنے لگا۔
شہریار اور شاہ ویز خاموش بیٹھے تھے کیونکہ شاہ کے معاملات میں مداخلت کرنے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔
“تم کیوں جاؤ گے یہاں سے جاؤ اپنے کمرے میں ہم سمجھا لیں گے تمہاری ماں کو۔۔۔”
کمال صاحب نے بگڑتی صورتحال کو دیکھ کر نرمی سے مخاطب کیا۔
شاہ لمبے بے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
“آپ نے۔۔۔”
“بس اس پر مزید کوئی بحث نہیں شاہ پر ہمیں بھروسہ ہے وہ بنا سوچے سمجھے کوئی کام نہیں کرتا اور آپ محتاط رہیں گیں اب۔بہو امید سے ہے اور شاہ بہت خوش ہے
ہم نہیں چاہتے شاہ کی اولاد کو خطرہ لاحق ہو۔۔۔”
وہ ہاتھ اٹھا کر ضوفشاں بیگم کو بولنے سے باز رکھتے حتمی انداز میں بولے۔
شہریار اور شاہ ویز اثبات میں سر ہلاتے چلے گئے۔
حرم نے چینی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔
اس کے برعکس حرائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
ایک ایسی حقیقت کے آشکار ہونے کا خطرہ لاحق تھا جس میں زبردستی اسے جھونکا گیا تھا۔
شاہ کمرے میں آیا تو نظر مہر سے ٹکرائی جو صوفے پر بیٹھی اس کی منتظر تھی۔
“تم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا؟”
شاہ فکرمندی سے کہتا اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
“آپ نے بھی تو نہیں کھایا۔۔۔”
مہر نے ستا ہوا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
شاہ کے لب دھیرے سے مسکرا دئیے۔
“لیکن تمہیں کھا لینا چائیے تھا بلاوجہ میرا انتظار کیا۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا مہر کے منہ میں نوالہ ڈالنے لگا۔
مہر نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
لوگوں کی باتوں سے دل دکھا تھا تو وہ اپنی محبت سے ان زخموں کو مندمل کر رہا تھا۔
“اب تم سو جاؤ۔ مجھے کچھ کام کرنا ہے۔۔۔”
شاہ اس کا رخسار تھپتھپاتا ہوا بولا۔
مہر سر ہلاتی کھڑی ہو گئی۔
شاہ سانس خارج کرتا لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔
****///////****
ماحول میں تلخی سی در آئی تھی۔
ضوفشاں بیگم اور ماریہ مہر کو نظر انداز کر رہی تھیں اور مہر سے بات کرنے سے گریز برت رہی تھیں۔
“ماریہ اگر یہ مہر طوائف ہے تو پھر یہ حرائمہ بھی تو طوائف ہو گی نہ؟”
شاہ کے نکلتے ہی زلیخا بیگم شروع ہو گئیں البتہ آواز دھیمی تھی۔
“بہن ہے اس کی اور اگر مہر کوٹھے سے آئی ہے تو حرائمہ بھی وہیں سے آئی ہو گی۔۔۔”
ماریہ حرائمہ کو دیکھ کر منہ بناتی ہوئی بولی۔
“میں جب شادی کا بولتی تھی تو میرے پیچھے پڑ جاتا تھا کہ نام بھی کیوں لیا اور اب خود پتہ نہیں کہاں سے ایسی طوائف کو اٹھا لایا ہے ہمارے خاندان کا نام ہے کوئی گرے پڑے لوگ تھوڑی نہ ہیں ہم۔۔۔”
مہر کو سنانے کے عوض وہ اونچی آواز میں بولیں۔
مہر کا منہ میں جاتا ہاتھ ہوا میں معلق ہو گیا۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
حرائمہ اس کی کیفیت سے بخوبی واقف تھی۔
مہر کو دیکھ کر اس کا دل بھی کٹ رہا تھا۔
مہر سر جھکاےُ لب کاٹتی دائیں بائیں دیکھنے لگی۔
آنکھیں چھلکنے کو بےتاب تھیں لیکن وہ خود کو باز رکھ رہی تھی۔
“ایسی بے حیا لڑکیاں مجرا کرتی ہی اچھی لگتی ہیں گھر کی عزت نہیں بنایا جاتا انہیں۔ نجانے شاہ کو کب عقل آےُ گی؟”
وہ تاسف سے بولیں۔
مہر کا ہاتھ کپکپاتے لگا۔
دل شدت غم سے لبریز ہو کر پھٹنے کو تھا۔
کیا قصور تھا اس کا؟ یہی کہ اسے ایک جہنم میں ڈال دیا گیا اس کی مرضی کے بنا۔ وہ تو بنا قصور کے ہی قصوروار ٹھرا دی گئی تھی۔
دو موتی ٹوٹ کر میز پر آ گرے۔
حرائمہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ دونوں بےبس تھیں۔
دل برداشت کرنے سے انکاری تھا اور زبان بولنے سے۔
بھلا ان جیسی بھی بول سکتی ہیں؟ جن کی کوئی عزت نہیں جنہیں معاشرہ قبول نہیں کرتا ان کی کون سنے گا؟
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی امی مصطفیٰ بھائی نے شادی کرنی ہی تھی تو کیا ایک طوائف سے؟ اس سے کئی درجے اچھی تو میری بہن ہے اس سے کر لیتے کم از کم عزت تو باقی رہتی نہ۔ ایسی لڑکیاں کہاں عزت کے معنی جانتی ہیں دیکھیے گا دو دن میں سارے رنگ عیاں ہو جائیں گے۔۔۔”
ماریہ ہنکار بھرتی ہوئی بولی۔
الفاظ تھے یا نشتر جو دل کو چیر رہے تھے۔
دل ٹوٹ کر نجانے کتنے حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا لیکن شاید ان کا دل ابھی بھرا نہیں تھا۔
ضوفشاں بیگم مزید کچھ کہ رہی تھیں۔
مہر کان بند کئے مرے مرے قدم اٹھاتی زینے چڑھنے لگی۔
“ایسا توہین آمیز سلوک بھی کوئی روا رکھتا ہے کیا؟”
مہر دروازہ بند کرتی ہوئی بولی۔
ابھی تو اس کی آزمائش کا آغاز ہوا تھا۔
ابھی تو بہت بار ٹوٹنا اور بہت بار جڑنا تھا۔
****/////////****
حرم آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی جب فون کی رنگ ٹون نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
عجلت میں بال باندھے، دروازہ لاک کیا اور فون کان سے لگا کر بیٹھ گئی۔
“کب سے فون کر رہا ہوں کہاں تھی تم؟”
ازلان کی خفگی بھری آواز ابھری۔
“وہ میں بال بنا رہی تھی۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“ازلان ایک بات بتاؤ تم ہمارے گاؤں کیوں آتے تھے؟”
حرم کافی دنوں سے اسی متعلق سوچ رہی تھی۔
“میرے تایا ابو کا گھر ہے تمہارے گاؤں میں لیکن اب نہیں آتے ہم۔۔۔”
“کیوں؟”
بےساختہ حرم کے لبوں سے پھسلا۔
“ہماری بول چال بند ہے۔۔۔”
ازلان بیزاری سے بولا۔
حرم اس کی بات پر ٹھٹھک گئی۔
“تم کیا یہ فضول سی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہوں؟”
ازلان اکتا کر بولا۔
“ازلان تم بھی شاہ ہو نہ؟”
“ہاں۔ تم کیوں پوچھ رہی؟”
“ہم خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے اس لئے پوچھ رہی تھی۔۔۔”
حرم ہچکچاتی ہوئی بولی۔
ازلان کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔
“تمہارے دل میں میرا اکاؤنٹ ہے؟”
ازلان اسے پرکھنے لگا۔
“تمہیں کس نے کہا؟”
حرم گڑبڑا کر بولی۔
“اے بی ایل نے۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔
“مطلب؟”
حرم کے چہرے پر الجھن تھی۔
“اے بی ایل والے کہتے ہیں آپ کے دل میں ہمارا اکاؤنٹ۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
حرم بھی دھیرے سے مسکرانے لگی۔
دماغ حرم کا ابھی تک وہیں اٹکا تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی تو حرم بوکھلا گئی۔
بنا کچھ کہے فون رکھ دیا۔
ازلان حیرت سے فون کو دیکھنے لگا۔
“شاید کوئی آ گیا ہو۔۔۔”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکل آیا۔
“میں سوچ رہی ہوں تم آےُ ہو تو منگنی کر دیں۔۔۔”
ازلان کو دیکھتے ہی شمائلہ بولنے لگیں۔
“کس خوشی میں؟”
ازلان تیکھے تیور لئے بولا۔
“برہان کی شادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں اب تمہاری شادی کر کے فارغ ہوجائیں۔ کب تک انتظار کرتے رہیں گے؟”
وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“امی آپ میری شادی کی ٹینشن مت لیں جب کرنی ہو گی میں بتا دوں گا۔ کہہ تو آپ ایسے رہیں ہیں جیسے فوج تیار کر رکھی ہے بچوں کی جلدی جلدی کریں۔۔۔”
بولتے ہوۓ نظروں کے سامنے حرم کا سراپا گھوم گیا۔
“یہ کیا بات ہوئی بھلا میں نے باجی کو جواب دینا ہے ندا کے لئے وہ کئی بار پوچھ چکی ہیں۔۔۔”
وہ خفا خفا سی بولیں۔
“اس موٹی بھینس کے ساتھ؟ اللہ معاف کرے کیوں میری زندگی تباہ کرنا چاہتی ہیں؟ مجھے اس بلڈوزر کے ساتھ باندھنا چاہتی ہیں؟میں نہیں کرنی اس بلو باندری سے۔۔۔”
ازلان کانوں کو ہاتھ لگاتا منہ بناتا ہوا بولا۔
“ازلان شرم کرو بھانجی ہے وہ میری۔۔۔”
شمائلہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“آپ کی ہے میری تو نہیں۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“اچھا پھر مجھے بتاؤ کون سی لڑکی ہے تمہاری نظر میں خاندان میں اس کے علاوہ تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔”
وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“مل جاےُ گی کوئی بھی دنیا میں لڑکیوں کی کمی ہے یا آپ کے بیٹے کو؟”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
“اپنے ابو سے کہنا بتائیں گے تمہیں؟”
انہوں نے ڈرانا کرنا چاہا۔
“لو ابو کیا کر لیں گے وہ تو خود میری مانتے ہیں۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا چلنے لگا۔
“ازلان کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کرو۔۔۔”
وہ خفگی سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ایسے ہی ٹھیک ہو میں۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
وہ نفی میں سر ہلانے لگیں۔
****////////****
“شاہ ایسے کیسے شاپنگ کریں؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہم لڑکا اور لڑکی دونوں کے لیے کریں گے۔
لڑکا ہوا تو لڑکے کا سامان استعمال کر لینا اور لڑکی ہوئی تو لڑکی کا۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے لگی۔
“یہ ٹیڈی کیسا ہے؟”
شاہ مہر کے سامنے بڑا سا ٹیڈی لئے کھڑا تھا۔
“بہت اچھا ہے لیکن شاہ ابھی ہمارا بےبی اتنا چھوٹا ہو گا وہ کیسے اتنے بڑے ٹیڈی سے کھیلے گا؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی تاسف سے بولی۔
“کہہ تو ٹھیک رہی ہو لیکن مجھے بہت پسند آیا ہے۔۔۔”
شاہ ٹیڈی کو دیکھتا ہوا بولا۔
“جب بڑے ہو جائیں گے پھر لے لینا۔۔۔”
مہر نے اسے سمجھانا چاہا۔
شاہ خفگی سے اسے دیکھنے لگا۔
“ایسا کرنا تم اسے سنبھال کر رکھ لینا جب ہمارا بےبی بڑا ہو جاےُ پھر اسے دے دینا۔۔۔”
شاہ اس کے قریب آ کر بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“اچھا آپ کو اتنا پسند آیا ہے تو لے لیں میں کیا کہہ سکتی ہوں؟”
مہر شانے اچکاتی کپڑے دیکھنے لگی۔
“اپنے لیے بھی لے لینا جو پسند آےُ۔۔”
شاہ بولتا ہوا آگے چل دیا۔
مہر اس کی پشت دیکھ کر مسکرانے لگی۔
جیسے ہی دونوں گھر میں داخل ہوۓ شاہ نے ملازمہ کے ہاتھ سب کو بلاوا بھیجا۔
شاہ پرجوش انداز میں ایک ایک چیز سب کو دکھا رہا تھا۔
خوشی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
بابا سائیں اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے جس سے اپنی خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔
“برخوردار یہ بڑے بچوں کے کھلونے اٹھا لاےُ ہو؟”
کمال صاحب ہنستے ہوۓ بولے۔
“بابا سائیں میرا تو دل چاہ رہا تھا سب لے آؤں۔۔۔”
شاہ خوشی سے نہال ہو کر بولا۔
“اللہ نصیب میں کرے۔۔۔”
وہ خوشدلی سے بولے۔
“بھئی وارث ہونا چائیے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم مہر پر ایک اچٹتی نظر ڈالتی ہوئی بولیں۔
مہر لب کاٹتی شاہ کو دیکھنے لگی۔
“امی لڑکا ہو یا لڑکی اس میں مہر کا کیا عمل دخل آپ بس دعا کریں کہ نیک اور زندگی والی اولاد ہو۔۔۔”
شاہ انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“مجھے تو وارث چائیے بس بیٹی ہوئی تو اسے وہیں چھوڑ آنا جہاں سے اس کی ماں آئی ہے۔۔۔”
شاہ قہر برساتی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میرا مطلب ہے لڑکی کی کوئی جگہ نہیں ہمارے گھر میں۔۔۔”
وہ سنبھل کر بولیں۔
“بیگم بھولو مت حرم بھی ایک لڑکی ہے اور تم نے پیدا کیا ہے اسے کیا ہم نے اسے باہر پھینکا؟”
کمال صاحب برہمی سے بولے۔
ضوفشاں بیگم لب بھینچے حرم کو دیکھنے لگی۔
ساری خوشی پر اوس پڑ چکی تھی۔
کچھ دیر قبل ان کے چہروں پر جو مسکراہٹ تھی اب اس کی جگہ سنجیدگی نے لے لی۔
شاہ ویز نا چاہتے ہوۓ بھی مہر کو دیکھ رہا تھا۔
اس نے بار ہا اپنے دل کو سمجھایا لیکن نظر گھوم پھر کر اسی پر ٹھر جاتی۔
“شاہ ہمارا بیٹا ہے جب ہم نے بیٹی کی پیدائش پر ایک لفظ نہیں نکالا تو پھر وہ کیوں اپنی اولاد کو پھینک آےُ گا؟”
وہ ضوفشاں بیگم کو دیکھتے افسوس سے بولے۔
بابا سائیں کے بولنے پر شاہ کے چہرے پر کچھ اطمینان دکھائی دیا۔
ماریہ جل بھن کر ایک کونے میں بیٹھی تھی۔
“بھائی میں سوچ رہا تھا کہ ایک بہت بڑی دعوت رکھیں گے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔۔۔”
شہریار پرجوش سا بولا۔
“لو بھلا لڑکیوں کی پیدائش پر کوئی جشن مناتا ہے؟”
ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“ہم منائیں گے کیوں بھائی؟”
شہریار انہیں نظرانداز کرتا ہوا بولا۔
“ہاں ضرور لیکن یہ دعوت چاچو کی جانب سے ہو گی۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“بس پھر آپ دیکھیے گا یہ چاچو کیسی شاندار دعوت کا اہتمام کرتا ہے۔۔۔”
شہریار اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔
“بھابھی کتنا مزہ آےُ گا نہ ہمارے گھر میں بھی ایک چھوٹو سا بےبی آےُ گا۔۔۔”
حرم کو مہر کے ساتھ بیٹھی تھی اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگی۔
مہر مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ ویز اس سب میں خاموش بیٹھا تھا۔
وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو رہا تھا۔
مہر کو شاہ کے ہمراہ دیکھنا اسے گوارا نہیں تھا۔
“مہر تمہیں میرے پاس آنا ہو گا کسی بھی صورت میں۔۔۔”
شاہ ویز مہر کو دیکھتا ہوا سوچ رہا تھا۔
“حرم ملازمہ سے کہ کر سارا سامان سمیٹ دو پھر کمرے میں بھیج دینا۔۔۔”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“بھائی ملازمہ کو کیوں میں اپنے ہاتھ سے سب سمیٹوں گی۔۔۔”
حرم مسرور سی بولی۔
شاہ مسکراتا ہوا مہر کو دیکھنے لگا۔
مہر کھڑی ہوئی شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا۔
“شاہ کیا سب آپ کی بات مان لیں گے؟”
مہر ضوفشاں بیگم کے رویے کے باعث پریشان تھی۔
شاہ اس بات سے انجان تھا کہ اس کی غیرموجودگی میں مہر کو کیا کیا سننے کو ملتا ہے۔
“تم نے دیکھا بابا سائیں کے ہوتے ہوۓ مجھے بولنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ میں گھر کا لاڈلا ہوں خاص کر بابا سائیں کا۔ اس لئے جو بات سب کو سمجھانی ہو میں بابا سائیں کو سمجھا دیتا ہوں باقی وہ سنبھال لیتے ہیں۔۔۔”
شاہ زینے چڑھتا بول رہا تھا۔
“شاہ اگر بیٹی ہوئی؟”
مہر کمرے میں آتی فکرمندی سے بولی۔
“بیٹی ہوئی تو کیا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا میں نے لڑکی کے لئے چیزیں نہیں خریدیں؟ اپنے دماغ سے یہ خیال نکال دو کہ میں بیٹی ہونے پر ناخوش ہوں گا۔ بیٹا ہو یا بیٹی میری خوشی میں کوئی کمی نہیں آےُ گی۔۔۔”
شاہ اس کے سر پر چت لگاتا ہوا بولا۔
“شاہ ایک بات بتائیں؟”
مہر جھجھکتے ہوۓ بولی۔
“ہاں پوچھو؟”
شاہ اس کے ساتھ بیٹھتا ہوا بولا۔
“آپ اتنے اچھے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور بھی دوسری باتوں کا خیال رکھتے ہیں تو پھر کوٹھے پر کیوں آتے تھے؟”
مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
شاہ سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگا۔
“یونہی غصہ نکالنا چاہتا تھا۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“مطلب؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“جان بوجھ کر جاتا تھا وہاں۔ کسی کی بیوفائی کے باعث۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر صدیوں کا کرب دکھائی دے رہا تھا۔
“لیکن اس سب کا کوٹھے سے کیا تعلق؟”
مہر ناسمجھی سے بولی۔
“وجہ جاننے سے میں بھی قاصر ہوں۔ وہ بری جگہ تھی اسی لیے وہاں جاتا تھا ناراض تھا خود سے اس لئے غلط کام کرنا چاہتا تھا۔۔۔”
آہستہ آہستہ شاہ ماضی کی گرہیں کھول رہا تھا۔
مہر خاموش اسے سن رہی تھی۔
“میری بیوی شفا۔ ہماری پسند کی شادی تھی ایک ساتھ پڑھتے تھے ایک ساتھ جوان ہوۓ۔ میری خالہ کی بیٹی تھی۔۔۔”
مہر انہماک سے اسے سن رہی تھی۔
شاہ کی آنکھیں برسنے لگیں تھیں۔
“معلوم نہیں کیا ہوا وہ مجھے دھوکہ دینے لگی اور میں اس بات سے انجان تھا۔ سب سہی چل رہا تھا ہماری شادی کو ایک سال ہونے کو تھا پتہ نہیں ایسی کیا بات ہوئی جو اس نے مجھ سے بے وفائی کی۔
جب مجھے معلوم ہوا تو میں شہر جا رہا تھا اسے ساتھ لے کر لیکن ہماری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اس کے ساتھ ساتھ ہمارا بچہ بھی مر گیا۔اچھا ہوا وہ مر گئی ورنہ شاید میں اسے مار دیتا۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
شاہ نے چہرہ صاف کیا اور مہر کو دیکھنے لگا۔
“اسی باعث میں کوٹھے پر جاتا تھا۔نجانے وہ کب سے مجھے بیوقوف بنا رہی تھی اور میں بنتا جا رہا تھا۔۔۔”
شاہ تلخی سے مسکرایا۔
“شاہ آپ۔۔۔”
مہر نے بولتے ہوۓ اس کے ہاتھ تھام لیے۔
“میں ٹھیک ہوں مہر۔۔۔”
شاہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بول پڑا۔
مہر نے نم آنکھوں سے مسکرانے ہوۓ سر شاہ کے شانے پر رکھ دیا۔
شاہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
ماضی کسی فلم کی مانند اس کے سامنے چل رہا تھا۔
وہ کرب ناک پل پھر سے دکھائی دینے لگے تھے۔
وہ اذیت ناک یادیں آج پھر سے شاہ کے سامنے آن کھڑی ہوئیں تھیں۔
****///////****
“شاہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
مہر آئینے کے سامنے سے ہٹتی اس کے مقابل آ گئی۔
“پھوپھو کی طرف جانا ہے۔ان کے بیٹے کی مہندی ہے آج۔۔۔”
وہ شانے پر چادر رکھتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
مہندی کلر کا لباس زیب تن کئے، بھورے بالوں کی چڑیا بناےُ، ماتھا پٹی لگاےُ، پنکھڑی مانند ہونٹوں کو پنک کلر کی لپ اسٹک سے پوشیدہ کئے وہ دلنشیں لگ رہی تھی۔
شاہ چند لمحے بنا پلک جھپکے اسے دیکھتا رہا۔
“کیا ہوا؟”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“اتنی پیاری لگ رہی ہو میرا جانے کو دل ہی نہیں کر رہا۔۔۔”
شاہ اس کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے قریب کرتا ہوا بولا۔
مہر کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھر گئے۔
“دن بہ دن تم خوبصورت ہوتی جا رہی ہو یا مجھے ایسا گمان ہو رہا ہے؟”
شاہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا تھا۔
“مجھے کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟”
مہر اس کی گرفت میں کسمسائی۔
شاہ کے لب مسکرانے لگے۔
اس سے قبل کہ شاہ بولتا دروازے پر دستک سنائی دی۔
“تھوڑی دیر بھی سکون سے نہیں رہنے دیتے۔۔۔”
شاہ منہ بناتا دروازے کی جانب چلنے لگا۔
“بھائی امی کہہ رہی ہیں آ جائیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔”
شاہ ویز اندر جھانکتا ہوا بولا۔
“تم چلو میں مہر کو لے کر آتا ہوں۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
شاہ ویز سر ہلاتا مایوسی سے چلا گیا۔
“آؤ چلیں ورنہ سارے گھر والے آ جائیں گے۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر بیگ اٹھا کر اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
شاہ ویز کی نظریں مہر کے گرد گردش کر رہی تھیں۔
مہر کو لے کر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں لیکن شاہ کے باعث سب کی آواز مدھم تھی۔
مہر کی خوبصورتی کے چرچے پورے فنکشن میں ہو رہے تھے۔
ایسے میں ماریہ تلملا کر مہر کو دیکھ رہی تھی۔
حرم اپنی آستین سے دوپٹہ آزاد کروانے کی سعی کرتی چل رہی تھی جب وہ سامنے سے آتے نفس سے ٹکرا گئی۔
حرم منہ کھولے اس انسان کو دیکھنے لگی۔
ازلان مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔
حرم پلکیں چھپکاتی اسے دیکھ رہی تھی۔
حرم کو اپنی بینائی پر شبہ ہوا۔
ازلان دونوں آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
ہوا سے حرم کے بال منتشر ہو رہے تھے۔
جگہ کا خیال آیا تو سر جھکاتی آگے چل دی۔
ازلان خوشگوار حیرت میں مبتلا تھا۔
“حرم یہاں کیسے؟”
وہ سوچتا ہوا حرم کو دیکھنے لگا جو دوپٹہ کی جانب اشارہ کرتی کسی سے بات کر رہی تھی۔
“ایک منٹ حرم۔۔۔”
ازلان دماغ پر زور دیتا زیر لب دہرانے لگا۔
“اوہ مائی گاڈ کہیں یہ تایا ابو کی بیٹی حرم تو نہیں؟”
ازلان منہ پر ہاتھ رکھے حرم کو دیکھنے لگا۔
حرم ترچھی نظروں سے ازلان کو دیکھ رہی تھی۔
ازلان کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔
“بھابھی یہ کڑھائی سے الگ ہی نہیں ہو رہا۔۔۔”
حرم بےبسی سے بولی۔
“دکھاؤ میں کر دیتی ہوں۔۔۔”
مہر اس کی بازو پکڑتی ہوئی بولی۔
مہر کی نظریں اس کی آستین پر تھیں اور حرم کو موقع مل گیا ازلان کو دیکھنے کا۔
ازلان ابھی تک حرم کو ہی دیکھ رہا تھا۔
حرم نے اس کی جانب رخ موڑ تو ازلان کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
نجانے ایسا کیا تھا اس ایک مسکراہٹ میں؟
حرم کو لگا زندگی کی بشارت سنا دی گئی ہو۔
موت کے پاس لے جا کر پھر سے نئی زندگی بخش دی گئی ہو۔
اس چہرے کو دیکھنے کے لیے اسکی آنکھیں ترس رہیں تھیں۔
آنکھوں کی پیاس بجھ گئی۔
وہ دونوں ایک ہی صحرا کے مسافر تھے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو سیراب کر رہے تھے۔
حرم نے جھجھکتے ہوۓ چہرہ جھکا لیا۔
چہرے پر ڈھیروں رنگ بکھر گئے تھے۔
ازلان نفی میں سر ہلاتا مسکرانے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: