Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 19

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 19

–**–**–

“آئمہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
حرم حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔
“میں یہاں قریب ہی آئی تھی تو سوچا تم سے مل لوں۔۔۔”
آئمہ مسکراتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی۔
حرم چاہ کر بھی مسکرا نہ پائی۔
“دراصل میری ایک دوست کو تمہاری یونی میں ایڈمیشن لینا تھا اسی لئے اس نے مجھے کہہ دیا کہ میں معلومات فراہم کر دوں اسے۔۔۔”
آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“اچھا کون سا کورس کرنا ہے تمہاری دوست نے؟”
حرم اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔
“بی ایس کہہ رہی تھی۔۔۔”
آئمہ کے جو منہ میں آیا بول دیا۔
“بی ایس کس میں؟ میرا مطلب انگلش میں یا پھر کسی اور سبجیکٹ میں؟”
حرم اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ایک منٹ میں یہ کال لے لوں پھر تم سے بات کرتی ہوں۔۔۔”
آئمہ کہتی ہوئی سائیڈ پر ہو گئی۔
حرم کی نظروں سے بچ کر وہ دوسری سائیڈ پر نکل گئی۔
حرم آئمہ کی منتظر تھی۔ حرم دائیں بائیں گردن موڑے آئمہ کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ دکھائی نہ دی۔
“پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے؟”
حرم بولتی ہوئی چلنے لگی۔
****/////////****
“کیا ہو گیا؟”
ضوفشاں بیگم مہر کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر بولیں۔
“ماناب پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔۔۔”
مہر ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔
وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔
دل درد برداشت کرنے سے انکاری ہو رہا تھا۔
اس کی جان کا ٹکڑا نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا تو کیسے وہ ضبط کرتی۔
نگاہیں اپنی جان کو دیکھنے کے لیے ترس رہی تھیں۔
مہر کو شاہ کی ضرورت تھی جو اس کا واحد سہارا تھا۔
“ایسے کیسے گم ہو سکتی ہے؟”
وہ پریشانی سے گویا ہوئیں۔
“بھابھی پریشان نہ ہوں مل جاےُ گی۔۔۔”
عافیہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
اسے معلوم تھا اگر وہ بول پڑی تو آنسو بھی چھلک جائیں گے۔
مہر کی نظریں دروازے پر ٹکی تھیں۔
وہ شاہ کی منتظر تھی۔
چند ثانیوں بعد شاہ نمودار ہوا۔
مہر اس کی جانب لپکی۔
“شاہ ماناب وہ وہ مل نہیں رہی مجھے کب سے۔۔۔”
مہر اس کے مقابل آتی ہوئی بولی۔
“مہر سنبھالو خود کو۔مل جاےُ گی کہاں جا سکتی ہے وہ؟”
شاہ اس بازوؤں سے پکڑتا ہوا بولا۔
“نہیں شاہ میں صبح سے اسے ڈھونڈ رہی ہوں وہ نہیں مل رہی مجھے۔شاہ مجھے میری بیٹی لا کر دیں میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔”
مہر اشک بہاتی اونچی آواز میں بول رہی تھی۔
مہر کی حالت دیکھ کر عافیہ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
“مہر ریلیکس میں ڈھونڈتا ہوں اسے۔۔۔”
شاہ نم آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“میری بیٹی کو کچھ نہیں ہونا چائیے شاہ اسے صحیح سلامت لے کر آئیں بس۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“کچھ نہیں ہو گا ہماری بیٹی کو۔۔۔”
شاہ اس کا چہرہ صاف کرتا ہوا بولا۔
“اب تم بیٹھ جاؤ یہاں میں ڈھونڈتا ہوں ماناب کو۔۔۔”
شاہ اسے صوفے پر بٹھاتا ہوا بولا۔
مہر التجائیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہ کے لئے وہاں رکنا محال ہو گیا۔
وہ مہر کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ نکالتا باہر نکل گیا۔
مہر منہ پر ہاتھ رکھے دروازے کو دیکھنے لگی۔
عافیہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
“حوصلہ کریں بھابھی۔۔۔”
وہ مہر کی پشت پر تھپکی دیتی ہوئی بولی۔
“ایسے کہاں چلی گئی؟”
ضوفشاں بیگم بولتی ہوئی بیٹھ گئیں۔
مہر کے کان کچھ بھی سننے سے انکاری ہو گئے تھے۔
لب ہل رہے تھے اور بس اپنی بیٹی کے لئے دعا گو تھے۔
ایک گھنٹہ پھر دوسرا گھنٹہ بھی گزر گیا لیکن شاہ نہیں آیا۔
“شاہ ابھی تک آےُ کیوں نہیں؟”
مہر کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
دل کسی انہونی کی ردا سنا رہا تھا۔
“یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا۔۔۔”
مہر کے لب اور دل سے ایک ہی صدا نکل رہی تھی۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں جو ہر پانچ منٹ بعد رم جھم شروع کر دیتیں۔
آنکھیں سرخ انگارہ بن چکی تھیں جیسے کسی پر ستم کی انتہا کر دی گئی ہو۔
مہر کی حالت اس وقت اس پنچھی کی مانند تھے جو طوفان میں اپنا گھر لٹنے پر بےحال تھا۔
بچوں کی جدائی تو جانوروں کو بھی ہلکان کر دیتی ہے وہ تو پھر انسان تھی۔
ایک بچے کا سب سے مضبوط رشتہ اس کی ماں سے ہوتا ہے۔
جسے دیکھ کر مہر کی آنکھوں کو ڈھنڈک ملتی تھی آج اس کے اوجھل ہونے پر وہی آنکھیں خود پر بیتی دردناک کہانی بیان کر رہی تھی۔
درد،تکلیف مہر کے چہرے سے عیاں تھی۔
کوئی اس وقت مہر سے اس کا حال پوچھتا تو وہ بتاتی کہ اس کی تو دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔
شاہ کو دیکھ کر مہر کھڑی ہو گئی۔
کسرتی وجود رکھنے والا وہ فولادی انسان ٹوٹا اور بکھرا بکھرا سا دکھائی دے رہا تھا۔
مہر شاہ کی جانب لپکی۔
“شاہ ماناب ماناب کہاں ہے؟ آپ ایسے کیوں آ گئے؟”
مہر اس کے عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ کی سرخ ناک اور آنکھیں اس کے رونے کی چغلی کھا رہی تھیں۔
مرد تھا سب کے سامنے رو نہیں سکتا تھا۔
“شاہ آپ بتا کیوں نہیں رہے؟ کہاں ہے ہماری بیٹی؟”
مہر اسے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
“نہیں ملی مجھے ماناب۔۔۔”
شاہ شکست خور سا بولا۔
“کیا مطلب ہے آپ کا؟”
مہر ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔
“مہر میری بات سنو۔۔۔”
شاہ کے لئے خود کو سنبھالنے سے زیادہ مشکل مہر کو سنبھالنا تھا۔
“میں ڈھونڈ کر لاؤں گی اپنی بیٹی کو۔۔۔”
مہر کہتی ہوئی قدم بڑھانے لگی۔
“شاہ نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔
“شاہ مجھے جانا ہے۔میری بیٹی وہ رو رہی ہو گی مجھے پکار رہی ہو گی۔۔۔”
مہر اشک بہاتی اسے کی گرفت سے نکلنے کی سعی کرنے لگی۔
شاہ نے اسے دونوں بازو پکڑ رکھا تھا۔
“مہر میری بات سنو پلیز۔۔۔”
شاہ بکھر رہا تھا۔
ریزہ ریزہ ہو رہا تھا۔
مہر اس کی گرفت سے نکلتی جا رہی تھی۔
مہر کو قابو کرنا شاہ کو ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔
“مہر میری بات سنو تحمل سے۔۔۔”
شاہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
“شاہ وہ مجھے بلا رہی ہے مجھے جانا ہے۔۔۔”
مہر اشک بہاتی اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہم دونوں جائیں گے اسے لینے تم چلو میرے ساتھ آؤ۔۔۔”
شاہ اسے اپنے ساتھ لگاےُ چلنے لگا۔
“شاہ اندر کہاں؟ باہر جانا ہے۔۔۔”
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“باہر بھی جائیں گے پہلے میری بات سنو گی تم ٹھیک ہے نہ؟”
شاہ بچوں کی مانند اسے بہلا رہا تھا۔
“نہ نہیں پہلے ہم ماناب کو لینے جائیں گے۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہذیانی انداز میں بول رہی تھی۔
عافیہ اور شاہ ویز دونوں دکھ سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
ماناب کے غائب ہونے کا دکھ انہیں بھی تھا لیکن جن کی وہ دنیا تھا ان کے دکھ کا اندازہ وہ نہیں لگا سکتے تھے۔
“شاہ وہ صبح سے بھوکی ہو گی۔۔۔”
مہر بولتی جا رہی تھی اور شاہ کی تکلیف میں بھی اضافہ مرتی جا رہی تھی۔
شاہ اس کے گرد بازو رکھے اسے اپنے ساتھ لئے چل رہا تھا۔
“شاہ مجھے ماناب کے پاس جانا ہے آپ کیوں نہیں سمجھ رہے؟”
مہر اشک بہاتی مسلسل بول رہی تھی۔
شاہ تیز تیز قدم اٹھاتا اسے کمرے میں لے آیا اور دروازہ لاک کر لیا۔
“آ آپ نے دروازہ کیوں بند کر دیا؟”
مہر خوفزدہ سی بولی۔
“مہر بس کر دو۔۔۔”
شاہ اسے شانوں سے تھامتا ہوا بولا۔
“کیا مطلب بس کر دوں؟ شاہ میری بیٹی وہ صبح سے غائب ہے آپ کو احساس ہے؟ اسے بھوک لگی ہو گی۔ شاہ وہ رو رہی ہو گی۔۔۔”
متواتر آنسو مہر کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔
“خود کو ہلکان مت کرو مہر۔صبح سے رو رو کر حال برا کر لیا ہے۔تمہارے آنسو ابھی تک خشک نہیں ہوےُ؟”
شاہ خفگی سے بولا۔
بولتے بولتے دو آنسو شاہ کے رخسار پر آ گرے۔
شاہ نے آنکھیں بند کر کے لب آپس میں مبسوط کر لیے۔
مہر کے سامنے وہ رونا نہیں چاہتا تھا۔
وہ اسے مزید کمزور نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“شاہ میں نے یہاں یہاں سلایا تھا ماناب کو پھر جب اسے دیکھنے آئی وہ یہاں تھی ہی نہیں۔۔۔”
مہر بیڈ کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
شاہ نے اسے سینے سے لگا لیا۔
اس کے پاس وہ الفاظ نہیں تھے جن سے وہ مہر کو تسلی دیتا۔
بعض اوقات الفاظ کی بجاےُ احساسات یہ کام بخوبی کرتے ہیں۔
شاہ بھی چاہتا تھا وہ اس کے بنا کہے سمجھ جاےُ۔
وہ بھی اس دکھ میں برابر کا شریک تھا۔
مہر پیشانی اس کے سینے سے لگاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
شاہ کے آنسو مہر کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔
“شاہ میری بچی۔مجھے لے جائیں اس کے پاس۔وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتی شاہ۔وہ مجھے بلا رہی ہو گی۔۔۔”
مہر کے ہاتھ شاہ کے سینے پر تھے۔
شاہ اس وقت بولنے کی حالت میں نہیں تھا۔
شاہ کی جانب سے جواب نہ پا کر مہر خاموش ہو گئی۔
نیم تاریکی میں خاموشی ڈیرے جماےُ ہوۓ تھے۔
اس خاموشی میں مہر کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔
مہر کی آہ و زاری اس خاموشی کو چیرنے کی سعی کر رہی تھی۔جبکہ شاہ بے آواز رو رہا تھا۔
تکلیف حد سے سوا تھی لیکن اسے مہر کو سنبھالنا تھا اس لئے خود کو مضبوط بنانے کی سعی کر رہا تھا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہا تھا۔
مہر نڈھال سی اس کی بازوؤں میں جھول گئی۔
“مہر؟”
شاہ مہر کے بے جان وجود کو دیکھتا ہوا بولا۔
مہر؟”
شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا رہا تھا لیکن مہر ہوش سے بیگانہ ہو چکی تھی۔
شاہ نے اسے بیڈ پر لٹایا اور پانی سے چھینٹے مارنے لگا۔
مہر کی پلکوں میں جنبش ہوئی۔
شاہ اس کا ہاتھ مسل رہا تھا۔
مہر کے ہاتھ برف کی مانند ڈھنڈے ہو رہے تھے۔
“شاہ؟ ماناب۔۔۔”
مہر ہوش میں آتی ماناب کا نام پکارنے لگی۔
شاہ کرب سے اسے دیکھنے لگا۔
“پولیس میں رپورٹ کرانی تھی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم پریشانی سے گویا ہوئیں۔
“امی پولیس والے چوبیس گھنٹے سے پہلے رپورٹ درج نہیں کرتے۔۔۔”
شاہ ویز مایوسی سے بولا۔
“لو بھلا یہ کیا بات ہوئی اتنی دیر میں ہماری بچی نجانے کہاں سے کہاں چلی جاےُ۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
کمال صاحب سر تھامے بیٹھے تھے۔
شہریار اپنے طور پر کوشش کر رہا تھا لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا گھر سے کیسے جا سکتی ہے اتنی چھوٹی بچی ایسی صورت میں جب نہ کوئی باہر سے آیا نہ کوئی گیا۔
“بھابھی نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے۔۔۔”
عافیہ فکرمندی سے بولی۔
“جاؤ عافیہ دونوں کو کھانا دے آؤ۔شاہ بھی بھوکا ہو گا۔۔۔”
کمال صاحب تشویش سے بولے۔
عافیہ سر ہلاتی چلی گئی۔
“خدا جانے ہمارے بچے کے نصیب میں کیا لکھا ہے؟”
کمال صاحب آہ بھرتے ہوۓ بولے۔
“مہر اب تم بلکل نہیں بولوں گی سمجھی۔۔۔”
شاہ برہمی سے بولا۔
“شاہ؟”
مہر سسکتے ہوۓ بولی۔
“میں جانتا ہوں مہر تم تکلیف میں ہو لیکن یہ بھی تو سوچو میں بھی اسی کرب سے گزر رہا ہوں وہ ہم دونوں کی بیٹی تھی ہم دونوں کی جان تھی۔۔۔”
شاہ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
شاہ نے انہیں روکا نہیں اور بہنے دیا وہ بھی ضبط کرتا تھک چکا تھا۔
“جتنی تکلیف تمہیں ہو رہی ہے مجھے بھی اتنی ہی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تم کیوں نہیں سمجھتی؟ میں کہاں ڈھونڈوں اسے؟ کوئی کچھ نہیں جانتا۔کسی نے نہیں دیکھا اسے۔۔۔”
شاہ کا چہرہ بھیگ رہا تھا۔
چہرہ تکلیف کی عکاسی کر رہا تھا۔
اور زبان حال درد بیان کر رہی تھی۔
مہر بےبسی سے اسے دیکھنے لگی۔
“تم جس کیفیت میں گھری ہو میں بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہوں۔۔۔”
شاہ ٹوٹ چکا تھا۔
اپنی ذات کے ٹکڑے سمیٹتا وہ بپھر گیا تھا۔
مہر نے اپنے سرد ہاتھوں سے اس کے گرم ہاتھ تھام لیے۔
“آئم سوری شاہ۔میں اپنے غم میں اتنی اندھی ہو گئی کہ آپ کی تکلیف، آپ کا درد نہ سمجھ سکی۔۔۔”
گرم سیال مادہ مہر کے رخسار کو بھگو رہا تھا۔
شاہ نفی میں سر ہلانے لگا۔
دروازے پر دستک سنائی دی تو شاہ اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالتا دروازے کی جانب چلنے لگا۔
“بھائی کھانا لائی تھی میں۔بھابھی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔”
عافیہ ہچکچاتی ہوئی بولی۔
شاہ نے اثبات میں گردن ہلاتے ہوۓ ٹرے پکڑ لی۔
“شکریہ۔۔۔”
شاہ کہہ کر اندر آ گیا۔
“مہر کھانا کھا لو۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“شاہ مجھے نہیں کھانا۔۔۔”
مہر دھیمی آواز میں بولی۔
“مہر تم شاہ کو تنگ کرنا چاہتی ہو کیا؟”
شاہ اس کے سامنے بیٹھتا ہوا استفسار کرنے لگا۔
مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“پھر کھانا کھاؤ۔میں تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلاؤں گا۔۔۔”
شاہ اس کا دل رکھنے کی خاطر بولا۔
“شاہ مجھ سے نہیں کھایا جاےُ گا۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
شاہ تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔
“میری بات نہیں مانو گی؟”
شاہ التجائیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
شاہ اتنی محبت اتنے مان سے کہے اور مہر انکار کر دے ممکن نہیں۔
مہر ہاتھ کی پشت سے رخسار رگڑتی کھانے لگی۔
“آپ نے بھی تو کچھ نہیں کھایا۔۔۔”
مہر فکرمندی سے گویا ہوئی۔
“نہیں میں نے آفس میں کھا لیا تھا۔۔۔”
شاہ بہانہ بناتا ہوا بولا۔
“جھوٹ بول رہے ہیں نہ آپ؟”
مہر اس کا چہرہ حرف بہ حرف پڑھ رہی تھی۔
“نہیں جھوٹ کیوں بولوں گا۔۔۔”
شاہ مہر کے سامنے نوالہ لے جاتا ہوا بولا۔
“آپ کھائیں گے تو میں بھی کھاؤں گی۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ نیچے کرتی ہوئی بولی۔
“مہر ضد مت کرو۔۔۔”
شاہ بمشکل بول پایا۔
مہر نے نوالہ توڑا اور شاہ کے سامنے کیا۔
شاہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر نوالہ منہ میں ڈال لیا۔
حرائمہ پریشانی سے چکر لگا رہی تھی۔
بار بار فون کو دیکھ رہی تھی جو خاموش تھا۔
“کیا کروں میں؟”
حرائمہ متفکر سی ٹہل رہی تھی۔
“نظریں دروازے پر ٹکی تھیں۔
“آپی کو فون کر کے پوچھوں؟”
حرائمہ خود کلامی کر رہی تھی۔
“نہیں۔۔۔”
وہ خود ہی اپنی نفی کرنے لگی۔
“رات ہو رہی ہے حرم کہاں چلی گئی؟”
حرائمہ کے دل میں برے برے خیال آ رہے تھے۔
“اللہ کرے وہ صحیح سلامت ہو۔لیکن پہلے کبھی اتنی دیر نہیں ہوئی۔فون بھی بند جا رہا ہے۔بھائی کو فون کرتی ہوں۔۔۔”
حرائمہ سوچتی ہوئی نمبر ملانے لگی۔
مہر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاےُ بیٹھی تھی شاہ بھی خاموش اس کے ہمراہ بیٹھا تھا۔
فون کی رنگ ٹون نے اس طلسم کو توڑا۔
خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا۔
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اور بنا دیکھے کان سے لگا لیا۔
“بھائی؟”
حرائمہ کی آواز سے گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔
“کیا ہوا حرائمہ؟”
“بھائی وہ حرم ابھی تک گھر نہیں آئی میں کب سے انتظار کر رہی ہوں اس کا۔نمبر بھی بند جا رہا ہے۔۔۔”
حرائمہ نے ایک ہی سانس میں سب کہہ ڈالا۔
“واٹ؟ کہاں گئی وہ؟”
شاہ آگے کو ہو گیا۔
مہر تعجب سے اسے دیکھنے لگی۔
“پتہ نہیں بھائی مجھے خود اس کی فکر ہو رہی ہے۔۔۔”
حرائمہ کے حواس جواب دیتے جا رہے تھے۔
“تم دروازے کو لاک رکھنا کسی کے لیے بھی مت کھولنا ٹھیک ہے نہ؟”
شاہ کو خطرہ لاحق ہوا۔
“جی بھائی ٹھیک ہے۔۔۔”
شاہ کے الفاظ پر حرائمہ پر خوف طاری ہو گیا۔
“شاہ کیا ہوا؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“حرم ابھی تک گھر نہیں پہنچی۔۔۔”
شاہ سلیپر پہنتا ہوا بولا۔
مہر ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔
بولنے کی سکت اس میں نہ رہی تھی۔
“شاہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟”
مہر بمشکل بول پائی۔
“تم فکر مت کرو۔ٹیبلیٹ لے کر سو جاؤ۔۔۔”
شاہ اس کے پاس آتا فکرمندی سے بولا۔
“شاہ؟”
مہر نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔
“مہر تم فکر مت کرو شاہ سب ٹھیک کر لے گا۔۔۔”
شاہ مہر سے زیادہ خود کو تسلی دیتا ہوا بولا۔
مہر کی نظروں میں التجا تھا۔
بے بسی تھی کرب تھا۔
مہر کی آنکھیں اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں شاہ میں اس سے زیادہ سکت نہ تھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی۔
“اپنا خیال رکھو گی نہ؟”
شاہ اپنے ہاتھ نکالتا نرمی سے استفسار کرنے لگا۔
مہر اثبات میں گردن ہلانے لگی۔
شاہ اس کے بالوں پر بوسہ دیتا باہر نکل گیا۔
دو موتی ٹوٹ کر بے مول ہو گئے۔
“شہریار،شاہ ویز میرے ساتھ چلو۔۔۔”
شاہ عجلت میں کہتا باہر نکل گیا۔
“اس کو کیا ہو گیا؟”
ضوفشاں بیگم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگیں جو باہر نکل چکا تھا۔
شاہ ویز اور شہریار آگے پیچھے باہر نکل گئے۔
“اللہ خیر کرے۔۔۔”
کمال صاحب تسبیح سنبھالتے کمرے کی جانب چلنے لگے۔
“جلدی گاڑی نکالو؟”
شاہ دونوں کو دیکھتا ہوا چلایا۔
شاہ گاڑی سے نکلا۔
“چھوٹے تم میرے ساتھ حرم کو ڈھونڈنے چلو گے اور شہریاع تم حرائمہ کو لے کر حویلی آؤ گے ٹھیک ہے؟”
شاہ دونوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
“حرم۔۔۔”
شہریار زیر لب دہراتا شاہ کو دیکھنے لگا۔
“حرم ابھی تک گھر نہیں پہنچی ڈونٹ نو کہاں ہے وہ؟”
شاہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“شہری! گھر پہنچ کر مجھے کال کر لینا حرائمہ ایسے دروازہ نہیں کھولے گی۔۔۔”
شاہ باہر جھانکتا ہوا بولا۔
“ٹھیک ہے بھائی۔۔۔”
شہری چلایا۔
تینوں کی گاڑیاں آگے پیچھے سنسان ویران سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں۔
خاموشی سرگوشیاں کر رہی تھیں۔
شہریار گھر پہنچ کر شاہ کو فون کرنے لگا۔
شاہ نے کال بند کی اور حرائمہ کا نمبر ملانے لگا۔
“جی بھائی؟ حرم کا معلوم ہوا؟”
حرائمہ بےصبری سے بولی۔
“نہیں اس کا ابھی کچھ معلوم نہیں ہوا۔شہریار کو بھیجا ہے میں نے تم اس کے ساتھ حویلی چلی جاؤ۔۔۔”
شاہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔
“جی بھائی ٹھیک ہے۔۔۔”
حرائمہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی جیسے وہ سامنے کھڑا ہو۔
“اور ہاں مہر کا خیال رکھنا۔۔۔”
شاہ اداسی سے بولا۔
“جی بھائی۔۔۔”
شاہ نے مزید بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔
حرائمہ نے بیگ اٹھایا اور زینے اترنے لگی۔
شہریار سامنے کھڑا تھا۔
“تیار ہو تم؟”
شہریار اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“جی بھائی بس دروازہ بند کر دوں۔۔۔”
حرائمہ دروازے کو لاک کرتی ہوئی بولی۔
شہریار گاڑی میں بیٹھ گیا۔
حرائمہ لاک لگا کر سرعت سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
نجانے کیوں اسے خوف محسوس ہو رہا تھا۔
شہریار نے گاڑی سٹارٹ کی اور سڑکوں پر بھگانے لگا۔
“چھوٹے تم یونی کے آس پاس لوگوں سے پوچھو میں حرم کے ہاسٹل آیا ہوں۔۔۔”
شاہ فون کان سے لگاےُ چل رہا تھا۔
“جی بھائی ٹھیک ہے جیسے آپ کو کچھ معلوم ہو مجھے کال کر دینا۔۔۔”
“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔”
شاہ فون جیب میں ڈالتا چلنے لگا۔
“حرم کی دوستوں کی لسٹ میں صرف تم تینوں آتی ہو۔۔۔”
شاہ تینوں کو گھورتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ یونی میں تھی اس کے بعد وہ گھر جانے کے لیے نکلی تھی اب ہمیں نہیں معلوم وہ کہاں گئی؟”
آمنہ گھبراتی ہوئی بولی۔
“اگر تم میں سے کسی کو کچھ بھی معلوم ہے تو ابھی بتا دو وقت ہے ورنہ بعد میں یہی سوال جواب پولیس کرے گی اور یہاں نہیں پولیس اسٹیشن میں۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
چہرے پر بلا کی سختی تھی۔
“بھائی ہم سچ کہہ رہے ہیں ہم کچھ نہیں جانتے۔۔۔”
ذوناش شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ اثبات میں سر ہلاتا الٹے قدم اٹھانے لگا۔
شاہ گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا۔
سٹیرنگ ویل پر کہنیاں رکھے شاہ نے بال ہاتھوں میں جکڑ لیے۔
“کہاں ڈھونڈوں میں تم دونوں کو؟”
شاہ جیسے ٹوٹ سی گیا تھا۔
آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر گرے رہے تھے۔
وہ مرد تھا اور رو رہا تھا۔
غلط کہتے ہیں زمانے والے کی مرد نہیں روتا۔
روتا ہے وہ بھی روتا ہے جب تکلیف ہوتی ہے وہ بھی روتا ہے کیونکہ اس کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے اسے بھی تکلیف ہوتی ہے۔
بےشک وہ عورت سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے لیکن پتھر نہیں ہوتا۔اس کا بھی دل دکھتا ہے۔ مرد کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیا اس کے احساسات نہیں ہوتے؟ عورت کی طرح مرد کے بھی جذبات ہوتے ہیں احساسات ہوتے جنہیں کچھ ہی لوگوں سمجھ پاتے ہیں۔
آدھی رات تک شاہ اور شاہ ویز سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہے۔
رات گئے دونوں حویلی لوٹے تو تاریکی نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
“چھوٹے تم آرام کرو اب۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا اپنے کمرے کی جانب چلنے لگا۔
شاہ ویز سانس خارج کرتا شاہ کو دیکھنے لگا۔
شاہ کمرے میں آیا تو نیم تاریکی تھی۔
نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں بھی وہ مہر کا چہرہ بآسانی دیکھ سکتا تھا۔
وہ جاگ رہی تھی۔
بھلا اسے نیند کیسے آ سکتی تھی؟
مہر کا چہرہ اس کا حال بیان کر رہا تھا۔
“تم رو رہی تھی؟”
شاہ بولتا ہوا اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“پتہ نہیں شاہ۔میں خود نہیں رو رہی تھی یہ آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔۔۔”
مہر سامنے دیکھتی کسی ٹرانس میں بول رہی تھی۔
مہر کو دیکھ کر شاہ کے دکھ میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔
“سوئی کیوں نہیں تم؟”
شاہ گھڑی اتارتا ہوا بولا۔
“نیند کسے آےُ گی؟”
مہر تلخی سے بولی۔
“جب آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرو گی تو آ جاےُ گی۔۔۔”
شاہ نرمی سے سمجھاتا جیب سے موبائل نکالنے لگا۔
آنسو ٹپ ٹپ پھر سے مہر کے چہرے کو بھگونے لگے۔
“شاہ یاد ہے ایک رات جب ماناب بہت رو رہی تھی؟”
مہر سامنے دیوار کو گھورتی ہوئی بول رہی تھی۔
“یاد ہے۔جب میں نے کہا تھا کہ ماناب مجھے سونے نہیں دیتی اتنا روتی ہے۔۔۔”
بولتے بولتے شاہ بھی رونے لگا۔
“دیکھیں شاہ آج وہ نہیں ہے لیکن پھر بھی ہمیں نیند نہیں آ رہی۔۔۔”
دل مانو شدت غم سے ابھی پھٹتا کہ ابھی پھٹتا۔
“میری گڑیا۔۔۔”
مہر ہاتھوں میں چہرہ چھپاےُ زاروقطار رونے لگی۔
“مہر تمہاری طبیعت خراب ہو جاےُ گی پلیز خود کو سنبھالو۔۔۔”
شاہ اسے بازو سے پکڑتا اپنے سامنے کرنے لگا۔
“کیسے سنبھالوں شاہ؟ میں نے خود کو بہت سنبھالا۔بہت سمجھایا کہ آپ کو تنگ نہیں کرنا آپ کو پریشان نہیں کروں گی لیکن یہ آنسو میری بھی نہیں سنتے۔۔۔”
مہر خفگی سے بولی۔
“کہیں مہر کے دماغ پر اثر نہ ہوجاےُ۔۔۔”
مہر کی حالت دیکھ کر شاہ کو شبہ ہوا۔
“مہر اِدھر دیکھو میری بات سنو۔۔۔”
شاہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
“تمہیں اللہ پر بھروسہ ہے نہ؟ ماناب مل جاےُ گی تم بس دعا کرو اس کے لئے اللہ ہماری بچی کی حفاظت کرے۔۔۔”
شاہ نجانے کہاں سے اتنا حوصلہ لاتا رہا تھا وہ خود بھی ناآشنا تھا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“پتہ ہے شاہ میں ماناب کو اتنا مس کر رہی ہوں روز شام میں اسے تیار کرنا،ماناب کو خاموش کروانے پر ہماری لڑائی،وہ سب کتنا اچھا تھا نہ؟”
مہر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاےُ سامنے دیوار کو گھور رہی تھی۔
شاہ نے بھی تھکے تھکے انداز میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی۔
“صحیح کہہ رہی ہو ہماری چھوٹی سی جان کتنا کھیلتی تھی ہمارے ساتھ،معلوم ہی نہیں ہوا کب اس کی عادت اتنی پختہ ہو گئی۔۔۔”
شاہ بولتا جا رہا تھا اور آنکھیں برستی جا رہی تھیں۔
“پتہ ہے شاہ مجھے کیا لگتا ہے؟ ہماری خوشیوں کو نظر لگ گئی ہے۔ہماری جان کو نظر لگ گئی ہے۔۔۔”
مہر دھیرے دھیرے خاموشی کو ختم کر رہی تھی۔
“ہممم مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے شاید ہمارے نصیب میں اتنی ہی خوشیاں لکھی تھیں۔۔۔”
مہر کی مانند شاہ بھی سامنے دیوار کو گھور رہا تھا۔
“شاہ میرے بابا۔انہوں نے کبھی مجھ سے پیار نہیں کیا کبھی میرے لاڈ نہیں اٹھاےُ۔جب جب وہ مجھے ڈپٹتے تو میں ایک ہی بات سوچتی تھی۔۔۔”
مہر ماضی کی تلخ یادیں میں گم ہوتی جا رہی تھی۔
“کیا؟”
شاہ سوں سوں کرتا ہوا بولا۔
“یہی کہ میرا شوہر ایک بہت اچھا باپ ثابت ہو میری بیٹی کو وہ پیار ملے جو مجھے نہیں ملا جس شفقت جس محبت کو میں ترسی وہ بھی میری بیٹی کو مل جاےُ۔اور آپ کو دیکھ کر مجھے اپنی دعا کی قبولیت کی نوید مل چکی تھی لیکن دیکھیں قسمت کے کھیل۔۔۔”
مہر آنسو صاف کرتی ہوئی بولی۔
شاہ تڑپ کر اسے دیکھنے لگا۔
“شاہ میں نے آپ کو کبھی اپنا ماضی نہیں بتایا۔۔۔”
مہر کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔
“مہر مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں۔۔۔”
“میں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ماں بہت پیار کرنے والی تھی اور باپ اس کے برعکس تھا۔نشہ کرتا تھا میرا باپ۔مجھے مرد ذات پر اعتبار نہیں تھا۔
پہلا مرد میری زندگی میں میرا باپ تھا جس نے مجھے چند کھوٹے سکوں کے عوض زلیخا بیگم کو بیچ دیا اور اس کے بعد کوٹھے پر حوس پرست مرد دیکھے تو میرا مرد ذات سے اعتبار اٹھ گیا۔اس کے بعد زندگی مجھ پر مزید تنگ ہوتی چلی گئی۔زلیخا بیگم مجھے مردوں کی خواب گاہ کی زینت بنانا چاہتی تھی لیکن میری ماں نے ساری زندگی مجھے اپنی عزت کی حفاظت کرنے کا سبق سکھایا تھا اور میں وہ سبق نہیں بھولی تھی۔
میں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن میں ناکام ہو گئی۔۔۔”
مہر سانس لینے کو رکی۔
شاہ کرب سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔
“مجھے ہاسپٹل سے واپس کوٹھے پر لے آےُ میں بہتر ہو رہی تھی تو پھر سے میں نے خودکشی کر لی لیکن پھر بچ گئی۔پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی عصمت کی حفاظت کروں گی تب میں نے زلیخا بیگم سے ڈیل کر لی مجرا کرنے کی اور وہ مان گئیں۔۔۔”
مہر نے چہرہ جھکا لیا۔
“مہر مجھے تمہارے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں تمہیں جانتا ہوں تمہارے حال سے۔تم مہرماہ شاہ ہو۔تمہارے نام کے ساتھ میرا نام جڑا ہے۔تمہارا حال تمہارا مستقبل میں ہوں اور میں تمہیں اسی سے جانتا ہوں۔باقی کسی بات سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔”
شاہ اس کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔
نجانے کیوں آج مہر اسے اپنے متعلق بتا رہی تھی۔
“شاہ ماناب کہاں ہو گی؟ کون اسے لے گیا ہمارے کمرے سے؟ میں تو صبح سے یہی سوچ سوچ کر پریشان ہوں کہ میری بچی جس حال میں ہو گی؟شاہ وہ بھوکی ہو گی۔۔۔”
مہر شاہ کو دیکھتی پے در پے سوال داغنے لگی۔
“میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری حالت۔ میرا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ہماری معصوم سی بچی خدا جانے کس حال میں ہو گی؟”
شاہ چہرہ جھکا کر بولا تاکہ مہر اس کے آنسو نہ دیکھ پاےُ۔
“ابھی تو ہم نے اس کی خوشیاں دیکھنی تھی اس کا بچپن، جوانی سب کچھ۔۔۔”
مہر سرد آہ بھرتی حیرت سے بولی۔
بولتے بولتے مہر خاموش ہو گئی جب وہ نیند کی وادی میں اتر گئی اسے خود بھی معلوم نہیں ہوا۔
شاید دن بھر کی تھکن تھی جس کے باعث وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی ورنہ نیند تو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
شاہ مہر کو دیکھنے لگا۔
پھر ہاتھ بڑھا کر لحاف اس پر اوڑھ دیا۔
ان دونوں کا حال ایسا تھا مانو ایک ہی دن میں قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔
شاہ مہر کے منتشر بال سمیٹنے لگا۔
کچھ دیر بلاجواز مہر کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کر واش روم میں چلا گیا۔
وضو کر کے باہر نکلا اور جاےُ نماز بچھا کر بیٹھ گیا۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا۔
شاہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہا تھا۔
اپنی اولاد کی سلامتی کے لئے اپنی اولاد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے۔
“یا اللہ تُو میرے دل کے حال سے واقف ہے وہ ہماری بیٹی نہیں ہماری جان ہے۔اتنی دعائیں اس کی سلامتی کی مانگیں تاکہ وہ صحیح سلامت اس دنیا میں آ جاےُ۔وہ آ بھی گئی لیکن ستم ظریفی یہ کہ آج وہ ہماری نظروں سے ہی اوجھل ہو گئی ہے۔
ہم تو خطاکار ہیں لیکن وہ معصوم وہ تو بےقصور ہے۔اسے کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ اتنی چھوٹی بچی اپنی ماں کے بنا کیسے رہ سکتی ہے؟ مہر کی حالت بھی تیرے سامنے ہے اس نے بہت اذیت دیکھی ہے اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے ہم سے ہماری بینائی کو دور مت کر۔۔۔”
شاہ ہاتھ اٹھاےُ بول رہا تھا۔
آنسو اس کے ہاتھ اور مصلے پر گر رہے تھے۔
انسان کچھ بھی کر لے ایک مخصوص مقام پر آ کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت صرف اللہ کی ہے۔
جب بے بسی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جتنی بھی طاقت ہے سب بیکار ہے۔
کیونکہ اصل طاقت کا مالک تو وہ ہے۔اور وہ بلاتا ہے اپنے پاس تاکہ بندے کو معلوم ہو جاےُ کہ کام سنوارنے والا صرف وہی ہے۔
“کہتے ہیں اس وقت مانگی جانے والی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔اللہ پاک چاہے میرا سب کچھ لے لیں لیکن ہماری بیٹی ہماری جان لوٹا دیں ہمیں پتہ نہیں کہاں ہو گی؟ کس کے پاس ہو گی؟اس معصوم کو بچا لیں ہمیں ہماری اولاد لوٹا دیں۔۔۔”
دھیرے دھیرے دل کو سکون مل رہا تھا تو شاہ کی آواز کی بجاےُ اس کی سسکیاں گونجنے لگیں۔
اپنے رب سے گفتگو کرتے شاہ بھی ہوش سے بیگانہ ہو گیا۔
شاید اس پر نیند اللہ نے اتاری تھی تاکہ وہ کچھ پل سکون سے گزار لے۔
****////////****
“کیا بکواس ہے یہ؟حرم کہاں گئی؟”
ازلان ہکا بکا سا آمنہ کو دیکھ رہا تھا۔
“ہم نہیں جانتے کل حرم کے بھائی آےُ تھے رات میں ہم سے پوچھنے کے لیے۔۔۔”
آمنہ نے اسے رات کا قصہ تفصیل سے بتایا۔
ازلان ابھی تک بےیقینی کی کیفیت میں تھا۔
“اسی لئے اس کا فون بند جا رہا ہے کہ اسے؟”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
“ازلان تاؤ کھاتا وہاں سے نکل گیا۔
آمنہ فکرمندی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔
“اللہ کرے حرم ٹھیک ہو۔۔۔”
آمنہ کل سے ایک ہی دعا مانگ رہی تھی۔
ازلان ذوناش کے ڈیپارٹمنٹ میں آیا۔
کلاس ہو رہی تھی جس کے باعث اسے انتظار کرنا پڑا۔
جونہی کلاس ختم ہوئی ذوناش باہر نکلتی دکھائی دی۔ازلان نے اس کی کلائی پکڑی اور چلنے لگا۔
ذوناش خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئی۔
“کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟”
وہ مسکراتی ہوئی استفسار کرنے لگی۔
ازلان جواب دئیے بنا چلتا رہا۔
مخصوص مقام پر پہنچ کر اسے دیوار کے ساتھ زور سے لگا دیا۔
ذوناش سی کر کے اسے دیکھنے لگی۔
“یہ کیا طریقہ ہے ازلان؟”
ازلان کا یہ انداز اسے بہت کچھ باور کرا گیا۔
“سچ سچ بتاؤ حرم کہاں ہے؟ ذوناش آئی سوئیر میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔۔”
ازلان ایک ہاتھ سے اس کا گلا دباتے ہوۓ چبا چبا کر بولا۔
ذوناش کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
****////////****
“ہاےُ اس بچی نے رو رو کر دماغ چاٹ لیا ہے میرا۔۔۔”
زلیخا بیگم دونوں ہاتھوں سے سر تھامتی ہوئی بولیں۔
ماناب رو رہی تھی اور وہ چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ بانی کو دیکھ رہی تھیں۔
ماناب کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا وہ معصوم جان اپنی ماں کے بغیر تڑپ رہی تھی لیکن ان بے حس لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“فیڈر ٹھونس دے اس کے منہ میں کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہے؟”
زلیخا بیگم خطرناک تیور لئے بولیں۔
“بیگم صاحبہ ابھی چند ماہ کی تو بچی ہے فیڈر بھی نہیں پی رہی رات بمشکل زور زبردستی کر کے چند قطرے اس کے پیٹ میں ڈالے ہوں گے۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اچھی مصیبت گلے ڈال لی ہے۔۔۔”
زلیخا بیگم ہنکار بھرتی ہوئی بولیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: