Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 18

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 18

–**–**–

“شاہ ہم یہیں پر رکیں گے کیا؟”
مہر اسے دیکھ کر بولی۔
“ہاں آج رات یہیں رکیں گے شہریار ابھی تک آیا نہیں اس سے ملے بغیر نہیں جا سکتے۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا مہر کے پاس آ گیا۔
“شاہ اگر ماناب کی نیند خراب ہوئی تو آپ سنبھالیں گے اسے۔۔۔”
شاہ جو ماناب کو بوسہ دینے کی غرض سے اس کی جانب جھک رہا تھا مہر اس کا ارادہ بھانپ کر بولی۔
شاہ چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھنے لگا۔
“میں دو گھنٹے سے ماناب کو لے کر کھڑی ہوں بہت مشکل سے سلایا ہے اسے۔۔۔”
مہر تقریباً رو دینے کو تھی۔
شاہ کو اس کی حالت پر ترس آ رہا تھا۔
“اچھا پھر تمہیں کر لیتا ہوں کس۔۔۔”
وہ شرارت سے بولا۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے خواہ مخواہ میں پھیلنے لگ جاتے ہیں۔۔۔”
مہر اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“میں سوچ رہا تھا ازلان سے بات کروں۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے جما لیے۔
“کس لیے؟”
مہر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“طلاق کے لیے اور کس لئے؟”
شاہ اطمینان سے مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ!”
مہر صدمے سے بولی۔
“مہر میری ایک ہی بہن ہے اور میں اسے کسی ایسی جگہ ہر گز نہیں بھیج سکتا جو لوگ اعتبار کے قابل نہ ہوں۔تم جانتی ہوں عافیہ برہان کی بیوی تھی؟ اور شہریار نے اس سے شادی کی تاکہ برہان کے توہین آمیز رویے سے اس کی جان چھوٹ جاےُ یہاں تک کہ وہ مارا پیٹتا بھی تھا اب تم بتاؤ میں اس گھر میں بھیج دوں حرم کو؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
مہر کے پاس فل وقت کوئی مناسب دلیل نہ تھی سو وہ خاموش رہی۔
“تم ازلان کی حمایت کر رہی ہو مجھے بتاؤ تم جانتی ہو اسے؟ اس کے کردار کو؟ اس کا اٹھنا بیٹھنا کس طرح کے لوگوں کے ساتھ ہے؟ سب سے بڑھ کر کیا گارنٹی ہے کہ وہ حرم سے محبت کرتا ہے ہو سکتا ہے وہ بدلے کی آڑ میں یہ سب کر رہا ہو۔حرم کے مستقبل کا ذمہ دار کون ہو گا پھر؟”
شاہ دونوں آبرو اچکا کر بولا۔
مہر لاجواب ہو گئی۔
اس کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔
“مہر میں بیوقوف نہیں ہوں جو اندھوں کی طرح اپنی بہن کو پھینک دوں جو چیزیں میں دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھ رہی تمہیں صرف یہ دکھائی دے رہا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔شادی کے لئے صرف اس انسان کی محبت اہم نہیں ہوتی۔جس گھر میں وہ جاےُ گی وہاں کے مکین کس نوعیت کے ہیں سب دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔”
شاہ تاسف سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔
مہر کو اپنی کم عقلی پر افسوس ہو رہا تھا۔
“شاہ پھر ازلان کے متعلق کیسے معلوم ہو گا؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“نہ مجھے معلوم ہے نہ ہی معلوم کرنا ہے یہ رشتہ ختم ہو گا یہی میرا آخری فیصلہ ہے۔۔۔”
شاہ حتمی انداز میں بولا۔
“لیکن شاہ۔۔۔”
مہر نے مزاحمت کرنی چاہی۔
“مہر تم نے کہا کہ میں نے تمہیں تکلیف دی رائٹ؟ آج میں تمہیں پیار سے ہر چیز سمجھا رہا ہوں اور تم سمجھنے کی بجاےُ اپنی بات پر قائم ہو اسے کیا سمجھوں میں؟”
شاہ کے چہرے پر زمانے بھر کی سختی تھی۔
مہر نے خاموش ہونا بہتر سمجھا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
مہر نا چاہتے ہوۓ بولی۔
“امید ہے مجھ پر سے تمام پابندیاں جج صاحبہ نے ہٹا دیں ہو گیں؟”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر پیشانی پر بل ڈالے اسے گھورنے لگی۔
“کل ماناب کو ڈاکٹر کے پاس بھی لے کر جانا تھا شاہ۔۔۔”
مہر یاد کرتی تاسف سے بولی۔
“کوئی بات نہیں بعد میں لے جائیں گے اس گھر میں رہنے والوں کا بھی کچھ حق کے ماناب پر۔۔۔”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں شاہ۔ ہم کچھ دن یہیں رہ لیتے ہیں۔۔۔”
مہر اس کی بات کا مفہوم سمجھتی ہوئی بولی۔
شاہ دھیرے سے مسکرانے لگا۔
****////////****
“ازلان پلیز مجھے مشکل میں مت ڈالو۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
ازلان دروازہ کھول کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیسی مشکل؟”
وہ آبرو اچکا کر بولا۔
“میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی ازلان یہ غلط ہے۔۔۔”
حرم مسلسل اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی سعی کر رہی تھی۔
“حرم میں کچھ غلط نہیں کرنے والا تمہارے ساتھ صرف لانگ ڈرائیو پر جانا چاہتا ہوں۔۔۔”
ازلان اس کی غلط فہمی دور کرتا ہوا بولا۔
“اور اگر بدقسمتی سے بھائی گھر آ گئے پھر؟”
حرم سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“تمہارے بھائی کو نہ دور کسی وادی میں چھوڑ آنے کو دل کرتا ہے۔۔۔”
ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔
“ازلان وہ میرے بھائی ہیں۔۔۔”
حرم زور دے کر بولا۔
“تو میں کون سا بہن بنا دیا ہے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم نفی میں سر ہلاتی مسکرانے لگی۔
“اچھا پھر ایسا کرو ایک کپ چاےُ پلا دو۔۔۔”
ازلان نرمی سے بولا۔
“تم گاڑی میں بیٹھو میں بنا کر لاتی ہوں۔۔۔”
حرم خوش ہوتی ہوئی بولی۔
“جی نہیں میں اندر بیٹھ کر پیوں گا۔۔۔”
ازلان اسے تنگ کرنے کا قصد کئے ہوۓ تھا۔
“ازلان تم اندر کیسے آ سکتے ہو؟”
حرم ششدر سی بولی۔
“چل کر اور کیسے۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
“میرا مطلب اندر حرائمہ ہے تم کیسے؟”
حرم فکرمندی سے گویا ہوئی۔
“میں بارات لے کر تو نہیں آ رہا جو اسے معلوم ہو جاےُ گا دیکھو میں منہ پر ٹیپ لگا لوں گا۔۔۔”
ازلان اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
حرم دھیرے سے مسکرانے لگی۔
ازلان اس کی مسکراہٹ میں ہی کھو گیا۔
حرم کی آنکھیں بھی اس کا ساتھ دے رہی تھیں۔
“تم رکو میں بنا کر لاتی ہوں۔۔۔”
حرم کلائی چھڑواتی ہوئی بولی۔
“تم کتنی بے مروت ہو حرم؟”
ازلان آنکھیں سکیڑ کر گھورتا ہوا بولا۔
“تم سمجھو نہ۔۔۔”
حرم آس پاس دیکھتی ہوئی بولی۔
“اچھا چلو۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ چھوڑتا ہوا بولا۔
حرم کلائی مسلتی اندر کی جانب چلنے لگا۔
ازلان بھی اس کے عقب میں چلنے لگا۔
حرم دروازے کے پاس رک کے اسے دیکھنے لگی۔
“تم کیوں آ رہے ہو؟”
حرم آواز دھیمی رکھتی ہوئی بولی۔
ازلان نے اسے گھورا اور دروازہ بند کر دیا۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“پلیز چلے جاؤ ازلان۔۔۔”
حرم اس کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی۔
“تم خود جاؤ گی یا میں اٹھاؤں تمہیں؟”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
حرم بس رو دینے کو تھی۔
منہ بسورتی زینے چڑھنے لگی۔
ازلان لب دباےُ اس کے عقب میں زینے چڑھنے لگا۔
حرم کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
“تم یہاں بیٹھو میں کچن میں جا رہی ہوں۔۔۔”
حرم صوفے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
ازلان اثبات میں سر ہلاتا بیٹھ گیا۔
حرائمہ کے کمرے کا دروازہ دیکھتی حرم راہداری میں چلتی کچن میں آ گئی۔
“یہ اتنا ضدی کیوں ہے؟”
حرم فریج سے دودھ نکالتی ہوئی بڑبڑانے لگی۔
حرم قہوہ بنا رہی تھی جب ازلان بنا چاپ پیدا کئے اندر آ گیا۔
حرم کو آہٹ سنائی دی تو چہرہ موڑ لیا۔
ازلان کو دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے۔
“مہ میں نے تمہیں کہا تھا وہیں بیٹھے رہنا۔۔۔”
حرم کی حالت ایسی تھی مانو کسی نے سولی پر لٹکا رکھا ہو۔
“اکیلے میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا سلیب پر بیٹھ گیا۔
حرم کے ہاتھ کپکپانے لگے۔بار بار چہرہ موڑ کر دروازے کو دیکھنے لگی۔
“نہیں کوئی موت کا فرشتہ آ رہا جو تم اتنا ڈر رہی ہو۔۔۔”
ازلان اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر چہرہ چولہے کی جانب موڑنے لگا۔
حرم جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی اسی جلدی میں شکر کا ڈبہ ہاتھ سے پھسل کر سلیب پر گر گیا۔
“ازلان تم کیوں میری جان کے پیچھے پڑ گئے ہو؟”
حرم شکر سمیٹتی ہوئی بولی۔
“ایک بات بتاؤ حرم اگر ہم دونوں کو جلاد پکڑ لے اور پوچھے کہ دونوں میں سے کس کو پھانسی دوں تو تم کیا کرو گی؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
حرم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
ازلان اسے گہری نظروں سے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
“امم پتہ نہیں۔۔۔”
حرم شانے اچکاتی کپ اٹھانے لگی۔
“دھیان سے۔۔۔”
ازلان کے کہنے کی دیر تھی کہ کپ زمین بوس ہو گیا۔
حرم نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
ازلان کے لئے ہنسی دبانا مشکل ہو رہا تھا۔
“اب تم آنکھ مچولی ختم کرو ورنہ چاےُ بھی باہر گر جاےُ گی۔۔۔”
ازلان ابلتی ہوئی چاےُ کو دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نے فوراً ہاتھ ہٹاےُ اور آنچ دھیمی کرنے لگی۔
“تمہیں پتہ ہے میں کیا بولوں گا؟”
ازلان اپنے رخسار پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
حرم اسے دیکھتی موجودہ صورتحال کو یکسر فراموش کر گئی۔
“میں کہوں گا اس پاگل کو رکھ لو میں جا رہا ہوں۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولا۔
“تم سچ میں ایسا کرو گے؟”
حرم تاسف سے استفسار کرنے لگی۔
“چاےُ دے دو پھر مجھے واپس بھی جانا ہے۔۔۔”
ازلان اس کے سوال سے بچنے کی خاطر دھیان دوسری جانب لے گیا۔
حرم سر ہلاتی چاےُ کپ میں انڈیلنے لگی۔
“جلدی سے پی لو۔۔۔”
حرم کپ اس کی جانب کرتی ہوئی بولی۔
“جلدی سے پی لوں! جتنی گرم چاےُ ہے نہ بعد میں چاہے مجھے خوارک کی نالی نئی ڈلوانی پڑے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم لب کاٹتی کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی دروازے کو۔
“پہلے تم چیک کرو ٹھیک بنی ہے۔۔۔”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
حرم نے پھونک ماری اور ایک سپ لے لیا۔
“ہاں بلکل ٹھیک بنی ہے۔۔۔”
کپ اسے تھماتی ہوئی بولی۔
ازلان مسکرانے لگا کیونکہ اس کا مقصد اس کی جھوٹی چاےُ پینے کا تھا۔
“اچھا حرم بہت ہی کنجوس ہو تم صرف چاےُ پر ٹرخا دیا مجھے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا سلیب سے نیچے اتر گیا۔
حرم متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
“تم آؤ گی نہ میرے گھر تو روزہ رکھ کر آنا اور اگر نہ رکھ کے آئی تو میں رکھوا دوں گا وہ بھی بنا سحری کے۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
حرم نے سکھ کا سانس لیا اور زینے اترنے لگی۔
“کل یونی میں ملتے ہیں۔۔۔”
ازلان حرم کی جانب مسکراہٹ اچھالتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
حرم نے مسکراتے ہوۓ دروازہ بند کر دیا۔
“شکر ہے حرائمہ کو معلوم نہیں ہوا۔۔۔”
حرم بڑبڑاتی ہوئی زینے چڑھنے لگی۔
****/////////****
“واہ بھئی ہماری گڑیا تو بہت پیاری ہے۔۔۔”
شہریار کھانے کی میز پر بیٹھا تھا جب شاہ نے ماناب کو اس کی گود میں دیا۔
“چاچو کی جان۔۔۔”
شاہ اس کے گال پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
یہ کرنے کی دیر تھی کہ ماناب کی چیخیں گونجنے لگیں۔
مہر پیشانی پر بل ڈالتی شہریار کے پاس آ گئی۔
“گندی بچی چاچو نے تو پیار کیا ہے۔۔۔”
شہریار اسے دیکھتا ہوا بولا۔
یکدم ماناب خاموش ہو گئی۔
“دراصل ماناب کو باتیں کرنے کی عادت ہے۔۔۔”
مہر سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔
“اچھا تو ہماری گڑیا نے باتیں کرنی ہیں؟”
شہریار ماناب کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
“شاہ اب تم دونوں یہیں پر رک جاؤ ہمارا بھی کچھ حق ہے اپنی پوتی پر۔۔۔”
کمال صاحب خفگی سے بولے۔
“جی بابا سائیں میں سوچ رہا تھا اسی متعلق۔پھر آپ کی بات کیسے ٹال سکتا ہوں۔۔۔”
شاہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔
“ویسے بھائی یہ زیادتی ہے ماناب اتنی بڑی ہو گئی ہے اور آپ اب ملوا رہے ہیں ہم سے؟”
شہریار مصنوعی خفگی سے بولا۔
“تم جانتے تو ہو جو حالات تھے۔اور اب تو لے آیا ہوں نہ؟”
شاہ زور دے کر بولا۔
“جی جی اور اب تو ہم نہیں جانے دیں گے اپنی گڑیا کو۔۔۔”
شہریار ماناب کو دیکھتا ہوا بولا جو مسلسل مسکرا رہی تھی۔
“آپ کے ساتھ تو ماشاءاللہ کھیل رہی ہے ورنہ سب کے پاس جاتے رونا شروع کر دیتی ہے۔۔۔”
مہر شہریار کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“عافیہ تمہاری امی کا فون آ رہا تھا بات کر لینی تھی۔۔۔”
عافیہ کو دیکھ کر شہریار کو فون کال یاد آ گئی۔
“چھوٹے کا بھی اب کچھ سوچ لیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کمال صاحب کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
شاہ کی نظریں شاہ ویز پر جا ٹھریں۔
شاہ ویز نے چہرہ اٹھا کر شاہ کو دیکھا۔
“امی میں لڑکی پسند کر چکا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کھانستا ہوا بولا۔
“کون سی لڑکی؟”
وہ آبرو اچکا کر بولیں۔
“کسے پسند کیا ہے بھئی ہمیں بھی تو معلوم ہو؟”
کمال صاحب گرج دار آواز میں بولے۔
“حرائمہ کو۔۔۔”
شاہ ویز کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سب کو سکتے میں لے گئے۔
“پوری دنیا میں وہی ایک لڑکی باقی رہ گئی تھی کیا؟”
ضوفشاں بیگم کڑے تیور لئے بولیں۔
“امی اس گھر میں سب نے پسند کی شادی کی ہے تو پھر آپ مجھ پر کیوں برس رہی ہیں؟”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“بیگم تم خاموش رہو ہم شاہ سے مشورہ کریں گے اس متعلق۔۔۔”
ان کی بات کا مطلب تھا کہ اس معاملے میں مزید بحث نہ کی جاےُ۔
“حد ہے ساری طوائف میری گھر میں ہی آنی ہیں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منہ میں بڑبڑانے لگیں جسے شاہ ویز کے سوا کوئی نہ سن سکا۔
مہر متحیر سی شاہ کو دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ کمال صاحب کی جانب تھا۔
کچھ ہی دیر میں سب مرد اپنے اپنے کام کو نکل گئے۔
مہر ماناب کو لئے صوفے پر بیٹھی تھی۔
عافیہ بھی اس کے ساتھ آ بیٹھی۔
“میری طرح آپ بھی دوسری بیوی ہیں نہ؟”
عافیہ کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں شاہ کی دوسری لیکن میری پہلی شادی ہے۔۔۔”
مہر ماناب کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں مصطفیٰ بھائی کے ماضی کے متعلق بہت کچھ جانتی ہوں اور جس انسان نے کیا اس کو بھی بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔”
عافیہ ماضی کے پنے کھول رہی تھی۔
“تم برہان کی بیوی تھی نہ؟”
بولتے ہوۓ مہر کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
“ہاں برہان کی۔جو انسان کی شکل میں ایک جانور ہے۔۔۔”
عافیہ حقارت سے بولی۔
“اور ازلان میرا مطلب وہ بھی اپنے بھائی جیسا ہے؟”
مہر سنبھل کر بولی۔
“نہیں۔لیکن میں صرف اتنا ہی جانتی ہوں جتنا وہ گھر والوں کو دکھاتا ہے کیونکہ گھر سے باہر وہ کیا ہے ہم نہیں جانتے۔۔۔”
عافیہ شانے اچکاتی ہوئی بولی۔
“آپ کا ذکر سن کر بہت دل چاہتا تھا ملنے کو اور دیکھیں مل بھی لیا۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی بولی۔
وہ ماریہ کے بلکل برعکس تھی۔
مہر کو یہ جان کر خوشی ہوئی تھی۔
“یہ بازو پر کیا ہوا؟”
مہر کی نظر اس کی بازو پر پڑی تو آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
“پرانے زخم۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“مجھے یقین ہے شہریار تمہیں خوش رکھتا ہو گا۔۔۔”
مہر ماناب کو شانے سے لگاتی ہوئی بولی۔
“جی بہت خوش رکھتا ہے۔آپ میرے ہاتھ کی ملائی بوٹی کھا کر دیکھیں بہت پسند آےُ گی۔۔۔”
عافیہ پرجوش انداز میں بولی۔
“پھر میں ضرور کھانا چاہوں گی۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“کہاں جا رہی ہیں؟”
عافیہ اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ماناب کو نیند آ رہی ہے سلانے جا رہی ہوں۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
عافیہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
****/////////****
“بابا سائیں مجھے شاہ ویز کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں۔وہ مہر کی بہن ہے اور اچھا ہو گا دونوں ایک ہی گھر میں ہوں تو۔۔۔”
شاہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“وہ تو ٹھیک ہے لیکن ذات بھی تو دیکھو نہ۔۔۔”
وہ پریشانی سے گویا ہوۓ۔
“بابا سائیں مہر کو دیکھ لیں کیا خرابی ہے اس میں اور میں گارنٹی دیتا ہوں حرائمہ کی وہ نہایت معصوم ہے۔۔۔”
شاہ پراعتماد انداز میں بولا۔
“ٹھیک کہہ رہے ہو۔ہمیں ایک اس بات کا بھی خطرہ ہے اگر چھوٹے کی بات نہ مانی تو وہ سمجھے گا اس کے ساتھ ناانصافی کر رہے۔۔۔”
وہ پرسوچ انداز میں بولے۔
“جی مجھے تو یہی مناسب لگتا ہے۔۔۔”
شاہ پرسکون انداز میں ٹیک لگاتا ہوا بولا۔
“پھر سوچتے ہیں منگنی کر دیں دونوں کی۔۔۔”
وہ شاہ کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
“میرے نزدیک منگنی سے بہتر نکاح ہے۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“ہاں نکاح؟ اچھی بات ہے۔۔۔”
وہ تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
شاہ کے کندھے سے ایک بوجھ ہٹ چکا تھا۔
ایک بہانے سے جو اس کی ذمہ داری شاہ کے کندھوں پر آئی تھی آج وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گیا تھا۔
وہ کافی حد تک مطمئن ہو چکا تھا۔
****/////////****
“حرم یہ میں تمہارے لئے لائی ہوں۔۔۔”
ذوناش اس کے سامنے آتی ہوئی بولی۔
ازلان جو آخر میں بیٹھا تھا ذوناش کو دیکھ کر سیدھا ہو گیا۔
“کیا ہے اس میں؟”
حرم مسکراتی ہوئی بولی۔
“کھیر ہے۔میری امی نے بھیجی ہے۔۔۔”
ذوناش آہستہ آواز میں بول رہی تھی۔
ازلان کی نظریں ان دونوں پر تھیں خاص کر اس ڈبے پر جو ذوناش کے ہاتھ میں تھا۔
“بہت شکریہ میں بعد میں کھا لوں گی آمنہ کے ساتھ۔۔۔”
حرم اس کے ہاتھ سے لیتی ہوئی بولی۔
“بع بعد میں کیوں ابھی کھاؤ نہ۔میرا مطلب چیک کر کے بتاؤ کیسی بنی ہے؟”
ذوناش بوکھلا کر بولی۔
ذوناش کی بوکھلاہٹ بھلے حرم سے چھپ گئی لیکن ازلان سے نہ چھپ سکی۔
“ابھی ناشتہ کر کے آئی ہوں دل نہیں کر رہا۔۔۔”
حرم معذرت خواہانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں اتنے پیار سے لائی ہوں اور تم نخرے کر رہی ہو؟نہیں کھانی تو ویسے بول دو۔۔۔”
ذوناش منہ بناتی خفگی سے بولی۔
ازلان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
کسی انہونی کی بو آ رہی تھی۔
وہ اٹھا اور حرم کی جانب چلنے لگا۔
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔میں ابھی تمہارے سامنے ٹیسٹ کرتی ہوں۔۔۔”
حرم اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہوئی بولی۔
ذوناش نے چمچ حرم کی جانب بڑھایا۔
حرم نے ابھی چمچ کھیر میں ڈبویا ہی تھا کہ ازلان نے ہاتھ مار دیا جس کے باعث ڈبے سمیت ساری کھیر زمین بوس ہو گئی۔
“آئم سو سوری۔۔۔”
ازلان معصومیت سے بولا۔
ذوناش اس کی اس حرکت پر تلملا اٹھی۔
“تمہیں نظر نہیں آتا کیا ساری کھیر گرا دی۔۔۔”
ذوناش چلانے لگی جیسے کچھ غلط ہو گیا۔
“کتنے کی تھی بتاؤ ابھی تمہارے منہ پر مارتا ہوں پیسے۔۔۔”
ازلان اس کے تیور بھانپ کر بولا۔
“بات پیسوں کی نہیں تھی ایڈیٹ۔۔۔”
ذوناش دانت پیستی ہوئی بولی۔
“شٹ یور ماؤتھ۔۔۔”
ازلان شہادت کی انگلی اٹھاتا حلق کے بل چلایا۔
ذوناش لب بھینچے زمین کو گھورنے لگی۔
“ازلان ریلیکس۔۔۔”
وکی اسے عقب سے پکڑتا ہوا بولا۔
“آئیندہ اگر میرے سامنے فضول بکواس کی تو بہت برا ہو گا۔۔۔”
ازلان کسی زخمی شیر کی مانند دھاڑ رہا تھا۔
ایک پل میں وہ جنونی ہو گیا تھا۔
حرم سہم کر دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“اب سر لیکچر تو نہیں لیں گے۔۔۔”
اس پھیلاوے کو دیکھ کر اندر آتی ایک لڑکی گویا ہوئی۔
ازلان کو دیکھ کر حرم بھی باہر نکل گئی۔
“ازلان کیا ہوا ہے تمہیں؟”
حرم بولتی ہوئی اس کے عقب میں چل رہی تھی۔
ازلان نے وکی کو جانے کا اشارہ کیا اور چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھنے لگا۔
ازلان کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش میں حرم کا تنفس تیز ہو گیا تھا۔
“ذوناش سے دور رہو گی تم۔۔۔”
ازلان انگلی اٹھاےُ سنجیدگی سے بولا۔
“لیکن کیوں؟”
حرم الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تم لڑکیوں کو ہر بات کی وجہ کیوں جاننی ہوتی ہے؟ جب کہہ دیا کہ دور رہو مطلب دور رہو۔ کیوں؟ کیسے؟ کب؟ یہ سوال ضروری ہوتے ہیں کیا؟”
ازلان برہمی سے بول رہا تھا۔
ازلان کے رویے پر حرم کا دل سا ٹوٹ گیا۔
آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا۔
ازلان دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے جو تم رونے کی تیاری کر رہی ہو؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں جھانکتا نرمی سے بولا۔
حرم نے چہرہ جھکا لیا۔
وہ ازلان کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔
“حرم تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہوں میری بات سمجھ لو اسی میں تمہاری بہتری ہے۔۔۔”
ازلان لوگوں کی بھیڑ کا خیال کر کے حرم سے کچھ فاصلے پر تھا۔
“یہ بات تم آرام سے بھی کہہ سکتے تھے۔۔۔”
بولتے بولتے دو موتی حرم کی آنکھ سے ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔
حرم ہاتھ کی پشت سے گال رگڑتی چلی گئی۔
ازلان سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگا۔
“تمہیں نہیں بتا سکتا حرم کہ ذوناش کے ساتھ میرا افئیر تھا۔۔۔”
ازلان تاسف سے بولا۔
****/////////****
“شاہ یہ سب کیا؟ حرائمہ کی شادی شاہ ویز سے؟”
مہر الماری بند کرتی شاہ کو دیکھنے لگی جو ماناب کے ساتھ محو تھا۔
“کیوں کیا برائی ہے اس میں؟”
شاہ ماناب کو گدگداتا ہوا بولا۔
“نہیں میرا مطلب؟آپ سمجھ کیوں نہیں رہے؟”
مہر اس کے سامنے آتی ہوئی بولی۔
“تم سمجھاؤ گی تو سمجھو گا نہ۔۔۔”
شاہ کی نظریں ماناب پر تھیں۔
“اِدھر کریں مجھے تیار کرنے دیں ماناب کو۔۔۔”
مہر اس کے کپڑے بیڈ پر رکھتی ہوئی بولی۔
شاہ نے ماناب کے گال پر بوسہ دیا جو اس وقت صرف پیمپر پہنے ہوۓ تھی۔
“بتائیں نہ مجھے؟”
مہر ماناب کے پاؤڈر لگاتی ہوئی بولی۔
“یار دیکھو حرائمہ کوٹھے سے آئی ہے یہ صرف ہم جانتے ہیں اگر ہم کسی اور سے اس کی شادی کرتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہونے پر حرائمہ کی زندگی پر اثر پڑے گا تم سمجھ رہی ہو نہ؟”
شاہ مہر کو خاموش پا کر بولا۔
“جی میں سمجھ رہی ہوں۔۔۔”
مہر شرٹ کے بٹن بند کرتی ہوئی بولی۔
ماناب پاؤڈر پکڑے منہ میں ڈال رہی تھی۔
مہر نے خفگی سے دیکھتے ہوۓ اس کے ہاتھ سے پاؤڈر لے لیا۔
ماناب رونے والی شکل بناےُ مہر کو دیکھنے لگی۔
“دے دو ابھی میڈم کا لاؤڈ اسپیکر بجنے لگے گا۔۔۔”
شاہ مہر کے ہاتھ سے پاؤڈر لیتا ہوا بولا۔
اس سے پہلے کہ ماناب ان کے کان کے پردے پھاڑتی شاہ نے اس کے ہاتھ میں پاؤڈر پکڑا دیا۔
“شاہ منہ میں ڈال رہی ہے وہ۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“ماما ہے ہی گندی ہیں نہ؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
مہر خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔
“ہاں تو میں کہہ رہا تھا شاہ ویز گھر کا ہے اسے پہلے ہی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے میں نے اس طرح حرائمہ کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ہوا بولا جو اپنی روشن پیشانی پر بل ڈالے ماناب کو گھور رہی تھی۔
“اور شاہ ویز راضی ہو گیا ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے کے لیے جس کی عزت کو کئی دفعہ پامال کیا گیا؟”
مہر کرب سے بولی۔
“ہاں جو کچھ اس نے کیا ہے اس کے بعد وہ اس پر بھی شکر ادا کرے۔۔۔”
شاہ تلخی سے بولا۔
“چلیں اگر آپ مطمئن ہیں تو پھر مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”
مہر ماناب کو کھڑا کرتی شرٹ ٹھیک کرنے لگی۔
“میری جان تیار ہو گئی۔۔۔”
شاہ ماناب کو پکڑتا ہوا بولا۔
“براےُ مہربانی کس کرنے سے اجتناب کیجئے گا۔۔۔”
مہر بیڈ سے سامان اٹھاتی ہوئی بولی۔
“کیوں بھئ؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا مہر سے اِستفسار کرنے لگا۔
“آپ کی داڑھی چبھتی ہے ماناب کو۔۔۔”
مہر لب دباےُ مسکراتی ہوئی بولی۔
“اچھا تمہیں تو نہیں چبھتی۔۔۔”
شاہ اس کے عقب میں جا کھڑا ہوا۔
مہر جیسے مڑی شاہ سے ٹکرا گئی۔
شاہ کی بات پر مہر سر جھکاےُ مسکرانے لگی۔
“صحیح کہہ رہا ہوں نہ؟”
شاہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔
“دیکھیں ماناب آپ کو دیکھ رہی ہے۔۔۔”
مہر فاصلہ بڑھاتی ہوئی بولی۔
“اسے ابھی کچھ سمجھ نہیں۔تم میری بات کا جواب دو۔۔۔”
شاہ اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“شاہ آپ کیا بچوں کی طرح پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔۔”
مہر ششدر سی بولی۔
“جلدی سے بتا دو۔اگر یاد نہیں تو بتاؤ میں مدد کر دوں؟”
وہ شریر لہجے میں بولا۔
“شرم کریں آپ کی بیٹی دیکھ رہی ہے۔۔۔”
مہر نے اسے شرم دلانی چاہی۔
“ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں پھر شرم کیوں کروں ہیں نہ ماناب؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
مہر مسلسل مسکرا رہی تھی۔
“ابھی کروں پھر بتاؤں گی؟”
شاہ اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
“نہیں مجھے یاد ہے۔۔۔”
مہر چہرہ موڑتی ہوئی بولی۔ اپنے الفاظ کو سوچ کر دانتوں تلے زبان دے دی۔
“کیا یاد ہے؟”
وہ دلچسپی سے دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ کو اس کے چہرے کے تاثرات لطف دے رہے تھے۔
مہر مسکراتی ہوئی سوچ رہی تھی۔
“دیکھو تم بھول گئی ہو۔۔۔”
شاہ اس کا چہرہ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
“آپ کیوں مجھے تنگ کر رہے ہیں؟”
مہر خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تنگ تو نہیں کر رہا ایک معصوم سا سوال کیا ہے۔۔۔”
شاہ معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتا ہوا بولا۔
ماناب بری بری شکلیں بناتی کبھی شاہ کو دیکھتی تو کبھی مہر کو۔
“آپ اور معصوم اف! کتنا برا کمبینیشن ہے۔۔۔”
مہر ناک چڑھاتی ہوئی بولی۔
“تمہیں نہ؟”
شاہ نے ابھی مہر کی بازو پکڑتی ہی تھی کہ ماناب اپنا پسندیدہ مشغلہ شروع کرنے لگی۔
“میں نے کس نہیں کی اب تم اسے چپ کرواؤ گی۔۔۔”
شاہ گلا پھاڑتی ماناب کو مہر کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔
مہر منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“آپ کو بس رُلانا آتا ہے۔۔۔”
مہر اسے خفگی سے دیکھتی ماناب کو خاموش کروانے لگی۔
شاہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔
مہر ماناب کو سلا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
“بھابھی یہ دیکھیں یہ بری والے سوٹ ہیں اور یہ جہیز والے۔۔۔”
عافیہ بیڈ پر پڑے کپڑوں کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
مہر اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
“اب آپ بتائیں شاہ ویز کے نکاح پر کون سا سوٹ پہنوں؟”
وہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
“جتنے زیادہ کپڑے ہوں پسند کرنے میں مشکل بھی اتنی زیادہ ہوتی۔۔۔”
مہر کپڑے دیکھتی ہوئی گویا ہوئی۔
“بلکل صحیح کہا آپ نے۔اسی لئے تو آپ کو بلایا ہے۔۔۔”
وہ بیڈ کے دوسرے کنارے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
گھنٹہ بھر وہ دونوں کپڑوں میں الجھتی رہیں پھر مہر ماناب کے خیال سے باہر نکل آئی۔
“ابھی تک میڈم کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔۔۔”
مہر بڑبڑاتی ہوئی چل رہی تھی۔
آج حویلی سے میں معمول سے زیادہ خاموشی تھی یا پھر مہر کو ایسا گمان ہو رہا تھا۔
مہر دروازہ کھول کر اندر آئی چہرہ بائیں جانب موڑا تو آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
وہ تیزی سے بیڈ کے پاس آئی۔
“ماناب کہاں گئی؟”
مہر بیڈ پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی۔
دل میں وسوسے جنم لینے لگے۔
مہر کو خطرہ لاحق ہوا۔
“نہیں وہ کہاں جاےُ گی۔اپنی دادی کے پاس ہو گی۔۔۔”
مہر خود کو تسلی دیتی باہر نکل آئی۔
آنکھیں برسنے کو بےتاب تھیں لیکن وہ کچھ غلط سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
مہر سرعت سے زینے اترتی ضوفشاں بیگم کے کمرے میں آئی جو زیور دیکھنے میں مصروف تھیں۔
“ام امی وہ ماناب آپ کے پاس نہیں ہے؟”
مہر بوکھلا کر انہیں دیکھنے لگی۔
“نہیں۔میرے پاس کہاں سے آئی؟ تم اسے آج نیچے کب لائی؟”
ضوفشاں بیگم نے الٹا سوال داغا۔
“یا اللہ! میری بیٹی۔۔۔”
مہر سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“شاہ ویز کے کمرے میں دیکھتی ہوں۔۔۔”
مہر بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئی۔
“ہاےُ ہاےُ اسے کیا ہو گیا۔۔۔”
وہ پیشانی پر بل ڈالتی زیور سمیٹنے لگیں۔
ناساز طبیعت کے باعث شاہ ویز آج آفس نہیں گیا تھا۔
مہر بنا دستک دئیے کمرے میں آ گئی۔
“شاہ ویز بنا شرٹ پہنے بیٹھا سموکنگ کر رہا تھا۔
جیسے ہی مہر کی شاہ ویز سے نظریں چار ہوئیں اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
“آئم سوری۔۔۔”
مہر چہرہ موڑتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز اس کی اچانک آمد پر بوکھلا گیا۔
سیگرٹ ایش ٹرے میں پھینک کر بیڈ سے شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔
“آپ ناک کر کے آ جاتیں۔۔۔”
شاہ ویز سنبھل کر بولا۔
“وہ مجھے ماناب کا پوچھنا تھا۔۔۔”
مہر خود کو کوستی ہوئی بولی۔
“آپ چہرہ موڑ سکتی ہیں۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک محسوس کر کے بولا۔
مہر دھیرے دھیرے اس کی جانب گھومنے لگی۔
“ت تم ماناب کو میرے کمرے سے لے کر تو نہیں گئے؟”
مہر پریشانی کے عالم میں بولی۔
“نہیں بھابھی میں تو صبح سے کمرے سے نہیں نکلا۔۔۔”
شاہ ویز نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“اچھا۔۔۔۔”
بولتے بولتے مہر کے رخسار پر ایک موتی آ گرا۔
مہر مایوسی سے کہتی مڑ گئی۔
“بھابھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتا سکتی ہیں۔میں بدل چکا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز نادم تھا۔
جب سے مہر آئی تھی وہ پہلی بار اسے مخاطب کر رہا تھا۔شاہ ویز نے طرز تخاطب بھی بدل لیا تھا۔
“ماناب نہیں مل رہی مجھے۔۔۔”
مہر بمشکل خود کو رونے سے باز رکھتی ہوئی بولی۔
لیکن اس کی آواز اس کے آنسوؤں کی چغلی کھا رہی تھی۔
“آپ نے چیک کیا سب جگہ؟”
شاہ ویز فکرمندی سے بولا۔
“وہ اتنی چھوٹی ہے خود نہیں جا سکتی اور جو لے جا سکتے ہیں ان کے کمرے میں دیکھ چکی ہوں۔۔۔”
مہر ہاتھ مسلتی باہر نکل گئی۔
شاہ ویز بھی اس کے پیچھے باہر نکل گیا۔
“شاہ پلیز گھر آ جائیں جلدی۔۔۔”
مہر فون کان سے لگاےُ کھڑا تھی۔
“کیا ہوا مہر؟ تم رو رہی ہو؟”
شاہ کرسی پیچھے کرتا کھڑا ہو گیا۔
“شاہ مانا ماناب نہیں مل رہی مجھے پلیز آپ آ جائیں۔۔۔”
مہر کا ضبط جواب دے گیا۔
اپنے شریک حیات کے سامنے وہ رو دی۔
“کیا مطلب؟ اچھا تم فکر مت کرو میں ابھی نکلتا ہوں تم چھوٹے کو بولو وہ ملازم وغیرہ سے پوچھے میں بس آ رہا ہوں مہر۔۔۔”
شاہ باہر نکلتا ہوا بول رہا تھا۔
“شاہ مجھے کچھ نہیں پتہ آپ بس ابھی آ جائیں مجھے میری بیٹی چائیے۔۔۔”
مہر دیوانہ وار بول رہی تھی۔
“مہر حوصلہ کرو یہی کہیں ہو گی مل جاےُ گی۔۔۔”
شاہ گاڑی سٹارٹ کرتا ہوا بولا۔
“میں نے دیکھا ہے شاہ وہ نہیں ہے۔۔۔”
مہر اشک بہاتی بول رہی تھی۔
“اچھا میں تم سے آ کر بات کرتا ہوں ڈرائیو کرتے ہوئے بات نہیں کر سکتا ایکسیڈنٹ کا خطرہ ہوتا ہے۔۔۔۔”
شاہ فون دائیں ہاتھ سے پکڑتا ہوا بولا۔
“ہا ہاں ٹھیک یے آپ ایزی ہو کر ڈرائیو کریں میں شاہ ویز کو بولتی ہوں۔۔۔”
مہر موبائل بیڈ پر پھینکتی باہر نکل گئی۔
“بھابھی میں نے عافیہ بھابھی کے کمرے میں بھی دیکھا ہے ماناب وہاں بھی نہیں ہے۔۔۔”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“شاہ کہہ رہے تھے تم ملازموں سے پوچھو کہیں ان میں سے کسی کا کام نہ ہو۔۔۔”
مہر خود پر بندھ باندھتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز مہر کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو کچھ پل میں اجڑا اجڑا معلوم ہو رہا تھا۔
“جی بھابھی میں پوچھتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا زینے اترنے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: