Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 2

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 2

–**–**–

“یہاں شریفوں کے لئے محفل منعقد کی جاتی ہے جسے بے شرم دوشیزائیں سجاتی ہیں۔ یہ حیا کے نخرے یہاں نہیں چلتے جتنی جلدی سمجھ جاؤ گی تمہارے حق میں بہتر ہے۔۔۔۔۔”
مہر تلخی سے گویا ہوئی۔
“آ۔۔۔آپ بے حیا ہیں؟۔۔۔۔۔”
وہ جھجھکتے ہوئے اس نازک حسن کے سراپے کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں میں بے حیا ہوں۔۔۔۔۔۔”
مہر کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی چھائی تھی۔
وہ اشک بہاتی مہر کو دیکھنے لگی۔
مہر مزید بنا کچھ کہے باہر نکل آئی۔
ملائی جیسے پاؤں ڈھنڈے فرش پر رکھتی وہ کمرے کی جانب چلنے لگی۔
خاموشی کے راج میں پائیل کی جھنکار ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔
برش پکڑ کر پھر سے آئینے کے سامنے آ گئی۔
اپنا ایک ایک نقش آئینے میں دیکھنے لگی۔
آئینے پر ایک مغرورانہ نظر ڈال کر ہٹ گئی۔
****//////****
“حرم یار کچھ لے آؤ جا کر یا بھوکا مارنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“یار اب تم خود سوچو کون وہاں تک جاےُ اور کھانے کو کچھ لاےُ؟۔۔۔۔۔۔”
حرم چند قدم کی مسافت پر کھڑے کینٹین والے کی سمت اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“مر جاؤ گی نہ تم, دریا عبور کر کے جانا ہے جو تمہیں ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ تنک کر بولی۔
چند ٹیبل چھوڑ کر دوسرے ٹیبل پر ازلان اور اس کا گروپ براجمان تھا۔
“اچھا بھئ جا رہی ہوں کیا ہو گیا۔۔۔۔۔”
دوپٹہ جو سر سے ڈھلک رہا تھا حرم اسے درست کرتی کھڑی ہو گئی۔
انشرح لب دباےُ مسکراہٹ دبانے کی سعی کر رہی تھی۔ جس میں وہ ناکام ہو رہی تھی۔
حرم دونوں ہاتھ میں پلیٹیں پکڑے واپس اپنے ٹیبل کی جانب آ رہی تھی۔
نا جانے اس کا دھیان کس جانب تھا جو وہ لڑکھڑائی اور نان کے ساتھ لطف اٹھانے والی دہی کی چٹنی سیدھی ازلان کی شرٹ پر جا گری۔
ایسے جیسے حرم نے فٹ بال سیدھا اس پر پھینکا ہو۔
اس کاروائی کے وقوع پذیر ہونے میں صرف ایک لمحہ لگا تھا۔
ازلان منہ کھولے ایک نظر حرم کو دیکھتا پھر دوسری نظر اپنی شرٹ پر ڈالتا۔
چہرہ سرخ ہو رہا تھا, گردن کی رگیں ابھرنے لگیں, مٹھیاں بھینچ کر وہ کھڑا ہو گیا۔
حرم کو لگا اس کا جنازہ نکلنے والا ہے۔
“سب الٹا سیدھا اسی کے سامنے ہونا ہے حرم تم بھی اندھوں کی طرح چل رہی تھی آنکھیں استعمال کر لیتی تو یہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔”
ازلان کو اپنی جانب قدم بڑھاتے دیکھ کر حرم خود کلامی کرنے لگی۔
کچھ طالبات چہرہ موڑ کر انہیں دیکھنے لگے۔
بھلا ایسے تماشے بھی کوئی چھوڑنا چاہے گا۔
“یہ آنکھیں اس کینٹین والے کو ادھار دے کر آئی تھی کیا؟۔۔۔۔۔”
ازلان ضبط کرتا ہوا بولا۔
“وہ مجھے نہیں پتہ تھا سامنے تم ہو۔۔۔۔۔”
حرم تھوک نگلتی ہوئی بولی۔
“وہ تو میں جانتا ہوں تمہاری آنکھیں کام کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں, ٹرسٹ می تمہاری جگہ کوئی لڑکا ہوتا نہ تو اب تک اس کا حشر نشر کر چکا ہوتا میں۔۔۔۔۔۔”
ازلان چبا چبا کر بولا۔
“حرم کیا ہو گیا؟۔۔۔۔”
انشرح اور آمنہ انہیں دیکھ کر آ گئیں۔
“میرا خیال ہے جو پیسہ تم لوگ کھانے پر صرف کرتے ہو اگر اس کی آنکھیں لگوا دو تو زیادہ بہتر ہو گا۔۔۔۔۔۔”
وہ گھوری سے نوازتا حرم کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
حرم تھوک نگلتی ایک قدم پیچھے ہٹی۔
“میں آپ کو نئی شرٹ لا دوں گی۔۔۔۔۔”
ازلان کے خاموش ہوتے ہی حرم ہمت کرتی ہوئی بولی۔
“اپنے لیے آنکھیں کیوں نہیں لے آتی, دل تو کر رہا ہے یہ تمہارے منہ پر مار دوں۔۔۔۔۔۔”
ازلان نے اس کے ہاتھ میں پکڑی دوسری پلیٹ پر ہاتھ مارا اور وہ زمین بوس ہو گئی۔
“ریلیکس یار, لڑکیاں ہیں۔۔۔۔۔۔”
وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
حرم بوکھلا کر ازلان کو دیکھنے لگی۔
انشرح اور آمنہ بھی گھبرا گئیں۔
“لڑکیاں ہیں تو اس کا کیا مطلب کہ یہ سب کرتی پھریں۔۔۔۔”
ازلان پھر سے دھاڑا۔
“کہا تو ہے غلطی سے ہو گیا۔۔۔۔۔” حرم خفگی سے بولی۔
کیفے میں بیٹھے تمام سٹوڈنٹس اس تماشے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
” چل یار چھوڑ۔۔۔۔۔۔۔”
سیفی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا چلنے لگا۔
ازلان کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
آنکھوں میں شعلے اٹھ رہے تھے جو مقابل کو بھسم کر دے۔
“یار بھابھی بنا لینا اسے۔۔۔۔۔۔”
سیفی بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“بھابھی اسے تو میں۔۔۔۔۔”
ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔
“یار ذوناش واپس آےُ گی بھی یا نہیں؟۔۔۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر اکتاہٹ تھی۔
“میں آج کال کر کے پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔”
وکی سنبھل کر بولا۔
ازلان ہنکار بھرتا آگے نکل گیا۔
****////////****
“بانی ابھی تک تم نے اسے سیٹ نہیں کیا؟۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم خفگی سے بولتی ہوئیں اندر آئیں۔
“بیگم صاحبہ مار بھی چکی ہوں ڈرایا بھی ہے, مہر بی بی نے بھی سمجھایا لیکن نہیں وہی عزت کا رونا۔۔۔۔۔۔”
بانی بیزار سی بولی۔
“ایک کام کرو اسے دو دن اعجاز کے سامنے ڈالو دیکھنا پھر ساری عزت کے بھوت اتر جائیں گے۔۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم خونخوار نظروں سے دیکھتی ہوئیں بولیں۔
زلیخا بیگم کی بات پر وہ اندر تک کانپ اٹھی۔
“نہیں پلیز ایسا مت کریں مجھے جانے دیں،
پلیز آپ کو اللہ کا واسطہ مجھے چھوڑ دیں،میری امی انتظار کر رہیں ہوں گیں میرا۔۔۔۔۔”
وہ روتی بلکتی ہوئی بول رہی تھی۔
“کوئی تمہارا منتظر نہیں ہے اب یہی تمہاری زندگی ہے یہیں جیو گی اور یہیں مرو گی۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم زہر اگلنے لگیں۔
“میری امی وہ بیمار ہیں پلیز مجھے جانے دیں میرے سواء ان کا کوئی بھی نہیں ہے پلیز خدا کے واسطے مجھے جانے دیں۔۔۔۔۔۔”
وہ ہاتھ جوڑے آنسو بہا رہی تھی۔
“میں اعجاز کو بھیجتی ہوں تم اسے یہیں چھوڑ کر باہر آ جانا، دیکھنا کیسے اس کی عقل ٹھکانے لگاتا ہے وہ۔۔۔۔۔”
وہ بولتی ہوئیں باہر چلی گئیں۔
زلیخا بیگم اس کی موت کی نوید سنا کر گئیں تھیں۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے بانی کو دیکھ رہی تھی۔
بانی دروازے کو دیکھنے لگی جہاں سے اعجاز نے آنا تھا۔
****///////****
“بہت مسئلہ ہو گیا ہے برہان۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی پیشانی پر شکنیں تھیں۔
” کیا ہوا؟۔۔۔۔۔”
برہان فکرمندی سے بولا۔
“یار بھائی کو معلوم ہو گیا ہے ہماری دوستی کے متعلق۔۔۔۔۔”
“مصطفیٰ شاہ کو؟۔۔۔۔۔” برہان میز پر کہنیاں رکھتا آگے ہو گیا۔
“ہاں بھائی کو۔۔۔۔۔” وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“پھر اب تم نے کیا سوچا ہے؟۔۔۔۔۔” برہان آبرو اچکا کر بولا۔
“بھائی کہتے ہیں شہریار کے ساتھ کام پر جایا کروں اور تم سے میل ملاپ ختم کر دوں۔۔۔۔۔”
“تم سوچ لو میں زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔” برہان پیچھے ہوتا کرسی سے ٹیک لگا کر بولا۔
“یار عینی کمال کا مال ہے اسے چھوڑنے کا کیسے دل کرے گا۔۔۔۔۔۔” شاہ ویز آہ بھرتا ہوا بولا۔
“چل پھر ایک چکر لگا کر آتے ہیں مشل بھی آئی ہوئی ہے ہوٹل میں۔۔۔۔۔”
برہان کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“دل تو کر رہا ہے لیکن بھائی کو اگر معلوم ہو گیا تو۔۔۔۔”
شاہ ویز شش و پنج میں مبتلا تھا۔
“نہیں معلوم ہوتا وہ آج کل اپنے آفس میں مصروف ہے باہر کی خبر نہیں اسے۔۔۔۔۔”
برہان اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“اچھا یہ بتا ماحول کیسا بنایا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اس کے ہمراہ قدم اٹھاتا ہوا بولا۔
“شیشہ تیار کر رکھا ہے باقی اپنا انتظام خود کر لینا بھئ۔۔۔۔۔
وہ آنکھ دباتا ہوا بولا۔
****//////****
مہر رقص کر کے واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
خاموشی میں پائیل کی آواز گونج رہی تھی۔
سرخ رنگ کی روشنیوں نے راہداری کو منور کر رکھا تھا۔
مہر نے پیشانی سے بندیا اتاری اور ہاتھ میں پکڑ کر چلنے لگی۔
خاموشی میں کسی کی سسکیاں سنائی دے رہیں تھیں۔
مہر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
ایک لمحہ لگا تھا اسے سمجھنے میں۔
“یہ یقیناً وہی لڑکی ہو گی۔۔۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی آگے چلنے لگی۔
دروازہ بند تھا۔
مہر نے ہاتھ رکھتا تو وہ کھلتا چلا گیا۔
سامنے وسط میں پڑے بستر کے بائیں جانب وہ لڑکی سر گھٹنوں پر رکھے سسک رہی تھی۔
اس کی ابتر حالت اس بات کا ثبوت تھی کہ اعجاز یہاں سے جا چکا ہے۔
مہر چلتی ہوئی اس کے پاس آ گئ۔
پائیل کی چاپ پر اس نے سر اٹھا کر مہر کو دیکھا۔
سرخ آنکھیں، آنسوؤں سے تر چہرہ، تکلیف چہرے سے عیاں تھیں۔
مہر کو اس پر ترس آ رہا تھا۔
آستین پھٹی ہوئیں تھیں۔
وہ کرب سے مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں کہا تھا ان کی بات مان لو۔۔۔۔۔” مہر کے لہجے میں ٹھراؤ تھا۔
“انہوں نے میری زندگی تباہ کر دی، میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔۔۔۔”
اس نے روتے ہوۓ چہرہ پھر سے گھٹنوں پر گرا لیا۔
“یہ جگہ جہنم ہے یہاں سے کوئی بھی صحیح سلامت نہیں نکل سکتا۔۔۔۔۔”
مہر کے لہجے میں چوٹ تھی۔
“میری امی کو میری ضرورت ہے وہ بیمار ہیں پلیز مجھے یہاں سے نکلوا دیں۔۔۔۔۔”
مہر استہزائیہ ہنسی۔
“یہاں سے نکلنے کی خواہش دل سے نکال دو، اگر ہم جیسے لوگ ان عزت دار لوگوں کے لئے تفریح کا سامان فراہم نہیں کریں گے تو یہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟۔۔۔۔۔”
“مجھے کیوں سزا دی جا رہی ہے۔۔۔۔” وہ تڑپ کر بولی۔
“سزا تو شاید یہاں سب کو ہی مل رہی ہے اور قصوروار وہ لوگ ہیں جو یہاں آتے ہیں کیونکہ اگر یہ امیر طبقہ یہاں نہ آےُ تو میرا نہیں خیال کوئی کوٹھا باقی رہے گا۔۔۔۔۔”
مہر تلخی سے بولی۔
وہ دھیمی آواز میں کچھ بڑبڑا رہی تھی لیکن مہر سنی ان سنی کرتی باہر کی جانب قدم بڑھانے لگی۔
مہر شہادت کی انگلی سے آنکھ صاف کرنے لگی شاید کچھ چلا گیا تھا آنکھ میں۔
“آج شاہ صاحب نہیں آےُ۔۔۔۔۔” زلیخا بیگم فکرمندی سے بولی۔
“تو باقی جو دنیا بیٹھی تھی وہ کسی گنتی میں نہیں، مجھے فرق نہیں پڑتا وہ شاہ آتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔”
مہر لاپرواہی سے بولی۔
“جانتی ہو نہ سب سے زیادہ شاہ صاحب ہی ہمارا خیال کرتے ہیں اور وہی ناراض ہو گئے۔۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم خفگی سے بولیں۔
“مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟۔۔۔۔۔”
مہر ماہ زلیخا بیگم کی خفا خفا نگاہیں خود پر محسوس کرتی ہوئی بولی۔
“میں نے ناراض نہیں کیا آپ کے شاہ کو۔۔۔۔۔” وہ تنک کر بولی۔
زلیخا بیگم سر جھٹک کر دوسری جانب دیکھنے لگیں۔
مہر ماہ لاپرواہ سی بنی بیٹھی رہی۔
“مہر ہماری بات مانو تو تم۔۔۔۔۔”
“اگر آپ نے مجھ سے کوئی فضول نوعیت کا مطالبہ کیا تو اپنا اور میرا معاہدہ یاد کر لیں اور اگر بھول گیا ہے تو میں یاد کروا دیتی ہوں۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم کی بات مکمل ہونے سے قبل مہر ماہ پھٹ پڑی۔
“مہر ہماری نرمی کا تم ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔۔۔۔۔”
وہ پیشانی پر بل ڈالتی ہوئیں بولیں۔
“آپ بھی ہماری خاموشی کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیں۔۔۔۔۔”
وہ زلیخا بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ترکی بہ ترکی بولی۔
زلیخا بیگم ضبط کرتی خاموش ہو گئیں۔
اگر مزید بحث کرتیں تو بات بگڑ جاتی اور یہی مچھلی تو پورے سمندر کی رونق تھی اسے کیسے اپنا مخالف بنا لیتیں۔
زلیخا بیگم کشمکش میں مبتلا تھیں۔
مہر سونے کی تیاری کر رہی تھی اور اب بیزار سی زلیخا بیگم کو دیکھنے لگی مانو اس کے آرام میں خلل پیدا کیا ہو اور اب باہر جانے کا بول رہی ہو۔
زلیخا بیگم اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر کھڑی ہو گئیں اور گرارہ سنبھالتی دروازے کی جانب چلنے لگیں۔
مہر کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
ہاتھ کو مٹھی کی شکل میں زور سے بند کر رکھا تھا۔
اتنی طاقت سے کہ اس کی ہتھیلی پر ناخنوں کے نشان ثبت ہو گئے۔
“تماشہ سمجھ رکھا ہے مجرے سے دل نہیں بھرتا اب یہ کام بھی مجھ سے کروانا چاہتے ہیں، میں بھی دیکھتی ہوں یہاں کون میری مرضی کے خلاف چلتا ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی صوفے بیڈ سے اٹھی، چلتی ہوئی دروازے کے پاس آئی اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔
****//////****
“آج تو کیوں نہیں آیا؟۔۔۔۔۔”
عدیل سیگرٹ کا کش لیتا ہوا بولا۔
“بس کچھ مانگ رکھی ہے اگر وہ پوری کر دیں گے تو وہاں کا رخ بھی کر لوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ لبوں سے سرمئ دھواں اڑاتا ہوا بولا۔
سیاہ اندھیری رات میں وہ دونوں چھت پر بیٹھے سیگرٹ پھونک رہے تھے۔
مہتاب آج فلک پر دکھائی نہیں دے رہا تھا شاید وہ بھی خفا تھا جیسے شاہ خفا تھا۔
چاروں سمت خاموشی کا راج تھا ایسے میں ان کی دھیمی آوازیں اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتیں۔
آس پاس درخت اس وقت سیاہ دکھائی دے رہی تھی۔
ایک چھوٹی سی لائٹ انہوں نے اپنی چارپائی پر جلا کر رکھی ہوئی تھی جو ان کے اردگرد سے اندھیرے کو تمام کرنے کی سعی کر رہی تھی۔
“کیسا مطالبہ؟۔۔۔۔۔”
عدیل تجسس سے بولا۔
“کچھ خاص نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ کا انداز ٹالنے والا تھا۔
“کمینے ہم اتنے پرانے دوست ہیں اور تو ابھی بھی مجھ سے راز رکھتا ہے۔۔۔۔۔”
عدیل شکوہ کناں نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“جب وقت آےُ گا معلوم ہو جاےُ گا۔۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی بات کا اثر کا نہ لیا۔
“کوئی نہیں تیرا بھی وقت آےُ گا۔۔۔۔۔”
عدیل کہتا ہوا سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلنے لگا۔
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی آپ پورے گاؤں پر حکم چلاتے ہیں ایک وہ چھوٹے پر حکم نہیں چلتا آپ سے۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔
“تم نے ہی سر پر چڑھایا ہے چھوٹے کو اب کہاں سنتا ہے میری وہ۔۔۔۔۔” کمال صاحب کوفت سے بولے۔
“میں نے کہاں سر پر چڑھا رکھا ہے آپ ہی کی شہ پر وہ دندنا پھرتا ہے صبح ہونے دیں میں خود شاہ سے بات کروں گی کہ چھوٹے کو سیدھا کرے نا جانے ساری ساری رات کہاں رہتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ فکرمندی سے بولیں۔
“مجھ سے پوچھو کہاں رہتا ہے سب معلوم ہے مجھے، آغا کو لگایا تھا اس کے تعاقب میں پوری رپورٹ دی ہے مجھے۔۔۔۔۔”
وہ غصے سے گویا ہوۓ۔
“پتہ نہیں اس لڑکے کا کیا بنے گا کل کلاں کو شادی کریں گے تو لوگ سو باتیں بنائیں گے کہ شاہ کمال ترین کا بیٹا آوارہ گرد ہے۔۔۔۔۔” وہ افسوس سے بولیں۔
“ہاں تو آوارہ گرد ہی ہے آدھا گاؤں تو جانتا ہے اور اب خاموشی سے سو جاؤ ورنہ تمہارے چھوٹے (شاہ ویز) کا غصہ تم پر نکال دیں گے۔۔۔۔۔”
وہ خطرناک تیور لئے بولے۔
ضوفشاں بیگم نے خاموشی میں عافیت جانی اور دروازے کی سمت بڑھیں۔
“نجمہ کہاں مر گئی ہے دودھ لانے کا بولا تھا اسے؟۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کی غصے سے بھرپور آواز گونجی۔
“بیگم صاحبہ آئی۔۔۔۔۔”
نجمہ گھبرا کر بولی۔
“آنے دو اسے ٹانگیں توڑنی ہیں اس کی کوئی کام وقت پر نہیں کرتی۔۔۔۔۔”
وہ کہتی ہوئیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔
کمال صاحب چشمہ لگاےُ حساب کتاب دیکھنے لگے۔
****////////****
“حرم تمہیں معلوم ہے کل سپورٹس گالا ہے۔۔۔۔۔”
انشرح پرجوش انداز میں بولی۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔” حرم سادگی سے بولی۔
“لو جی، یہ بتاؤ تمہیں اپنا آپ معلوم ہوتا ہے یا نہیں۔۔۔۔۔” وہ آنکھیں چھوٹی کیے بولی۔
“ظاہر سی بات ہے معلوم ہوتا۔۔۔۔۔”
حرم شانے اچکا کر بولی۔
اور سب سے بڑی بات ازلان شاہ ریس میں حصہ لے رہا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش کمرے میں قدم رکھتی ہوئی چلائی۔
“اووہ ذونی کیا اینٹری ماری ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ اس کے گلے لگتی ہوئی بولی۔
ذوناش بائیں آنکھ دباتی مسکرانے لگی۔
“تمہیں سب معلوم ہوتا ہے ہاں۔۔۔۔”
حرم اس سے ملتی ہوئی بولی۔
“بلکل تم بھول گئی بی بی سی نیوز ہوں میں۔۔۔۔۔”
وہ شرارت سے بولی۔
“تمہاری ماما کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔۔۔”
آمنہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“ہاں اب بہتر ہے اس لئے آ گئی۔۔۔۔۔”
وہ ہینڈ بیگ رکھتی ہوئی بولی۔
“یار ذوناش صبح آ جاتی اتنی جلدی کس بات کی تھی تمہارے کون سا بچے رو رہے تھے یہاں؟۔۔۔۔۔”
آمنہ شرارت سے بولی۔
“تم سب میرے بچے ہی تو ہو۔۔۔۔۔”
وہ لب دباےُ مسکراتی ہوئی بولی۔
“ذونی تمہیں کس نے بتایا کہ ازلان ریس میں حصہ لے رہا ہے؟۔۔۔۔۔”
حرم حیرت سے بولی۔
“تم لوگ یونی میں رہ کر بھی موجود نہیں ہوتے اور میں یونی میں نہ ہو کر بھی موجود ہوتی ہوں۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ کی کالر کھڑی کرتی ہوئی بولی۔
سب مسکرانے لگیں۔
“ہاں بھئی تم تو ذوناش ہو۔۔۔۔۔” انشرح الماری سے سر باہر نکالتی ہوئی بولی۔
“اچھا سب چھوڑو یہ بتاؤ تم لوگ کیا پہن رہے ہو کل؟۔۔۔۔۔”
وہ بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی بولی۔
“میں سوچ رہی تھی سپورٹس ڈے ہے تو پھر سپورٹس سے متعلقہ کپڑے ہوں۔۔۔۔۔” آمنہ کہ کر سب کو دیکھنے لگی۔
“یار پلیز دعا کرنا کل میرا کرش مجھے دیکھ لے۔۔۔۔” انشرح آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“آمین ثم آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔” ذوناش جھٹ سے بولی۔
ذوناش کی بات پر سب مسکرانے لگیں۔
“حرم تم کیا پہنو گی؟۔۔۔۔۔”
ذوناش اس کی جان رخ موڑتی ہوئی بولی جو خاموش بیٹھی تھی۔
“میں کوئی بھی پہن لوں گی جیسے روز پہن کر جاتی ہوں۔۔۔۔۔”
“حرم تم کل بھی شلوار قمیص پہنوں گی نو۔۔۔۔۔”
ذوناش نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“پھر۔۔۔۔
حرم پریشانی سے بولی۔
“تم بھی ہمارے جیسی ڈریسنگ کرو گی میں سب کے لئے شرٹس لائیں ہوں جینز تو سب کے پاس ہے نہ؟۔۔۔۔۔”
ذوناش اونچی آواز میں بولی تاکہ الماری میں سر دئیے انشرح بھی سن لے۔
“لیکن ذونی میرے پاس تو جینز بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
حرم کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
“تم فکر مت کرو میں نے تمہارا انتظام کر لیا ہے۔۔۔۔” ذونی نرمی سے مسکراتی ہوئی بولی۔
“لیکن میں نے کبھی نہیں پہنی۔۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“تو کیا ہوا ویسے بھی تمہارے لئے میں نے شرٹ تھوڑی سے لانگ لی ہے اس لئے تمہیں بھی عجیب نہیں لگے گا اب ہم سب سیم پہنے گے میں کچھ نہیں سنوں گی۔۔۔۔۔”
ذوناش حتمی انداز میں بولی۔
حرم متفکر سی لب دباےُ سب کو دیکھنے لگی۔
****///////****
مہر منہ اندھیرے کمرے سے نکلی۔
راہداری میں خاموشی کا راج تھا عموماً اس وقت سب سو رہے ہوتے ہیں۔
وہ راہداری میں سیدھا چلنے لگی۔
پھر دائیں جانب مڑ کر ریلنگ پر ہاتھ رکھے نیچے دیکھنے لگی جہاں روزانہ وہ مجرا کرتی۔
خاموشی میں دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔
مہر نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو اس کے عقب میں جو کمرہ تھا وہاں سے رانی نکلتی دکھائی دی،
نازیبا لباس دوسرے لفظوں میں نائٹی پہنے جس کا گلا ضرورت سے زیادہ گہرا تھا وہ قہقہ لگاتی آ رہی تھی۔
مہر نے سانس خارج کر کے چہرہ موڑ لیا۔
مہر اس وقت ٹراؤذر کے ساتھ ٹی شرٹ پہنے ہوۓ تھی۔
ایک وہی تھی اس کوٹھے پر جس کا لباس باقی سب سے منفرد ہوتا۔
مہر ہمیشہ کی مانند ننگے پاؤں چل رہی تھی پائیل شور پیدا کر رہی تھی۔
اس کوٹھے میں صرف اس کی پائیل کی آواز سنائی دیتی تھی کیونکہ باقی سب گھنگھرو پہنتی تھیں اور مہر نے کبھی گھنگھرو نہیں پہنے تھے۔
وہ اپنی مرضی کی مالک تھی اور اپنی ہی مرضی مسلط کرتی تھی۔
“بانی۔۔۔۔”
بانی جو نیچے تھی سر اٹھا کر مہر کو دیکھنے لگی۔
“جی مہر بی بی۔۔۔۔۔”
“مجھے پارلر جانا ہے کلر کروانے گاڑی تیار کروا دینا۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے بی بی جی۔۔۔۔۔”
بانی سر ہلاتی باہر نکل گئ۔
بھوری لٹیں مہر کے رخسار پر بوسے دے رہیں تھیں۔
مومل جیسی انگلیوں سے انہیں پرے کرتی چلنے لگی۔
****////////****
“آمنہ مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم خود کو آئینے میں دیکھتی ہوئی بولی۔
ڈائر وولوز کے نام کی آدھی آستین والی ٹی شرٹ پہنے جس پر بنا آستین والی شرگ پہن رکھی تھی جو گھٹنوں تک آ رہی تھی۔
“کچھ بھی عجیب نہیں لگے رہا بلکہ تم تو بہت اچھی لگ رہی ہو, ذونی دیکھو ذرا اسے۔۔۔۔۔”
آمنہ حرم کا رخ ذوناش کی جانب موڑتی ہوئی بولی۔
“واہ حرم کمال لگ رہی ہو۔۔۔۔۔” ذوناش کی آنکھوں میں ستائش تھی۔
سیاہ سٹیپ میں کٹے بالوں کو ٹیل پونی کی شکل میں مقید کر رکھا تھا میک اپ کے نام پر صرف پنک کلر کی لپ اسٹک لگا رکھی تھی جو اس کے گندمی رنگ کو پرکشش بنا رہی تھی۔
اپنی تمام تر معصومیت لئے وہ دلکش لگ رہی تھی۔
“مجھے تو اچھا نہیں لگ رہا یہ۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ پکڑتی ہوئی بولی۔
“میں چینج کرنے جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔”
حرم الماری کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“خبردار اگر تم نے چینج کرنے کا نام لیا تو۔۔۔۔۔”
انشرح اس کی راہ میں آتی ہوئی بولی۔
حرم بےچارگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“اتنی پیاری لگ رہی ہو فضول میں ناشکری کرتی ہو۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولی۔
“ہاسٹل سے نکلنا ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔”
ذوناش دروازے میں کھڑی ہو کر بولی۔
حرم جو منہ بسورے کھڑی تھی آمنہ اس کا بازو پکڑ کر دروازے کی جانب چلنے لگی۔
وسیع و عریض گراؤنڈ میں ایک جانب سٹیج بنایا ہوا تھا تو اس کے دائیں جانب بیٹھنے کی جگہ تھی جس کے سامنے ریس کے لئے ٹریک بنایا گیا تھا۔
دوسری سمت میں سیک ریس کا انتظام کیا گیا تھا۔
حرم خود میں سمٹ کر چل رہی تھی۔
“ایسا لگ رہا ہے سب مجھے ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔”
وہ گلے میں سکارف ڈالتی ہوئی بولی۔
“تم پاگل ہو حرم، ہم اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے آئیں ہیں۔۔۔۔”
آمنہ آہستہ آواز میں بولی۔
نگاہوں کے عین مقابل ازلان اور اس کا گروپ کھڑا تھا۔
وہ سب بھی ڈائر وولوز کے نام کی ٹی شرٹس پہنے ہوۓ تھے۔
ازلان کچھ بول رہا تھا جب اس کی نظر ان سب پر پڑی۔
حرم وسط میں تھی دائیں جانب ذوناش اور بائیں جانب آمنہ تھی۔
انشرح ان کے عقب میں اپنے کرش کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔
ازلان دلچسپی سے دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں ستائش تھی،پسندیدگی تھی اور خوشی بھی۔
لب دھیرے سے مسکراےُ اور اس نے نظروں کا زاویہ موڑ لیا ذوناش بھی مسکرا رہی تھی۔
وہ سب آ کر بیٹھ گئیں۔
سب سے پہلے ریس کا آغاز ہوا۔
ازلان مغرور چال چلتا ہوا آ رہا تھا۔
تمام سٹوڈنٹس جو ریس میں حصہ لے رہے تھے اپنی اپنی ٹیم کے نام کی شرٹس زیب تن کئے ہوۓ تھے۔
ازلان اس سرخ اور سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ میں دلنشیں لگ رہا تھا اس پر اس کا غرور چار چاند لگا دیتا۔
ریس میں شریک سٹوڈنٹس نے ہاتھ زمین پر رکھے۔
سیٹی کی آواز گونجی اور سب بھاگنے لگے۔
سب اپنی اپنی ٹیم کے ممبر کو پکار رہے تھے۔
آوازیں ہی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔
حرم چہرے پر سنجیدگی سجاےُ ازلان کو دیکھ رہی تھی جو سب سے آگے نکل رہا تھا۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اختتامی لائن تک آ گیا۔
دونوں ہاتھ کھولے وہ آگے آیا اور ربن نیچے گر گیا۔
نعرے سنائی دینے لگے،
شور پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا۔
ازلان کے گروپ نے اسے کندھے پر اٹھا لیا اور اس کی گردن فخر سے مزید تن گئی۔
لاشعوری طور پر ازلان کی نظر حرم کے گروپ پر گئ۔
ذوناش مسکرا رہی تھی،
ازلان بھی مسکرانے لگا۔
حرم جو ازلان کو دیکھ رہی تھی اس کی نظریں محسوس کر کے سٹپٹا گئ۔
سب آ کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
اب باری آئی رسہ کشی کی۔
ایک طرف سینیر تو دوسری جانب جونیئر،
مقابلہ برابری کا تھا دونوں ہی سر توڑ کوشش کر رہے تھے جیتنے کی۔
جونیئر کا پلہ بھاری ہوا۔
انہوں نے جھٹکے سے رسی کھینچی اور تمام سینیر لائن پار کر کے ان کی جانب آ گرے۔
گراؤنڈ میں پھر سے شور سنائی دینے لگا۔
نعرے بازی ہونے لگی۔
مانو جنگ کا میدان بنا رکھا تھا۔
“اب چلتے ہیں سیک ریس کی طرف۔۔۔۔۔”
پروفیسر مائیک کے سامنے کھڑے بول رہے تھے۔
ریس میں شریک طالبات نے بوری میں پاؤں ڈالے اور ناف تک لا کر بوری اوپر سے باندھ لیا۔
سیٹی کی آواز گونجی اور وہ سب چھلانگیں لگانے لگے۔
جونیئرز کا ایک کھلاڑی منہ کے بل زمین پر جا گرا باقی سب اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔
شاید جونیئرز کی قسمت اچھی تھی اس ریس کے فاتح بھی وہی کہلاےُ۔
“ذونی چلو کچھ کھانے چلتے ہیں۔۔۔۔۔”
حرم پروفیسر کو دیکھتی ہوئی بولی جو فاتح کو چیخ چیخ کر پکار رہے تھے۔
“بھوک تو مجھے بھی لگی ہے چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔”
ذوناش کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“یار جلدی چلو نہ میرا کرش بھی کیفے کی جانب گیا ہے۔۔۔۔۔۔”
انشرح سب سے آگے نکلتی ہوئی بولی۔
“سچی یہ اویس کے پیچھے پاگل ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
حرم اور ذوناش دونوں مسکرانے لگیں۔
اتفاق سے ازلان کا گروپ بھی کیفے میں ہی براجمان تھا۔
“آج میں کچھ لینے نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔”
جونہی حرم کی نظر ازلان سے ٹکرائی وہ فوراً بول پڑی۔
آمنہ نے چہرے کا زاویہ موڑا اور ازلان دکھائی دیا تو بےساختہ قہقہ لگاتی حرم کو دیکھنے لگی جو حونق زدہ سی کھڑی تھی۔
“یار انسان ہی ہے وہ۔۔۔۔۔” ذوناش کہتی ہوئی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔
“مجھ پر تو کسی آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹا ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم منہ بناتی بیٹھ گئ۔
انشرح بے چینی نے اویس کو دیکھ رہی تھی۔
“یار یہ لڑکی کون ہے اس کے ساتھ۔۔۔۔۔”
وہ آنکھیں چھوٹے کئے بولی۔
“یار دھواں اٹھ رہا ہے نہیں۔۔۔۔۔”
آمنہ شرارت سے بولی۔
“منہ توڑ دینا ہے میں نے کوئی فضول گوئی کی تو، اب بتاؤ یہ لڑکی کون ہے۔۔۔۔۔”
انشرح خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولی۔
“بہن تیری سوتن ہے۔۔۔۔۔”
انشرح نے لقمہ دیا۔
“نا کر یار۔۔۔۔۔”
انشرح مظلومیت سے بولی۔
“کیوں نہ کروں۔۔۔۔” ذوناش قہقہ لگاتی ہوئی بولی۔
ازلان لب دباےُ انہیں دیکھ رہا تھا نا جانے کیوں آج نگاہ بار بار اِدھر اٹھ رہی تھی۔
“بھائی پیار ویار تو نہیں ہو گیا۔۔۔۔۔”
سیفی اس کی نظروں کا تعاقب کرتا ہوا بولا۔
“ہاں بلکل تیری بیٹی سے جو کچھ ہی دن میں اس دنیا میں آےُ گی۔۔۔۔۔”
ازلان جل کر بولا۔
“بے غیرت ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
سیفی معصومیت سے بولا۔
“جلدی کر پھر میں انتظار کر رہا ہوں تیری بیٹی کا۔۔۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“لعنت ہو کمینے۔۔۔۔۔” سیفی جی بھر کر بدمزہ ہوا۔
اسے دیکھ کر سب قہقہے لگانے لگے۔
“ذونی تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اس چڑیل بلو باندری کا۔۔۔۔۔”
انشرح جل بھن کر بولی۔
“امی کا فون آ رہا ہے، میں ابھی آئی۔۔۔۔۔”
حرم کہتی ہوئی چلی گئ۔
ازلان کی نظر ذوناش سے ہوتی حرم پر گئ۔
“کدھر بھائی۔۔۔۔۔” وکی کھڑا ہوتا دیکھ کر بولا۔
“حساب چکتا کرنے۔۔۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا چل دیا۔
چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔
“یار میں نے سوچا تمہارا دل ٹوٹ جاےُ گا اگر میں تمہیں بتا دوں کہ اویس کی گرل فرینڈ ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“تو پھر اب کیوں بتایا؟ نہ بتاتی مجھے لاعلم ہی رہنے دیتی۔۔۔۔”
وہ چہرہ ٹیبل پر گراتی دہائی دیتی ہوئی بولی۔
“اب تو دل میں دراڑ آ گئی تو میں نے سوچا ٹوٹ ہی جاےُ۔۔۔۔۔”
ذوناش قہقہ لگاتی ہوئی بولی۔
آمنہ بھی لب دباےُ مسکرا رہی تھی۔
“ہاےُ کمینہ دیکھ ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔”
انشرح اویس کو دیکھتی ہوئی بولی جو اب تنہا بیٹھا تھا۔
“اور وہ کمینہ جو دیکھ رہا ہے اس کا کیا؟۔۔۔۔۔”
آمنہ بائیں جانب بیٹھے لڑکے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
انشرح اور ذوناش دونوں نے بیک وقت اس سمت میں دیکھا مقابل نے بھرپور انداز میں دانتوں کی نمائش کی۔
“بےغیرت کیسے دیکھ رہا گٹر میں گرے میری بلا سے۔۔۔۔۔”
انشرح بولتی ہوئی پھر سے اویس کو دیکھنے لگا۔
****///////****
“شاہ صاحب آپ اس وقت۔۔۔۔”
زلیخا بیگم دوپہر میں انہیں یہاں دیکھ کر گھبرا گئیں۔
“بلکل میں نے سوچا بہت وقت برباد کر لیا اب مزید نہ کیا جاےُ۔۔۔۔”
شاہ ٹانگ پے ٹانگ چڑھاےُ آرام دہ انداز میں بیٹھا تھا صوفے کی پشت سے ٹیک لگاےُ بازو صوفے کی پشت پر رکھے زلیخا بیگم کو دیکھتا ہوا بولا۔
“میں سمجھ رہی ہوں آپ کی بات۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکی۔
مہر ماہ جو ابھی پارلر سے واپس آئی تھی شاہ کو زلیخا کے کمرے میں جاتے ہوۓ دیکھ چکی تھی۔
چادر کمرے میں پھینک کر وہ زلیخا بیگم کے کمرے کی جانب چلنے لگی۔
“یہ چیک خالی ہے جتنی چاہیں رقم لکھیں مہرماہ میری ہے اب۔۔۔۔”
شاہ دو ٹوک انداز میں بولا۔
“حضور کچھ تو رحم کریں مجھ غریب پر۔۔۔۔” وہ شاہ کے ہاتھ میں لہراتا ہوا چیک دیکھ کر بولی۔
شاہ تیکھے تیور لئے اسے گھورنے لگا۔
“تم ہو کون میری قیمت لگانے والے۔۔۔” مہرماہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر آئی۔
شاہ مصطفی کمال نے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی۔
“مہرماہ تم باہر جاؤ ہم بات کر رہے ہیں نہ۔۔۔” زلیخا بیگم نے بات سنبھالنی چاہی۔
“بتاؤ مجھے تم کیا سمجھتے ہو خود کو جو میرا سودا کر رہے ہو۔۔۔۔”
مہرماہ اس کے عین مقابل آ گئی۔
شاہ کھڑا ہو گیا۔
“تمہیں تو خوش ہونا چائیے اس ذلت سے نجات دلا رہا ہوں.۔۔۔۔”وہ چبا چبا کر بولا۔
“مجھے آزادی دلوا کر تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو بہت اچھے انسان ہو ہممم, اتنے ہی پاکباز ہو تو یہاں کیا کرنے آتے ہو,تم جیسے مردوں کو ہم طوائف سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔”
چہرے پر تلخی اور لفظوں میں حقارت, شاہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
“تم ایک طوائف ہو کر مجھ سے اس لہجے میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔” وہ غرایا۔
“یہ تمہارے باپ کی ملکیت نہیں نہ ہی مہرماہ تمہاری جاگیر ہے جس کا سودا تم کرو۔۔۔۔”
مہرماہ کی آواز بھی دیواروں کو پھلانگنے لگی۔
زلیخا بیگم حیران پریشان سی ان دونوں کو دیکھ رہیں تھیں۔
“سودا تو تمہارا ہو گا بلکہ ہو چکا ہے,جاؤ گی تم میرے ساتھ ہی۔۔۔۔” شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
وہ نازک حسن کا سراپا, اس کی مضبوط گرفت پر بھی اف نہ کر سکی, بلا کی سختی تھی۔
“زلیخا بیگم یہ چیک جب دل چاہے کیش کروائیں, اپنی چیز میں لے جا رہا ہوں۔۔۔۔”
وہ چیک ٹیبل پر پھینکتا زہر آلود نظروں سے مہرماہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“تم جیسے مردوں۔۔۔۔”
“بہت بول لیا اب مزید ایک لفظ نہیں ۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی کلائی پکڑی اور باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: