Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 23

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 23

–**–**–

ضوفشاں بیگم شمائلہ کے ساتھ والی کرسی پر براجمان تھی۔
تنازعہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ دل میں کدورت کا پہاڑ بن جاتا۔
حرم لب کاٹتی ازلان کو دیکھ رہی تھی۔
ازلان دونوں آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
حرم سٹپٹا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
حرائمہ شاہ ویز کے پہلو میں سمٹی بیٹھی تھی۔
اس نئے رشتے میں جڑنے کے بعد احساسات بھی غیر ہو رہے تھے۔
“تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟”
شاہ ویز بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
حرائمہ نے پلکوں کی باڑ اٹھا کر شاہ ویز کی آنکھوں میں دیکھا۔
شاہ ویز دلچسپی سے حرائمہ کے چہرے کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔
“نہیں وہ دراصل مجھے عجیب لگ رہا تھا اس طرح سے۔۔۔”
حرائمہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے۔
“ویسے میں بھی پہلی بار ایسے بیٹھا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز شرارت سے بولا۔
حرائمہ ہلکا سا مسکرائی۔
“بھابھی آپ نے کھانا نہیں کھایا؟”
حرم سٹیج پر آتی ہوئی بولی۔
حرائمہ چہرہ اٹھا کر نفی میں سر ہلانے لگی۔
“اوہو امی نے مجھے کہا تھا آپ سے پوچھ لوں اور دیکھیں میں بھول گئی۔۔۔”
حرم سر پر ہاتھ مارتی ہوئی بولی۔
“بس بھائی بہت خوش ہو لیا اب میں آپ کی دلہن کو لے کر جا رہی ہوں۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“کہاں لے جاؤ گی؟ رہنا تو اسی گھر میں ہے نہ؟”
شاہ ویز شرارت سے بولا۔
“بھابھی سنبھل کر رہنا میرا یہ بھائی بہت تیز ہے۔۔۔”
حرم شاہ ویز کو گھورتے چلنے لگی۔
شاہ ویز مسکرانے لگا۔
“ماناب اپنے بابا کے پاس ہے۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
“سنا تھا ماناب گم ہو گئی ہے کہاں سے ملی پھر؟”
وہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
“نہیں وہ حرم لے گئی تھی مجھے بتایا نہیں تھا تو اسی وجہ سے۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
“یہ جو نقاب تم کرتی ہو نہ بہت اچھی بات ہے اللہ تمہیں ثابت قدم رکھے۔۔۔”
وہ خوشدلی سے بولیں۔
“آمین۔۔۔”
مہر مسرور سی بولی۔
مہر شاہ کی ممانی کے ساتھ محو گفتگو تھی جب اس کی سماعت میں عقب سے آواز پڑی۔
“شاہ کی بیوی کو دیکھا ہے زیادہ مذہبی بن رہی ہے شادی پر بھی نقاب میں گھوم رہی ہے۔۔۔”
مہر تاسف سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
ایسی باتیں وہ اکثر و بیشتر اپنی ساس کے منہ سے بھی سنتی تھی۔
“ممانی میں آتی ہوں ماناب اٹھ گئی ہے۔۔۔”
مہر شاہ کی جانب دیکھتی ہوئی بولی جو ماناب کو چپ کروانے کی سعی کر رہا تھا۔
“معصوم بلی دور دور سے تڑپا رہی ہو مجھے ۔اللہ پوچھے گا تم سے۔۔۔”
ازلان کا میسج پڑھ کر حرم مسکرانے لگی۔
میسج کب سے آیا ہوا تھا لیکن حرم اب دیکھ رہی تھی۔
تقریب تمام ہوئی اور سب اپنے اپنے گھر کو روانہ ہوۓ۔
شاہ اور دیگر گھر والے بیٹھے اس کے بولنے کے منتظر تھے۔
“تم نے ہمیں بنا بتاےُ اتنا بڑا فیصلہ لے لیا؟”
کمال صاحب خفگی سے گویا ہوۓ۔
“بابا سائیں ان سے تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ بھی میرا تھا اور اب تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ بھی میرا ہے۔۔۔”
شاہ تحمل سے بولا۔
“لیکن کیوں؟”
وہ الجھ کر شاہ کو دیکھنے لگے۔
“حرم کی شادی ازلان کے ساتھ ہو گی بصورت دیگر ازلان حرم کی ازدواجی زندگی کو خراب کر سکتا ہے اگر ہم کسی اور سے حرم کی شادی کرتے ہیں۔۔۔”
“ہوں۔تم اس چھٹانک بھر لڑکے سے ڈرتے ہو؟”
کمال صاحب ہنکار بھرتے ہوۓ بولے۔
“آپ جانتے ہیں بابا سائیں میں کسی سے نہیں ڈرتا میری بہن کی خوشی ہے یہ۔سب سے اہم وجہ یہی ہے اور امی حرم کو کچھ نہیں کہیں گیں آپ۔۔۔”
شاہ کڑے تیور لئے انہیں دیکھ رہا تھا۔
کمال صاحب اثبات میں سر ہلاتے خاموش ہو گئے۔
“تو صاف کہو حرم کی خاطر تم نے انہیں آج بلایا تھا۔۔۔”
کمال صاحب سوچتے ہوۓ بولے۔
“جی میں گیا تھا چاچو کے پاس۔میں نے انہیں مدعو کیا اور وہ آ گئے۔۔۔”
شاہ ایسے بول رہا تھا جیسے مذاق ہو یہ سب۔
“ٹھیک ہے میرا اپنا خون ہے وہ مجھے اس لحاظ سے کوئی اعتراض نہیں لیکن تم اکیلے میں بات کرنا مجھ سے۔۔۔”
کمال صاحب کہتے ہوۓ چلے گئے۔
“مطلب میری اور حرم کی شادی ایک ساتھ ہو گی؟”
شاہ ویز پرجوش انداز میں بولا۔
“امی لیکن دونوں کی ایک ساتھ کر دیں گے تو زیادتی ہے یہ۔۔۔”
شہریار منہ بناتا ہوا بولا۔
“ہاں سہی کہہ رہے ہیں پھر اس کے بعد ماناب کی شادی آےُ گی ہمارے گھر۔۔۔”
شاہ ویز مسکراتا ہوا بولا۔
“پھر تم اپنی چھوڑو ماناب کی شادی کی تیاری کرو۔۔۔”
شاہ مسکرا کر کہتا کھڑا ہو گیا۔
“ایسا ظلم نہ کریں میں بوڑھا ہو جاؤں گا ماناب کی شادی کا انتظار کرتے کرتے۔۔۔”
شاہ ویز معصومیت سے بولا۔
شہریار اسے دیکھتا قہقہ لگانے لگا۔
شاہ ویز بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا چل رہا تھا جب اس کی نظر کمرے سے نکلتی حرائمہ پر پڑی۔
لب مسکرانے لگے۔
اس رشتے کی طاقت ایسی تھی کہ وہ اسے اچھی لگنے لگی تھی۔
شاہ ویز تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے پاس پہنچا۔
حرائمہ بے دھیانی میں کھڑی تھی۔
شاہ ویز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا۔
حرائمہ بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی۔
“آ آپ۔۔۔”
“جی میں۔۔۔”
شاہ ویز مسکراتا ہوا بولا۔
“نکاح کے بعد تو تم بھول ہی گئی ہو مجھے۔۔۔”
شاہ ویز خفا ہوتا شکوہ کر رہا تھا۔
“جی! ابھی تو کچھ دیر پہلے ہوا ہے نکاح۔۔۔”
حرائمہ حیرت سے بولی۔
کلائی شاہ ویز کے ہاتھ میں تھی۔
دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی شاہ ویز کا اس طرح اس کے قریب آنا حرائمہ کو جھنجھلا رہا تھا۔
حرائمہ لب کاٹتی اس کو دیکھ رہی تھی۔
“اچھا یہ بتاؤ جا کہاں رہی تھی؟”
شاہ ویز دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
حرائمہ اس کی نظروں سے پزل ہو رہی تھی۔
“اپنے کمرے میں۔آپ پلیز مجھے چھوڑ دیں کوئی آ جاےُ گا۔۔۔”
حرائمہ عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔
“آتا ہے تو آ جاےُ اپنی بیوی کے ساتھ ہوں کسی اور کے ساتھ نہیں۔۔۔”
شاہ ویز اس کے قریب ہوتا ہوا بولا۔
“اچھا وہ مصطفیٰ بھائی کھڑے ہیں پیچھے کتنا برا لگ رہا ہے۔۔۔”
حرائمہ معصومیت سے بولی۔
شاہ ویز نے چہرہ موڑا تو حرائمہ اپنا ہاتھ نکالتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
شاہ ویز اس کی شرارت سمجھ کر مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔
****////////****
ازلان اندر آیا تو تینوں بھائی کھڑے تھے۔
شاہ ویز نے اسے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا۔
ازلان تینوں کو دیکھنے لگا۔
ایسا معلوم ہو رہا تھا کسی جرم کی سزا دینے والے ہیں اسے۔
“یہ بتاؤ کتنی محبت کرتے ہو حرم سے؟”
شاہ بغور ازلان کو دیکھتا ہوا بولا۔
“یہ کیسا سوال ہے؟”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“”ہماری بہن کو اگر کانٹا بھی چبھا تو تمہیں بخشیں گے نہیں۔۔۔”
شاہ ویز اسے گھورتا ہوا بولا۔
“محبت کرتا ہوں ظاہر ہے خیال بھی رکھوں گا۔۔۔”
ازلان شاہ ویز کو دیکھتا ہوا بولا۔
“تم تو ابھی پڑھائی کر رہے ہو پھر حرم کا خرچا کیسے اٹھاؤں گے؟”
شہریار آبرو اچکا کر بولا۔
“الحمدللہ ایک اچھے خاندان سے ہوں آپ لوگ بھی جانتے ہیں بھوکا نہیں رکھوں گا آپ کی بہن کو۔۔۔”
ازلان برا مان گیا۔
“کیا گارنٹی کہ تم حرم کو ہمیشہ خوش رکھو گے؟”
شاہ بلند آواز میں بولا۔
“گارنٹی تو سبھی دیتے ہیں لیکن پھر بھی چیزیں خراب ہو جاتیں آپ مجھ پر اعتبار کریں کبھی حرم دکھی نہیں ہو گی۔۔۔”
ازلان سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“بھائی مجھے یہ اوور کانفیڈینٹ لگ رہا ہے۔۔۔”
شاہ ویز شاہ کے کان میں بولنے لگا۔
“حرم ہماری اکلوتی بہن ہے اس کی ہر خواہش پوری کرنے ہو گی تمہیں۔ اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔کبھی کسی چیز کے لئے ترسے نہ ہماری بہن۔۔۔”
شہریار سنجیدگی سے بولا۔
“میں خود کو چھوڑ کر حرم کی خواہشیں پوری کروں گا اور بتائیں؟”
ازلان صوفے سے ٹیک لگاتا ہوا بولا۔
“کتنا خیال رکھو گے حرم کا؟”
شاہ ویز کو کچھ الگ ہی رقابت تھی ازلان سے۔
“جتنا ایک ماں اپنے بچے کا رکھتی ہے۔۔۔”
ازلان کے اطمینان میں رتی بھر بھی کمی نہ آئی۔
شاہ اس کی حاضر جوابی سے متاثر ہوا تھا۔
“یہاں تو یہ سب کہہ رہے ہو گھر جا کر یہ سب بھول گئے پھر؟”
شاہ ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا تھا۔
“پھر یہ مت سمجھیے گا کہ میں کہوں گا آپ کے جوتے میرا سر۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“ایسا موقع میں آنے ہی نہیں دوں گا ویسے بھی حرم کا خیال کا کس طرح رکھنا ہے میں جانتا ہوں مجھے یاد دہانی کی ضرورت نہیں۔۔۔”
ازلان سنجیدگی سے بولا۔
“ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو۔۔”
شاہ ٹانگ پے ٹانگ چڑھاتا ہوا بولا۔
ازلان ان سے مصافحہ کرتا نکل گیا۔
“توبہ توبہ کیسے لوگ ہیں؟”
ازلان کانوں کو ہاتھ لگاتا بول رہا تھا۔
“بس پھر طے ہوا حرم کی شادی ازلان سے ہی ہو گی آپ اپنے ماموں کو انکار کر دیں۔ کیسے کرنا ہے یہ آپ کا مسئلہ ہے۔حرم کی خوشی ازلان کے ساتھ ہے میں ضمانت دیتا ہوں۔۔۔”
شاہ کمرے میں بیٹھا بول رہا تھا۔
“میں اب وہاں معذرت کروں کتنا برا لگے گا۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“امی میں پہلے کہہ چکا ہوں میری بہن اس سب کی زد میں نہیں آنی چائیے معذرت کرنا آپ کا کام کے جیسے کرنی ہے کریں۔۔۔”
شاہ کہہ کر باہر نکل گیا۔
“بھائی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں امی اگر حرم نے اپنی پسند کا اظہار کیا ہے تو اس میں ایسی کوئی برائی نہیں اور صحیح غلط کی پہچان کرنا جانتی ہے میری بہن اور اگر بھائی اس کا ساتھ دے رہے ہیں تو مطلب حرم اپنی حد میں ہے اگر وہ اپنی حدود پار کرتی تو بھائی کبھی اس کے لئے یہ سب نہ کرتے۔۔۔”
شہریار نرمی سے انہیں سمجھانے لگا۔
“تم جاؤ میں بات کر لوں گا ان سے۔۔۔”
کمال صاحب شہریار کو اشارہ کرتے ہوےُ بولے۔
****///////****
شاہ فون کان سے لگاےُ حویلی سے باہر نکل آیا۔
“خیریت اس وقت تم آےُ؟”
شاہ ازلان کو دیکھتا ہوا بولا۔
کچھ دیر قبل ازلان کی فیملی رشتہ لے کر آئی تھی جسے شاہ کی فیملی نے بخوشی قبول کر لیا۔
“جی بھائی مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔۔۔”
ازلان ہچکچاتا ہوا بولا۔
“کیا بات؟”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“بھائی میں سوچ رہا تھا آپ ہماری زمین ہمیں واپس کر دیں کیونکہ آپ کسی کا حق مارنا نہیں چاہیں گے۔۔۔”
شاہ جانچتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“یہ مت سمجھیں کہ مجھے زمین کی لالچ ہے۔مجھے حرم سے محبت ہے لیکن ابو کا کہنا ہے کہ زمین واپس کی جاےُ۔۔۔”
ازلان بےبسی سے بولا۔
“ہاں کل بھی چاچو نے مجھ سے زمین کا مطالبہ کیا تھا فکر مت کرو مل جاےُ گی زمین بھی۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں چھپا طنز ازلان بخوبی سمجھ گیا۔
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں پھر۔۔۔”
ازلان مصافحہ کرتا چلا گیا اور شاہ کو گہری سوچ میں غرق کر گیا۔
شاہ اپنی سوچ میں غلطاں کمرے میں داخل ہوا۔
“شاہ کتنی دیر سے آےُ ہیں آپ۔ماناب کب سے جاگ رہی یے۔۔‍‍۔”
مہر اسے دیکھتی خفگی سے بولی۔
“سلا دو ماناب کو۔۔۔”
شاہ گھڑی اتارتا ہوا بولا۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”
مہر فکرمندی سے گویا ہوئی۔
“ہاں بس پریشان تھا کچھ۔۔۔”
شاہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“میرے بےبی کو یہ روم پسند آیا؟”
مہر ماناب کو دیکھتی ہوئی بولی جس کی آنکھیں نیند میں شرابور تھیں۔
“آ جاؤ ماما سلا دیں آپ کو۔۔۔”
مہر اسے گود میں لٹاتی ہوئی بولی۔
ماناب کے رخسار پر بوسہ دیا مہر اسے سلانے لگی۔
شاہ چینج کر کے باہر آیا تو ماناب سو چکی تھی۔
“کیا پریشانی ہے شاہ؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ازلان نے آج ایک عجیب سی بات کہی مجھ سے۔۔۔”
شاہ کہتا ہوا اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“کیا بات؟”
مہر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“زمین واپس مانگ رہا تھا مجھ سے۔چاچو نے بھی مجھے کہا تھا لیکن ازلان کا یوں مطالبہ کرنا مجھے کھٹک رہا ہے۔کہیں وہ زمین میں آڑ میں حرم سے شادی تو نہیں کر رہا؟”
شاہ اپنے خدشات ظاہر کرنے لگا۔
“آپ کا مطلب محبت کا لبادہ اوڑھ کر وہ زمین حاصل کرنا چاہتا ہے؟”
مہر اس کی بات کا مفہوم سمجھتی ہوئی بولی۔
شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“کسی کا حق تو میں بھی نہیں مارنا چاہتا وہ نہ بھی مطالبہ کرتے تب بھی میں نے وہ زمین لوٹا دینی تھی لیکن مجھے فکر ہو رہی ہے اب۔۔۔”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“لیکن شاہ اب آپ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔آپ نے سب کے بیچ میں بیٹھ کر پورے وثوق سے یہ بات کہی ہے کہ ازلان حرم کے لئے بہترین انتخاب ہے۔۔۔”
مہر کے چہرے سے فکر نمایاں تھی۔
“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔۔۔”
شاہ سرد آہ بھرتا ہوا بولا۔
“شاہ ہمارے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ہے جب تک ازلان حرم کو طلاق نہیں دے گا تب تک ہم حرم کی کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے۔۔۔۔”
مہر اسے یاد دہانی کرانے لگی۔
“کیا کر سکتے ہیں؟ بس پھر اللہ کے سپرد۔۔۔”
شاہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔
شاہ نے گھر میں نکاح والی بات چھپا کر حرم کی ساخت کو برقرار رکھا تھا۔
اس چیز کو وہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
****/////////****
“شاہ مجھے یہ بتاؤ اب تم اس برہان کو برداشت کر لو گے؟”
کمال صاحب ضبط کرتے ہوئے بولے۔
اس دن کے بعد سے آج شاہ ان سے اکیلے میں بات کر رہا تھا۔
“بابا سائیں میں اپنی بہن کی خاطر کر لوں گا برداشت۔۔۔”
شاہ تحمل کا مظاہرہ کرتا ہوا بولا۔
“شاہ کہنا بہت آسان ہے اور کرنا بہت مشکل اس بےغیرت کو دیکھنے کا دل بھی نہیں چاہتا اور حرم کو اس کے گھر میں بھیج دیں؟”
کمال صاحب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔
“بابا سائیں کیا بدلہ لوں میں اس سے؟ بےوفائی تو میری بیوی نے کی تھی اور رہی بات شاہ ویز کو میرے خلاف کرنے کی تو بابا سائیں میں بدلے سے نہیں درگزر سے کام لوں گا۔ہمارے نبی تو دشمنوں کو معاف کر دیتے تھے وہ تو پھر ہمارا خون ہے جیسا بھی ہے لیکن اس حقیقت کو ہم جھٹلا نہیں سکتے۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر گہرا سکوت چھایا تھا۔
“ہم جانتے ہیں تم ہمیں قائل کرنے کا ہنر رکھتے ہو تبھی اپنی مرضی مسلط کرتے ہو۔۔۔”
وہ خفگی سے بولے۔
“آپ کو کیا لگتا ہے میرے لئے آسان ہے؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔
شاہ کی آنکھوں میں تیرتا کرب وہ بخوبی دیکھ سکتے تھے۔
“میں اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر یہ سب کر رہا ہوں۔میری ایک ہی بہن ہے میں نہیں چاہتا وہ ساری زندگی گھٹ گھٹ کر مر جاےُ۔کسی کو پسند کرنا بری بات نہیں حد کو پار کرنا بری بات ہے اور میں جانتا ہوں کہ حرم قائم کردہ حدود سے بخوبی واقف ہے اور ان کا احترام کرنا بھی جانتی ہے۔۔۔”
شاہ کے دلائل کے سامنے کمال صاحب ہمیشہ ہار جاتے تھے۔
“تم سچ میں میرے شیر ہو۔۔۔”
کمال صاحب اسے سینے سے لگاتے ہوۓ بولے۔
شاہ آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی سے صاف کرتا مسکرانے لگا۔
“اللہ ہماری بیٹی کے نصیب اچھے کرے۔۔۔”
وہ کہتے ہوۓ الماری کی جانب چل دئیے۔
“آمین۔۔۔”
اپنے عقب میں انہیں شاہ کی آواز سنائی دی۔
****////////****
شاہ گاڑی سے نکلا اور چلنے لگا۔
عدیل گاڑی میں ہی شاہ کا انتظار کرنے لگا۔
شاہ برہان کے سامنے کھڑا تھا۔
ایک ایسا انسان جو کبھی اس کا جگری دوست ہوا کرتا تھا جس کے ہمراہ اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔
ایک ایسا شخص جس نے حسد کی آگ میں جلتے ہوۓ اس کی زندگی کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا۔
دوست سے دشمن بننے میں ایک لمحہ بھی نہیں سوچا ہو گا اس نے۔
شاہ کے سامنے وہ شخص کھڑا تھا جو اس کی خوشیوں کا، اس کی مسکراہٹوں کا دشمن تھا۔
شاہ آج بدلہ لینے نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنے آیا تھا جس کے لئے وہ کئی موت مرا تھا لیکن اس نے خود کو تیار کر لیا تھا۔
برہان کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
“تم نے مجھے کیوں بلایا ہے شاہ؟”
برہان بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جہاں بلا کا اطمینان تھا۔
“برہان میں سب جانتا ہوں جو تم نے کیا؟ جو کچھ تم نے ماضی میں کیا شفا کو مجھ سے چھین کر پھر شاہ ویز کو میرے خلاف بھڑکایا،سب جانتا ہوں میں۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں ٹھراؤ تھا ایک سکوت تھا جو اس پر طاری تھا۔
“میں جانتا ہوں لیکن دیکھو تم آج بھی جیت گئے۔۔۔”
برہان تلخی سے مسکرایا۔
“دشمنی کا آغاز تم نے کیا تھا برہان اور اختتام میں کروں گا سب کچھ جاننے کے باوجود شاہ مصطفیٰ کمال تمہیں معاف کرتا ہے۔۔۔”
یہ تھا شاہ کا بدلہ۔
“تم کب سے کمزور ہو گئے؟”
برہان اس کی بات پر حیران رہ گیا۔
“میں تمہاری سوچ سے زیادہ مضبوط ہوں برہان۔بدلہ لینے والا مضبوط نہیں ہوتا بلکہ معاف کرنے والا مضبوط ہوتا ہے مجھ جیسا حوصلہ لا کر دکھاؤں؟ تمہیں معاف کر رہا ہوں اس سے زیادہ مضبوطی اور کیا ہو گی؟ چاہتا تو میں بھی تمہاری طرح غلط راستہ اپنا کر تمہیں نقصان پہنچا دیتا لیکن کیا نتیجہ نکلتا اس کا؟”
شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں بھی تمہارے جیسا بن جاتا۔لیکن برہان میں ایسا نہیں ہوں میں تمہیں معاف کر رہا ہوں تاکہ تم دیکھ لو شاہ مصطفیٰ کمال کیسا انسان ہے۔۔۔”
شاہ تفاخر سے بولا۔
برہان کو اپنا آپ شاہ سے کمتر محسوس ہو رہا تھا وہ کچھ نہ کر کے بھی اس سے بلندی پر تھا۔شاہ کے الفاظ کسی تمانچے کی مانند برہان کے منہ پر لگ رہے تھے۔
شاہ کا معاف کرنا اسے زمین میں گاڑھ رہا تھا۔
برہان کو اس وقت وہ ایک عظیم انسان معلوم ہو رہا تھا جو اس جیسے کم ظرف انسان پر اپنا ظرف دکھا رہا تھا۔
زندگی میں پہلی بار برہان کو اپنا آپ برا لگ رہا تھا۔
خود سے کراہیت محسوس ہو رہی تھی۔
“کچھ کہنا چاہو گے؟ میں اپنی بہن کو اس گھر میں بھیجنے سے پہلے تمام رقابت ختم کر دینا چاہتا ہوں کیونکہ اس سے صرف نقصان ہو گا برہان ناقابل تلافی نقصان۔ایک نہیں بہت سی زندگیاں متاثر ہوں گیں۔۔۔”
شاہ خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
“شاہ ہمیشہ تمہیں ہی کیوں سب ملتا ہے؟ اسکالرشپ تمہیں ملی،شفا کو تم سے محبت ہوئی،تم اپنے گھر کے بڑے تھے میں بھی بڑا تھا لیکن شاہ میں تو جیسے سب کی جان بستی تھی میرے ابو بھی تمہارا ہی نام لیتے تھے برہان تو جیسے تھا ہی نہیں۔۔۔”
برہان نے صدیوں سے پلتا زہر آج باہر نکال ہی دیا۔
شاہ تاسف سے اسے دیکھنے لگا۔
“آج بھی تمہارے پاس سب ہے اچھی بیوی اولاد سب کچھ اور میں؟ میں آج بھی خالی ہاتھ کھڑا ہوں۔۔۔”
برہان اپنے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ایسا پتہ کیوں ہے؟”
شاہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتا ہوا بولا۔
برہان آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیونکہ تم نے غلط راستے کا انتخاب کیا برائی کی راہ میں کبھی سکون اور خوشی نہیں مل سکتی۔تم ساری زندگی مجھ سے حسد کرتے رہے اور دیکھو یہ حسد تمہیں بھی کھا گیا اندر سے۔برہان تم کیا تھے اور کیا بن گئے ہو؟ شفا کی بےوفائی نے مجھ پر بھی بہت کاری ضرب لگائی میں بھی غلط راستے پر چلنا چاہتا تھا حتیٰ کہ کوٹھے پر بھی جانے لگا تھا لیکن برہان میں برا نہیں بن سکا میں نہیں کر سکا وہ گناہ جن سے بچنے کی تاکید ہمارے ماں باپ ساری عمر ہمیں کرتے آےُ۔گرتا پڑتا رہا لیکن میں نے برائی کو بیساکھی نہیں بنایا۔چاہتا تھا ایسا کرنا لیکن ہمت نہیں پڑی۔۔۔”
ماضی سامنے آیا تو زخم پھر سے ہرے ہو گئے جلن کا احساس ہونے لگا تھا مانو کوئی نمک چھڑک رہا ہوں ان پر۔
“برہان تم ایک اچھے انسان ہو۔اپنے اندر کی برائی کو اچھائی پر غالب مت آنے دو تم آج بھی خود کو پہلے والے برہان بنا سکتے ہو۔ہم پھر سے دوست بن سکتے ہیں اگرچہ بہت کٹھن ہے لیکن۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھے بول رہا تھا۔
“شاہ تم کیا ہو؟”
برہان ششدر سا بولا۔
شاہ کے الفاظ اس کے دل پر کاری ضرب لگا کر اس اثر انداز ہو رہے تھے۔
“میں خود بھی نہیں جانتا برہان۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“تم اب جا کر اپنی بہن کی شادی کی تیاری کرو ہم بہت جلد بارات لے کر آئیں گے۔۔۔”
برہان اس کے گلے لگتا ہوا بولا۔
شاہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگا۔
معاف کر کے دلوں کو جیتا جا سکتا ہے بلکل اسی طرح جیسے ہمارے نبی کافروں کو معاف کر کے انہیں زیر کرتے تھے۔ ان کے حسن سلوک کے باعث کفار اسلام قبول کرتے تھے۔
شاہ بھی اپنے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کر رہا تھا اور کیسے ممکن تھا کہ ایک انسان کسی کے ساتھ نیکی کرے تو بدلے میں اسے برائی ملے۔
بدلہ کسی بھی مسئلے کا مناسب حل نہیں اس سے دشمنی ختم ہونے کی بجاےُ بڑھتی جاتی ہے۔
شاہ عقلمند تھا اپنی بہن کے مستقبل کی خاطر اس نے دانشوارانہ فیصلہ لیا جو ہر لحاظ سے بہترین تھا۔
“میں چلتا ہوں۔۔۔”
شاہ مصافحہ کرتا ہوا بولا۔
برہان نم آنکھوں سے دیکھتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“یار مجھے جیلیسی ہو رہی ہے۔۔۔”
شاہ گاڑی میں آ کر بیٹھا تو عدیل منہ بناتا ہوا بولا۔
شاہ قہقہ لگا کر اسے دیکھنے لگا۔
“جو جگہ تیری ہے وہ کوئی بھی نہیں لے سکتا اور برہان کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانا میری ایک ادنیٰ سی کوشش تھی اپنے نبی کے اخلاق اپنانے کی۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“اچھا وہ جو نیوز چلائی تھی نہ ایم پی اے کے بیٹے کی؟”
عدیل سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“ہاں۔کیا ہوا اس کا؟”
شاہ بےچینی سے بولا۔
“یار کمال ہو گیا میں نے تو صبا کو کہا ہے کہ مرچ مصالحہ لگا کر اس خبر کو مزید اڑاےُ۔۔۔”
عدیل لطف لیتا ہوا بولا۔
“سہی کہا تو نے۔ جب عزت کا جنازہ نکلے گا تب معلوم ہو گا اس ایم پی اے کو۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“چلیں؟”
عدیل اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“بلکل۔۔۔”
شاہ تائیدی انداز میں بولا۔
شاہ گھر آیا تو سب معمول کے کام میں مصروف تھے۔
حرم امی کے ساتھ کپڑے دیکھ رہی تھی اور باقی اپنے اپنے کمروں میں تھے۔
“کھانا کھا لو شاہ۔۔۔”
ضوفشاں بیگم اسے زینے چڑھتے دیکھ کر بولیں۔
“امی ابھی بھوک نہیں بعد میں کھا لوں گا۔۔۔”
شاہ زینے چڑھتا ہوا بولا۔
“امی اور کتنے سوٹ بنائیں گیں؟”
حرم انہیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“ابھی دیکھتے ہیں جتنے بن جائیں گے۔۔۔”
وہ قمیض ہاتھ میں پکڑتی ہوئی بولیں۔
“ماناب پلیز چپ ہو جاؤ نہ؟”
مہر رونے والی شکل بناےُ بولی۔
شاہ بنا چاپ پیدا کئے چل رہا تھا۔
ماناب ہونٹ باہر نکالتی اور زور سے رونے لگی۔
مہر کو دیکھ کر شاہ کو ہنسی آ رہی تھی۔
مہر خفگی سے شاہ کو دیکھنے لگی۔
“مجھے رونا آ رہا ہے اور آپ کو ہنسی آ رہی ہے؟”
مہر اس کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“بلکل کیونکہ ہمیشہ اووپوذیٹ ہی اٹریکٹ کرتے ہیں۔۔۔”
شاہ بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
ماناب گلا پھاڑتی مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“اس اسپیکر کو پکڑیں مذاق بعد میں کرنا۔۔۔”
مہر ماناب کو شاہ کے ہاتھ میں دیتی ہوئی بولی۔
“ارے۔۔۔”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“میری گڑیا کیوں رو رہی ہے؟”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا جس کے آنسو بہہ کر رخسار پر آ رہے تھے۔
“ماما ظلم کرتی ہیں آپ پر۔۔۔”
شاہ مہر کو دیکھتا ماناب کے آنسو صاف کرنے لگا۔
“شکر کریں ماناب پر ظلم کرتی ہوں کہیں آپ پر نہ کرنا شروع کر دوں۔۔۔”
مہر الماری سے سر نکال کر گھورتی ہوئی بولی۔
شاہ قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔
شاہ نے جیب سے فون نکال کر ماناب کو پکڑا دیا۔
ماناب فون دیکھتی منہ میں ڈالنے لگی۔
مہر چہرہ موڑ کر اس کی جانب دیکھنے لگی کیونکہ ماناب خاموش ہو چکی تھی۔
“تم الماری میں کیا کر رہی ہو؟”
شاہ پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
“صبح جو آپ نے ایک ٹائی کے لئے پوری الماری کو تہس نہس کر دیا تھا نہ اسے سنوار رہی ہوں۔۔۔”
مہر برہمی سے بولی۔
شاہ ہنستا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا۔
ماناب اب مزے سے شاہ کا فون منہ میں ڈالے اسے چبانے کی سعی کر رہی تھی۔
****////////****
“محترمہ جانتی ہیں مجھے؟”
ازلان فون کان سے لگاےُ بیڈ پر گر گیا۔
“ہاں بلکل۔کیوں تمہیں کوئی شک ہے؟”
حرم کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔
“نہیں مجھے لگا اتنے اتار چڑھاؤ آ گئے کہیں تم گر گئی ہو اور یاداشت چلی گئی ہو تو پھر مجھے کافی دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔”
ازلان مظلومیت سے بولا۔
“میری یاداشت چلی بھی جاےُ گی نہ پھر بھی تم یاد رہو گے۔۔۔”
حرم کو خود بھی احساس نہ ہوا کہ وہ کیا بول گئی ہے۔
“اچھا جی۔دور رہ کر تمہارے بھی جذبات نکل رہے ہیں۔یہ بتاؤ آج بارش ہوئی تھی کیا؟”
ازلان سنجیدگی سے بولا۔
“نہیں۔ لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟”
“تمہارے جذبات ایسے نکل رہے ہیں جیسے بارش کے بعد کیڑے۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
“تم مذاق بنا رہے ہو میرا؟”
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“بلکل بنا رہا ہوں۔تم کیا کر لو گی بتانا ذرا؟”
ازلان اسے آڑے ہاتھوں لیتا ہوا بولا۔
“نہیں میں نے کیا کرنا ہے۔۔۔”
حرم فون پر بھی ازلان کا غصہ سے بھرپور چہرہ تصور کر سکتی تھی۔
“تمہیں معلوم ہے جب میں تمہارے گھر آیا تھا تینوں بھائیوں نے ایسے مجھے ڈیل کیا جیسے قاتل ان کے سامنے بیٹھا ہو۔۔۔”
ازلان اس دن کا منظر سوچتا ہوا بولا۔
“ہاں تو میرے بھائی ہیں وہ پوچھنا تو ان کا فرض تھا۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“مجھے ایسا لگ رہا تھا بیوی نہیں لے رہا بلکہ بچہ گود لے رہا ہوں۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
حرم اس کی بات پر سر پیٹ کر رہ گئی۔
” حرم جب تم میرے گھر آؤ گی نہ؟”
ازلان لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔
“ہاں پھر؟”
“میں نہ گلاب کے ساتھ کاٹنے رہنے دوں گا جہاں تم میری بات نہیں مانی گی نہ وہیں میں نے کانٹا چبھا دینا ہے۔۔۔”
حرم کا منہ کھل گیا۔
“ازلان ایسے بھی کوئی کرتا ہے؟”
حرم خفا خفا سی بولی۔
“بلکل تمہارا شوہر نامدار۔۔۔”
“میں اپنے بھائی کو بھی ساتھ لاؤں گی پھر۔۔۔”
حرم اپنا دفاع سوچنے لگی۔
“تمہارے بھائی کو میں نے کمرے میں آنے ہی نہیں دینا اپنا ٹائم گزار لیا اب میرا ٹائم خراب کریں گے۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“ازلان تم بہت بدتمیز ہو۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
اس سے قبل کہ ازلان کچھ بولتا حرم نے فون بند کر دیا۔
“بھابھی کو بتاؤں گی ازلان مجھے ایسے کہتا ہے۔۔۔”
حرم سوچتی ہوئی باہر نکل گئی۔
شاہ ویز آس پاس نظر ڈالتا حرائمہ کے کمرے میں آ گیا۔
حرائمہ بیٹھی رسالہ پڑھ رہی تھی۔
شاہ ویز کو دیکھ کر آنکھیں پھیل گئیں۔
حرائمہ کا دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا اور خود وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔
“آپ؟”
حرائمہ جلدی سے دوپٹہ اٹھانے لگی۔
“تم مجھے دیکھ کر ایسے ڈرتی ہو جیسے میں کوئی ہوائی مخلوق ہوں؟”
شاہ ویز بولتا ہوا اس کے سامنے آ رکا۔
“نہیں وہ اس طرح مناسب نہیں لگتا۔۔۔”
حرائمہ لب کاٹتی نیچے دیکھ رہی تھی۔
“میں سوچ رہا تھا اوپر چھت پر چلیں۔۔۔”
شاہ ویز جیب میں ہاتھ ڈالے اس کے نازک سراپے کو دیکھ رہا تھا۔
“اوپر کیوں؟”
وہ چہرہ اٹھا کر بولی۔
حرائمہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں تھیں۔
“میں نے وہ والے اوپر لے جانے کی بات نہیں کی چھت کی بات کی ہے۔۔۔”
شاہ ویز انگلی سے اوپر اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“مجھے پتہ ہے لیکن۔۔۔”
حرائمہ نے گھبراتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اچھا ایسا کرو تم یہاں بیٹھ جاؤ۔۔۔”
شاہ ویز صوفے کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“کیوں؟”
حرائمہ پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“یار ایک تو تم سوال بہت کرتی ہو بیٹھ جاؤ خاموشی سے۔۔۔”
شاہ ویز اسے بازوؤں سے پکڑ کر بٹھاتا ہوا بولا۔
حرائمہ انگلیاں مڑورتی شاہ ویز کو دیکھنے لگی۔
شاہ ویز گھٹنا زمین پر رکھے نیچے جھک گیا۔
حرائمہ متحیر سی اسے دیکھ رہی تھی۔
شاہ ویز نے جیب سے ایک پائیل نکالی۔
حرائمہ کا نرم گداز پاؤں ہاتھ میں پکڑا اور اپنے گھٹنے پر رکھ لیا۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
حرائمہ نے اپنا پاؤں ہٹانا چاہا۔
“فکر مت کرو ایٹم بم نہیں فٹ کرنے والا میں۔۔۔”
شاہ ویز نے کہتے ہوۓ اس کے پاؤں میں پائیل پہنا دی۔
سونے کی باریک سی پائیل حرائمہ کے خوبصورت پاؤں میں مزید خوبصورت ہو گئی تھی۔
وہ پائیل ایسی تھی کہ جس کی چاپ پیدا نہیں ہو سکتی۔
حرائمہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“آپ میرے لیے لاےُ ہیں؟”
حرائمہ بےیقینی کی کیفیت میں دیکھتی ہوئی بولی۔
“نہیں ہمارے ساتھ والے گھر میں جو اقصیٰ ہے نہ اس کے لئے لایا تھا وہ ناراض ہو گئی تو تمہیں دے دی۔۔۔”
شاہ ویز شرارت سے کہتا اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
حرائمہ آگے کھسک گئی۔
شاہ ویز نے حرائمہ کی گود میں سر رکھ دیا۔
حرائمہ اس کی شرارتوں پر خود میں سمٹ گئی۔
حرائمہ کا سانس وہیں اٹک گیا۔
شاہ ویز نے آنکھیں موند لیں۔
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ بہت بگڑا ہوا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز نے اس کا ایک ہاتھ اپنے بالوں پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
حرائمہ الجھن کا شکار تھی۔
ایک دم سے اس کا پاس آنا اسے پریشان کر رہا تھا۔
حرائمہ شاہ ویز کے چہرے کو دیکھنے لگی جو آنکھیں بند کئے ہوۓ تھا۔
صاف رنگت ہلکی ہلکی شیو میں وہ فریش لگ رہا تھا۔
حرائمہ کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ رینگ گئی۔
حرائمہ جھجھکتے ہوۓ اس کے نرم و ملائم بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔
شاہ ویز کے لب مسکرانے لگے۔
“تم جانتی ہو مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔”
شاہ ویز آنکھیں موندے بول رہا تھا۔
لب دھیرے سے مسکرا رہے تھے۔
“آپ کو مہ مجھ سے محبت! ؟”
حرائمہ متحیر سی بولی۔
“ہاں۔کیوں نہیں ہو سکتی؟”
شاہ ویز آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا۔
“نہیں۔میرا مطلب۔۔۔”
حرائمہ کے چہرے پر افسردگی نمایاں تھی۔
“حرائمہ میں نہیں سوچتا کتنے مردوں نے تمہیں چھوا ہے میرے دل کو تم بھا گئی ہو اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔”
حرائمہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“محبت یہ نہیں دیکھتی کہ وہ انسان کالا ہے یا گورا۔
مسلمان ہے یا کافر۔
محبت نہیں دیکھتی کہ وہ کتنے بستروں کی زینت بن چکی ہے۔ تم میری ہو میرے ساتھ ہو میں بس یہی جانتا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز اس کا ہاتھ پکڑے آنکھیں بند کئے بول رہا تھا۔
حرائمہ مسکراتے ہوۓ شاہ ویز کے وجیہہ چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
****/////////****
“عافیہ تم آرام کرو ایسی حالت میں کام کرنا تمہارے لئے ٹھیک نہیں۔۔۔”
مہر اسے خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن بھابھی آپ اکیلی کیسے اتنا سب دیکھیں گیں؟”
عافیہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
“سب ہو جاےُ گا تم کیوں فکر کر رہی ہو؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اچھا اور ماناب؟”
عافیہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“ماناب کو اس کی چاچی سنبھال لیں میں سب کام دیکھ لوں گی۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
عافیہ ماناب کو دیکھتی مسکرانے لگی جو بیڈ پر بیٹھی تھی۔
“میری جان چاچی کو تنگ نہیں کرنا آپ نے۔۔۔”
مہر اس کے چہرے پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
مہر اب سکارف لئے آئینے کے سامنے آ گئی۔
عافیہ ماناب کو دیکھ رہی تھی۔
“بھابھی آپ کو ایزی رہے گا؟”
عافیہ کا اشارہ اس کے نقاب کی جانب تھا۔
“ہاں۔ اس میں غیر آرام دہ ہونے والی کون سی بات ہے؟”
مہر سکارف کو پن لگاتی ہوئی بولی۔
“نہیں ایسے ہی۔۔۔”
عافیہ مسکراتی ہوئی بولی۔
****////////****
حرم گھونگھٹ نکالے ازلان کی خواب گاہ میں بیٹھی تھی۔
کمرہ گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے معطر تھا۔
دھیمی دھیمی خوشبو دل کو بھا رہی تھی۔
ازلان کلہ ہاتھ میں پکڑے کمرے میں آیا۔
حرم کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں۔
ازلان چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ حرم کے پاس آ گیا۔
“سو مسز ازلان آپ میرے پاس آ ہی گئیں۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا۔
حرم کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔
دل معمول سے تیز دھڑکنے لگا شاید اپنے ہمسفر کی دھڑکنوں سے ملاپ کے لئے بے چین ہو رہا تھا۔
ازلان نے گھونگھٹ ہٹایا تو نظر واپس آنے سے انکاری ہو گئی۔
حرم حسن کے ہتھیاروں سے لیس تھی۔
ازلان بغور اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو بمشکل پہچانی جا رہی تھی۔
“مجھے لگ رہا ہے کسی اور کی دلہن میرے پاس آ گئی ہے۔۔۔”
ازلان منہ پر ہاتھ رکھتا شرارت سے بولا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“ازلان تم مجھے بھول گئے ہو؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“نہیں۔لیکن تم حرم نہیں ہو۔۔۔”
ازلان نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“ازلان میں حرم ہی ہوں۔تم مجھے میرے گھر سے لے کر آےُ ہو ابھی۔۔۔”
حرم الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں تم حرم نہیں ہو جب تک تم مجھے یقین نہیں کروا دیتی میں تم سے بات نہیں کروں گا۔۔۔”
ازلان بچوں کی مانند روٹھ کر منہ موڑ کر بیٹھ گیا۔
“ازلان میں تمہیں کیسے یقین دلاؤں؟”
حرم روہانسی ہو گئی۔
حرم کی آواز پر ازلان نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
حرم کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔
“اچھا یہ بتاؤ حرم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے؟”
ازلان کا ارادہ ابھی اسے تنگ کرنے کا تھا۔
“مہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔”
حرم کے لہجے میں جھجھک نمایاں تھی۔
“پھر تم میری حرم نہیں۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“ازلان میں تمہاری حرم ہی ہوں۔۔۔”
آنسو پلکوں کی دیوار کو پار کرنے کو تیار تھے۔
ازلان سنجیدگی سے دیکھتا نفی میں سر ہلا رہا تھا۔
“یاد ہے تم نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ ایک بیوی کچن میں کام کر رہی ہوتی ہے اور آگ لگ جاتی ہے۔۔۔”
حرم معصومیت سے اسے یاد دلا رہی تھی۔
ازلان ہنستا ہوا اسے دیکھنے لگا۔
“تمہیں ابھی بھی یقین نہیں ہے؟ حرم تم سے اتنی محبت کرتی ہے کہ اسے خود بھی نہیں معلوم۔۔۔”
بولتے بولتے حرم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: