Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 14

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 14

–**–**–

مہر بے دھیانی میں کھڑی تھی اس بات سے انجان کہ شاہ ویز اس کی جانب بڑھ رہا ہے۔
شاہ ویز بنا چاپ پیدا کئے چل رہا تھا۔
شاہ ویز نے مہر کو گھما کر اپنے سامنے کیا اور کمر پر ہاتھ رکھ کر خود سے قریب کر لیا۔
مہر پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“بہت پیاری لگ رہیں ہیں آپ۔۔۔”
شاہ ویز مسکراتا ہوا بولا۔
مہر نے ایک تھپڑ اس کے بائیں رخسار پر مارا اور خود کو آزاد کروانے کی سعی کرنے لگی۔
“چھوڑو مجھے شاہ ویز۔۔۔”
مہر زور سے بولی۔
“اب تو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا۔
مہر نے اس کا چہرہ پیچھے کر دیا۔
“شاہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے شاہ ویز چھوڑو مجھے۔۔۔”
مہر اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
ستم ظریفی یہ کہ ضوفشاں بیگم اور ماریہ بھی آ گئیں۔
“وہ سب بعد کی بات ہے۔۔۔”
شاہ ویز آہستہ سے بولا۔
ماریہ کی نظر اوپر اٹھی تو پلٹنا بھول گئی۔
“امی وہ دیکھیں! “
ماریہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
مہر اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے دور کرنے کی سعی کر رہی تھی۔
“کیا ہو رہا ہے یہ سب؟”
ضوفشاں بیگم کی گرج دار آواز گونجی۔
شاہ ویز کی گرفت ڈھیلی پڑی تو مہر نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے تر تھیں۔
شاہ ویز کے چہرے پر ندامت کے کوئی آثار نہیں تھے بلکہ اس کے شیطانی دماغ میں ابھی بھی کچھ چل رہا تھا۔
شاہ ویز نے اپنی شرٹ کے بٹن توڑے پھر شرٹ کا گریبان بھی پھاڑ دیا۔
مہر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
شاہ فون کان سے لگاےُ اندر آیا تو نظر ضوفشاں بیگم پر پڑی جو ہکا بکا سی زینے چڑھ رہی تھیں۔
“یہ شریفوں کا گھر ہے کیا بیہودگی مچا رکھی ہے؟”
وہ چلاتی ہوئی چلتی آ رہیں تھیں۔
شاہ کو خطرے کی بو آئی تو ان کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔
ان دونوں کو دیکھ کر شاہ کے حواس جواب دے گئے۔
“بےغیرت شرم نہیں آئی تجھے دیور کے ساتھ یہ حرکتیں کرتے ہوئے؟”
ضوفشاں بیگم نے مہر کو بالوں سے دبوچ لیا۔
مہر کراہ کر انہیں دیکھنے لگی۔
شاہ خاموش شاہ ویز کو دیکھ رہا تھا جس کی حالت ابتر تھی اس کے برعکس مہر کا حلیہ بلکل ٹھیک تھا۔
“کیا ہوا ہے یہاں؟”
شاہ بولتا ہوا آگے آیا۔
ماریہ تماشائی بنی کھڑی تھی۔
“میں بتاتی ہوں تجھے شاہ یہ بے حیا بےغیرت لڑکی شاہ ویز کے ساتھ۔۔۔ اللہ معاف کرے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا میری آواز سن کر اس نے شاہ ویز کو خود سے دور کر دیا ہاےُ کیسی کمینی عورت ہے یہ شاہ کہاں سے اٹھا کر لایا تھا تو اسے۔۔۔”
وہ چیخ چیخ کر شاہ کو بتا رہی تھیں۔
مہر نفی میں سر ہلاتی شاہ کو دیکھ رہی تھی۔
“مہر یہ سب کیا ہے؟”
شاہ بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگا۔
شاہ ویز معصوم سی شکل بناےُ کھڑا تھا مانو اس پر ظلم ہوا ہو۔
“شاہ می میں نے کچھ نہیں کیا بلکہ شاہ ویز میرے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
“بھابھی کیوں جھوٹ بول رہی ہیں آپ؟”
شاہ ویز رونے والی شکل بناےُ بولا۔
“بھائی میں آپ کو بتاتا ہوں کیا ہوا؟میں کمرے سے تیار ہو کر نکلا تو بھابھی نے مجھے بلایا تو پھر دیکھیں کیا حل کیا ہے میرا۔۔۔”
شاہ ویز نے آنسو بہاتے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“ہاےُ میرا بچہ۔۔۔”
ضوفشاں بیگم اسے سینے سے لگاتی ہوئیں بولیں۔
“شاہ نہیں یہ سب جھوٹ ہے میں نے کچھ بھی نہیں کیا یقین کریں میرا۔ شاہ ویز آیا تھا میرے پاس میں تو۔۔۔۔”
شاہ کے تھپڑ نے مہر کو چپ کروا دیا۔
مہر منہ پر ہاتھ رکھے شکوہ کناں نظروں سے شاہ کو دیکھنے لگی۔
سیاہ بادل آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔
گھٹائیں چھا رہی تھیں۔
بجلیاں چمک رہی تھیں۔
ہوائیں رخ بدل رہی تھیں۔
نیلا آسمان سیاہ بادلوں سے پوشیدہ ہو چکا تھا۔
مہر کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
“میں نے تمہیں عزت دی تمہاری خاطر سب سے لڑتا رہا اور تم نے یہ صلہ دیا ہے مجھے مہر؟”
شاہ اسے بازوؤں سے پکڑتا ہوا جھنجھوڑنے لگا۔
مہر کرب سے اسے دیکھنے لگی۔
مہر نے منہ پر قفل لگا لیے۔
آنسوؤں پر وہ قفل نہیں لگا سکتی تھی سو وہ بہتے ہوۓ اپنی داستان بیاں کر رہے تھے اگر کوئی انہیں سمجھنے والا ہوتا۔
“میں تو پہلے ہی کہتی تھی ایسی بےغیرت گھر نہیں بساتی ان کو سر پر بٹھاؤ تو جوتیاں مارتی ہیں دیکھ لے اب شاہ۔۔۔”ضوفشاں بیگم تاسف سے بولیں۔
“تم نے ایک بار نہیں سوچا مجھ پر کیا گزرے گی؟”
شاہ کے لہجے میں چوٹ تھی۔
وہ ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا لیکن خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی سعی کر رہا تھا۔
مہر نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔
خاموش سر جھکاےُ ان کی گالیاں سنتی رہی۔
شاہ ویز بھی بول رہا تھا اس کے کردار پر نجانے کیسے کیسے بھتان لگاےُ جا رہے تھے لیکن مہر سن نہیں رہی تھی۔
شاید اس میں سننے کی سکت باقی نہ رہی تھی۔
وہ ان سب کے بیچ تو کھڑی تھی لیکن شاید اندر سے مر چکی تھی۔
اس کی روح پر وار کیا گیا تھا اور ایسا وار تھا کہ جس کے بعد حیات ممکن نہیں۔
“ایسے لچھن شریفوں کے نہیں ہوتے مجھے تو اول روز سے ہی یہ کھٹکتی تھی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کہاں خاموش رہنے والی تھیں۔
“شاہ اس بےغیرت کو میرے گھر سے نکال دے ورنہ میں خود اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کر دوں گی خود بےحیائی پھیلا کر میرے معصوم بچے پر الزام تراشی کر رہی ہے یہ شاہ۔۔۔”
ضوفشاں بیگم چلا رہیں تھیں۔
دکھ بڑھتا جا رہا تھا۔
کرب غصے میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔
شاہ کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی تھی۔
مہر کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا۔
مہر اس کے ساتھ چلتی جا رہی تھی۔
شاہ تقریباً اسے گھسیٹ رہا تھا۔
ماریہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
ضوفشاں بیگم شاہ ویز کو دیکھتی اثبات میں سر ہلانے لگیں۔
شاہ حویلی کے گیٹ پر آ گیا۔
چوکیدار نے اسے دیکھ کر گیٹ وا کر دیا۔
“میں نے تمہیں کہا تھا جس دن تم نے مجھ سے بےوفائی کی میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال دوں گا۔ یاد ہے؟۔۔”
شاہ اس کا چہرہ اوپر کرتا آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
مہر کی آنکھیں کرب سے آہ و پکار کر رہیں تھیں۔
شاہ نے اسے باہر دھکا دے دیا۔
مہر لڑکھڑائی بروقت اس نے گیٹ کو تھام لیا ورنہ گر جاتی۔
اس وقت وہ یہ بھی بھول گیا کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ اس کی کوکھ میں ایک معصوم جان پل رہی ہے۔
آسمان بھی شاید اس کے غم میں برابر کا شریک تھا۔
بوندیں پیاسی زمین پر گرنے لگیں۔
زمین کی پیاس بجھنے لگی تھی۔
مہر سمت کا تعین کئے بنا چلنے لگی۔
بارش کی بوندیں مہر کو بھگونے لگی تھیں۔
اس کے چہرے پر آنسو تھے یا بارش کے قطرے اب معلوم نہیں ہو رہا تھا۔
مہر اپنے بے جان وجود کو گھسیٹ رہی تھی۔
دل تو چاہ رہا تھا پھر سے خود کو ختم کرنے کی کوشش کی جاےُ لیکن پھر اس جان کا خیال عود آیا جو اس کے اندر سانس لے رہی ہے۔
مہر خاموش تھی اس کے آنسو اس کا درد بیان کر رہے تھے۔
اس کے آنسو اس کے کردار کی گواہی دے رہے تھے۔
دوپٹہ ڈھلک کر نیچے گر گیا۔
مہر جھکی اور دوپٹہ اٹھا کر خود کے گرد لپیٹ کر اپنا آپ چھپا لیا۔
اس ظالم دنیا میں تن و تنہا وہ کہاں جاتی۔
ایسے میں کوئی بھی اسے سہارا نہیں دینے والا تھا۔
مہر استہزائیہ ہنسی۔
“شاہ آخر آپ بھی ان مردوں جیسے ہی نکلے نہ اگر بیوی پر یقین ہی نہیں ہوتا تو پھر اسے ساتھ کیوں رکھتے ہیں اس عزت افزائی کے لئے؟ یوں دھکے مار کر باہر پھینکنے کے لئے؟
ایک لمحے میں آپ نے فیصلہ کر لیا میری آنکھوں میں بھی آپ کو سچائی دکھائی نہیں دی شاہ؟”
مہر سسکتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی۔
“کیا قصور تھا میرا بتائیں صرف یہ کہ میں کوٹھے سے آئی ہوں جبکہ میں اپنی مرضی سے بھی نہیں گئی تھی شاہ۔ خود سے محبت کروا کے اپنی محبت کا عادی بنا کر آپ نے مجھے اپنے دل سے اپنے گھر سے باہر نکال پھینکا۔ کیسے کر دیا آپ نے یہ شاہ کیسے؟”
مہر بلکتی ہوئی بولتی جا رہی تھی۔
دکھ ایسا تھا کہ تکلیف کا حساب لگانا ممکن نہیں تھا۔
جب دل کو چیر دیا جاےُ تو تکلیف اس حساب نہیں لگایا جا سکتا اس کے لئے سائنس نے کوئی آلہ دریافت نہیں کیا۔
یہ سیاہ بادل بھی مہر کے ہمراہ رو رہے تھے۔
تیز بارش کی بوندیں ہر شے کو تر کر رہی تھیں۔
اندھیری سیاہ رات میں مہر کا بے جان وجود پڑا تھا۔
مہر گھٹنوں پر سر رکھے سسک رہی تھی تڑپ رہی تھی لیکن اس کی آہ و زاری سننے والا کوئی نہیں تھا۔
“شاہ آپ کو میں نے اپنا سہارا بنایا تھا آج آپ ہی نے مجھے بے سہارا کر دیا۔ بس اتنا ہی بھروسہ تھا مجھ پر۔ اتنا کمزور تھا آپ کا یقین یہ بھی نہیں سوچا میں ہمارے بچے کو لے کر کہاں جاؤں گی۔۔۔”
مہر اس تاریک اور اداس رات کا حصہ لگ رہی تھی۔
خاموشی میں مہر کی سسکیاں اس کی پکار گونج رہی تھی لیکن افسوس اس کے لئے کوئی نہیں تھا۔
“شاہ آپ نے ایک بار بھی ہمارے بچے کے بارے میں نہیں سوچا جس کے لئے آپ دیوانے تھے آج اسے بھی خود سے دور کر دیا میرا نہ سہی اپنے بچے کا ہی خیال کر لیتے میں کیسے اس ننھی جان کو پال سکوں گی نہ ہاتھ میں پیسے ہیں نہ سر پر چھت۔ آپ نے مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دیا شاہ چھوڑ دیا آپ نے مجھے۔۔۔”
چار سو تکلیف ہی تکلیف تھی۔
“اگر یہی کرنا تھا تو مجھے وہیں رہنے دیتے اتنی تکلیف مجھے ان مردوں کی گندی نگاہوں سے نہیں ہوتی تھی جتنی تکلیف آپ نے دی ہے جس کرب میں آپ نے مجھے مبتلا کیا ہے میں کیسے برداشت کروں کہاں سے اتنی ہمت اتنا حوصلہ لاؤں میں۔مجھے بیچ راہ میں چھوڑ دیا آپ نے شاہ۔۔۔”
مہر کا جسم کپکپانے لگا تھا۔
حواس بحال ہوۓ تو سردی کا احساس ہونے لگا۔
احساسات تو منجمد ہو چکے تھے اب یہ مٹی کا جسم بھی منجمد ہونے لگا تھا۔
سرد ہوا کے جھونکے بوندوں کے سنگ مہر سے آ کر ٹکرا رہے تھے۔
اس کے اپنے اندر جل تھل کا موسم چل رہا تھا۔
اندر باہر برسات ہو رہی تھی۔
شاہ مرے مرے قدم اٹھاتا اندر آیا۔
ضوفشاں بیگم شاہ ویز کے بال ٹھیک کر رہیں تھیں۔
“پھینک آےُ ہو اس گندگی کو؟”
ضوفشاں بیگم حقارت سے بولیں۔
شاہ اثبات میں سر ہلاتا چلنے لگا۔
کسی خیال کے تحت رکا۔
“بابا سائیں کو آگاہ کر دیجیے گا میں جا رہا ہوں۔۔۔”
شاہ جیب سے چابی نکالتا ہوا بولا۔
“ایسے خراب موسم میں کہاں جا رہے ہو؟”
وہ پریشانی سے گویا ہوئیں۔
کمال کا انصاف ہے نہ وہ جو اپنے سنگ ایک جان کو لئے جی رہی تھی اس کی فکر نہیں تھی کہ وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہو گی اور جو گاڑی گھمانے جا رہا تھا اس کی فکر ستانے لگی تھی۔
“فلحال مجھے کسی سے بات نہیں کرنی بہتر ہوگا مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔۔۔”
شاہ ان کا ہاتھ جھٹکتا ہوا باہر نکل گیا۔
“ہاےُ میرا بچہ پھر سے اسی تکلیف سے گزر رہا ہے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم آہ بھرتی ہوئیں بولیں۔
“امی شکر کریں اس مہر سے جان چھوٹ گئی۔۔۔”
ماریہ نے اب اپنی زبان کھولی۔
شاہ گاڑی میں بیٹھا اور حویلی سے باہر نکل آیا۔
تاریک رات میں تیزی سے برستی بارش منظر کو دھندلا رہی تھی۔
کب سے ضبط کئے آنسوؤں کو شاہ نے بہنے دیا۔
سنسان ویران راستے اس تاریک رات کی مانند اندھیرے میں ڈوبے ہوۓ تھے۔
شاہ نے بریک لگا کر گاڑی روک دی۔
شاہ کا سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔
“ہر بار میرے ساتھ ہی کیوں؟ مجھے کیوں دھوکہ ملتا ہے کیا کمی تھی میرے پیار میں؟ پہلے ایسا ہوا میں نے قسمت سمجھ کر قبول کر لیا لیکن اب؟ اب کیوں؟ کیا مجھے خوش رہنے کا حق حاصل نہیں؟ میں اپنی زندگی کو پرسکون انداز میں نہیں گزار سکتا کیا؟ دھوکہ فریب بس یہی رہ گیا ہے دنیا میں۔۔۔”
شاہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔
دل بھی رو رہا تھا
بلکہ خون کے آنسو کہنا زیادہ بہتر ہے۔
شاہ کی آنکھوں میں دکھائی دیتا کرب,اس کی تکلیف, اس کو ملنے والی اذیت کی عکاسی کر رہا تھا۔
“ہمیشہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے؟”
شاہ متواتر آنسوؤں شاہ کی شرٹ کو تر کر رہے تھے۔
وہ ہذیانی انداز میں بولتا جا رہا تھا۔
سر نفی میں ہل رہا تھا۔
شاہ نے سسکتے ہوۓ سر ہاتھوں میں تھام لیا۔
غم غصے میں تبدیل ہو رہا تھا۔
شاہ نے اپنے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔
“ہار گیا میں۔۔۔”
شاہ کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔
وہ تکلیف سے دوچار ہو کر باہر دیکھنے لگا۔جب تکلیف کا ازالہ نہ ہو سکا تو شاہ نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
شاہ فل سپیڈ پر گاڑی چلانے لگا۔
عجیب دیوانہ پن تھا وہ خود بھی نا آشنا تھا اپنے اندر سے۔
آنکھوں میں دکھائی دے رہا تھا مستقل ایک نہ ختم ہونے والا کرب۔
وہ گاڑی دوڑاتا جا رہا تھا شاید کہیں دور جا کر اسے سکون مل جاتا۔
****////////****
“آمنہ آج صبح بھائی کا فون آیا تھا مجھے۔ پتہ ہے وہ کیا کہہ رہے تھے؟”
حرم آمنہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“کیا؟”
آمنہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“وہ کہہ رہے تھے کہ میں اب ہاسٹل میں نہیں رہوں گی۔۔۔”
حرم سپاٹ انداز میں بولی۔
“پھر کہاں رہو گی؟”
آمنہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“یار میری بھابھی کی بہن ہے نہ وہ یہاں شہر میں جاب کر رہی ہے تو بھائی بول رہے تھے اس کے ساتھ رہوں گی میں۔۔۔”
“تو وہ کہاں رہتی ہے؟”
آمنہ آبرو اچکا کر بولی۔
“شاید رینٹ پر گھر ہے لیکن بھائی کے دوست ہیں ان کے فیملی نیچے پورشن میں رہتی ہے اور وہ اوپر اسی لئے مجھے بھی وہیں بھیجنے کا سوچ رہے۔۔۔”
حرم تفصیل سے آگاہ کرنے لگی۔
“اووہ اچھا میں تو تمہیں بہت مس کروں گی۔۔۔”
آمنہ افسردگی سے بولی۔
“کوئی بات نہیں۔ہم یونی میں تو ایک ساتھ ہی ہوں گے نہ؟”
حرم ہلکا سا مسکراتی ہوئی بولی۔
“یار ویسے ذوناش کافی عجیب نہیں ہو گئی؟”
آمنہ اس کے رویے کا نوٹس لینے کے باعث بولی۔
“ہاں مجھے بھی لگتا ہے کبھی کبھی ایسی باتیں کرتی ہے سمجھ ہی نہیں آتیں۔۔۔”
حرم مایوسی سے بولی۔
“حرم تم ازلان پر نظر رکھا کرو کل ذوناش کو میں نے دیکھا تھا ازلان کے ساتھ۔۔۔”
آمنہ اردگرد دیکھتی رازداری سے بولی۔
“اچھا چلو کوئی نہیں۔۔۔”
حرم لاپرواہی سے بولی۔
حرم اور آمنہ گھاس پر بیٹھی تھیں۔
ازلان ان کے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔
ازلان کی نظر حرم کی کلائی پر گئی جہاں سفید پٹی سے زخم پوشیدہ کیا گیا تھا۔
ازلان کی آنکھوں میں دکھ کے ساےُ تھے۔
حرم ہلکے پھلکے انداز میں آمنہ سے باتیں کر رہی تھی۔
ازلان کا دل اسے مجبور کر رہا تھا حرم سے بات کرنے پر لیکن شرمندگی عود آتی۔
“آؤ کلاس میں چلتے ہیں۔۔۔”
آمنہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
حرم نے ایک نظر ازلان پر ڈالی اور اس کی مخالف سمت قدم بڑھ دئیے۔
ازلان جو ابھی سوچ رہا تھا حرم کو جاتا دیکھ کر افسردہ ہو گیا۔
لمحے بیت رہے تھے دن ہفتوں میں تبدیل ہو رہے تھے۔
شاہ حرم کے ہاسٹل میں کھڑا تھا اور حرم اوپر اپنا سامان نکال رہی تھی۔
“اب تم واپس نہیں آؤ گی؟”
انشرح اداسی سے بولی۔
“نہیں بھائی نے کہا ہے اب ہاسٹل میں نہیں رہنا۔۔۔”
حرم بےبس دکھائی دے رہی تھی۔
“چلو کوئی نہیں یونی میں ملاقات ہو جاےُ گی۔۔۔”
انشرح دھیرے سے مسکرائی ہوئی بولی۔
حرم سب سے مل کر نکل گئی۔
دروازے پر دستک دی تو آئمہ باہر نکلی۔
“تم سچ میں جا رہی ہو؟”
آئمہ بے یقینی سے اس کی تیاری دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں بھائی آےُ ہیں مجھے لینے۔۔۔”
حرم اداسی سے بولی۔
“اگر یہ چلی گئی تو بیگم صاحبہ کے پاس کیسے لے کر جاؤں گی؟”
آئمہ متفکر سی سوچنے لگی۔
“حرم مت جاؤ پلیز اپنے بھائی کو انکار کر دو۔۔۔”
آئمہ اس کے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“میں بھائی کو انکار نہیں کر سکتی۔ اس لئے جانا ہو گا۔۔۔”
حرم شانے اچکاتی اس کے گلے لگ گئی۔
بغل گیر ہو کر حرم زینے اترنے لگی۔
آئمہ کو شکست دکھائی دے رہی تھی۔
“شٹ۔۔۔”
دروازے پر مکہ مارتی وہ اندر چلی گئی۔
“اتنی دیر کیوں لگا دی؟”
شاہ جانچتی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ مل رہی تھی سب سے۔۔۔”
حرم گھبراتی ہوئی بولی۔
“ملنے میں اتنا وقت لگتا ہے؟”
شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
“سوری بھائی۔۔۔”
حرم سر جھکا کر بولی۔
شاہ ہنکار بھرتا چلنے لگا۔
اس دن کے بعد سے شاہ ضرورت سے زیادہ تلخ اور سرد مہر ہو گیا تھا۔
“تم جاؤ مجھے حویلی جانا ہے کوئی مسئلہ ہو تو کال کر دینا۔۔۔”
شاہ سپاٹ انداز میں بولا۔
حرم سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
شاہ نے گئیر لگایا اور گاڑی بھگانے لگا۔
“بابا سائیں کمرے میں ہیں؟”
شاہ ملازمہ کو مخاطب کرتا ہوا بولا۔
“جی صاحب کمرے میں ہیں۔۔۔
شاہ سانس خارج کرتا چلنے لگا۔
“شکر ہے تم نے بھی شکل دکھائی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔
“میں بابا سائیں سے بات کرنے آیا ہوں۔۔۔”
شاہ بے رخی سے کہتا چلنے لگا۔
ضوفشاں بیگم ہکا بکا سی شاہ کو جاتا دیکھنے لگیں۔
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے میں داخل ہو گیا۔
“آپ نے بلایا تھا؟”
شاہ کہتا ہوا صوفے پر براجمان ہو گیا۔
“برخوردار گھر میں دکھائی دیا کرو ہمیشہ فون کر کے بلانا پڑتا ہے, اگر آتے بھی ہو تو دیر رات جب سب سو جاتے۔۔۔”
وہ خفگی سے بولے۔
“آپ جانتے ہیں بابا سائیں میں کیوں بھاگتا ہوں گھر سے۔ بار بار وہ سب یاد آتا ہے مجھے۔۔۔”
شاہ جھنجھلا کر بولا۔
“اچھا چلو جیسے تمہیں مناسب لگے۔ ہم نے حرم کے رشتے کے متعلق بات کرنے کی غرض سے بلایا تھا تمہیں۔۔۔”
وہ شاہ کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
“جی بتائیں؟”
شاہ فون جیب میں ڈال کر ان کی جانب متوجہ ہوا۔
“فرقان کے لئے حرم کا ہاتھ مانگ رہے ہیں سوچا تم سے مشورہ کر لیں۔۔۔”
وہ چہرے پر سنجیدگی سجاےُ بولے۔
“امی زیادہ بہتر جانتی ہوں گی ان کے گھر کا ماحول باقی لڑکا تو ٹھیک ہے۔ اگر امی بھی مطمئن ہیں تو جواب دے دیں انہیں۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں ٹھراؤ تھا۔
وہ بغور شاہ کو دیکھنے لگے۔
اس تھوڑے سے عرصے میں شاہ پہلے سے منفرد شاہ بن چکا تھا۔
شاہ بنا کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گیا۔
شاہ چلتا ہوا باہر نکل آیا۔
یخ بستہ ہوائیں جسم کو منجمد کر رہیں تھیں۔
شاہ چہرہ اٹھا کر فلک کو دیکھنے لگا۔
مہتاب کی مانند وہ بھی تنہا کھڑا تھا۔
“اس گھر میں آ کر رہا سہا سکون بھی غرق ہو جاتا ہے۔۔۔”
شاہ لمبا سانس کھینچتا ہوا بولا۔
فون کی بیل نے شاہ کی سوچ کے محور کو توڑا۔
“ہاں عدیل میں تمہیں ہی کال کرنے والا تھا۔۔۔”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“پھر کیا کہا بابا سائیں نے؟”
عدیل کا لہجہ پرتجسس تھا۔
“میں نے تمہیں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ہم باہر شادی نہیں کرتے لڑکوں کی تو پھر بھی کر لیتے ہیں لیکن لڑکیوں کی ناممکن۔ اپنی لڑکی غیروں میں کبھی نہیں دیتے ہم۔مجھے معلوم تھا بابا سائیں کا جواب۔۔۔”
عدیل لب بھینچ کر اسکرین کو دیکھنے لگا۔
“چل ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔”
وہ افسردگی سے بولا۔
شاہ نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔
****/////////****
بیگم صاحبہ یہ ایک لڑکی آئی ہے۔۔۔”
بانی ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑے کھڑی تھی۔
زلیخا بیگم نے سر ہلایا تو بانی نے اس لڑکی کو آگے بھیج دیا۔
“کیا نام ہے تمہارا؟”
زلیخا سر تا پیر اس کا جائزہ لیتی ہوئی بولی۔
“عجوہ۔۔۔”
وہ پراعتماد ہو کر بولی۔
“کہاں سے آئی ہے تو؟”
وہ آنکھیں چھوٹے کئے بولیں۔
“راواں گاؤں سے۔۔۔”
زلیخا بیگم اثبات میں سر ہلانے لگیں۔
“یہاں آنے کی وجہ؟”
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“مجھے پیسے کمانے ہیں۔اچھے اچھے کپڑے پہننے ہیں۔۔۔”
وہ حسرت سے بولی۔
“تو کیا لگتا ہے یہاں نوٹوں کی بارش ہوتی ہے؟ کام کرنا پڑتا ہے۔ میرے ایک اشارے پر سر جھکاتے ہیں یہاں سارے۔۔۔”
زلیخا بیگم جانچتی نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“جیسے آپ کہیں گیں میں بھی ویسے ہی کروں گی۔ آپ کے پر حکم پر سر جھکاؤں گی۔۔۔”
زلیخا بیگم اثبات میں سر ہلاتیں بانی کو دیکھنے لگی۔
“اسے لے جاؤ اور کام سمجھا دو۔۔۔”
وہ بیزار سی بولیں مانو احسان کر رہیں ہوں۔
****////////****
“کہاں لے جا رہی ہو مجھے؟”
حرم آمنہ کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی جو کہ اس کی آنکھوں پر تھے۔
“تم دو منٹ خاموش نہیں رہ سکتی کیا؟”
آمنہ کی بجاےُ انشرح خفگی سے بولی۔
حرم منہ بناےُ ان کے ہمراہ چلنے لگی۔
ان میں ایک ذوناش تھی جو چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ چل رہی تھی۔
ازلان جو کہ سیڑھیوں میں بیٹھا تھا ایک اچٹتی نظر ان سب پر ڈالی۔
کلاس میں پہنچ کر آمنہ نے حرم کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا دئیے۔
حرم خوشگوار حیرت میں مبتلا سامنے پڑے کیک کو دیکھ رہی تھی۔
“ہیپی برتھ ڈے۔۔۔”
وہ یک زباں ہو کر بولیں۔
حرم مسرور سی سب کو دیکھنے لگی۔
“چلو اب جلدی کرو ورنہ میرے پیٹ میں جو چوہے دوڑ رہے ہیں نہ خودکشی کر لیں گے۔۔۔” انشرح بےصبری سے بولی۔
حرم نے چھری اٹھائی اور کیک کاٹنے لگی۔
“حرم اب ایسا کرو یہ کیک ازلان کے منہ پر لگاؤ۔۔۔”
انشرح شرارت سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تم پاگل ہو کیا؟”
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“تم ڈرتی ہو کیا ازلان ہے؟”
آمنہ اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“نہیں لیکن اچھا نہیں لگتا۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
“بیوقوف یہی تو اچھا لگتا ہے اب اگر تم نے کیک نہیں لگایا تو ہم سے بات مت کرنا۔۔۔”
انشرح سینے پر بازو باندھتی رخ موڑ کر کھڑی ہو گئ۔
“ہاں سہی کہہ رہی ہے انشرح۔۔۔”
آمنہ بھی منہ بناتی ہوئی بولی۔
حرم شش و پنج میں مبتلا انہیں دیکھنے لگی۔
ذوناش جل بھن کر کوئلہ ہو رہی تھی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
حرم کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی۔
“انشرح اور آمنہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
حرم نے ایک پیس کاٹ کر ہاتھ میں اٹھایا اور باہر نکل گئی۔
ازلان فون کی اسکرین پر نظریں جماےُ بیٹھا تھا۔
حرم کلمہ پڑھتی اس کی جانب چلنے لگی۔
ازلان پہلی سیڑھی پر بیٹھا تھا۔
حرم نے اس کے عقب سے ہاتھ آگے کئے اور دونوں رخسار پر کیک لگا دیا۔
اپنے گال پر لمس محسوس کر کے ازلان اپنا ہاتھ رخسار پر لے گیا۔
ہتھیلی پر کریم دیکھ کر پیشانی پر بل پڑ گئے۔
حرم نے واپسی کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
“حرم کی بچی۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
حرم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگے جو خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا آ رہا تھا۔
اسی اثنا میں حرم سامنے دیوار سے ٹکرا گئی۔
“ہاےُ میرا سر۔۔۔”
حرم چکراتے سر کو تھامتی ہوئی بولی۔
ازلان بمشکل ہنسی روکتا اس کے پاس آیا۔
“دیکھا غلط کیا تو سزا بھی مل گئی۔۔۔”
ازلان اسے اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
حرم نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان کو اس پر ترس بھی آ رہا تھا اور ہنسی بھی۔
ازلان لب دباےُ حرم کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا۔
“اب تم کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟”
حرم خوفزدہ سی بولی۔
“جو کارنامہ تم نے سرانجام دیا ہے اب اس کا بدلہ بھی تو لوں گا نہ؟”
ازلان گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
حرم کا حلق خشک ہو گیا۔
“ازلان سچ میں, میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“ہاں ہاں مجھے معلوم ہے تم تو کچھ بھی نہیں کرتی سب کچھ میں ہی کرتا ہوں ہیں نہ؟”
ازلان اسے دیوار کے ساتھ لگاتا ہوا بولا۔
حرم لب کاٹتی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی اپنے پاؤں کو۔
ازلان اسے گہری نظروں کے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
وہ اس کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں میں بسا رہا تھا۔
حرم اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔
“ازلان؟”
حرم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“شش۔۔۔”
ازلان اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتا حرم کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم آنکھیں جھپکاتی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان اپنا چہرہ حرم کے چہرے کے قریب لے آیا۔
حرم کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔
دل مانو ابھی اچھل کر حلق سے باہر نکل آےُ گا۔
دھڑکنیں عجیب ہی لے پر دھڑکنے لگی تھیں۔
حرم کو اپنی دھڑکنوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
ازلان نے اپنا بائیاں رخسار حرم کے بائیں رخسار سے رگڑا۔
حرم آنکھیں بند کئے سانس روکے ہوۓ تھی۔
ازلان پیچھے ہوا تو حرم کے بال رخسار کو بوسے دینے لگے۔
ازلان نے رخ موڑا اور دائیاں رخسار حرم کے دائیں رخسار سے رگڑنے لگا۔
حرم کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
ازلان کی بڑھتی نزدیکیاں اسے پگھلا رہیں تھیں۔
حرم کے دونوں رخساروں پر ازلان اپنا لمس چھوڑ چکا تھا۔
حرم کے گال سرخ ہو رہے تھے۔
یہ احساس اس کے لئے نیا تھا۔
ازلان نے ہاتھ بڑھا کے حرم کے چہرے پر بوسہ دیتی شرارتی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔
“اب تم سے بدلہ لینے کا سوچتا ہوں۔۔۔”
ازلان دو قدم اس کی مخالف سمت میں اٹھاتا ہوا بولا۔
حرم کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔
“ابھی بدلہ لینا باقی ہے؟”
حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“بلکل ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔”
ازلان معصومیت سے بولا۔
حرم منہ بناتی اسے دیکھنے لگی۔
“میں سوچ رہا ہوں تمہیں چلتی گاڑی سے تھوڑا سا پھینک دوں۔۔۔”
ازلان شریر لہجے میں بولا۔
“تھوڑا سا کیسے پھینکتے ہیں؟”
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“جب تمہیں پھینکوں گا تو معلوم ہو جاےُ گا۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوۓ چلنے لگا۔
حرم متحیر سی اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
“ازلان باہر سب ہوں گے میرا ہاتھ تو چھوڑ دوں۔۔۔”
حرم پریشانی سے گویا ہوئی۔
“اپنی منکوحہ کا ہاتھ پکڑا ہے چوری نہیں کی جو ڈروں گا میں۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا زینے اترنے لگا۔
حرم لب کاٹتی چلتی جا رہی تھی۔
“یہ کس کی گاڑی ہے؟”
حرم پارکنگ میں آتی ہوئی بولی۔
“لوہے کی۔۔۔”
ازلان معصومیت سے کہتا دروازہ کھولنے لگا۔
حرم مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔
“بیٹھ بھی جاؤ اب۔۔۔”
ازلان گھور کر بولا۔
“کیا؟ میں تمہارے ساتھ جاؤں گی؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“نہیں میں پولیس والوں کو بلاتا ہوں ان کے ساتھ جانا۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
“میں نہیں بیٹھ رہی۔۔۔”
حرم نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“میڈم یہ بس نہیں ہے جس میں تم کھڑی ہو کر چلی جاؤ گی۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“میرا مطلب ہے کہ میں نہیں جا سکتی تمہارے ساتھ۔۔۔”
حرم ہچکچاتی ہوئی بولی۔
“کیا؟ کیا کہا تم نے؟”
ازلان گھورتا ہوا اس کی جانب بڑھنے لگا۔
“می میں کہہ رہی ہوں ٹائم ہو رہا ہے میں نے گھر جانا یے۔۔۔”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“تم کہہ رہی ہو کہ میں تمہیں گاڑی میں بٹھاؤں؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“میں نے کب بولا؟”
حرم اچھل پڑی۔
“اسی لئے تو بیٹھ نہیں رہی تمہیں اپنے منہ سے کہتے ہوۓ عجیب لگ رہا ہو گا ہیں نہ؟”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“نہ نہیں میں کیوں ایسا سوچوں گی میں بیٹھ رہی ہوں دیکھو۔۔۔”
حرم عجلت میں اندر بیٹھ گئی۔
ازلان مسکراتا ہوا اپنی جانب آ گیا۔
دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
حرم متفکر سی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی کھڑکی سے پار۔
تنہا ویران سڑکوں پر گاڑی بھاگنے لگی۔
ازلان نے چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھا جو سر جھکاےُ اپنے ہاتھوں کو گھورتی رہی تھی۔
“آج دل کر رہا ہے تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا سامنے سڑک کو دیکھنے لگا۔
“کہاں؟”
حرم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
“جہاں میرا دل کرے۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“می مجھے گھر چھوڑ دو پلیز۔بھائی کو معلوم ہو گیا تو جان سے مار دیں گے مجھے۔۔۔”
حرم خوف کے زیر اثر بولی۔
“میرا دل چاہتا ہے تمہیں لے کر کہیں گم ہو جاؤں۔۔۔”
ازلان جذبات سے مغلوب ہو کر بول رہا تھا۔
حرم خاموشی سے ہاتھ مسلنے لگی۔
“تمہیں محبت چلتی پھرتی دکھائی نہیں دیتی کیا؟”
ازلان اس کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔
“ازلان جو تم سوچ رہے ہو ناممکن ہے۔۔۔”
حرم آہستگی سے بولی۔
ازلان تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔
گاڑی شہر کی گہما گہمی میں داخل ہو چکی تھی۔
مصروف شاہراہوں پر وہ رواں دواں تھے۔
ٹریفک کے باعث ازلان نے گاڑی روک دی۔
حرم چہرہ موڑے شیشے سے پار دیکھنے لگی۔
ازلان نے ہاتھ بڑھا کر گانا چلا دیا۔
نظر چاہتی ہے دیدار کرنا
یہ دل چاہتا ہے تمہیں پیار کرنا
تمہارے خیالوں میں ڈوبے رہے ہم
ہے کیا حال دل کا یہ کیسے کہیں ہم
مہکنے لگے گا بدن یہ تمہارا
ہم آنکھوں سے ایسی شرارت کریں گے
تمہارے سوا کچھ نہ چاہت کریں گے
کہ جب تک جئیے گے محبت کریں گے
حرم ازلان کو دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھی۔
ازلان خود کو بےبس محسوس کر رہا تھا۔
حرم کی نظریں شاہ کی نظروں سے چار ہوئیں تو فوراً چہرہ موڑ لیا۔ منہ کے آگے چادر کر لی۔
چہرے پر خوف کی لکریں نمایاں تھیں۔
“کیا ہوا؟”
ازلان اس کی اس حرکت پر حیران رہ گیا۔
“ازلان و وہ بھائی نے مجھے دیکھ لیا۔۔۔”
حرم کی حالت کسی مجرم سے کم نہ تھی جو جرم آشکار ہونے پر خوفزدہ دکھائی دے رہا تھا۔
“کہاں ہیں؟”
ازلان آگے ہوتا دیکھنے کی سعی کرنے لگا۔
“پاگل ہو کیا بھائی نے تمہیں دیکھ لیا تو زیادہ مسئلہ ہو جاےُ گا۔۔۔”
حرم اس کی بازو پکڑتی ہوئی بولی۔
ایسی تشویشناک صورت میں بھی ازلان کے لبوں پر حرم کی بے دھیانی کے باعث مسکراہٹ بکھر گئی۔
ازلان نے گاڑی سٹارٹ کی اور سپیڈ بڑھانے لگا۔
حرم کے ہاتھ کپکپانے لگے تھے۔
خوف کی ایک سرد لہر اس پر سرایت کر گئی۔
****///////****
“یار برہان بھائی کو دیکھ کر مجھے گلٹ فیل ہوتا ہے۔۔۔”
شاہ ویز ندامت سے بولا۔
“کیوں؟”
برہان بے چینی سے پہلو بدل کر بولا۔
“یار بھائی بلکہ ٹوٹ گئے ہیں میری وجہ سے۔ اب تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بیزار دکھائی دیتے ہیں۔۔۔”
شاہ ویز افسردگی سے بولا۔
“تو مہر کے متعلق معلوم نہیں ہوا کچھ؟”
برہان تجسس سے بولا۔
“نہیں۔کوئی نہیں جانتا مہر کہاں گئی ہے؟ بھائی نے بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی اپنے بچے کے باعث لیکن کوئی استفادہ نہیں ہوا۔ نجانے مہر کہاں چلی گئی ہے زندہ بھی ہے یا نہیں کوئی نہیں جانتا۔۔۔”
شاہ ویز مایوسی سے بولا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: