Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 3

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 3

–**–**–

شاہ مہرماہ کا بازو پکڑے کمرے سے باہر نکل گیا۔
“چھوڑو مجھے جنگلی۔۔۔۔۔”
مہر ماہ مزاحمت کرتی ہوئی بولی۔
شاہ اسے گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔
باقی طوائفیں بھی کمرے سے نکل آئی۔
مہر ماہ چلا رہی تھی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“زلیخا بیگم پچھتائیں گیں آپ چھوڑو گی نہیں۔۔۔۔۔”
مہر ماہ حلق کے بل چلا رہی تھی۔
زلیخا بیگم پریشانی سے انہیں دیکھنے لگی۔
“چھوڑو مجھے تم کیا سمجھتے ہو خود کو۔۔۔۔۔”
مہر ماہ تڑپتی ہوئی مچھلی کی مانند لگ رہی تھی جسے سمندر سے باہر نکال دیا گیا ہو۔
شاہ کوٹھے سے باہر نکلا مہر ماہ کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر زور سے گاڑی کے ساتھ لگایا۔
مہر کے چہرے پر تکلیف کا شائبہ تک نہ تھا۔
وہ حقیقت میں اتنی مضبوط تھی یا شاید دکھاتی تھی۔
شاہ کی آنکھوں میں لہو دوڑ رہا تھا۔
“بکواس بند کر لو اپنی، اب اگر ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو بہت برا ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ گرفت مضبوط کرتا ہوا بولا۔
“تم مجھے یہاں سے نہیں لے جا سکتے سمجھے۔۔۔۔”
مہر اس کے غصے کا اثر لئے بنا چلائی۔
بال چہرے پر آ رہے تھے ہلکے اور گہرے بھورے بال جو وہ ابھی کلر کروا کے آئی تھی۔
شاہ نے اسے نظر انداز کیا اور گاڑی میں پٹخنے کے سے انداز میں ڈالا،
ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی چلانے لگا۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔
مہر تلملا کر اسے دیکھنے لگی۔
“گاڑی رکو۔۔۔۔۔” مہر اس کا گریبان پکڑتی ہوئی غرائی۔
“یہ گاڑی تو اب وہیں رکے گی جہاں میں چاہوں گا۔۔۔۔۔”
مہر کا دل مانو کسی نے مٹھی میں قید کر لیا ہو۔
“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔۔”
مہر کا بس نہیں چل رہا تھا اسے گاڑی سے دھکا دے کر باہر پھینک دے۔
“ہاں اگر خود زندہ رہی تو شوق سے مارنا۔۔۔۔” شاہ محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
مہر کلس کر باہر دیکھنے لگی۔
مٹھی زور سے بند کر رکھی تھی۔
مہر کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا۔
اسے اب خیال آیا۔
“ہوں۔۔۔۔۔” روز مجرا کرتے ہوئے بھی کہاں ہوتا ہے۔۔۔۔۔” وہ تلخی سے سوچنے لگی۔
شاہ نے یکدم بریک لگائی تو مہر جو اپنی سوچ میں غرق تھی ڈیش بورڈ سے جا ٹکرائی۔
“جب گاڑی چلانی نہیں آتی تو چلا کیوں رہے ہو۔۔۔۔”
وہ جیسے ہوش میں آ گئ۔
شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
مہر نڈر سی اس کی نگاہوں میں دیکھ رہی تھی شاہ کے غصے کا اس پر زرہ برابر بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
شاہ بنا کچھ بولے باہر نکلا مہر کی جانب آیا بازو پکڑ کر اسے باہر نکالا۔
“کہاں لے آےُ ہو مجھے چھوڑو۔۔۔۔۔”
مہر پھر سے بلبلانے لگی۔
شاہ خاموشی سے راستہ طے کرتا اندر آ گیا لاؤنج پار کر کے وہ مہر کو لے کر کمرے میں آ گیا۔
مہر کو خطرے کی بو آنے لگی۔
اسے خطرہ لاحق ہوا۔
“کیوں لاےُ ہو مجھے یہاں؟۔۔۔۔۔”
شاہ دروازہ لاک کر رہا تھا جب مہر چلائی۔
“تمہیں نہیں معلوم کیوں لایا ہوں میں یہاں، ایک طوائف کو اپنے ساتھ کیوں لایا جاتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ فرصت سے مہر کے نقوش دیکھتا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگا۔
مہر کبھی شاہ کو دیکھتی تو کبھی آس پاس چیزوں کو۔
اسے اپنے دفاع کی خاطر کوئی شے درکار تھی۔
“میرے قریب مت آنا میں جان سے مار دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔”
مہر بنا گھبراےُ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
“تمہارا یہی غرور توڑنا ہے، آخر تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے عین مقابل آ گیا۔
“تمہیں کیا رقابت ہے مجھ سے۔۔۔۔۔”
مہر سرخ انگارہ بنی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تمہارا یہ حسن۔۔۔۔۔” شاہ اس کے بالوں پر دو انگلیاں پھیرتا ہوا بولا۔
مہر نے طیش میں اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“دکھا دی نہ اپنی اوقات لعن طعن ہم پر جب کہ گندگی اور حوس تمہارے ذہن کی ہوتی ہے۔۔۔۔”
مہر آئینہ دکھانے لگی۔
“تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں احسان کر رہا ہوں تم پر اور تم مجھے۔۔۔۔”
وہ مہر کی بازو دبوچتا ہوا چبا چبا کر بولا۔
“میں نے تم سے احسان نہیں مانگا۔۔۔۔۔”
مہر اس کی فولادی گرفت سے اپنی بازو آزاد کرواتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے پھر معاہدہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔”
شاہ مفاہمت پر اتر آیا۔
“کیسا معاہدہ۔۔۔۔۔”
مہر کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
مجھ سے نکاح کر لو جو قیمت تمہاری دی مجھے وصول کرنے دو، کوٹھے پر تم یہ کام نہیں کرتی کہ حرام ہے لیکن نکاح کے بعد میں تمہارے لئے حلال ہوں گا۔۔۔۔”
شاہ رک کر اسے دیکھنے لگا۔
مہر بنا کچھ بولے قدم اٹھانے لگی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔” شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔”
مہر دروازے کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“کہاں؟۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
“کوٹھے پر۔۔۔۔۔۔”
خود کو آزاد کروانے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا وہاں کیوں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ نے جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑا۔
“تم جیسے جانور کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔۔” مہر حلق کے بل چلائی۔
“زبان کو لگام دو ورنہ بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔”
شاہ دائیں ہاتھ سے اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔
مہر خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی۔
“اصولاً تو تم ایسی کسی آفر کے لائق نہیں ہو لیکن پھر بھی میرا ظرف دیکھو ایک طوائف سے نکاح کرنے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ نے ہاتھ ہٹا لیا۔
“اچھے سے جانتی ہوں کہ میں ایک طوائف ہوں، یہ بات خود کو بتاؤ کیونکہ ایک طوائف سے نکاح کرنے کی بات کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔”
مہر ہنکار بھرتی ہوئی بولی۔
“میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں جو تم پر برباد کروں مجھے رات تک جواب چائیے اور جواب مثبت ہی ہونا چائیے سوچ لو اچھے سے کیونکہ تمہاری عقل شاید رنگ آلود ہے جو پھر سے اس ذلت میں جانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر بلا کی سختی تھی۔
مہر نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ شاہ نے اسے بیڈ پر پھینک دیا۔
لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکلا اور دروازہ لاک کر دیا۔
مہر نے چہرہ اٹھا کر دیکھا اور پھر سے گرا لیا۔
اشک بیڈ کی چادر پر گرنے لگے۔
وہ رو رہی تھی نا جانے کس بات پر۔
“کیوں لے آیا وہ مجھے وہاں سے۔۔۔۔۔۔”
مہر اشک بہاتی ہوئی چلائی۔
“کیوں۔۔۔۔”
وہ بلک رہی تھی سسک رہی تھی۔
تکلیف تھی بے حد تک۔
وہ دور کہیں ماضی میں چلی گئ۔
“کیوں لایا ہے وہ مجھے یہاں میں اس گندگی میں رہوں یا نہیں اسے کیا مسئلہ ہے،
اسے کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”
مہر زاروقطار رو رہی تھی۔
“مجھے نہیں رہنا یہاں میرے لئے وہی میرا سائبان ہے وہی میرا ٹھکانہ ہے۔۔۔۔۔”
مہر اوندھے منہ لیٹی ہوئی تھی چادر اس کے آنسوؤں کے باعث تر ہو رہی تھی۔
اسی کرب میں مبتلا نیند اس پر مہربان ہوئی اور وہ ہوش سے بیگانہ ہو گئ۔
****///////****
“وہ کمینہ دیکھ رہا ہے یہ بھی مسئلہ ہے اور وہ کمینہ دیکھ نہیں رہا یہ بھی مسئلہ ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ قہقہ لگاتی ذوناش کو دیکھنے لگی۔
“بلکل یار تم بس دفعہ کرو اس اویس شویس کو۔۔۔۔۔” ذونی منہ بناتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ ایویں دفعہ کر دوں؟ پوری یونی میں اس جیسا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔”انشرح اویس کو نظروں کے حصار میں لیتی ہوئی بولی۔
“یار ایک تو یہ سمجھ نہیں آتا ہمیشہ سینئر اور جونیئر ہی کیوں پیارے ہوتے اور جو ساتھ ہوتے وہ کوجے۔۔۔۔۔”
ذونی منہ بناتی ہوئی بولی۔
“میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔۔۔۔”
آمنہ کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
حرم فون بند کر کے مڑی تو سامنے ازلان کھڑا تھا۔
“تم۔۔۔۔۔” حرم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“بلکل میں۔۔۔۔۔”
“یہاں کیوں آےُ ہو؟۔۔۔۔”
حرم گھوری سے نوازتی ہوئی بولی۔
“تم نے پروفیسر کو کیا کہا ہے کہ ازلان مجھے تنگ کرتا ہے ہمممم؟۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“وہ, وہ میں تو۔۔۔۔۔۔”
حرم تھوک نگلتی مناسب بہانہ سوچنے لگی۔
“کیا سمجھتی ہو تم خود کو۔۔۔۔۔۔”
وہ چبا چبا کر بولا۔
“دیکھو مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔۔”
حرم التجائیہ انداز میں بولی۔
حرم پیچھے ہوتی دیوار سے ٹکرائی گئ ازلان اس کے عین مقابل کھڑا تھا۔
“شرٹ کہاں ہے؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی آنکھوں میں دکھائی دیتے خوف سے لطف اندوز ہوتا ہوا بولا۔
“کون سی شرٹ۔۔۔۔۔۔” حرم معصومیت سے بولی۔
“مجھے شبہ نہیں یقین ہے کہ تمہاری یاداشت بلکل جواب دے گئی ہے،کل جو میری شرٹ خراب کی تھی۔۔۔۔”
حرم کو مانو سانپ سونگھ گیا تھا۔
“آپ نے تو کہا ہی نہیں کہ شرٹ لا کر دو۔۔۔۔”
“اچھا مطلب میں کہوں گا پھر لا کر دو گی۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“ظاہر ہے ایسے کیسے لا دو مجھے تو آپ کا سائز بھی نہیں معلوم۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“لے لو سائز میرا۔۔۔۔۔۔”
ازلان لب دباےُ اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“پلیز مجھے جانے دیں کوئی آ جاےُ گا۔۔۔۔۔”
حرم کی پیشانی پر تین لکریں نمایاں تھیں۔
“اگر میرا ارادہ ایسا نہ ہو پھر؟۔۔۔۔۔۔”
“میں آپ کو ایک نہیں دو بلکہ کہیں گے تو تین شرٹس بھی لا دوں گی لیکن مجھے جانے دیں پلیز۔۔۔۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
ازلان کو اس پر ترس آ گیا۔
ایک الٹا قدم اٹھایا بائیں جانب ہوا اور اسے جانے کا راستہ دیا۔
حرم پیچھے مڑے بنا تیزی سے نکل گئی۔
“یہ اچھا تفریح کا سامان ہے۔۔۔۔۔”
ازلان قہقہ لگاتا چلنے لگا۔
“کیا ہوا حرم اتنی دیر لگا دی۔۔۔۔۔”
ذوناش بریانی کے ساتھ انصاف کرتی ہوئی بولی۔
“ہاں بس پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔”
حرم بیٹھتی ہوئی بولی۔
دو منٹ بعد ازلان آتا دکھائی دیا چہرے پر مسکراہٹ تھی جو معمول کے خلاف تھی۔
ذوناش نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اپنے ٹیبل کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“یار دل تو کرتا ہے اس ازلان کو آلو کی طرح چھیل دوں۔۔۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“کیوں بھئی تمہارا بھجیا کھانے کا دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ ہنستی ہوئی بولی۔
“کریلے جیسی شکل ہے زہر لگتا ہے مجھے۔۔۔۔۔” حرم جل کر بولی۔
“اچھا خاصا تو ہے، تمہاری ناک پر اتنا غصہ کچھ کہا ہے اس نے؟۔۔۔۔۔”
ذوناش بھانپ گئی۔
“بس یار کینڈی کرش کی طرح فضول انسان ہے وہ۔۔۔۔۔”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“تمہیں نہیں پسند تو مت کھیلا کرو۔۔۔۔۔”انشرح منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اسے کیا ہوا۔۔۔۔۔”
حرم انشرح کا لٹکا ہوا چہرہ دیکھ کر بولی۔
آمنہ نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔
“دفعہ کرو تم اس نمونے کو، اپنا موڈ کیوں خراب کر رہی ہو۔۔۔۔۔” حرم سر جھٹکتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ وہ نمونہ ہے؟۔۔۔۔۔”
انشرح صدمے سے بولی۔
“یار چلتے ہیں اب یا پھر یہیں بیٹھے رہنا ہے؟۔۔۔۔”
ذوناش ازلان کے گروپ کو جاتا دیکھ کر بولی۔
ذوناش چلنے لگی تو سب اس کے عقب میں چل دیں۔
****////////****
“چھوٹے میں نے کل تمہیں کہا تھا بینک سے پیسے لے آنا؟۔۔۔۔۔۔”
شہریار سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی وہ میں بھول گیا۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا کرسی پر براجمان ہو گیا۔
شہریار بغور اسے دیکھنے لگا جو فور پیس پہنے،بال نفاست سے سیٹ کئے مقابل کو مرعوب کر رہا تھا،
اس سے ایسے جواب کی توقع کم از کم شہریار کو نہیں تھی۔
“بابا سائیں کو میں کیا بولوں کہ چھوٹا بھول گیا۔۔۔۔۔”
شہریار پین دو انگلیوں میں گھماتا ہوا بولا۔
“بھائی انسان ہوں میں بھی بھول گیا آپ تو ایسے کر رہے ہیں جیسے ایک سال ہو گیا اس کام کو۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
“اچھا پھر میٹنگ کی تیاری کر لو۔۔۔۔۔”
شہریار لیپ ٹاپ کی اسکرین اوپر کرتا ہوا بولا۔
“میں؟۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“ہاں اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات۔۔۔۔” شہریار اچنبھے سے بولا۔
“مجھے ایک دوست کی طرف جانا تھا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کے چہرے پر اکتاہٹ تھی۔
“بھائی نے کہا تھا چھوٹے کو کہیں جانے مت دینا جب تک آف نہ ہو جاےُ۔۔۔۔۔”
شہریار انگلیاں چلاتا ہوا بولا۔
“اچھی مصیبت ہے۔۔۔۔۔”
وہ منہ میں بڑبڑایا۔
“کہاں؟۔۔۔۔۔۔”
شہریار چہرہ اٹھا کر بولا۔
“میٹنگ کی تیاری کرنے اور کہاں اور ہاں بھابھی کہ رہیں تھیں کہ آپ آج جلدی گھر آئیں شاید امی کی طرف جانا ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
ساتھ میں برہان کو میسج کرنے لگا۔
****///////****
شاہ نے کمرے میں قدم رکھا تو ہنوز خاموشی چھائی تھی۔
مہرماہ یا تو سو رہی تھی یا پھر اداکاری کر رہی تھی۔
شاہ نے دروازہ لاک کیا اور مہر کی جانب چلنے لگا۔
مہر کے بالوں نے اس کے چہرے کے آگے پردہ ڈال رکھا تھا۔
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے بال ہٹاےُ تو مہر اس کے چھونے پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی۔
“جاگ رہی تھی مجھے معلوم تھا۔۔۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“مجھے نہیں کرنا تم سے نکاح مجھے واپس چھوڑ کر آؤ۔۔۔۔۔۔” مہر ہذیانی انداز میں بولتی بیڈ سے اتر گئی۔
وہ دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی جب شاہ اس کے عین مقابل آ گیا۔
مہر کی آنکھیں اس کے رونے کی چغلی کھا رہیں تھیں۔
“تمہیں ایک بار کہہ دیا نہ کہ وہاں نہیں جانا۔۔۔۔۔”
کچھ دیر قبل جو مسکراہٹ تھی اس کی جگہ اب سختی نے لے لی۔
“کیوں رکھنا چاہتے ہو مجھے اپنے ساتھ میں وہاں خوش تھی اپنی مرضی سے تھی پھر کیوں اٹھا لاےُ ہو مجھے بولو۔۔۔۔۔”
مہر اس کی جیکٹ دونوں ہاتھوں سے پکڑتی ہوئی بولی۔
“یہ جو تم میرے گریبان کو پکڑتی ہو نہ بہت ناگوار گزرتا ہے مجھے۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
مہرماہ کا بس نہیں چل رہا تھا شاہ کو جان سے مار دے۔
شاہ نے جھٹکے سے اس کے ہاتھ ہٹاےُ۔
“تم جاننا چاہتی ہو کیوں لایا ہوں تمہیں تو سنو جو چیز دوسروں کی دسترس میں نہیں آ سکتی نہ شاہ کو وہ چیز حاصل کرنے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
“میں کوئی چیز نہیں ہوں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔۔۔۔۔” مہر غرائی۔
“واٹ ایور۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے بولا۔
“فیصلہ کر لیا تم نے مولوی صاحب کو بلاؤ یا پھر بنا نکاح کے اپنی قیمت وصول کروں۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
مہر اندر تک لرز گئی لیکن ظاہر نہیں کیا۔
“نہ میں تم سے نکاح کروں گی نہ ہی تم مجھے ہاتھ لگا سکو گے, میں واپس جاؤں گی وہاں جو میری جگہ ہے۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی۔
“واپس جانے کا خیال تم دل سے نکال دو کیونکہ ایسا ممکن نہیں, اینڈ آئی وِش کہ ایک دن تمہیں اپنے پاؤں میں گرا ہوا دیکھوں۔۔۔۔۔”
تمہارے خواب میں بھی ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”
مہر جل کر بولی۔
“یہ سب تو چلتا رہے گا یہ بتاؤ بھوک لگی ہے تمہیں۔۔۔۔۔”
شاہ صوفے پر براجمان ہوتا ہوا بولا۔
مہر دروازے کی جانب لپکی۔
شاہ مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور اسے بازو سے پکڑ کر سامنے کیا۔
“تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہوں سمجھ لو اس سب سے صرف تمہارا نقصان ہو گا۔۔۔۔۔”
وہ مہر کی بازو پر زور ڈالتا ہوا بولا۔
مہر سانس خارج کرتی اردگرد دیکھنے لگی۔
“تمہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہا مجھے وہیں رہنا یے۔۔۔۔۔”
مہر نرمی سے بولی۔
“اور تمہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہا کہ تمہیں یہیں رہنا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ اسی کے انداز میں بولا۔
مہر نفی میں سر ہلاتی چہرہ جھکا گئی۔
شاہ نے اس کی بازو آزاد کر دی جہاں سرخ نشاں رہ گئے تھے شاہ کی انگلیوں کے۔
جا کر بیٹھو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔۔۔۔”
مہر تھکے تھکے انداز میں چلتی ہوئی بیڈ پر آ بیٹھی۔
دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔
آنکھیں پھر سے نم ہو گئیں۔
مہر نے خود کو رونے سے باز رکھا۔
شہادت کی انگلی سے آنکھ صاف کی اور لب دباےُ فرش کو دیکھنے لگی۔
****///////****
“ابھی تک اس کا بھوت کا نہیں اترا؟۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم خفگی سے دیکھتی ہوئیں بولیں۔
“نہیں بیگم صاحبہ کل سے بس روےُ جا رہی ہے تو کبھی اپنی ماں کو پکارے جا رہی ہے۔۔۔۔۔”
بانی فکرمندی سے بولی۔
“دیکھنا تھا بخار تو نہیں۔۔۔۔۔”زلیخا بیگم آنکھیں چھوٹی کیے بولیں۔
بانی نے آگے بڑھ کر حرائمہ کا چہرہ اونچا کیا اور پیشانی پر ہاتھ رکھا جو تپ رہی تھی۔
“بیگم صاحبہ اسے بخار ہے۔۔۔۔۔”
“بیوقوف وہ بیہوشی میں بول رہی ہو گی آنکھیں دیکھ اس کی بند ہیں۔۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے بولیں۔
“ڈاکٹر کو بلاؤں پھر بیگم صاحبہ؟۔۔۔۔۔”
وہ بوکھلا کر زلیخا بیگم کو دیکھنے لگی۔
“ابھی بھی پوچھے گی جلدی کر اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹا، مہر کے جانے کا سب پوچھ رہے ہیں اب یہ نیا شکار ملا ہے اسے گنوانا نہیں چاہتی میں۔۔۔۔۔”
وہ گرج دار آواز میں بولیں۔
****////////****
“وکی مجھے نمبر دے ذوناش کا۔۔۔۔۔”
ازلان لبوں سے دھواں آزاد کرتا ہوا بولا۔
“چیک کر میں نے سینڈ کر دیا ہے۔۔۔۔۔”
وکی ٹائپ کرتا ہوا بولا۔
ازلان نمبر ملا کر فون کان سے لگاےُ انتظار کرنے لگا۔
ذوناش سب کے ساتھ بیٹھی تھی۔
“ازلان کا نمبر دیکھ کر پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“یہ اس ٹائم کیوں کر رہا ہے فون۔۔۔۔”
وہ اسکرین کو دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔
“کیا ہوا فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔۔۔۔۔”
انشرح جو بک پر جھکی تھی رنگ ٹون کے خلل ڈالنے کے باعث بول پڑی۔
“نہیں وہ ایک پرانی دوست کا ہے اس لئے سوچ رہی تھی کہ اٹھاؤں یا نہیں۔۔۔۔۔”
ذونی نے کہتے ہوۓ کال کاٹ دی۔
ازلان آبرو اچکا کر اسکرین کو دیکھنے لگا۔
“اس وقت اٹینڈ نہیں کر سکتی میسج پر بات کرو۔۔۔۔۔”
ذونی کا میسج پڑھ کر اس کے تنے ہوۓ اعصاب ڈھیلے پڑے۔
“رہنے دو کل یونی میں ملنا مجھے۔۔۔۔۔”
میسج بھیج کر ازلان نے فون جیب میں ڈال لیا۔
“یار سیفی چلے گا۔۔۔۔۔”
زین اس کے سامنے آتا ہوا بولا۔
“کہاں؟۔۔۔۔۔”
سیفی پورا منہ کھولے اسے دیکھنے لگا۔
“بھابھی کو لینے۔۔۔۔۔”
زین شرارت سے بولا۔
“صحیح صحیح بتا۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولا۔
“یار کومل سے ملنے جا رہا ہے۔۔۔۔۔”
ازلان نے مداخلت کی۔
“تو کومل کو میری گود میں بٹھانا ہے جو مجھے ساتھ لے جا رہا؟۔۔۔۔۔”
سیفی جل کر بولا۔
“ہاہاہاہا نہیں تو بھی اپنی والی کو بلا لے ایک ساتھ چلتے ہیں۔۔۔۔۔” وہ بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
“نہ بھائی میں یہیں پر اچھا ہو وہ چڑیل پہلی بات ہی کرے گی بےبی کیا گفٹ لاےُ ہو میرے لئے, نہ بےبی کی تو جیسے گفٹ والی دکان ہے نہ۔۔۔۔۔”
سیفی تپ کر بولا۔
جب کہ باقی سب ہنس رہے تھے۔
“تو تجھے کس نے کہا تھا ایسی جی ایف رکھ۔۔۔۔۔”
زین قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
سیفی منہ بسورتا فون کو دیکھنے لگا۔
“یار وکی ایسا کرتے ہیں اس کے والی کو فون کر تجھ سے تو گفٹ نہیں مانگے گی۔۔۔۔۔” زین کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
وکی نے فوراً فون نکالا اور نمبر ملانے لگا۔
“میں نے منہ توڑ دینا ہے تم دونوں کا۔۔۔۔۔” سیفی موبائل کھینچ کر خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا۔
“بچو پھر چپ چاپ آ جا میرے ساتھ ورنہ ایک دن کے لئے اپنی والی ادھار دے دے۔۔۔۔۔”
زین پرفیوم لگاتا ہوا بولا۔
سیفی نا چاہتے ہوۓ بھی اٹھ گیا۔
ازلان اور وکی اس کی شکل دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔
“یار مجھے نہ مارکیٹ جانا یے۔۔۔۔۔”
حرم بالوں کی پونی بناتی ہوئی بولی۔
“ابھی کچھ دن پہلے تو گئے تھے اب کیا لینا یے۔۔۔۔۔”
آمنہ حیرت سے بولی۔
“یار ازلان نے کہا ہے کہ شرٹ لا کر دو مجھے۔۔۔۔۔” حرم پریشانی سے کہتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“تم پاگل ہو کیا اس نے مذاق میں کہا ہو گا۔۔۔۔۔”
ذوناش ششدہ سی بولی۔
“نہیں یار وہ بلکل سنجیدہ تھا اور میرے کون سے پیسے ختم ہو جائیں گے اگر میں اسے ایک شرٹ لا دوں گی۔۔۔۔”
حرم سادگی سے بولی۔
“حرم تم بہت بھولی ہو وہ تمہیں تنگ کرنے کے لیے کہ رہا ہو گا۔۔۔۔۔”
اب کی بار انشرح نے اسے سمجھانا چاہا۔
“ٹھیک ہے کرو پھر اپنی مرضی۔۔۔۔۔”
حرم لحاف اوڑھ کر لیٹ گئی۔
“اس میڈم کا پتہ نہیں چلتا کب ناراض ہو جاےُ۔۔۔۔” آمنہ سامان سمیٹتی ہوئی بولی۔
“رہنے دو صبح خود ہی سیٹ ہو جاےُ گی۔۔۔۔”ذوناش اسے اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
****//////****
“پتہ ہے تمہیں بہت مس کیا میں نے۔۔۔۔”
شاہ ویز خمار آلود لہجے میں بولا۔
عینی کی زلفیں شاہ ویز کے چہرے پر تھے۔
شاہ ویز اس کی گود میں سر رکھے ہوۓ تھا۔
“جھوٹ بولتے ہو تم۔۔۔۔۔” وہ خفا خفا سی بولی۔
“تمہاری قسم, بھائی نے پابندیاں لگا دیں ہیں ورنہ میں تمہارے بغیر کیسے رہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“تو تم اپنے بھائی کو بتا دو ہمارے ریلیشن کا۔۔۔۔۔”
وہ شاہ ویز کے سینے پر انگلی چلاتی ہوئی بولی۔
“بھائی کو بھی بتا دوں گا جب ٹائم آےُ گا۔۔۔۔۔” وہ عینی کو اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
اور عینی اس میں سمٹ گئی۔
“شاہ ویز۔۔۔۔۔”
عینی کچھ دیر بعد بولی۔
“ہمممم۔۔۔۔۔”شاہ ویز مصروف سے انداز میں بولا۔
“تم صبح گھر جاؤ گے نہ؟۔۔۔۔۔”
عینی نے خدشہ ظاہر کیا۔
شاہ ویز اس سے الگ ہوا اور اس کے بال کام کے پیچھے کرنے لگا۔
“نو بےبی مجھے تھوڑی دیر میں نکلنا ہے۔۔۔۔۔”
“یہ کیا بات ہوئی شاہ ویز میں سارا دن یہاں اکیلی کیا کرتی رہا کروں بار بار ہاسٹل سے نکلنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولی۔
“میں سوچ رہا ہوں تمہیں ایک اپارٹمنٹ لے دوں رینٹ پر, تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو پھر بہانے بنانے کی نوبت نہیں آےُ گی۔۔۔۔۔”
“ہاں اور گھر معلوم ہو گا پھر کیا بولوں گی میں کس کے اپارٹمنٹ میں رہ رہی ہوں۔۔۔۔۔”
عینی اس کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی۔
“یار کچھ بھی کہ دینا۔۔۔۔۔” شاہ ویز لاپرواہی سے بولا۔
“شاہ ویز تمہارا یہی رویہ مجھے پسند نہیں۔۔۔۔۔۔”
عینی خفگی سے بولی۔
“اوکے بےبی میں کچھ سوچتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بیڈ سے اتر گیا۔
“اتنی جلدی جا رہے ہو۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اگر میں نہ گیا تو بھائی آ جائیں گے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز صوفے سے شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔
“اب دوبارہ آؤ تو اپنے بھائی سے ٹائم لے کر آنا ورنہ میں واپس ہاسٹل چلی جاؤں گی۔۔۔۔”
شاہ ویز کا فون رنگ کرنے لگا تو ہاتھ ہلاتا تیزی سے باہر نکل گیا۔
“بھائی کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔۔۔”
شاہ ویز کوفت سے بولا۔
شاہ کی نگاہ مہر پر تھی جو چاولوں میں چمچ ہلا رہی تھی۔
فون جیب میں ڈال کر مہر کے سامنے آ بیٹھا۔
“یہ کھیلنے کے لیے نہیں ہیں۔۔۔۔۔” وہ خفگی سے بولا۔
“تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔۔۔”
مہر تنک کر بولی۔
شاہ نے مہر کے بال دبوچ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔
“یہ جو زبان ہے نہ میرے سامنے استعمال نہ ہی کرو تو بہتر ہو گا ورنہ بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
مہر دانت پیستی شاہ کو دیکھنے لگی۔
“کچھ بھی کر لو میری زبان بند نہیں ہو گی۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ تلملا کر اسے دیکھنے لگا پھر جھٹکے سے اس کے بال چھوڑ دئیے۔
پلیٹ اٹھا کر زمین پر پٹخ دی۔
مہر لب بھینچے بائیں جانب دیکھنے لگی۔
“اٹھو یہاں سے۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑ کر کھینچتا ہوا بولا۔
مہر اس کے ساتھ گھسیٹتی چلنے لگی۔
“کیا مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔۔۔” مہر کوفت سے بولی۔
“کل آؤں گا میں ایک دن کا وقت ہے نکاح یا پھر۔۔۔۔۔”
شاہ بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
یہ چھوٹا سا کمرہ بلکل خالی تھا۔
تاریکی میں کھڑی مہر شاہ کو دیکھنے لگی جو دروازے کے وسط میں کھڑا تھا۔
دروازے کھلنے ہونے کے باعث کمرے میں روشنی آ رہی تھی۔
مہر دائیں بائیں چہرہ موڑتی کمرے کو دیکھنے لگی۔
فرنیچر کے نام پر ایک شے بھی موجود نہ تھی نہ ہی کوئی بلب تھا۔
“تم مجھے یہاں چھوڑ کر جاؤ گے۔۔۔۔۔۔”
مہر دھیمی آواز میں بولی۔
“بلکل۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر بلا کی سختی تھی ضبط کے باعث آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں۔
شاہ نے دروازہ بند کر کے لاک کر دیا۔
مہر اندھیرے میں ڈوب گئی۔
انجان جگہ پھر خوفناک تاریکی کے ساےُ۔
مہر کو خوف محسوس ہونے لگا۔
وہ ہاتھ مسلتی زمین پر بیٹھ گئی۔
“ایک دن میں یہیں پر رہوں گی کیا؟۔۔۔۔”
وہ خودکلامی کرنے لگی۔
“کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں میں,
مجھے وہاں سے نہیں آنا تھا پھر کیسے شاہ سے نکاح کر لوں،مجھے کوٹھے پر رہنا ہے۔۔۔۔۔”
مہر اشک بہاتی بول رہی تھی۔
“مہر اچھا ہے نہ شاہ سے نکاح کے بعد اس ذلت بھری زندگی سے نجات مل جاےُ گی۔۔۔۔۔”
مہر کو اپنے اندر سے آواز سنائی دی۔
“کیا مجھے شاہ سے نکاح کر لینا چائیے؟۔۔۔۔۔”
مہر خود سے استفسار کرنے لگی۔
“کیا کروں کیا نہ کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا شاہ نے مجھے کشمکش ڈال دیا یے۔۔۔۔۔”
مہر نے سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔
خاموشی میں مہر کی سسکیاں ارتعاش پیدا کر رہیں تھیں۔
شاہ نے کمرے سے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر کی جانب چلنے لگا۔
“شکر ہے تم نے بھی شکل دکھائی۔۔۔۔۔”
شاہ کرسی کھینچ کر بیٹھا تو ضوفشاں بیگم خفگی سے بولیں۔
شاہ خاموشی سے پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگا۔
“اپنے کام سے نکلو اور کچھ چھوٹے کی بھی خبر لو۔۔۔۔۔”
کمال صاحب اونچی آواز میں بولے۔
“معلوم ہے برہان کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ نوالہ منہ میں ڈالتا ہوا بولا۔
“برہان کے ساتھ نہیں بے غیرت لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے؟۔۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتے ہوۓ بولے۔
“بابا سائیں میں نے نوید کو بھیجا تھا وہ بتا رہا تھا برہان کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا تھا کسی لڑکی کے ساتھ نہیں۔۔۔۔”
شاہ زور دے کر بولا۔
“جو بھی ہو شاہ تم اسے سیدھا کرو ہماری تو کسی کی نہیں سنتا وہ بد بخت۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
“میں نے فون کیا تھا آتا ہو گا پوچھتا ہوں اس سے۔۔۔۔”
شاہ مصروف سے انداز میں بولا۔
کمال صاحب اثبات میں سر ہلاتے کھانے لگے۔
“شہریار نظر نہیں آ رہا۔۔۔۔”
شاہ ہاتھ صاف کرتا ہوا بولا۔
“وہ ماریہ کو لے کر اس کی امی کی طرف گیا ہے۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم شاہ کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔
“ہاں عدیل آیا تھا تم آفس سے جلدی چلے گئے تھے کیا؟۔۔۔۔”
وہ حیرت سے بولیں۔
شاہ کے ماتھے پر شکن تک نہیں تھی۔
“میں بات کر لوں گا اس سے۔۔۔۔۔۔”
شاہ موبائل نکالتا ہوا بولا۔
وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگیں۔
شاہ ویز محتاط انداز میں چلتا ہوا اندر آیا۔
“چھوٹے اِدھر آؤ۔۔۔۔۔”
شاہ کی نظریں ہنوز اسکرین پر تھیں۔
شاہ ویز دانتوں تلے زبان دیتا اس جانب آ گیا۔
“جی بھائی۔۔۔۔۔”
شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا بولا۔
شاہ ویز اس کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی جب ایک بار بولا ہے کہ برہان کے ساتھ دکھائی نہ دو تو پھر۔۔۔۔
آہستہ آہستہ شاہ کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔
“وہ بھائی کچھ کام۔۔۔۔۔”
شاہ ویز ضوفشاں بیگم کو دیکھتا ہوا بولا۔
نظروں ہی نظروں میں ان سے مدد طلب کر رہا تھا۔
“چھوٹے لاسٹ وارنگ ہے اگر تم دوبارہ مجھے اس برہان کے ساتھ دکھائی دئیے تو اس گھر میں واپس نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔۔
شاہ کہہ کر نکل گیا۔
شاہ ویز لب بھینچے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
“مجبور مت کرو اسے کہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھاےُ۔۔۔۔۔”
کمال صاحب غصے سے گویا ہوۓ۔
“آپ لوگوں کی وجہ سے وہ مجھ سے ایسے بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز غصے سے دھاڑتا چلا گیا۔
“دماغ خراب کر دیا ہے اس برہان نے اس کا۔۔۔۔۔”
کمال صاحب نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
“کھڑی کھڑی کیا دیکھ رہی ہو سالن لے کر آؤ۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ملازمہ پر برس پڑیں۔
“ہاں عدیل بول۔۔۔۔۔”
شاہ فون کان سے لگاےُ کھڑا تھا۔
“یار تو نے بتایا ہی نہیں مہر کو خرید لایا ہے۔۔۔۔۔”
عدیل کے لہجے میں حیرانی کا عنصر تھا۔
“ہاں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔”
شاہ سر کھجاتا ہوا بولا۔
“خیر ہے کیوں لے کر آیا اسے۔۔۔۔‍‍
عدیل تشویش سے بولا۔
“میں نے سوچا روز روز کوٹھے پر جانا نہ پڑے۔۔۔۔۔”
“یہی وجہ ہے یا کچھ اور۔۔۔۔۔”
عدیل مطمئن نہیں ہوا۔
“اور کیا وجہ ہو گی, ابھی کچھ کام کرنے لگا پھر صبح ملتے ہیں۔۔۔۔۔”
شاہ نے بنا کچھ سنے فون بند کر دیا۔
شاہ کھڑکی میں آ کر کھڑا ہو گیا۔
خاموش تاریک رات، فلک بھی تاریک ہی دکھائی دے رہا تھا۔
شاہ نے پردے کھڑکی کے آگے گرا دئیے اور چینج کرنے ڈریسنگ میں چلا گیا۔
****/////////****
حرم ٹیسٹ لکھ رہی تھی جب اچانک قلم کی سیاہی ختم ہو گئی۔
اس نے سیاہی دیکھی تو پین چھڑکنے لگی تاکہ لکھ سکے۔
“انک ہے پھر چل کیوں نہیں رہا۔۔۔۔۔”
حرم کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
حرم مسلسل پین کو جھٹک رہی تھی یہ دیکھنے بنا کہ سیاہی کے قطرے ازلان پر گر رہے ہیں۔
“واٹ دِی ہیل اِز دِس۔۔۔۔۔”
ازلان چلاتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگی۔
“اسے کیا ہو گیا۔۔۔۔۔”
آمنہ اس کے عقب سے بولی۔
“مجھے کیا معلوم۔۔۔۔۔”حرم چہرہ موڑ کر بولی۔
“تمہیں کام کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔۔۔۔”
ازلان اس کے سر پر آن پہنچا۔
“ازلان کیا ہوا۔۔۔۔۔۔”
پروفیسر خفگی سے بولے۔
حرم ششدہ سی ازلان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے اور شرٹ پر سیاہی کے قطرے دکھائی دے رہے تھے۔
حرم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔”
ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔
“ازلان آپ اس وقت کلاس میں کھڑے ہیں۔۔۔۔”
پروفیسر اونچی آواز میں بولے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: