Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 16

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 16

–**–**–

شاہ ویز منہ پر ہاتھ رکھے چہرہ جھکاےُ ہوۓ تھا۔
ضوفشاں بیگم کی زبان کنگ ہو گئی۔
“امی میں عافیہ سے نکاح کروں گا اور یہ ماریہ اپنے گھر جاےُ گی۔اسے بھی سبق ملنا چائیے کہ جو دوسروں کے گھر تباہ کرتے ہیں ان کا اپنا گھر بھی سلامت نہیں رہتا۔۔۔”
شہریار ماریہ کو دیکھتا طیش میں بول رہا تھا۔
“نہیں شہریار پلیز ایسا مت کریں مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے میں سب سے معافی مانگ لو گی لیکن پلیز مجھے چھوڑیں مت۔۔۔”
ماریہ اس کے قدموں میں گر گئی۔
شہریار نے نخوت سے سر جھٹکا۔
“جاؤ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔”
خاموشی میں شہریار کی آواز گونج رہی تھی۔
“شہریار نہیں پلیز ایسا مت کریں۔۔۔”
ماریہ تڑپ کر کھڑی ہو گئی۔
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔”
شہریار ماریہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“شہریار پلیز نہیں چپ ہو جائیں میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔”
ماریہ اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی۔
“طلاق دیتا ہوں۔۔۔”
شہریار کے لبوں سے یہ الفاظ ادا ہوۓ اور ماریہ خاموش ہو گئی۔
خالی خالی نظروں سے وہ شہریار کو دیکھنے لگی۔
پل بھر میں وہ محرم سے نامحرم ہو گیا تھا۔
سب خاموش تماشائی بنے ہوۓ تھے۔
ماریہ اجنبی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔
سب پرایا پرایا لگنے لگا تھا۔
شہریار بابا سائیں کی جانب بڑھنے لگا۔
“بابا سائیں میرا ارادہ ماریہ کو طلاق دینے کا نہیں تھا لیکن اس عورت نے میرے بھائی کی خوشیاں چھین لیں انہیں اذیت میں مبتلا کیا اس کے بعد میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں ایک ایسی فساد پھیلانے ولی عورت کے ساتھ رہوں۔۔۔”
شہریار انہیں دیکھتا ہوا کرب سے بولا۔
“ہم سمجھ سکتے ہیں اور تم نے بلکل درست فیصلہ لیا ہمارے شاہ کے مقدر میں لکھی خوشیاں ان دونوں نے چھینی ہیں۔۔۔”
وہ حلق کے بل چلاےُ۔
شاہ ویز گھبرا کر دو قدم دور ہو گیا۔
ماریہ تو سکتے کی کیفیت میں تھی کون کیا بول رہا ہے وہ سننے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔
شاہ تلخی سے مسکراتا زینے اترنے لگا۔
شہریار نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
“بھائی مجھے معاف کر دیں میری بیوی نے۔۔۔۔”
شہریار ہاتھ جوڑے بول رہا تھا۔
شاہ نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔
“نہیں شہریار اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
شاہ افسوس سے اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔
اپنے خون سے اپنے بھائی سے یہ سب وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
وہ چلتا ہوا شاہ ویز کے عین مقابل آ گیا۔
ایک زوردار تھپڑ شاہ ویز کے منہ پر مارا۔
آنکھوں میں لہو دوڑ رہا تھا۔
شاہ نے پے در پے دو چار مکے اس پر برساےُ۔
کمال صاحب نے اسے شاہ ویز سے لگا کیا۔
“بابا سائیں میرا آج سے صرف ایک ہی بھائی ہے اور میں اپنی بات دہرانے کا روادار نہیں آپ بھی سن لیں امی۔۔۔”
بولتے بولتے شاہ کی آواز بلند ہو گئی۔
شاہ ویز تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔
ضوفشاں بیگم کے پاس بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا سو وہ خاموش ہی رہیں۔
“ہمیں تمہارے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”
وہ شاہ ویز کو گھورتے ہوۓ بولے۔
شاہ مزید بنا کچھ بولے باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
“بھائی پلیز ایسا مت کریں۔میں اس دن سے پچھتا رہا ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔”
شاہ ویز اسکے سامنے آتا ہوا بولا۔
شاہ نے ایک سلگتی نگاہ اس پر ڈالی۔
“تم میری محبت کے قابل ہی نہیں تھے۔۔۔”
شاہ ہاتھ سے اسے پرے کرتا ہوا بولا۔
“اب اگر مہر مل بھی گئی تو اسے یہاں لانے کی غلطی نہیں کروں گا میں۔۔۔”
شاہ چلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
شاہ ویز نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
شاہ ضبط کرتا باہر نکل گیا۔
“دیکھ لیے اپنی اولاد کے کارنامے جس پر تم بھتان لگاتی نہیں تھکتی تھی وہ بیچاری بےقصور تھی جس طرح تم سب نے اسے گھر سے بے دخل کر دیا تھا نکالنا تو تم سب کو چائیے۔۔۔”
کمال صاحب ضوفشاں بیگم کو دیکھتے ہوۓ برس پڑے۔
“مجھے تو جو نظر آیا وہی میں نے کہا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منمنائی۔
“ہمیشہ آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہوتا لیکن افسوس کہ ہمیشہ اسی پر یقین کیا جاتا جو دکھائی دے رہا ہوتا بعض اوقات حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے دیکھ لیں اب خود ہی۔۔۔”
شہریار تاسف سے بولا۔
“اب ہمارے پاس کوئی سفارش لے کر مت آنا نہ اپنی نہ اپنے اس بیٹے کی۔۔۔۔”
کمال صاحب برہمی سے بولے۔
“آپ بھی مجھے برا کہہ رہے ہیں؟”
وہ چہرہ اٹھا کر بولیں۔
“جو غلط ہے میں اسی کو کہہ رہا۔۔۔”
کہہ کر وہ رکے نہیں اور کمرے کی جانب چل دئیے۔
“تم اپنا سامان باندھو اور چلتی بنو یہاں سے۔۔۔”
شہریار حقارت بھری نظر ڈالتا چلا گیا۔
“کسی سے منہ ملانے کے قابل نہیں چھوڑا تم دونوں نے۔۔۔”
وہ شاہ ویز کے سر پر تھپڑ مارتی ہوئی بولیں۔
“کیا رقابت تھی تم دونوں کو؟ میں بھی اس کے خلاف تھی لیکن اپنے بچے کی خوشیاں اجاڑنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔”
وہ دونوں کو گھورتی ہوئیں بول رہی تھیں۔
دونوں مجرموں نے چپ سادھ لی تھی۔
جب جرم آشکار ہو جاےُ تو مجرم خاموش ہی ہو جاتا ہے۔
****/////////****
مہر ہاسپٹل کے ایک کمرے میں بے سدھ بیڈ پر لیٹی تھی۔
بائیں ہاتھ پر لگی ڈرپ چل رہی تھی۔
چہرے پر نقاہت کے آثار نمایاں تھے۔
وہ خاصی علیل دکھائی دے رہی تھی۔
اللہ نے مہر کو رحمت سے نوازا تھا لیکن ابھی تک مہر ہوش میں نہیں آئی تھی۔
ڈاکٹر اس کا معائنہ کر رہے تھے۔
“ان کے ہزبینڈ کو کہہ دو کہ وہ اب مل سکتے ہیں۔۔۔”
ڈاکٹر نرس کو دیکھتی ہوئی بولی۔
نرس اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
اگلے لمحے دروازہ کھلا اور شاہ اندر آتا دکھائی دیا۔
“اب کیسی طبیعت ہے میری مسز کی؟”
شاہ بےچینی سے بولا۔
“اب ان کی طبیعت قدرے سنبھل چکی ہے کوئی خطرہ والی بات نہیں۔۔۔”
وہ پیشہ ورانہ مسکراہٹ لئے بولی۔
شاہ سانس خارج کرتا مہر کو دیکھنے لگا۔
جس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
ڈاکٹر مہر کو دیکھتی باہر نکل گئی۔
نرس نے ان کی بیٹی شاہ کے حوالے کر دی۔
شاہ نم آنکھوں سے اس ننھی سی جان کو دیکھنے لگا۔
اولاد کیسی نعمت ہے یہ اس وقت کوئی شاہ سے پوچھتا۔
شاہ نے اس کے روئی جیسے رخساروں پر بوسے دئیے۔
مہر جیسی گڑیا خاصی کمزور تھی۔
شاہ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
یہ خوشی کے آنسو تھے جو دم بخود نکلتے آ رہے تھے۔
شاہ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پکڑ کر چومنے لگا۔
اسے یہ جان اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی۔
شاہ کی محبت نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا تو وہ رونے لگی۔
شاہ اسے چپ کروانے کی سعی کرنے لگا۔
اس کے لئے یہ تجربہ بلکل نیا تھا۔
کچھ دیر تو وہ روتی رہی لیکن پھر آنکھیں بند کر کے سو گئی۔
شاہ کے لب مسکرانے لگے۔
“میری جان سو گئی۔۔۔”
شاہ اس کے چہرہ پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
مہر کا خیال آیا تو اس کی جانب چلنے لگا جو شور کے باعث ہوش میں آ چکی تھی۔
شاہ چلتا ہوا اس کے پاس آ رکا۔
“تم ٹھیک ہو؟”
شاہ کے چہرے پر فکر نمایاں تھی۔
مہر مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
مہر کہنیوں کے بل اٹھنے کی سعی کرنے لگی۔
“ایک منٹ۔۔۔”
شاہ اسے رکنے کا اشارہ کرتا تکیہ سیدھا کرنے لگا۔
ایک ہاتھ میں بچی کو اٹھا رکھا تھا تو دوسرے ہاتھ سے مہر کا ہاتھ پکڑا اور مہر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
مہر کی آنکھوں میں نمی تھی۔
مہر نے شاہ کے سامنے ہاتھ پھیلاےُ۔
شاہ نے مسکراتے ہوۓ بچی مہر کو دے دی۔
مہر نے اشک بہاتے اسے سینے سے لگا لیا۔
اس جان کو دنیا میں لانے کے لئے مہر نے بہت کچھ برداشت کیا تھا۔
خاموشی میں مہر کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔
شاہ نے اسے روکا نہیں۔
شاہ نے مہر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
مہر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
سرخ اشک بہاتی آنکھیں۔
“شاہ دیکھیں اللہ نے ہماری سن لی۔۔۔”
مہر بازوؤں میں سوتی بچی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“بلکل اللہ نے ہمارا دامن خوشیوں سے بھر دیا۔۔۔”
شاہ کا دل خوشی سے بےقابو ہو رہا تھا۔
چہرہ اس کا بھی آنسوؤں سے تر تھا۔
“بس بہت رو لیا۔۔۔”
شاہ اس کے سامنے بیٹھ کر آنسو چنتا ہوا بولا۔
مہر مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔
“ماناب شاہ ہماری جان۔۔۔”
مہر اس کا نام لیتی چہرے پر بوسہ دینے لگی۔
یہ نام مہر اور شاہ دونوں نے مل کر پسند کیا تھا۔
شاہ نے ماناب کو اپنی گود میں لے لیا۔
“مہر تم نہیں جانتی تم نے کتنی بڑی خوشی مجھے دی ہے میں ساری زندگی تمہارا مشکور رہوں گا۔۔۔”
شاہ ماناب کا ماتھا چومتا ہوا بولا۔
مہر محبت پاش نظروں سے اپنے محرم اور اپنی اولاد کو دیکھ رہی تھی۔
“مہر ایک بات میں نے تمہیں نہیں بتائی تھی۔۔۔”
شاہ کی نظریں ماناب پر تھیں۔
“کون سی بات؟”
مہر دھیرے سے بولی۔
“شفا میرے بچے کی ماں نہیں بننے والی تھی۔۔۔”
شاہ دانت پیستا ہوا بولا۔
“پھر کس کے بچے کی ماں بننے والی تھی وہ؟”
مہر متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
“برہان کے بچے کی۔۔۔”
شاہ نے گویا دھماکہ کیا۔
مہر کی زبان کنگ ہو گئی۔
“میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی کیونکہ مجھے خود پر لعنت محسوس ہوتی ہے کہ میں کیسا مرد ہوں جو اتنا عرصہ اس سب سے بےخبر رہا لیکن تم میری محرم میری
ہم راز ہو اسی لئے تمہیں بتا رہا ہوں۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بول رہا تھا۔
“لیکن شاہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟”
مہر غمزدہ سی اسے دیکھ رہی تھی۔
“جب میں نے ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا تب میں نے بنا سوچے شفا پر الزام لگا دیا کہ یہ بچہ میرا نہیں کیونکہ جس حال میں مجھے وہ دونوں ملے تھے اس کے بعد میری جگہ اگر کوئی اور بھی ہوتا تو یہی کہتا تب شفا نے اعتراف کیا تھا اور اس دن شاہ کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گا۔میں نے شفا سے محبت کی تھی بے حد محبت لیکن وہ اس قابل ہی نہیں تھی۔۔۔”
شاہ سر جھٹکتا ہوا بولا۔
مہر تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اگر اس نے زخم کھاےُ تھے تو شاہ بھی گھائل دل کے ساتھ جی رہا تھا۔
“لیکن میں شکرگزار ہوں اپنے رب کا جس نے مجھے تم جیسی بیوی دی۔۔۔”
شاہ نے مہر کی جانب چہرہ کیا۔
مہر کے لب مسکرانے لگے۔
“مجھے فخر ہے مہر کی تم میری بیوی ہو۔۔۔”
شاہ مہر کے دائیں ہاتھ پر اپنا دائیاں ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
مہر نم آنکھوں سے مسکراتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“دیکھو ہماری جان بلکل تمہارے جیسی ہے۔۔۔”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“لیکن مجھے لگتا ہے بال میرے جیسے نہیں۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی ماناب کے سر سے ٹوپی ہٹانے لگی۔
“دیکھا! آپریشن تھیڑ میں ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے بال میرے جیسے نہیں۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بول رہی تھی۔
“اگر بال بھی تمہارے جیسے ہوتے پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ہے تو ہم دونوں کی جان۔۔۔”
شاہ محبت پاش نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر نے مسکراتے ہوۓ سر تکیے ساتھ ٹکا دیا۔
“میں سوچ رہا ہوں اب حرم اور حرائمہ کو بھی لے آؤں؟”
شاہ مہر کو سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“جی لے آئیں حرم تو ناراض ہو گی آپ ساتھ ہی لے آتے۔۔۔”
مہر خفگی سے بولی۔
“میں نے سوچا سب سے پہلے ہم دونوں ملیں اپنی جان سے۔۔۔”
شاہ ماناب کی ناک دباتا ہوا بولا۔
ماناب جو سکون سے سو رہی تھی شاہ کی اس حرکت پر گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے لگی۔
شاہ نے اس کے ایک دم چلانے پر آنکھیں بند کر لیں۔
“مجھے لگتا ہے یہ ہمیں بہت تنگ کرنے والی ہے۔۔۔”
شاہ اسے مہر کی جانب کرتا ہوا بولا۔
“رُولا کر اب مجھے پکڑا رہے ہیں؟”
مہر گھورتی ہوئی بولی۔
“میں تمہاری نند اور بہن کو لینے جا رہا ہوں نہ۔۔۔”
شاہ معصومیت سے بولا۔
مہر ماناب کو چپ کروانے لگی۔
شاہ حرم کا انتظار کر رہا تھا لیکن جب اس کی آمد کے کوئی آثار دکھائی نہ دئیے تو گاڑی پارک کرکے اندر کی جانب چل دیا۔
“آج جلدی کیوں جانا ہے تم نے؟”
ازلان اس کے سامنے آتا ہوا بولا۔
“میرے بھائی کی بیٹی پیدا ہوئی ہے مجھے دیکھنے جانا ہے۔۔۔”
حرم اشتیاق سے بولی۔
“مجھے تو کبھی دیکھنے نہیں آئی تم؟”
ازلان گھورتا ہوا آگے کو ہوا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالے پیچھے ہو گئی۔
“تمہیں کیوں دیکھنے آؤں میں؟”
حرم سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“پہلے مجھے بتاؤ تم مجھے کیوں نہیں دیکھنے آئی کبھی؟”
ازلان خطرناک تیور لئے اس کی جانب بڑھنے لگا۔
“ی یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔”
حرم الٹے قدم اٹھاتی ہوئی بولی۔
“تمہارے لئے وہ بچی مجھ سے زیادہ اہم ہے بتاؤ؟”
ازلان برہمی سے بولا۔
حرم ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ازلان مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔”
حرم الجھ کر بولی۔
“میں نے تمہیں الجبرا کا سوال دے دیا ہے جو تمہیں سمجھ نہیں آ رہا؟”
ازلان چہرے پر خفگی طاری کرتا ہوا بولا۔
“نہیں لیکن تمہیں کیوں دیکھنے آؤں؟ میرا مطلب تمہیں تو روز یونی میں دیکھتی ہوں اسے تو ابھی دیکھا ہی نہیں ہے۔۔۔”
حرم اس کی خونخوار نظریں دیکھ کر سنبھل کر بولی۔
“بھائی کی بیٹی ہے نہ تمہاری تو نہیں۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم اس کی بات پر سر جھکا گئی۔
ازلان کو اس کا جھجھکنا شرمانا اچھا لگتا تھا۔
اس کا یہی روپ دیکھنے کے عوض تو وہ اسے تنگ کرتا تھا۔
ازلان کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نے احاطہ کر لیا۔
جسے اس نے بروقت چھپا لیا۔
“اگر تم ہاسپٹل گئی تو یاد رکھنا میں وہاں آ کر تمہیں الیکٹرک شاک لگا دوں گا۔۔۔”
ازلان مصنوعی خفگی لئے بولا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان تم اتنی آرام سے کہہ رہے ہو مجھے شاک لگا دو گے۔۔۔”
حرم متحیر سی بولی۔
“تو کیا بھنگڑا ڈال کر کہوں؟”
ازلان خفگی سے بولا۔
“یہ کیا بات ہوئی ازلان؟”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“تم مجھے ہر وقت تنگ کرتی رہتی ہو تھوڑا سا میرا بھی حق بنتا یے تم سے بدلنے لینے کا۔۔۔”
ازلان اسی کے انداز میں بولا۔
“میں جان بوجھ کر تو نہیں کرتی نہ۔۔۔”
حرم منمنائی۔
“میں جانتا ہوں سب خود بخود ہو جاتا ہے ہیں نہ؟”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
” بھائی باہر انتظار کر رہے ہوں گے مجھے جانے دو اب۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
“اگر ہاسپٹل گئی تو سوچ لو۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا پیچھے ہو گیا۔
“الیکٹرک شاک۔۔۔”
حرم نے زیر لب دہرایا۔
“تم ایسا نہیں کرو گے نہ؟”
حرم التجائیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں ایسا ضرور کروں گا۔۔۔”
ازلان جلانے والی مسکراہٹ لئے بولا۔
حرم منہ بسورتی چلنے لگی۔
ذوناش کلس کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“نجانے اس حرم میں ایسا کیا ہے جو ازلان کو اس کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔۔۔”
ذوناش کی آنکھوں سے نفرت چھلک رہی تھی۔
“کاش میں تمہیں مار سکتی حرم آئی سوئیر تمہاری لاش بھی نہ ملتی۔۔۔”
ذوناش کی نظر ازلان سے جا ٹکرائی۔
“ازلان پہلے تو تم مجھے اتنا پسند کرتے تھے اور اب پاگلوں کی طرح اس بیوقوف حرم کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔۔۔”
وہ تلملا کر بولی۔
دل میں آگ بھڑک رہی تھی، آنکھوں میں نفرت کے شعلے اٹھ رہے تھے۔
جو کسی انہونی کا پیش خیمہ تھے۔
“چھوڑو گی تو میں بھی نہیں تمہیں ازلان شاہ یاد رکھنا۔۔۔”
ذوناش ہنکار بھرتی چلنے لگی۔
حرم نے سامنے چہرہ کیا تو شاہ دکھائی دیا۔
حرم کا سانس اور پاؤں دونوں منجمد ہو گئے۔
شاہ خطرناک تیور لئے اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
ازلان حرم کو دیکھے بنا جا رہا تھا اور ان سے کافی دور ہو گیا تھا۔
“تم گھر چلو پوچھتا ہوں تم سے۔۔۔”
شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
حرم کسی بے جان وجود کی مانند اس کے ساتھ چلنے لگی۔
دل گھبرانے لگا تھا۔
جس بات کا ڈر تھا وہی ہو گیا۔
حرائمہ کے باعث شاہ فلحال خاموش رہا۔
حرم حرائمہ کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھ گئی۔
چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
آنکھوں میں خوف تیرتا دکھائ دے رہا تھا
وہ تینوں آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوۓ۔مہر آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی۔
حرم کی خوشیوں پر اوس پڑ چکی تھی اور اب فکر ستانے لگی تھی کہ شاہ اس کے ساتھ کیا کرے گا۔
مہر کی نیند کا خیال کر کے حرم اور حرائمہ ماناب کے پاس آ گئیں۔
شاہ مہر کے پاس بیٹھ گیا۔
مہر کو دیکھتے ہی چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
کچھ دیر قبل عود آنے والے غصے کی جگہ محبت اور نرمی نے لے لی۔
“حرم دیکھو کتنی کیوٹ پے نہ؟”
حرائمہ ماناب کو گود میں اٹھاتی ہوئی بولی۔
“ہاں بہت پیاری ہے۔اور ہاتھ دیکھو کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں۔۔۔”
حرم اس کے گلابی مومل جیسے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“ہماری چھوٹو سی ڈول۔۔۔”
حرائمہ اس کے گال پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
“آپ پلیز باہر چلے جائیں پیشنٹ کی ڈریسنگ چینج کرنی ہے۔۔۔”
نرس شاہ کو مخاطب کرتی ہوئی بولی۔
شاہ سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“آپ دونوں بےبی کو لے کر اس روم میں چلی جائیں۔۔۔”
وہ اس کمرے سے ملحقہ دوسرے کمرے کی سمت اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
حرم اور حرائمہ ماناب کو لئے کمرے میں چلی گئیں۔
حرائمہ ماناب کو لئے بیٹھی تھی ۔حرم مہر کے پاس آ گئی۔
“کیسی طبیعت ہے بھابھی؟”
حرم اس کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
حرم ہاتھ مسلتی نگاہیں جھکاےُ ہوۓ تھی۔
مہر اس کے چہرے کے تاثرات سے بھانپ گئی۔
“کیا ہوا؟”
مہر آہستہ سے بولی۔
“بھابھی آپ کی طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے یہ بات کرنی تو نہیں چائیے لیکن میرے پاس اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔۔۔”
حرم بیچارگی سے بولی۔
“بولو۔۔۔”
مہر نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
حرم نے سب کچھ مہر کے گوش گزار کر دیا۔
شعیب کی حرکت سے ازلان تک۔
“تم پسند کرتی ہو ازلان کو؟”
مہر نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔
“بھابھی میں اس سے محبت کرتی ہوں۔۔۔”
حرم نے سر جھکا کر اعتراف جرم کیا۔
مہر کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
“باقی سب تو ٹھیک ہے۔۔ لیکن ازلان برہان کا بھائی ہے جس کے باعث شاہ اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔۔۔”
مہر سوچتی ہوئی آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“آپ پلیز بھائی سے بات کر لینا۔۔۔”
حرم اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ کمال صاحب کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔
مہر نے اٹھنے کی سعی کی تو شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔
حال احوال دریافت کرنے کے بعد کمال صاحب گویا ہوۓ۔
“بہت بہت مبارک ہو ہماری بہو اور بیٹے کو۔۔۔”
خوشی ان کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
حرم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
“کہاں ہے بھئ ہماری پوتی۔۔۔”
وہ گرد و نواح میں نظر ڈالتے ہوۓ بولے۔
“میں لے کر آتی ہوں۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
حرم نے ماناب کو کمال صاحب کی جانب بڑھا دیا۔
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ!!! اللہ نصیب اچھے کرے۔۔۔”
وہ ماناب کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
“ہمیں حرم کی پیدائش کا دن یاد کروا دیا تم دونوں نے۔۔۔”
وہ نم آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ بولے۔
“یہ بھی ایسی ہی تھی کمزور سی۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتے یاد کرتے ہوئے بول رہے تھے۔
حرم جبراً مسکرا رہی تھی۔
“تم دونوں یہیں رہوں میں کھانا لے آتا ہوں۔۔۔”
شاہ دونوں کو دیکھتا باہر نکل گیا۔
“بھائی بابا سائیں کو میرے متعلق بتانے کے لئے تو نہیں لاےُ؟”
حرم کو فکر لاحق ہونے لگی۔
“اف کیا بنے گا میرا۔۔۔”
حرم انگلی دانتوں تلے دباےُ دروازے کو دیکھ رہی تھی۔
****////////****
حویلی میں خاموشی کا راج تھا۔
اور یہ خاموشی اس دن کے بعد سے حویلی کی زینت بن چکی تھی۔
“شام کو تیار رہنا عافیہ۔۔۔”
شہریار پیپرز پر سائن کرتا ہوا بولا۔
“کہیں جانا ہے کیا؟”
عافیہ اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں ڈنر پر جانا ہے۔۔۔”
شہریار مسکراتا ہوا بولا۔
عافیہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔
“لیکن ہم جمعے کو بھی گئے تھے ڈنر پر۔۔۔”
عافیہ یاد کرواتی ہوئی بولی۔
“تو کیا ہوا؟ دوبارہ نہیں جا سکتے؟”
شہریار اس کے ساتھ آ بیٹھا۔
“امی ناراض ہوں گی۔۔۔”
عافیہ اداسی سے بولی۔
“نہیں ہوں گی ناراض تم کیوں فکر کرتی ہو؟”
شہریار اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“آخری بار جب ہم گئے تھے تو مجھے وہ ریسٹورنٹ یاد آ گیا تھا جب ہم نکاح سے پہلے ملے تھے۔۔۔”
عافیہ اس کے شانے پر سر رکھتی ہوئی بولی۔
“تم ماضی کو بھول جاؤ صرف حال کو یاد رکھو۔۔۔”
“شہری تم نے مجھے اس اذیت سے نکالا میں ساری زندگی تمہاری مشکور رہوں گی۔۔۔”
عافیہ نم آنکھوں سے بولی۔
“میں نے کوئی احسان نہیں کیا تم پر سمجھی۔۔۔”
شہریار خفگی سے بولا۔
عافیہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔
“اب ٹائم پر تیار رہنا ورنہ جس حال میں ہو گی ویسے ہی لے جاؤں گا۔۔۔”
شہریار کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“آج لیٹ نہیں ہو گئے شہری؟”
عافیہ گھڑی دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں بہت زیادہ لیٹ ہو گیا ہوں۔۔۔”
شہریار فائل سمیٹتا ہوا بولا۔
****////////****
“ازلان بھائی نے ہمیں دیکھ لیا تھا اس دن۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“تو کچھ پوچھا نہیں؟”
ازلان میز پر کہنیاں رکھتا آگے ہوا۔
“نہیں پوچھا تو نہیں ابھی تک۔لیکن ان کی نظریں سب بتاتی ہیں۔۔۔”
حرم بس رو دینے کو تھی۔
“اچھا اپنا منہ تو صحیح کرو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا وہ تم سے باز پرس کریں گے اور تم بتا دینا انہیں۔۔۔”
ازلان پرسکون انداز میں بولا۔
“یہ سب اتنا آسان نہیں ہے ازلان۔۔۔”
حرم نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“دیکھو حرم میرا کام اپنے گھر والوں کو منانا ہے میں تمہارے گھر والوں کو رضامند نہیں کر سکتا یہ کام تمہارا ہے اور تمہیں اب سٹینڈ لینا ہو گا اپنی محبت کے لئے ورنہ یاد رکھنا تم مجھے بھی کھو دو گی اور ہمارے رشتے کو بھی۔۔۔”
ازلان سنجیدگی سے حقائق بیان کر رہا تھا۔
حرم نے اسے دوسری بار اتنا سنجیدہ دیکھا تھا۔
ایک نکاح والے دن اور ایک آج۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے چلتے ہیں۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
****////////****
“شاہ ماناب کو پکڑیں پلیز۔۔۔”
مہر زور سے بولی۔
شاہ صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آ گیا۔
ماناب گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی۔
مہر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
نقاہت کے باعث وہ علیل ہو گئی تھی۔
“تم نے دوائی لی؟”
شاہ ماناب کو چپ کروانے کی سعی کرتا ہوا بولا۔
“جی لے لی تھی۔۔۔”
مہر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“یہ آپ سے چپ نہیں ہونے والی لائیں مجھے پکڑائیں۔۔۔”
مہر اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہوئی بولی۔
“اتنی جان نہیں جتنا چلا کر روتی ہے۔۔۔”
شاہ جھرجھری لیتا مہر کے پاس آ گیا۔
“ماما کی جان کیا ہو گیا آپ کو؟”
مہر اسے پکڑتی ہوئی بولنے لگی۔
“بابا تنگ کرتے ہیں نہ آپ کو؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
شاہ انہماک سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ہم بابا سے کٹی کر دیں گے ٹھیک ہے نہ وہ ہماری گڑیا کو تنگ کرتے ہیں۔۔۔”
مہر اسے بہلا رہی تھی اور شاہ لبوں پر مسکراہٹ لئے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
ماناب اب خاموش ہو چکی تھی جیسے مہر کی باتیں سمجھتی ہو۔
“یہ تو ماما کا پیارا بےبی ہے۔۔۔”
مہر اس کے چہرے پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
سینے سے لگا کر ماناب کو تھپکنے لگی تو وہ چند منٹوں میں سو گئی۔
“دیکھیں ایسے چپ کرواتے ہیں۔۔۔”
مہر اسے بیڈ پر لٹاتی ہوئی بولی۔
شاہ سر کھجانے لگا۔
“اب عورتوں کے کام عورتیں ہی کر سکتیں ہیں ہم تو بس کوشش کر سکتے۔۔۔”
شاہ بیچارگی سے بولا۔
“شاہ آپ نے حویلی میں ماناب کے متعلق کسی اور بھی بتایا ہے کیا؟”
مہر ماناب پر کمبل اوڑھتی ہوئی بولی۔
“نہیں فلحال سب ناآشنا ہیں۔میں نہیں چاہتا ہماری خوشیوں کو کسی کی بھی بری نظر لگے۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
“وہ تو ٹھیک ہے لیکن ماناب کے لئے جو سامان ہم نے خریدا تھا وہ سب تو وہیں پر ہے۔۔۔”
مہر افسردگی سے کہتی اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں میں بھی یہی سوچتا تھا کہ ہم نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو رہا میں نے سوچا تھا ہماری یہ جان حویلی میں رہے گی سب کے پیار میں لیکن دیکھو حالات کتنے بدل گئے۔۔۔”
شاہ اداسی سے بولا۔
“شاہ مجھے لگتا ہے ہمیں ایک بار حویلی چلے جانا چائیے باقی سب کا بھی حق ہے۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“مہر اس سب کے بعد میرا دل نہیں مانتا۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“لیکن شاہ آپ یہ بھی تو سوچیں نہ کیا ساری زندگی ہمیں یونہی رکھیں گے؟ماناب کو اس کے دادا دادی اور باقی سب کی محبت سے محروم رکھیں گے؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“ہم رکے گے نہیں بس ایک دن کے لئے چلے جائیں گے تاکہ سب مل لیں ماناب سے اور خاندان میں بھی معلوم ہو جاےُ۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے تم کہتی ہو تو۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ اس رات مجھے امید نہیں تھی آپ آئیں گے۔۔۔”
مہر بیڈ سے ٹیک لگاتی ہوئی بولی۔
“کیسے نہ آتا میں؟ تمہیں اکیلا چھوڑ سکتا تھا کیا؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“ایک منٹ میں کال سن لوں۔۔۔”
شاہ جیب سے فون نکالتا ہوا باہر نکل گیا۔
مہر اس رات میں ہی کہیں گم ہو گئیں۔
مہر بارش میں بھیگ رہی تھی لیکن اسے پرواہ نہ تھی۔
اس خاموش تاریک رات میں مہر کی سسکیاں گونج رہی تھی۔
ٹائر کے چرچرانے کی آواز سنائی دی۔
لیکن مہر نے سر نہیں اٹھایا۔
شاہ دروازہ بند کر کے مہر کی جانب چلنے لگا۔
مہر کو قدموں کی چاپ قریب ہوتی سنائی دینے لگی تھی۔
مہر نے سر اٹھایا تو شاہ کا چہرہ دکھائی دیا۔
“آپ؟”
مہر تعجب اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لئے بولی۔
شاہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟”
شاہ اس کا یخ بستہ ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
مہر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنا چاہا۔
شاہ اس بارش میں بھی اس کے آنسو دیکھ سکتا تھا۔
دوسرا ہاتھ بڑھایا اور مہر کے رخسار پر پھیرتا آنسو صاف کرنے لگا۔
شاہ کے لمس پر مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔
“کیوں آئیں ہیں آپ؟”
مہر اسی انداز میں بولی۔
“کیا مجھے نہیں آنا چائیے تھا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
مہر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔
“مہر اگر تمہیں یاد ہو تو میں نے کہا تھا کہ ساری دنیا بھی تمہارے خلاف ہو جاےُ گی نہ تب بھی شاہ کو تم اپنے ہمراہ پاؤ گی۔۔۔”
شاہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے گرمائش منتقل کرتا ہوا بول رہا تھا۔
وہ برف کو پگھلا رہا تھا۔
“مجھے ایسا ساتھ نہیں چائیے آپ نے سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔دکھ اس بات کا نہیں کہ آپ نے ہاتھ اٹھایا دکھ اس بات کا ہے آپ نے یقین نہیں کیا۔ آپ کے تھپڑ نے سب پر واضح کر دیا کہ میں غلط ہوں۔۔۔”
مہر آنسو بہاتی بول رہی تھی۔
“جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
“آپ نے مجھے گھر سے نکال دیا یہ بھی نہیں سوچا کہ میں اکیلی نہیں ہوں میرے ساتھ ایک اور جان بھی ہے۔مجھے ایسی محبت نہیں چائیے میں تنہا جی لوں گی روکھی سوکھی کھا لوں گی لیکن شاہ مصطفیٰ کمال کے پاس نہیں آؤ گی۔ کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے مذاق ہے یہ سب جب دل چاہا گھر سے نکال دیا اور جب دل چاہا واپس بلا لیا۔ میاں بیوی کے رشتے میں محبت سے پہلے عزت ہے جو مرد عزت نہیں دے سکتا وہ محبت بھی نہیں دے سکتا۔ مجھے خود پر افسوس ہو رہا ہے آپ جیسے انسان کے ساتھ میں نے رشتہ قائم رکھا کیا صلہ دیا ہے آپ نے مجھے بتائیں اب؟”
مہر اسے گریبان سے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
شاہ اس بھیگتی رات میں خاموش سامع بنا ہوا تھا۔
اس کا ایک ایک لفظ وہ انہماک سے سن رہا تھا۔
“شاہ بہت برا ہے۔۔۔”
شاہ مہر کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“ہاں برے ہیں آپ بہت برے۔ چلے جائیں یہاں سے میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی اور اگر میرے بچے کو مجھ سے دور کرنے کی سعی کی تو میں خودکشی کر لوں گی شاہ میں بتا رہی ہوں۔۔۔”
مہر خوف کے زیر اثر تھی۔
شاہ نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا اور اپنے پیاسے لب اس کی روشن پیشانی پر رکھ دئیے۔
مہر کو اس سے ایسی توقع نہیں تھی۔
شاہ کی قربت ہمیشہ اسے زیر کر دیتی تھی۔
وہ ہار جاتی تھی۔پگھل جاتی تھی۔
آج بھی ایسا ہی ہو رہا تھا۔مہر آنکھیں بند کئے اس کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی تھی۔
لیکن وہ ہارنا نہیں چاہتی تھی وہ جھکنا نہیں چاہتی تھی۔
شاہ پیچھے ہوا تو مہر نے آنکھیں کھول دیں۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ؟”
مہر اسے خود سے دور کرنے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔
شاہ بنا کچھ بولے کھڑا ہوا مہر کا ہاتھ پکڑا, اسے کھڑا کیا اور چلنے لگا۔
“شاہ میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔”
مہر مزاحمت کرتی ہوئی چلائی۔
لیکن شاہ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
شاہ نے اسے گاڑی کے ساتھ لگا دیا۔
مہر سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اب تم کچھ نہیں بولو گی۔۔۔”
شاہ اس کے پنکھڑی جیسے نازک لبوں پر انگلی رکھتا خفگی سے بولا۔
مہر نے اس کا ہاتھ ہٹا دیا۔
پیشانی پر بل ڈالے وہ شاہ کو گھور رہی تھی۔
“تم نے بول لیا جو دل میں تھا اب میری سنو گی اور بیچ میں مداخلت نہیں کرو گی۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
مہر منہ بناتی بائیں جانب دیکھنے لگی۔
“میں نے تمہیں تھپڑ مارا،تم سے صفائی نہیں مانگی،تمہیں گھر سے باہر نکالا کیونکہ میں ایسا ہی چاہتا تھا۔ میں نے تمہیں تھپڑ مارا تاکہ سب سمجھیں کہ تم غلط ہو۔میں نے تم سے صفائی نہیں مانگی کیونکہ مجھے تم پر بھروسہ ہے۔میں نے تمہیں گھر سے نکالا کیونکہ مجھے تمہیں وہاں سے نکالنا تھا۔ اگر میں تبھی شاہ ویز کو جھوٹا اور تمہیں سچا کہتا تو کوئی اعتبار نہ کرتا نتیجہ کچھ بھی اخذ نہ ہوتا۔۔۔۔”
شاہ ٹھر ٹھر کر بول رہا تھا۔
اس کے الفاظ کی تاثر ایسی تھی کہ مہر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: