Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 5

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 5

–**–**–

مہر صبح سے سو سو کر تھک چکی تھی۔
بھوک کا احساس ہوا تو کمرے سے باہر نکل آئی۔
“پتہ نہیں کچن میں کچھ ہے بھی یا نہیں نجانے اب شاہ واپس آےُ گا یا نہیں۔۔۔۔۔۔”
مہر فکرمندی سے بولتی ہوئی چلنے لگی۔
راہداری میں چلتے ہوۓ بائیں جانب اسے کچن دکھائی دیا۔
مہر اندر آئی اور بورڈ پر ہاتھ مار کر روشنی جلا دی۔
کچن روشنی میں نہا گیا۔
وسیع و عریض کچن جس کی تین دیواروں کے ساتھ سلیب تھی۔
مہر آگے آئی کیبن کھول کر دیکھنے لگی۔
“چاول، دال، انہیں پکانے میں تو بہت وقت لگے گا۔۔۔۔۔۔۔”
مہر پیٹ پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
پھر چلتی ہوئی فریج کے پاس آ گئی۔
بریڈ اور انڈوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
مہر نے بریڈ اور انڈے نکالے اور چولہے کے پاس آ گئی۔
فرائی پین نکالا اور انڈے بنانے لگی۔
کھڑکی سے باہر اندھیری رات جھانک رہی تھی۔
“اس ٹائم بھی کوئی یہ کھاتا ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بریڈ کے سلائس نکالنے لگی۔
****///////****
“بھائی آپ کو معلوم ہے ہمیں ہمدانی کا کانٹریکٹ مل گیا۔۔۔۔۔۔”
شہریار مسرور سا بولا۔
“بہت خوب۔۔۔۔۔۔”
شاہ دھیرے سے مسکرایا۔
“یہ جان کر آپ کو مزید خوشی ہو گی کہ چھوٹے نے یہ کانٹریکٹ لیا ہے۔۔۔۔۔۔”
شہریار شاہ ویز کو جانب اشارہ کرتا ہوا بولا جو لاتعلق سا بیٹھا تھا۔
“شکر کے آج تم بھی گھر پر نظر آےُ۔۔۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
شاہ ویز چونک کر شاہ کو دیکھنے لگا۔
“مجھے کچھ کہا؟۔۔۔۔۔۔”
“جی ہاں بہت خوشی ہوئی کہ تم بزنس میں دل لگا کر کام کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
شاہ ویز مسکرانے لگا۔
“یہ بتاؤ آج پھر تم برہان سے ملنے گئے تھے؟۔۔۔۔۔”
شاہ ایک لمحے میں پھر سے پہلے والا شاہ بن گیا۔
“بھائی قسم لے لیں اگر میں نے برہان کی شکل بھی دیکھی ہو آج۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اس کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“تمہارا دشمن نہیں ہوں جو کہتا ہوں تمہارے بھلے کے لئے کہتا ہوں سمجھے۔۔۔۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“جی بھائی۔۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سعادت مندی سے بولا۔
“شاہ میں سوچ رہی ہوں اب چھوٹے کو بھی بیاہ دیں۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم شاہ کے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوتی ہوئیں بولیں۔
“دیکھ لیں مجھے کیا اعتراض ہونا ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ فون نکالتا ہوا بولا۔
“چھوٹے کی بھی ہو جاےُ گی اور تمہاری کب ہو ۔۔۔۔۔۔”
کیا کیا کہا آپ نے؟۔۔۔۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی شاہ تیوری چڑھا کر بولا۔
وہ ہڑبڑا کر شاہ کو دیکھنے لگیں۔
“مجھے لگتا ہے آپ شاید بھول گئیں ہیں۔۔۔۔۔”
شاہ پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
سب خاموش تھے کیونکہ شاہ کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت کسی کو بھی نہیں تھی۔
“نہیں وہ بس میرے منہ سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔”وہ سنبھل کر بولیں۔
“آگے سے خیال رکھیے گا کہ غلطی سے بھی یہ غلطی نہ ہو۔۔۔۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر کہتا چل دیا۔
“بس ایسی نیش۔۔۔۔۔۔”
“آپ پھر سے شروع ہو رہیں ہیں بھائی کا غصہ جانتی ہیں نہ۔۔۔۔۔”
شہریار خفگی سے بولا۔
“لو بھئ بند کر لیا منہ۔۔۔۔۔”
وہ برا مان گئیں۔
“اور میری مانیں تو ابھی چھوٹے کی بھی رہنے دیں ابھی اس نے بزنس شروع کیا تھوڑا سیٹ ہو جاےُ پھر سوچئے گا۔۔۔۔۔۔۔”
“لو بھلا اس گھر میں کھانے پینے کی کمی ہے کیا؟۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
“آپ بات کیوں نہیں سمجھتیں یہی مسئلہ ہے وہ ابھی چھوٹا ہے کچھ وقت گزر جاےُ گا تو سمجھدار ہو جاےُ گا ابھی بیاہ دیں کل کلاں کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی پھر ہمیں مت کہیے گا۔۔۔۔۔۔۔”
شہریار خفگی سے بولا۔
“نہیں کرتی ابھی خوش ہو جاؤ۔۔۔۔۔”
وہ خفا خفا سی بولیں۔
شاہ ویز بیٹھا لطف لے رہا تھا۔
شہریار نفی میں سر ہلاتا کھڑا ہو گیا۔
“ماریہ، ماریہ میرا سوٹ تیار کروا دیا ہے؟۔۔۔۔۔”
شہریار بولتا ہوا چلنے لگا۔
“چھوٹے تو بتا۔۔۔۔۔۔”
کمان اب شاہ ویز کی جانب کر دی۔
“اماں جی ابھی سکون کریں مجھے میری زندگی جینے دیں کیا بیوی کے چکر میں پھنسا رہیں۔۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
وہ منہ بناتی ہوئیں اٹھیں اور اپنے کمرے کی جانب چلنے لگیں۔
****///////****
ٹپ ٹپ برسا پانی
پانی نے آگ لگائی
آگ لگی دل میں تو
دل کو تیری یاد آئی
تیری یاد آئی تو
جل اٹھا میرا بھیگا بدن
اب تو ہی بتاؤ سجن
میں کیا کروں
حرائمہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے اس مجرے کو دیکھ رہی تھی۔
مدہوشی میں ڈولتے شرابی اور ان کے وسط میں رقص کرتی دوشیزائیں جو اپنی اداؤں سے وہاں موجود لوگوں کو لبھا رہیں تھیں۔
نوٹوں کی برسات ہو رہی تھی۔
مدھم مدھم روشنی میں حرائمہ یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
رانی وسط میں تھی اور ایک آدمی اس کے سامنے تھا۔
وہ آدمی جگہ جگہ رانی کو چھو رہا تھا اور وہ لطف لیتی اپنے رقص میں مشغول تھی۔
حرائمہ کا دل کانپ اٹھا۔
وہ مرے مرے قدم اٹھاتی واپس کمرے میں آ گئی۔
“کیا مجھے بھی یہ سب کرنا پڑے گا؟۔۔۔۔۔”
وہ منہ ہاتھ رکھے خود کو رونے سے باز رکھتی ہوئی بولی۔
“امی پتہ نہیں ٹھیک ہوں گیں بھی یا نہیں۔۔۔۔۔”حرائمہ کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔
“پلیز اللہ پاک مجھے یہاں سے نکال دیں، میری زندگی تو تباہ کر ہی چکے ہیں یہ لوگ اب مجھے میری امی کے پاس جانے دیں۔۔۔۔۔”
حرائمہ سسکتی ہوئی بول رہی تھی۔
“بس مجھے میری امی کے پاس لے جائیں میں یہ سب نہیں کر سکتی پلیز مجھے یہاں سے باہر نکال دیں۔۔۔۔۔”
وہ خود کو لحاف میں پوشیدہ کئے بلک رہی تھی۔
حرائمہ کو قدموں کی آہٹ سنائی دی تو منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیاں دبانے لگی۔
****///////****
“یہاں کون ہو سکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان سوچتا ہوا کلاس کے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔
جونہی وہ اندر آیا سامنے کا منظر دیکھ کر دماغ گھوم گیا۔
ازلان نے اسے عقب سے پکڑا اور زمین پر پھینک دیا۔
حرم پیچھے ہوتی خود میں سمٹ گئی۔
ازلان نے دو چار مکے اس کے چہرے پر مارے پھر کھڑا ہو گیا۔
“تو رک ابھی پروفیسر کو بلاتا ہوں۔۔۔۔۔۔”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا فون نکالنے لگا۔
خطرہ بھانپ کر وہ بھاگ نکلا ازلان اس کے پیچھے لپکا لیکن پھر حرم کے خیال سے واپس آ گیا۔
ازلان کو اس پر ترس آ رہا تھا۔
حرم سر جھکاےُ آنسو بہا رہی تھی۔
ازلان شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
جیسے ہی حرم کی نظر شرٹ اتارتے ازلان پر پڑی اس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔
آنکھیں زور سے میچ رکھی تھیں۔
“فکر مت کرو درندہ نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی گھبراہٹ کا مفہوم سمجھتا ہوا بولا۔
پھر آگے آیا اور حرم کی جانب اپنی شرٹ بڑھا دی۔
“اسے پہن لو۔۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کے پھٹے ہوۓ آستین دیکھ چکا تھا۔
حرم والی شرٹ نجانے کہاں گر گئی تھی جس کے باعث اس نے اپنی شرٹ اسے دے دی۔
حرم نے کانپتے ہاتھوں سے شرٹ تھام لی۔
ازلان چہرہ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔
حرم نے اشک بہاتے ازلان کی شرٹ پہن لی،
ازلان کی خوشبو اس کے نتھنوں سے اندر اترنے لگی۔
ازلان کے بدن پر سیاہ رنگ کی بنا آستین والی بنیان تھی۔
“آجاؤ۔۔۔۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
ازلان فکرمند سا چل رہا تھا نا وہ اسے ہاسٹل لے کر جا سکتا تھا نہ ہی پارٹی میں۔
ازلان ذوناش کا نمبر ملانے لگا لیکن بزی جا رہا تھا۔
“شٹ۔۔۔۔۔۔”
وہ تاسف سے بولا۔
گرد و پیش میں سٹوڈنٹس دکھائی دینے لگے تو سب کی متحیر نگاہیں ان پر اٹھیں۔
حرم کو اپنا آپ گنہگار معلوم ہو رہا تھا۔
حرم ازلان کی شرٹ زیب تن کئے ہوئے تھی جو کئی سوالوں کو جنم دے رہی تھی پھر ازلان کا یوں بنا شرٹ کے اس کے ہمراہ چلنا۔
آہستہ آہستہ چہ میگوئیاں شروع ہونے لگیں۔
“حرم تم یہیں رکو میں اندر سے آمنہ یا ذوناش کو بلاتا ہوں۔۔۔۔۔” ازلان اس کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“می میں اکیلی یہاں کیسے؟۔۔۔۔۔”
حرم نظریں اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم کی آنکھوں میں خوف تیرتا دکھائ دے رہا تھا۔
“حرم میں جلد از جلد تمہیں تمہارے گروپ کے سپرد کر دینا چاہتا ہوں دیکھو سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
ازلان دائیں بائیں دیکھتا ہوا بولا۔
“اگر وہ پھر سے آ گیا۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے حرم کی آنکھوں سے دو اشک ٹوٹ کر گرے۔
ازلان کو وہ اس وقت کسی معصوم پنچھی کی مانند لگ رہی تھی جو طوفان میں اپنا گھر لٹنے پر بےحال تھی۔
“یہاں بہت سے لوگ ہیں وہ واپس نہیں آےُ گا اب ٹرسٹ می۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا مان سے بولا۔
حرم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ازلان اس پر ایک نظر ڈالتا اندر چل دیا۔
حرم سب کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی۔
“مجھے تو پہلے ہی شک تھا ان دونوں پر دیکھو ذرا کیا گل کھلا کر آ رہے ہیں دیکھنے میں تو کتنی معصوم لگتی ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم کی سماعت سے آوازیں ٹکرائیں۔
“لوگوں کو تو خوف ہی نہیں رہا یونی ہی رہ گئی تھی کیا اس کام کے لیے۔۔۔۔۔”
حرم زمین میں گڑھتی جا رہی تھی۔
ازلان ان تینوں کے ہمراہ نمودار ہوا۔
حرم کی جان میں جان آئی۔
وہ تینوں کبھی حرم کو دیکھتی تو کبھی ازلان کو۔
“حرم تم نے ازلان کی شرٹ کیوں پہن رکھی ہے اور کہاں سے آ رہے ہو تم دونوں؟۔۔۔۔۔۔”
ذوناش پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“ذوناش یہ وقت ابھی پوچھ گچھ کا نہیں ہے ابھی تم لوگ حرم کو ہاسٹل لے جاؤ۔۔۔۔۔”
ازلان کو خود سے زیادہ حرم کی عصمت کی فکر تھی۔
“کیسے لے جائیں ہم اسے اپنے ساتھ،، ہاسٹل میں جانے ہی نہیں دیں گے ہمیں اس کا حال دیکھا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش پھٹ پڑی۔
انشرح اور آمنہ صدمے سے حرم کو دیکھ رہیں تھیں جو مجرموں کی مانند سر جھکاےُ کھڑی تھی۔
اندھیرے میں حرم کے آنسو دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
“ذوناش تم پاگل تو نہیں ہو گئی۔۔۔۔۔۔”
ازلان غیظ سے گویا ہوا۔
“میں تو نہیں جاؤ گی اسے لے کر مجھے اس یونی اور ہاسٹل میں رہنا ہے اس کے باعث ہم پر بھی حرف آےُ گا۔۔۔۔۔”
ذوناش ہاتھ کھڑے کرتی ہوئی بولی۔
تماشہ دیکھنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔
حرم کو لگ رہا تھا وہ مر چکی ہے اتنی تضحیک اتنے بھتان اس نے کبھی زندگی میں نہیں سوچا تھا ایسا وقت بھی کبھی آےُ گا۔
“نہیں ذوناش حرم ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
آمنہ نفی میں سر ہلاتی حرم کی جانب قدم بڑھانے لگی۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے نظر نہیں آ رہا ازلان کی شرٹ پہن رکھی ہے اس نے اور کب سے دونوں غائب ہیں اگر تم دونوں نے اسے ساتھ لے جانے کا سوچا تو واپس میرے پاس کبھی مت آنا, ہاسٹل میں سب کو تمہی جواب دینا اور دیکھنا اس کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ ہمارے گھر والوں کو بھی بلائیں گے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش طیش میں بولتی جا رہی تھی۔
آمنہ کے بڑھتے قدم تھم گئے۔
حرم کرب سے آمنہ کو دیکھنے لگی۔
کوئی اس پر بھروسہ نہیں کر رہا تھا کیسے وہ اپنے کردار کی گواہی دیتی۔
ذوناش تن فن کرتی اندر چلی گئی۔
آمنہ اور انشرح بےبسی سے حرم کو دیکھتی اندر کی جانب قدم بڑھانے لگیں۔
حرم نے یقینی سے انہیں جاتا دیکھنے لگی۔
ازلان اپنی جگہ ششدہ تھا۔
حرم کا جسم کپکپا رہا تھا۔
ان کے گرد ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔
“کیا تماشہ لگا ہوا ہے یہاں۔۔۔۔۔”
ازلان چہرہ موڑ کر چلایا۔
سب ہچکچاتے ہوۓ اپنے اپنے کام کو چل دئیے۔
حرم نفی میں سر ہلاتی اشک بہا رہی تھی۔
“حرم۔۔۔۔۔”
ازلان نے ابھی اسے پکارا ہی تھا کہ وہ اندھا دھند بھاگنے لگی۔
“حرم میری بات سنو۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کے پیچھے لپکا۔
حرم چہرہ رگڑتی بھاگتی جا رہی تھی۔
“ہیلو زین کہاں ہے؟۔۔۔۔۔”
ازلان فون کان سے لگاےُ حرم کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
“یار جلدی سے گاڑی کا انتظام کروا وقت نہیں ہے ابھی کہ ابھی۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کی پشت دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
“ٹھیک ہے جلدی کر میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔”
“حرم میری بات سنو کہاں جا رہی ہو تم اس وقت؟۔۔۔۔۔”
ازلان اس کا ہمقدم ہوتا ہوا بولا۔
حرم نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا وہ آنسو بہاتی تیز تیز چلنے لگی۔
“تم کیوں میرا تعاقب کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔”
حرم غرائی۔
ازلان نے پہلی بار اس کی اتنی اونچی آواز سنی تھی۔
“اس وقت کہاں جاؤ گی تم؟۔۔۔۔۔”
ازلان رک کر اسے دیکھنے لگا۔
دونوں کا تنفس تیز ہو چکا تھا۔
حرم تیز تیز سانس لے رہی تھی۔
“کہیں بھی جاؤں تمہیں کیا مسئلہ ہے جنہیں فرق پڑنا چائیے تھا انہیں تو فرق نہیں پڑ رہا تو تمہیں کیوں فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔۔” حرم آنسو بہاتی ہوئی چلا رہی تھی۔
“میں گواہ ہوں تمہاری پاکدامنی کا۔۔۔۔۔۔”
ازلان کی نظریں ہنوز اس کے چہرے پر تھیں۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
“تمہاری گواہی سے فرق نہیں پڑتا میں اب وہاں واپس نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی پھر سے چلنے لگی۔
اندھیری رات کے تاریک راستوں پر وہ بنا سوچے سمجھے چلتی جا رہی تھی۔
یہ یونی شہر سے ذرا ہٹ کر تھی جس کے باعث یہاں ویرانی ہی ویرانی تھی۔
حرم کو مطلوبہ جگہ دکھائی دی گئی۔
یہ ہیڈ محمد تھا۔
ویران سڑک اور نیچے رفتار میں بہتا پانی۔
ازلان زین سے فون پر بات کر رہا تھا۔
حرم پل پر آئی۔
بہتے پانی کو دیکھنے لگی۔
آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں دل رنج و الم کی شدت سے پھٹنے کو تھا۔
حرم نے ہاتھ کی پشت سے چہرہ رگڑا۔
“مصطفیٰ بھائی تو مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی پل کے دہانے پر چڑھ گئی۔
ازلان اس کا ارادہ بھانپ کر اس کی جانب بھاگنے لگا۔
“شہریار بھائی شاہ ویز بھائی امی بابا سائیں معاف کر دینا مجھے۔۔۔۔۔۔”
حرم نے بولتے ہوۓ آنکھیں بند کر لیں عین اسی لمحے ازلان نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور وہ ازلان کے سینے سے جا ٹکرائی۔
حرم آنکھیں کھول کر ازلان کو طیش میں دیکھنے لگی۔
ازلان پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہا تھا۔
حرم پیچھے ہوئی اور اپنی بازو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی سعی کرنے لگی۔
“میں بلکل ٹھیک کہتا تھا تمہارے پاس دماغ ہے ہی نہ۔۔۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر خفگی تھی۔
“تم کیوں مجھے تنگ کر رہے ہو۔۔۔۔۔”
حرم اکتا کر بولی۔
ازلان اس کی بازو پکڑے بغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
“اب تم خاموش ہو کر میری بات سنو گی اور اگر ایک بھی لفظ منہ سے نکالا تو جو تھپڑ شعیب کو مارے تھے وہی تمہیں بھی ماروں گا۔۔۔۔۔۔”
ازلان خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا۔
حرم نے نا چاہتے ہوۓ لب مبسوط کر لیے۔
“یہ سب میری شرٹ کے باعث ہو رہا ہے سو مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔”
ازلان پرسوچ دکھائی دے رہا تھا۔
مہر کافی دیر سے جاگ رہی تھی لیکن بیڈ سے نہیں اتری۔
“عجیب انسان ہے مجھے یہاں چھوڑ کر خود غائب ہو گیا ہے بندہ کھانے پینے کا سامان تو رکھتا ہے۔۔۔۔۔”
مہر کوفت سے بولی۔
یہ دن ان دنوں سے مختلف تھے نہ وہ کسی کے سامنے مجرا کر رہی تھی نہ ہی خود پر گندی نظریں محسوس کر رہی تھی۔
“وہ زندگی ذلت بھری تھی اس میں کوئی شک نہیں۔۔۔۔۔۔”
بے اختیار مہر کے لبوں سے پھسلا۔
“لیکن مجھے وہیں پر رہنا چائیے تھا۔۔۔۔۔”
مہر تاسف سے بولی۔
وہ خود سے ضد لگا رہی تھی۔
کیا کمال کی سکت تھی اس میں۔
کوٹھے سے مہر کو وہ لڑکی یاد آ گئی۔
“اووہ تو بیچاری تو نکلنا چاہتی تھی وہاں سے۔۔۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
“اگر شاہ آےُ گا تو میں شاہ سے بات کروں گی اگر اسے بھی وہ نکال لے تو۔۔۔۔۔”
مہر لب دباےُ سوچنے لگی۔
“آثار تو نہیں لگ رہے اس کے آنے کے۔۔۔۔۔”
مہر لحاف پرے کرتی ہوئی بولی۔
کیچر اٹھایا اور لمبے بھورے بالوں کو مقید کرنے لگی۔
“پھر سے وہی سوکھی بریڈ کھانی پڑے گی۔۔۔۔۔”
مہر منہ بناتی باہر نکل آئی۔
کچن کو دیکھتے ہی منہ کے عجیب عجیب زاویے بنانے لگی۔
“اس سے بہتر ہے بھوکی رہ لوں۔۔۔۔۔”
مہر باورچی خانے کے دروازے سے مڑ کر کمرے کی جانب قدم بڑھاتی ہوئی بولی۔
“شہریار رات میں خاص دعوت کا اہتمام کرواؤ۔۔۔۔۔۔”
شاہ چاےُ کا کپ اٹھاتا ہوا بولا۔
“خیریت بھائی؟۔۔۔۔۔”شہریار اسے دیکھتا ہوا بولا۔
ماریہ کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔
“چھوٹے کے لئے جو کانٹریکٹ ملا ہے اس کے باعث۔۔۔۔۔”
وہ اگر غصہ کرنا جانتا تھا تو دل رکھنا بھی جانتا تھا۔
“چلیں ٹھیک ہے چھوٹا تو خوش ہو جاےُ گا۔۔۔۔۔”
شہریار مسکراتا ہوا بولا۔
شاہ بھی دھیرے سے مسکرا دیا۔
ماریہ کلس کر شہریار کو دیکھنے لگی۔
شاہ اٹھ کر گیا تو ماریہ اس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“اس گھر کا ہر کام تم ہی کیوں کرتے ہو۔۔۔۔۔”
وہ تنک کر بولی۔
شہریار آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔”
شہریار کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
“بابا سائیں کو بھی ہر کام کے لیے تم ہی نظر آتے ہو نہ مصطفیٰ بھائی کو بولتے ہیں نہ شاہ ویز کو بس شہریار یاد آتا ہے کام کے لیے اور مصطفیٰ بھائی انہیں بس رعب جمانا آتا ہے۔۔۔۔۔۔”
ماریہ دل کی بھڑاس نکالتی ہوئی بولی۔
“ماریہ تمہارا دماغ خراب ہے میرا نہیں مجھے اپنے ہاتھ سے کام نہیں کرنا ہوتا صرف دیکھنا ہوتا ہے کہ سب ٹھیک سے ہو رہا ہے یا نہیں، تمہیں نجانے کون سی رقابت ہے جو سب کے پیچھے پڑی رہتی ہو۔۔۔۔۔”
شہریار تاسف سے بولا۔
“تمہیں خود تو احساس ہوتا نہیں ہے اگر میں کروا رہی ہوں تو میں ہی بری ہوں۔۔۔۔”
ماریہ منہ بناتی ہوئی چلی گئی۔
“ان عورتوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔”
شہریار نفی میں سر ہلاتا کھڑا ہو گیا۔
****///////****
گاڑی پر سورج کی کرنیں بکھر رہیں تھیں۔
ازلان کی آنکھوں میں یہ گرم گرم شعائیں پڑیں تو وہ تھوڑی تھوڑی آنکھیں کھولے سامنے دیکھنے لگا۔
خورشید پوری آب و تاب سے اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا۔
ازلان نے گردن بائیں جانب موڑی تو نظر بے خبر سوتی حرم سے جا ٹکرائی۔
حرم کے چہرے پر معصومیت کا راج تھا وہ اس لمحے کسی معصوم بچے کی مانند لگ رہی تھی جو کھو جانے کے خوف میں مبتلا ہو۔
سیاہ زلفیں حرم کے چہرے پر منتشر تھیں۔
ازلان سر جھٹکتا شیشے سے پار دیکھنے لگا۔
پھر کچھ سوچ کر حرم کو آواز دی۔
“حرم صبح ہو گئی ہے اٹھو۔۔۔۔۔”
ازلان اسے ہاتھ لگانے سے گریز برت رہا تھا چونکہ وہ پہلے ہی خوف کے زیر اثر تھی وہ اسے بدگمان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
ازلان کی آواز پر حرم کسمسائی۔
“حرم اٹھ بھی جاؤ اب کیا گھوڑے بیچ کر سوئی ہو۔۔۔۔۔۔”
ازلان اکتا کر بولا۔
“ہممم۔۔۔۔۔” حرم آنکھیں مسلتی سیدھی ہو گئی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔”
وہ جمائی روکتی ہوئی بولی۔
جونہی نظر کا تبادلہ ازلان کی نگاہوں سے ہوا حرم ہوش میں آ گئی رات کا سارا منظر آنکھوں نے سامنے گھوم گیا۔
“اب معلوم ہو گیا تمہیں۔۔۔۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
“سوری۔۔۔۔۔”
حرم چہرہ جھکا کر بولی۔
ازلان اثبات میں سر ہلاتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
حرم نے ابھی تک ازلان کی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔
اور ازلان سیاہ بنیان پہنے ہوۓ تھا۔
“یار زین جب آےُ گا تو شرٹ بھی ساتھ لے آنا ایک۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کے چہرے پر حیا کے رنگ محسوس کر کے بولا۔
“یار تجھے بتایا تو تھا اب دیر مت کرنا میں منتظر ہوں اچھا؟۔۔۔۔۔”
ازلان نے کہہ کر فون بند کیا اور حرم کو دیکھنے لگا جو سر جھکاےُ ہاتھوں کے ناخنوں کو چھیڑ رہی تھی۔
اگلے لمحے اس نے چہرہ موڑ لیا۔
****//////****
“مہر کے پاس نہیں گیا تو۔۔۔۔”
عدیل اپنی نشست سنبھالتا ہوا بولا۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ لیپ ٹاپ پر میلز چیک کر رہا تھا۔
“تو کیا اب اسے وہیں چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔”
عدیل پر تجسس انداز میں بولا۔
“فلحال اسے منہ لگانے کا میرا ارادہ نہیں بعد کی بعد می دیکھی جاےُ گی۔۔۔۔۔”
گھنی مونچھوں تلے عنابی لب ہل رہے تھے، چہرے پر بیزاری تھی،نظریں ہنوز اسکرین پر جمی تھیں اور انگلیاں تیزی سے چل رہیں تھیں۔
“اچھا یہ بتا اس نیوز کا کیا بنا؟۔۔۔۔۔”
“کون سی۔۔۔۔۔”
شاہ کی نظریں ابھی تک اسکرین پر تھیں۔
“وہ جو فیصل آباد میں بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی کوئی ایکشن لیا۔۔۔۔۔”
“کوئی خاطر خواہ نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ تاسف سے بولا۔
“میں نے وہاں کی ٹیم کو بولا تھا کہ اس سلسلے میں تفتیش کریں ابھی تک مجھے بھی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔۔۔۔۔”
عدیل افسوس سے بولا۔
“یہ پاکستان ہے یہاں مجرم آزاد گھومتے ہیں اور بے گناہ سلاخوں کے عقب میں۔۔۔۔۔”
شاہ تلخی سے بولا۔
“بلکل ٹھیک کہا لیکن میں سوچ رہا تھا ایک بار پھر سے اس نیوز کو اڑاتے ہیں اس بچی کے گھر والوں سے بات کر کے؟۔۔۔۔۔”
“ہاں اچھا آئیڈیا ہے لیکن اوپر تک پھر بھی نہیں جاےُ گی آواز۔۔۔۔۔”
شاہ نا امید تھا۔
“کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔۔۔”
عدیل پر امید تھا۔
شاہ کے فون کی رنگ ٹون نے دونوں کو خاموش کروا دیا۔
“جی امی۔۔۔۔۔”
شاہ بائیں ہاتھ سے فون کان کو لگاتا ہوا بولا۔
“مجھے بھی کال آ رہی تھی حرم کی لیکن میں مصروف تھا اس لئے بات نہیں ہو سکی۔۔۔۔”
“اچھا میں نمبر ملا کر دیکھتا ہوں کلاس میں ہو گی آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ نے کہتے ساتھ فون بند کر دیا۔
“کیا ہوا؟۔۔۔۔۔”
عدیل آبرو اچکا کر بولا۔
“حرم کا نمبر نہیں مل رہا تو امی پریشان ہو گئیں اس ٹائم اس کی کلاس ہوتی ہے اس لئے اٹھا نہیں رہی ہو گی۔۔۔۔۔”
شاہ گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔
عدیل اثبات میں سر ہلاتا سامنے پڑی فائل کھول کر دیکھنے لگا۔
شاہ فون اٹھا کر نمبر ملانے لگا لیکن ناٹ ریچایبل جا رہا تھا۔
“ازلان کیا میں تمہارے فون سے ایک کال کر سکتی ہوں؟۔۔۔۔۔”
کسی خیال کے تحت حرم بولی۔
ازلان نے جیب سے فون نکالا ان لاک کیا اور اس کی جانب بڑھا دیا۔
حرم نے نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگا لیا۔
“السلام علیکم بھائی۔۔۔۔۔”
حرم اپنی آواز کو ہشاش بشاش رکھتی ہوئی بولی۔
“وعلیکم السلام حرم تمہارا فون کہاں ہے اور یہ کس کے نمبر سے فون کیا ہے تم نے؟۔۔۔۔۔”
شاہ تشویش سے بولا۔
“بھائی میرا نہ فون گر گیا تھا تو یہ دوست کا فون ہے۔۔۔۔۔”
حرم نے بہانہ بنایا۔
“تو تم مجھے تبھی بتاتی امی پریشان ہو رہیں تھیں میں شام میں آؤں گا ہاسٹل فون دینے۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے بھائی۔۔۔۔۔”
ازلان لا تعلق سا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
“پڑھائی صحیح جا رہی ہے۔۔۔۔”
شاہ پھر سے گویا ہوا۔
“جی بھائی پہلے مسئلہ ہو رہا تھا لیکن اب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔”
“اوکے پھر میں امی کو بتا دیتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
حرم نے فون ازلان کی جانب بڑھا دیا۔
ازلان نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور واپس جیب میں ڈال لیا۔
حرم نے پھر سے چہرہ موڑ لیا۔
ازلان کو اس طرح دیکھنا اسے معیوب لگ رہا تھا۔
ازلان نے ایک بدنما گھر کے باہر گاڑی روکی۔
“اترو۔۔۔۔۔”
ازلان سپاٹ انداز میں بولا۔
حرم چہرہ جھکاےُ گاڑی سے اتر گئ اور اس کی تقلید کرنے لگی۔
حرم کا سر ڈوپٹے سے مخفی تھا۔
ایک کمرے پر مشتمل گھر میں وہ دونوں آگے پیچھے داخل ہوۓ۔
اندر مولوی صاحب اور ازلان کا گروپ دکھائی دیا۔
ازلان نے زین سے شرٹ لی اور آستین پہننے لگا۔
حرم خاموش سر جھکاےُ کھڑی تھی۔
“کسی کو شک تو نہیں ہوا؟۔۔۔۔۔”
ازلان شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بولا۔
“نہیں ہم معمول کے مطابق نکلے ہیں سو کسی کو شبہ نہیں۔۔۔۔”
زین فون چیک کرتا ہوا بولا۔
ازلان نے حرم کو ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
حرم خالی کرسی پر ٹک گئی۔
دوسری کرسی پر ازلان بیٹھ گیا۔
مولوی صاحب پہلے سے کرسی پر براجمان تھے۔
“شروع کریں مولوی صاحب۔۔۔۔۔”
ازلان بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
سیفی منہ پر ہاتھ رکھے خود کو ہنسنے سے باز رکھ رہا تھا۔
“میں نے اسے بولا تھا بھابھی بنا لے بچہ سئیرئس لے گیا۔۔۔۔۔”
سیفی وکی کے کان میں بول رہا تھا۔
زین جو ان دونوں سے آگے کھڑا تھا سیفی کو کہنی ماری۔
“آؤچ, بیٹا میرے آنے والے بچے تجھ سے بدلہ لیں گے اس بربریت کا۔۔۔۔۔”
سیفی مظلومیت سے بولا۔
“پہلے وہ دنیا میں تو آئیں بدلہ بعد میں دیکھا جاےُ گا مجھے بھابھی کی گود بھرائی کرنی ہے ابھی تو۔۔۔۔۔”
زین چہرہ موڑ کر جلانے والی مسکراہٹ لئے بولا۔
“میں نے تیری بھرائی کر دینی ہے زمین میں۔۔۔۔۔۔۔”
سیفی جل کر بولا۔
“کوئی مسئلہ نہیں میری جان گود بھرائی تو پھر بھی میں ہی کروں گا۔۔۔۔”
زین کے ساتھ ساتھ وکی بھی ہنس رہا تھا۔
“یہ نکاح ہو جاےُ پھر تجھے طلاق دلواؤں گا سب سے پہلے۔۔۔۔”
سیفی منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
زین نے مسکراتے ہوۓ چہرہ سامنے کر لیا۔
ازلان شاہ ولد عبید شاہ کے ساتھ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟۔۔۔۔۔”
حرم ہاتھ مسل رہی تھی۔
“اگر بھائی کو علم ہو گیا تو،
لیکن اس طرح میں یونی نہیں جا سکوں گی اور امی کو حقیقت معلوم ہوئی تو شروع ہو جائیں گیں وہ تو، اور اگر بھائی نے مجھ پر یقین نہ کیا پھر۔۔۔۔۔”
حرم کے دماغ میں مسلسل ایک کے بعد ایک سوال جنم لے رہے تھے۔
“آہم آہم۔۔۔۔۔”
ازلان اسے متوجہ کرنے کی خاطر کھانسنے لگا۔
“یہ دیکھ سالا ابھی سے بیوی کے پیچھے لگ گیا۔۔۔۔”
وکی نے عقب سے ہانک لگائی۔
“میں نے مولوی صاحب سے کہنا ہے اس کے بعد نماز جنازہ بھی پڑھا کر جائیں۔۔۔۔۔”
زین خونخوار نظروں سے دونوں کو گھورتا ہوا بولا۔
وکی اور سیفی منہ پر انگلی رکھے معصوم سی شکل بناےُ زین کو دیکھنے لگے۔
“قبول ہے۔۔۔۔۔”
حرم تھوک نگلتی ہوئی بولی۔
مزید دو دفعہ اقرار ہوا،
حرم سے سائن کرواےُ گئے، گواہوں کے سائن لئے گئے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔
“اللہ کرے کسی دن میرا بھی ایسے ہی نکاح ہو جاےُ میں نیند سے جاگوں اور مولوی صاحب کہیں چل بیٹا سائن کر۔۔۔۔۔۔”
سیفی کی زبان کہاں رکنے والی تھی۔
زین مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
زین مولوی صاحب کو باہر چھوڑ آیا۔
“ہیلو بھابھی کیسی ہیں آپ؟۔۔۔۔۔”
سیفی اور وکی حرم کے سامنے آ کر یک زبان ہو کر بولے۔
حرم بوکھلا کر ازلان کو دیکھنے لگی۔
ازلان ٹانگ پے ٹانگ چڑھاےُ لاپرواہ سا فون کو دیکھ رہا تھا۔
ازلان حرم کی نظریں خود پر محسوس کر کے ان کا مفہوم سمجھ چکا تھا۔
“دیور ہیں تمہارے خود ڈیل کرو مجھے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔”
نظریں ہنوز اسکرین پر جمی تھیں۔
“اَنی دیا مذاق اے بھابھی منہ دکھائی مانگ رہی اور تو فون میں۔۔۔۔۔”
سیفی اس کے سر پر چت لگاتا ہوا بولا۔
“ازلان شاہ مل گیا اور کیا چائیے۔۔۔۔۔”
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
“نہ نہیں مجھے کچھ نہیں چائیے۔۔۔۔۔”
حرم ان سب کے بیچ میں غیر آرام دہ تھی۔
زین ان کی نوک جھوک سن کر آگے آیا۔
“ازلان حرم کو ہاسٹل چھوڑ دے اور یہ کپڑے۔۔۔۔
وہ شاپر ازلان کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔
“واہ یار میرے بنا کہے۔۔۔۔۔”
ازلان شاپر حرم کو تھماتا ہوا بولا۔
زین نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“تو حرم کو لے جا ہم دوسری گاڑی میں چلے جاتے ہیں چلو بھئ۔۔۔۔۔”
زین حرم کی بوکھلاہٹ دیکھ کر بولا۔
“تم چینج کر لو میں باہر کھڑا ہوں۔۔۔۔۔”
ازلان ان کے ساتھ باہر نکل گیا۔
“ویسے ازلان مجھے سمجھ نہیں لگی اس نکاح کی۔۔۔۔”
وکی کی پیشانی پر تین لکریں نمایاں تھیں۔
“یار وہ میرے نام پر بدنام ہو رہی تھی اس لئے میں نے اسے اپنا نام دے دیا۔۔۔۔۔”
ازلان شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اسے گھر لے جاےُ گا تو۔۔۔۔۔”
اب کی بار سیفی نے سوال داغا۔
“پاگل لگتا ہوں کیا شادی تو بعد میں کروں گا یہ تو سمجھ لے جیسے سائیڈ بزنس ہوتا ویسے ہی۔۔۔۔۔”
ازلان لاپرواہی سے بولا۔
“لیکن ازلان حرم کے ساتھ تو غلط ہو گا تو اس کی زندگی خراب کرے گا؟۔۔۔۔۔”
زین حیرت سے بولا۔
“یار جس کی زندگی پہلے ہی خراب ہو اگر مزید خراب ہو جاےُ گی تو کیا فرق پڑتا ہے تجھے کیوں پرابلم ہو رہی ہے میرا ٹائم پاس ہو جاےُ گا۔۔۔۔۔”
ازلان کا انداز جتانے والا تھا۔
“ٹھیک ہے پھر ہم چلتے ہیں لیکن گود بھرائی تو سیفی میں تیری والی کی ہی کروں گا۔۔۔۔۔۔”
زین ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا ہوا بولا۔
“یار میرا دل چاہ رہا یے اس کی گود بھرائی کر دوں۔۔۔۔۔”
سیفی برہمی سے بولا۔
وکی قہقہ لگاتا بیٹھ گیا۔
“آؤ گی یا میں جاؤں؟۔۔۔۔۔”
ازلان دروازے کے قریب آ کر اونچی آواز میں بولا۔
ٹھیک دو منٹ بعد حرم باہر نکل آئی۔
“یہ آپ کی شرٹ۔۔۔۔۔”
حرم ہچکچاتے ہوۓ بولی۔
رشتے میں تغیر کے باعث ایک جھجھک سی آ گئی تھی۔
“میں کیا کروں شرٹ کا پھینک دو یہیں۔۔۔۔”ازلان لاپرواہی سے بولا۔
حرم نے شرٹ وہیں پھینک دی۔
“پہلے مجھے یہ بتاؤ شعیب تمہارا تعاقب کیوں کر رہا تھا؟ یقیناً تم نے کچھ الٹا سیدھا کیا ہو گا۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
حرم چہرہ جھکاےُ الٹے قدم اٹھانے لگی۔
“وہ، وہ میں نے سر کو شکایت لگائی تھی۔۔۔۔۔”
ازلان کے مقابل بولنا حرم کے لئے دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔
“کس خوشی میں۔۔۔۔۔” وہ تیوری چڑھا کر بولا۔
ازلان اس کی جانب بڑھتا آ رہا تھا۔
“وہ مجھے نہ تنگ کرتا تھا بس اسی وجہ سے۔۔۔۔”
حرم پیچھے ہوتی دروازے سے جا ٹکرائی۔
حرم نے نگاہیں اٹھا کر ازلان کو دیکھا جو پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہا تھا۔
“یار تم پاگل ہو کیا یہ یونی ہے سکول نہیں جہاں تم ٹیچر کو شکایت لگاتی پھرو۔۔۔۔”
ازلان کو اس کی عقل پر شبہ ہوا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: