Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 15

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 15

–**–**–

“بہت افسوس ہوا سن کر۔۔۔”
برہان تاسف سے بولا۔
“اسی بات کا دکھ ہے کہ مہر مجھے بھی نہ مل سکی اور بھائی کو بھی دکھ سے دوچار کیا۔۔۔”
شاہ ویز کے لہجے میں پچھتاوا تھا۔
“تم ایسا مت سوچو شاہ ویز تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔”
برہان اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز تعجب سے برہان کو دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا؟”
برہان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر بولا۔
“کچھ نہیں مجھے عینی سے ملنے جانا تھا۔۔۔”
شاہ ویز اس کا ہاتھ ہٹاتا ہوا بولا۔
برہان خاموشی سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
عینی ریسٹورنٹ میں بیٹھی شاہ ویز کی منتظر تھی۔
شاہ ویز کو دیکھ کر چہرہ کھل اٹھا۔
شاہ ویز بیزار سا اس کے سامنے آ بیٹھا۔
“کیا ہوا تمہارا چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟”
عینی بغور اس کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی۔
“عینی آج میں تمہیں جو کہوں گا اس کے بعد مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی سو تم خاموشی سے میری بات سمجھ لینا۔۔۔”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔
عینی کو خطرہ لاحق ہوا۔
خدشات سر اٹھانے لگے۔
“کیا؟”
عینی آہستہ سے بولی۔
“میں بریک اپ کر رہا ہوں۔ بہت وقت سے تمہیں بتانا چاہ رہا تھا لیکن مناسب موقع نہیں ملا اس لئے یہ مت سوچنا کہ میں نے جلدبازی میں یہ فیصلہ لیا ہے۔۔۔”
شاہ ویز نے گویا دھماکہ کیا۔
عینی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہمارے ہاں خاندان سے باہر شادی نہیں ہوتی اس لئے وقت رہتے الگ ہو جائیں تو بہتر ہے۔ بھول جاؤ مجھے یہی مناسب ہے۔۔۔”
شاہ ویز ٹھر ٹھر کر بول رہا تھا۔
“کتنی آسانی سے تم نے کہہ دیا کہ بھول جاؤں؟ شاہ ویز مذاق ہے کیا یہ سب؟ مجھے کون قبول کرے گا بتاؤ؟”
عینی آنسو بہاتی پھٹ پڑی۔
“یہ تمہیں پہلے سوچنا چائیے تھا جس لڑکی کو اپنی عزت کا خیال نہیں اسے میں اپنی عزت کیسے بنا لوں؟”
شاہ ویز حقارت سے بولا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
عینی صدمے سے بولی۔
“جو لڑکی شادی سے پہلے نجانے کتنی راتیں میری ساتھ گزار چکی ہے تو وہ لڑکی نجانے کتنے لڑکوں کے ساتھ ایسا کرتی ہو گی؟ اور آج تمہیں خیال آ رہا ہے کہ مجھے کون قبول کرے گا کل کیوں نہیں آیا؟”
شاہ ویز اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔
“شاہ ویز میں تم سے محبت کرتی ہوں اس لئے تمہارے ساتھ۔۔۔”
عینی نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا۔
“محبت ایسی نہیں ہوتی۔محبت میں یہ سب نہیں ہوتا سمجھی۔ کہاں لکھا ہے کہ محبت میں یہ سب جائز ہے اور تم لڑکی ہو کر ایسی سوچ کی حامل ہو واہ پاگل سمجھ رکھا ہے نہ مجھے جو تم جیسی سے شادی کروں گا۔۔۔”
شاہ ویز اس کا ہاتھ جھٹکتا ہوا بولا۔
عینی آنسو بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
شاہ ویز نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
“شاہ ویز؟”
عینی اس کے پیچھے لپکی۔
“میم بل؟”
ویٹر اس کے سامنے آ کر بولا۔
عینی مایوسی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔
****///////****
حرم گھبراتی ہوئی زینے چڑھنے لگی۔
حرائمہ لاؤنج میں ہی نظر آ گئی۔
“آج لیٹ نہیں ہو گئی؟”
حرائمہ نے معمول کے مطابق پوچھا۔
“بھائی نہیں آےُ؟”
حرم اس کا سوال نظر انداز کرتی ہوئی بولی۔
“نہیں آج تو نہیں آےُ۔۔۔”
حرائمہ صوفے پر کپڑا مارتی ہوئی بولی۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا۔
“کھانے میں کیا بنا ہے؟”
حرم صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“گوشت بنایا ہے آج تمہاری پسند کا۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“میں چینج کر لوں پھر کھانا کھاتی ہوں۔۔۔”
حرم کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے تب تک میں نماز پڑھ لیتی ہوں۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
****////////****
“میں سوچ رہی ہوں حرم اور شاہ ویز دونوں کی شادی کر دوں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماریہ کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“یہ بھی ٹھیک ہے ایک ہی بار کر کے دونوں کے فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔۔۔”
ماریہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“حرم کا تو رشتہ طے کر دیا ہے اب شاہ ویز کے لئے دیکھتی ہوں۔۔۔”
وہ سوچتی ہوئیں بولیں۔
“شاہ ویز کا سعدیہ سے کر دیں۔۔۔”
ماریہ نے اپنی بہن کا نام لیا۔
“دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا سعدیہ شاہ ویز سے بڑی ہے کیسے کر دوں اس کے ساتھ؟”
وہ خفگی سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“اتنی بھی بڑی نہیں تھوڑا بہت ہی فرق ہے۔۔۔”
ماریہ آہستہ سے بولی۔
“میرے بیٹے میں کون سی کمی ہے جو اسے ایک بڑی عمر کی لڑکی سے بیاہ دوں؟”
وہ تیوری چڑھا کر بولیں۔
ماریہ ان کے بدلتے تیور دیکھ کر خاموش ہو گئی۔
“تمہاری تو ابھی تک اولاد نہیں ہوئی اس کی بھی نہ ہوئی تو میں ساری زندگی اپنے پوتے پوتیوں کو ترستی رہوں گی۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئی بولیں۔
ماریہ لب بھینچے فرش کو گھورنے لگی۔
ضوفشاں بیگم منہ بناتی چل دیں۔
شہریار فائلز میں سر دئیے بیٹھا تھا جب ضوفشاں بیگم اندر آئیں۔
“امی وہاں کیوں کھڑی ہیں اندر آ جائیں۔۔۔”
شہریار انہیں دروازے میں دیکھ کر بولا۔
ضوفشاں بیگم مسکراتی ہوئیں اس کے پاس آ گئیں۔
“کیا ہوا کوئی کام تھا؟”
شہریار فائل بند کرتا ہوا بولا۔
“ہاں کام تھا تم سے۔۔۔”
وہ اداسی سے بولیں۔
“جی امی بولیں۔۔۔”
شہریار انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“بیٹا میں سوچ رہی تھی تم دوسری شادی کر لو ماریہ کو طلاق دے دو۔۔۔”
“امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟”
شہریار صدمے سے بولا۔
“بیٹا عقل سے کام لو شاہ تو پھر سے باغی ہو گیا ہے نہ بات کرتا ہے نہ ہی گھر میں رہتا ہے وہ مہر نجانے کس کونے میں جا چھپی ہے اگر مل جاتی تو اس سے بچہ لے لیتے لیکن نہیں شاید میرے نصیب میں اپنے بچوں کی خوشیاں لکھیں ہی نہیں مجھے تو لگتا ہے کہ یہی حسرت لے کر میں دنیا سے چلی جاؤں گی۔۔۔”
وہ افسردگی سے بولیں۔
” آپ کا سایہ ہمیشہ ہم پر قائم رہے۔ آپ ایسا کیوں بول رہی ہیں؟”
شہریار ان کے ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“اسی لئے تو تمہیں کہہ رہی ہوں تاکہ کسی ایک بچے کی تو خوشیاں دیکھ لوں۔۔۔”
ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔
“لیکن امی ماریہ کو طلاق دینا یہ بھی تو مناسب نہیں۔۔۔”
شہریار شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔
“تو بیٹا کب تک انتظار کریں گے تو ہی بتا؟”
وہ ناراض ناراض سی بولیں۔
“امی اولاد کی خواہش تو مجھے بھی بہت ہے لیکن کیا کر سکتے ہیں؟”
شہریار بےبسی سے بولا۔
“اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔میرا مشورہ مانو تو اس متعلق سوچو۔۔۔”
وہ شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولیں۔
شہریار الجھ کر انہیں دیکھنے لگا۔
ضوفشاں بیگم بنا کچھ کہے باہر نکل گئیں اور شہریار کو گہری سوچ میں غرق کر گئیں۔
****////////****
“برہان ٹائم دیکھا ہے تم نے؟”
عافیہ تنک کر بولی۔
“تم زیادہ رعب مت ڈالا کرو مجھ پر اپنی اوقات میں رہو۔۔۔”
برہان اسے بازو سے پکڑ کر پرے کرتا ہوا بولا۔
عافیہ کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
“تم مجھے آزاد کیوں نہیں کر دیتے؟”
عافیہ برداشت کی آخری حدود کو چھو رہی تھی۔
“ہاں تاکہ سارے خاندان میں برہان برا بن جاےُ۔پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟”
برہان تیکھے تیور لئے بولا۔
“خاندان میں جتنا اچھا سمجھا جاتا ہے نہ تمہیں بھول نہیں ہے مجھے۔۔۔”
عافیہ بنا کسی خوف کے بولی۔
“کیوں چاہتی ہو کہ روز سونے سے پہلے تمہیں مارا کروں؟”
برہان اس کے بال پکڑ کر سر اونچا کرتا ہوا بولا۔
عافیہ نے تکلیف کے باعث اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر ہٹانا چاہا۔
“تم مجھے مجبور کرتے ہو بولنے پر۔۔۔”
عافیہ نم آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اب ایک مزید ایک لفظ نکلا تمہارے منہ سے تو نتیجہ کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔۔۔”
برہان اسے بیڈ پر پھینکتا ہوا غرایا۔
عافیہ بنا کچھ بولے سسکنے لگی۔
****///////****
حرم فون کو دیکھتی ہوئی چلتی جا رہی تھی جب کسی نے اس کی کلائی پکڑی اور کھینچ لیا۔
حرم اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئی۔
“ازلان تم؟”
حرم تیز تیز سانس لیتی ہوئی بولی۔
“کیوں کوئی شک ہے؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“میرا مطلب مجھے اس طرح کیوں کھینچا ہے؟”
حرم سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارے بھائی نے پوچھا تم سے؟”
“نہیں۔شاید نہ دیکھا ہو یا پھر شاید آج آ جائیں پوچھنے کے لیے۔۔۔”
حرم لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔
“معلوم ہو جاےُ گا تو اچھی بات ہے پھر میں تمہیں لے کر گھوم پھر سکوں گا آزادی سے۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
“ازلان مجھے کلاس لینے جانا ہے۔۔۔”
حرم اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
“میری کلاس بھی تمہارے ساتھ ہی ہے اس لئے آج ہم دونوں بنک کریں گے۔۔۔”
ازلان اس کے قریب آتا ہوا بولا۔
“ایک تو تم اتنے قریب آ جاتے ہو۔۔۔”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“تو مجھے کیا کوئی موذی مرض لاحق ہے جو تمہیں بھی ہو جاےُ گا؟”
ازلان گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
“نہیں میرا مطلب ہے وہ دیکھو وہ لڑکی ہمیں دیکھ رہی ہے۔۔۔”
حرم انگلی سے دائیں جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“وہ ٹرینگ لے رہی ہے بیوقوف۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالے اسے گھورنے لگی۔
“کیا سوچ رہی ہو گی وہ ہمارے بارے میں؟”
حرم دانتوں تلے انگلی دباتی تاسف سے بولی۔
“یہی کہ کتنا پیار ہے دونوں میں۔۔۔”
ازلان چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھنے لگا۔
بےساختہ حرم اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
“ازلان مجھے کلاس لینی ہے۔۔۔”
حرم اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی اس لئے سر جھکا گئی۔
“میں نے کہہ دیا تم نہیں جا رہی تو مطلب نہیں۔۔۔”
ازلان بے لچک لہجے میں بولا۔
“ازلان پلیز جانے دو نہ سر سے مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔”
حرم معصوم سی شکل بناےُ اسے دیکھنے لگی۔
“مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟”
ازلان دونوں آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
حرم نے لب نہ کھولے۔
“تمہیں معلوم ہے کل میں ایک مووی دیکھ رہا تھا اس میں نہ شوہر اپنی بیوی پر پیڑول ڈال کر اسے جلا دیتا ہے۔۔۔”
ازلان سنجیدگی سے کہتا اسے دیکھنے لگا۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“تم ایسی موویز کیوں دیکھتے ہو؟”
حرم خوفزدہ سی بولی۔
“خود ہی میرے سامنے آ جاتی اور میں دیکھ لیتا۔۔۔”
ازلان معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتا ہوا بولا۔
“تم تو ایسا ک کچھ نہیں کرو گے نہ؟”
حرم اسے دیکھتی استفسار کرنے لگی۔
“طریقہ تو بہت اچھا ہے لیکن میں اتنا سنگدل نہیں فلحال تو ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اچھا ایک بات بتاؤ؟”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
“تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم کو ایسے سوال کی توقع نہیں تھی جس بات کا اعتراف آج تک اس کا دل نہیں کر سکا زبان کیسے کر لیتی۔
“نہیں۔میرا مطلب مجھے نہیں پتہ۔۔۔”
حرم اسے دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔
“جھوٹ بول رہی ہو تم۔اِدھر میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“مجھے نہیں معلوم سچ میں۔۔۔”
حرم سر جھکاےُ بول رہی تھی۔
“ایسے تو نہیں جانے دوں گا تمہیں جب تک تم اعتراف نہیں کر لیتی اپنے جرم کا۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ اوپر کرتا دیکھنے لگا۔
“ازلان جانے دو نہ سر دیکھ لیں گے۔۔۔”
حرم گھبراتی ہوئی بولی۔
“پہلے اقرار کرو۔۔۔”
عجیب ضدی انداز تھا۔
حرم اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی سعی کر رہی تھی لیکن ازلان کی گرفت اس کی سوچ سے زیادہ مضبوط تھی۔
“اگر تم نے اگلے ایک منٹ میں نہیں کہا تو میں تمہیں چلتی ٹرین کے آگے کر دوں گا۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراہٹ روکتا ہوا بولا۔
حرم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“تم سچ میں ایسا کرو گے؟”
حرم نے تصدیق کرنا چاہی۔
“بلکل۔۔۔”
ازلان تائیدی انداز میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
حرم حونق زدہ اسے دیکھنے لگی۔
“ایسے مت دیکھو میں رحم کرنے کے موڈ میں بلکل نہیں۔۔۔” ازلان گھورتا ہوا بولا۔
حرم تذبذب سے اسے دیکھنے لگی۔
“بولو بھی میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“ازلان کیسے کہتے ہیں؟”
حرم معصومیت سے بولی۔
ازلان کا دل چاہ رہا تھا دیوار میں سر مار لے۔
“ایسا کرو وہ سب سے اوپر چلی جاؤ وہاں سے چھلانگ لگا کر واپس آؤ پھر بتاؤں گا تمہیں کیسے کہنا ہے۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
حرم التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
لیکن ازلان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو۔۔۔”
حرم زور سے آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی۔
ازلان کا منہ کھل گیا۔
حرم تھوڑی تھوڑی سی آنکھیں کھولنے لگی۔
“کھول لو آنکھیں بڑا ہی کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے تم نے۔۔۔”
ازلان کڑے تیور لئے بولا۔
“مجھے ایسے ہی کہنا آتا ہے اب جانے دو مجھے۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ابھی تو جانے دے رہا ہوں اگلی بار نہیں بخشوں گا۔۔۔”
ازلان انگلی اٹھاےُ بولتا ہوا چلنے لگا۔
حرم کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ بکھر گئی۔
****////////****
“کیا ہوا عافیہ تم ٹھیک ہو؟”
شہریار فکرمند سا اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
عافیہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
“برہان نے پھر سے کچھ کہا ہے کیا؟”
شہریار بےچینی سے پہلو بدلتا ہوا بولا۔
“وہ تو روز ہی کچھ نہ کچھ کہتا ہے۔میں تھک چکی ہوں اس نام نہاد رشتے کو نبھاتے نبھاتے۔۔۔”
عافیہ کے لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی۔
دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔
“تم نے امی سے بات نہیں کی خلع کے لیے؟”
شہریار اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
“تم تو جانتے ہو ایک بار نہیں بہت بار کی ہے لیکن امی کہتی ہیں طلاق لینے کے بعد کون مجھ سے شادی کرے گا باہر ہم کر نہیں سکتے اور خاندان میں کوئی اپناےُ ممکن نہیں۔۔۔”
وہ سسکتی ہوئی بولی۔
“تو کیا ساری زندگی تم یونہی روتے سسکتے گزار دو گی؟”
شہریار تعجب سے بولا۔
“ظاہر سی بات ہے۔ عورت ہوں نہ اپنے حق کے لیے لڑ نہیں سکتی کیونکہ ہمارے حقوق ہونے کے باوجود ہمیں محروم رکھا جاتا ہے ہمارے شوہر ہمارے حقوق سلب کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔۔۔”
عافیہ تلخی سے بولی۔
شہریار کے دماغ میں ضوفشاں بیگم کی بات گردش کرنے لگی۔
عافیہ کو وہ بچپن سے جانتا تھا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دونوں دوست بھی تھے۔
“عافیہ تم برہان سے خلع لے ہو میں تم سے شادی کروں گا۔۔۔”
شہریار کا لہجہ پراعتماد تھا۔
عافیہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
شہریار اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“تم کی کیسے؟”
عافیہ کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
“ہم اچھے دوست ہیں اور مجھے یقین ہے اچھے ساتھی بھی ثابت ہوں گے۔۔۔”
شہریار نرم مسکراہٹ لئے بولا۔
عافیہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شہریار کی جانب سے ایسا اِنکشاف حیران کن تھا۔
“مجھے کچھ وقت چائیے اس بارے میں سوچنے کے لیے۔۔۔۔”
عافیہ سنبھل کر بولی۔
“لے لو وقت مجھے کوئی جلدی نہیں۔اب میں چلتا ہوں چھوٹا آفس میں اکیلا ہے۔۔۔”
شہریار کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
عافیہ اداسی سے مسکرانے لگی۔
“تھینک یو شہری۔۔۔”
عافیہ کے الفاظ نے شہریار کے قدم منجمد کر دئیے۔
شہریار چہرہ موڑ کر خفگی سے اسے دیکھنے لگا۔
“آئیندہ اگر تھینکس بولا تو پھر دوستی ختم۔۔۔”
وہ خفا خفا سا بولا۔
عافیہ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں؟”
شاہ ویز ماریہ کو اپنے کمرے میں دیکھتا ہوا بولا۔
“امی مجھ سے تمہارے رشتے کی بات کر رہیں تھیں تو میں نے سوچا تمہیں آگاہ کر دوں اور یاد دہانی بھی کرا دوں۔۔۔”
ماریہ سپاٹ انداز میں بولی۔
“کیسی یاد دہانی؟”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“تم بھول رہے ہو اس دن امی کو میں گھر جلدی لے کر آئی تھی اپنی طبیعت کا بہانہ بنا کر تاکہ مہر جال میں پھنس جاےُ۔۔۔”
ماریہ آبرو اچکا کر بولی۔
“تو؟”
شاہ ویز نا چاہتے ہوۓ بولا۔
“تو یہ کہ تم سعدیہ سے شادی کرو گے یاد ہے یا پھر یاد کرواؤں؟”
ماریہ دانت پیستی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے میں امی سے بات کر لوں گا۔۔۔”
شاہ ویز نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
“بات نہیں کرنی قائل کرنا ہے انہیں۔۔۔”
ماریہ زور دے کر بولی۔
“اچھا یار کہہ تو دیا ہے پیچھے کیوں پڑ گئیں ہیں ابھی آفس سے آیا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز اکتا کر بولا۔
ماریہ اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔
“ہوں اس سعدیہ سے کروں گا میں شادی۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا کوٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
شاہ حویلی میں آیا تو اندر چہل پہل سنائی دے رہی تھی۔
چہرے پر صدا کی اکتاہٹ سجاےُ شاہ نے ایک نظر سب پر ڈالی۔
“بھائی آپ بھی آئیں نہ۔۔۔”
شہریار نے ہانک لگائی۔
“میں تھکا ہوا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
شاہ سہولت سے انکار کرتا چلنے لگا۔
شہریار لب بھینچے شاہ کو دیکھنے لگا۔
شاہ سانس خارج کرتا دروازہ لاک کرنے لگا۔
مہر کی خوشبو اسے آج بھی اس کمرے میں محسوس ہوتی تھی۔
اس کمرے میں گزارے حسین پل شاہ کو یاد آنے لگتے۔
شاہ نے سر جھٹکا اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنے لگا۔
کپڑے نکالنے کی غرض سے کب بورڈ کھولی تو نظر سامان پر پڑی۔
شاہ نے اپنے بچوں کا سارا سامان بیڈ پر بکھیر دیا۔
شاہ ایک ایک چیز کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھنے لگا۔
کتنے ارمان کتنی خواہشیں تھیں اس کی لیکن سب کچھ بدل گیا تھا۔
اشک ٹوٹ کر نیچے گر رہے تھے۔
ان اشکوں سنگ اس کے ارمان بھی بہہ رہے تھے۔
شاہ نے آنسوؤں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا۔
“زندگی سے زیادہ تو لوگ بے اعتبار ہوتے ہیں کون کب دھوکہ دے جاےُ کوئی نہیں بتا سکتا۔۔۔”
شاہ آنکھیں بند کرتا کرب سے بولا۔
“نجانے کیوں زندگی بار بار ایک ہی جگہ پر چوٹ دیتی ہے شاید مجھے عادی بنانا چاہتی ہے شاہ مصطفی کمال کو درد سہنے کا ہنر سکھا رہی ہے۔۔۔۔”
شاہ نے آنکھیں کھول دیں۔
کمرہ ہمیشہ کی مانند ویران تھا۔
آج بھی وہ تنہا ہی تھا۔
شاید اس کے مقدر میں تنہائی ہی لکھی تھی۔
کھڑکی کے پٹ وا تھے۔
تیز ہوا کے جھونکے کمرے میں داخل ہو رہے تھے۔
میز پر پڑی کتاب کے صفحے الٹتے جا رہے تھے۔
اس کے ہمراہ پڑی موم بتی بجھ چکی تھی۔
اجالے ختم ہو گئے تھے۔
کچھ بچا تھا تو صرف تاریکی سیاہ گہری تاریکی۔
شاہ نے سارا سامان اٹھایا اور واپس الماری میں رکھ دیا۔
کپڑے نکال کر واش روم کا رخ کیا۔
****////////****
“عافیہ کہاں ہے؟”
برہان کمرے سے باہر نکلتا ہوا بولا۔
“اپنی امی کی طرف گئی ہے مجھے بھی نہیں بتایا وہ تو ڈرائیور بتا رہا تھا۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
“عجیب انسان ہے بنا بتاےُ ہی چلی گئی؟اس کی امی کو فون کر کے سنانی تھی آپ نے۔۔۔”
برہان تیوری چڑھا کر بولا۔
“اب میں ان سے جھگڑتی اچھی لگتی ہوں بھلا؟”
وہ متحیر سی بولیں۔
“چھوڑیں آپ میں پوچھ لیتا ہوں۔۔۔”
برہان سر جھٹکتا ہوا واپس کمرے میں آ گیا۔
“السلام علیکم آنٹی! “
برہان فون کان سے لگاےُ کھڑا تھا۔
“وعلیکم السلام!”
اسپیکر میں آواز ابھری۔
“آنٹی زرا عافیہ سے پوچھیں یہ کون سا طریقہ سے وہاں جانے کا؟ نہ کسی کو بتایا نہ کسی سے پوچھا۔۔۔”
برہان برہمی سے بولا۔
“یہی طریقہ ہوتا ہے بیٹا اور عافیہ اب واپس نہیں آےُ گی بہتر ہو گا آپ طلاق کے پیپر بھیج دینا۔۔۔”
کہہ کر انہوں نے کھٹاک سے فون بند کر دیا۔
برہان کو اپنی سماعتوں پر شبہ ہو رہا تھا۔
وہ ہکا بکا سا فون کو دیکھنے لگا جو بند ہو چکا تھا۔
“یہ اچانک ان کو طلاق کیسے یاد آ گئی؟”
برہان داڑھی کھجاتا ہوا سوچنے لگا۔
“خیر اچھی بات ہے جان چھوٹے گی میری اس جاہل سے۔۔۔”
برہان حقارت سے بولا۔
****/////////****
مہر نے خود کو ایک وسیع و عریض میدان میں پایا۔
آس پاس جوان مرد اور عورتیں دکھائی دے رہی تھیں۔
چند لمحوں بعد مہر کا نام پکارا جانے لگا۔
سامنے ترازو پڑا تھا جس کے ایک پلڑے میں نیکیاں اور دوسرے پلڑے میں برائیاں رکھی جا رہی تھیں۔
مہر تشویش سے ترازو کو دیکھنے لگی۔
کیا اس کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہو گا یا نیکیوں کا۔
“گناہ تو بہت کئے ہیں میں نے جھوٹ کتنی بار بولا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔۔۔”
مہر نم آنکھوں سے ترازو کو دیکھنے لگی جہاں برائیوں کا پلڑا بھاری ہو رہا تھا اور مہر کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
“اگر تین نیکیاں مل جائیں تو نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے۔۔۔”
مہر یہ سنتے ہی چہرہ موڑ کر لوگوں کی بھیڑ کو دیکھنے لگی۔
میدان حشر میں تین نیکیاں کون دے سکتا تھا اسے؟
مہر اپنی والدہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔
بلآخر اسے وہ دکھائی دے گئیں۔
“امی مجھے تین نیکیاں چائیے آپ مجھے دیں گیں نہ؟”
مہر آنسو بہاتی بول رہی تھی۔
“میں کیسے دے دوں تمہیں میری اپنی نیکیاں کم ہیں جاؤ بھئ میں تو نہیں دے رہی۔۔۔”
وہ مہر کو پرے کرتی ہوئی بولیں۔
مہر ششدر سی انہیں دیکھنے لگی۔
کیا یہ اس کی ماں تھی؟
روز محشر کوئی کسی کا نہ ہو گا مہر کو عملی نمونہ بھی مل گیا۔
سب کو اپنی اپنی فکر لاحق تھی۔
کسی کو ایک نیکی چائیے تو کسی کو دس۔لینے پر سب راضی تھے لیکن دینے پر کوئی بھی نہیں۔
مہر نے ان انجان لوگوں سے بھی پوچھا لیکن مایوسی کا سامنا ہوا۔
“کاش مجھے واپس دنیا میں بھیج دیا جاےُ میں اچھے کام کر لوں تاکہ مجھے نجات مل سکے۔۔۔”
مہر حسرت سے بولی۔
لیکن وہ وقت نکل چکا اب اور گیا وقت واپس نہیں آتا۔
جب وقت تھا تب سنبھلے نہیں اور اب واپس جانا چاہتے۔
مہر چلتی جا رہی تھی جب اس کی نظر کچھ لوگوں پر پڑی جن کے منہ چیرے جا رہے تھے۔
خوف کے مارے مہر کانپنے لگی۔
یہ وہ لوگ تھے جو جھوٹ بولتے تھے۔
ان کی چیخ و پکار اتنی ہیبت ناک تھی کہ مہر نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
آنسوؤں میں روانی آ گئی۔ دل کانپنے لگا۔
جب اس کا وقت آےُ گا تب کیا کرے گی وہ۔
“کاش مجھے واپس بھیج دیا جاےُ میں اپنی ساری غلطیاں سدھار لوں گی سارے گناہوں کا ازالہ کر لوں گی۔۔۔”
مہر زمین پر بیٹھی سسک رہی تھی۔
“پلیز مجھے واپس بھیج دیں پلیز۔۔۔”
مہر کا جسم پسینے میں شرابور تھا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
کمرہ تاریکی میں ڈوبا تھا۔
مہر آنکھیں بند کئے بول رہی تھی۔
وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
مہر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو گئیں تھی۔
خوف اس پر سرایت کر گیا تھا۔
وہ دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔
مہر اپنے بازو چھو کر دیکھنے لگی۔
“می میں زندہ ہوں۔۔۔”
مہر اشک بہاتی اٹک اٹک کر بولی۔
“وہ خوا خواب تھا؟”
مہر چہرہ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
“مجھے شاید واپس بھیج دیا گیا ہے اپنے گناہوں کا ازالہ کرنے کے لیے۔۔۔”
مہر ابھی تک اس خواب کے زیر اثر تھی۔
مہر نے لحاف پرے کیا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سوئچ بورڈ کے پاس آ گئی۔
بورڈ پر ہاتھ مارا تو کمرہ روشنی میں نہا گیا۔
مہر تر چہرے اور نم آنکھوں سے کمرے کو گھورتی ہوئی واپس بیڈ کی جانب چلنے لگی۔
بالوں کو سمیٹتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی اور گلاس میں پانی انڈیلنے لگی۔
ایک ہی گھونٹ میں سارا گلاس ختم کر لیا۔
مہر اجنبی نظروں سے کمرے کو دیکھ رہی تھی۔
دل میں خوف کنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا۔
مہر نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا تو اگلے ہی لمحے اشکوں سے پھر تر ہو گیا۔
ہاتھ برف ہو رہے تھے۔
مہر نے اپنی انگلیاں دیکھیں جو نیلی پڑ رہی تھیں۔
خوف کے باعث رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
آنکھیں بار بار منظر کو دھندلا رہی تھیں۔
مہر نے دوپٹہ اٹھایا اور واش روم کا رخ کیا۔
وضو کر کے باہر نکلی اور مصلے پر کھڑی ہو گئی۔
****/////////****
حرم پاؤں اوپر کیے صوفے پر بیٹھی تھی چہرہ گھٹنوں پر گرا رکھا تھا۔
“کیا ہوا حرم؟”
حرائمہ جو ابھی باہر سے آئی تھی اسے اسطرح بیٹھے دیکھ کر بولی۔
حرم کے لئے بولنا محال ہو گیا تھا۔
“حرائمہ بیگ رکھ کر اس کے ساتھ آ بیٹھی۔
“امی کا فون آیا تھا ابھی بتا رہی تھیں کہ میرا رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔”
حرم افسردگی سے بولی۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔”
حرائمہ خوشدلی سے بولی۔
“ہاں اچھی بات ہے لیکن مجھ سے پوچھنا تو دور بات پکی کرنے سے پہلے بتایا بھی نہیں گیا۔۔۔”
حرم مایوسی سے بولی۔
“تم خوش نہیں؟”
حرائمہ تشویش سے بولی۔
“ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔”
حرم جبراً مسکرائی۔
حرائمہ مسکراتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
****////////****
“چھوٹے پھر کیا سوچا تم نے؟”
ضوفشاں بیگم اس کے ساتھ بیٹھتی ہوئی بولیں۔
“آپ دیکھ لیں جو آپ کو پسند ہو۔۔۔”
شاہ ویز لاپرواہی سے بولا۔
ماریہ نے بےچینی سے پہلو بدلا۔
“میں تو سوچ رہی تھی حنا کے ساتھ کر دوں۔۔۔”
وہ سوچتی ہوئی بولیں۔
“آپ دیکھ لیں ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے میں نکلتا ہوں آفس کے لیے۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
ماریہ خونخوار نظروں سے شاہ ویز کو دیکھ رہی تھی۔
شاہ ویز اسے نظر انداز کرتا نکل گیا۔
“تم اگر اپنی بات سے پلٹے تو دیکھنا میں مصطفی بھائی کو سب بتا دوں گی۔۔۔”
ماریہ کلس کر سوچنے لگی۔
****/////////****
“عدیل تم نے دیکھا جلسے کے دوران کیمرہ مین پر پتھراؤ کیا گیا؟”
شاہ لیپ ٹاپ پر نظریں جماےُ بول رہا تھا۔
“نہیں مجھے علم نہیں ہوا رات سے میرا فون بند تھا۔۔۔”
عدیل لاعلمی ظاہر کرتا ہوا بولا۔
“یہ دیکھو شکر ہے زیادہ زخمی نہیں ہوا۔۔۔”
شاہ لیپ ٹاپ کی اسکرین اس کی جانب موڑتا ہوا بولا۔
“اوہ تو اب کہاں ہے فیصل؟”
عدیل تشویش سے بولا۔
“پٹی کروا کے آفس چلا گیا تھا اس کی جگہ مدثر کو بھیج دیا تھا۔۔۔”
شاہ لیپ ٹاپ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
“مہر کا معلوم نہیں ہوا؟”
عدیل موضوع بدلتا ہوا بولا۔
“نہیں۔کوشش کر رہا ہوں لیکن ابھی تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔”
شاہ انگلیاں چلاتا ہوا بولا۔
“کوٹھے پر معلوم کرنا تھا وہاں تو نہیں؟”
عدیل تجسس سے بولا۔
“گیا تھا وہاں وہاں بھی لیکن زلیخا نے صاف انکار کر دیا اور میں جانتا ہوں وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔۔۔”
شاہ اسکرین کو گھورتا ہوا بولا۔
“پھر کہاں جا سکتی ہے؟”
عدیل سوچتا ہوا بولا۔
“کیا پتہ کہاں گئی ٹھکانہ تو اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
عدیل اثبات میں سر ہلانے لگا۔
مزید کریدنا اس نے مناسب نہیں سمجھا۔
****/////////****
“شہری برہان نے مجھے طلاق دے دی ہے۔عدت پوری ہوتے ہی تم مجھ سے نکاح کر لینا۔۔۔”
عافیہ فون کان سے لگاےُ بول رہی تھی۔
“ٹھیک ہے تم فکر مت کرو میں امی سے بات کروں گا۔۔۔”
شہریار مسکرا کر بولا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
عافیہ آہستہ سے بولی۔
“تم فکر مت کرنا میں اپنے قول پر قائم رہوں گا تمہیں کہا تھا اپنی زندگی میں شامل کروں گا تو اس پر عمل بھی کر کے دکھاؤں گا۔۔۔۔”
شہریار پراعتماد انداز میں بولا۔
عافیہ پرسکون ہو گئی۔
“خدا حافظ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
****/////////****
“شاہ ویز تم بھول رہے ہو کہ میں نے تمہارا ساتھ اسی شرط پر دیا تھا تاکہ تم میری بہن سے شادی کرو گے۔۔۔”
ماریہ پھٹ پڑی۔
“میرے جو دل میں آےُ گا میں کروں گا۔۔۔”
شاہ ویز اس کی برہمی کا اثر لئے بنا بولا۔
“تم کیسے اپنی زبان سے پھر سکتے ہو؟”
ماریہ ششدر سی بولی۔
“مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے آپ کی بہن میں۔۔۔”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“شاہ ویز بھولو مت میں نے تمہاری مدد کی ہے تمہارے کہنے پر سیڑھیوں میں تیل گرایا, اس دن امی کو لے کر آئی تاکہ تم مہر کو سب کے سامنے غلط ظاہر کر سکو۔میں یہ سب مصطفیٰ بھائی کو بتا دوں گی۔۔۔”
ماریہ تقریباً چلا رہی تھی۔
“جائیں بتا دیں مجھ سے پہلے بھائی آپ کو اس گھر سے باہر نکالیں گے کہ آپ نے مہر کے خلاف سازشیں کیں۔۔۔”
شاہ ویز پرسکون انداز میں بولا۔
ماریہ تلملا اٹھی۔
شہریار کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑے رہنا مشکل ہو گیا۔
اس نے دیوار کا سہارا لیا۔
شہریار کو اپنی سماعتوں پر شبہ ہو رہا تھا۔
“ماریہ اور شاہ ویز؟”
شہریار نے زیر لب دہرایا۔
شہریار نفی میں سر ہلاتا زینے اترنے لگا۔
“امی؟ بابا سائیں؟”
شہریار چلانے لگا تھا۔
ماریہ اور شاہ ویز بھی گھبرا کر باہر نکل آےُ۔
اتفاق سے آج شاہ بھی گھر پر تھا۔
“کیا ہو گیا کیوں چلا رہے ہو؟”
ضوفشاں بیگم ہانپتی ہوئی باہر نکل آئیں۔
شاہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے ناگواری سے نیچے دیکھ رہا تھا۔
ماریہ بھی نیچے آ چکی تھی۔
“نکلو میرے گھر سے تم۔۔۔”
شہریار ماریہ کی بازو پکڑ کر چلتا ہوا بولا۔
“شہریار کیا ہو گیا ہے کیوں مجھے نکال رہے ہیں؟”
ماریہ حواس باختہ سی بولی۔
“شہریار کیوں کر رہا ہے ایسے وجہ تو بتا؟”
ضوفشاں بیگم اس کی راہ میں حائل ہو گئیں۔
“شہریار یہ کیا طریقہ ہے؟”
کمال صاحب خفگی سے بولتے ہوۓ آےُ۔
شہریار چہرہ موڑ کر انہیں دیکھنے لگا۔
آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
“بابا سائیں آپ سنیں گے نہ آپ کو یقین نہیں آےُ گا۔۔۔”
شہریار انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ آبرو اچکا کر اس تماشے کو دیکھ رہا تھا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“بابا سائیں مہر کو گھر سے نکالنے کے لیے شاہ ویز اور ماریہ نے پلان بنایا تھا وہ بے گناہ تھی اس پر ان دونوں نے الزام لگایا۔۔۔”
شہریار مایوسی سے بولا۔
کمال صاحب شعلہ بار نظروں سے دونوں کو دیکھنے لگے۔
شاہ ویز کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
“یہ کیا سن رہے ہیں ہم؟”
وہ گرج دار آواز میں بولے۔
شاہ کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
اکتاہٹ کی جگہ تحیر نے لے لی۔
“کہہ دو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔”
شہریار دونوں کو دیکھ کر دھاڑا۔
ضوفشاں بیگم سکتے میں آ گئیں۔
ماریہ مجرموں کی مانند سر جھکاےُ کھڑی تھی شہریار کو جھوٹا وہ نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ اسے اپنا رشتہ بچانا تھا۔
“وہ بابا سائیں۔۔۔”
شاہ ویز ہاتھ مسلتا الفاظ جوڑنے لگا۔
کمال صاحب کے تھپڑ کے باعث خاموشی گونجنے لگی۔
سب کو سانپ سونگھ گیا۔
شاہ تاسف سے انہیں دیکھ رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: