Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 20

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 20

–**–**–

“اچھا اب دفعہ ہو اسے لے کر جا یہاں سے ورنہ میں نے کچھ مار دینا ہے اس کے گلے میں جو کل سے پھاڑ پھاڑ کر میرے کان خراب کر رہی ہے یہ بچی۔۔۔”
وہ کھا جانے والی نظروں سے گھورتی ہوئی بولیں۔
بانی ماناب کو لیے باہر نکل آئی۔
اگرچہ بانی ایک بے حس عورت تھی لیکن اس بچی کے آنسو اسے بھی رُلا رہے تھے۔
جسے نجانے کس جرم کی سزا دی جا رہی تھی اس معصوم کو۔
****////////****
اندھیری رات اور گہری تنہائی۔
چار سو پھیلی تاریکی ایک خوفناک سا منظر پیش کر رہی تھی۔
مہر نے خود کو اس جگہ پر تنہا پایا۔
وہ ننگے پیر زمین پر کھڑی تھی جب اسے اپنے پاؤں پر کچھ محسوس ہوا۔
تکلیف اتنی شدید تھی کہ وہ درد سے چلانے لگی۔
اندھیرے کے باعث اس کی آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں کہ کس چیز نے اسے کاٹا ہے۔
اس کے بعد پے دے پے مہر کے پاؤں پر وار ہونے لگا۔
مہر چیخنے لگی چلانے لگی لیکن اس کی پکار سننے والا کوئی بھی نہیں تھا۔
تکلیف ایسی کہ دل پھٹ کر باہر نکل آےُ۔
مانو کوئی بچھو ڈنگ مار رہا ہو۔
چاند بادلوں کی اوٹ سے جھانکنے لگا تو مہر کو اپنے اردگرد بےشمار بچھو دکھائی دئیے۔
مہر کے حواس جواب دے گئے۔
مہر کا چہرہ متواتر آنسوؤں کے باعث تر ہو چکا تھا۔
مہر کا دل چاہ رہا تھا اپنے پاؤں کاٹ پھینکے۔
“آہ۔۔۔”
وہ تکلیف سے کراہ رہی تھی۔
مہر جھرجھری لیتی کبھی اپنے پاؤں کو دیکھتی تو کبھی ان بےشمار بچھو کو جن کی تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہ تھا۔
بچھو بھی ایسا کہ ایک وار ہی بندے کی جان لے جاےُ۔
مہر نے بھاگنا شروع کر دیا۔
وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی اور بچھو اسے ڈنگ مار رہے تھے۔
مہر کے پاؤں چلنے سے انکاری ہو گئے۔
مہر کے پاؤں سوجھ کر من من بھاری ہو گئے تھے۔
سرخ پاؤں جگہ جگہ پر ابھرتے نشان جو ڈنگ کے باعث تھے۔
مہر کی دل خراش چیخیں نکل رہی تھیں۔
“نہیں۔مجھے تکلیف ہو رہی ہے دور ہو جاؤ۔۔۔”
دوبارہ بھاگنے کی سعی میں مہر اوندھے منہ زمین پر گر گئی۔
وہ ہاتھ سے بچھوؤں کو پرے کرنے لگی تو ہاتھ بھی زخمی ہو گیا۔
وہ جگہ جگہ مہر کے حسم میں ڈنگ مار رہے تھے۔
مہر کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔
مہر نے مٹھی بھینچ لی دل چاہ رہا تھا خود کو نوچنا شروع کر دے۔
جہاں جہاں وہ ڈنگ مار رہے ہیں اس حصے کو کاٹ پھینکنے کا دل چاہ رہا تھا۔
یہ تکلیف کی انتہا تھی۔
مہر پھر سے کھڑی ہوئی اور بھاگنے لگی۔
پاؤں سے خون بہنے لگا تھا۔
ان کا ایک وار ہی جان لیوا تھا اور مہر پر نجانے کتنے وار ہو چکے تھے۔
مہر رکنا نہیں چاہتی تھی اگر رکتی تو تکلیف کی شدت سے شاید خود کو کاٹنا شروع کر دیتی۔
جان تو شاید اب کسی صورت نہ بچتی کیونکہ ان کا زہر مہر کو اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہو رہا تھا۔
اسے قہ آ رہی تھی۔
مہر گر پڑتی بلآخر ایسے مقام پر آ گئی جہاں کوئی بچھو دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
مہر کو روشنی دکھائی دی تو آنکھوں میں امید کے جگنو جگمگانے لگے۔
مہر پھر سے کھڑی ہوئی ایک نظر اپنے پاؤں پر ڈالی۔ خوبصورت دودھیا نرم گداز پروں کا کیا حال ہو چکا تھا۔
اپنے پاؤں دیکھ کر مہر کو قہ آنے لگی تھی۔
جگہ جگہ سے ابھرے سرخ نشان اور ان سے رستا خون۔
مہر نے جھرجھری لی اور بھاگنے لگی۔
جوں جوں مہر آگے جا رہی تھی گرمی بڑھتی جا رہی تھی۔
اس کا وجود پسنے میں شرابور ہو چکا تھا۔
سامنے کا منظر دیکھ کر مہر کا دل باہر نکل آیا۔
وہ حونق زدہ سی اس بھڑکتی آگ کے شعلے دیکھنے لگی۔
سرخ انگارے باہر نکل رہے تھے۔
مزید یہ کہ لوگوں کی دل دوذ چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔
آگ سے اٹھتے شعلے پھیل رہے تھے۔
ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہ رہے تھے۔
مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
وہ واپس جانے کے لیے مڑی لیکن یہ کیا؟
وہ چل نہیں پا رہی تھی۔
تکلیف کے باعث نہیں۔
مہر کے پاؤں میں زنجیر تھی۔
“یا اللہ یہ سب کیا ہے؟”
بے اختیار مہر کے لبوں سے پھسلا۔
سرخ خون کی مانند خوفناک انگارے،نجانے یہ آگ کہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔
“یہ تمہارے گناہوں کا صلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔۔۔”
مہر کو اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔
لیکن وہ چہرہ موڑ کر دیکھ نہ سکی۔
کوئی قوت تھی جو اسے چہرہ موڑنے سے روک رہی تھی۔
گرمی کی حدت مہر کو بڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔
مہر اپنی بازو دیکھنے لگی۔
اسے اپنا جسم پگھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
چہرہ جھلس رہا تھا ابھی وہ آگ کے اندر نہیں تھی اس کے قریب تھی تو جو اندر تھا ان کا حال کیا ہو گا۔
“نہیں پلیز مجھے جانے دیں۔میں مر جاؤں گی پلیز۔۔۔”
مہر چلانے لگی لیکن اس آہ و پکار کر کوئی فائدہ نہیں۔
“پلیز مجھے جانے دیں مجھے جانے دیں میں مر جاؤں گی۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی بول رہی تھی۔
مہر کی آواز پر شاہ کی آنکھ کھل گئی۔
وہ جاےُ نماز تہ لگاتا تعجب سے مہر کو دیکھنے لگا۔
وہ مسلسل بول رہی تھی۔
“مہر؟ مہر کیا ہوا تمہیں؟”
شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
مہر نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں۔
وہ پوری آنکھیں کھولے شاہ کو دیکھنے لگی۔مہر اجنبی نظروں سے کمرے کو دیکھنے لگی۔
“مہ میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟”
مہر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“مہر کیا ہو گیا ہے تم یہیں پر تھیں۔۔۔”
مہر اشک بہاتی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“شاہ مہ میں وہاں تھی پتہ نہیں کون سی جگہ تھی وہ؟ شاہ وہاں بہت آگ تھی اتنی گرم تھی کہ میرا جسم پگھل رہا تھا مجھے اپنی بازو پگھلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی شاہ وہ بہت خوفناک تھی اتنی کہ میرا دل باہر نکل آیا میری آنکھوں کے سامنے وہ سب۔میرے پاؤں؟ مہر لحاف ہٹا کر اپنے پیر دیکھنے لگی جو بلکل صحیح تھے۔شاہ یہ تو زخمی تھے بہت زیادہ بہت بری حالت تھی اس کی مجھے تکلیف ہو رہی تھی کوئی بھی نہیں تھا وہاں شاہ وہ منظر بہت خوفناک تھا مجھے لگ رہا تھا میں بار بار مر رہی ہوں۔۔۔”
مہر ہذیانی انداز میں بولتی جا رہی تھی۔
شاہ ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا جو اشک بہاتی تیز تیز بول رہی تھی۔
“مہر مہر میری بات سنو تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہو گا۔یہاں دیکھو میری بات سنو؟”
شاہ اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب موڑنے لگا۔
“نہیں شاہ وہ سب سچ تھا میں سچ میں وہاں تھی شاہ وہ سب بہت خوفناک تھا بہت بھیانک مہ میں اکیلی تھی اور شاہ اتنی تکلیف تھی کہ میرے پاس الفا الفاظ نہیں ہیں۔۔۔”
مہر اس کے دونوں بازو پر ہاتھ رکھے بولتی جا رہی تھی۔
“مہر بس۔تم یہاں ہو میرے پاس۔کچھ نہیں ہوا تمہیں۔تم بلکل ٹھیک ہو سمجھ رہی ہو نہ؟”
شاہ اسے اپنے ساتھ لگاےُ بول رہا تھا۔
مہر ہچکیاں لیتی رو رہی تھی۔
“شاہ بہت تکلیف ہو رہی تھی مجھے وہ بچھو مجھے ایک بار ڈنگ مارتے اور لگتا تھا میں مر گئی ہوں لیکن میں پھر بھی زندہ پاتی خود کو۔۔۔”
مہر کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
وہ کسی معصوم بچے کی مانند اسے بتا رہی تھی۔
“ٹھیک ہے بس اب نہیں رونا تم نے۔دیکھو کیا حال بنا لیا ہے اپنا؟”
شاہ اسے خود سے الگ کرتا اس کے بال سمیٹنے لگا۔
مہر کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔
“ٹھیک ہو نہ تم؟”
شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“تم سو جاؤ۔آرام کرو میں یہیں بیٹھا ہوں تمہارے پاس۔۔۔”
شاہ اس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا۔
“نہیں شاہ مہ میں نہیں سوؤں گی۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
مہر کی آنکھوں میں تیرتا خوف شاہ سے مخفی نہیں تھا۔
شاہ کا ہاتھ مہر نے مضبوطی سے تھام لیا۔
“ٹھیک ہے سونا مت لیکن لیٹ جاؤ تھوڑا ریسٹ دو اپنے دماغ کو۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا فکرمندی سے بولا۔
“نہیں شاہ مجھے ڈر لگ رہا ہے میں پھر سے وہاں چلی گئی تو؟”
مہر نفی میں سر ہلاتی بول رہی تھی۔
آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر آ رہے تھے۔
شاہ نے دوسرا ہاتھ بڑھایا اور اس کا چہرہ صاف کرنے لگا۔
مہر کی حالت شاہ کو بھی اشک بہانے پر مجبور کر رہی تھی۔
“پھر ایسا کرو اٹھو اور نماز پڑھو دیکھنا تمہارا دل پرسکون ہو جاےُ گا۔۔۔”
شاہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“جاؤ۔۔۔”
شاہ اس کے ہاتھ چھوڑتا ہوا بولا۔
مہر چہرہ صاف کرتی بیڈ سے اتر گئی دوپٹہ اٹھایا اور واش روم کا رخ کیا۔
شاہ سانس خارج کرتا اس سمت میں دیکھنے لگا۔
“نجانے خدا کو کیا منظور ہے؟”
شاہ آہ بھرتا باہر نکل آیا۔
منہ دھو کر وہ زینے اترنے لگا۔
معمول کے مطابق سب ڈرائینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔
حرم کے متعلق صرف شہریار اور شاہ ویز جانتے تھے۔
شاہ تھکے تھکے انداز میں چلتا ہوا آیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
کمال صاحب کرب سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی۔
“بابا سائیں حرم کل سے لاپتہ ہے۔۔۔”
سب بےیقینی سے شاہ کو دیکھنے لگے۔
“کل رات ہم تینوں حرم کو ڈھونڈنے گئے تھے لیکن۔۔۔”
شاہ نے سرد آہ بھرتے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“لیکن کیا؟”
کمال صاحب کی کمزور سی آواز نکلی۔
“کوئی فائدہ نہیں ہوا بابا سائیں۔۔۔”
شاہ کی بجاےُ شہریار بولا۔
“تم سب اب ہمیں بتا رہے ہو؟”
کمال صاحب غراےُ۔
“رات بتا دیتے تو کیا ہو جاتا؟”
شاہ سرد لہجے میں بولا۔
شاہ کی کیفیت سے وہ واقف تھے تبھی خاموش ہو گئے۔
“شاہ میری بچی لاپتہ ہے اور تم سب یہاں بیٹھے ہو؟”
ضوفشاں بیگم متحیر سی بولیں۔
“امی میری بچی بھی لاپتہ ہے۔۔۔”
شاہ نا چاہتے ہوۓ بھی تلخ ہو گیا۔
“آپ جائیں اسے ڈھونڈیں ہم دنیا کو کیا جواب دیں گے؟کہاں چلی گئی وہ؟”
ضوفشاں بیگم اشک بہاتی ہوئی بولیں۔
“پتہ نہیں ہمارے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟”
کمال صاحب متفکر انداز میں بولے۔
شاہ چہرہ موڑے اپنی سوچ میں غلطاں تھا۔
کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
فکر سب کے چہرے سے عیاں تھی۔
****/////////****
ذوناش اس کا ہاتھ ہٹانے کی سعی کر رہی تھی لیکن ازلان کی گرفت اس کی سوچ سے زیادہ مضبوط تھی۔
ذوناش کو اپنا سانس بند ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
ازلان کو احساس ہوا تو ہاتھ ہٹا لیا۔
ذوناش چہرہ جھکاےُ کھانسنے لگی۔
وہ زور زور سے سانس اندر کھینچنے لگی۔
ازلان اس کے سانس بحال ہونے کا منتظر تھا۔
“تم پاگل ہو کیا؟ میں مر جاتی پھر؟”
ذوناش کھانستی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔
“مر جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔۔۔”
وہ سفاکی سے بولا۔
ذوناش کا دل کٹنے لگا۔
“ازلان تم کتنے خودغرض ہو؟”
ذوناش شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اپنی بکواس بند کرو اورمجھے بتاؤ حرم کہاں ہے؟”
ازلان اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔
“ازلان میں نہیں جانتی۔۔۔”
ذوناش اس کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔
“میرا منہ پر پاگل لکھا ہے کیا؟ اچھے سے جانتا ہوں یہ تمہاری حرکت ہے۔شرافت سے پوچھ رہا ہوں تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ بتا دو؟”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
“نہیں جانتی میں جاؤ جو کرنا ہے کر لو۔۔۔”
ذوناش قہر برساتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان مضطرب سا چلنے لگا۔
ذوناش مٹھیاں بھینچے ضبط کرنے لگی۔
“چھوا بھی تو مارنے کے لیے۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی چلنے لگی۔
****///////****
شاہ کمرے میں آیا تو مہر ابھی تک جاےُ نماز پر بیٹھی تھی۔
“مہر اٹھو ناشتہ کر لو۔۔۔۔”
شاہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا بولا۔
مہر نم آنکھوں سے اسے دیکھتی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“ایسے بیمار پڑ جاؤ گی اٹھو شاباش۔۔۔”
شاہ اس کی کمر تھپتھپاتا ہوا بولا۔
“شاہ مجھ سے نہیں کھایا جاتا۔۔۔”
غم پھر سے تازہ ہو گیا۔
“اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں ناراض ہو جاؤں گا یاد رکھنا۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ چہرہ موڑ کر آنکھیں صاف کیں۔
مہر ایک لمحہ کا ضیاع کئے بنا کھڑی ہو گئی۔
“نہیں شاہ۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“چلو بیٹھو میں کھلاؤں تمہیں۔۔۔”
شاہ نے مسکرانے کی سعی کی لیکن مسکرا نہ سکا۔
مہر نا چاہتے ہوۓ بھی بیٹھ گئی۔
شاہ اپنے ہاتھ سے اسے کھلانے لگا۔
“آپ نے ناشتہ کیا؟”
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“ہاں سب کے ساتھ کیا تھا۔۔۔”
شاہ نے جھوٹ بولا۔
“سچ بول رہے ہیں؟”
مہر جانچتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں کیوں جھوٹ بولوں گا مہر۔۔۔”
شاہ آہستگی سے بولا۔
مہر خاموش ہو گئی۔
“میں ابھی جاؤں گا باہر تم اپنا خیال رکھنا اور حرائمہ آئی ہے اس سے بھی مل لینا۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
“آپ کہاں جائیں گے؟”
مہر اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
“یہی ڈھونڈنے۔۔۔”
شاہ چہرہ جھکاےُ اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا بولا۔
مہر نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو شاہ نے نوالہ اس کے سامنے کیا۔
“بس شاہ۔آپ جائیں۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“ابھی تو تم نے کچھ کھایا ہی نہیں ہے۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“جب آپ آئیں گے پھر آپ کے ساتھ کھا لوں گی ابھی بس۔۔۔”
مہر ٹرے پیچھے کرتی ہوئی بولی۔
“جانتی ہو میں نے یہ کام پہلے کبھی نہیں کئے۔شفا سے محبت بہت تھی لیکن کبھی اس کے لئے اتنا نہیں کیا۔تم بہت بہت خاص ہو میرے لیے۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
مہر نم آنکھوں سے ہلکا سا مسکرائی۔
“ملازمہ کے ہاتھ بھیج دینا یہ ٹرے میں اب چلتا ہوں۔۔۔”
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
مہر نے کوئی جواب نہیں دیا۔
شاہ میں اس سے زیادہ ہمت نہ تھی سو بنا کچھ کہے بنا دیکھے باہر نکل گیا۔
مہر نے الماری کھولی تو نظر ماناب کی چیزوں پر پڑی۔
آنکھیں پھر سے برسنے لگیں۔
“آج میں نے اپنی گڑیا کو تیار نہیں کیا۔۔۔”
مہر افسردگی سے بولی۔
ماناب کے کپڑے ہاتھ میں پکڑ لیے۔
مہر نے ماناب کی شرٹ چہرے سے لگا لی۔
“میری بچی۔پلیز ہمیں لوٹا دیں ہماری بچی۔۔۔”
مہر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بول رہی تھی۔
یہ کرب شاید اس کی جان لے کر ہی دم لینے والا تھا۔
مہر نے سسکتے ہوۓ پیشانی الماری سے ٹکا دی۔
“یہ آزمائش بہت مشکل ہے میرے رب بہت مشکل۔میں تیری کمزور سی بندی ہوں۔مجھ پر اپنا کرم کر مجھے میری بیٹی واپس کر دے۔میں مر جاؤں گی اس کے بغیر مر جاؤں گی۔۔۔”
مہر ہچکیاں لیتی رو رہی تھی۔
دروازے پر دستک سنائی دینے لگی۔
شاہ کے خیال سے مہر نے چہرہ صاف کیا اور ماناب کے کپڑے اندر رکھ دئیے۔
جا کر دروازہ کھولا تو سامنے حرائمہ کھڑی تھی۔
حرائمہ اس کے گلے لگ گئی۔
شاہ نے اسے کچھ بھی بولنے سے منع کیا تھا سو حرائمہ خاموش رہی۔
مہر کی آنکھیں تو رونے کو بےتاب تھیں پھر سے رم جھم شروع کر دی۔
“آپی کیسی ہیں آپ؟”
حرائمہ کو یہ پوچھنا عجیب لگ رہا تھا کیونکہ حال تو اس کا دیکھنے سے ہی معلوم ہو رہا تھا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی اندر کی جانب چلنے لگی۔
“تم کب آئی؟”
مہر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“رات میں آئی تھی۔آپ سے ملنا تھا لیکن عافیہ بھابھی نے کہا کہ صبح مل لینا۔شاید آپ سو رہی تھیں۔۔۔”
حرائمہ کو اسے دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“آپی عافیہ بھابھی بتا رہی تھیں کہ جمعے کو میرا نکاح ہے؟”
حرائمہ نے اس کا دھیان ہٹانا چاہا۔
“ہاں۔شاہ نے تمہارا رشتہ شاہ ویز سے طے کیا ہے۔تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بتا دو؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
“نہیں آپی مجھے کیوں اعتراض ہو گا وہ میرے بڑے ہیں میرے لئے اتنا کر رہے ہیں بھلا انکار کا جواز بنتا ہے؟”
حرائمہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“میں نے سوچا جو کچھ شاہ ویز نے کیا اس کے بعد۔۔۔”
“آپی وہ مجھے اپنا رہا ہے کیا یہ بہت بڑی بات نہیں؟”
حرائمہ نے اسے ٹوکا۔
“ہاں یہ تو ہے۔شاہ نے اسی لئے شاہ ویز سے طے کیا تمہارا رشتہ تاکہ تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔۔۔”
مہر آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“بھائی بہت اچھے ہیں میں جتنا ان کا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔”
حرائمہ تشکرانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
مہر پھیکا سا مسکرائی۔
“لیکن آپی میں ایک بار خود شاہ ویز سے بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
حرائمہ بولنا کچھ چاہتی تھی اور بول کچھ گئی۔
“ٹھیک ہے میں کروا دوں گی تمہاری بات لیکن امی کو معلوم نہیں ہونے دیں گے وہ بلا وجہ بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں۔۔۔”
مہر منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے جیسے آپ کو مناسب لگے۔۔۔”
حرائمہ خود کو کوسنے لگی۔
“آپ نے شاہ ویز کو معاف کر دیا؟”
حرائمہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئی۔
“البتہ اس نے معافی نہیں مانگی لیکن پہلے اس کی نگاہوں میں بےباکی ہوتی تھی لیکن اب ندامت ہوتی ہے۔پہلے وہ مجھے دیکھتا رہتا تھا لیکن اب نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔۔”
مہر سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“آؤ تمہیں ملوا دوں اس سے۔۔۔”
مہر کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
حرائمہ شش و پنج میں مبتلا ہو کر کھڑی ہو گئی۔
مہر باہر نکل آئی اور شاہ ویز کے کمرے کی جانب چلنے لگی۔
سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔
مہر نے دروازہ ناک کیا۔
“آجائیں! “
شاہ ویز کی آواز سنائی دی تو مہر دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔حرائمہ باہر ہی رک گئی۔
“جی بھابھی؟”
شاہ ویز بیڈ سے اتر کر کھڑا ہو گیا۔
چہرہ جھکا رکھا تھا۔
“حرائمہ تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے تو میں نے سوچا۔۔۔”
مہر الفاظ جوڑ رہی تھی۔
“جی بھابھی آپ بھیج دیں۔بےفکر رہیں کچھ نہیں ہو گا اسے۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک سے یہی اخذ کر سکا۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
مہر نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
مہر باہر نکل گئی۔
“تم بات کر لو میں باہر کھڑی ہوں۔۔۔”
مہر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ گردن ہلاتی اندر چل دی۔
حرائمہ چہرہ جھکاےُ اس کے سامنے آئی۔
ہمت کر کے حرائمہ اندر تو آ گئی تھی شاہ ویز سے بات کرنے لیکن شاہ ویز کے سامنے اس کی ساری ہمت جواب دے گئی۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک محسوس کرتا کرسی کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔
شاہ ویز نے ایک نظر میں اس کا جائزہ لیا۔
سرخ و سپید رنگ،جھکی پلکیں،پنکھڑی جیسے لب جنہیں وہ مسلسل کاٹ رہی تھی۔شاہ ویز کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
یہ ڈری سہمی سی لڑکی اسے اچھی لگی تھی۔اگر کبھی وہ مہر سے نظر ہٹا کر اسے دیکھتا تو شاید پہلے ہی اسے پسند کر لیتا۔
“تمہیں کچھ کہنا تھا مجھ سے؟”
شاہ ویز نے خود گفتگو کا آغاز کیا۔
“جی۔وہ مجھے آپ کو کچھ بتانا تھا۔۔۔”
حرائمہ خوفزدہ ہو کر بول رہی تھی۔
“پہلی بات تو یہ کہ میں کوئی جن نہیں ہوں۔نہ ہی تمہیں کھانے کا ارادہ رکھتا ہوں سو ایزی ہو کر بات کروں۔کچھ نہیں کہتا میں۔۔۔”
شاہ ویز اسے نارمل کرنے کی غرض سے بولا۔
حرائمہ نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔
شاہ ویز کے ہلکے پھلکے انداز سے اسے کچھ ڈھارس ملی۔
“میں ایک طوائف ہوں۔صحیح معنوں میں طوائف۔۔۔”
بولتے بولتے حرائمہ کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کا لہجہ پراعتماد تھا۔
“مجھے بہت سے لوگوں نے۔۔۔”
اس سے آگے حرائمہ کے الفاظ دم توڑ گئے۔
“میں یہ بھی جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز کے اعتماد میں کسی طور بھی کمی نہ آئی۔
“آپ ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنے جا رہے ہیں؟”
حرائمہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں خود بھی کوئی اچھا انسان نہیں ہوں۔میرا کافی عرصے سے ایک لڑکی کے ساتھ افئیر ہے لیکن اب نہیں۔اور سنا ہو گا تم نے ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے۔
اگر میں توقع کرتا ہوں کہ مجھے کوئی صاف شفاف بیوی ملے گی تو غلط ہے۔بےشک تمہارا کوئی قصور نہیں اس میں لیکن میں ایک ایسی ہی لڑکی کو ڈیذرو کرتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز صاف گوئی سے بولا۔
حرائمہ ششدر رہ گئی۔
“میں سموکنگ کرتا ہوں بہت زیادہ۔تمہیں برداشت کرنا پڑے گا یا پھر ایسا کرنا تم بھی میرے ساتھ سموکنگ کرنا۔۔۔”
شاہ ویز دھیرے سے مسکراتا ہوا بولا۔
حرائمہ اس کی بات پر مسکرانے لگی۔
“تھوڑا سا نہیں بہت زیادہ بگڑا ہوا ہوں۔سدھرنے کا کوئی امکان نہیں تمہیں میرے ساتھ ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔۔۔”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بولا۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“رہی بات محبت کی تو بہت بار ہوئی ہے تم سے بھی ہو جاےُ گی۔۔۔”
شاہ ویز محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
شاہ ویز کو سن کر حرائمہ کا دل پرسکون ہو گیا تھا۔
وہ جیسا بھی تھا اس کا ہونے والا شوہر تھا اور اسے ہر حال میں قبول تھا۔
“ایک اور بات تمہیں میری ہر بات ماننی پڑے گی قبول ہے؟”
شاہ ویز آبرو اچکا کر بولا۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“مجھے ایک بات بتاؤ بیوی لا رہا ہوں یا گاےُ جو صرف سر ہلاتی ہے۔کچھ بولو بھی؟”
شاہ ویز باتوں کو طول دینا چاہتا تھا۔
“میں کیا بولوں جو کہنا تھا آپ سب جانتے ہیں۔۔۔”
حرائمہ شانے اچکاتی اسے دیکھنے لگی۔
“جو کہنے آئی تھی اسے یہیں بھول جاؤ دوبارہ ہم اسے ڈسکس نہیں کریں گے ہر انسان کا ماضی ہوتا ہے اور ہم دونوں کا کلئیر ہو چکا ہے۔۔۔”
“جی۔۔۔”
حرائمہ سر جھکا کر بولی۔
شاہ ویز کو شرارت سوجھ رہی تھی۔
“ایک بات بتاؤ؟ تم نے بہت لڑکے دیکھے ہیں؟”
شاہ ویز بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“جی؟”
حرائمہ متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
“مطلب دیکھے ہیں۔۔۔”
وہ لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“نہیں میرا مطلب۔۔۔”
“مجھے لگا شاید تم نے بہت لڑکے دیکھے ہیں اس لئے مجھے دیکھ نہیں رہی کہ یہ تو بیکار سا ہے۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جھجھک سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
حرائمہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“اب تم جاؤ بھابھی باہر کھڑی ہوں گیں۔۔۔”
شاہ ویز جانے کا اشارہ کرتا ہوا بولا۔
حرائمہ اس کے پل پل بدلتے رویے پر حیران ہوتی باہر نکل آئی۔
“کیا ہوا؟”
مہر اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کر بولی۔
“نہیں کچھ نہیں۔بس تھوڑا عجیب سا ہے۔۔۔”
حرائمہ الجھ کر بولی۔
“جب شادی ہو گی سمجھ بھی آ جاےُ گا۔۔۔”
مہر اس کا منہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔
“نماز کا ٹائم ہو رہا ہے میں پھر آتی ہوں آپ کے پاس۔۔۔”
حرائمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“ہاں مجھے بھی پڑھنی ہے۔۔۔”
مہر فکر سے کہتی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔
شام کے ساےُ گہرے ہو رہے تھے۔
دسمبر کی اداس شاموں کی مانند ستمبر کی شامیں بھی اداس ہو گئی تھیں۔
دسمبر کی یخ بستہ ہوائیں جو احساسات کو منجمند کر دیتی ہیں ستمبر کی ہوائیں بھی کچھ ایسا ہی فعل کر رہی تھیں۔
چہرے پر مایوسی اور تھکن لئے شاہ اور شہریار آ رہے تھے۔
اس اداس شام کی مانند شاہ کی آنکھیں بھی اداس تھیں۔
فلک نے خورشید کو کھو دیا تھا اور شاہ نے اپنی جان کو۔
لیکن فلک کو اس کا نعم البدل مہتاب کی صورت میں ملنے والا تھا اس کے برعکس شاہ کو اس کا نعم البدل مل ہی نہیں سکتا تھا۔کیونکہ انسانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔
یہ ہماری سوچ ہوتی ہے کہ اس انسان جیسا انسان ہمیں مل جاےُ گا لیکن حقیقت میں ہم ساری زندگی اسی انسان کو تلاشتے رہتے ہیں جن کا ملنا نا ممکنات میں شمار ہو جاتا ہے۔
شاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اندر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کا ظاہر اور باطن دونوں چیخ چیخ کر اس کا حال بیان کر رہا تھا۔
شرٹ باہر نکلی ہوئی تھی،رف سی پینٹ پہنے بالوں میں برش کی بجاےُ ہاتھ چلاتے وہ انہیں ٹھیک کر لیتا اور چہرہ غم کی داستان بنا ہوا تھا۔
مہر اسے دیکھ چکی تھی تبھی سُرعت میں زینے اترنے لگی۔
شاہ اس کی بے چینی سمجھتا تھا۔
مہر ان دونوں کو دیکھ کر مایوس ہو گئی۔
قدموں کی رفتار دم بخود دھیمی پڑ گئی۔
“نماز پڑھ کر آ رہی ہو؟”
شاہ اس کے مقابل آتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“اچھی بات ہے۔۔۔۔”
شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
“میں بابا سائیں سے بات کر کے آتا ہوں۔۔۔”
شاہ اس سے نظریں ملاےُ بغیر چلا گیا۔
مہر افسردگی سے اس کی پشت کو دیکھنے لگی۔
“شاہ میری بیٹی کو کیوں نہیں لایا تو؟ ہاےُ پتہ نہیں کس حال میں ہو گی؟ ہماری تو کسی سے دشمنی نہیں پھر کون لے گیا میرا خوان بچی کو؟”
شاہ ضبط کئے انہیں سن رہا تھا۔
کمال صاحب شاہ کے تاثرات سے اس کی حالت بخوبی سمجھ رہے تھے۔
“بیگم خاموش ہو جاؤ انہیں بولنے تو دو۔۔۔”
کمال صاحب کی آواز کمرے سے باہر تک سنائی دی۔
ضوفشاں بیگم دوپٹہ سے آنسو صاف کرتی خاموش ہو گئیں۔
شاہ نے شہریار کو اشارہ کر دیا۔
وہ مہر کو سنبھالتے سنبھالتے تھک جاتا تھا گھر والوں کو سمجھانا،اس میں اتنی سکت نہیں تھی۔
‘”بابا سائیں ہر جگہ دیکھ لیا ہے جہاں حرم کا ملنا متوقع تھا لیکن وہ کہیں نہیں ملی خدا جانے وہ کہاں ہے؟ نہ حرم کا کچھ معلوم ہو رہا ہے نہ ہی ماناب کا۔۔۔”
شہریار مایوسی سے بولا۔
“اور پولیس؟”
وہ آبرو اچکا کر بولے۔
“بابا سائیں پولیس سب سے پہلے گھر میں پوچھ گچھ کرے گی اور مہر بھابھی کی حالت ایسی نہیں کہ انہیں اس سب میں دھکیلا جاےُ۔دوسری بات پولیس سے سب کو معلوم ہو جاےُ گا۔۔۔”
شہریار افسردگی سے بولا۔
“معلوم تو ابھی بھی ہو رہا ہے میں تو کہتا ہوں پولیس میں ماناب اور حرم دونوں کی رپورٹ کروا دو۔۔۔”
وہ برہمی سے بولے۔
“صبح دیکھتا ہوں بابا سائیں۔اپنے کسی جاننے والے سے بات کروں گا۔۔۔”
شاہ تھکے تھکے انداز میں کہتا باہر نکل گیا۔
“اللہ جانتا ہے کیا لکھا ہے اس کے نصیب میں؟”
وہ شاہ کو دیکھتے تاسف سے بولے۔
“اب کل کا انتظار کریں ہم؟ شاہ کو تو کوئی فکر ہی نہیں ہے نہ اپنی بیٹی کی نہ ہی اپنی بہن کی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم آنسو بہاتی پھر سے شروع ہو گئیں۔
شہریار انہیں دیکھتا نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“تمہاری عقل گھاس چرنے گئی ہے یا شاہ کی حالت تمہیں دکھائی نہیں دیتی یا اندھی ہو گئی ہو؟”
شہریار کے نکلتے ہی وہ برس پڑے۔
“میں ہی بری لگتی ہوں سب کو کیا غلط کہہ دیا ہے میں نے؟”
وہ کمال صاحب کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“اپنا منہ بند رکھو تو بہتر ہو گا ورنہ تمہیں ہی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔۔”
وہ غضب سے دیکھتے ہوۓ بولے۔
ضوفشاں بیگم منہ بناتی دوسری سمت دیکھنے لگیں۔
شاہ کی نظر مہر پر پڑی۔
شاہ جیسے اسے چھوڑ کر گیا تھا وہ ویسے ہی کھڑی تھی۔
“تم یہیں کھڑی ہو؟”
شاہ اسکی جانب چلتا ہوا بولا۔
“آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔”
مہر کی آواز اتنی آہستہ تھی کہ شاہ بمشکل سن پایا۔
“آؤ باہر چلتے ہیں۔۔۔”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر سر جھکاےُ اس کے ساتھ چلنے لگی۔
“شاہ؟”
مہر کی آواز نا چاہتے ہوۓ بھی بھیگ گئی۔
“بولو؟”
شاہ سامنے دیکھتا ہوا چل رہا تھا۔
وسیع و عریض باغ میں وہ دونوں آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔
“ماناب کو اب ہم کبھی دیکھ نہیں سکیں گے؟”
مہر سوں سوں کرتی آستین سے چہرہ صاف کرنے لگی۔
شاہ چند ثانیے کچھ بول نہ سکا۔
چہرہ اوپر اٹھاےُ وہ آنسوؤں پر بندھ باندھ رہا تھا۔
“پتہ نہیں مہر؟ میں کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوں اس وقت لیکن اگر قسمت کو یہی منظور ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
شاہ بےبسی سے بولا۔
مہر تڑپ کر اسے دیکھنے لگی لیکن شاہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا۔
“شاہ میرا سانس بند ہو جاےُ گا ایسے مت بولیں۔۔۔”
مہر کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
“مہر تم بہت بہادر ہو! ہمت سے کام لو دیکھو تمہارا شوہر کتنے حوصلے والا ہے ایک ہی دن میں بہن اور بیٹی دونوں کو کھو دیا پھر بھی تمہارے ساتھ صبر کا دامن تھامے کھڑا ہے۔۔۔”
شاہ درخت سے ٹیک لگا کر مہر کو دیکھنے لگا۔
مہر نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
نہ دل ماننے پر راضی تھا نہ دماغ۔
“شاہ میں کیسے ہمت کروں؟ نو مہینے وہ میرے ساتھ سانس لیتی رہی گزشتہ دو ماہ سے میرے دن اور رات اس کے ساتھ گزرے ہیں وہ میرے جسم کا حصہ ہے شاہ۔میں کیسے مان لو دوبارہ ان ہاتھوں میں اسے اٹھا نہیں سکتی۔میری یہ آنکھیں اسے دیکھنے کے لیے ترس رہی ہیں ان کی پیاس کبھی نہیں بجھے گی کیسے مان لو شاہ؟ میرے دل کو کبھی سکون نہیں ملے گا کیسے سمجھاؤں میں اسے؟”
مہر بےیقینی سے اسے دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔
ایک ایک حرف پر اس کی آنکھ برس رہی تھی۔
یہ تو ظاہری اذیت تھی باطنی اذیت کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
“مہر میں سب جانتا ہوں اور سمجھتا بھی ہوں۔تم بتاؤ میں کیا کروں؟ کون سی جگہ ہے جہاں ماناب ہو گی تم بتاؤ میں چلا جاتا ہوں مہر مجھے دوسری دنیا میں بھی جانا پڑے نہ میں چلا جاؤں گا لیکن مجھے بتاؤ تو سہی میں جاؤں کہاں؟ تمہیں کیا لگتا ہے مجھے تکلیف نہیں ہو رہی میں تیرہ سال اولاد کے لیے ترستا رہا ہوں ماناب کو دیکھتا تھا تو معلوم ہوتا تھا زندگی ہے۔مہر وہ میری بھی جان ہے۔ بےشک میں اس کے ساتھ اتنا وقت نہیں رہتا جتنا تم رہتی ہو لیکن۔۔۔”
شاہ نے سسکتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
مہر خاموش ہو گئی۔
کچھ پل خاموشی کی نذر ہو گئے۔
“میں تھک گئی ہوں۔۔۔”
مہر چہرہ اٹھا کر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“کمرے میں چلتے ہیں۔۔۔”
شاہ چہرہ صاف کرتا ہوا بولا۔
“نہیں یہیں پر بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ تھامتی گھاس پر بیٹھ گئی۔
شاہ بھی اس کے ہمراہ بیٹھ گیا۔
مہر نے سر اس کے شانے پر رکھ دیا اور گھاس پر انگلیاں چلانے لگی۔
شاہ نے درخت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔
****////////****
“اس کمبخت زنیرہ کو فون کر یہ کس آفت کو اٹھا لائی ہے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا ہے وہ بچی کم تھی کیا؟”
زلیخا بیگم بانی کو دیکھتی کوفت سے بولیں۔
“پتہ نہیں زنیرہ نے کیا دیکھا رنگ تو سفید نہیں ہے اس لڑکی کا؟”
بانی حرم کا منہ دبوچتی ہوئی بولی۔
حرم کراہ کر اسے دیکھنے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: