Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 13

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 13

–**–**–

برہان اندر آیا تو نظر شاہ سے ٹکرائی جو کرسی پر ہاتھ رکھے نیچے جھکا ہوا تھا۔
غالباً وہ نیچے جھک کر مقابل کو سن رہا تھا۔
مقابل کوئی اور نہیں بلکہ مہر تھی۔
برہان قدم روک کر مہر کا جائزہ لینے لگا۔
“اس کو نجانے کہاں ہے ایسی لڑکیاں مل جاتی ہیں؟”
وہ تاسف سے بولا۔
“شاہ وہ جو آپ کی ممانی ہیں نہ؟”
مہر چہرہ اوپر اٹھاےُ بول رہی تھی۔
“ہمممم۔۔۔”
شاہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“وہ کہہ رہیں تھیں یہاں سے ہم ان کی طرف آ جائیں۔۔۔”
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“پھر کیا کہا تم نے؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“میں نے کہہ دیا کہ شاہ سے پوچھ کر بتاؤں گی۔۔۔”
مہر معصومیت سے بولی۔
شاہ کے لب مسکرانے لگے۔
“بہت اچھا کیا۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا سیدھا ہوا گیا۔
“آپ بیٹھ جائیں نہ۔۔۔”
مہر خالی کرسی کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“نہیں۔خواتین میں بیٹھنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“پھر ایسے کھڑے رہیں گے؟”
مہر اس کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں میں ایزی ہوں۔۔۔”
شاہ کا فون رنگ کرنے لگا تو وہ سائیڈ پر آ گیا۔
“ہاں عدیل بول؟”
“یار وہ جو بچے کے اغوا کی رپورٹنگ کر رہی تھی نہ اسماء؟”
“ہاں کیا ہوا اسے؟”
شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“وہ غائب ہو گئی ہے۔ وہی تھی جو اس کیس کے پیچھے پڑی تھی۔۔۔”
اوہ!”
شاہ تاسف سے بولا۔
“تیری ان کے گھر والوں سے بات ہوئی ہے؟”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“ابھی تک تو نہیں ہوئی نمبر نہیں مل رہا ان کا۔لگتا ہے گھر جانا پڑے گا۔۔۔”
عدیل فکرمندی سے بولا۔
“عدیل ایسا کر تو زرا دیکھ لے یہ سب میں شادی پر ہوں پھر مہر کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔۔۔”
شاہ کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
“چل ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو کال کروں گا۔۔۔”
عدیل نے کہہ کر فون رکھ دیا۔
****////////****
“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی دونوں ایک ساتھ چلی جاؤ گی تو کون سی قیامت آ جاےُ گی؟”
زلیخا بیگم حیران پریشان سی بولیں۔
“مجھے نہیں جانا اس آئمہ کے ساتھ۔۔۔”
زنیرہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“میں تو جیسے مری جا رہی ہوں نہ تمہارے ساتھ جانے کے لیے۔۔۔”
آئمہ تنک کر بولی۔
“توبہ میری کیا کھاتی ہو دونوں ایسے لڑتی ہو۔۔۔”
زلیخا بیگم کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولیں۔
“ہاں تو آپ بھی ناانصافی کرتی ہیں جب حیدر آیا تھا آپ نے زنیرہ کو بھیج دیا اس کے پاس مجھے کیوں نہیں بھیجا؟”
آئمہ بل کھاتی ہوئی بولی۔
زنیرہ استہزائیہ ہنسی۔
“جو جس قابل ہو اسے اسی جگہ پر رکھا جاتا ہے۔۔۔”
زنیرہ جلانے والی مسکراہٹ آئمہ کی جانب اچھالتی ہوئی بولی۔
آئمہ تلملا اٹھی۔
“دیکھ رہیں ہیں آپ اس کی زبان اور نخرہ؟”
آئمہ تپ کر بولی۔
“دونوں ہی ایک برابر ہو میں کسی کو نہیں کہتی۔۔۔”
زلیخا بیگم ہاتھ اٹھاتی ہوئی بولیں۔
زنیرہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جبکہ آئمہ کلس کر رہ گئی۔
“تم دونوں الگ لگ جاؤ تو بہتر ہے ویسے بھی الگ الگ اداروں میں جانا ہے۔۔۔”
وہ اکتا کر بولیں۔
“زنیرہ اپنا بیگ سنبھالتی چل دی۔
آئمہ پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“نجانے کیا رقابت ہے ان دونوں کو ایک دوسرے سے۔۔۔”
زلیخا بیگم بولتی ہوئی چلنے لگیں۔
****///////****
“عینی کیا مصیبت ہے تمہیں؟”
شاہ ویز اکتا کر بولا۔
“شاہ ویز تم مجھ سے ایسے کیوں بات کر رہے ہو؟ اتنے وقت سے میری کالز اٹینڈ نہیں کر رہے اور آج اگر کر ہی لی تو۔۔۔۔”
عینی نے روتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
شاہ ویز مٹھی بھینچے سامنے دیکھنے لگا۔
بیزاری اور تلخی چہرے سے عیاں تھیں۔
“تمہیں ہزار بار بتا چکا ہوں ہماری فیملی میں مسائل در پیش ہیں مجھے تنگ مت کیا کرو۔۔۔”
شاہ ویز ضبط کرتا ہوا بولا۔
“میں تمہیں تنگ کرتی ہوں؟ شاہ ویز میں؟”
عینی سسکتے ہوۓ بولی۔
“ہاں تم۔۔۔”
شاہ ویز چبا چبا کر بولا۔
“عینی آنسو بہاتی اسکرین کو دیکھنے لگی۔
“شاہ ویز تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟”
عینی کو خطرہ لاحق ہوا۔
“کس زبان میں سمجھاؤں بتاؤ مجھے؟”
شاہ ویز کڑے تیور لئے بولا۔
عینی لب بھینچ کر رہ گئی۔
“اچھا میری بات سنو تم واپس آؤ گی تو ہاسٹل مت جانا میں بکنگ کروا دوں گا ہوٹل میں کچھ دن ساتھ گزاریں گے ٹھیک ہے؟”
شاہ ویز بالوں میں ہاتھ پھیرتا نرمی سے بولا۔
“تم مجھ سے محبت کرتے ہو نہ؟”
“ہاں میں تم سے ہی محبت کرتا ہوں۔ خوش ہو اب؟”
شاہ ویز اسے بہلا رہا تھا۔
“بہت خوش بس تم جلدی سے بکنگ کروا دو جب کہو گے میں آ جاؤں گی۔۔۔”
عینی خوشی سے چہکی۔
“میں پتہ کرواتا ہوں آج۔ اب جاؤں میں؟”
“دل تو نہیں چاہ رہا لیکن ٹھیک ہے جاؤ اب جب ملیں گے تو اتنی آسانی سے تمہیں جانے نہیں دوں گی۔۔۔”
عینی خفا خفا سی بولی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
شاہ ویز مسکراتا ہوا بولا۔
عینی کچھ بول رہی تھی لیکن شاہ ویز نے فون بند کر دیا۔
نظر سب پر سے ہو کر مہر پر ٹھر گئی۔
وہ کوئی ساحرہ تھی جو ہر کسی کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی بس پھر گھائل ہونا طے تھا۔
شاہ ویز بھی اس کے ہاتھوں گھائل ہوا تھا۔
اس کے سحر کا یہ اثر تھا کہ وہ چاہ کر بھی اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔
“نظر کے سامنے تو ہوتی ہو کبھی دل کے پاس بھی آ جاؤ تو کیا ہی بات ہے۔۔۔”
شاہ ویز مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ کی نظر شاہ ویز پر اٹھی تو شاہ ویز گڑبڑا کر دوسری سمت میں دیکھنے لگا۔
شاہ اچنبھے سے شاہ ویز کو دیکھنے لگا۔
اس کی نظر کا دھوکہ تھا یا سچ میں ایسا ہی تھا۔
وہ بھائی تھا شاہ نے توجہ نہ دی۔
دروازے پر دستک سنائی دی تو حرم حواس باختہ ہو کر ازلان کو دیکھنے لگی۔
ازلان لب دباےُ دماغ چلا رہا تھا۔
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ؟”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی ہولے سے بولی۔
ازلان نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے گھورا۔
حرم تھوک نگلتی اسے دیکھنے لگی۔
“میں واش روم میں جا رہا ہوں تم کہہ دینا بھابھی ہیں جاؤ اب۔۔۔”
ازلان واش روم میں جاتا ہوا بولا۔
حرم حواس بحال کرتی دروازے کے پاس آئی۔
“دروازہ کیوں بند کیا تھا؟”
ندا آبرو اچکا کر بولی۔
“وہ می میری بھابھی واش روم میں ہیں اس لیے۔۔۔”
حرم نے کہتے ہوۓ اسے راستہ دیا۔
ازلان منہ پر ہاتھ رکھے خود کو ہنسنے سے باز رکھ رہا تھا۔
“عجیب لوگ ہیں۔۔۔”
ندا بڑبڑاتی ہوئی سنگھار میز کے پاس آ گئی۔
حرم کا سانس اٹکا ہوا تھا۔
وہ اپنے تاثرات نارمل کرنے کی بھرپور سعی کر رہی تھی۔
مطلوبہ شے لے کر ندا ایک نظر حرم پر ڈالتی باہر نکل گئی۔
حرم سانس خارج کرتی دروازہ بند کرنے لگی۔
ازلان نے واش روم کا دروازہ کھولا اور ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔
آبرو اچکا کر حرم کو دیکھنے لگا جس کا رنگ سفید پڑ گیا تھا۔
حرم نے گھورنے پر اکتفا کیا۔
“اب تم میری بھابھی بن کر اندر ہی بیٹھے رہو میں جا رہی ہوں اس سے قبل کہ کوئی اور آےُ۔۔۔”
حرم دروازہ کھولتی ہوئی بولی۔
“سنو تو۔۔۔”
ازلان نے اسے پکارا لیکن وہ سنی ان سنی کرتی چلی گئی۔
ازلان نفی میں سر ہلاتا فون چیک کرنے لگا۔
“بھائی میں سوچ رہی تھی کل واپس چلی جاؤں۔۔۔”
حرم ہچکچاتے ہوۓ بولی۔
شاہ نے بیک مرر سے ایک نظر حرم پر ڈالی۔
“جلدی نہیں؟”
شاہ نگاہیں سڑک پر مرکوز کرتا ہوا بولا۔
“وہ بھائی پھر مجھے بعد میں مسئلہ ہوتا ہے کور کرنے میں ویسے بھی کلاس تو کل سے شروع ہو جاےُ گی۔۔۔”
حرم نے بہانہ بنایا۔
“لے جائیں نہ پڑھائی کا حرج ہو گا یہاں بھی سارا دن فارغ ہی ہوتی ہے حرم۔۔۔”
مہر نے مداخلت کی۔
شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
حرم کا چہرہ کھل اٹھا۔
مہر کے باعث شاہ فوراً مان گیا۔
“واہ بھابھی آپ گریٹ ہو۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں مہر کو سراہنے لگی۔
****////////****
حرم متلاشی نگاہوں سے اردگرد دیکھ رہی تھی۔
“مجھے بلا کر خود کہاں غائب ہو گیا ہے؟”
حرم بولتی ہوئی چلتی جا رہی تھی۔
“حرم کلاس لینے چلیں؟”
آمنہ اس کے عقب سے نمودار ہوئی۔
“ہاں چلو۔۔۔”
حرم ازلان کو ڈھونڈنے کا ارادہ ترک کرتی کلاس کی جانب چلنے لگی۔
ازلان اسے پہلی نشست پر دکھائی دے گیا۔
بے ساختہ لب مسکرانے لگے۔
نظروں کا تبادلہ ہوا تو حرم سر جھکاےُ آگے نکل گئی۔
ازلان چہرہ موڑے اسے دیکھنے لگا جو اب آمنہ کے ساتھ محو گفتگو تھی۔
اسے آج یونی میں دیکھ کر ازلان کو خوشی ہوئی۔
پروفیسر کلاس میں داخل ہوۓ تو سب سیدھے ہو گئے۔
لیکچر گزارنا دونوں کے لیے محال تھا۔
جیسے تیسے کر کے لیکچر ختم ہوا حرم کلاس سے باہر نکل گئی۔
ازلان بھی اس کے پیچھے لپکا۔
“ازلان تیرا بیگ؟”
وکی نے اسے آواز دی لیکن وہ سنی ان سنی کرتا چل دیا۔
“او معصوم بلی کہاں بھاگی جا رہی ہو؟”
ازلان اس کا دوپٹہ پکڑتا ہوا بولا۔
حرم چہرہ موڑے خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہیں بھی غصہ آتا ہے؟”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے میرا دوپٹہ چھوڑو۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔ نظر گرد و نواح میں تھی۔
“اور اگر میں نہ چھوڑوں پھر؟”
ازلان دوپٹہ ہاتھ پر لپیٹتا ہوا بولا۔
“تم کیا چاہتے ہو سب ہمیں دیکھ لیں؟”
حرم بازو سینے پر باندھتی ہوئی بولی۔
“بلکل۔۔۔”
ازلان تائیدی انداز میں گردن جھکاتا ہوا بولا۔
“ازلان مجھے لائبریری جانا ہے پلیز چھوڑ دو نہ۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“چھوڑ دیتا ہوں پہلے میری بات سن لو۔۔۔”
ازلان اس کے عین مقابل آ گیا۔
“کیا؟”
حرم اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتی ہوئی بولی۔
“اوے ہوۓ یہاں تو پوری فلم چل رہی ہے۔۔۔”
زینے اترتے ہوۓ لڑکے نے انہیں دیکھ کر ہانک لگائی۔
ازلان سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
“واپس میرے ساتھ جاؤ گی تم اور اب جاؤ۔۔۔”
ازلان اس کا دوپٹہ آزاد کرتا اس لڑکے کی جانب بڑھنے لگا۔
“ازلان۔۔۔۔”
حرم نے اسے روکنا چاہا۔
“میں نے کہا جاؤ۔۔۔”
ازلان اس کی بات کاٹتا حلق کے بل چلایا۔
حرم سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی، تیز تیز قدم اٹھاتی اس سے دور ہو گئی۔
“کیا بکواس کر رہا تھا؟”
ازلان اس کا گریبان پکڑتا ہوا چلایا۔
ازلان کے چلانے کے باعث آس پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس انہیں دیکھنے لگے۔
“تمیز سے ازلان میں بھی غنڈہ گردی پر اتر سکتا ہوں۔۔۔”
وہ ازلان کے ہاتھ جھٹکتا ہوا بولا۔
ازلان نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی۔
“ازلان ریلیکس۔۔۔”
وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
ازلان نے ایک مکہ اس کے منہ پر جھڑ دیا۔
وہ دو قدم پیچھے ہٹا۔
منہ پر ہاتھ رکھ کر خون دیکھنے لگا۔
ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
پروفیسر آصف بھیڑ دیکھ کر اِدھر آ نکلے۔
“کچھ نہیں سر مذاق کر رہے تھے ہیں نہ عارف؟”
ازلان جلانے والی مسکراہٹ اچھالتا ہوا بولا۔
“جی سر۔۔۔”
وہ ہونٹ پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
ازلان تمسخرانہ انداز میں ہنستا وہاں سے چل دیا۔
****////////****
مہر حرائمہ کے ہمراہ باتیں کرتی ہوئی چل رہی تھی۔
“میں نے بات کی تھی شاہ سے۔ وہ کہہ رہے تھے غور کروں گا۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
حرائمہ کی نظر سیڑھیوں پر پڑی تو پیشانی پر بل پڑ گئے۔
سیڑھیاں چمک رہیں تھیں۔
“آپی ایک منٹ۔۔۔”
مہر جو زینے پر پاؤں رکھنے والی تھی حرائمہ کی آواز پر اس کا پاؤں ہوا میں معلق رہ گیا۔
“کیا ہوا؟”
مہر تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔
حرائمہ نے اس کی بازو پکڑ کر پیچھے کیا۔
“کیا ہو گیا حرائمہ؟”
مہر فکرمندی سے اسے دیکھنے لگی۔
“آپی یہ دیکھیں۔۔۔”
حرائمہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی اور زینے پر انگلی پھیر کر اسے دکھانے لگی۔
“کیا مطلب؟”
مہر کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
“آپی یہ تیل گرایا گیا ہے دیکھیں۔۔۔”
حرائمہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
مہر منہ کھولے سیڑھیاں دیکھنے لگیں۔
“کس کا کام ہو سکتا ہے یہ؟”
مہر ششدر سی بولی۔
“پتہ نہیں آپی۔آپ ابھی کمرے میں چلی جائیں میں اپنی موجودگی میں ملازمہ سے صاف کرواتی ہوں پھر آپ نیچے جانا۔۔۔”
حرائمہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
مہر غائب دماغی سے اثبات میں سر ہلاتی چل دی۔
“مطلب شاہ ٹھیک کہہ رہے تھے مجھے محتاط رہنا ہو گا۔۔۔”
مہر ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔
حرائمہ ملازمہ سے صاف کروا رہی تھی جب ماریہ کی نظر اس پر پڑی۔
چہرے پر ناگواری در آئی۔
ماریہ ایک اچٹتی نظر حرائمہ پر ڈالتی چل دی۔
“آپ کو کیک بنانا آتا ہے؟”
حرائمہ مہر کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“تجربہ تو نہیں ہے لیکن امید ہے اچھا بن جاےُ گا۔۔۔”
مہر انڈے توڑتی ہوئی بولی۔
حرائمہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
مہر اپنے کام میں محو تھی جب پاؤں کی چاپ سنائی دینے لگی۔
مہر کیک پر کریم لگا رہی تھی چہرہ نیچے جھکا ہوا تھا وہ انہماک سے اپنا کام کر رہی تھی۔
شاہ ویز چلتا ہوا اس کے عین مقابل آ گیا۔
مہر کا چلتا ہوا ہاتھ رک گیا۔
مہر کی کلائی شاہ ویز کے ہاتھ میں تھی۔
مہر کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
دانت پیستی ہوئی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
شاہ ویز کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
مہر کو اس کی مسکراہٹ اندر تک جلا گئی۔
جھٹکے سے اپنی کلائی آزاد کروائی اور وہی ہاتھ اس کے منہ پر جھڑ دیا۔
شاہ ویز منہ کھولے مہر کو دیکھنے لگا۔
“آئیندہ اگر ایسا سوچا بھی تو اس سے برا پیش آؤں گی۔۔۔”
مہر انگلی اٹھاےُ شعلہ بار نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔
اگلے لمحے وہ تیز تیز قدم اٹھاتا نکل گیا۔
مہر نے غصے سے مٹھی بھینچ لی۔
“شرم نہیں آتی اس بے غیرت کو اپنی بھابھی کو۔۔۔۔”
مہر نے سر جھٹکتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
****///////****
حرم کے چہرے پر پریشانی کی لکریں تھیں اس کے برعکس ازلان پرسکون سا بیٹھ تھا۔
پروفیسر بول رہے تھے اور حرم غائب دماغی سے سن رہی تھی۔
کلاس ختم ہوئی تو آہستہ آہستہ سب منتشر ہونے لگے۔
حرم سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔
ازلان بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
تقریباً سب جا چکے تو ازلان حرم کے پاس آیا۔
“کیا ہوا تمہیں؟”
ازلان متحیر سا بولا۔
“ازلان تم نے کیوں اس کے ساتھ لڑائی کی؟”
حرم خوف کے زیر اثر بولی۔
“تم کیوں ڈر رہی ہو؟ ایسے لوگوں کا منہ بند کروانا پڑتا ہے۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
“اچھا چھوڑو اسے آؤ چلتے ہیں۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
حرم اپنا ہاتھ چھڑواتی کھڑی ہو گئی۔
“اپنا منہ سیدھا کر لو ورنہ میں کر دوں گا۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولتا ہوا چلنے لگا۔
حرم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
دونوں چلتے یونیورسٹی کی حدود سے باہر نکل آےُ۔
میں عورت ہوں
تو کیا یہ جرم ہے میرا
کے اس خداوند نے
میرے پیکر میں
ٹھنڈی چھاوں جیسے پہلوؤں کو سینچ کے رکھا
میں ماں ہوں
بہن ہوں
بیٹی ہوں
تو پھر کیا میں مجرم ہوں
کہ میں درگور کر دی جاؤں زندہ
کہ میں جرگوں میں ہاری جاؤں زندہ
یا نظروں کے تعاقب میں رہوں میں
پھر کسی ڈھیر پہ مل جاؤں مردہ
میرے لاشے پہ بس اتنا لکھا ہو
میں عورت ہوں
تو کیا یہ جرم ہے میرا ۔۔۔۔۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
حرم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“لانگ ڈرائیو پے۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“گاڑی کہاں ہے؟”
حرم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“دیکھو باقی لوگ جاتے ہیں گاڑی پر یا پھر بائیک پر ہم پیدل لانگ ڈرائیو پے جائیں گے۔ کچھ نیا کرتے ہیں۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
حرم کا منہ کھل گیا۔
“ازلان ہم پیدل ہاسٹل جائیں گے؟”
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میرا خیال ہے میں فارسی زبان نہیں بولتا۔۔۔”
ازلان پتلیاں سکیڑے اسے گھورتا ہوا بولا۔
حرم گڑبڑا کر پیچھے ہو گئی۔
“ازلان میں تو مر جاؤں گی ہاسٹل جاتے جاتے تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی دور ہے میرا ہاسٹل۔۔۔؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“کوئی مسئلہ نہیں میں تمہیں ایک گلوکوز کی بوتل لگوا دوں گا۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
حرم آنکھیں چھوٹی کیے رک کر اسے گھورنے لگی۔
“اب تم یہ کہہ رہی ہو کہ میں تمہیں اٹھاؤں؟”
ازلان چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے کب کہا ایسا؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“تم اسی لئے رک گئی ہو تاکہ میں ترس کھا کر تمہیں اٹھا لو لیکن سوچ لو میرا دل بہت نرم ہے جلدی جلدی ترس کھا لیتا ہے۔۔۔”
ازلان اسکی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے خود سے مفروضے قائم کر رہے ہو۔۔۔”
حرم گھبراتی ہوئی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
“حرم اگر کہیں سے شیر یا پھر جنگلی جانور نکل آےُ پھر؟”
ازلان نے اسے تنگ کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔
“کیوں مجھے ڈرا رہے ہو؟”
حرم دائیں بائیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“پتہ ہے ایک بار میں نے یہاں برفانی ریچھ دیکھا تھا۔۔۔”
ازلان چیونگم منہ میں ڈالتا ہوا بولا۔
“سچی! پھر کیا کیا تم نے؟”
حرم دم سادھے اسے سننے کی منتظر تھی۔
“پھر میں نے اسے کہا کہ حرم بیوقوف کے پاس چلے جاؤ۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
حرم جو پوری توجہ سے اسے سن رہی تھی خفگی سے دیکھنے لگی۔
“مجھے یہ بتاؤ یہاں برفانی ریچھ کیسے آ سکتا ہے؟”
ازلان قہقہے لگاتا ہوا بولا۔
حرم کو اپنی کم عقلی پر غصہ آنے لگا۔
“میں نے صحیح سنا نہیں تھا۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ازلان ایسے تو ہم کل تک پہنچیں گے شٹل لے لیتے تو آرام سے چلے جاتے۔۔۔”
حرم منہ بسورتی ہوئی بولی۔
“شٹل میں آدھا پاکستان سما جاتا ہے مجھے نہیں پسند۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم دھیرے سے مسکرانے لگی۔
“ہیلو ازلان؟”
ان کے عقب سے عارف کی آواز گونجی۔
حرم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
ازلان چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
عارف کا پورا گروپ کھڑا تھا۔
ازلان آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے سوچا صبح والا حساب برابر کر کے ہی گھر جائیں۔۔۔”
وہ گردن کو دائیں بائیں گھماتا ہوا بولا۔
“ازلان نے بائیں ہاتھ سے حرم کو اپنے پیچھے کیا۔
حرم اس کے عقب میں چھپ گئی۔
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
چہرے پر خوف کی لکریں نمایاں تھیں۔
“میرے بھی ہاتھوں میں کھجلی ہو رہی تھی ویسے۔۔۔”
ازلان شرٹ کے آستین اوپر چڑھاتا ہوا بولا۔
“ازلان پلیز تم مت لڑنا ان سے۔۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
عارف آگے آیا اور ازلان کے منہ پر مکہ مارنا چاہا لیکن ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
اگلے لمحے دونوں ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو رہے تھے۔
عارف کے گروپ سے کسی لڑکے نے شیشے کی بوتل ازلان کے ماری لیکن ازلان نیچے جھک گیا بوتل سامنے درخت پر جا لگی اور بدقسمتی سے ایک شیشہ حرم کی بازو میں پیوست ہو گیا۔
ان کی قسمت اچھی تھی کہ دو پروفیسر نمودار ہوۓ۔
ان کی گاڑی خراب ہو گئی جس کے باعث وہ پیدل آ رہے تھے۔
“عارف پروفیسر آ رہے ہیں۔۔۔”
اس کے گروپ کا لڑکا چلایا۔
عارف ایک لمحے کی تاخیر کئے بنا ازلان سے الگ ہوا اور اپنے گروپ کے ہمراہ نکل گیا۔
حرم خاموش آنسو بہا رہی تھی۔
ازلان اس بات سے انجان تھا کہ حرم کے بازو پر شیشہ لگا ہے۔
حرم کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔سرخ بوندیں زمین پر گر رہیں تھیں۔
ازلان شرٹ کے اوپر والے بٹن بند کرتا حرم کی جانب چلنے لگا۔
حرم دانتوں تلے لب دباےُ اپنی سسکیاں دبا رہی تھی۔
“حرم یہ کیا ہوا؟”
ازلان بوکھلا کر اس کی بازو دیکھنے لگا۔
“و وہ میرے شیشہ لگ گیا ہے۔۔۔”
تکلیف کے باعث حرم سے بولنا محال ہو رہا تھا۔
“یار پروفیسر یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
ازلان انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم کا ہاتھ پکڑا اور درخت کی اوٹ میں چھپ گیا۔
ازلان نے حرم کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
حرم آنسو بہاتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
وہ کچھ فاصلے پر گئے تو ازلان وہیں بیٹھ گیا۔
“میں یہ شیشہ نکالوں گا تو تکلیف ہو گی۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا مطلع کرنے لگا۔
“ایسے ہی رہنے دو پھر۔۔۔”
حرم ہاتھ کھینچتی ہوئی بولی۔
“پاگل ہو کیا؟ ڈاکٹر کے پاس جاؤ گی تو وہ بھی ایسے ہی نکالے گا۔۔۔”
ازلان نے کہتے ہوۓ پھر سے اس کی بازو پکڑ لی۔
“ازلان مجھے نہیں نکالنا درد ہو گا بہت۔۔۔”
حرم روتی ہوئی بول رہی تھی۔
“درد تو ہو گا لیکن صرف ایک بار پھر اس کے بعد ٹھیک ہو جاےُ گا۔۔۔”
ازلان بچوں کی مانند اسے بہلانے لگا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
ازلان نے اسے گھوری سے نوازتا تو حرم سر جھکا گئی۔
آنسو اس کے دامن میں گر رہے تھے۔
“میرے کان کے پردے مت پھاڑ دینا۔۔۔”
ازلان شیشہ پکڑتا ہوا بولا۔
حرم سفید پڑتے چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
ازلان نے زور سے شیشہ باہر نکال دیا۔
“آااا۔۔۔۔”
حرم دوسرا ہاتھ منہ پر رکھنے رونے لگی۔
آنسوؤں میں روانی آ گئی۔
ازلان نے جیب سے اپنا رومال نکالا اور جلدی سے حرم کی بازو پر باندھ دیا۔
“آئم سوری۔ میری وجہ سے تمہیں چوٹ لگ گئی۔۔۔”
ازلان سر جھکاےُ نادم ہو کر بولا۔
حرم خاموش آنسو بہاتی رہی۔
“ازلان پلیز مجھے ہاسٹل چھوڑ دو۔۔۔”
ایک خوف دوسرے خوف پر حاوی ہو رہا تھا۔
“اچھا ویٹ میں کال کرتا ہوں زین کو۔۔۔”
ازلان فون نکالتا ہوا بولا۔
****///////****
“مہر تم نے کیوں خود کو زحمت دی؟”
شاہ متحیر سا کیک کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ میرے لیے اتنا سب کرتے ہیں تو میں یہ بھی نہیں کر سکتی کیا؟”
مہر خفگی سے بولی۔
“تمہیں کس نے بتایا میری برتھ ڈے کا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“آپ چھوڑیں اس بات کو اور کیک کٹ کریں۔۔۔”
مہر پرجوش سی بولی۔
مہر کے چہرے پر خوشی دیکھ کر شاہ کا دل بھی مطمئن ہو گیا۔
****///////****
“بابا سائیں مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے؟”
شاہ ان کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
“ہاں بولو تمہید کیوں باندھ رہے ہو؟”
وہ جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے۔
“میں سوچ رہا تھا حرم کے لئے عدیل مناسب رہے گا۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“مطلب؟”
وہ آبرو اچکا کر بولے۔
“کیوں نہ حرم کی منگنی کر دیں عدیل کے ساتھ؟”
شاہ نے عدیل کی خواہش کا اظہار کیا۔
“تم جانتے ہو نہ اس کی ذات چودھری ہے۔ ہم کیسے کر سکتے ہیں حرم کا رشتہ اس کے ساتھ؟”
وہ کرخت لہجے میں بولے۔
“بابا سائیں خاندان میں تو کوئی بھی نہیں ہے پھر کس کے ساتھ حرم کا کریں گے؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“رشتوں کی کمی نہیں ہے تمہاری امی کے ماموں ہیں ان کا بیٹا ہے میری نظر میں۔۔۔”
“بابا سائیں عدیل میں کیا برائی ہے؟ دیکھا بھالا ہے میرا دوست ہے برسوں سے ہم ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ حرم کو خوش رکھے گا میں ضمانت دیتا ہوں۔۔۔۔”
شاہ سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“بات یہ نہیں ہے شاہ تم بھی جانتے ہو اس لئے ہمیں قائل کرنے کی سعی مت کرو۔۔۔”
“بابا سائیں مہر بھی تو باہر سے آئی ہے نہ مجھے بتائیں کیا برائی ہے اس میں؟ ہم بلاوجہ ان پرانی رسموں کے باعث ایک اچھا رشتہ گنوا دیں۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“تم کہتے ہو تو ہم سوچیں گے لیکن مثبت جواب ہی ہو گا ایسی توقع مت رکھنا۔ نظر ثانی کریں گے ہم اس پر۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
“مجھے امید ہے جواب مثبت ہی ملے گا۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
****////////****
“کیسے چوٹ لگی تمہارے؟”
آئمہ افسردگی سے بولی۔
“بس لگ گئی۔ تم نے پٹی کر دی بہت شکریہ ورنہ مجھے ڈاکٹر نے پاس جانا پڑتا۔۔۔”
حرم اس کی مشکور تھی۔
“ارے دوستوں میں شکریہ کی ضرورت نہیں یہ بتاؤ درد تو نہیں ہو رہا اب؟”
آئمہ متفکر سی بولی۔
“نہیں اب بہتر یے۔۔۔”
حرم ہلکا سا مسکرائی۔
“میں اب کمرے میں جاتی ہوں۔۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
آئمہ مسکراتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“حرم تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا؟”
آمنہ حیرت سے بولی۔
“کچھ نہیں بس تھوڑی سی چوٹ لگ گئی تھی۔۔۔”
حرم نے مسکرا کر ٹالنا چاہا۔
“لیکن پھر بھی۔۔۔”
آمنہ مطمئن نہیں ہوئی۔
‘جب وہ نہیں بتانا چاہتی تو تم کیوں کرید رہی ہو؟”
ذوناش تنک کر بولی۔
آمنہ شانے اچکاتی اپنے بیڈ پر آ گئی۔
حرم سانس خارج کرتی چلنے لگی۔
انشرح کبھی حرم کو دیکھتی تو کبھی ذوناش کو۔
“حرم تم نے میری بات کیوں نہیں مانی؟”
ازلان کا میسج دیکھ کر حرم کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ازلان اگر میں تمہارے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تو مجھے دیر ہو جاتی اور جانتے ہو بھائی نے چوکیدار کو خاص تاکید کر رکھی ہے۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالے لکھنے لگی۔
“لیکن یار بینڈیج لازمی کروانی تھی نہ۔۔۔”
ازلان تاسف سے بولا۔
“میری دوست نے کر دی ہے بینڈیج تم فکر مت کرو میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
حرم نے اسے مطمئن کرنا چاہا۔
ازلان اسکرین کو دیکھتا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“لعنت ہو ازلان تمہارے باعث وہ تکلیف میں ہے۔۔۔”
ازلان خود کلامی کرنے لگا۔
چہرے پر الجھن اور پریشانی نمایاں تھی۔
“ازلان تو ہمیں فون کر دیتا۔۔۔”
زین اسے مخاطب کرتا ہوا بولا۔
“یار وہ ٹائم ایسا نہیں تھا کہ میں فون کرتا تم لوگوں کو سب کچھ اچانک سے ہوا۔۔۔”
ازلان آہ بھرتا ہوا بولا۔
“بھابھی ٹھیک ہے؟”
وکی موبائل سے نظریں ہٹا کر بولا۔
“ہاں کہہ تو رہی ہے۔۔۔”
ازلان مایوسی سے بولا۔
“زین میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تو مجھے چھوڑ اور ازلان کے چنو منو کی گود بھرائی کا سوچ۔۔۔۔”
سیفی آنکھوں میں شرارت لئے بولا۔
“لعنت ہو تجھ پر وہ ایسی نہیں ہے۔۔۔”
ازلان اس پر تکیہ پھینکتا ہوا بولا۔
سیفی سمیت باقی سب بھی ہنسنے لگے۔
ازلان گھورتا ہوا باہر نکل آیا۔
****//////****
ازلان جونہی یونی میں داخل ہوا نظر سامنے کھڑی ذوناش سے ٹکرائی۔
چہرے پر ناگواری در آئی۔
ازلان اسے نظرانداز کرتا دوسری جانب چل دیا۔
ذوناش اس کے عقب میں چلنے لگی۔
“ازلان اب ایسی بھی کیا ناراضگی؟ تم دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے؟۔۔۔”
ذوناش اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
ازلان کا چہرہ غیظ کے باعث سرخ ہو گیا۔
“تمہیں اپنی عزت سے بلکل پیار نہیں؟”
ازلان اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا بولا۔
ذوناش تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان تم کیسے یہ سب کر سکتے ہو؟ میں وہی ذوناش ہوں جس سے تم محبت کرتے ہو۔۔۔”
ذوناش آنسو بہاتی بولنے لگی۔
ازلان نے جھٹکے سے اسے دور کیا۔
ذوناش لڑکھڑا گئی۔
“آخری بار تمہیں کہہ رہا ہوں دوبارہ میرے سامنے مت آنا۔ اور یہ فضول کی بکواس جا کر کسی اور کے سامنے کرنا مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں سمجھی؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں دیکھتا چبا چبا کر بولا۔
“ازلان؟ ازلان میری بات تو سنو۔۔۔”
ذوناش اس کے پیچھے لپکی لیکن وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس سے دور ہو گیا۔
ذوناش نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔
****///////****
“مہر تم بھی آ جاؤ ہمارے ساتھ۔۔۔”
ضوفشاں بیگم نا چاہتے ہوۓ بولیں۔
“امی شاہ آ جائیں تو میں ان کے ساتھ آ جاؤں گی۔۔۔”
مہر نے سہولت سے انکار کر دیا۔
“ہم تمہیں کھانے کو دوڑتے ہیں کیا جو ہمارے ساتھ جانے میں تکلیف ہو رہی ہے؟”
وہ بگڑ کر بولیں۔
ماریہ نفی میں سر ہلاتی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے دوائی بھی لینی ہے گھنٹے تک اس لئے کہ رہی ہوں۔۔۔”
مہر نے بہانہ بنایا۔
“دفعہ کریں آپ اس کو۔ اس کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے خاوند اٹھاتا رہے نخرے آپ کیوں زور ڈال رہیں ہیں؟”
ماریہ خفگی سے بولی۔
ضوفشاں بیگم مہر پر قہر آلود نظر ڈالتی باہر کو چل دیں۔ ماریہ بھی ان کے عقب میں چل دی۔
مہر سانس خارج کرتی انہیں دیکھنے لگی۔
مہر کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
ہر لمحے خوف طاری رہتا۔
نہ وہ محفوظ تھی نہ اس کا بچہ۔
“اللہ پاک میرے بچے کی حفاظت کرنا۔۔۔”
مہر نم آنکھوں سے دعا کرتی زینے چڑھنے لگی۔
“شاہ آپ کب آئیں گے؟”
مہر فون کان سے لگاےُ بیٹھی تھی۔
“میں آ جاؤں گا ٹائم سے۔ کیوں خیریت؟”
شاہ سیدھا ہو گیا۔
“جی خیریت ہی ہے امی خالہ کی طرف جا رہیں تھیں تو مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتی تھیں میں نے کہہ دیا کہ آپ کے ساتھ آؤں گی۔۔۔”
مہر افسردگی سے اسے بتا رہی تھی۔
“اچھا کیا میں سوچوں گا پھر تمہیں کال کر کے بتا دوں گا۔۔۔”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“شاہ جب سے وہ سیڑھیوں والا واقعہ ہوا ہے میرا تو دل ہی گھبراتا رہتا ہے۔۔۔”
مہر آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“مہر میں سوچ رہا ہوں کوئی مناسب عذر ملے تو تمہیں واپس اسی گھر لے جاؤں۔۔۔”
شاہ فکرمندی سے بولا۔
“ٹھیک ہے آپ کام کریں۔۔۔”
مہر اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
شاہ نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔
“شاہ آپ کی محبت اور آپ سے جڑے رشتوں نے مجھے کمزور کر دیا ہے ورنہ مہر کبھی اتنی بےبس نہ تھی۔۔۔”
بولتے بولتے مہر کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر دامن میں آ گرے۔
وہ صبر کا دامن تھامے چل رہی تھی کیونکہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔
مہر یہ مشکل وقت صبر کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی کیونکہ وہ ایک پرسکون زندگی کی خواہشمند تھی۔
“بس میرے بچے کو کچھ نہ ہوں۔۔۔”
مہر تڑپ کر بولی۔
“سب کہاں ہیں؟”
شاہ ویز ملازمہ کو دیکھ کر بولا۔
“صاحب بیگم صاحبہ اپنی بہن کے گھر گئیں ہیں مہر بی بی گھر پر ہیں بس۔۔۔”
وہ سر جھکا کر بولی۔
مہر کے نام پر شاہ ویز کے لب مسکرانے لگی۔
“ٹھیک ہے جاؤ تم۔۔۔”
ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا بولا۔
کمرے میں آیا اور شاور لے کر تیار ہونے لگا۔
“آج تو یہ چیپٹر بند کر ہی دوں گا میں۔ اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔
برہان والا آئیڈیا اچھا ہے سب سیٹ ہو جاےُ گا اس پر عمل درآمد کرنے سے۔۔۔”
شاہ ویز پر حیوانیت سوار تھی۔
مہر شاہ کی منتظر تھی۔
کمرے کے باہر راہداری میں وہ ٹہل رہی تھی۔
شاہ ویز کمرے سے نکلا اور مہر کی جانب بڑھنے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: