Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 17

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 17

–**–**–

میں چاہتا تھا کہ سب جان جائیں کہ میری مہر ایسی نہیں لیکن فل وقت ایسا ممکن نہیں تھا۔اس لئے میں تمہیں سب سے چھپا کر رکھوں گا اپنے پاس تاکہ شاہ ویز کی سچائی سب کے سامنے عیاں ہو جاےُ۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔”
مہر بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔
“مہر میں اس عورت پر شک کر ہی نہیں سکتا جو کوٹھے جیسی جگہ پر بھی کسی کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھی نکاح کے بعد بھی شوہر کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی پھر کیسے میں یقین کر لیتا کہ شاہ ویز سچ بول رہا ہے؟میں جانتا ہوں وہ میرا بھائی ہے اس پر تم سے زیادہ اعتماد ہے لیکن وہ ایک مرد ہے اور تم ایک عورت۔صرف عورت نہیں وفادار عورت۔اور اسکے لئے مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں شاہ کو تمہاری وفا پر پورا اعتماد ہے۔اسی لئے تو تمہیں لینے آیا ہوں۔شاہ مرتے دم تک تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔۔۔”
بولتے بولتے شاہ کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے جو مہر کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکے۔
“شاہ؟”
مہر اشک بہاتی اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“میں نے آپ کو اتنی سنائیں۔آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
مہر کی بھرائی ہوئی آواز گونجی۔
“میں چاہتا تھا تم اپنے دل کا غبار نکال لو۔اگر ابھی بھی کوئی تحفظات چائیے تو بتا دو؟ تم شاہ کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہو اس بات کو کبھی فراموش مت کرنا۔۔۔”
شاہ اس کی گہری بھوری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا جہاں اداسی کی جگہ خوشی کے ساےُ دکھائی دے رہے تھے۔
شاہ کے ہاتھ ابھی تک مہر کے ہاتھوں میں تھے۔
“ہم اسی گھر میں جائیں گے؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“نہیں اس حالت میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔تم حرائمہ کے ساتھ رہو گی شہر میں۔کسی کو معلوم بھی نہیں ہو گا۔۔۔”
“اور آپ؟”
مہر کے لبوں سے پھسلا۔
“میں کوشش کروں گا زیادہ وقت تمہارے ساتھ رہوں۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“چلو گاڑی میں بیٹھو تمہیں ڈھنڈ لگ جاےُ گی۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا چلنے لگا۔
مہر پرسکون سی فلک کو دیکھنے لگی جو ابھی تک برس رہا تھا۔
اس کے اندر کی برسات تمام ہو چکی تھی کیونکہ اس کے ساتھی نے اسے نہیں چھوڑا تھا۔
“کہاں گم ہو؟”
شاہ اس کے سامنے ہاتھ لہراتا ہوا بولا۔
ایک نظر خود پر ڈالی وہ بھیگ نہیں رہی تھی۔
مہر ماضی سے نکل کر حال میں لوٹ آئی۔
“نہیں۔کچھ نہیں۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
“شاہ آپ کو دکھ ہوتا ہو گا شاہ ویز۔۔۔”
مہر بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں دکھ بہت ہوتا ہے چھوٹے سے ایسی توقع نہیں تھی۔جب بھی حویلی جاتا ہوں نہ سب آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے کبھی غصہ آتا ہے تو کبھی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔”
شاہ سپاٹ چہرہ لئے بول رہا تھا۔
مہر کا دل اس کی تکلیف پر کٹ رہا تھا۔
“لیکن میں جانتا ہوں وہ ایسا نہیں ہے برہان کی شہ پر اس نے یہ سب کیا اسی لئے اس سے دور رکھتا تھا۔ چھوٹے کو بھی اپنے جیسا بنا دیا اس برہان نے۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“لیکن شاہ کیا رقابت ہے برہان کی آپ سے؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
دروازے پر دستک سنائی دی تو شاہ نے لب آپس میں مبسوط کر لیے۔
“بھائی وہ حرم کی فرینڈز آئیں ہیں ماناب کو دیکھنے۔۔۔”
حرائمہ جھجھک کر بولی۔
“میں جا رہا ہوں ان کو کمرے میں لے آؤ۔۔۔”
شاہ مہر کے پاس سے فون اٹھاتا ہوا بولا۔
حرائمہ سر ہلاتی واپس چلی گئی۔
شاہ بیڈ پر جھکا اور ماناب کے چہرہ پر بوسہ دیا۔
مہر کے لب مسکرانے لگے۔
اس کی عادت بن گئی تھی جانے سے پہلے ماناب کا ماتھا چومنا اور بہت پختہ تھی یہ عادت۔
“اپنا اور ہماری جان کا خیال رکھنا۔۔۔”
شاہ مہر کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
حرائمہ واپس آئی تو نظر حرم اور اس کی دوستوں سے ٹکرائی۔
حرائمہ اپنی جگہ پر منجمد ہو گئی۔
وہ پتھرائی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
“حرم بھائی چلے گئے ہیں۔۔۔”
حرائمہ اس کے کان میں سرگوشی کرتی تیزی سے نکل گئی۔
“اسے کیا ہو گیا؟”
حرم تعجب سے سوچنے لگی۔
“آ جاؤ بھائی چلے گئے ہیں۔۔۔”
حرم باہر نکلتی ہوئی بولی۔
آئمہ مہر کو سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
“یہ حرم مہر کی نند ہے مطلب شاہ مصطفی کمال کی بہن۔۔۔”
وہ ذہہن میں تانے بانے جوڑنے لگی۔
مہر نے اس کی موجودگی کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔
“واؤ بھابھی یہ کتنی کیوٹ ہے نہ؟”
انشرح بیڈ کے دوسرے کونے پر بیٹھی ماناب کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا نہ میرے بھائی اور بھابھی اتنے پیارے ہیں اور ہماری گڑیا تو ان سے بھی زیادہ پیاری ہے۔۔۔” حرم صوفے پر بیٹھتی تفاخر سے بولی۔
ذوناش منہ بناےُ صوفے کے ایک کونے میں ٹکی تھی۔
مہر آئمہ کے تاثرات کی وجہ سمجھ سکتی تھی۔
آئمہ کو اب حسد ہونے لگا تھا۔
“ایک طوائف ہو کر اسے اتنا کچھ مل گیا؟”
مہر کو دیکھتی وہ ششدر سی بولی۔
گلے میں سونے کا لاکٹ ہاتھ میں انگوٹھیاں اور کان میں پہنے سونے کے بوندے۔
آئمہ بغور اس کا جائزہ لے رہی تھی۔
“حرم کچھ کھلایا پلایا بھی ہے یا نہیں؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“جی بھابھی کھلایا ہے بھائی بیٹھے تھے تو میں نے سوچا کچھ دیر انتظار کر لیں۔۔۔”
حرم مسکراتی ہوئی بولی۔
“باہر چلتے ہیں کیونکہ اگر ماناب رونے لگ گئی تو پورا محلہ رونے لگ جاےُ گا۔۔۔”
حرم شرارت سے بولی۔
مہر اس کے تبصرے پر مسکرانے لگی۔
جاتے ہوۓ بھی آئمہ ایک نظر مہر پر ڈالنا نہیں بھولی جو ماناب کا کمبل درست کر رہی تھی۔
“حرم پر ہاتھ ڈالنا تو خطرے سے خالی نہیں۔۔۔”
آئمہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی۔
سب کے جاتے ہی حرم حرائمہ کے پاس آ گئی۔
“تمہیں کیا ہوا تھا؟”
حرم آبرو اچکا کر بولی۔
“کچھ نہیں مجھے لیکچر تیار کرنا تھا بہت اہم ہے۔۔۔”
حرائمہ اس سے نظریں ملاےُ بغیر بولی۔
“چلی گئیں وہ؟”
حرائمہ کن اکھیوں سے حرم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں چلی گئیں میں بھی پڑھائی کر ہی لوں ورنہ بعد میں دل نہیں کرے گا۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
حرائمہ بنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئی۔
مہر کے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر لیا۔
“کیا ہوا حرائمہ؟”
مہر اس کی بوکھلاہٹ پر پریشان ہو گئی۔
“آپی وہ حرم کی دوست کوٹھے۔۔۔”
“ہاں میں جانتی ہوں۔۔۔۔”
مہر اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بولی۔
“آپی اس نے مجھے دیکھ لیا اگر وہ مجھے لے گئے واپس پھر؟”
حرائمہ پر خوف طاری تھا۔
“تم کیوں فکر کرتی رہی ہو؟ شاہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے۔۔۔”
مہر پرسکون انداز میں بولی۔
“آپ اتنی ریلیکس کیسے ہیں؟”
حرائمہ حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔
“کیونکہ مجھے اپنے اللہ پر اور اس کے بعد اپنے شوہر پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
حرائمہ خاموش ہو گئی۔
“تم بھی فکر مت کرو کچھ نہیں ہو گا جس ذات نے ہمیں اس ذلت سے نکالا ہے وہی ہمیں محفوظ رکھے گی۔۔۔”
مہر طمانیت سے بولی۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“نماز کا ٹائم ہو رہا ہے میں آتی ہوں آپ کے پاس پھر۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی چلی گئی۔
“میری گڑیا اٹھ گئی ہے؟”
مہر اسے اٹھاتی ہوئی بولی۔
ماناب پیشانی پر بل ڈالے مہر کو گھور رہی تھی۔
“میلے بےبی کو غصہ آیا ہوا ہے؟”
مہر اس کے چہرے پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
“جے تو ماما کا پارا سا بےبی ہے۔۔۔”
مہر اس کے سر سے ٹوپی اتارتی ہوئی بولی۔
آج پہلی بار ہوا تھا کہ نیند سے جاگنے پر روئی نہیں تھی۔
“ماما اب اپنی گڑیا کو تیار کریں گیں پھر بابا کے ساتھ کھیلنا ہے نہ میری گڑیا نے۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی اس کا چہرہ صاف کر رہی تھی۔
حرم بلی کے جلے پیر کی مانند یہاں سے وہاں چل رہی تھی۔
شاہ کی نظریں اسے باور کرا چکی تھیں کہ وہ کڑا حساب لینے والا ہے۔
“بھائی کیا کریں گے میرے ساتھ؟”
حرم لب کاٹتی سوچ رہی تھی۔
ازلان کی کال وہ بار بار کاٹ رہی تھی۔
اکتا کر حرم نے فون آف کر دیا۔
“حرم کہاں ہے؟”
شاہ کی آواز سن کر حرم کا وجود کپکپانے لگا۔
پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہونے لگیں۔
حواس جواب دیتے جا رہے تھے۔
دروازہ کھلا اور حرائمہ اندر آئی۔
“بھائی تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“مہ مجھے اچھا۔۔۔”
گھبراہٹ کے باعث حرم کیا بول رہی تھی وہ خود بھی ناآشنا تھی۔
تیسرا کلمہ پڑھتی وہ باہر نکل آئی۔
شاہ کا چہرہ اس کے غیظ کی عکاسی کر رہا تھا۔
حرم کا رکا سہا اعتماد بھی ہوا ہو گیا۔
“ازلان کے ساتھ کیا کر رہی تھی تم؟”
شاہ کسی بھوکے شیر کی مانند اس کی جانب بڑھتا ہوا دھاڑا۔
حرم ڈر کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں سنائی نہیں دے رہا تمہیں؟”
شاہ کی آوازیں دیواریں عبور کر رہیں تھیں۔
“یہ تو شاہ کی آواز ہے۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
ماناب پر کمبل اوڑھ دیا اور احتیاط سے اٹھ گئی۔
“وہ وہ بھائی میں تو کام کی بات۔۔۔”
“کون سا کام تمہیں آن پڑا تھا وہ بھی اس ازلان سے؟”
شاہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل ایک ہی جست میں اس کے مقابل آیا۔
حرم کی بازو شاہ کے ہاتھ میں تھی اور گرفت ایسی فولادی تھی کہ صنف نازک برداشت نہ کر پاےُ۔
حرم تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“شاہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
انہیں دیکھ کر مہر کی پتلیاں پھیل گئیں۔
“مہر بیچ میں مت بولو یہ ایک بھائی اور بہن کا معاملہ ہے۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“بتاؤ مجھے کیا کام تھا اس سے؟”
شاہ حلق کے بل چلایا۔
حرم آنسو بہاتی التجائیہ نظروں سے مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“میں بتا دیتی ہوں چھوڑیں حرم کو۔۔۔”
مہر اسے حرم سے دور کرتی ان کے بیچ آ گئی۔
شاہ ضبط کا دامن تھامے مہر کو گھور رہا تھا۔
“تم کیا بتاؤ گی؟ یہ جو کارنامے کرتی پھر رہی ہے تم واقف ہو کیا؟”
شاہ مہر کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کر رہا تھا۔
“آپ اگر تحمل سے میری بات سنیں گے تو میں ضرور بتاؤں گی اور آپ کو سمجھ بھی آےُ گی۔۔۔”
مہر سینے پر ہاتھ باندھتی ہوئی بولی۔
شاہ چہرہ موڑے دو انگلیوں سے پیشانی مسلنے لگا۔
“مہر کیوں میرا ضبط آزما رہی ہو؟”
شاہ بیزار سا بولا۔
“حرم تم کمرے میں جاؤ۔۔۔”
مہر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم مہر کے عقب میں چھپی ہوئی تھی۔
“تم نے ایک قدم بھی اٹھایا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔۔”
شاہ خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
حرم کے قدم وہیں منجمد ہو گئے۔
مہر چہرے پر خفگی طاری کئے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ٹھیک ہے حرم نہیں جا سکتی لیکن آپ تو جا سکتے ہیں نہ اور خبردار اگر آپ نے میری بیٹی کی نیند خراب کی تو۔۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑے چلتی ہوئی بولی۔
شاہ ہکا بکا سا مہر کو دیکھ رہا تھا جو اس پر رعب جماتی اسے لے جا رہی تھی۔
مہر کے پیار پر حرم کو رشک آ رہا تھا جو اس کے جلاد قسم کے بھائی کو سنبھالتی تھی۔
حرم دبے قدم کمرے میں آ گئی۔
مہر نے دروازہ لاک کیا اور شاہ کا ہاتھ چھوڑ کر دروازے کے ساتھ پشت لگا کر کھڑی ہو گئی۔
شاہ پتلیاں سکیڑے اسے گھور رہا تھا۔
“تم کچھ زیادہ پھیل رہی ہو۔۔۔”
شاہ دروازے پر ہاتھ مارتا زور سے بولا۔
مہر نے چہرہ بائیں جانب کر کے شاہ کے عقب میں ماناب کو دیکھا جو سو رہی تھی۔
“میں نے کہا میری بیٹی کی نیند میں خلل پیدا نہ ہو۔اور رہی بات پھیلنے کی تو میرے پاس لائسنس ہے پھیلنے کا۔۔۔”
مہر پہلے خفگی سے پھر مسکراتی ہوئی بولی۔
“تمہیں بھی کھینچ کر رکھنا پڑے گا۔۔۔”
شاہ دروازے پر ہاتھ رکھتا مہر کے قریب ہو کر بولا۔
“جی نہیں میں ایسے ہی اچھی لگتی ہوں اور اب آپ ایک اچھے شوہر ہونے کا مظاہرہ کریں۔۔۔”
مہر نروٹھے پن سے بولی۔
شاہ کو اس کی اداؤں پر ہنسی بھی آ رہی تھی لیکن سنجیدہ رہنا چاہتا تھا۔
“تم بہت بگڑ گئی ہو۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“بگڑتے تو بچے ہیں اور یہ ہماری گڑیا آپ کو بگڑ کر دکھاےُ گی۔۔۔”
مہر محظوظ ہوتی ہوئی بولی۔
“اچھا مطلب اب تم مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں ہو؟”
شاہ اس کے تیور بھانپ کر بولا۔
“نہیں۔بلکل بھی نہیں لیکن اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو پھر اس مہر کو یاد کر لینا جو آپ کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔۔۔”
مہر کہتی ہوئی اس کی بازو کے نیچے سے نکل گئی۔
“مطلب؟”
شاہ چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“مطلب مہر اور ماناب دونوں شاہ سے ناراض۔۔۔”
مہر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“مہر تم جانتی ہو میں کتنے غصے میں ہوں؟”
شاہ اس کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
“نہیں۔۔۔”
مہر سنجیدگی سے بولی۔
شاہ لب دباےُ دھیرے سے مسکرانے لگا۔
“اچھا بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔”
شاہ ہتھیار پھینکتا ہوا بولا۔
مہر آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگی۔
“سچ کہہ رہا ہوں بولو اب؟”
شاہ اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتا ہوا بولا۔
“شاہ حرم اور ازلان کا نکاح ہو چکا ہے۔۔۔”
مہر نے گویا دھماکہ کیا۔
“کیا بکواس ہے یہ؟”
شاہ تقریباً چلایا۔
مہر پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ کر ماناب کو دیکھنے لگی جو ناک منہ چڑھا رہی تھی۔
شاہ اس کا اشارہ سمجھ کر خاموش ہو گیا۔
“اب آپ خود دیکھ لیں کن حالات میں ان دونوں نے نکاح کیا۔۔۔”
مہر اسے تفصیل سے آگاہ کرتی ہوئی بولی۔
“نکاح ہوا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ایسے ہی طلاق بھی ہو جاےُ گی۔۔۔”
مہر شاہ کے اطمینان پر دنگ رہ گئی۔
“شاہ وہ محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے اور حرم نے آپ کی اور اپنی عزت خراب نہیں کی۔۔۔”
مہر زور دے کر بولی۔
“میں اچھے سے جانتا ہوں یہ جو محبت ہوتی ہے یونی لائف میں پاگل بنا رہا ہے حرم کو تم جانتی نہیں برہان کا بھائی ہے؟”
شاہ متحیر سا بولا۔
“شاہ ضروری نہیں کہ برہان برا ہے تو ازلان بھی برا ہو گا۔ شاہ ویز بھی تو آپ کا بھائی ہے تو کیا میں اس کی بناء پر آپ کی شخصیت کو جج کر رہی ہوں؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے اور کچھ نہیں۔شاہ ویز کو برہان نے خراب کیا ہے۔۔۔”
شاہ برہمی لیکن دھیمی آواز میں بولا۔
“مسئلہ شاہ ویز نہیں ہے مسئلہ ازلان ہے اور سب سے بڑی بات اللہ کو یہ بات سب سے زیادہ ناپسند ہے جب میاں بیوی کے بیچ طلاق ہوتی ہے۔۔۔”
“مجھے تاویلیں مت دوں میں اپنے اور اپنے گھر کے فیصلے خود لیتا ہوں۔ہمارے گھروں میں عورتوں سے مشورہ نہیں لیے جاتے۔۔۔”
شاہ کی بات پر مہر پر مہر کا دل ٹوٹ گیا۔
“بیوی صرف بچے پیدا کرنے کے لیے یا گھر سنبھالنے کے لیے نہیں ہوتی خدا نے اسے مرد کا ساتھی بنایا ہے۔گھر کے مسائل اور مشاورت میں راےُ کا حق اسے حاصل ہے لیکن افسوس آپ جیسے مردوں کی سوچ پر جو بیوی کو پاؤں کی جوتی کے سوا کچھ نہیں سمجھتے۔۔۔”
مہر نا چاہتے ہوۓ بھی تلخ ہو گئی۔
“جو کرنا ہے کریں آپ کی مرضی۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی بولی۔
“مہر زبان سنبھال کر۔۔۔”
شاہ پیچ و تاب کھا کر بولا۔
“نہیں سنبھالی جاتی مجھ سے زبان۔جو غلط ہے میں بولوں گی۔۔۔”
مہر چہرہ موڑتی ہوئی بولی۔
“رہوں اپنی اس انا کے زعم میں۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا باہر نکل گیا۔
مہر تاسف سے دروازے کو دیکھنے لگی۔
****/////////****
“میری معصوم بلی یہاں کیوں بیٹھی ہے؟”
ازلان گھاس پر بیٹھتا ہوا بولا۔
حرم خاموش گھاس کو گھورتی رہی۔
“میں تم سے بات کر رہا ہوں حرم۔۔۔”
ازلان تمس سے بولا۔
“ازلان فلحال میں بہت پریشان ہوں۔۔۔”
حرم اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں تو مجھ سے شئیر کرو نہ۔۔۔”
ازلان نرمی سے بولا۔
“بھائی نے کل مجھ سے پوچھا تھا تمہارے متعلق بھابھی بیچ میں آ گئیں لیکن میری وجہ سے ان کا جھگڑا ہو گیا۔۔۔”
حرم افسردگی سے بولی۔
“تمہیں کیسے پتہ ان کا جھگڑا ہوا؟ تمہارے سامنے ہوا تھا کیا؟”
ازلان حیرت سے بولا۔
“نہیں کمرے میں ہوا ہو گا کیونکہ بھائی رات چلے گئے تھے اور اب تک واپس نہیں آےُ جبکہ انہوں نے کہا تھا وہ اپنا فری ٹائم بھابھی کو دیں گے۔۔۔”
حرم کے چہرے پر اداسی کے ساےُ تھی۔
“اووہ تو مطلب پھر میں بھی اپنے گھر بات کروں؟”
ازلان سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“مصطفیٰ بھائی کبھی نہیں مانیں گے میں جانتی ہوں اس لئے کوئی فائدہ نہیں۔۔۔”
حرم مایوسی سے کہتی چلی گئی۔
ازلان اس کی پشت کو دیکھنے لگا۔
****/////////****
شاہ کمرے میں آیا تو مہر آئینے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی۔
لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
شاہ مہر پر نظر ڈالتا ماناب کے پاس بیٹھ گیا۔
مہر جلدی سے بیڈ کے پاس آئی اور شاہ سے قبل ماناب کو اٹھا لیا۔
مہر کی اس حرکت پر شاہ کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
“تمہاری اس حرکت سے کیا اخذ کروں میں؟”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“یہی کہ میری بیٹی سے دور رہیں آپ۔۔۔”
مہر خفا خفا سی بولی۔
“یہ صرف تمہاری بیٹی نہیں ہے۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“یہ صرف میری بیٹی ہے۔۔۔۔”
مہر زور دے کر بولی۔
شاہ تلملا اٹھا۔
“دِس اِز ٹو مچ مہر۔۔۔”
شاہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
مہر اثر لئے بنا سنگھار میز کے سامنے آ گئی۔
“اپنے ڈرامے ختم کرو اور تیار ہو جاؤ حویلی جانا ہے۔۔۔”
شاہ تاؤ کھاتا ہوا بولا۔
“اچھا! “
مہر اچھا کو لمبا کرتی ہوئی بولی۔
وہ پھر سے پہلے والی مہر اور وہ پہلے والا شاہ بن چکا تھا۔
“ماناب کو مجھے دو۔۔۔”
شاہ مہر کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“کوئی نہیں۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“تم کیوں مجھے غصہ دلا رہی ہو بھولو مت میں باپ ہوں اس کا۔۔۔”
شاہ دانت پیستا ہوا بولا۔
“جی ہاں جانتی ہوں باپ ہیں اس کے۔اب جب وہ کھیل رہی ہے تو آپ آ گئے ہیں کل رات کہاں تھے؟ جانتے ہیں پوری رات ماناب روتی رہی ایک منٹ بھی نہیں سوئی میں۔
ڈائپر چینج کروائیں,اسے چپ کروائیں، ایسے کام کریں گے تو پھر ہی ماناب سے مل سکیں گے۔۔۔”
مہر منہ بناتی ہوئی بولی۔
شاہ چہرہ جھکاےُ ہنسنے لگا۔
شاہ مہر کی جانب بڑھنے لگا۔
“تم کیوں حرم کی وجہ سے ہمارا رشتہ خراب کر رہی ہو۔۔۔”
شاہ اس کے بالوں سے پن نکالتا ہوا بولا۔
پن کے نکلتے ہی مہر کے بال اس کے چہرے پر آ گئے۔
“کیونکہ آپ غلط کر رہے ہیں۔اور میں آپ کو غلط نہیں کرنے دوں گی۔۔۔”
مہر پر عزم ہو کر بولی۔
“اچھا اس کا فیصلہ بابا سائیں کر لیں گے ہم لڑائی ختم کرتے ہیں۔۔۔”
شاہ اس کے قریب ہوتا کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
“جی نہیں۔ میرے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
مہر اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
شاہ سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگا۔
“سچ میں تم مجھ بہت غصہ دلاتی ہو۔۔۔”
شاہ اسے گھورتا ہوا بولا۔
“اور حرم کے مسئلے سے زیادہ آپ اس رشتے کو خراب کر رہے ہیں۔کل رات آپ نے جو میری تذلیل کی بلکہ ایک عورت کی تذلیل کی وہ کیسے بھول جاؤں میں؟ کیا یہی اہمیت ہے میری آپ کی زندگی میں؟ آپ مجھ سے محبت ک دعوا کرتے ہیں تو میری راےُ سے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی تھی آپ کو بتائیں؟”
مہر آگے بڑھی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی پیچھے کرتی ہوئی بولی۔
شاہ لاجواب ہو گیا۔
وہ صحیح کہہ رہی تھی شاہ پرانی رسموں کو دیکھتے ہوۓ اس کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا۔
“میں آپ کی بیوی ہوں دکھ سکھ کی ساتھی تو کیا اتنا سا بھی حق نہیں بنتا کہ آپ اپنی پریشانی اپنے مسائل مجھ سے شئیر کریں یا میں آپ کی مدد کروں؟
اس میں تضحیک والی کیا بات ہے اگر ایک مرد اپنی عورت سے مشاورت کر لے؟
شاہ آپ کے رویے نے جتنی مجھے تکلیف دی ہے نہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔۔۔”
مہر کرب سے بولی رہی تھی۔
“مہر میں کیا کروں؟ جب سے ہوش سنبھالا ہے بس یہی سب کچھ دیکھا ہے۔۔۔”
شاہ بےچارگی سے بولا۔
مہر اسے دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
“جانتی ہو جب تم میرے مقابل آتی ہوں تب اچھی لگتی ہو اس طرح دکھی نہیں۔۔۔”
شاہ منہ بناتا ہوا بولا۔
مہر نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا۔
“ٹھیک ہے ماناب کو مت دو مجھے لیکن اپنا موڈ ٹھیک کر لو۔۔۔”
شاہ ماناب کے رخسار پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
مہر خاموش اسے تک رہی تھی۔
“میں نہیں چاہتا ہمارے بیچ ایسی کشیدگی یا کوئی رنجش آےُ۔۔۔”
شاہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھنے لگا۔
“پھر کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں جو میرا دل دکھاتی ہیں؟”
مہر سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“آج تم درگزر سے کام لو کل میں لے لوں گا۔۔۔”
شاہ دھیرے سے مسکراتا ہوا بولا۔
مہر زیادہ دیر اس سے خفا نہیں رہ سکتی تھی۔
“ماناب کو پکڑیں میں کپڑے نکالوں۔۔۔”
مہر خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ نے مسکراتے ہوۓ ماناب کو اٹھا لیا۔
“آپ کی ماما مجھے کبھی کبھی پولیس والی لگتی ہیں۔۔۔”
شاہ بیڈ پر بیٹھے ماناب کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
مہر ترچھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ کے معصوم سے بابا کو کتنا ڈانٹتی ہیں نہ؟”
شاہ مظلومیت سے استفسار کر رہا تھا۔
ماناب ایسے کھلکھلا رہی تھی جیسے سب سمجھ رہی ہو۔
مہر مسکرا کر سر جھٹکتی واش روم میں چلی گئی۔
“تم دونوں خیال سے رہنا۔اگر کوئی پریشانی ہو تو آنٹی کو بلا لینا یا پھر ہمیں کال کر لینا۔۔۔”
مہر دروازے میں کھڑی ہدایات دے رہی تھی اور وہ دونوں اثبات میں سر ہلا رہی تھیں۔
“بھابھی بھائی آپ سے ناراض تو نہیں؟”
حرم اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے تم فکر مت کرو۔۔۔”
مہر حرم کا منہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔
“شکر ہے آ گئی ورنہ میں سوچ رہا تھا انویٹیشن کارڈ بھیجوں۔۔۔”
مہر کے بیٹھتے ہی شاہ بولنے لگا۔
“ہم دونوں جا رہے ہیں تو میرا دھیان تو یہیں پر رہے گا نہ۔۔۔”
مہر خفگی سے بولی۔
شاہ مسکراتے ہوۓ گاڑی چلانے لگا۔
“ماناب کو مجھے پکڑا دو۔۔۔”
شاہ گاڑی سے اتر کر مہر کی جانب آتا ہوا بولا۔
“مجھے کون لے کر جاےُ گا؟”
مہر ماناب کو اس کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔
“یہ حق صرف میرا ہے تو میں ہی سر انجام دوں گا۔۔۔”
شاہ اس کے سامنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پھیلاتا ہوا بولا۔
دائیں بازو میں ماناب سو رہی تھی۔
شاہ مہر کا ہاتھ تھامے اندر کی جانب چل رہا تھا۔
“جیرو کہاں مر گئی ہے؟ میرے کپڑے استری ہوےُ کہ نہیں؟”
ضوفشاں بیگم خفگی سے چلا رہی تھیں جب شاہ اور مہر اندر داخل ہوۓ۔
“شاہ!”
وہ شاہ کو دیکھتی خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئیں۔
مہر کو دیکھ کر کوئی خوشی نہ ہوئی۔
“السلام علیکم امی! “
شاہ ان کے قریب آتا ہوا بولا۔
“وعلیکم السلام! شکر ہے گھر کی یاد بھی آئی۔۔۔”
وہ خفا خفا سی بولیں۔
“اپنی پوتی سے مل لیں۔۔۔”
شاہ ماناب کو ان کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔
“تیری بیٹی ہے؟”
وہ ماناب کو پکڑتی ہوئی بولیں۔
شاہ مسکراتا ہوا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“ماشاءاللہ بہت پیاری ہے۔۔۔”
وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولیں۔
مہر پیچھے ہی رک گئی تھی۔
“مہر آ جاؤ۔۔۔”
شاہ چہرہ موڑ کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی قدم اٹھانے لگی۔
آوازیں سن کر عافیہ بھی اِدھر آ نکلی۔
شاہ نے مہر کا تعارف کروایا۔
“آپ ہیں مہر بھابھی؟”
عافیہ تپاک سے ملتی ہوئی بولی۔
مہر مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“شہری اکثر آپ دونوں کا ذکر کرتا ہے۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“بیٹھیں نہ آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں؟”
عافیہ انہیں کھڑے دیکھ کر بولی۔
“بابا سائیں کہاں ہیں؟”
شاہ ضوفشاں بیگم سے مخاطب تھا۔
“کھیتوں سے آےُ تھے ابھی آنکھ لگی ہے ان کی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماناب کو عافیہ کی جانب بڑھاتی ہوئی بولیں۔
شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
مہر کو یہاں بیٹھے اپنا آپ عجیب لگ رہا تھا۔
“شہریار آفس میں؟”
شاہ عافیہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“جی۔ آپ نے بتایا ہی نہیں ورنہ جلدی آ جاتے۔لیکن میں کال کر دیتی ہوں آ جائیں گے۔۔۔”
عافیہ ماناب کو دیکھتی خوشدلی سے بولی۔
“تم ٹھیک ہو مہر؟”
ضوفشاں بیگم نے پہلی بار مہر کو مخاطب کیا۔
“جی امی میں ٹھیک ہوں اور آپ؟”
مہر جھجھک کر بول رہی تھی۔
“ہممم جو ہو گیا پہلے اس کو اب بھول جاؤ۔۔۔”
وہ سامنے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
“جی امی۔۔۔”
مہر تائیدی انداز میں بولی۔
شاہ سانس خارج کرتا مہر کو دیکھنے لگا جو سر جھکاےُ بیٹھی تھی۔
“مہر تم کمرے میں جاؤ میں بابا سائیں سے بات کر کے آتا ہوں۔۔۔”
شاہ مہر کی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔
“شاہ آپ حرم کے متعلق ابھی کوئی بات نہیں کریں گے۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑتی دھیرے سے بولی۔
“ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔”
شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر نے ماناب کو لیا اور زینے چڑھنے لگی۔
مہر نے کمرے کا دروازہ کھولا اور ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی۔
کتنے وقت بعد وہ اس کمرے کو دیکھ رہی تھی۔
کمرہ شاہ کی خوشبو سے معطر تھا۔
مہر نے ماناب کو بیڈ پر لٹایا اور الماری کے سامنے آ گئی۔
مہر نے ابھی الماری کھولی ہی تھی کہ ماناب کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
مہر چہرے پر خفگی طاری کئے ماناب کے پاس آ گئی جو گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہی تھی۔
“ماناب کیا ہو گیا آپ کو؟”
مہر اسے اٹھاتی ہوئی بولی۔
” ماما یہیں ہیں۔۔۔”
مہر اسے شانے سے لگاےُ تھپک رہی تھی۔
“یا اللہ! ایک دم سے اس لڑکی کو کیا ہو جاتا ہے؟”
مہر اسے خاموش کروانے کی سعی کرتی ہوئی بولی جس کے رونے میں ذرا برابر بھی فرق نہ آیا تھا۔
“بھائی پلیز میری بات تو سنیں؟”
شاہ ویز اس کے عقب میں چلتا ہوا بولا۔
شاہ سنی ان سنی کرتا چل رہا تھا۔
“بھائی پلیز مجھے معافی مانگنے کا موقع تو دیں۔۔۔”
شاہ ویز بھاگتا ہوا اس کے راستے میں حائل ہو گیا۔
“شاہ ویز میرا راستہ چھوڑ دو۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
شاہ ویز کرب سے اسے دیکھنے لگا جس نے پہلی بار اسے نام سے پکارا تھا۔
“کیا کہنا چاہتے ہو؟”
شاہ احسان کرنے والے انداز میں بولا۔
“بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔”
شاہ ویز اس کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔
“تمہارے جرم کی کوئی معافی نہیں۔۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
“بھائی پلیز ایک تو موقع دیں میں آپ کا وہی چھوٹا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز تڑپ کر بولا۔
“ایک شرط پر معاف کر سکتا ہوں تمہیں۔۔۔”
شاہ سینے پر ہاتھ باندھتا ہوا بولا۔
“بھائی مجھے آپ کی ساری شرطیں منظور ہیں۔۔۔”
شاہ ویز بےصبری سے بولی۔
“پہلے سن تو لو شرط ہے کیا؟”
شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
****////////****
“حرم باہر آؤ جلدی۔۔۔”
ازلان فون کان سے لگاےُ کھڑا تھا۔
“کیا مطلب باہر آؤ؟”
حرم اچھل پڑی۔
“یار میں باہر کھڑا ہوں تم باہر آؤ نہ۔۔۔”
ازلان ضدی انداز میں بولا۔
حرم بیڈ سے اتر کر باہر نکل آئی۔
زینے چڑھ رہی تھی کہ پھر سے اسپیکر پر ازلان کی آواز گونجنے لگی۔
“کہاں ہو؟”
ازلان آس پاس دیکھتا ہوا بولا۔
حرم ٹیرس پر آ کر نیچے جھانکنے لگی۔
ریلنگ پر ہاتھ رکھے وہ اندھیرے میں ازلان کو دیکھنے کی سعی کر رہی تھی بلآخر ازلان اسے گاڑی کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔
“ازلان تم ہمارے گھر کے باہر کیا کر رہے ہو؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“بجلی کا بل دینے آیا ہوں۔۔۔”
ازلان جل کر بولا۔
“تم بجلی کا بل کیوں دینے آؤ گے؟”
حرم اسے دیکھتی تعجب سے بولی۔
“تم باہر آؤ ورنہ میں اندر آ جاؤں گا۔۔۔”
ازلان دھمکاتا ہوا بولا۔
حرم دانتوں تلے انگلی دباتی ازلان کو دیکھنے لگی جو چہرہ اوپر اٹھاےُ ہوۓ تھا۔
“تم مذاق کر رہے ہو نہ؟”
“جی نہیں۔اگر یقین نہیں تو میں اندر آ کر دکھاؤں؟”
ازلان شریر لہجے میں بولا۔
“نہ نہیں میں آتی ہوں تم کیوں آؤ گے؟”
حرم زینے اترتی ہوئی بولی۔
ازلان کے لب مسکرانے لگے۔
حرم تیزی سے زینے اترتی نیچے آئی کمرے میں جھانکا جہاں حرائمہ سو رہی تھی۔پھر زینے اترتی باہر نکل آئی۔
“ازلان مجھے کیوں بلایا تم نے؟”
حرم آس پاس دیکھتی گھبراتی ہوئی بولی۔
“میرا دل کر رہا تھا تم سے ملنے کا۔۔۔”
ازلان گاڑی سے پشت لگاتا ہوا بولا۔
حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“تم اس لئے یہاں آےُ ہو؟”
حرم آنکھیں کی پتلیاں سکیڑے اسے گھورتی ہوئی بولی۔
ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچا۔
حرم کسی مقناطیسی کشش کی مانند اس کی جانب کھینچی چلی آئی۔
دوپٹہ سے سے ڈھلک کر شانے پر آ گیا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“یہ کیا حرکت ہے ازلان؟”
حرم اس سے دور ہوتی ہوئی بولی۔
“جو تمہیں ابھی سکھانی ہیں۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
“ازلان میرا ہاتھ چھوڑو میں نے جانا ہے۔۔۔”
حرم اپنا ہاتھ آواز کروانے کی سعی کرنے لگی۔
ازلان مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلا رہا تھا۔
“ازلان پلیز جانے دو نہ؟”
حرم رونے والی شکل بناےُ بولی۔
“اگر تم نے جانے کا نام لیا تو یہ بجلی کی تار میں نے تمہارے ہاتھ میں پکڑا دینی ہے۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
“ازلان تم کتنے بدتمیز ہو۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“اس سے بھی زیادہ ہوں ابھی تو تم جانتی نہیں ہو مجھے۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
“اب جاؤں میں؟”
حرم اجازت طلب نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تم جاؤ گی لیکن گھر کے اندر نہیں بلکہ میرے ساتھ۔۔۔”
ازلان نے کہہ کر جیب سے چابی نکال لی۔
حرم حواس باختہ سی اسے دیکھنے لگی۔
“تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟”
حرم بس رو دینے کو تھی۔
“میں جانتا ہوں تمہارا بھائی نہیں ہے گھر پر اور اگر تم نے جانے سے انکار کیا تو دیکھنا میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔”
ازلان گھوری سے نوازتا گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: