Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 4

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 4

–**–**–

“سر آپ دیکھ رہے ہیں اس بیوقوف کو کلاس میں بیٹھنے کی تمیز بھی نہیں ہے مجھ تو سمجھ نہیں آتا یہ اس یونی میں کر کیا رہی ہے۔۔۔۔۔”
ازلان کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔
“سوری غلطی سے ہو گیا۔۔۔۔۔”
حرم آنسو پیتی ہوئی بولی۔
“ازلان بہت ہو گیا حرم نے سوری کر لی ہے آپ اپنی نشست پر بیٹھیں اب مزید وقت کا ضیاع مت کریں۔۔۔۔۔”
ازلان نے بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ پروفیسر بول پڑے۔
ازلان لب بھینچے واپس اپنی نشست پر آ گیا۔
حرم اپنی ہتک محسوس کر کے خود میں سمٹ گئی۔
دل رونے کے لئے بےقرار تھا لیکن وہ یہاں رونا نہیں چاہتی تھی۔
“میں دیکھتا ہوں تم میرے عتاب سے کیسے محفوظ رہتی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان منہ میں بڑبڑایا۔
حرم جلدی سے ٹیسٹ کر کے نکل گئی۔
حرم کے نکلتے ہی ازلان بھی نکل گیا۔
“رکو۔۔۔۔۔”
وہ حرم کے عقب سے بولا۔
حرم سنی ان سنی کرتی ناک کی سیدھ میں چلتی رہی۔
“تمہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
حرم اس کی گرفت پر جی جان سے لرز گئی۔
“میری بازو چھوڑو؟۔۔۔۔”
حرم بمشکل آنسوؤں کو روکے ہوۓ تھی۔
“تم میرے پیچھے کیوں پڑی ہو بتاؤ آج مجھے۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی بات نظر انداز کرتا ہوا بولا۔
حرم کی نگاہیں اردگرد سے گزرتے طالبات پر تھیں جو انہیں دیکھ کر باتیں کرتے جا رہے تھے۔
“سب دیکھ رہے ہیں پلیز چھوڑو، مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم اپنی بازو آزاد کروانے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔
حرم کی آنکھیں اشکوں سے لبریز تھیں۔
جو کسی بھی لمحے چھلک سکتی تھیں۔
“میری بات کا جواب دو۔۔۔۔۔۔”
ازلان بضد ہوا۔
“مجھے کوئی بھی بیر نہیں تم سے پلیز چھوڑ دو سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ التجائیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
آج ازلان ترس کھانے کا قصد نہیں رکھتا تھا۔
“میری بات غور سے سن لو تم یہ جو الٹی سیدھی حرکتیں کرتی ہو نہ اگر میں کچھ کرنے پر آیا تو ساری زندگی روتی پھرو گی۔۔۔۔۔۔”
ازلان اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لاتا ہوا بولا۔
حرم نے بوکھلا کر الٹا قدم اٹھایا۔
اتنی نزدیکیاں اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کسی لڑکے کے اتنی قریب جاےُ گی وہ۔
“پلیز لیٹ می گو۔۔۔۔۔”
حرم دھیرے سے بولی۔
ازلان نے ہاتھ ہٹا لیا اور اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا۔
” ذوناش میں عقبی حصے میں جا رہا ہوں میری بات سنو آ کر۔۔۔۔۔
ازلان چلتا ہوا فون کان سے لگاےُ بول رہا تھا۔
حرم اسے نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ رہی تھی۔
خود پر نظریں محسوس کر کے اس نے واش روم کا رخ کیا۔
حرم دل کھول کر روئی حتیٰ کہ اس کی آنکھیں سوجھ گئیں۔
وہ جتنا لڑکوں سے دور رہنے کی سعی کرتی ازلان اتنا قریب آتا جا رہا تھا۔
“اگر بھائی کو معلوم ہو گیا تو مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔۔۔”
حرم کی آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔
“کل جا کر اس کی شرٹ لے آؤں گی اور اسکے منہ پر ماروں گی۔۔۔۔۔”
حرم ہاتھ کی پشت سے چہرہ رگڑتی ہوئی بولی۔
جب کچھ سنبھل گئی تو باہر نکل آئی۔
****//////****
“ڈاکٹر صاحبہ زیادہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم تشویش کا اظہار کرنے لگیں۔
“نہیں یہ ڈرپ پوری ہو جاےُ پھر اس کے بعد یہ دوسری ڈرپ لگائیں گے لیکن ان کی عمر ابھی کم ہے آپ کو سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھانا چائیے تھا۔۔۔۔۔”
وہ افسوس سے بولیں۔
حرائمہ بے سدھ بیڈ پر لیٹی تھی, چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
“ہاں میں آگے سے خیال رکھوں گی بس علم نہیں تھا۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم مسکراتی ہوئیں بولیں۔
“بیگم صاحبہ چودھری عنایت حسین تشریف لاےُ ہیں۔۔۔۔۔”بانی کمرے میں قدم رکھتی ہوئی بولی۔
“ڈاکٹر صاحبہ آپ معائنہ جاری رکھیں میں آتی ہوں کچھ دیر میں۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم مسکراتی ہوئیں نکل گئیں۔
“ہمارے بھاگ کھل گئے چودھری صاحب کہ آپ خود تشریف لاےُ۔۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم خوشامد کرتیں ہوئیں بولیں۔
چودھری صاحب نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“کیا خدمت کر سکتی ہوں میں آپ سے۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم اپنی نشست سنبھالتی ہوئیں بولیں۔
“ہمم آج رات کمرے کا انتظام کر دینا۔۔۔۔۔”
“جی حضور رانی کو بھیج دوں گی میں۔۔۔۔۔”
زلیخا کا دل باغ باغ ہو گیا۔
“زلیخا بیگم پرانی والیوں میں مزہ نہیں رہا اب کوئی نئی دوشیزائیں بھی تو لاؤ۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولے۔
“ابھی تو رانی کو بھیج دیتی ہوں لیکن اگلی دفعہ بلکل نیا مال دوں گی، چاےُ تو لیں آپ۔۔۔۔”
“وعدہ کرتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ۔۔۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ کر زلیخا کو دیکھنے لگے۔
“جی جی وعدہ کر رہی ہوں سب سے پہلے آپ کو ہی پیش کروں گی یہ نا چیز بھلا آپ کو ناراض کر سکتی ہے۔۔۔۔۔”
وہ ادا سے بولی۔
“ٹھیک ہے پھر ہم رات میں آئیں گے۔۔۔۔”
کپ کو انہوں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا, کھڑے ہوۓ اور باہر نکل گئے۔
“مہر کے جانے سے بہت اثر پڑا ہے۔۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے بولی۔
“آپ شاہ صاحب کو انکار کر دیتیں۔۔۔۔”
بانی نے اپنی جانب سے عقلمندانہ مشورے سے نوازا۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے کیا شاہ صاحب کو کیسے انکار کر دیتی جب مہر نے جہانگیر کو تھپڑ مارا تھا تو شاہ صاحب نے اس کوٹھے کو بچایا تھا ورنہ آج سڑک پر رُل رہے ہوتے سارے۔۔۔۔”
وہ پان منہ میں ڈالتی ہوئیں بولیں۔
بانی سمجھتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“اچھا ہوا وہ مہر دفعہ ہو گئی۔۔۔۔۔”رانی آئینے میں اپنا عکس دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں اب بیگم صاحبہ کو ہم بھی دکھائیں دیں گے ورنہ تو مہر کے نام کی پٹی بندھی تھی ان کی آنکھوں پر۔۔۔۔۔”
آئمہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اب سب کے لبوں پر صرف رانی کا نام ہو گا۔۔۔۔”رانی تفاخر سے بولی۔
آئمہ سر جھٹکتی لہنگا دیکھنے لگی۔
“تمہیں معلوم ہے۔۔۔۔”
رانی پرجوش سی بول رہی تھی لیکن زلیخا بیگم کو دیکھ کر خاموش ہو گئی۔
“آئمہ بات سنو ہماری۔۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولیں۔
“جی بیگم صاحبہ حکم کریں۔۔۔۔۔”
آئمہ خوشی سے چہکی۔
“تمہیں یونیورسٹی بھیج رہے ہیں ہم وہاں سے دو تین لڑکیاں پکڑ کر لاؤ خوبصورت بھی ہوں اور معصوم بھی تاکہ تنگ نہ کریں۔۔۔۔۔۔”
“لیکن بیگم صاحبہ میں کیسے؟۔۔۔۔۔”
آئمہ کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
“مہر کے جانے سے لوگ بھی جا رہے ہیں اب نئے چہرے ہوں تم سمجھ رہی ہو نہ۔۔۔۔۔”
“بیگم صاحبہ میں سمجھ تو رہی ہو لیکن۔۔۔۔۔”
“تم نے بارہ کیں ہیں نہ بس میں داخلہ کروا دوں گی اب تمہارا کام ہے جلد از جلد لڑکیوں کو لے کر آنا۔۔۔۔۔”
وہ حتمی انداز میں بولیں۔
“اور یہاں؟۔۔۔۔۔۔”
“یہاں ابھی یہ سب ہیں نہ تم بس یہ کام کرو ہمیں اشد ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ فکرمندی سے بولیں۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔” آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
****///////****
“یار تمہیں معلوم ہے اپنے سامنے والے کمرے میں جو عینی نام کی لڑکی ہے نہ؟۔۔۔۔”
ذوناش سب کو دیکھتی راز داری سے بول رہی تھی۔
“کیا شادی ہو گئی اس کی ہاےُ دیکھنا کارڈ بھی نہیں دکھایا ہم نے کیا دلہا نکال لینا تھا اس میں سے۔۔۔۔۔۔”
انشرح برا مان گئی۔
“اف خاموش ہو کر میری بات سنو۔۔۔۔۔”
ذوناش خفگی سے بولی۔
“یار وہ گزشتہ دو دن سے ہاسٹل سے غائب ہے چوکیدار کو بول کر گئ ہے کہ میں گھر جا رہی ہوں جب کہ وہ گزشتہ ہفتے گھر گئی تھی اور معلوم ہے وہ اب کہاں ہے؟۔۔۔۔۔”
ذوناش آبرو اچکا کر بولی۔
“کہاں؟۔۔۔۔۔”
سب یک زبان ہو کر بولیں۔
وہ سب دم سادھے ذوناش کو سن رہیں تھیں۔
“ہوٹل میں ہے،، کسی امیر زادے کے ساتھ چکر چل رہا ہے اس کا۔۔۔۔۔”
ذوناش کہہ کر پیچھے ہوئی اور کرسی سے ٹیک لگا لی۔
وہ سب منہ کھولے ذوناش کو دیکھنے لگیں۔
“ذونی سچ میں ایسا ہی ہے،وہ شکل سے ایسی لگتی تو نہیں ہے۔۔۔۔۔” حرم متحیر سی بولی۔
“شکل پر مت جاؤ۔۔۔۔۔۔”
ذوناش چاکلیٹ منہ میں ڈالتی ہوئی بولی جو کچھ دیر قبل ازلان نے اسے دی تھی۔
“دیکھنا یار کیسا زمانہ آ گیا ہے ماں باپ سمجھ رہے ہیں پڑھ رہی ہے اور بیٹی کیا گل کھلاتی پھر رہی ہے۔۔۔۔۔”
آمنہ کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی۔
“سچ میں ایسی لڑکیوں کو نہ پب جی گیم میں ڈال دینا چائیے ایک سنیپر کا فائر لگنا ہے دوبارہ اٹھنا نہیں انہوں نے۔۔۔۔۔۔”
انشرح منہ بناتی ہوئی بولی۔
“انشرح تم گیم کم ہی کھیلا کرو، یا پھر ہمارے سامنے نام مت لیا کرو۔۔۔۔۔”
ذوناش پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“یار ذونی وہ جو لڑکی ہے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی کیا نام تھا اس کا،معصوم سی تھی۔۔۔۔۔”
انشرح یاد کرتی ہوئی بولی۔
“حرائمہ۔۔۔۔۔”
ذوناش کو ایک لمحہ لگا تھا اندازہ لگانے میں۔
“ہاں وہی, یار وہ تو ایک چھٹی نہیں کرتی آج کل دکھائی نہیں دے رہی اس کی کچھ خبر ہے؟۔۔۔۔۔۔”
انشرح تشویش سے بولی۔
“پتہ نہیں اس کی دوستوں سے سنا ہے غائب ہے وہ نا جانے کہاں گئی۔۔۔۔۔”
ذوناش شانے اچکاتی ہوئی بولی۔
“یار ویسے وہ لڑکی بہت اچھی تھی ، سب کے کام کر دیتی تھی بیچاری تھی بھی غریب سی ، یار وہ اپنی امی کو چھوڑ کر چلی گئ۔۔۔۔”
انشرح کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“ہاں مجھے بھی حیرت ہوئی وہ تو اپنی امی سے بہت محبت کرتی تھی پھر نجانے کدھر گئی۔۔۔۔۔۔”
وہ لاعلمی ظاہر کرتی ہوئی بولی۔
حرم اور آمنہ بھی انہماک سے ان کی باتیں سن رہیں تھیں۔
“خیر تم معلوم کرنا کہاں گئی وہ۔۔۔۔۔”
انشرح موضوع بند کرتی ہوئی بولی۔
“یار ذونی فاطمہ کب آےُ گی معلوم کرنا تھا شادی کر کے بھول ہی گئی ہے؟۔۔۔۔۔”
حرم اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“دو دن پہلے تو وہ ہنی مون سے آئی ہے شاید نیکسٹ ویک میں آ جاےُ۔۔۔۔۔”
وہ دہی بڑے کی پلیٹ اپنی جانب کھسکاتی ہوئی بولی۔
****//////****
شاہ نے کمرے کا دروازہ کھولا تو نگاہیں مہر کے وجود سے ٹکرائیں جو گھنٹوں پر سر رکھے بیٹھی تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز مہر کی سماعت سے ٹکرائی تو مہر نے چہرہ اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔
ایک دن میں ہی وہ بیمار دکھائی دینے لگی تھی۔
“کیا سوچا پھر تم نے اب اس سے زیادہ میں انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
شاہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتا بے لچک لہجے میں بولا۔
مہر نے شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی اور کھڑی ہو گئی۔
بھوک کے باعث وہ لڑکھڑا گئی۔
شاہ اسے تھامنے کے لئے آگے نہ بڑھا مہر نے دیوار پر ہاتھ رکھ کر خود کو سنبھالا۔
“میں نے سوچ لیا ہے تم سے نکاح کروں گی میں۔۔۔۔۔”
مہر شکایتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ویل اچھا فیصلہ لیا ہے مجھے لگا تھا تم تو خوشی سے پاگل ہو جاؤ گی نکاح کا سن کر لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“ہاتھ تمہیں پھر بھی نہیں لگانے دوں گی۔۔۔۔۔” مہر اسے دیکھتی ہوئی سوچنے لگی۔
“ٹھیک ہے آ جاؤ باہر۔۔۔۔۔” شاہ باہر کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
مہر اس کی بے مروتی پر آہ بھر کر رہ گئی۔
“چینج کر کے کھانا کھا لو باہر مولوی صاحب منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔”
شاہ کہہ کر باہر نکل گیا۔
“شاہ تو ٹھیک تو ہے نہ؟۔۔۔۔۔”
عدیل نے یقینی کی کیفیت میں بولا۔
شاہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا چلتا ہوا پورچ میں آ گیا۔
“تو میری عادات سے واقف ہے نہ پھر کیوں پوچھ رہا یے؟۔۔۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“نہیں میرا مطلب ایک طوائف سے نکاح۔۔۔۔۔”
عدیل بات ادھوری چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے کون سا دل لگی کی ہے مجھے تو بس اسے اپنے پاس رکھنا ہے۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے بولا۔
“صرف اسی لئے کہ کوئی دوسرا اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا؟۔۔۔۔۔”
عدیل آبرو اچکا کر بولا۔
“بلکل, اور سب سے بڑھ کر میں اس کا غرور توڑنا چاہتا ہوں نفرت ہوتی ہے مجھے جب وہ اپنی اوقات سے باہر نکلتی ہے ایک عورت بلکہ ایک طوائف ہو کر مرد کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھتی ہے اب میں اسے اپنی جوتی کی نوک پر رکھوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ کدورت سے بولا۔
“میں کہتا ہوں ایک بار پھر سے سوچ لے وہ ایک طوائف ہے اور تو اس گاؤں کا معتبر انسان کیسے اس سے نکاح کر سکتا ہے یار۔۔۔۔۔”
عدیل کو اس کی عقل پر شبہ ہو رہا تھا۔
“تو فکر کیوں کر رہا ہے وہ یہاں ہو گی تو میری عزت کو بھی کوئی تار تار نہیں کر سکے گا، ایک دو لوگوں نے مجھے کوٹھے سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے اور میں اپنی ریپوٹیشن پر کوئی حرف نہیں آنے دے سکتا, اس لئے اس وجہ کو اپنے پاس لے آیا جس کے باعث میں جاتا ہوں کوٹھے پر۔۔۔۔۔”
شاہ تفصیل سے آگاہ کر کے اسے دیکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے جیسے تجھے مناسب لگے۔۔۔۔۔”
عدیل نے مزید بحث کرنا جائز نہ سمجھا۔
“اچھا یہ بتا یہ گواہ منہ بند رکھیں گے نہ؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
” بے فکر رہ میں کے کر آیا ہوں سمجھ بے زبان ہیں۔۔۔۔۔”
عدیل سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“چل ٹھیک ہے پھر آ جا اندر۔۔۔۔۔”
شاہ اندر کی جانب چلتا ہوا بولا۔
مہر بے جان سی اٹھی اور کپڑے دیکھنے لگی۔
بلاشبہ شاہ نے اپنی حیثیت کے مطابق لباس کا انتخاب کیا تھا۔
مہر اس سرخ جوڑے پر ہاتھ پھرنے لگی۔
وہ شاہ سے اپنے دل کی رضامندی پر نکاح کر رہی تھی کیونکہ کوٹھے پر واپس جانا سراسر بیوقوفی تھی لیکن دماغ پھر بھی واپس جانے کے لیے بھڑکا رہا تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی جب دروازے پر دستک سنائی دی۔ جس کے معنی تھی کہ وہ باہر نکل آےُ اب۔
مہر لمبا سانس اندر کھینچتی کپڑے اٹھا کر واش روم میں چلی گئی۔
مہر باہر نکلی تو گھونگھٹ نے اس کے چہرے کو پوشیدہ کر رکھا تھا۔
نا جانے وہ اپنا چہرہ چھپانا چاہتی تھی یا پھر اپنی اصلیت۔
مہر شاہ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا۔
مہرماہ ولد غلام محمد کے ساتھ آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟۔۔۔۔۔”
مولوی صاحب شاہ سے استفسار کر رہے تھے۔
شاہ اپنی سوچ میں غرق تھا عدیل نے اس کا شانہ تھپتھپایا تو وہ حال میں لوٹ آیا۔
جی قبول ہے۔
دو بار مزید یہی لفاظ دہراتا ، پھر مولوی صاحب مہرماہ کی جانب متوجہ ہوۓ۔
مہر کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا نکاح ایسے حالات میں ہو گا۔
اس نے تو کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا نکاح ہو گا بھی۔
قبول ہے؟۔۔۔۔۔”
مولوی صاحب نے پھر سے پوچھا۔
“بچے کیا یہ نکاح آپ کی رضامندی سے ہو رہا یے؟۔۔۔۔۔”
وہ نرمی سے گویا ہوۓ۔
“جی جی مولوی صاحب۔۔۔۔۔”
ان کی آواز پر مہر جیسے ہوش میں آئی۔
مولوی صاحب پھر سے استفسار کرنے لگے اب کی بار مہر نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی، قبول کیا اور سائن کرنے لگی۔
“کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے وہ بھی اس ذلت کے بدلے خود کو ایک ایسے شخص کے نام کر رہی تھی جو ہرگز اعتبار کے قابل نہیں۔
مولوی صاحب نے ہاتھ اٹھاےُ اور اونچی آواز میں دعا مانگنے لگے۔
مہر کے اشک اس کی ہتھیلیوں کو بھگو رہے تھے۔
دل تھا کہ بے قابو ہوتا جا رہا تھا۔
اس لمحے مہر کو کیا کیا نہ یاد آیا۔
وہ کرب میں تھی۔
تکلیف حد سے سوا تھی۔
“مہر تم کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے قریب ہوتا سرگوشی کرنے لگا۔
مہر بنا کچھ بولے کھڑی ہوئی اور کمرے میں چلی گئ۔
مہر کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا ناک اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
میک سے عاری چہرہ دلنشیں لگ رہا تھا۔
مہر زمین پر بیٹھ گئی۔
شاید وہ اپنی اوقات فراموش نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مہر بلک بلک کر رو رہی تھی۔
شاہ اندر آیا تو ناگواری سے مہر کو دیکھنے لگا۔
“کون مر گیا ہے جو ایسے رو رہی ہو؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے مقابل آتا ہوا بولا۔
شاہ کی موجودگی کا احساس ہوا تو مہر نے اپنا چہرہ صاف کیا اور کھڑی ہو گئی۔
شاہ بغور اس کے نقش دیکھ رہا تھا وہ معمول سے زیادہ حسین لگ رہی تھی یا شاید شاہ کو ایسا لگ رہا تھا۔
مہر اس کے سامنے آ گئی۔
“فائنلی مجھے اپنی قیمت وصول کرنے کا موقع ملا۔
شاہ اس کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
مہر الٹے قدم اٹھانے لگی۔
“اگر تم میرے قریب آےُ تو انجام بہت برا ہو گا۔۔۔۔۔”
مہر قہر برساتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ استہزائیہ ہنسا۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں چھو نہیں سکوں گا وہ بھی اس صورت میں کہ میں تمہیں اپنے نکاح میں لے چکا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ محظوظ ہوتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم نے مجھے ہاتھ لگایا تو نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔۔۔۔۔”
مہر کی آنکھوں کی چمک نے شاہ کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا۔
شاہ نے اس کی بائیں بازو پکڑی اور اپنی جانب کھینچا۔
مہر کسی مقناطیسی کشش کی مانند اس کی جانب کھینچی آئی۔
مہر کی آنکھوں میں شعلے اٹھ رہے تھے۔
جونہی شاہ نے مہر کے بال ہٹانے چاہے مہر نے اس کی بازو میں شیشہ گھونپ دیا۔
شاہ کراہ کر اسے دیکھنے لگی۔
“جاہل عورت۔۔۔۔”
شاہ پیچ و تاب کھا کر اسے دیکھنے لگا۔
“میں آگ ہوں قریب آؤ گے تو بھسم ہو جاؤ گے۔۔۔۔۔”
مہر اس پر نظریں گاڑھتی ہوئی غرائی۔
شاہ نے بائیں ہاتھ سے شیشہ باہر نکالا۔
یقیناً شیشے کا یہ ٹکڑا گلاس ٹوٹنے کے باعث مہر کے پاس آیا تھا۔
“تمہیں میں بخشوں گا نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ غیظ و غضب سے مہر کو گھورتا ہوا بولا۔
خون فوارے کی مانند تیزی سے نکل رہا تھا۔
لیکن مہر کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
شاہ نے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
مہر سانس خارج کرتی مطمئن سی کپڑے نکالنے لگی۔
“اگلی بار سوچ کر ہی میرے پاس آؤ گے تم۔۔۔۔۔”
مہر ہنکار بھرتی ہوئی بولی۔
****////////****
“بھائی کا فون کیوں نہیں مل رہا؟۔۔۔۔۔”
حرم پریشانی سے اسکرین کو دیکھتی ہوئی بولی۔
کچھ سوچ کر وہ واپس کمرے میں آ گئی۔
“میرے لئے شرٹ لے کر آنا۔۔۔۔۔”
حرم تعجب سے اس میسج کو پڑھنے لگی۔
نمبر انجان تھا اس لئے وہ جواب دینے میں ہچکچا رہی تھی پھر دماغ نے کام کیا تو ازلان کا نام لبوں سے پھسلا۔
“ہاں شرٹ تو اسی کو دینی ہے میں نے۔۔۔۔۔”
حرم بڑبڑاتی ہوئی اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
انشرح ہمیشہ کی مانند گیم کھیلنے میں محو تھی آمنہ اور ذوناش مووی دیکھنے میں مگن تھیں۔
“لیکن ازلان کے پاس میرا نمبر کیسے آیا؟۔۔۔۔۔”
سوچتے ہوۓ حرم کی پیشانی پر تین لکریں ابھریں۔
“کیسے چلا گیا اس کے پاس میرا نمبر؟۔۔۔۔۔”
حرم فکرمند دکھائی دینے لگی۔
“میسج کی ٹون نے حرم کو اس کی سوچوں کے محور سے باہر نکالا۔
حرم ان لاک کرتی میسج پڑھنے لگی۔
“پرسوں پارٹی ہے اور کل تم مجھے شرٹ لا کر دو گی جو میں پارٹی میں پہنوں گا۔۔۔۔۔”
حرم پریشان سی اسکرین کو دیکھنے لگی۔
“یار آمنہ ازلان شرٹ کا مطالبہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم مووی بند کرتی ہوئی بولی۔
“کیوں۔۔۔۔۔”
آمنہ کی بجاےُ ذوناش بولی۔
“یار دوبارہ سے اس کی شرٹ خراب کر دی تھی اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے شرٹ لا کر دو۔۔۔۔۔”
حرم بول کر انہیں دیکھنے لگی۔
“حیرت کی بات ہے وہ بندہ ایسا ہے تو نہیں۔۔۔۔۔”
ذوناش ششدہ سی بولی۔
“میرا تو دل کر رہا ہیں ازلان کو بول دوں کہ یونی کے گیٹ میں بیٹھ کر بھیک مانگنا شروع کر دے۔۔۔۔۔۔۔”
انشرح منہ بسورتی ہوئی بولی۔
“ایسا کرتے ہیں کل یونی سے واپسی پر پہلے مارکیٹ چلے جائیں گے پھر ہاسٹل آ جائیں گے ٹھیک ہے؟۔۔۔۔۔”
آمنہ حل پیش کرتی ہوئی بولی۔
حرم اثبات میں سر ہلانے لگی۔
****///////****
شاہ عدیل کے ہمراہ قریبی کلینک چلا گیا۔
“یار یہ لڑکی پاگل ہے کیا۔۔۔۔”
عدیل ڈرائیو کرتا ہوا بولا۔
“پہلے تو شبہ تھا لیکن آج یقین ہو گیا مجھے بھی۔۔۔۔۔”
شاہ کا چہرہ ضبط کے مارے سرخ ہو چکا تھا۔
“کہاں چلوں؟۔۔۔۔۔”
“ابھی گھر لے جا چھوٹے کی وجہ سے بابا سائیں پریشان رہتے ہیں میں بھی غائب ہو گیا تو تشویش کریں گے اس کو تو میں صبح دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔”
شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
“اچھے سے دماغ درست کرنا اس کا۔۔۔۔۔”
عدیل اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
شاہ ہنکار بھرتا باہر دیکھنے لگا۔
****//////****
منہ اندھیرے شاہ تیار ہو کر نکل گیا۔
رات نجانے کیسے اس نے کاٹی تھی۔
اس کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی تھی۔
شاہ دروازہ کھول کر اندر آیا تو مہرماہ بےخبر سو رہی تھی۔
“میری نیند حرام کر کے خود سکون سے سو رہی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ اس پر سے لحاف کھینچتا ہوا بولا۔
مہر اس افتاد پر بوکھلا گئی۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔۔”
وہ حلق کے بل چلائی۔
“کیا سمجھتی ہو تم خود کو ہاں۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا۔
مہر اس کا ہاتھ ہٹانے کی سعی کرنے لگی۔
“دل تو چاہ رہا ہے تمہیں جلتے انگاروں پر چلاؤں۔۔۔۔”
شاہ خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
مہرماہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
شاہ نے ہاتھ ہٹایا اور اس کی بازو پکڑ کر بیڈ سے نیچے اتارا۔
“کہاں لے جا رہے ہو مجھے؟ چھوڑو مجھے جنگلی انسان۔۔۔۔۔۔۔”
مہر کے الفاظ پر شاہ آگ بگولہ ہو گیا۔
مہر کو جھٹکے سے سامنے کیا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے رخسار کی زینت بنا دیا۔
مہر دائیں ہاتھ رخسار پر رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے شاہ کو دیکھنے لگی۔
“اگر دوبارہ کبھی تم نے میری شان میں گستاخی کی تو انجام اس سے بھیانک ہو گا دفعہ ہو جاؤ کمرے میں۔۔۔۔۔”
شاہ اسے دھکا دیتا ہوا چلایا۔
مہر دور زمین پر جا گری۔
وہ زمین بوس ہو چکی تھی لیکن شاہ کو کوئی فرق نہیں پڑا۔
شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
مہرماہ کبھی تاسف سے تو کبھی طیش میں دروازے کو گھورنے لگی۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا شاہ مصطفیٰ کمال۔۔۔۔۔”مہر غرائی۔
فرش پر دونوں ہاتھ رکھتی کھڑی ہوئی اور میز پر پڑے گلدان کو ہاتھ مارا تو وہ زمین بوس ہو گیا۔
چھن کر ٹوٹنے کی آواز گونجی۔
مہرماہ کلس کر اندر کی جانب چل دی۔
****///////****
“یہ ابھی تک صحیح کیوں نہیں ہوئی؟۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم تلملا کر بولیں۔
“بیگم صاحبہ نہ کچھ کھاتی ہے نہ پیتی ہے پھر صحت یاب کیسے ہو گی۔۔۔۔۔”
بانی فکرمندی سے بولی۔
“ہوں,, ایک تو ان کے نخرے ختم نہیں ہوتے اُدھر سے مطالبے آ رہے ہیں کہاں سے لے آؤں میں نئی لڑکیاں۔۔۔۔۔”
وہ کوفت سے بولیں۔
“بیگم صاحبہ میں سوچ رہی تھی دوبارہ سے ڈاکٹر صاحبہ کو چیک کروا لیتے۔۔۔۔۔۔”
بانی متفکر سی بولی۔
“امی، امی، میں آ رہی ہوں، امی۔۔۔۔۔۔”
حرائمہ غنودگی میں بول رہی تھی۔
“ہاں بلا لو ڈاکٹر کو مجھے تو فکر ہو رہی ہے لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔۔۔۔۔”
وہ حرائمہ پر نگاہ ڈالتی ہوئیں بولیں۔
****//////****
“امی جان شاہ ویز کہاں ہے؟۔۔۔۔۔”
ماریہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“شہریار کے ساتھ آفس کے لیے نکلا ہے۔۔۔۔۔”
وہ چاےُ کا کپ لبوں سے ہٹاتی ہوئیں بولیں۔
“جی اچھا۔۔۔۔۔۔”
ماریہ کہہ کر فون کو دیکھنے لگی۔
“کوئی کام تھا؟۔۔۔۔۔”
وہ آبرو اچکا کر بولیں۔
“جی وہ گھر سے زارا کو پک کرنا تھا۔۔۔۔۔”
“ابھی کل تو تم چلی آ رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم تیوری چڑھا کر بولیں۔
“آپ کو بتایا تھا نہ کہ مہوش کی شادی ہے بس اسی کی تیاری کرنی ہے۔۔۔۔۔”
ماریہ سنبھل کر بولی۔
“اپنے شوہر کے ساتھ جایا کرو جہاں جانا ہو یہی مناسب ہے۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
“جی ٹھیک ہے امی جان۔۔۔۔۔”
ماریہ سعادت مندی سے بولی۔
“جیرو کہاں مر گئی ہے پچھلے دس منٹ سے آواز لگا رہی ہوں۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم چلا کر بولیں۔
“بیگم صاحبہ جیرو چھت پر کپڑے سکھانے گئی ہے۔۔۔۔۔”
ملازمہ ان کے عتاب سے بچنے کے عوض جلدی سے باہر نکل کر بولی۔
“جو کام شروع کر لیں واپس ہی نہیں آتیں بہت سست ہو گئی ہو سب کی سب۔۔۔۔۔”
وہ پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولیں۔
“کپڑے سکھا کر آےُ تو میرے کمرے میں بھیجنا اور اگر دیر ہوئی تو تم سب کی خیر نہیں۔۔۔۔۔”وہ بولتی ہوئیں چلنے لگیں۔
ان کے بال سفید ہو گئے تھے لیکن آواز آج بھی گرج دار تھی۔
حویلی کے ملازم ایک آواز پر سیدھے ہو جاتے کیونکہ سب ان کے جلال سے واقف تھے۔
****//////****
“شاہ ویز تم آؤ گے یا نہیں؟۔۔۔۔۔”
عینی فون کان سے لگاےُ کھڑا تھی۔
“یار عینی پلیز سمجھو میں بھائی کے خلاف نہیں جا سکتا وہ پہلے ہی مجھ سے خفا ہیں اب اگر رات تمہارے پاس رک گیا تو جو براےُ نام مجھ سے بات کرتے ہیں وہ بھی ترک کر دیں گے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کرسی گھماتا ہوا بولا۔
“تمہارا بھائی ہے یا جن جو تم اتنا ڈرتے ہو میرے سامنے لاؤ ایک منٹ میں طبیعت درست کر دوں گی۔۔۔۔۔”
“عینی زبان سنبھال کر وہ میرے بڑے بھائی ہیں بے شک وہ مجھے روکتے ہیں لیکن میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں اور تم بھی ان کی عزت کرو گی تو یہی بہتر ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کا انداز جتانے والا تھا۔
“ایسا کیا کہ دیا ہے میں نے تمہارے بھائی کو جو مجھ پر برس رہے ہو وہ جو خواہ مخواہ میں رعب ڈالتا ہے نجانے کیا سمجھتا ہے خود کو۔۔۔۔۔۔”
عینی کوفت سے بولی۔
“جب تمہاری عقل ٹھکانے آ جاےُ تب کال کرنا اور میری بلا سے تم جہاں مرضی رہو ہاسٹل میں یا ہوٹل میں۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے کہ کر فون بند کر دیا۔
“مصطفیٰ بھائی کو کچھ بھی کہا تو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز موبائل ٹیبل پر پھینکتا ہوا بولا۔
****///////****
“سر آج ہماری ٹیم سروے کے لئے گئی تھی رپورٹ آپ دیکھ لیں پھر اس کے بعد ہم نیوز چلائیں گے۔۔۔۔۔”
وہ شاہ کی جانب فائل بڑھاتی ہوئی بولی۔
شاہ نے فائل پکڑ لی اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔
دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا وہ فائل کو کھول کر دیکھنے لگا جس میں بچوں کے اغوا کاری کی تفصیل تھی۔
“نظروں کے سامنے صبح والا منظر گھوم گیا۔
چہرے کے تاثرات مزید سخت ہو گئے۔
گردن کی رگیں تن گئیں۔
میز سے گلاس اٹھایا اور دائیں جانب دیوار پر دے مارا۔
فائل زمین پر پھینک دی۔
وہ مٹھیاں بھینچ کر خود کو پرسکون کرنے کی سعی کرنے لگا جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہا تھا۔
“مہرماہ۔۔۔۔۔” شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتا کھڑکی کے سامنے آ گیا اور اس پار دیکھنے لگا۔
ٹریفک اور لوگوں کی گہما گہمی سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف تھے۔
****///////****
حرم متلاشی نگاہوں سے آس پاس دیکھتی ہوئی چلتی جا رہی تھی۔
ہاتھ میں شاپر پکڑ رکھا تھا جس میں ازلان کے لئے شرٹ تھی۔
حرم راہداری میں چل رہی تھی پارٹی کے باعث اس سمت میں کوئی بھی نہیں تھا۔
اچانک ازلان بائیں جانب سے نمودار ہوا۔
حرم گھبرا کر پیچھے ہو گئی۔
دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو گئی۔
وہ سینے پر ہاتھ رکھے ازلان کو دیکھنے لگی۔
“یہ کون سا طریقہ ہے آنے کا۔۔۔۔۔۔”
حرم خفگی سے بولی۔
“تم مجھے کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان خطرناک تیور لئے اس کی جانب بڑھا۔
“یہ شرٹ۔۔۔۔۔”
حرم نے جھٹ شاپر آگے کر دیا۔
ازلان اس کے خوف پر مسکرا دیا۔
آبرو اچکا کر اس کے ہاتھ سے شاپر لیا۔
“لنڈے سے تو نہیں لی؟۔۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ باہر نکال کر دیکھنے لگا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“میں آپ کو لنڈے سے خریدنے والی لگتی ہوں؟۔۔۔۔۔۔”
“کسی کے منہ پر تو نہیں لکھا ہوتا نہ۔۔۔۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا بولا۔
“بلکل جیسے تمہارے منہ پر نہیں لکھا کہ تم دماغی مریض ہو۔۔۔۔۔۔”
حرم تپ کر بولی۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“نہیں تو کچھ بھی نہیں میں جا رہی تھی بس۔۔۔۔۔۔”
کہنے ساتھ ہی حرم واپس چل دی وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی کہیں ازلان نہ آ جاےُ۔
ازلان نے فون نکالا اور ذوناش کا نمبر ملانے لگا۔
حرم سمت کا تعین کئے بنا چل رہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر کھینچ لیا۔
حرم اس افتاد پر بوکھلا گئی۔
مقابل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز دبا دی۔
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس لڑکے کو دیکھنے لگی جو ان کا سینئر تھا۔
حرم اس کا ہاتھ ہٹانے لگی۔
“شش۔۔۔۔۔۔”
وہ اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتا ہوا بولا۔
حرم کو روح نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔
اس لڑکے نے حرم کے منہ پر ٹیپ لگا دی اور حرم کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔
حرم مزاحمت کر رہی تھی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے حرم کے ہاتھ باندھ دئیے۔
حرم آنسو بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی لیکن مقابل پر شیطانیت سوار تھی۔
“آج ہاتھ آئی ہو کیسے جانے دوں۔۔۔۔۔۔”
وہ کمینگی سے دیکھتا ہوا بولا۔
حرم اپنے ہاتھ کھولنے کی سعی کر رہی تھی جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو رہی تھی۔
اس لڑکے نے حرم کو اپنے قریب کیا اور اس کی آستین پھاڑ دیں۔
حرم کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“پلیز اللہ پاک مجھے بچا لیں۔۔۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں دعا گو تھی۔
حرم کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ انسان نہیں وحشی درندہ تھا جو حرم کو آدھ موا کر کے ہی چھوڑنے کا قصد کئے ہوۓ تھا۔
حرم اس سے دور ہونے کی سعی کر رہی تھی لیکن اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
حرم کو پاؤں کی آہٹ سنائی دی۔
حرم نے اس کے پاؤں پر اپنی ہیل رکھ دی۔
“آہ۔۔۔۔۔۔”
وہ کراہ کر دو قدم پیچھے ہٹا۔
حرم کے ہاتھ پیچھے لے جا کر باندھ رکھے تھے۔
اس نے کرسی کو پاؤں مارا اور وہ زمین بوس ہو گئی۔
کمرے میں نیم تاریکی تھی۔
چاند کی روشنی کھڑکی سے چھن کر اندر آ رہی تھی جو اندھیرے کو چیرنے کی سعی کر رہی تھی۔
قدموں کی آہٹ بند ہو گئی۔
“یقیناً جو بھی ہو گا وہ ٹھٹھکا ہو گا۔۔۔۔۔۔”
حرم کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
اس نے مزید دو کرسیاں گرائیں۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟۔۔۔۔۔”
وہ بولتا ہوا حرم کے مقابل آیا۔
پاؤں کی چاپ پھر سے سنائی دینے لگی حرم پر امید تھی کہ اللہ نے اسے بچانے کے لئے کسی مسیحہ کو بھیجا ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: