Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 21

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 21

–**–**–

“کمبخت دو بار بے ہوش ہو چکی ہے لیکن پھر بھی آنسو بہاےُ جا رہی۔کون سے ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں تجھ پر؟”
زلیخا بیگم تاؤ کھاتی ہوئی بولیں۔
حرم کے چہرے پر نیل پڑے ہوۓ تھے۔
ناک سے بہنے والا خون جم چکا تھا۔ جو اس بات کی نشانی تھی کہ اس پر ہاتھ اٹھایا گیا ہے۔
“پلیز مجھے جانے دیں میرے بھائی و وہ میرا انتظار کر رہے ہوں گے؟”
حرم اشک بہاتی بول رہی تھی۔
“ٹیپ لگا اس کے منہ پر فضول کی بکواس نہیں سننی مجھے۔اور زنیرہ کے کمرے میں پھینک آ دو دن بھوکی پیاسی رہے گی تو عقل ٹھکانے آ جاےُ گی اس کی۔۔۔”
وہ خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولیں۔
“رانی اسے زنیرہ کے کمرے میں پھینک دینا۔۔۔”
وہ حرم کو باہر دھکیلتی ہوئی بولی۔
رانی جو لٹ انگلی پر لپیٹتی جا رہی تھی ناگواری سے حرم کے گرے ہوۓ وجود کو دیکھنے لگی۔
حرم کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا لیکن یہاں رحم کھانے والا کوئی بھی نہیں تھا۔
رانی اس کا بازو پکڑتی اسے گھسیٹنے لگی۔
زنیرہ کے کمرہ کا دروازہ کھول کر اسے اندر پٹخا اور دروازہ بند کر باہر نکل گئی۔
“بیگم صاحبہ میں سوچ رہی ہوں کہ لڑکی کو اعجاز کے حوالے نہ کر دیں؟”
بانی ان کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟ اس حرائمہ منحوس ماری کو بھول گئی ہے مہینہ بیڈ پر پڑی رہی تھی اور اس میں تو مجھے لگتا ہے جان ہے ہی نہیں اور وہ اعجاز جنگلی۔کچھ ہو گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولیں۔
“جا دفعہ ہو وہ منحوس رو رہی ہے یہ اچھی مصیبت پال لی ہے وہ چڑیل بھی واپس نہیں آ رہی ورنہ بچی کو اس کے حوالے کروں بھئ ہمیں نہیں چائیے۔۔۔”
زلیخا بیگم ہاتھ کھڑے کرتی ہوئی بولیں۔
بانی عجلت میں اندر بھاگی۔
اسے اس بچی سے انسیت ہو گئی تھی۔
اتنی چھوٹی سی بچی پر یہ ظلم نہیں تو اور کیا تھا۔
****/////////****
“زین تو نے نظر رکھی ہوئی ہے نہ ذوناش پر؟”
ازلان اسے تکیہ مارتا ہوا بولا جو ہینڈ فری لگاےُ بیٹھا تھا۔
“ہا ہاں کڑی نظر رکھی ہے فکر مت کر۔۔۔”
زین سیدھا ہوتا ہوا بولا۔
“تجھے لگتا ہے یہ ذوناش کا کام ہے؟”
وکی سیگرٹ سلگاتا ہوا بولا۔
“لگتا نہیں مجھے یقین ہے اس اسی۔۔۔۔۔۔کا کام ہے۔۔۔”
ازلان کش لیتا ہوا بولا۔
“زین اگر وہ ہاتھ سے نکلی نہ تو، تو میرے ہاتھ سے نہیں بچے گا۔۔۔”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
“کیا پتہ وہ صبح میں جاےُ؟”
زین آبرو اچکا کر بولا۔
“میں جانتا ہوں وہ بیوقوف رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر نکلے گی۔۔۔”
ازلان سر جھٹکتا ہوا بولا۔
“ازلان یو آر رائٹ۔وہ نکل رہی ہے۔۔۔”
زین ایک ہی جست لگا کر اس کے پاس آیا۔
“میں نے کہا تھا نہ؟”
ازلان سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلتا گاڑی کی چابی اٹھانے لگا۔
“کہاں؟”
سیفی اس کی تیاری دیکھ کر بولا۔
“بریانی کھانے کی تیاری کر لو تم لوگ۔۔۔”
ازلان کہہ کر باہر نکل گیا۔
اپنے پیچھے اسے قہقہے سنائی دئیے۔
ازلان گاڑی لے کر نکلا اور ہاسٹل کے راستے پر ڈال دی۔
ذوناش فون پر بات کر رہی تھی۔
ازلان آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ پیدل چل رہی تھی ازلان اس سے کچھ فاصلے پر تھا۔
اس نے رکشہ روکا اور اندر بیٹھ گئی۔
ازلان نے گئیر لگایا اور گاڑی اس رکشے کے پیچھے لگا دی۔
آدھ گھنٹے کا سفر طے کر کے وہ ایک گھر کے سامنے رکی۔
گھر کافی بڑا اور عجیب ہی طرز کا تھا۔
ازلان محتاط انداز میں گاڑی سے نکلا اور چلنے لگا۔
ذوناش اندر جا چکی تھی ازلان بھی اندر آ گیا۔
اندر کا ماحول دیکھ کر ازلان کا دماغ گھوم گیا۔
“حرم یہاں ہے؟”
وہ سر پر ہاتھ مارتا مجرا کرتی لڑکیوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
ازلان اپنے تاثرات نارمل کرتا چلنے لگا۔
ذوناش غائب ہو گئی تھی۔
ازلان دائیں بائیں دیکھتا چل رہا تھا۔
سمجھ نہ آیا تو زینے چڑھنے لگا۔
وہ جگہ ایسی تھی کہ روک ٹوک کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ازلان راہداری میں چلتا جا رہا تھا دائیں جانب ریلنگ تھی تو بائیں جانب کمرے۔
دروازے بند تھے ازلان نے کسی بھی دروازے کو کھولنا مناسب نہیں سمجھا۔
“آہ چھوڑییے نہ۔۔۔”
ازلان کو ایک کمرے سے آواز سنائی دی۔
ازلان کو کراہیت محسوس ہو رہی تھی۔
“حرم تمہیں وہ اتنی گندی جگہ پر لے آئی؟ ذوناش تمہیں زندہ دفن کر دوں گا میں۔۔۔”
ازلان مٹھی بھینچ کر بولا۔
ایک کمرے سے رانی برآمد ہوئی۔
ازلان کو دیکھ کر وہ اس کے پاس آ گئی۔
“کیا خیال ہے پھر کمرے میں چلیں۔۔۔”
وہ ازلان کے قریب آتی اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
ازلان ضبط کرتا اسے پرے کرنے لگا۔
“آج نہیں کل۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
“چلیں جناب کل سہی ہم انتظار کریں گے آپ کا۔۔۔”
وہ ادا سے کہتی چلنے لگی۔
ازلان کو اس کی بےباک نظریں اور بےباک لباس سے شرم محسوس ہو رہی تھی۔
“کس قدر گھٹیا جگہ ہے یہ۔۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا چلنے لگا۔
بانی ایک کونے میں کھڑی ماناب کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی جو مسلسل روےُ جا رہی تھی۔
بچی کے رونے کی آواز سن کر ازلان اس سمت میں قدم بڑھانے لگا۔
وہ تعجب سے دیکھتا چلتا جا رہا تھا۔
بانی ماناب کو کندھے سے لگاےُ تھپک رہی تھی۔
ازلان ماناب کا چہرہ بخوبی دیکھ سکتا تھا اور پہچاننے میں ایک لمحہ نہیں لگایا اس نے۔
“یہ تو ماناب ہے! حرم کی بھتیجی۔۔۔”
ازلان ششدر سا اسے دیکھتا موبائل نکالنے لگا۔
تصویریں کھولیں تو ماناب کی تصویر دیکھنے لگا پھر چہرہ اٹھا کر اس بچی کو دیکھا تو تصدیق کی مزید گنجائش نہیں نکلتی تھی۔
“یہ یہاں کیسے؟”
ازلان سوچتا ہوا بانی کے عین عقب میں کھڑا ہو گیا۔
ماناب کو اس کے شانے سے اٹھایا اور اپنے شانے سے لگا لیا۔
بانی ہکا بکا سی ازلان کو دیکھنے لگی۔
“آپ نے بچی کو کیوں اٹھا لیا؟”
بانی ناسمجھی سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہاری مالکن کہاں ہے؟”
ازلان پیچ و تاب کھا کر بولا۔
“وہ اس کمرے میں ہیں۔۔۔”
بانی گھبرا کر ہاتھ سے اشارہ کرنے لگی۔
ازلان نے پاؤں سے کمرے کا دروازہ کھولا۔
“یہ بچی کہاں ہے آئی تمہارے پاس؟”
ازلان میز پر ہاتھ مارتا چلایا۔
زلیخا بیگم بھانپ گئیں کہ وہ بچی کا باپ ہے۔
“صاحب میں غریب نہیں جانتی ایک ادھیڑ عمر عورت آئی تھی اور اسے یہاں دے کر چلی گئی قسم لے لیں جو میں نے اغوا کیا ہو۔۔۔”
زلیخا مظلومیت سے بولی۔
کیونکہ وہ ماناب سے جان چھڑانا چاہتی تھی اب اگر کوئی اس کا وارث آ گیا تھا تو اس نے صاف صاف اسے سب بتا دیا۔
ازلان اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“شکر کرو تم کہ میں پولیس کو نہیں لایا ورنہ ابھی کہ ابھی سلاخوں کے پیچھے ہوتی۔۔۔”
ازلان گلاس اٹھا کر دیوار پر مارتا ہوا بولا۔
شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر زلیخا بیگم نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
“صاحب میں نے تو آپ کو ایک ایک حرف سچ بتایا ہے اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔۔۔”
وہ معذرت خواہانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“حرم کہاں ہے؟ اگر خود پوچھا تو کبھی نہیں بتاےُ گی یہ۔ماناب تو بچی ہے اس لئے فوراً قبول کر لیا لیکن حرم جوان ہے۔۔۔”
ازلان سوچتا ہوا دروازے کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔
“شکر ہے جان چھوٹی۔۔۔”
زلیخا بیگم سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔
“آئمہ کو فون کر زنیرہ کے ساتھ وہ بھی آ جاےُ۔۔۔”
زلیخا بیگم بانی کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ذوناش یہی آئی تھی مطلب حرم یہی پر ہے۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا باہر نکل آیا تھا۔
ماناب رو رہی تھی اور ازلان کو بچے چپ کروانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
“ماناب چپ کر جاؤ۔۔۔”
ازلان اس کی پشت تھپتھپاتا ہوا بولا۔
لیکن ماناب خاموش ہونے کی بجاےُ مزید رونے لگی۔
اس کی آواز کافی اونچی تھی۔وہ کسی نیند میں ڈوبے انسان کو جگانے کی بھرپور اہلیت رکھتی تھی۔
“پہلے اسے چھوڑ آتا ہوں پھر حرم کو ڈھونڈوں گا۔بھوک نہ لگی ہو اسے۔۔۔”
ازلان فکرمندی سے کہتا گاڑی کے پاس آ گیا۔
ماناب کو گود میں بٹھایا پھر سیٹ بیلٹ باندھی اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
ماناب اس نئے تجربے سے خاموش ہو چکی تھی۔
ازلان اس کے خاموش ہونے سے کچھ مطمئن ہوا۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی وہ جلد از جلد ماناب کو شاہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔
حویلی کا گیٹ دیکھ کر ازلان کے لب مسکرانے لگے۔
بچپن کی کھٹی مٹھی یادیں وابستہ تھی اس حویلی سے۔
“یہ دیکھو گڑیا ہم آ گئے گھر۔۔۔”
ازلان سیٹ بیلٹ کھولتا ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
ماناب منہ بسورتی اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو ڈرائیونگ کرنی تھی؟”
ازلان اس کے تیور بھانپ کر بولا۔
ماناب رونے کا ارادہ رکھتی تھی ازلان اس کا ارادہ بھانپ کر باہر نکلا اور چوکیدار کے پاس آ گیا۔
“مجھے مصطفیٰ شاہ سے ملنا ہے۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ تو شاہ صاحب کی بیٹی ہے۔۔۔”
وہ ماناب کو دیکھتا حیرت سے بولا۔
“میں نے کب کہا میری بیٹی ہے گیٹ کھولو اور مجھے اندر جانے دو۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
چوکیدار نے گیٹ بجایا تو اندر سے دوسرے چوکیدار نے گیٹ کھول دیا۔
ازلان آس پاس نظر ڈالتا چلنے لگا۔
اس حویلی کی در و دیوار سے وہ واقف تھا۔
“مصطفیٰ بھائی کو بلا دیں۔۔۔”
ازلان ملازمہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
ملازمہ کے عقب سے عافیہ نمودار ہوئی۔
“ازلان تم؟”
وہ حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔
ملازمہ ماناب کو دیکھتی زینے چڑھنے لگی۔
“شاہ صاحب؟”
وہ دروازہ بجاتی ہوئی بولی۔
“اب کیا مصیبت آن پڑی ہے؟”
شاہ دروازے کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“آپ یہاں کیسے؟”
ازلان متحیر سا بولا۔
“میری شادی شہریار سے ہوئی ہے اور ماناب تمہارے پاس کیسے؟”
اب وہ مزید حیران ہوئی۔
“فرماؤ؟”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“شاہ صاحب کوئی ماناب بی بی کو لے کے آیا ہے آپ کو بلا رہا ہے۔۔۔”
ملازمہ خوشی سے چہکی۔
شاہ بےیقینی سے اسے دیکھنے لگا۔
مہر اس کی آواز سن چکی تھی۔
شاہ بنا کچھ بولے بھاگنے لگا۔
وہ تیزی سے زینے اتر کر نیچے آیا تو نظر ماناب پر پڑی۔
شاہ کو لگا کسی نے اس میں جان ڈال دی۔
روح پرواز کر رہی تھی لیکن پھر سے اسے واپس جسم میں ڈال دیا۔
آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار پر گرے رہے تھے۔
شاہ نے ماناب کو پکڑا اور اس کے چہرے پر بوسے دینے لگا۔
کبھی سینے سے لگاتا تو کبھی ماتھا چومنے لگتا۔
شاہ رو رہا تھا۔اسے دیکھ کر ازلان اور عافیہ کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔
“کیا کہا ہے تم نے؟ تم نے ماناب کا نام لیا ہے؟”
مہر دروازے پر آتی ملازمہ کو جھنجھوڑنے لگی۔
“جی بی بی جی وہ نیچے ہے۔۔۔”
ملازمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“میری ماناب آ گئی ہے؟”
مہر بولتی ہوئی چلنے لگی۔
شاہ کے چومنے کے باعث ماناب رونے لگی۔
شاہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگا۔
مہر کی آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔
منظر دھندلا رہا تھا۔مہر اندھا دھند سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
“بھابھی دھیان سے۔۔۔”
عافیہ نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا ورنہ شاید وہ گر جاتی۔
مہر اپنا ہاتھ چھڑواتی شاہ کے پاس آ گئی۔
مہر کی حالت ایسی تھی مانو تپتے صحرا میں جھیل نظر آ گئی ہو۔
وہ برستی آنکھوں سے ماناب کو روتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔
شاہ ابھی تک اس کا ماتھا چوم رہا تھا۔
مہر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شاہ کے عین مقابل آ گئی۔
شاہ نے مسکراتے ہوۓ ماناب کو اس کے آگے کر دیا۔
مہر نے اشک بہاتے اسے پکڑ لیا۔
اس کی مامتا کو سکون مل گیا۔
مہر اسے سینے سے لگاےُ بلک رہی تھی۔
ماناب بھی رو رہی تھی۔
مہر نے اس کے چہرے پر بوسہ دیا۔
پھر اس کا ہاتھ پکڑا،اس پر بوسہ دیا۔
وہ دیوانہ وار ماناب کو چومتی جا رہی تھی۔
ازلان کی آنکھیں بھی برس رہی تھیں۔
“میری بچی۔۔۔”
مہر اسے سینے سے لگاتی ہوئی بولی۔
شاہ مسکرا کر مہر کو دیکھ رہا تھا۔
“کتنا تنگ کیا آپ نے ماما کو؟”
مہر اسے خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
ماناب بھی جیسے مامتا کی چھاؤں کو ترس رہی تھی مہر کے پاس آتی ہی خاموش ہو گئی۔
ازلان پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اس فیملی سین کو دیکھ رہا تھا۔
شہریار اور شاہ ویز بھی آ گئے۔
“ماناب مل گئی؟”
شہریار خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو کر بولا۔
“ہاں شہریار شکر ہے اللہ پاک کا اس نے ہماری دعا قبول کر لی۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“ازلان تم بیٹھو۔۔۔”
شاہ اس کی جانب متوجہ ہوتا ہوا بولا۔
“نہیں میں اب چلوں گا۔۔۔”
ازلان ہچکچاتا ہوا بولا۔
“بیٹھو مجھے بات کرنی ہے تم سے۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“ازلان تمہارا بہت بہت شکریہ! تم میری بیٹی کو صحیح سلامت لے آےُ۔۔۔”
مہر اس کی مشکور تھی۔
“نہیں بھا! بھابھی آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
شاہ اس کے بھابھی کہنے پر ترچھی نظروں سے اسے دیکھنے لگا لیکن ازلان کے اطمینان میں زرہ برابر کمی نہ آئی۔
شاہ صوفے پر بیٹھا تو ازلان بھی بیٹھ گیا۔
“مہر تم ماناب کو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ہوا بولا جو کھڑی تھی۔
مہر اثبات میں گردن ہلاتی عافیہ کے ہمراہ زینے چڑھنے لگی۔
“چاچی بھی آپ سے ناراض ہیں۔۔۔”
عافیہ ماناب کو دیکھ کر بولی۔
ماناب منہ بسورتی مہر کے شانے پر سر رکھے ہوۓ تھی۔
“ابھی یہ سب سے ناراض ہے۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
عافیہ بھی مسکرانے لگی۔
“میرے بےبی کو بھوک لگی ہے؟”
مہر اسے سامنے کرتی ہوئی بولی۔
ماناب کی آنکھوں میں نیند انگڑائی لے رہی تھی۔
مہر نے اس کے رخسار پر بوسہ دیا اور دروازہ کھول کر کمرے میں آ گئی۔
لائٹ آن کی اور بیڈ کی جانب بڑھنے لگی۔
“ماناب کہاں سے ملی تمہیں؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
شہریار اور شاہ ویز بھی وہیں بیٹھے تھے۔
“کوٹھے سے لایا ہوں۔۔۔”
ازلان بنا پس و پیش میں مبتلا ہوۓ بولا۔
“کوٹھے سے؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“جی ہاں۔اگر آپ کو ایسا لگ رہا ہے کہ میں ماناب کو۔۔۔”
“ایسی احمقانہ سوچ کی توقع مجھ سے مت رکھو کہ میں یہ کہوں گا کہ تم ہی ماناب کو لے کر گئے تھے۔۔۔”
شاہ اس کی بات کاٹتا سختی سے بولا۔
ازلان اثبات میں گردن ہلانے لگا۔
ازلان کو ایسا محسوس ہو رہا تھا تین بھائیوں کی عدالت میں کسی نے لا کھڑا کیا ہو۔
“تم ماناب کو کیسے جانتے ہو؟کیسے ہماری حویلی میں لے کر آےُ؟”
شہریار نے سوال داغا۔
ازلان شاہ کو دیکھنے لگا۔
“یہ بتاؤ ماناب کوٹھے پر کیسے گئی؟”
شاہ شہریار کے سوال کو نظرانداز کرتا ہوا بولا۔
“کوئی عورت لے کر آئی تھی مجھے تو یہی بتایا ہے۔۔۔”
ازلان شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“تم وہاں کیا کر رہے تھے؟”
شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
“میرا خیال ہے اس سوال کا آپ کی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔”
ازلان صوفے سے پشت لگاتا ہوا بولا۔
“آپ کے گھر پانی پلانے کا رواج نہیں؟”
ازلان شاہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی آپ نے برہان کے بھائی کو گھر بٹھا رکھا ہے؟”
شاہ ویز بےچینی سے پہلو بدلتا ہوا آہستہ سے بولا۔
شاہ نے اسے آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
شہریار نے ملازمہ کو اشارہ کیا تو وہ جوس اور دیگر لوازمات لے کر آ گئی۔
ازلان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
“حرم کاش تم یہاں ہوتی دیکھتی کیسے میرے سالے میری خدمت کر رہے ہیں؟”
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا سوچ رہا تھا۔
“تم میرے ساتھ ابھی کوٹھے پر چلو گے۔۔۔”
شاہ طمانیت سے بولا۔
“ابھی تو بہت رات ہو رہی ہے۔۔۔”
ازلان سپ لیتا عذر پیش کرنے لگا۔
شاہ بغور اس کا جائزہ لے رہا تھا۔
“میں نے آگاہ کیا ہے پوچھا نہیں۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔
“ہاں لیکن میں آپ کا پابند نہیں ہوں۔آپ کی بیٹی کو لے کر آیا ہوں کیا یہ بہت نہیں۔۔۔”
ازلان جتانے والے انداز میں بولا۔
“میں شکریہ ادا کر چکا ہوں۔تمہارا مشکور ہوں کہ تم میری بیٹی کو لے کر آےُ۔امید ہے تم عقلمندی کا مظاہرہ کرو گے۔۔۔”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
ازلان شانے اچکاتا کھڑا ہو گیا۔
شہریار نے مسکراتے ہوۓ مصافحہ کیا پھر شاہ ویز نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
ازلان کے لب مسکرا رہے تھے۔
“امید ہے اب یہ ملنے ملانے کا سلسلہ چلتے رہے گا۔۔۔”
ازلان منہ میں بڑبڑایا جسے شاہ کے سواء کوئی نہ سن سکا۔
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا باہر نکل گیا۔
“بھائی کو بہت پیار آ رہا ہے اس پر۔۔۔”
شاہ ویز حسد کا شکار ہو رہا تھا۔
شاہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ازلان بھی دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
“عقلمند ہو۔۔۔”
شاہ کہتا ہوا گاڑی باہر نکالنے لگا۔
“اس کوٹھے سے لاےُ ہو ماناب کو؟”
شاہ کوٹھے کے باہر گاڑی روکتا ہوا بولا۔
“جی۔لیکن آپ سیدھا یہاں آےُ مطلب آپ اس جگہ سے واقف ہیں۔۔۔”
ازلان باہر نکلتا ہوا بولا۔
شاہ نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔
مجرا تمام ہو چکا تھا تقریباً سب ہی کمرے میں جا چکے تھے۔
جو دکھائی دے رہے تھے وہ شاہ کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔
“شاہ صاحب اتنے عرصے بعد یہاں۔۔۔”
ازلان ان آوازوں کو غور سے سن رہا تھا۔
شاہ اپنی بارعب شخصیت کے سحر طاری کرتا چلتا جا رہا تھا۔
ازلان پوچھنے کا قصد رکھتا تھا لیکن پھر ارادہ منسوخ کر دیا۔
“شاہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر آیا۔
زلیخا بیگم اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئیں۔
“شاہ صاحب آپ؟”
زلیخا بیگم اپنے تخت سے کھڑی ہوتی ہوئی بولیں۔
“میری بیٹی یہاں کیا کر رہی تھی؟”
شاہ جتنا بلند بول سکتا تھا بولا۔
زلیخا بیگم سہم کر کبھی ازلان کو دیکھتی تو کبھی شاہ کو۔
“شاہ صاحب قسم لے لیں جو آپ کی بیٹی کا علم بھی ہو مجھے۔۔۔”
زلیخا کا حلق خشک ہو گیا۔
“پانچ منٹ لگیں گے مجھے تمہارے اس کوٹھے کو آگ لگانے میں اس کے بعد تم اس گندگی سمیت بھسم ہو جاؤ گی۔۔۔”
شاہ خونخوار نظروں سے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
“شاہ صاحب مجھ ناچیز کی کیا مجال جو آپ کی بیٹی پر نظر بھی ڈالے میرے پاس تو ایک عورت آئی تھی اور بچی میرے حوالے کر کے اپنی راہ پر چل پڑی۔۔۔”
زلیخا بیگم اس آتش فشاں کے پھٹنے سے گھبرا رہی تھی۔
“کون تھی وہ عورت؟”
شاہ میز پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔
“شاہ صاحب وہ ادھیڑ عمر کی تھی عورت،تنگ بھی گورا تھا خاندانی معلوم ہوتی تھی،نام تو نہیں بتایا لیکن اگر دیکھوں تو پہچان لوں گی۔۔۔”
زلیخا یاداشت پر زور ڈالتی ہوئی بولی۔
شاہ نے فون نکالا اور اس پر انگلیاں چلانے لگا۔
“شاہ صاحب مجھے معلوم ہوتا کہ وہ آپ کی بیٹی ہے تو میں خود لوٹانے آ جاتی لیکن بخدا مجھے معلوم ہی نہیں تھا۔۔۔”
زلیخا کا سانس اٹکا ہوا تھا۔
“یہ عورت تھی؟”
شاہ فون کی اسکرین زلیخا کے سامنے کرتا ہوا بولا۔
زلیخا آنکھیں چھوٹی کیے اسکرین کو دیکھنے لگی۔
“جی شاہ صاحب یہی عورت تھی۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“آئیندہ میرے گھر سے دور رہنا۔۔۔”
شاہ انگلی اٹھاےُ چلا رہا تھا۔
“جی شاہ صاحب۔۔۔”
وہ سر جھکا کر بولی۔
افسردگی شاہ کے چہرے سے عیاں تھی۔
ٰغم و غصے کی حالت میں وہ زلیخا کو گھورنے لگا۔
شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
ازلان گاڑی کے پاس آیا تو شاہ نے اسے کالر سے پکڑ کر گاڑی کے ساتھ لگا دیا۔
“حرم کہاں یے؟”
شاہ اسے گھورتا ہوا بولا۔
“مجھے کیا معلوم؟”
ازلان ہکا بکا سا اسے دیکھنے لگا۔
“جھوٹ مت بولو اگر تمہاری یہ سازش ہے کہ اس طرح حرم کی شادی تم سے ہو جاےُ گی تو اس بھول میں مت رہنا۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولا۔
“ایسے اوچھے ہتھکنڈے میں استعمال نہیں کرتا لے جانا ہو گا نہ تو آپ کے سامنے لے کر جاؤں گا۔میں تو خود اسے تلاش کر رہا ہوں۔۔۔”
ازلان پہلے سختی سے پھر لہجہ نرم کرتا ہوا بولا۔
شاہ نے اس کا گریبان چھوڑ دیا۔
ازلان کالر جھاڑنے لگا۔
“بیٹھو گاڑی میں۔۔۔”
شاہ ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
ازلان سر جھٹکتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ازلان اپنی گاڑی لے کر حویلی کے باہر سے نکل گیا۔
نہ شاہ سے مصافحہ کیا نہ ہی کچھ کہا۔
“نجانے حرم کہاں ہے؟ یہ سب امی نے کیا ماناب کے ساتھ۔۔۔”
شاہ ان کی سوچ پر ماتم کرتا سوچنے لگا۔
شاہ سرد آہ بھرتا چلنے لگا رات کا نجانے کون سا پہر تھا سب اپنے اپنے کمرے میں تھے۔
مہر کروٹ لئے ماناب کو دیکھ رہی تھی جو پرسکون سی سو رہی تھی۔
“شٹ۔میرے دماغ میں یہ پہلے کیوں نہیں آیا؟آئمہ حرم کی دوست؟ کہیں آئمہ اسے کوٹھے پر تو نہیں لے گئی؟ مجھے حرم کر مطلع کرنا چائیے تھا۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
“لیکن شاہ کی بہن کو آئمہ کبھی نہیں لے جاےُ گی میں جانتی ہوں وہ کسی اور لڑکی کی تاک میں ہو گی۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالے سوچنے لگی۔
“نہیں وہ حرم کو لے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔پھر حرم کہاں جا سکتی ہے؟”
ماناب کے واپس آنے پر مہر کا دماغ کام کرنے لگا تھا۔
“تم سوئی نہیں ابھی تک؟”
شاہ بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا۔
“آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔”
مہر نظریں اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ماناب کب سوئی؟”
شاہ ماناب کے رخسار پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
“ماناب تبھی سو گئی تھی جب میں کمرے میں لائی تھی۔۔۔”
مہر کی نظریں ماناب پر ٹکی تھیں۔
“سو جاؤ تم بھی ٹائم دیکھو چار بج رہے ہیں۔۔۔”
شاہ لحاف اوڑھتا ہوا بولا۔
مہر یک ٹک ماناب کو دیکھ رہی تھی۔
“شاہ ماناب کہاں ملی ازلان کو؟”
نیم تاریکی میں شاہ چھت کو گھور رہا تھا۔
“کوٹھے سے۔۔۔”
شاہ کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
“کوٹھے سے؟”
مہر زیر لب دہرائی۔
“ہاں امی چھوڑ کر آئیں تھیں ماناب کو وہاں۔۔۔”
شاہ آنکھیں بند کرتا ہوا بولا۔
دو موتی ٹوٹ کر بےمول ہو گئے۔
آنسو بہنے لگے تھے۔
مہر کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“مہر اس ٹاپک پر ہم صبح بات کریں گے۔۔۔”
شاہ اس کے بولنے سے قبل بول پڑا۔
شاہ ٹوٹ چکا تھا ایسی توقع وہ اپنے گھر کے کسی فرد سے نہیں رکھ سکتا تھا اور اس کی ماں ایسا کر گزری۔
مہر جس نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ شاہ کی بات سن کر آپس میں مبسوط کر لیے۔
دکھ بھی ہو رہا تھا لیکن ماناب کے ملنے کی خوشی زیادہ تھی۔
آئمہ کے متعلق شاہ کو بتانے کا ارادہ ترک کرتی مہر ماناب کو دیکھنے لگی۔
مہر نے آنکھیں بند کیں تو پھر سے وہی منظر آنکھوں کے سامنے چلنے لگا۔
مہر نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔
چہرے پر خوف کی لکریں نمایاں تھیں۔
مہر کے ہاتھ ڈھنڈے پڑ گئے۔
یہ خوف اسے اپنے حصار میں لئے ہوۓ تھا۔
ازلان گاڑی میں بیٹھا تھا۔
باقی کی رات آنکھوں میں بسر ہوئی۔
حرم کا ساتھ پانے کے لئے اسے حرم کو یہاں سے اکیلے لے جانا تھا اسی لئے اس نے شاہ کو کچھ نہیں بتایا۔
ایک گاڑی نمودار ہوئی۔
زین گاڑی سے باہر نکلا۔
ازلان منہ پر ہاتھ رکھے جمائی روکتا اسے دیکھنے لگا۔
“کس کو قتل کرنا ہے؟”
زین اس کی جانب گن کرتا ہوا بولا۔
ازلان گولیاں دیکھنے لگا۔
“مارنا نہیں صرف ڈرانا ہے اگر ضرورت پڑی تو۔۔۔”
ازلان کے لہجے میں بلا کا اطمینان تھا۔
“یہ کون سی جگہ ہے؟”
زین باہر دیکھتا ہوا بولا۔
“یہاں میری ایکس رہتی ہے۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولا۔
اس کا اشارہ ذوناش کی جانب تھا۔
“حرم کو اس نے اپنے گھر میں رکھا ہے؟”
زین کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
“کچھ ایسا ہی سمجھ لے۔۔۔”
ازلان سر اثبات میں ہلاتا ہوا بولا۔
“میں جاؤں یا مدد کے لیے رک جاؤں؟”
زین سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“نہیں تو جا۔میں سنبھال لوں گا۔۔۔”
ازلان اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“شیور؟”
زین مطمئن نہیں ہوا تھا۔
ازلان اثبات میں سر ہلانے لگا۔
زین اس کا شانہ تھپتھپاتا باہر نکل گیا۔
طلوع آفتاب کا وقت ہو رہا تھا۔
سورج کی ہلکی ہلکی گرم کرنیں زمین تک رسائی حاصل کر رہی تھیں۔
ازلان گن جیب میں ڈالتا باہر نکل آیا۔
“اگر پولیس کو بلایا تو حرم بھی سامنے آےُ گی۔۔۔”
ازلان سوچتا ہوا چل رہا تھا۔
“نہیں یہ نہیں کرنا۔۔۔”
ازلان خود ہی اپنی سوچ کی نفی کرنے لگا۔
ایک کھڑکی کھلی تھی جو اتنی وسیع تھی کہ ازلان بآسانی اندر داخل ہو گیا۔
ساری رات گناہوں کی نذر کرنے کے بعد اس وقت سب نیند کی آغوش میں تھے۔
ازلان محتاط انداز میں چلنے لگا۔
وہ ستون کے عقب میں چھپ گیا اور فون نکال کر ذوناش کا نمبر ملانے لگا۔
بیل جا رہی تھی لیکن وہ اٹھا نہیں رہی تھی۔
ازلان نے پھر سے نمبر ملایا لیکن اس بار بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
ازلان افسوس سے فون کو دیکھتا پھر سے نمبر ملانے لگا۔
تیسری بیل پر ہی ذوناش نے فون اٹھا لیا۔
“ہیلو؟”
ذوناش نیند کے خمار میں تھی۔
“میں تم سے ملنے آیا ہوں۔۔۔”
ازلان کچھ سوچ کر بولا۔
“سچ میں؟”
ذوناش مسرت سے کہتی بیڈ سے اتری۔
دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
ازلان کو دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی تو لب مسکرانے لگی۔
ذوناش دائیں بائیں دیکھتی جیسے ہوش میں آئی۔
“کیا مطلب تمہارا؟”
وہ پیشانی پر بل ڈالے چلنے لگی۔
“مجھے تمہاری یاد آ رہی تھی تو سوچا ملنے آ جاؤں تم سے۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا زینے چڑھنے لگا۔
“ایسا خوشنصیب دن کم از کم میری زندگی میں نہیں آ سکتا۔۔۔”
ذوناش تلخی سے بولی۔
ازلان کو ذوناش کی پشت دکھائی دے رہی تھی۔
“یقین نہیں تو چہرہ موڑ کر دیکھو۔۔۔”
ازلان قدم روکے اسے دیکھ رہا تھا۔
ذوناش اسی لمحے گھومی۔
ازلان کو دیکھ کر اس کے چہرے پر خوشی کی رمق تک نہ تھی۔
خوف اور حیرانی نمایاں تھی۔
“ت تم یہاں کیسے آےُ؟”
ذوناش اسے دیکھ کر بوکھلا گئی۔
“کچھ بھول گیا تھا کل رات وہی لینے آیا ہوں۔۔۔”
ازلان آگے قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
ذوناش تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی جانب چلنے لگی۔
ازلان نے چہرہ موڑ کر اس کمرے کو دیکھا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
حرم کا بے سدھ وجود زمین پر پڑا اسے دکھائی دیا۔
ازلان تیزی سے اندر آ گیا۔
حرم کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔
نجانے حرم بے ہوش تھی یا سو رہی تھی۔
ازلان نے اپنی بازو آگے کر کے حرم کی گردن کے نیچے رکھ دی۔
“حرم؟ تم ٹھیک ہو؟”
ازلان اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
حرم کی پلکیں حرکت کر رہی تھیں۔
ازلان کا اٹکا ہوا سانس بحال ہوا۔
حرم کو دیکھ کر ازلان کو تکلیف ہو رہی تھی۔
“حرم؟”
ازلان اس کے بال ہٹاتا نرمی سے بولا۔
حرم نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھول دیں۔
ازلان کا چہرہ سامنے دیکھ کر حرم کی آنکھوں میں بےیقینی دکھائی دینے لگی۔
“ی یہ خواب ہے؟”
حرم بےاعتنائی سے بولی۔
“نہیں حرم یہ کوئی خواب نہیں۔۔۔”
ازلان اسے سہارا دے کر بٹھاتا ہوا بولا۔
ذوناش دروازے کے وسط میں کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
وہ جل کر کوئلہ ہو رہی تھی۔
ازلان کو حرم کے ساتھ اس طرح دیکھنا ذوناش کے لئے مرنے کے مترادف تھا۔
وہ مٹھی زور سے بند کئے ہوۓ تھی۔
ازلان گھٹنا زمین پر رکھے حرم کے ہاتھ کھولنے لگا۔
حرم کی نظر ذوناش پر پڑی تو آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
ازلان نے اسے سہارا دیا تو وہ کھڑی ہو گئی۔
“ذوناش تم میرے ساتھ یہ سب کرو گی میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔”
حرم تاسف سے دیکھتی بول رہی تھی۔
“حرم ایسے گندے لوگوں کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا۔
حرم نے مضبوطی سے ازلان کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
“ازلان تم حرم کو نہیں لے جا سکتے۔۔۔”
ذوناش ان کے راستے میں حائل ہو گئی۔
“تم مجھے روک نہیں سکتی اور شکر مناؤ ابھی تک صحیح سلامت کھڑی ہو۔۔۔”
ازلان قہر آلود نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
ذوناش آنسو بہاتی اردگرد نگاہ دوڑانے لگی۔
ازلان نے ہاتھ بڑھا کر اسے پرے کر دیا اور حرم کو لے کر کمرے سے باہر نکل آیا۔
ذوناش دروازے کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔
ذوناش طیش کے عالم میں کمرے میں آئی گلاس اٹھا کر زمین پر پٹخا اور ٹوٹا ہوا کانچ اٹھا کر باہر نکل آئی۔
“ازلان اگر تم حرم کو لے کر گئے تو میں خود کو مار لوں گی۔۔۔”
ذوناش ان کے عقب میں کھڑی ہوتی چلانے لگی۔
ازلان چہرہ موڑ کر ذوناش کو دیکھنے لگا۔
“مجھے تمہاری ان دھمکیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔”
ازلان کہہ کر چلنے لگا۔
“ازلان وہ کچھ کر لے گی۔۔۔”
حرم فکرمندی سے اس کی شرٹ جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
“حرم تم خاموش رہو۔وہ اسی قابل ہے۔۔۔”
ازلان کہہ کر زینے اترنے لگا۔
ذوناش اشک بار آنکھوں سے اسے نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ رہی تھی۔
اپنی ہار اسے قطعاً قبول نہ تھی۔
ذوناش نے کانچ بائیں کلائی پر رکھا اور آنکھیں بند کر کے اپنی کلائی کاٹ لی۔
ازلان کو کھونے کا درد اتنا زیادہ تھا کہ وہ اس تکلیف پر کراہ بھی نہ سکی۔
ازلان دروازے تک پہنچ چکا تھا۔
ذوناش نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کانچ گردن پر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔
جونہی ہاتھ چلا خون کی دھار نکلنے لگی۔
دیکھتے ہی دیکھتے فرش خوش سے مزین ہو گیا۔
ذوناش بے سدھ زمین پر گر چکی تھی۔
ازلان گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے نکل گیا۔
کچھ فاصلے طے کرنے کے بعد ازلان نے گاڑی روکی۔
چہرہ موڑ کر حرم کو دیکھنے لگا۔
“تم ٹھیک ہو؟”
ازلان اسے دیکھتا متفکر سا بولا۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
ازلان نے ٹیشو تر کیا اور حرم کے چہرے کے قریب لے آیا۔
حرم کے ہونٹ کے نیچے جمے ہوۓ خون کو صاف کرنے لگا۔
حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
ازلان نے دوسرا ٹیشو لیا اور ناک کے نیچے جمے ہوۓ خون کو صاف کرنے لگا۔
“آئم سوری۔میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکا۔۔۔”
ازلان ندامت سے بولا۔
“نہیں ازلان تم معافی مت مانگو۔۔۔”
حرم نفی میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“دیکھو کتنی بے دردی سے مارا ہے تمہیں؟”
ازلان اس کے بائیں رخسار پر پڑے نیل کو انگلی سے چھوتا ہوا بولا۔
“سی۔۔۔”
حرم نے کراہتے ہوۓ آنکھیں بند کر لیں۔
ازلان نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیا۔
“آئم۔۔۔”
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔”
حرم اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بول پڑی۔
“حویلی لے کر چلوں تمہیں؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“نہیں حویلی میں سب کو معلوم ہو جاےُ گا تم مجھے شہر لے چلو۔۔۔”
حرم متفکر سی بولی۔
“میڈم تمہاری معلومات میں اضافہ کرتا چلوں تمہارے بھائی بھابھی ابھی تک حویلی میں ہیں اور تمہاری بھتیجی بھی اسی کوٹھے پر تھی جسے کل رات میں حویلی چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔۔”
حرم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“سب سے مزے کی بات بتاؤں؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“بتاؤ۔۔۔”
حرم آہستہ سے بولی۔
“کل رات میں نے اپنے سالوں میرا مطلب تمہارے بھائیوں سے خاطر تواضع کروائی۔بھئ پہلی بار داماد گھر آیا تھا کچھ تو فرض بنتا ہے نہ ان۔لیکن نہیں وہ بھی میرے کہنے پر خیال آیا انہیں۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
حرم اسے دیکھتی ہوئی مسکرانے لگی۔
“مجھے پوری بات بتاؤ؟ ماناب یہاں کیسے؟اور تم حویلی میں کس کس سے ملے؟”
حرم پریشانی سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان سانس خارج کرتا اسے تفصیل سے آگاہ کرنے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: