Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 22

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 22

–**–**–

ماناب کے رونے کے باعث مہر کی آنکھ کھلی۔
لب مسکرانے لگے۔
روز ماناب ہی اسے جگاتی تھی۔
“مہر ماناب کو چپ کرواؤ۔۔۔”
شاہ لحاف منہ پر اوڑھتا ہوا بولا۔
مہر ماناب کو اٹھاتی ہوئی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
“دیکھو بابا پہلے والی روٹین پر آ گئے۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
مہر نے گھڑی اٹھا کر ٹائم دیکھا تو بیڈ سے اتر گئی۔
ماناب کو اٹھاۓ وہ الماری کے پاس آ گئی اور ماناب کے کپڑے اور تولیہ نکالنے لگی۔
ماناب اس کے لاکٹ کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
“ماما اب اپنے بےبی کو نہلائیں گیں۔۔۔”
مہر اس کا ماتھا چومتی واش روم میں آ گئی۔
تولیے میں لپٹی روتی ہوئی ماناب کو مہر نے شاہ کے سینے پر بٹھا دیا۔
مہر کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
وہ پرسکون سی آئینے کے سامنے کھڑی سامان اٹھانے لگی۔
شاہ اپنے سینے پر وزن محسوس کر کے سمجھ چکا تھا۔
“مہر یار کیوں تنگ کر رہی ہو؟”
شاہ گلا پھاڑتی ماناب کو پکڑتا ہوا بولا۔
“میں کہاں تنگ کر رہی ہوں آپ کو؟”
مہر لب دباےُ مسکراہٹ روکتا ہوئی بولی۔
“ماما بہت گندی ہیں آپ کی۔۔۔”
شاہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“بابا کیسے کھیلیں آپ کے ساتھ ابھی تو سوےُ تھے۔۔۔”
شاہ جمائی روکتا ہوا بولا۔
ماناب اسے دیکھتی آنسو بہا رہی تھی۔
“آ میرا بچہ کیوں رو رہا ہے؟”
شاہ نے اس کا چہرہ صاف کر کے سینے سے لگا لیا۔
ماناب اس کی شرٹ کی جیب کے ساتھ کھیلنے لگی۔
“دیکھ لو میں نے بھی چپ کروا ہی لیا۔۔۔”
شاہ ماناب کے سر پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
مہر مسکراتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی۔
“چلو ماناب آؤ تیار کروں آپ کو۔۔۔”
مہر اسے پکارتی ہوئی بولی جو جیب کے ساتھ الجھ رہی تھی۔
مہر نے آگے ہو کر اسے پکڑ لیا۔
ماناب ہونٹ باہر نکالتی رونے کی تیاری کرنے لگی۔
مہر نے اس کے ہاتھ میں کریم کا ڈبہ پکڑا دیا۔
شاہ انہیں دیکھتا پھر واش روم میں چلا گیا۔
شاہ مہر کے ہمراہ نیچے آیا تو حسب معمول سب موجود تھے۔
ماناب شاہ کی گود میں تھی۔
ہشاش بشاش سی ماناب آنکھیں ٹپٹپاتی سب کو دیکھنے لگی۔
“ہماری پوتی آ گئی!”
کمال صاحب اسے اٹھاتے ہوۓ مسکرانے لگے۔
“امی آپ اس حد تک گر جائیں گیں میں نے سوچا نہیں تھا۔۔۔”
شاہ ضوفشاں بیگم کو دیکھتا اونچی آواز میں بولا۔
ضوفشاں بیگم کا چاےُ ڈالتا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
وہ ششدر سی بولی البتہ لہجے میں گھبراہٹ نمایاں تھی۔
“امی ماناب صرف مہر کی بیٹی نہیں ہے وہ میرا بھی خون ہے۔۔۔”
شاہ تاسف سے بول رہا تھا۔
تمام افراد ناسمجھی سے شاہ کو دیکھ رہے تھے۔
“شاہ کیا ہو گیا ہے صبح صبح کیوں برس رہے ہو اپنی ماں پر۔۔۔”
کمال صاحب پوتی کو کھلاتے خفگی سے گویا ہوۓ۔
“یہ تو آپ اپنی بیگم سے پوچھیں ایسی کون سی رقابت ہے انہیں جس کے باعث یہ ماناب کو کوٹھے پر چھوڑ آئیں۔۔۔”
شاہ چلا رہا تھا۔
ضوفشاں بیگم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے ضوفشاں بیگم کو دیکھ رہے تھے۔
“بہو؟”
کمال صاحب کھڑے ہوتے ہوۓ بولے۔
مہر نے آگے ہو کر ماناب کو پکڑ لیا۔
“یہ کیا سن رہے ہیں ہم؟”
وہ ضوفشاں بیگم کے سامنے آتے ہوۓ بولے۔
“شرم کرو اپنی ماں پر ایسا بھتان لگاتے ہوۓ۔۔۔”
وہ بوکھلا کر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ بلاؤں اس زلیخا کو؟ آپ کی ویڈیو دکھائی ہے اس نے مجھے۔۔۔”
شاہ تمس سے بولا۔
ضوفشاں بیگم کو پانی سر سے گزرتا محسوس ہوا۔
“بیگم ایسا نہ ہو ہمارا ہاتھ اٹھ جاےُ۔۔۔”
کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔
“ایک طوائف کی بیٹی کا پہلا اور آخری ٹھکانہ کوٹھا ہے۔۔۔”
وہ حقارت سے بولیں۔
“امی بس کر دیں بس کر دیں کیوں اس گھر کا سکون اور میری خوشیوں کی دشمن بنی ہوئی ہیں؟”
شاہ اکتا کر بولا۔
“آپ کو معلوم ہے یہ مہر مجرا کرتی تھی میرے پاس ثبوت ہے۔شاہ نے ہم سب سے جھوٹ بولا ہے اس طوائف کی خاطر ہمیشہ خاموش کرواتا ہے۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتی ہوئیں بولیں۔
“کیا ثبوت ہے تمہارے پاس؟”
کمال صاحب خونخوار نظروں سے گھورتے ہوۓ بولے۔
“دکھاتی ہوں آپ سب کو۔اس کی سچائی سب کے سامنے لاؤں گی میں۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی کمرے میں چل دیں۔
مہر نے شاہ کی بازو پکڑ لی۔
مہر کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔
شاہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
زلیخا بیگم واپس آئیں۔
“شاہ ویز اس میں سے ویڈیو چلا۔۔۔”
وہ شاہ ویز کی جانب ایک فون بڑھاتی ہوئی بولیں۔
شاہ ویز شش و پنج میں مبتلا باقی گھر والوں کو دیکھنے لگا۔
کمال صاحب نے اسے اشارہ کیا۔
اس میں صرف ایک ہی ویڈیو تھی شاہ ویز نے اسے پلے کر دیا۔
گانے کی دھن سنائی دینے لگی شاہ ویز نے فون کمال صاحب کی جانب بڑھا دیا۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسکرین پر چلتی ویڈیو دیکھ رہے تھے۔
مہر کو لگا وہ دوبارہ سانس نہیں لے پاےُ گی۔
اپنا آپ زمین میں دھنستا محسوس ہو رہا تھا۔
شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے لیکن اسے زیادہ فکر نہیں تھی وہ مضبوطی سے مہر کا ہاتھ تھامے ہوۓ تھا جو ابھی تک اس کی بازو پر تھا۔
“شاہ یہ سب کیا ہے؟”
کمال صاحب آگ بگولہ ہو گئے۔
شاہ نے ایک نظر اسکرین پر ڈالی۔
اس کے اطمینان میں رتی بھر بھی کمی نہ آئی۔
“اب بتاؤ میں جھوٹ بول رہی ہوں؟”
ضوفشاں بیگم پھٹ پڑیں۔
“مہر وہاں سے آئی ہے تو؟”
شاہ آبرو اچکا کر انہیں دیکھنے لگا۔
“تم ایک طوائف کو اس گھر کی بہو کیسے بنا سکتے ہو؟”
کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔
“کیوں وہ لڑکی کے زمرے میں نہیں آتیں؟ اور سب سے اہم بات مہر کو اس جہنم میں زبردستی جھونکا گیا تھا تو کیا غلط کیا میں نے اسے اس ذلت سے نجات دلا کر؟”
شاہ آنکھیں چھوٹی کیے کمال صاحب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ہم نے ایسی۔۔۔”
“امی اگر آپ نے مہر کے لئے کوئی ناقابل برداشت الفاظ استعمال کئے تو میں لحاظ نہیں کروں گا۔۔۔”
شاہ درشتی سے ان کی بات کاٹتا ہوا بولا۔
“اب ایک ایسی لڑکی کے لئے ماں کے ساتھ بدتمیزی کرے گا تو؟”
وہ شاہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئی بولیں۔
“شاہ ہم عزت دار لوگ ہیں تم ایسی حماقت کیسے کر سکتے ہو؟”
کمال صاحب کچھ نرم پڑے۔
“بابا سائیں مہر بھی ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔اگر اس کی زندگی میں کوئی انہونی ہوئی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟اسے کیوں ساری زندگی ایک ناکردہ گناہ کی سزا دی جاےُ؟ اسے خوش رہنے کا حق حاصل نہیں؟ کیوں وہ تکلیف سہے جانے کی مستحق ہے؟”
شاہ پے در پے سوال داغنے لگا۔
“ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا ساری دکھی دنیا کا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم تیوری چڑھا کر بولیں۔
مہر سر جھکاےُ آنسو بہا رہی تھی کیونکہ اس کی بقا کی جنگ اس کا شوہر لڑ رہا تھا۔
“آپ لوگ کہنا کیا چاہتے ہیں صاف صاف بولیں؟”
شاہ کمال صاحب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“باہر نکالو ایسی گندگی کو ہمارے گھر سے۔۔۔”
کمال صاحب سے قبل ضوفشاں بیگم حقارت سے بولیں۔
“اچھا ایسا ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔”
شاہ کے الفاظ پر مہر کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
“مہر سامان پیک کر لو ہم دونوں ابھی جا رہے ہیں واپس۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ کیا بچپنا ہے شاہ؟”
کمال صاحب خفگی سے بولے۔
“جو آپ کر رہے ہیں میں بھی وہی کر رہا ہوں اور یاد رکھیے گا واپس نہیں آؤں گا میں۔۔۔”
شاہ انگلی اٹھاےُ بول رہا تھا۔
مہر پتھر کی مورت بنے شاہ کے ہمراہ کھڑی تھی سر جھکا ہوا تھا۔
“مہر تمہیں سنائی نہیں دیا؟”
شاہ اسے دیکھتا ہوا دھاڑا۔
مہر ماناب کو سنبھالتی چلنے لگی۔
“حد ہو گئی ہے ویسے حرم غائب ہے اور آپ سب ایک بات کو لے کر جھگڑا کر رہے ہیں؟”
شہریار جو کب سے ضبط کر رہا تھا آخر بول پڑا۔
“یہ سب شاہ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“ہاں تو جا رہا ہے شاہ۔اب کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا اور آپ کا میری بیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے یاد رکھیے گا۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولا۔
“بیگم بس کر دو۔۔۔”
کمال صاحب خفگی سے بولے۔
وہ اپنے بازو کو اس طرح جانے نہیں دے سکتے تھے۔
“شاہ تم کہیں نہیں جا رہے۔۔۔”
کمال صاحب حتمی انداز میں بولی۔
“جس گھر میں میری بیوی کی عزت نہیں میں اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔۔۔”
شاہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا بولا۔
“نہ تم کہیں جا رہے ہو اور نہ ہی بہو۔تمہاری ماں کو ہم سمجھا لیں گے۔۔۔”
وہ شاہ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوےُ بولے۔
شاہ ترچھی نظروں سے ان کے ہاتھ کو دیکھتا چہرے کو دیکھنے لگا۔
“اس کے بعد اگر کچھ ہوا میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔”
شاہ ان کا ہاتھ ہٹاتا ہوا بولا۔
“حرم؟”
شاہ ویز بےیقینی سے حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز کی آواز پر سب دروازے کی جانب دیکھنے لگے۔
“حرم میری بچی!”
زلیخا بیگم اسے اپنے ساتھ لگاتی ہوئی بولیں۔
حرم بلک بلک کر رونے لگی۔
ازلان جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
“کہاں سے لاےُ ہو تم حرم کو؟”
شاہ اس کی جانب لپکا۔
“جہاں سے کل آپ کی بیٹی کو لایا تھا۔۔۔”
ازلان کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
“کوٹھے سے؟”
زلیخا بیگم ششدر سی بولیں۔
ازلان تاسف سے اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“حرم تو کوٹھے پر تھی؟”
وہ حرم کا چہرہ تھامتی ہوئی بولیں۔
“جی امی۔۔۔”
حرم اشک بہاتی ہوئی بولی۔
شاہ کے چہرے پر تلخی عود آئی۔
“حرم تم دو راتیں اس کوٹھے پر گزار کر آئی ہو؟”
شاہ حرم کو اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“امی آپ کی بیٹی کوٹھے سے آئی ہے؟”
شاہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا۔
“میری بچی ایسی نہیں ہے۔۔۔”
وہ حرم کو ساتھ لگاتی ہوئی بولیں۔
“کون گواہی دے گا کہ حرم آج بھی ویسی ہی ہے جیسی کوٹھے پر جانے سے پہلے تھی؟”
شاہ نے ازلان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“شاہ تم ہوش میں تو ہو؟”
کمال صاحب کا ضبط جواب دیتا جا رہا تھا۔
“میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے؟ وہ جگہ کیسی ہے؟ آپ سب اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔”
شاہ کاری ضرب لگاتا ہوا بولا۔
ضوفشاں بیگم حرم کو دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھیں۔
ازلان کافی حد تک شاہ کی بات سمجھ چکا تھا۔
“شاید وہ اپنی بیٹی کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔۔۔”
ازلان شاہ کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا۔
“آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں حرم دو راتیں کوٹھے پر گزار کر آئی ہے اب کون شادی کرے گا حرم سے؟”
ازلان شاہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ازلان خبردار اگر تم نے کسی کے سامنے منہ کھولا تو۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خفگی سے دیکھنے لگیں۔
“میرا خیال ہے کہ آپ کا ہم سے کوئی تعلق نہیں؟ تو میں آپ کی عزت کا خیال کیوں کروں؟اسے میری اعلی ظرفی سمجھیں کہ میں حرم کو وہاں سے لے آیا ہوں۔۔۔”
ازلان چبا چبا کر بولا۔
اس سے قبل کہ کوئی کچھ بولتا ازلان وہاں سے نکل گیا۔
“روکیں اسے وہ میری بیٹی کو بدنام کر دے گا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ہکا بکا سی چلانے لگیں۔
“بیگم جو دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں نہ ان کا اپنا دامن بھی صاف نہیں رہتا۔۔۔”
کمال صاحب تاسف سے کہتے کمرے کی جانب چل دئیے۔
“امی دیکھ لیں خدا کا انصاف! آپ نے میری بیٹی کو وہاں بھیجا تھا اللہ نے آپ کی بیٹی کو بھی اسی گندگی میں بھیج دیا۔اور حرم دس منٹ بعد میرے کمرے میں آنا۔۔۔”
شاہ کہتا ہوا زینے چڑھنے لگا۔
“امی ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔”
حرم ضوفشاں بیگم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں جانتی ہوں حرم۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتی تاسف سے بولیں۔
“حرم تمہارے چہرے پر کیا ہوا ہے؟”
شاہ ویز اس کے چہرے پر پڑے نیل دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی انہوں نے مارا تھا مجھے۔۔۔”
حرم آنسو صاف کرتی ہوئی بولی۔
“میں مصطفی بھائی سے بات کرتا ہوں ان کوٹھے والوں کو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔”
شاہ ویز حرم کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ابھی کچھ وقت دو بھائی کو۔پھر بات کریں گے۔۔۔”
شہریار شاہ ویز کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“آ جا میرے بچی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم اسے اپنے ساتھ لگاےُ چلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ سب منتشر ہو گئے۔
شاہ بیزاری سے کمرے میں آ گیا۔
مہر ماناب کو اٹھاےُ کپڑے پیک کر رہی تھی۔
شاہ نے ماناب کو پکڑا اور اس کے گال پر بوسہ دیتا مہر کو دیکھنے لگا۔
“ضرورت نہیں اب اس کی۔۔۔”
شاہ مہر کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر سر جھکاےُ کھڑی تھی۔
آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔
“مہر؟”
شاہ نے دھیرے سے پکارا۔
“میں تمہیں وہ عزت وہ مقام ضرور دلواؤں گا جس کی تم حقدار ہو۔۔۔”
شاہ اس کے قریب آتا ہوا بولا۔
مہر کے آنسو زمین پر گر کر بے بول ہو گئے۔
“شاہ مجھے نہیں لگتا ایسا ممکن ہو گا میری وجہ سے آپ کو اپنے گھر والوں کے خلاف جانا پڑ رہا ہے۔۔۔”
مہر کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
“پاگل ہو تم۔۔۔”
شاہ اپنا دائیاں ہاتھ مہر کے پیچھے لے گیا اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
مہر اس کے سینے پر سر رکھے سسکنے لگی۔
آنسو بےقابو ہو رہے تھے۔
“بس مہر۔۔۔”
شاہ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
ماناب منہ بسورتی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“دیکھو ماناب ماما کتنا روتی ہیں؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
ماناب نے شاہ کے شانے پر سر رکھ لیا۔
“ماناب ماما کو چپ کرواؤ۔۔۔”
مہر سر اٹھا کر شاہ کو دیکھنے لگی۔
آنکھیں غم کی داستاں بنی ہوئی تھیں۔
“اب نہیں رونا تم نے۔جتنا رونا تھا رو لیا سمجھی۔۔۔”
شاہ مہر کے گلاب کی مانند نرم و نازک رخسار پر ہاتھ پھیرتا آنسو صاف کرنے لگا۔
“مجھے لگتا ہے ماناب سو گئی ہے۔۔۔”
شاہ چہرہ موڑ کر ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
مہر نے ماناب کو پکڑا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
ماناب سو چکی تھی۔
مہر اسے دیکھ رہی تھی۔
“ازلان حرم کو لے آیا ہے۔۔۔”
شاہ مہر کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
دروازے پر دستک ہونے لگی۔
“آ جاؤ حرم۔۔۔”
شاہ اونچی آواز میں بولا۔
حرم جھجھکتے ہوۓ اندر آ گئی۔
مہر ماناب پر لحاف اوڑھتی کھڑی ہو گئی۔
“کیسی ہو حرم؟”
مہر اس کے گلے لگتی ہوئی بولی۔
“میں ٹھیک ہوں بھابھی اور آپ؟”
حرم کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔
“آؤ بیٹھو۔۔۔”
مہر صوفے کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“بھائی آپ نے بلایا تھا؟”
حرم شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارا یہ حال کس نے کیا؟”
شاہ بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ میری روم میٹ ذوناش نے جو کوٹھے پر زنیرہ ہے۔۔۔”
حرم چہرہ جھکا کر بولی۔
مہر ایک نظر حرم پر ڈالتی اور ایک نظر سوتی ہوئی ماناب پر ڈالتی۔
“مجھے اس کی تصریر دو۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر تمس نمایاں تھا۔
“بھائی وہ کوٹھے پر ہے۔۔۔”
حرم سر جھکاےُ بول رہی تھی۔
شاہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“جانتی ہو نہ امی نے تمہارا رشتہ طے کر رکھا ہے؟”
شاہ نے موضوع بدلا۔
“جی بھائی۔۔۔”
حرم ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔
“تو ازلان کا تمہارے اردگرد رہنے کا کیا مطلب؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“ازلان اتنی صبح صبح کہاں سے آ رہے ہو؟”
شمائلہ ششدر سی بولیں۔
“السلام علیکم!”
ازلان ان کے گلے لگتا ہشاش بشاش سا بولا۔
“وعلیکم السلام! آج میرے بیٹے کو گھر کا راستہ کیسے بھول گیا؟”
وہ آبرو اچکا کر بولیں۔
“بھول گیا پھر بھی مسئلہ ہے؟”
ازلان خفا خفا سا بولا۔
“بھائی سو رہے ہیں؟”
ازلان صوفے پر گرتا ہوا بولا۔
“ہاں۔ جانتے تو ہو آفس کے ٹائم پر ہی اٹھتا ہے۔اچھا یہ بتاؤ ناشتہ بنواؤں؟”
وہ ازلان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولیں۔
ازلان نے ان کی گود میں سر رکھ لیا۔
“ابھی نہیں کچھ لوگوں کی باتوں سے پیٹ بھر گیا ہے۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“کس نے میرے بیٹے کو باتیں سنائیں؟”
وہ متحیر سی بولیں۔
“چھوڑیں آپ اسے۔۔۔”
ازلان ان کے ہاتھ چومتا ہوا بولا۔
“پتہ ہے کتنا یاد کر رہی تھی تمہیں؟”
وہ خفگی سے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“اسی لئے تو آیا ہوں۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“نواب شوز سمیت صوفے پر بیٹھے ہیں۔۔۔”
یاسر شاہ اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔
“السلام علیکم! “
ازلان انہیں دیکھتا ہوا مسکرانے لگا۔
“وعلیکم السلام! آج صبح صبح کیسے آنا ہوا جناب کا؟”
وہ اخبار اٹھاتے ہوۓ بولے۔
“واپس چلا جاؤں؟”
ازلان منہ بناتا اٹھ بیٹھا۔
“نہیں بھئ ہم تو ایسے ہی کہہ رہے تھے۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
“ابو آپ کی تایا ابو سے لڑائی کتنی شدید ہے؟”
ازلان سوچتا ہوا بولا۔
“تمہیں آج تایا ابو کی یاد کہاں سے آ گئی؟”
شمائلہ اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ابو مجھے حرم سے شادی کرنی یے۔۔۔”
ازلان انہیں دیکھتا ہوا بولا۔
“کمال کی بیٹی سے؟”
وہ اخبار سے نظریں اٹھا کر ازلان کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
ازلان اثبات میں گردن ہلانے لگا۔
“ازلان بس وہی ایک رہ گئی ہے کیا؟”
شمائلہ حیران پریشان سی بولیں۔
“تم جانتے ہو نہ ہماری بول چال بند ہے؟”
وہ آبرو اچکا کر بولے۔
“ابو میرے پاس ایک بہت اچھا پلان ہے اپنی جائیداد واپس لینے کا۔۔۔”
ازلان آگے ہو کر بولا۔
“وہ لوگ کبھی بھی حرم کی شادی تم سے نہیں کریں گے۔۔۔”
وہ حتمی انداز میں بولے۔
“کریں گے ضرور کریں گے۔بس آپ رضامند ہو جائیں دیکھیے گا وہ خود آئیں گے ہمارے پاس۔۔۔”
ازلان ٹانگ پے ٹانگ چڑھاتا ہوا بولا۔
“کیا مطلب؟”
وہ پیشانی پر بل ڈالے ازلان کو دیکھنے لگے۔
“ابو وہ حرم کی شادی مجھ سے کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ میں نے حرم سے نکاح کیا ہے وہ بیوقوف میرے پیار میں پاگل ہے منا لے گی اپنے گھر والوں کو۔دوسری بات اگر وہ طلاق مانگتے ہیں تو میں کورٹ میں گھسیٹوں گا انہیں۔بےعزتی ہونے کے بعد حرم سے کون شادی کرے گا اس لئے وہ ایسا نہیں کریں گے۔وہ ہمارے پاس آئیں گے اور ہم اپنی جائیداد واپس لیں گے جس پر وہ سالوں سے قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔۔۔”
ازلان ٹیک لگاتا انہیں دیکھنے لگا۔
“پلان تو اچھا ہے لیکن مجھے بھائی صاحب سے جائیداد کے سوا کوئی رقابت نہیں۔انہوں نے غلط کیا اگر وہ اپنی غلطی سدھار لیتے ہیں تو ہم بھی اپنا دل بڑا کر لیتے۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔
ازلان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
“میں اب سونے جا رہا ہوں مجھے جگانے مت آئیے گا۔۔۔”
ازلان انگڑائی لیتا کھڑا ہو گیا۔
یاسر اسے دیکھ کر مسکرانے لگے۔
****////////****
“حرم میں نے کچھ پوچھا ہے؟”
شاہ کی آواز بلند ہو گئی۔
“شاہ؟”
مہر اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“حرم اگر تم نے سٹینڈ نہیں لیا تو تم مجھے اور اس رشتے کو کھو دو گی۔۔۔”
حرم کے کان میں ازلان کے الفاظ بازگشت کر رہے تھے۔
“بھائی میں پسند کرتی ہوں ازلان کو۔۔۔”
حرم نے گھبراتے ہوۓ کہہ ڈالا۔
شاہ آبرو اچکا کر حرم کو دیکھنے لگا جو شاہ کو دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔
مہر مسلسل اسے گھورتے ہوۓ اشارے کی رہی تھی۔
“تمہیں یونی اس کام کے لیے بھیجا تھا؟”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
“شاہ کیوں بچی کو ڈرا رہے ہیں؟”
مہر اسے دیکھتی صدمے سے بولی۔
شاہ نے ایک غصیلی نگاہ مہر پر ڈالی۔
“حرم جاؤ تم اپنے کمرے میں شاباش آرام کرو جا کر۔حالت دیکھیں اس کی۔اور آپ عدالت لگا کر بیٹھ گئے ہیں۔۔۔”
مہر خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ مہر کو گھور رہا تھا۔
مہر نے حرم کو کھڑا کیا اور اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
“بھابھی؟”
حرم دروازے کے پاس پہنچی کر بولی۔
“تم فکر مت کرو میں بات کر لوں گی شاہ سے۔۔۔”
مہر اس کا منہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔
حرم اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔
“مہر تم مجھے جب ٹوکتی ہو نہ بہت غصہ آتا ہے یقین کرو میں جتنا برداشت کرتا ہوں نہ تمہیں اندازہ نہیں ہے۔۔۔”
مہر کے آتے ہی شاہ اس پر برسنے لگا۔
“اچھا جی یہ تو بہت اچھی بات ہے میرے پیارے شوہر جی اتنا اچھا کام کرتے ہیں۔۔۔”
مہر اس کا منہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔
وہ جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی۔
“مہر؟”
شاہ سلگتی نگاہوں سے مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
مہر کا ہاتھ شاہ کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔
“جی میری جان۔۔۔”
مہر لب دباےُ مسکراتی ہوئی بولی۔
شاہ اس کے اس انداز پر مسکرانے لگا۔
“تم بہت بدتمیز ہو۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“آپ کی وجہ سے اگر میری بیٹی جاگ جاتی تو میں نے بات نہیں کرنی تھی آپ سے اس لئے آپ کو ٹھنڈا کیا میں نے۔۔۔”
مہر منہ بسورتی ہوئی بولی۔
“اچھا جی تو اب تم شاہ ویز کے نکاح کی تیاری کرو میں ذرا ان کوٹھے والوں کی خبر لے کر آتا ہوں۔۔۔”
شاہ اس کے بال کیچر کی زد سے آزاد کرتا ہوا بولا۔
“کوٹھے پر جانا ہے تو میرے بال کیوں کھول دئیے؟”
مہر خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“دل کر رہا ہے نہ جاؤں لیکن دماغ کہہ رہا ہے پہلے ان کی خبر لوں۔۔۔”
شاہ بےچارگی سے بولا۔
“ہمیشہ دل کی بھی نہیں سننی چائیے چلیں نکلیں یہاں سے۔۔۔”
مہر اسے دھکیلتی ہوئی بولی۔
شاہ اسے گھوری سے نوازتا باہر نکل گیا۔
مہر مسکراتی ہوئی واپس آ گئی۔
حالات پھر سے معمول پر آ رہے تھے۔
“شکر ہے حرم صحیح سلامت واپس آ گئی۔۔۔”
مہر سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔
لیکن ایک الجھن تھی جو مہر کو بے سکون کئے ہوۓ تھی۔
مہر نے فون اٹھایا اور مختلف بیان سننے لگی۔
حجاب کے سلسلے میں سورۃ النور آیت نمبر 31میں ارشاد ہوا ہے:
ترجمہ:-
اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں۔مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جاےُ ان کا چھپا ہوا سنگھار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانوں سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔۔۔
“عورتوں کو چائیے کہ گھر کے اندر چلنے پھرنے میں پاؤں اس قدر آہستہ رکھیں کہ ان کے زیور کی جھنکار سنی نہ جاےُ۔
ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس قوم کی دعا قبول نہیں فرماتا جن کی عورتیں جھانجن پہنتی ہوں۔
جھانجن کا مطلب جانتے ہیں آپ؟ اس کا مطلب ہے پازیب پائیل جو عورتیں پہنتی ہیں جب وہ چلتی ہیں تو اس میں لگے گھنگھرو کی آواز سنائی دیتی ہے یہاں اس کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سے آپ کو سمجھنا چائیے کہ جب زیور کی آواز زرا غور کریں صرف آواز عدم قبول دعا کا سبب ہے تو خاص عورت کی آواز علاوہ ازیں اس کی بےپردگی کیسی غضب الہی کا موجب بنتی ہو گی۔ہمارے یہاں کوئی فنکشن آ جاتا ہے جی تو دیکھیں ہماری خواتین ایسے سجھ دھج کر نکلتی ہیں نہ دوپٹوں کا ہوش نہ اپنے شرم گاہوں کی فکر۔ایک نہیں ہزاروں مرد انہیں دیکھتے ہیں اور وہ ہر چیز سے نیاز ہوتی ہیں کوئی فکر ہی نہیں۔ شادی کسی دور دراز کے رشتے دار کی بھی ہے تو ایسے بن سنور کر جائیں گیں مانو ان کی اپنی شادی ہے۔مذاق نہیں ایسا ہی ہے۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔
“بناؤ سنگھار کرو خدا یہ نہیں کہتا کہ کرو ہی مت لیکن صرف اپنے شوہر کے لئے صرف اپنے مجازی خدا کے سامنے۔یہ جو بناؤ سنگھار آج کل کی خواتین کرتی ہیں یہ تو دنیا کو دکھانے کے لیے ہے مردوں کو لبھانے کے لئے اور بخدا اگر کسی عورت کو یہ کہہ دیں تو وہ آپ کے گلے پڑ جاےُ گی۔۔۔”
مولانا مسکراتے ہوۓ بولے۔
“ایک بڑی دلچسپ بات میں نے نوٹ کی ہے شاید آپ سب نے بھی کی ہو۔آج کل خواتین گھر سے نکلتی ہیں تو تیار ہو کر نکلتی ہیں میں ڈاکٹر کے پاس بیٹھا تھا ایک عورت آئی اپنے بیٹے کی دوا لینے۔میری نظر پڑی تو میں ششدر رہ گیا۔سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگاےُ وہ عورت ایسے معلوم ہو رہی تھی کسی تقریب میں شرکت کرنے جا رہی ہے۔
صرف یہی نہیں بازاروں میں نکل جاےُ وہاں بھی یہی سب نظر آےُ گی میری تو سمجھ سے باہر ہے آخر ایسی جگہوں پر بناؤ سنگھار کی کیا ضرورت؟ نجانے ہماری عورتوں کے دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔۔۔”
مہر نے اسکرین پر انگلی رکھی اور ویڈیو بند کر دی۔
ندامت کے آنسو بہ رہے تھے۔
وہ بلکل درست کہہ رہے تھے مہر کا شمار بھی ایسی ہی خواتین میں ہوتا تھا۔
“تو کیا جو میں اپنے خواب میں دیکھتی ہوں وہ انہی گناہوں کی سزا ہے؟”
مہر آہستہ سے خود کلامی کرنے لگی۔
“جب شاہ کی پھوپھو کے بیٹے کی شادی تھی تب میں بھی اسی طرح تھی تیار ہو کر۔اور شاہ ویز؟اس کا میرے پیچھے آنا مجھے پسند کرنا۔اگر میں پردہ کرتی تو شاید یہ سب نہیں ہوتا شاید اتنی تذلیل نہ ہوتی میری۔۔۔”
مہر اشک بہاتی بول رہی تھی۔
نظر اپنے پاؤں پر پڑی تو پاؤں میز پر رکھ لیا۔
یہ پائیل جو وہ نجانے کتنے سالوں سے زیب تن کئے ہوۓ تھی۔مہر کو بہت پسند تھی۔
مہر نے ہاتھ بڑھایا اور پائیل اتار دی۔اسی طرح دوسرے پاؤں سے بھی پائیل اتار دیں۔
مہر میز پر پڑی پائیل کو دیکھ رہی تھی۔
“اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو اپنے پسندیدہ چیزوں کی قربانی دینی ہو گی لیکن صرف وہی چیزیں جو گناہ کے زمرے میں آتی ہیں۔۔۔”
مہر نم آنکھوں سے مسکرانے لگی۔
دل میں عہد و پیمان باندھتی مہر اٹھ کھڑی ہوئی۔
****/////////****
“عینی ایک بات میں تمہیں کتنی بار سمجھاؤں؟ روز نمبر بدل کر مجھے تنگ کرنے لگ جاتی ہو مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟”
شاہ ویز اکتا کر بولا۔
“شاہ ویز تم کیسے کسی اور سے شادی کر سکتے ہو؟”
عینی ابھی تک بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔
“تو کیا تم سے کروں شادی؟ایک ایسی لڑکی سے جسے اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں وہ میری عزت کا خیال کرے گی؟”
شاہ ویز دانت پیستا ہوا بولا۔
“تم سے تو محبت کرتی ہوں اس لئے ماں باپ کو دھوکہ دیا۔۔۔”
“جو لڑکی اپنے ماں باپ کی سگی نہیں ہو سکی وہ میری سگی کیا ہو گی؟ تم جیسی لڑکیوں کے باعث عورتیں بدنام ہیں۔۔۔”
شاہ ویز تاسف سے بولا۔
“مجھ پر فلسفہ جھاڑنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تم کیا ہو؟”
عینی بھی پھٹ پڑی۔
“میں جیسا بھی ہو کم از کم آئینہ دیکھتا ہوں تمہارے طرح نہیں خود کو ڈھانپنے کی کوشش کرتا۔میں برا ہوں میں ڈنکے کی نوک پر کہتا ہوں۔تمہاری طرح خود کو کور کرنے کی کوشش نہیں کر رہا میں۔۔۔”
شاہ ویز تلخی سے مسکراتا ہوا بولا۔
“تم جیسا انسان کبھی خوش نہیں رہ سکتا شاہ ویز میری بات یاد رکھنا۔۔۔”
عینی چلائی۔
“میری خوشی کی تم پرواہ مت کرو۔مجھے اگر برا بننے آتا ہے تو خود کو سدھارنا بھی آتا ہے تم اپنی فکر کرو۔۔۔”
شاہ ویز طمانیت سے بولا۔
“بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری وہ منگیتر۔ساری زندگی تم دونوں ترستے رہو گے خوشی کے لیے۔۔۔”
عینی نے کلس کر فون بند کر دیا۔
شاہ ویز نفی میں سر ہلاتا باہر نکل آیا۔
“بھائی؟”
شاہ کو دیکھ کر شاہ ویز اس کے پیچھے لپکا۔
شہریار بھی شاہ کے ساتھ تھا۔
“بھائی مجھے آپ سے بات کرنی یے؟”
شاہ ویز التجائیہ نظروں سے شاہ کو دیکھ رہا تھا۔
“شہریار تم گاڑی نکالو میں آتا ہوں۔۔۔”
شہریار سر ہلاتا چلا گیا۔
“کیا کہنا ہے شاہ ویز؟”
شاہ اس کی جانب رخ موڑتا ہوا بولا۔
“بھائی پلیز اب تو مجھے معاف کر دیں۔میں حرائمہ سے نکاح کر رہا ہوں اور برہان سے تو میں نے تبھی تعلقات ختم کر دئیے تھے جب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا جب مجھے سمجھ آیا کہ وہ مجھے آپ سے دور کرنا چاہتا ہے۔۔۔”
شاہ ویز کا سر ندامت سے جھکا ہوا تھا۔
شاہ نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا۔
“چھوٹے تجھے غلط راستے پر چلتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتا میں۔امید ہے اب مجھے شکایت کا موقع نہیں ملے گا؟”
شاہ اس سے الگ ہوتا ہوا بولا۔
“نہیں بھائی اب کوئی غلط کام نہیں کروں گا میں۔۔۔”
شاہ ویز اس کے ہاتھ تھامتا ہوا بولا۔
شاہ اس کے بال بکھیرتا چلا گیا۔
شاہ ویز جیب میں ہاتھ ڈالے شاہ کو دیکھنے لگا۔
حرائمہ عافیہ کے ہمراہ باہر نکلتی دکھائی دی تو شاہ ویز کی نظریں اس پر ٹھر گئیں۔
مسکراتے ہوۓ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اندر کی جانب چل دیا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو یہاں لانے کی؟”
شاہ طیش کے عالم میں بول رہا تھا۔
زلیخا اس کے پاؤں میں گری ہوئی تھی۔
“شاہ صاحب جو لڑکی لے کر آئی تھی وہ خود بھی مر چکی ہے معاف کردیں اس باندی کو خدا گواہ ہے مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔۔۔”
وہ شاہ کے پاؤں پکڑے بول رہی تھی۔
شاہ کے ہمراہ ملازم ہتھیار پکڑے کھڑے تھے۔
“شہریار پولیس کو فون لگاؤ۔۔۔”
شاہ تحمل سے بولا۔
“شاہ صاحب رحم کریں مجھ پر ایسا نہ کریں میں یہاں سے سب کو لے جاؤں گی ساری زندگی آپ کو شکل نہیں دکھاؤں گی۔۔۔”
زلیخا بیگم تڑپ رہی تھی۔
شاہ نے شہریار کو اشارہ کیا۔
“اگر مجھے دوبارہ تمہاری شکل دکھائی دی یہاں تو یاد رکھنا وہ آخری دن ہو گا تمہارا۔۔۔”
شاہ ٹھوکر مار کر اسے پرے دھکیلتا تیز تیز قدم بڑھانے لگا۔
زلیخا بیگم آنسو پونچھ کر باہر نکلی تو حیران رہ گئی۔
نیچے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔
“شاہ صاحب یہ کیا کر دیا آپ نے؟”
وہ صدمے سے کہتی اردگرد دیکھنے لگی۔
“لڑکیوں جلدی کرو پانی لاؤ آگ بجھاؤ زیادہ نقصان نہ ہو جاےُ۔۔۔”
زلیخا بوکھلا کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا رہی تھی۔
“بیوقوف زنیرہ اس دن یونی میں اگر میری بات مان لیتی تو آج زندہ ہوتی۔۔۔”
آئمہ زنیرہ کا خون دیکھتی ہوئی بڑبڑائی۔
“لیکن مہر افسوس کہ تم آج بھی اسی گھر میں ہو کیا فائدہ تمہاری ساس کو وہ ویڈیو دینے کا؟مالکن تو اب بھی تمہی ہو۔کاش کہ شاہ تمہارا ساتھ نہ دیتا اور تم ذلیل و خوار ہوتی رہتی۔۔۔۔”
آئمہ حقارت سے بولی۔
“یہاں کوٹھے پر بھی شہزادی بن کر رہتی تھی اور ایسی جگہ سے نکل کر بھی تمہیں اتنا اچھا شوہر اور گھر مل گیا۔۔۔”
آئمہ آگ کو دیکھتی کلس کر بولی۔
****////////****
“حرم کبھی بھی دوستوں پر اتنا اعتبار نہیں کرنا چائیے۔سامنے والے کے دل میں کیا ہے ہم نہیں جان سکتے ہو سکتا ہے میرے دل میں تمہارے لئے بغض ہو مجھے نفرت ہو تم سے لیکن میں تمہیں دکھاتی نہ ہوں۔۔۔”
مہر اسے سمجھا رہی تھی۔
“نہیں بھابھی آپ ایسی نہیں ہیں۔۔۔”
حرم اس کے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
“یہی تو تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں کہ کسی کے منہ پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ کیسا ہے؟مجھے زنیرہ ٹھیک سے یاد نہیں تھی کیونکہ وہ کوٹھے پر کم ہی دکھائی دیتی تھی پھر میں خود بھی چند ایک کے ساتھ ہوتی تھی ورنہ تمہیں آگاہ کر دیتی کہ اس سے دور رہو۔۔۔”
مہر سوچتی ہوئی بولی۔
“لیکن آپی میں تو زنیرہ کی ہی بات کر رہی تھی۔۔۔”
حرائمہ نے اسے ٹوکا۔
“مجھے لگا تم آئمہ کی بات کر رہی ہو اور آئمہ شاہ کی بہن کو لے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی میں جانتی تھی اس لئے پرسکون تھی۔۔۔۔”
مہر حرائمہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“چلیں بھابھی دفعہ کریں ان لوگوں کو اب تو سب ٹھیک ہے نا۔۔۔”
حرم اس کے ساتھ لگتی ہوئی بولی۔
“بلکل۔۔۔”
مہر اس کے سر پر ہاتھ رکھتی مسکراتی ہوئی بولی۔
****///////****
گھر میں خوشیاں رقص کر رہی تھیں۔
حرم کے متعلق ابھی سب نے منہ پر قفل لگا رکھے تھے کیونکہ شاہ کا کہنا تھا کہ وہ فیصلہ لے چکا ہے جلد آگاہ کر دے گا اس لئے سب شاہ کے فیصلے کے منتظر تھے۔
مہر سیاہ سکارف میں چہرہ چھپاےُ حرائمہ کے ساتھ کھڑی تھی۔
بیوٹیشن حرائمہ کے چہرے پر اپنی مہارت دکھا رہی تھی۔
“بھابھی یہ جھمکا دیکھیں سیدھا نہیں ہو رہا۔۔۔”
حرم اپنے جھمکے سے الجھتی ہوئی کمرے میں آئی۔
“لاؤ میں ٹھیک کر دیتی ہوں۔۔۔”
مہر آگے آتی ہوئی بولی۔
“بھابھی ماناب کہاں ہے؟”
حرم آئینے میں دیکھتی ہوئی بولی۔
“اپنے بابا کے پاس ہے۔۔۔”
مہر کی صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔
“ویسے بھابھی آپ تو نقاب میں بھی اتنی پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔”
حرم ستائش سے دیکھتی ہوئی بولی۔
مہر مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“میں ماناب کو دیکھ لوں تنگ نہ کر رہی ہو۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی باہر نکل گئی۔
“واہ واہ حرائمہ میرے بھائی کی تو خیر نہیں آج۔۔۔”
حرم شرارت سے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ جو گھبرائی ہوئی تھی حرم کے تبصرے پر مزید خود میں سمٹ گئی۔
مہر دائیں بائیں دیکھتی زینے اترنے لگی۔
ملازم یہاں سے وہاں بھاگ رہے تھے۔
پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔
اندھیری رات میں یہ مصنوعی روشنیاں اجالے بکھیر رہی تھیں۔
“شکر ہے تم نظر آئی پکڑو اسے کب سے رو رو کر ہلکان کر لیا ہے خود کو۔۔۔”
شاہ ماناب کو اس کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔
“آ میرا بچہ کیا ہوا؟”
مہر اسے اپنے ساتھ لگاتی ہوئی بولی۔
“آپ مجھے کال کر دیتے۔۔۔”
مہر روتی ہوئی ماناب کو دیکھتی خفگی سے بولی۔
“میں نے سوچا پتہ نہیں فون تمہارے پاس ہو گا یا نہیں۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“ہو گئی ساری تیاری؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں۔ مہمان بھی آنے شروع ہو گئے ہیں اب تو۔۔۔”
شاہ اردگرد ایک نظر ڈالتا ہوا بولا۔
“امی کہاں ہیں؟”
“امی عافیہ کے ساتھ باہر نکلی تھیں۔۔۔”
مہر ماناب کو تھپک رہی تھی۔
“سو رہی ہے ماناب؟”
شاہ مہر کے عقب میں دیکھتا ہوا بولا۔
“جی سو جاےُ گی۔۔۔”
مہر آہستہ سے بولی۔
“چلو کوئی نہیں نکاح ہو جاےُ تو مجھے پکڑا دینا۔۔۔”
مہر اسے اٹھاےُ تھک نہ جاےُ شاہ اس کی سہولت کے لئے بولا۔
“ٹھیک ہے۔ پھر میں کمرے میں ہوں شاہ۔۔۔”
مہر بولتے ہوۓ چلنے لگی۔
شاہ اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
مولوی صاحب آ کر بیٹھے ہی تھے کہ یاسر شاہ اور ان کی فیملی اندر آتی دکھائی دی۔
شاہ گیٹ کی جانب بڑھ گیا۔
سلام دعا کے بعد شاہ انہیں اندر لے آیا۔
وہاں موجود بھی افراد ششدر تھے کیونکہ ان کی لڑائی سے سب واقف تھے۔
کمال صاحب انہیں دیکھتے ہوۓ چلنے لگے۔
اپنے بھائی سے گلے ملے اور حال احوال دریافت کرنے لگے۔
فلحال کسی نے کوئی سوال نہیں کیا کیونکہ یہ شاہ کا فیصلہ تھا اور اگر اس میں تغیر و تبدل لانا تھا تو وہ بعد کی بات تھی۔
حرم کی نظر ازلان پر پڑی تو خوشی سے نہال ہو گئی۔
ازلان کی بتیسی اندر جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
مہر مطمئن سی ماناب کو اٹھاےُ یہ سب دیکھ رہی تھی۔
نکاح شروع ہوا اور اس کے بعد مبارکباد کی صدائیں گونجنے لگیں۔
مہمانوں میں صرف خاندان کے لوگ شامل تھے دوست احباب نہیں کیونکہ تقریب بڑے پیمانے پر نہیں کی گئی تھی۔
ازلان کی نظریں حرم کو اپنے حصار میں لئے ہوئی تھیں۔
حرم کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ دل بے قابو ہو رہا تھا۔
شاہ مہر کے پاس آ گیا۔
“اٹھی نہیں ابھی؟”
شاہ ماناب کو پکڑتا ہوا بولا۔
“ایک دو بار روئی تھی لیکن پھر سے سو گئی۔۔۔”
مہر دائیں ہاتھ سے اپنی بائیں بازو دباتی ہوئی بولی۔
عافیہ سب مہمانوں کو کھانے کا پوچھ رہی تھی۔
“تم ملی نہیں سب سے؟”
شاہ چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھنے لگا۔
“آپ سے کس نے کہا؟”
مہر آبرو اچکا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“نہیں میں ویسے پوچھ رہا ہوں۔۔۔”
شان نظروں کا زاویہ موڑتا ہوا بولا۔
“سب سے ملی ہوں میں بس ماناب کی وجہ سے زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کر پا رہی۔۔۔”
مہر سانس خارج کرتی ہوئی بولی۔
“کوئی مسئلہ نہیں تمہارا شوہر تو کر رہا ہے نہ اور ماناب سب سے پہلے ہے۔۔۔”
شاہ طمانیت سے بولا۔
“میں آتی ہوں ابھی۔۔۔”
مہر کہتی ہوئی چلی گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: