Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 6

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 6

–**–**–

“تو میں کیا کرتی۔۔۔۔”
حرم بمشکل بول پائی۔
ازلان کی گرم سانسیں حرم کو خود پر محسوس ہو رہیں تھیں۔
فاصلہ چند انچز کا تھا۔
“یہ عقل گھاس چرنے گئی ہے کیا۔۔۔۔”
ازلان دو انگلیاں اس کے سر پر رکھتا ہوا بولا۔
حرم گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔
“اب چلیں۔۔۔۔۔”
حرم اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔
ازلان دلچسپی سے حرم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔
آئیندہ اگر تم نے میری اجازت کے بغیر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو۔۔۔۔۔”
ازلان انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولا۔
“نہیں کچھ نہیں کرتی پکا۔۔۔۔۔”
حرم بچوں کی طرح بولی۔
ازلان لب دباےُ مسکراتا ہوا فاصلے بڑھا گیا۔
حرم سانس خارج کرتی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان قدم اٹھاتا گاڑی کی جانب چلنے لگا۔
حرم بھی اس کے پیچھے چلنے لگی۔
ساری مسافت خاموشی کی نذر ہوئی۔
ہاسٹل سے کچھ فاصلے پر ازلان نے گاڑی روک دی۔
“میں نے ذوناش کو فون کر کے بول دیا تھا چوکیدار تم سے کچھ نہیں پوچھے گا وہ سمجھ رہا ہے تم کل واپس آ گئی تھی۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔
“اور اگر اس نے پوچھا کہ میں آج ہاسٹل سے نکلی نہیں تو پھر؟۔۔۔۔۔”
حرم پریشانی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی۔
“تم اپنی بات پر قائم رہنا کہ صبح تم یونی گئی تھی ہو سکتا ہے اس دیکھا نہ ہو، سمج رہی ہو نہ۔۔۔۔۔۔”
حرم غائب دماغی سے اسے سن رہی تھی۔
“ہاں ٹھیک ہے میں جاؤں۔۔۔۔۔”
“ہاں جاؤ اور کیا میرے ساتھ چپکی رہو گی۔۔۔۔۔”
وہ پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
حرم گڑبڑا کر اسے دیکھتی باہر نکل گئ۔
ازلان کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
چوکیدار عینی سے بحث کر رہا تھا حرم نے موقع کو غنیمت جانا اور تیز تیز قدم اٹھاتی اندر چلی گئ۔
بنا کسی جرم کے بھی وہ مجرم بن گئی تھی۔
حرم دروازہ کے باہر کھڑی ہو گئی۔
رات کے مناظر پھر سے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔
حرم نے زور سے آنکھیں بند کر لیں۔
گزشتہ رات:-
ازلان پرسوچ دکھائی دے رہا تھا۔
“تم نماز پڑھتی ہو؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جھکی ہوئی پلکوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نے زبان نہ کھولی۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔۔”
ازلان نے اس کا بازو کھینچا۔
حرم جیسے ہوش میں آئی۔
“پڑھتی ہو نماز؟۔۔۔۔۔”
ازلان پھر سے اپنا سوال دہرایا۔
“ہا ہاں پڑھتی ہوں۔۔۔۔۔”
حرم اٹک اٹک کر بولی۔
“تو پھر یہ بھی جانتی ہو گی کہ خودکشی حرام ہے پھر کیا کرنے جا رہی تھی تم۔۔۔۔۔۔”
ازلان غصے سے گویا ہوا۔
“تم اتنے حق سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔”
حرم نم آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
لمحہ بھر کو ازلان خاموش ہو گیا۔
“تم مجھ سے نکاح کر لو اس کے بعد کوئی تم پر تہمت نہیں لگاےُ گا جو کوئی بولے گا اسے میں چپ کروا لوں گا۔۔۔۔۔”
ازلان خاموش ہوا تو پھر سے دونوں کے بیچ خاموشی گونجنے لگی۔
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے ازلان کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر گہرا سکوت تھا۔
“میں تم سے کیسے۔۔۔۔”
حرم نے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
“دیکھو اگر تم سر اٹھا کر جینا چاہتی ہو تو تمہیں میری بات ماننی پڑے گی کیونکہ اس کے سواء کوئی چارہ نہیں۔۔۔۔۔۔”
ازلان نرمی سے بولا۔
“میں بھائی کی اجازت کے بنا کیسے؟۔۔۔۔۔”
حرم تڑپ کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم سوچ لو میں زبردستی نہیں کر رہا صرف ایک حل پیش کیا ہے کیونکہ ایک جان میرے باعث موت کے گھاٹ اتر جاےُ مجھے گوارا نہیں۔۔۔۔۔۔”
ازلان بغور اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
حرم بےبسی سے اسے دیکھتی چہرہ جھکا گئی۔
“میرا ہاتھ۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے دو موتی ٹوٹ کر حرم کے رخسار پر آ گرے۔
“پہلے جواب دو مجھے۔۔۔۔۔۔”
ازلان ضدی انداز میں بولا۔
“لیکن۔۔۔۔۔”
حرم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے۔
“کیا اس طرح کوئی مجھ سے ہتک آمیز سلوک نہیں کرے گا؟۔۔۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
ازلان کے لہجے کے مان نے حرم کو حامی بھرنے پر مجبور کر دیا۔
“ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔۔۔۔۔”
حرم دل پر پتھر رکھتی ہوئی بولی۔
“ابھی فلحال رات ہمیں گاڑی میں گزارنی پڑے گی کیونکہ اس وقت نکاح کرنا ممکن نہیں صبح ہوتے ہی اس کام کو عملی جامہ پہنا کر میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کا دائیاں ہاتھ پکڑے چلتا ہوا بول رہا تھا۔
شاید اسے شبہ تھا حرم بھاگ جاےُ گی۔
وہ دونوں اس اندھیری اور خاموش رات کا حصہ لگ رہے تھے۔
خاموش اور تاریک۔
حرم نے آنکھیں کھولیں چہرہ صاف کیا، دروازے پر ہاتھ رکھا اور کھول کر اندر چلی گئی۔
تینوں معمول کے کام کر رہیں تھیں۔
حرم دروازے کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی۔
آمنہ کی نظر حرم سے ٹکرائی تو چلتی ہوئی حرم کے پاس آ گئی۔
حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“آئم سوری حرم۔۔۔۔۔”
آمنہ بولتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی۔
آمنہ کے بعد انشرح اور آخر میں ذوناش حرم سے ملی۔
“تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں کہ تم ازلان کے نکاح میں ہو؟۔۔۔۔۔۔”
ذوناش خفگی سے بولی۔
“وہ ازلان نے منع کیا تھا کہ یونی میں ہمارا تعلق ظاہر نہیں کرنا۔۔۔۔۔”
حرم سپاٹ انداز میں بولی۔
“دیکھا ذونی میں نے تمہیں کہا تھا نہ حرم ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔”
آمنہ کہتی ہوئی پھر سے حرم کے ساتھ لگ گئی۔
حرم کے چہرے پر پھیکی سی مسکان تھی۔
****///////****
شاہ ڈرائیو کر رہا تھا جب مہر کا خیال عود آیا۔
“گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
شاہ متفکر سا بولا۔
شاہ نے بریک لگائی اور آمنہ کے نمبر پر کال کرنے لگا۔
“حرم تمہارے بھائی کا فون آ رہا ہے۔۔۔۔”
آمنہ اسکرین کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم نے لحاف پرے پھینکا اور سلیپر پہننے لگی۔
“بھائی آےُ ہوں گے۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔
“ازلان تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ حرم تمہاری منکوحہ ہے؟۔۔۔۔۔۔”
ذوناش نے پھر سے میسج کیا کل سے ازلان اسے جواب نہیں دے رہا تھا۔
“السلام علیکم بھائی۔۔۔۔۔۔”
حرم شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“وعلیکم السلام کیسی ہو حرم؟۔۔۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا بولا۔
“میں ٹھیک ہوں بھائی، آپ کیسے ہیں امی بابا سائیں اور بھائی؟۔۔۔۔۔”
حرم نے ایک ہی سانس میں سب کے نام لے ڈالے۔
“سب ٹھیک ہیں امی یاد کرتی ہیں تمہیں چھٹیاں کب ہو رہیں ہیں؟۔۔۔۔۔۔”
شاہ فون کا ڈبہ اس کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔
“بھائی اگلے ہفتے پیپرز ہیں پھر اس کے بعد چھٹیاں۔۔۔۔۔۔” حرم سنبھل کر بولی۔
شاہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“کوئی مسئلہ تو نہیں ہے ہاسٹل میں یا یونی میں؟۔۔۔۔۔”
شاہ کا اشارہ حرم سمجھ چکی تھی۔
“نہیں بھائی ایسا کوئی مسئلہ نہیں میری روم میٹ بھی اچھی ہیں۔۔۔۔۔”
دوپٹہ جو سر سے ڈھلک رہا تھا حرم اسے درست کرتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں کچھ چائیے ہو گا تو مجھے کال کر دینا اور امی سے بھی بات کر لو۔۔۔۔۔۔”
شاہ کہتا ہوا گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
حرم ڈبڈباتی نگاہوں سے اسے اوجھل ہوتے دیکھنے لگی۔
“جب بھائی کو معلوم ہو گا نکاح کا پھر بھی وہ ایسا ہی سلوک کریں گے کیا مجھ سے؟۔۔۔۔۔”
حرم آنکھوں کی نمی صاف کرتی چلنے لگی۔
شاہ نے گاڑی حویلی کی بجاےُ گھر جانے والے راستے کی جانب ڈال دی۔
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔
گاڑی گھر کے باہر روکی،
سامان نکالا اور اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
اندر کا دروازہ کھول کر شاہ گرد و پیش میں نگاہ دوڑانے لگا لیکن مہر دکھائی نہ دی۔
شاہ نے سامان صوفے پر رکھا اور کمرے کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
مہر کھڑکی میں بیٹھی انگلیاں مڑور رہی تھی۔
شاہ چلتا ہوا آیا۔
قدموں کی آہٹ پر مہر نے چہرہ موڑ کر دروازے کی جانب دیکھا۔
مہر کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
آنکھیں بجھی ہوئیں تھیں، مہر نڈھال سی لگ رہی تھی۔
شاہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
وہ مہر کے سامنے براجمان ہو گیا۔
وہ دونوں خاموش تھے اور خاموشی ان کے بیچ گفتگو کر رہی تھی۔
“کھانا لایا ہوں کھا لو؟۔۔۔۔۔”
شاہ کا چہرہ مہر کی مخالف سمت میں تھا۔
“مجھے نہیں کھانا۔۔۔۔۔۔”
مہر کی کمزور سی آواز گونجی۔
“تمہارے نخرے اٹھانے کے لیے نہیں لایا تمہیں یہاں۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو دبوچتا ہوا بولا۔
شاہ کی گرفت پر مہر کی آنکھوں میں اشک دکھائی دینے لگے۔
دو دن میں وہ لاغر دکھائ دے رہی تھی۔
شاہ کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
مہر کی بازو تپ رہی تھی۔
بے اختیار شاہ کا ہاتھ مہر کی پیشانی پر گیا۔
مہر تیکھے تیور لئے اسے گھورنے لگی آج ہاتھ جھٹکنے کی سکت اس میں نہ تھی۔
“تمہیں بخار ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ہاتھ نیچے کرتا ہوا بولا۔
مہر نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا۔
“اٹھو۔۔۔۔۔”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
مہر کی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر شاہ نے اس کی بازو پکڑی اور کھڑا کر دیا۔
“تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی؟۔۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔۔”
مہر بائیں ہاتھ سے اس کا ہاتھ ہٹانے کی سعی کرنے لگی۔
“ایک طوائف ہو کر اتنے نخرے۔۔۔۔۔”
شاہ استہزائیہ ہنسا۔
“تو تمہیں کس نے کہا تھا ایک طوائف سے نکاح کرو۔۔۔۔۔”
مہر اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“تم جیسی طوائفیں شاہ کے پیروں میں رُلتی ہیں۔۔۔۔۔۔”
غرور سے لبریز شاہ کا انداز جتانے والا تھا۔
اپنی ہتک پر مہر کا دل کٹ رہا تھا۔
“اور ہم جیسوں کو تم جیسے شاہ ہی طائف بناتے ہیں۔۔۔۔۔”
مہر اس کا گریبان پکڑتی ہوئی بولی۔
“تم اپنے حواس میں تو ہو نہ۔۔۔۔۔۔”
شاہ غرایا۔
“تم جیسے حوس پرست مردوں کی خاطر ہم جیسوں کو طوائف بننا پڑتا ہے شر ہمارے اندر نہیں تمہارے اندر ہے تمہارے باعث نجانے کتنی لڑکیوں کو اپنی عزت کا جنازہ نکالنا پڑتا ہے تاکہ تم لطف لے سکو تم جیسے رئیس۔۔۔۔۔۔۔”
شاہ کے تھپڑ نے مہر کے الفاظ کا دم توڑ دیا۔
مہر کا چہرہ دائیں جانب جھک گیا۔
مہر لب بھینچے زمین کو گھورنے لگی۔
“اپنی اس زبان کو لگام دو۔۔۔۔۔۔”
شاہ اسے جھنجھوڑتا ہوا بولا۔
” آئینہ دکھا رہی ہوں تو تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
“عورت ہو نہ تو اپنی حد میں رہو مرد کی برابری کرنے کا فتور دماغ سے نکال دو۔۔۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
“تم پہلے ایک عورت ہونے کے حقوق تو دو میں بھی مرد کی برابری کرنا چھوڑ دوں گی۔۔۔۔۔”
مہر اس کے غصے کا اثر لئے بنا بولی۔
“چلو ڈاکٹر کے پاس۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑے چلنے لگا۔
مہر نے اب کوئی مزاحمت نہ کی۔
مہر نے سر سیٹ کی پشت سے لگا رکھا تھا آنکھیں بند تھیں۔
شاہ کی نظریں سامنے سڑک پر تھیں۔
کھانا نکال کر لاؤ۔۔۔۔۔”
شاہ کمرے کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
مہر خاموشی سے سامان اٹھا کر کچن میں لے آئی۔
مہر نے تھوڑا بہت کھایا اور پلیٹ پرے کھسکا دی۔
شاہ آبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“کھا کیوں رہی؟۔۔۔۔۔”
شاہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“کھا چکی ہوں میں۔۔۔۔۔۔”
مہر سرد مہری سے بولی۔
شاہ نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
“میری بات سن لو آج غور سے دوبارہ دہراؤں گا نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا نرمی سے بولا۔
مہر نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“میں نے تم سے نکاح کیا ہے تم اپنے فرائض سر انجام دو میں اپنے فرائض ادا کروں گا، کون سی بیوی ایسا کرتی ہے؟۔۔۔۔۔”
شاہ اپنی بازو اس کے سامنے کرتا ہوا بولا۔
مہر شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اور کون سا شوہر دو دن بیوی کو بھوکا رکھتا ہے۔۔۔۔۔”
مہر کی زبان پر شکوہ آ ہی گیا۔
“برابر ہو گیا نہ اب تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔”
شاہ بات ختم کرتا ہوا بولا۔
“میں تمہیں اپنے پاس نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔۔
مہر خفگی سے بولی۔
“تم مجھے روک نہیں سکتی۔۔۔۔۔”
شاہ کا انداز جتانے والا تھا۔
“تمہاری سوچ ہے۔۔۔۔۔۔”
مہر ترکی بہ ترکی بولی۔
شاہ نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا۔
“تم سے نکاح صرف اسی لئے کیا کیونکہ تم تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتا ہو بولا۔
مہر پیچھے ہو گئی۔
“مجھ سے کوئی ایسا رشتہ قائم مت کرو کل کو جس کے باعث ہم دونوں شرمسار ہوں۔۔۔۔۔”
مہر سنبھل کر بولی۔
“نکاح کیا ہے تم سے پھر ندامت کیسی۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے بالوں سے کیچر آزاد کرتا ہوا بولا۔
ہلکے بھورے اور گہرے بھورے لمبے بال کسی آبشار کی مانند مہر کی پشت پر آ گرے۔
مہر کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی سعی کر رہی تھی لیکن اس میں ناکام ہو رہی تھی۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔”
مہر کو اپنا آپ کمزور لگ رہا تھا۔
شاہ نے مہر کے منہ پر ہاتھ رکھا اور مہر کی تمام تر مزاحمت رائیگاں گئی۔
****//////****
“یہ پین خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔”
حرم چلتی ہوئی منہ بنا کر بولی۔
“تو پھینک دینا۔۔۔۔۔”
آمنہ بیگ ٹٹولتی ہوئی بولی۔
حرم پھر سے پین کو دیکھنے لگی۔
دونوں کیفے کی جانب چلتی جا رہیں تھیں۔
حرم نے پین عقب میں اچھال دیا یہ دیکھے بنا کہ گھاس پر نفوس براجمان ہیں۔
“حرم کوڑے دان میں پھینکنا ایسے کون کرتا ہے؟۔۔۔۔۔”
آمنہ خفگی سے دیکھتی ابھی بول ہی رہی تھی کہ ان کی سماعتوں سے ازلان کی آواز ٹکرائی۔
“حرم۔۔۔۔۔۔”
ازلان پیچ و تاب کھا کر چلایا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم اپنی حرکتوں سے کب باز آؤ گی۔۔۔۔۔”
وہ خطرناک تیور لئے آگے بڑھا۔
حرم خطرہ بھانپ کر آمنہ کو دیکھنے لگی۔
آمنہ نے بھاگنے کا اشارہ کیا۔
حرم پہلے آہستہ آہستہ سے الٹے قدم اٹھانے لگی پھر تیز تیز قدم اٹھاتی ازلان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
ازلان کلس کر اسے جاتا دیکھنے لگا۔
“تم میرے سامنے آؤ پھر پوچھوں گا۔۔۔۔۔”
ازلان ہنکار بھرتا واپس آ گیا۔
“واہ ازلان بھابھی نے گفٹ دیا۔۔۔۔۔”سیفی پین ہاتھ میں پکڑتا ہوا بولا جو ازلان کے منہ پر آ لگا تھا۔
وکی اور زین قہقہے لگاتے ازلان کی شکل دیکھ رہے تھے۔
“میں بلاتا ہوں ابرش کو۔۔۔۔۔”ازلان سیفی کو گھورتا ہوا بولا۔
“یار خدا کا خوف کر میری جیب کاٹ کر لے جاےُ گی وہ۔۔۔۔۔”
سیفی ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔
“ازلان بلا اسے میں اور وکی چلے جائیں گے اس کے ساتھ ڈیٹ پر۔۔۔۔۔”
زین نے ہانک لگائی۔
“یار اسے تو کوئی بھی لا دے چاہے اندھی بہری لا دے یہ میری والی پر نظر رکھے ہوۓ ہے۔۔۔۔۔”
سیفی ازلان کو دیکھتا پھر زین کو گھورنے لگا۔
“تو ہمارا دل نہیں کرتا تو اکیلا مزے لیتا ہے۔۔۔۔۔” وکی بھی شرارت سے بولا۔
“تو تم بھی رکھ لو جب جوتیاں پڑے گیں نہ پھر معلوم ہو گا۔۔۔۔۔۔”
سیفی منہ بناتا ہوا بولا۔
“سیفی کہاں کہاں مارتی ہے ابرش۔۔۔۔”
زین سنجیدگی سے بولا۔
ازلان قہقہ لگاتا بیٹھ گیا۔
سیفی کھا جانے والی نظروں سے گھورتا فون کو دیکھنے لگا۔
“ذوناش مجھ سے مل کر جانا ہاسٹل۔۔۔۔۔”
ازلان فون کان سے لگاےُ بولا۔
“اسے دیکھ دو دو جگہ ہاتھ مار رہا ہے۔۔۔۔۔”
سیفی جل کر بولا۔
سورج کی گرم نرم کرنیں کمرے میں آ رہیں تھیں۔
شاہ نے آنکھیں کھولیں،چہرہ موڑ کر مہر کو دیکھنے لگا جو آنکھیں موندے بے خبر سو رہی تھی۔
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر مہر کی پیشانی پر منتشر بالوں کو سمیٹا۔
شاہ کے لمس پر مہر کی آنکھ کھل گئی۔
مہر آنکھیں جھپکاتی شاہ کو دیکھنے لگی۔
شاہ کے لبوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی۔
مہر اس کے ہاتھ ہٹاتی اٹھ بیٹھی۔
روشن پیشانی پر تین لکریں نمایاں تھیں۔
“گلدان تم نے توڑا تھا؟۔۔۔۔۔”
شاہ یاد آنے پر بولا۔
“کیوں تمہارے جہیز کا تھا؟۔۔۔۔۔”
مہر بیزاری سے بولی۔
“تمہاری زبان ضرورت سے زیادہ چلتی ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے کے تاثرات سخت ہو گئے۔
“تم بھی تو اپنی حد سے باہر نکلتے ہو۔۔۔۔۔”
مہر بیڈ سے اترتی ہوئی بولی۔
“جا کر صاف کرو جو گند پھیلا رکھا ہے۔۔۔۔
شاہ قہر برساتی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔
“ملازم نہیں ہوں تمہاری اپنی حویلی سے دو چار ملازم لے آؤ۔۔۔۔۔”
مہر الماری کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
شاہ برہمی سے دیکھتا اس کے پاس آیا۔
“ایک طوائف ہو کر تم میرے آگے زبان چلاتی ہو کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ میرے آگے جواب دے۔۔۔۔۔”
شاہ طیش میں چلایا۔
“میں مہر ماہ ہوں میرا موازنہ دوسروں سے کرنے کی کوتاہی مت کرنا۔۔۔۔۔”
مہر چبا چبا کر بولی۔
“تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک میں اس کی زبان کٹوا چکا ہوتا۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے بال دبوچتا ہوا بولا۔
تمہارے سامنے کوئی اور نہیں مہر ماہ کھڑی ہے۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
شاہ کلس کر مہر کو دیکھنے لگا جو نڈر سی کھڑی تھی۔
جھٹکے سے اس کے بال آزاد کرتا پیچھے ہو گیا۔
“ملازم کب بھیجو گے۔۔۔۔۔”
مہر الماری میں کپڑے دیکھتی ہوئی بولی۔
“ملکہ نہیں ہو تم جو ملازم آئیں گے خود کرو سارے کام۔۔۔۔۔”
شاہ ہنکار بھرتا باہر نکل گیا۔
مہر نفی میں سر ہلاتی چلنے لگی۔
****///////****
حرم کلاس میں کھڑی اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔
ازلان نے اندر جھانکا حرم کو دیکھ کر صبح والا واقعہ یاد آ گیا۔
تاؤ کھاتا ہوا حرم کے عقب میں کھڑا ہو گیا۔
حرم کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو فوراً چہرہ موڑ کر دیکھنے لگی۔
ازلان کو دیکھ کر حلق خشک ہو گیا۔
“صبح میں بول رہا تھا اور تم بھاگ گئی۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
حرم پیچھے ہٹنے لگی۔
“نہیں وہ مجھے جانا تھا۔۔۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“کون سے تمہارے بچے رو رہے تھے بتاؤ ذرا مجھے بھی۔۔۔۔۔”
ازلان تیوری چڑھا کر بولا۔
ازلان اس کی جانب بڑھتا جا رہا تھا اور حرم الٹے قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔
“مجھے کلاس ہاں کلاس لینی تھی۔۔۔۔۔۔”
حرم سوچتی ہوئی بولی۔
“میرا خیال ہے میری کلاس بھی تمہارے ساتھ ہوتی ہے یا سر تمہیں اکیلی کو پڑھاتے ہیں۔۔۔۔”
ازلان چبا چبا کر بولا۔
حرم ڈیسک سے ٹکرائی اور بمشکل گرنے سے بچی۔
“میں تو کچھ بھی نہیں کرتی تم کیوں میرے پیچھے پڑے رہتے ہو۔۔۔۔۔”
حرم رونے والی شکل بناتی ہوئی بولی۔
“یہ تو وہی بات ہوئی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ خود میرے پیچھے پڑی ہو اور مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔۔۔”
ازلان آگے ہوتا گھورنے لگا۔
“می میں نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“صبح مجھے پین کس نے مارا تھا۔۔۔۔۔”
ازلان گھور کر بولا۔
“وہ تو ہوا نے مارا تھا میں نے تو نہیں۔۔۔۔۔”
حرم صاف مکر گئی۔
“سیفی بلا رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔”
حرم اس کے عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان نے چہرہ موڑ کر عقب میں دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔
حرم مضبوطی سے بیگ پکڑے سائیڈ سے نکل گئی۔
ازلان مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“ذوناش میں نے سنا ہے حرم اور ازلان کا افئیر چل رہا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش کلاس میں بیٹھی تھی جب اس کے عقب میں بیٹھی لڑکی رازداری سے بولی۔
“ان دونوں کا نکاح ہوا پڑا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش بیزاری سے بولی۔
“اووہ اچھا اچھا میں سمجھ گئی۔
نجانے کتنے لوگوں کو ذوناش جواب دے چکی تھی اور ابھی بھی بہت سے پوچھ رہے تھے۔
****///////****
“اسے تیار کر آج یہ مجرا کرے گی۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم حرائمہ کو خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئیں بولیں۔
“مہ میں کیسے؟۔۔۔۔۔۔”
حرائمہ بوکھلا گئی۔
“زیادہ بکواس کی تو ابھی دو چار آدمیوں کے سامنے ڈال دوں گی۔۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا۔
حرائمہ لب کاٹتی انہیں دیکھنے لگی۔
“بانی تیار کر اسے۔۔۔۔”
وہ حکم صادر کر کے باہر نکل گئیں۔
حرائمہ اشک بہاتی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
بانی ہنکار بھرتی اس کے پاس آئی۔
حرائمہ التجائیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھ سے کسی رحم کی توقع مت رکھنا جتنی جلدی اس ماحول میں خود کو سیٹ کر لو گی بہتر ہو گا کیونکہ بیگم صاحبہ ترس کھانے والوں میں سے نہیں۔۔۔۔۔”
بانی بولتی ہوئی کپڑے نکالنے لگی۔
حرائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں بانی اسے تیار کرنے لگی۔
حرائمہ جو زندگی میں میک اپ کے نام پر آج تک صرف لپ اسٹک لگاتی آئی تھی اتنا ہیوی میک اپ پھر جیولری وہ کوئی اور حرائمہ لگ رہی تھی۔
حرائمہ نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو خود کو پہچاننے سے انکاری ہو گئی۔
“یہ گھنگھرو پہنو اب۔۔۔۔۔”
بانی سنگھار میز کے پر گھنگھرو پھینکنے کے سے انداز میں رکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ نم آنکھوں سے گھنگھرو پہننے لگی۔
اس کا ظاہر مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس وقت وہ ایک طوائف معلوم ہو رہی تھی۔
“اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو بیگم صاحبہ چھوڑیں گیں نہیں یاد رکھنا یہ جو آدمی بیٹھے ہیں نہ کتوں کی مانند پڑ جائیں گے تمہیں۔۔۔۔۔”
بانی اسے ساتھ لئے چل رہی تھی۔
حرائمہ کی آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔
اتنے آدمیوں کے سامنے مجرا کرنا خود پر لعنت ڈالنے کے مترادف لگ رہا تھا۔
وہ غریب تھی لیکن عزت دار تھی۔
لیکن اس کا حسن ہی اس کے گلے کا طوق بن گیا۔
کچھ لوگ گلہ کرتے ہیں کہ ہمیں فلاں جیسا حسین کیوں نہیں بنایا فلاں جیسے بال فلاں جیسی ناک فلاں جسا رنگ کیوں نہیں دیا انہیں شکر کرنا چائیے کہ اللہ نے جیسا بنایا بہت خوبصورت بنایا ہے ورنہ آج حرائمہ کی حالت دیکھ لیں جو اپنی خوبصورتی پر شکوے شکایتیں کر رہی تھی،
نہ اس کے پاس یہ رنگ روپ ہوتا نہ زندگی اس پر تنگ ہوتی۔
اللہ بہتر کرتا ہے لیکن انسان سمجھنے سے قاصر ہے۔
حرائمہ خود کو لعنت ملامت کرتی چلتی جا رہی تھی۔
حرائمہ کو لگ رہا تھا اس کا جنازہ نکلنے والا ہے کیونکہ مر وہ تو اسی دن گئی تھی جس دن زلیخا بیگم نے اسے اعجاز کے سپرد کر دیا تھا بس اس جسم کا مٹی میں دفن ہونا باقی تھا آج یہ رسم بھی ہونے والی تھی۔
مدھم مدھم روشنیاں جل رہیں تھیں۔
حرائمہ وسط میں آ کر کھڑی ہو گئی کیونکہ رانی اسے سیکھا چکی تھی رقص۔
حرم نے اپنے ضمیر کا جنازہ پڑھا۔
آنکھیں بند کیں موسیقی سنائی دے رہی تھی۔
تمام عزت دار افراد بےصبری سے اس نئی بے حیا دوشیزہ کو دیکھ رہے تھے۔
حرائمہ اردگرد سے بیگانہ ہو گئی وہ تھی اور موسیقی کی دھن۔
نظر جو تیری لاگی میں دیوانی ہو گئ
دیوانی ہاں دیوانی، دیوانی ہو گئی
مشہور میرے عشق کی کہانی ہو گئی
جو جگ نے نہ مانی تو میں نے بھی ٹھانی
کہاں تھی میں دیکھو کہاں چلی آئی
کہتے ہیں دیوانی مستانی ہو گئی
مشہور میرے عشق کی کہانی ہو گئی
جو جگ نے نہ مانی تو میں نے بھی ٹھانی
کہاں تھی میں دیکھو کہاں چلی آئی
کہتے ہیں دیوانی مستانی ہو گئی
دیوانی ہاں دیوانی ، دیوانی ہو گئی
حرائمہ کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو چکے تھے۔
وہ سب کچھ بھول کر رقص کر رہی تھی۔
کسی کی جان نکل رہی تھی اور کسی کو لطف آ رہا تھا۔
ان کی تفریح کے عوض ایک جان موت کے گھاٹ اتار دی گئی۔
حرائمہ خود پر غلیظ نظریں محسوس کر رہی تھی جو خود کو عزت دار کہلواتے تھے جبکہ بے غیرت تو وہی تھے۔
حرائمہ گھوم رہی تھی اور گھومتی گھومتی زمین پر گر گئی۔
وہاں بیٹھے افراد سمجھ رہے تھے کہ شاید وہ خود بیٹھی ہے۔
بانی گھبرا کر اس کے پاس آئی اور اسے اپنے ساتھ لگاےُ چلنے لگی۔
موسیقی بند ہو چکی تھی۔
گھنگھرو کی آواز بھی دم توڑ چکی تھی۔
اور شاید حرائمہ بھی۔
“بیگم صاحبہ ڈاکٹرنی کو بلائیں مر ور تو نہیں گئی یہ۔۔۔۔۔”
بانی حرائمہ کے بے جان وجود کو بیڈ پر گراتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ ہاےُ کمبخت ایسا کیا کروا لیا ایک مجرا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
بانی ان کا فون لے آئی اور وہ نمبر ملانے لگیں۔
****///////****
“شاہ ویز آئم رئیلی سوری پلیز اب تو معاف کر دو۔۔۔۔۔”
عینی کان پکڑے کھڑی تھی اور شاہ ویز رخ موڑے ہوۓ تھا۔
“عینی وہ میرے بڑے بھائی ہیں اور مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں میں ان کے خلاف ایک بھی لفظ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سختی سے بولا۔
“اوکے بےبی آئی پرامس کبھی ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”
عینی اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
عینی شاہ ویز نے سینے سے لگی ہوئی تھی۔
شاہ ویز کے لب دھیرے سے مسکراےُ۔
دونوں بازو عینی کے گرد حائل کر کے شاہ ویز نے آنکھیں بند کر لیں۔
عینی بھی مسکرانے لگی۔
“تمہاری وجہ سے مجھے اتنی ڈانٹ پڑی جانتے ہو؟۔۔۔۔۔”
عینی خفگی سے بولی۔
شاہ ویز گاڑی سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا۔
“غلطی بھی تو تمہاری تھی پھر سزا تو ملنی ہی تھی۔۔۔۔۔”
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اب دیکھو آج بھی کتنا لیٹ ہو گئی میں وہ چوکیدار سو سوال کرتا ہے کہاں گئی تھی، کیوں گئی تھی، کس کے ساتھ گئی تھی۔۔۔۔۔”
“تم کہ دیا کرو اپنی جان سے ملنی گئی تھی۔۔۔۔۔” شاہ ویز اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
“ہاں تاکہ میرے گھر والوں کو بلا کر مجھے ہاسٹل سے نکال دے وہ۔۔۔۔۔۔”
عینی منہ بسورتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز نے اس کے رخسار پر اپنے لب رکھے اور سیدھا ہو گیا۔
“چلو تمہیں ڈراپ کر دوں۔۔۔۔۔”
عینی مسکراتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ۔
حرم کھڑکی میں کھڑی تھی جب اس کی نظر اس سیاہ گاڑی پر پڑی۔
“یہ گاڑی تو شاہ ویز بھائی کی ہے، بھائی مجھ سے ملنے آےُ ہیں کیا۔۔۔۔۔۔”
حرم خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو گئی۔
لیکن جونہی نظر گاڑی کے اندر بیٹھے نفوس پر پڑی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“عینی چھوٹے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔۔” حرم کے لب پھڑپھراےُ۔
“کیا بولے جا رہی ہو۔۔۔۔۔”
انشرح کتاب کو گھورتی ہوئی بولی۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
“ہاں عینی ہی ہے مطلب عینی چھوٹے بھائی کے ساتھ۔۔۔۔۔”
حرم بے یقینی کی کیفیت میں بول رہی تھی۔
“اب سمجھ میں آیا شعیب نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے حرم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
“سہی کہتے ہیں اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ برا کرتا ہے تو اس کا بدلہ اس کی بہن کو چکانا پڑتا ہے چھوٹے بھائی کی غلطیوں کی سزا مجھے بھگتنی پڑی وہ بد تمیز میری عصمت کو تار تار کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں بولتی بے آواز رو رہی تھی۔
“مصطفیٰ بھائ کو علم ہوا تو کتنا دکھ ہو گا انہیں چھوٹے بھائی ایسے تو نہیں تھے۔۔۔۔۔”
حرم آنسو بہاتی کھڑکی سے پار دیکھ رہی تھی۔
“اچھا نہیں کیا آپ نے بھائی۔۔۔۔۔”
حرم چہرہ رگڑتی ہوئی بولی۔
“حرم کس کے ساتھ باتیں کر رہی ہو؟۔۔۔۔۔”
اب کی بار آمنہ بولی۔
“کسی کے ساتھ بھی نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔”
حرم جبراً مسکرائی۔
“ازلان کو فون کرو کوئی اسے بتاؤ اس کی بیگم اس کی یاد میں رو رہی ہے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش طنزیہ بولی۔
حرم چہرہ جھکاےُ اپنے بیڈ کی جانب چلنے لگی۔
ذوناش اور حرم کے بیچ ایک تلخی سی پیدا ہو گئی تھی۔
****///////****
مہر آئینے کے سامنے کھڑی سرخ لپ اسٹک سے ہونٹوں کو پوشیدہ کر رہی تھی۔
وہ جانتی تھی شاہ ضرور آےُ گا۔
بال کھول کر ان میں برش چلانے لگی۔
وہ حسن کی ملکہ شاہ کو تباہ کرنے کی غرض سے ہتھیاروں سے لیس ہو رہی تھی۔
مہر ننگے پاؤں زمین پر کھڑی تھی۔
وہ اپنے گورے ملائم پیروں کو دیکھ رہی تھی جن پر سرخ نیل پالش غضب ڈھا رہی تھی ہاتھوں پر بھی سرخ رنگ کی نیل پالش لگا کر ان کی زینت بڑھ رکھی تھی۔
مہر کو قدموں کی چاپ سنائی دی لب دم بخود مسکرانے لگے۔
جس کی وہ منتظر تھی وہ آ ہی گیا تھا۔
شاہ اندر آیا تو مہر کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔
“کیا ہوا پہچان میں نہیں آ رہی کیا؟۔۔۔۔۔”
مہر چلتی ہوئی اس کے مقابل آ گئی۔
خاموشی میں پائیل کی آواز گونجنے لگی تھی۔
شاہ سر تا پیر اس کا جائزہ لے رہا تھا۔
“کافی دنوں بعد یہ روپ دیکھا ہے نہ تبھی۔۔۔۔۔”
شاہ نے ہاتھ بڑھا کر مہر کے چہرے کو چھونا چاہا لیکن مہر نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“تمہیں چھونے کا حق نہیں دیا۔۔۔۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالتی ہوئی بولی۔
“سئیرئسلی؟۔۔۔۔۔”
شاہ استہزائیہ ہنسا، اس کا اشارہ گزشتہ رات کی جانب تھا۔
“ہوں۔۔۔۔۔”مہر نے سر جھٹکا۔
“میں تمہیں فون دوں گا اس میں تم وہ بیان سننا جس میں شوہر کے حقوق بیان کیے جائیں۔۔۔۔۔”
شاہ اسے نظروں کے حصار میں لیتا ہوا بولا۔
“اور تم وہ بیان سننا جس میں شوہر کے فرائض بیان کیے جائیں۔۔۔۔۔۔”مہر تنک کر بولی۔
“شاہ تمہارے حسن کا اسیر ہے لیکن جب تم یہ زبان چلاتی ہو نہ بخدا زہر لگتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
مہر نے ہنسنے پر اکتفا کیا۔
“چلو آؤ باہر چلتے ہیں۔۔۔۔۔” شاہ باہر کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔
“تم وہی کرو گی جو میں بولوں گا بھولوں مت خرید کر لایا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔”
شاہ چہرہ موڑ کر بولا۔
چہرے پر سختی نمایاں تھی۔
“میں نے اپنی قیمت نہیں لگوائی تھی سمجھے, تم مجھے زبردستی لاےُ ہو۔۔۔۔۔”
مہر دانت پیستی ہوئی بولی۔
“واٹ ایور جیسے بھی آئی ملکیت تم میری ہو۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے کہتا قدم بڑھانے لگا۔
مہر نا چاہتے ہوۓ بھی اس کے ساتھ چل دی۔
“ویسے اس تیاری کی وجہ؟۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“بتانا ضروری نہیں سمجھتی میں۔۔۔۔۔”
مہر تپ کر بولی۔
“تم میرا دماغ خراب کر دیتی ہو۔۔۔۔۔۔”
شاہ غصے سے دیکھتا اسے اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا۔
“تو میں کیا کروں علاج کرواؤ جا کر اپنا۔۔۔۔۔”
مہر شاہ کے بے حد نزدیک تھی۔
“علاج بھی تمہارے پاس ہی ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ وارفتگی سے دیکھتا ہوا بولا۔
“دور ہٹو مجھ سے۔۔۔۔۔”
مہر اس کے سینے پر اپنے دودھیا ہاتھ رکھ کر پرے دھکیلتی ہوئی بولی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: