Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 7

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 7

–**–**–

شاہ نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
“اب کیا کرو گی۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی سمندر جیسی گہری بھوری آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا۔
مہر اسے گھورنے لگی۔
“تمہیں میرا ایک کام کرنا ہو گا۔۔۔۔”
مہر کچھ سوچ کر بولی۔
“کیسا کام؟۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“مجھے کوٹھے پر جانا ہے۔۔۔۔۔”
“کس خوشی میں؟۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“مجھے وہاں سے ایک لڑکی کو نکالنا ہے۔۔۔۔۔”
مہر بغور شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“کیا لگتی ہے وہ تمہاری۔۔۔۔”
مہر اس کی بات پر استہزائیہ ہنسی۔
“احساس کا مطلب جانتے ہو؟۔۔۔۔۔”
مہر اسے نگاہوں کے حصار میں لیتی ہوئی بولی۔
“تم جیسے رئیس زادے جان بھی کیسے سکتے ہیں میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی نگاہوں کے سحر میں جکڑے اسے سن رہا تھا۔
“احساس وہ جذبہ ہے جو کسی پراےُ کو بھی اپنا بنا دیتا یے۔ اور اس لڑکی کو نکالنے میں تم میری مدد کرو گے۔۔۔۔۔”
مہر کسی ملکہ کی مانند اس پر حکم صادر کر رہی تھی۔
“میں نے سب کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا۔۔۔۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“پھر مجھے بھی بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔”
مہر الٹے قدم اٹھاتی ہوئی بولی۔
“تمہیں تو کہیں نہیں جانے دیتا میں۔۔۔۔۔”
شاہ مہر کی جانب قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“اگر میں چاہوں تو تم مجھے دیکھ بھی نہ پاؤ۔۔۔۔۔”
بلا کا اعتماد تھا اس کی آنکھوں میں۔
شاہ کی نظروں کے سامنے اس رات کا منظر گھوم گیا جب مہر نے اس کی بازو پر زخم دیا تھا۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔۔۔۔۔۔”
شاہ کو خطرہ لاحق ہوا۔
“میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر اس کی جانب دل جلانے والی مسکراہٹ اچھالتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے تم اسے نکلوا لینا کوٹھے سے لیکن اگر تم نے کچھ الٹا سیدھا کیا تو۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے عین مقابل آ گیا۔
“تو؟۔۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔
“تو میں خود تمہیں لوگوں کے بستروں کی زینت بناؤں گا۔۔۔۔۔”
اتنے وقت سے شاہ اسے اچھے سے جان چکا تھا۔
مہر کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
مسکراہٹ کی جگہ تحیر نے پھر پریشانی نے لے لی۔
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔۔۔”
مہر نے تصدیق کرنی چاہی۔
“میں ایسا ضرور کروں گا اگر تم نے حد پار کر کے خود کو نقصان پہنچایا تو۔۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا پھر بھلا کیسے نہ تڑپتی وہ۔
“ٹھیک ہے نہیں کرتی کل تم مجھے کوٹھے پر لے جاؤ گے۔۔۔۔۔”
مہر مفاہمت پر اتر آئی۔
“کل کی کل دیکھی جاےُ گی ابھی مجھے یہ سب نہیں سوچنا۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی جانب جھکتا ہوا بولا۔
مہر پیچھے ہو گئ۔
شاہ اسے خفگی سے دیکھ رہا تھا اور وہ اثر لئے بنا اندر کی جانب چلنے لگی۔
“طوائف سمجھ کر لایا تھا لیکن یہ تو بیوی سے بھی زیادہ رعب جماتی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلنے لگا۔
****///////****
“ازلان تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ حرم تمہاری منکوحہ یے؟۔۔۔۔۔”
ذوناش تقریباً چلائی۔
“تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟۔۔۔۔۔”
ازلان لاپرواہی سے بولا۔
“منکوحہ ہے تو بیوی بھی وہی بنے گی نہ پھر میرے ساتھ کیوں کھیل رہے تھے۔۔۔۔۔”
“تم نے شاید سنا نہیں ہے بیوی گھر میں ہوتی ہے اور گھر میں ہی اچھی لگتی ہے تمہیں حرم سے کیا پرابلم ہے۔۔۔۔۔”
ازلان پیشانی پر بل ڈالتا ہوا بولا۔
“میں کیسے برداشت کر لوں اس حرم کو تمہارے ساتھ۔۔۔۔” وہ ازلان کے قریب آتی ہوئی بولی۔
“کرنا ہے تو کرو نہیں تو جاؤ۔۔۔۔۔”
ازلان اسے گھورتا ہوا بولا۔
ذوناش ششدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان بنا اس کی سنے وہاں سے نکل آیا۔
وہ کلاس کی جانب جا رہا تھا جب نظر حرم سے ٹکرائی۔
سیاہ بالوں کو جوڑے کی شکل میں مقید کئے وہ کتاب پر جھکی ہوئی تھی۔
چہرے پر ہمیشہ کی مانند معصومیت طاری تھی۔
ازلان کے لب دھیرے سے مسکراےُ۔
دماغ نے کام کیا تو شرارت سوجھی۔
“حرم یہاں آؤ۔۔۔۔”
ازلان حرم سے کچھ مسافت پر کھڑا تھا۔
حرم چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں؟۔۔۔۔۔۔”
انگلی سے اپنی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
ازلان نے ایک گھوری سے نوازا تو کتاب رکھتی کھڑی ہو گئی۔
“آمنہ میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔”
سرگوشی کرتی ازلان کی جان چلنے لگی۔
حرم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔۔۔”
حرم اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔
“خاموش نہیں رہ سکتی تم۔۔۔۔۔”
ازلان خفگی سے بولا۔
حرم خاموش ہو کر چلنے لگی۔
مطلوبہ مقام پر پہنچ کر ازلان نے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔
“کیا؟۔۔۔۔۔۔”
حرم بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی۔
“تم نے بال کس سے پوچھ کر باندھے ہیں۔۔۔۔”
ازلان دیوار پر ہاتھ رکھ کر اس کے فرار کی راہ مسدود کرتا ہوا بولا۔
“کیا مطلب؟۔۔۔۔۔”
حرم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم نے مجھ سے پوچھا؟۔۔۔۔۔”
ازلان کی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر خفگی تھی۔
“پلیز تھوڑا دور رہ کر بات کرو۔۔۔۔۔”
حرم مظلومیت سے بولی۔
“تم مجھ پر حکم چلاؤ گی۔۔۔۔”
ازلان گھورتا ہوا اس کے قریب ہوا۔
“حکم تو نہیں چلایا لیکن پلیز دور رہ کر بات کرو۔۔۔۔۔”
حرم اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“تم نے میری دو شرٹ خراب کیں اور لا کر ایک دی دوسری کون دے گا؟۔۔۔۔۔”
ازلان کو اسے تنگ کرنے میں لطف آتا تھا۔
“تمہیں ایک اور شرٹ چائیے؟۔۔۔۔”
حرم متحیر سی بولی۔
“بلکل۔۔۔۔
ازلان تائیدی انداز میں بولا۔
“اچھا میں لا دوں گی لیکن مجھے جانے دو اب اگر کسی نے بھائی کو بتا دیا۔۔۔۔۔”
حرم فکرمندی سے بولی۔
“حقیقت تو کوئی بھی نہیں جانتا پھر کیسے کوئی بتاےُ گا۔۔۔۔۔”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
اتنی نزدیکیاں حرم کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
“مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔۔”
حرم نے بائیں جانب سے نکلنا چاہا تو ازلان نے دوسرا ہاتھ دیوار پر رکھ لیا۔
حرم خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“ابھی میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
“تو جب تک تمہارا دل نہیں کرے گا میں یہیں کھڑی رہوں گی؟۔۔۔۔۔”
حرم صدمے سے بولی۔
“ظاہر سی بات ہے جب میرا دل کرے گا تبھی جاؤ گی تم۔۔۔۔۔”
وہ لب دباےُ مسکراتا ہوا بولا۔
“ہاےُ اللہ کتنا بد تمیز ہے یہ کیسے گھور رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم اسے دیکھتی دل ہی دل میں سوچنے لگی۔
ازلان کے فون کی رنگ ٹون نے دونوں کو متوجہ کیا۔
ازلان پیچھے ہوتا فون نکالنے لگا تو حرم بھی نکل گئی۔
ازلان مسکراتے ہوۓ فون پر بات کرنے لگا۔
****//////****
“یہ کون ہیں؟۔۔۔۔۔۔”
عینی اس چشمے والی لڑکی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“یہ آج آئی ہے ہمارے کمرے میں رہے گی۔۔۔۔۔”
منتہا عینی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“آپ لوگ مجھ سے دوستی کریں گے؟۔۔۔۔۔”
آئمہ سب کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“”ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔”
منتہا خوشدلی سے بولی۔
آئمہ مسکرانے لگی۔
“لیکن خیال رکھنا تم کسی کو ہمارے راز نہ بتاؤ۔۔۔۔۔”
عینی تیکھے تیور لئے بولی۔
“نہیں نہیں میں ایسی نہیں ہوں جو بات ہو منہ پر قفل لگا لیتی ہوں کسی کو معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔”
آئمہ عینی کی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔
عینی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“مجھے نہ لڑکوں سے بہت ڈر لگتا ہے آپ میری دوستی دوسری لڑکیوں سے بھی کروا دینا جو لڑکوں سے دور رہتی ہوں۔۔۔۔۔”
آئمہ چہرے پر معصومیت طاری کئے بولی۔
“پھر تم ایسا کرو سامنے کمرے میں حرم رہتی ہے معصوم اور ڈرپوک ہے اس سے دوستی کر لینا۔۔۔۔۔”
عینی کہتی ہوئی لپ اسٹک لگانے لگی۔
آئمہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی جسے اس نے بروقت چھپا لیا۔
****//////****
مہر چادر لے کر باہر نکلی تو شاہ گاڑی میں بیٹھا اس کا منتظر تھا۔
“تم اسے اپنے ساتھ لے آؤ گی؟۔۔۔۔۔”
شاہ متحیر سا بولا۔
“نہیں اپنے ساتھ کیسے لا سکتی ہوں زلیخا بیگم کبھی نہیں بھیجیں گیں اسے۔۔۔۔۔”
مہر تلخی سے بولی۔
“پھر؟۔۔۔۔۔”
شاہ آبرو اچکا کر بولا۔
“میں جاؤں گی تو صورتحال کا اندازہ ہو گا تفتیش ہو گئی ہو تو چلیں اب؟۔۔۔۔۔”
مہر بغور اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میرے سامنے کم بولا کرو تم۔۔۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
مہر نے جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ وہ چہرہ موڑے شیشے سے پار دیکھنے رہی تھی۔
شاہ کلس کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
مہر گاڑی سے باہر نکل کر اس کوٹھے کو دیکھنے لگی جہاں اس نے زندگی کا ایک حصہ گزارا تھا۔
شاہ گاڑی میں ہی بیٹھا تھا۔
مہر اندر کی جانب چلنے لگی۔
“مہر!۔۔۔۔۔۔”
رانی کے لبوں سے پھسلا۔
مہر اسے نظر انداز کئے زینے چڑھنے لگی۔
طوائفیں مہر کو دیکھ کر چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
مہر فکرمند سی چل رہی تھی۔
“کیسے اس لڑکی سے بات کروں گی۔۔۔۔۔”
مہر لب دباےُ سوچتی ہوئی چل رہی تھی۔
کچھ سوچ کر وہ زلیخا بیگم کے کمرے کی جانب چلنے لگی۔
زلیخا بیگم بانی کو ہدایات دے رہیں تھیں جب نظر مہر سے ٹکرائی تو لب مسکرانے لگے۔
“مہر۔۔۔۔۔”
وہ تپاک سے ملیں۔
“مہر چہرے پر اکتاہٹ سجاےُ بیٹھ گئی۔
“آپ نے اچھا نہیں زلیخا بیگم۔۔۔۔۔”
مہر مغرور انداز میں بولی۔
گردن اکڑی ہوئی تھی۔
“مہر تم جانتی ہو ہم اپنی زبان سے نہیں پھرتے شاہ صاحب تمہیں زبردستی لے گئے ورنہ میں تو کبھی نہ جانے دیتی۔۔۔۔۔”
وہ مظلومیت سے بولیں۔
مہر کے چہرے پر بیزاری تھی۔
“ہاےُ مہر تمہارے جانے سے یہ کوٹھہ تو سونا سونا سا لگ رہا ہے سب تمہارا پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم آہ بھرتی ہوئیں بولیں۔
“میں اپنا کمرہ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔
“ہاں ہاں تمہاری اپنی جگہ ہے جہاں مرضی جاؤ۔۔۔۔۔”
زلیخا بیگم مسکراتی ہوئیں بولیں۔
مہر چلتی ہوئی کمرے سے نکل آئی۔
زلیخا بیگم پھر سے بانی کے ساتھ محو ہو گئیں۔
مہر آس پاس دیکھتی سنبھل کر اپنے کمرے میں آ گئی۔
قسمت کا حسین اتفاق کہ حرائمہ اسی کے کمرے میں رہائش اختیار کیے ہوۓ تھی۔
مہر کو دیکھ کر حرائمہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
“آ۔۔آپ مجھے لینے آئیں ہیں؟۔۔۔۔۔”
وہ مہر کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
مہر کو اس پر ترس آ رہا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔”
مہر دھیرے سے بولی۔
حرائمہ کی امیدوں پر اوس پڑ گئ۔
مہر کے ہاتھ جو اس نے ایک منٹ قبل تھامے تھے چھوڑ کر وہ الٹے قدم اٹھانے لگی۔
“لیکن میں مدد کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر دھیرے سے بولی۔
وہ محتاط انداز میں عقب میں دیکھتی ہوئی بولی۔
“آپ مجھے لے لے جائیں گیں نہ۔۔۔۔۔”
وہ بے یقینی سے ڈبڈباتی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“اگر تم ساتھ دو تو لیکن میری ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔۔۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“آپ مجھے جیسے کہیں گیں میں ویسے ہی کروں گی لیکن پلیز مجھے لے جائیں اپنے ساتھ مجھے امی کے پاس جانا ہے پتہ نہیں کس حال میں ہوں گیں وہ۔۔۔۔۔”
حرائمہ روتی ہوئی گڑگڑا رہی تھی۔
“پلیز خاموش ہو جاؤ ورنہ انہیں شک ہو جاےُ گا یہ نمبر رکھ لو جس دن تمہیں پارلر لے کر جائیں تم نازیہ نام کی بیوٹیشن کے فون سے مجھے کال کر لینا پھر میں تمہیں لے جاؤں گی وہاں سے۔۔۔۔۔”
مہر نے سوچا ہوا پلان اسے سمجھایا۔
“جی ٹھیک یے۔۔۔۔۔”
وہ چہرہ صاف کرتی ہوئی بولی۔
“اور ہاں سنو یہ پارلر تمہیں تب بھیجیں گے جب تم ان کے اشاروں پر کام کرو گی سمجھ رہی ہو نہ فلحال جیسے وہ کہتی ہیں مان لو ان کی بات اگر باہر نکلنا چاہتی ہو تو؟۔۔۔۔”
مہر رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“ان کا اعتماد حاصل کرو تاکہ تمہیں نکالنے میں آسانی ہو۔۔۔۔۔”
مہر دروازے کی سمت دیکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“ہے تو کام مشکل لیکن ساری زندگی تیاگ دینے سے یہی بہتر ہے۔۔۔۔۔”
مہر اسے دیکھتی ہوئی الٹے قدم اٹھانے لگی۔
حرائمہ یاس سے مہر کو دیکھ رہی تھی۔
“اللہ کرے آپ مجھے یہاں سے نکال لیں۔۔۔۔۔”
بے اختیار حرائمہ کے لبوں سے نکلا۔
“ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔”
مہر رک رک کر بولی۔
دھیرے سے مسکرائی اور باہر نکل گئ۔
حرائمہ دروازے کو دیکھنے لگی۔
آنکھوں میں امید کے جگنو ٹمٹمانے لگے تھے۔
مہر چلتی ہوئی باہر نکل آئی۔
چھن چھن کی آواز گونج رہی تھی۔
مہر آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔
“اب لے کر کیوں نہیں آئی؟۔۔۔۔۔”
شاہ طنزیہ بولا۔
مہر نے گھورنے پر اکتفا کیا۔
شاہ اس کی جانب سے جواب کا منتظر تھا۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟۔۔۔۔”
شاہ کرخت لہجے میں بولا۔
“اس طرح سے کیسے لے جا سکتی ہوں میں اسے؟ یہ چھوٹی سی بات سمجھ نہیں سکتے۔۔۔۔۔”
مہر دانت پیستی ہوئی بولی۔
“تم جیسی بےصبری تھی مجھ لگا شاید ساتھ لے کر آؤ گی۔۔۔۔۔۔”
شاہ مسکراتا ہوا سامنے سڑک کو دیکھنے لگا۔
مہر نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا۔
شاہ نے گاڑی سٹارٹ کی اور گاڑی انجان راستوں پر بھاگنے لگی۔
یکدم شاہ نے بریک لگائی۔
مہر آگے کو ہوئی لیکن سر ڈیش بورڈ سے ٹکرانے سے بچ گیا۔
مہر چہرہ موڑے اسے گھورنے گی۔
“اب کیا مسئلہ ہے؟۔۔۔۔۔”
مہر اس کی نظریں خود پر محسوس کرتی ہوئی بولی۔
“مجھے اپنے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔۔”
شاہ اسکے دونوں ہاتھ تھامتا نرمی سے بولا۔
مہر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی لیکن پھر چہرے پر سختی در آئی۔
“مجھے کچھ نہیں بتانا۔۔۔۔۔”
مہر برہمی سے بولی۔
“اگر میں تم سے نرم لہجے میں بات کرتا ہوں تو تمہارا منہ سیدھا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
شاہ تقریباً چلایا۔
مہر اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی۔
وہ شاہ کو دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔
“مجھے مرد ذات پر اعتبار نہیں۔۔۔۔۔”
مہر کی بھرائی ہوئی آواز گونجی۔
“میں تم سے محبت کے عہد و پیمان نہیں باندھ رہا تمہیں صاف بتایا ہے کہ تمہیں پانے کے لئے تم سے نکاح کیا اور تمہیں ہمیشہ ایسے ہی رکھوں گا حویلی سے دور۔
پھر مجھ سے کیوں ہچکچا رہی ہو؟ میں جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ کا لہجہ پر تجسس تھا۔
“کچھ ہے ہی نہیں بتانے کو۔۔۔۔۔”
مہر کا چہرہ جھکا ہوا تھا۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔۔”
شاہ نے یقینی کی کیفیت میں بولا۔
“میں کیوں جھوٹ بولوں گی؟۔۔۔۔۔”
مہر آنکھوں کی نمی چھپانے کی غرض سے چہرہ جھکاےُ ہوۓ تھی۔
“مجھے ایک بات بتاؤ، جب تم رقص کرتی تھی تمہاری آنکھوں میں کرب ہوتا تھا کیوں؟۔۔۔۔۔”
شاہ سوالیہ نظروں سے مہر کو دیکھ رہا تھا۔
“جیسی وہ جگہ ہے کیا نہیں ہونا چائیے تھا؟۔۔۔۔”
مہر نے سرخ ہوتیں نگاہیں اٹھا کر شاہ کو دیکھا۔
شاہ کے لئے مہر کی آنکھوں میں دیکھنا دو بھر ہو گیا۔
اس نے نظروں کا زاویہ موڑ لیا۔
وہ درست کہ رہی تھی اس جگہ پر رہنے کے بعد ایسی توقع ہی رکھنی چائیے۔
شاہ کا دل موم ہو رہا تھا۔
شاہ سے کوئی بات نہ بنی تو گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
مہر سانس خارج کرتی اپنے ہاتھوں کو گھورنے لگی۔
“تم کھانا بنا لینا میں رات میں آؤں گا۔۔۔۔۔”
گاڑی گھر کے باہر روک کر شاہ مہر کو دیکھے بنا بولا۔
مہر بنا کچھ بولے گاڑی سے اتری اور اندر چلی گئی۔
شاہ نے جانے انجانے میں اس کے زخم کرید دئیے تھے۔
مہر زخموں کی تاب نہ لا سکی اور دروازے میں ہی بیٹھ گئی۔
سالوں پرانے زخم پھر سے ہرے ہو گئے۔
جو کرب وہ جاننا چاہ رہا تھا پھر سے مہر کے گرد ڈولنے لگا۔
مہر نے آنسو بہاتے ہوۓ سر ہاتھوں میں تھام لیا۔
“کبھی نہیں بتاؤں گی تمہیں، کیوں بتاؤں کس بنا پر بتاؤں, مرد ذات پر کبھی اعتبار نہیں کر سکتی میں۔۔۔۔۔”
مہر چلا رہی تھی خاموشی میں اس کی آواز گونج رہی تھی۔
اس کے اندر جل تھل کا موسم رواں دواں تھا۔
تبھی اس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی برسنے لگتیں۔
جب زخم گہرے ہوں اور ان پر مرہم لگانے والا کوئی نہ ہو تو صبر کا پیمانہ اکثر و بیشتر لبریز ہو ہی جاتا ہے۔
مہر کے ہاتھ بھیگ رہے تھے آنکھیں ظلم کی داستاں بنی ہوئیں تھیں۔
“کیوں یاد کروا دیا تم نے مجھے وہ سب شاہ کیوں؟۔۔۔۔۔۔”
مہر ہذیانی انداز میں چلا رہی تھی۔
“بھولا تو کبھی نہیں تھا لیکن تمہیں وہ کرب کیوں دکھائی دیا کیوں میری ذات کے تہ خانوں میں چھپے رازوں سے روشنائی حاصل کرنا چاہتے ہو کیوں مجھے اذیت دے رہے ہو؟۔۔۔۔۔۔”
مہر اشک بہاتی چلا رہی تھی۔
****////////****
حرم کمرے کے باہر ٹہل رہی تھی کیونکہ پارٹی والے دن کے بعد سے ذوناش اور اس کے بیچ میں تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔
آئمہ کمرے سے باہر نکلی تو نگاہ حرم پر پڑی۔
آنکھوں چمکنے لگیں۔
“السلام علیکم! آپ حرم ہیں نہ؟۔۔۔۔۔”
آئمہ چہرے پر معصومیت طاری کرتی ہوئی بولی۔
“وعلیکم السلام! جی، لیکن آپ کون! ۔۔۔۔۔”
حرم تعجب سے بولی۔
“میں یہاں نئی آئی ہوں یہ سامنے والی کمرے میں ہوں، میں نے سنا ہے آپ دل کی بہت اچھی ہیں؟۔۔۔۔۔”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ بول رہی تھی۔
کمال کی اداکاری تھی اور مقابل حرم جیسی سادہ اور معصوم لڑکی ہو اور قابو نہ آےُ ایسا ہو نہیں سکتا۔
“نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔”
حرم مسکراتی ہوئی بولی۔
“میں نے اسلامیہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے لیکن ان کا ہاسٹل نہیں تھا اس لئے یہاں آ گئی آپ مجھ سے دوستی کریں گیں؟۔۔۔۔۔”
آئمہ نے پہلا پتا پھینکا۔
“جی ضرور۔۔۔۔۔۔”حرم اپنے گروپ سے دلبرداشتہ ہونے کے فوراً باعث مان گئی۔
“آئیں وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔”
آئمہ سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
حرم مسکراتی ہوئی چل دی۔
****////////****
“ساری تیاری کر لی ہے نہ؟۔۔۔۔۔”
ازلان چلتا ہوا بول رہا تھا نگاہیں موبائل کی اسکرین پر تھیں۔
“ہاں بھائی سب تیار ہے رات میں فل ماحول ہو گا۔۔۔۔۔”
وکی اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“چل اچھی بات ہے مزہ آےُ گا۔۔۔۔۔”
بولتے بولتے ازلان کے لب دم بخود مسکرانے لگے۔
حرم ہاتھ میں پیسے پکڑے جھنجھلاتی ہوئی چل رہی تھی۔
“حرم بیٹھ کر لگا لو حساب۔۔۔۔۔”
آمنہ بمشکل اس کے ساتھ قدم ملاتی ہوئی بولی۔
“پتہ ہے پچھلے مہینے میں نے اپنے لیے کچھ بھی نہیں لیا تھا بس کھانے پینے میں ہی اڑا دئیے تھے سارے پیسے۔۔۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی چلتی جا رہی تھی۔
چہرہ نیچے جھکا رکھا تھا آمنہ بھی فون کو دیکھتی ہوئی چل رہی تھی۔
سامنے ستون تھا اور حرم اس بات سے انجان تھی۔
وہ سبک رفتاری سے چل رہی تھی اور سیدھا ستون سے جا ٹکرائی۔
“آئی امی۔۔۔۔۔۔”
حرم پیشانی مسلتی ہوئی بولی۔
ازلان اور اس کا گروپ کچھ فاصلے پر تھا اور حرم کی یہ کاروائی بآسانی دیکھ سکے۔
ازلان قہقہے لگاتا حرم کو دیکھ رہا تھا جو اپنی پیشانی ہاتھ سے مسل رہی تھی۔
“ازلان سہی کہتا ہے اندھی ہوں میں۔۔۔۔۔”
تکلیف کے باعث حرم نے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں پاؤں ابھی بھی چل رہے تھے امید تھی کہ وہ اگلے ستون سے بھی ٹکرا جاےُ۔
آمنہ میسج ٹائپ کرتی اس کے عقب میں ہی رک گئی تھی اور اس کاروائی سے انجان تھی۔
حرم خود کو کوستی چلتی جا رہی تھی اور پھر سے ستون سے ٹکرا گئی۔
“ہاےُ اللہ،۔۔۔۔۔”
حرم ستون کو گھورتی ہوئی کراہنے لگی۔
“آج کا دن ہی منحوس ہے۔۔۔۔۔”
حرم چہرہ موڑ کر آمنہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان اور اس کے گروپ کے قہقہے بند ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
حرم منہ بسورتی اپنی پیشانی مسل رہی تھی جب آمنہ اس کے مقابل آئی۔
“رک کیوں گئیں؟۔۔۔۔۔”
وہ حرم کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“نہ رکتی تو شاید تیسرا ایکسیڈنٹ ہو جاتا۔۔۔۔”
حرم اسے گھور کر بولی۔
“ایکسیڈنٹ!۔۔۔۔”
آمنہ تعجب سے بولی۔
“یہ میرا سر نظر نہیں آ رہا؟۔۔۔۔”
حرم پیشانی سے ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی۔
آمنہ غور سے اس کی پیشانی دیکھنے لگی جو وسط سے سرخ ہو رہی تھی۔
“میں نے کہا تھا نہ بیٹھ کر لگا لو حساب؟۔۔۔۔”
وہ تیکھے تیور لئے بولی۔
“اب تو ہو گیا اب کیا فائدہ کہنے کا۔۔۔۔۔”
حرم منہ بناتی چلنے لگی۔
“بیگم صاحبہ اب دیکھ کر چلنا۔۔۔۔”
ازلان اسکے پاس سے گزرتا ہوا اس کے کان کے قریب ہو کر بولا۔
حرم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“حد ہے اسنے بھی دیکھ لیا, حرم تمہارا دماغ ہی خراب ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم پھر سے خود کو کوستی چلنے لگی۔
“تمہارے ابو سے بات ہوئی ہے میری وہ کہتے کہ اقراء گھر نہیں آئی! پھر کہاں گئی تھی تم؟۔۔۔۔۔”
چوکیدار اونچی آواز میں بول رہا تھا۔
حرم پیشانی پر بل ڈالے انہیں دیکھنے لگی۔
“انکل میں گھر ہی گئی تھی۔۔۔۔”
وہ زور دے کر بولی۔
“جھوٹ مت بولو میڈم کے سامنے مجھے جوابدہ ہونا پڑتا ہے تم ایسا کرو اِدھر رکو میں فون کرتا ہوں تمہارے گھر میں بھی اور میڈم کو بھی بلاتا ہوں خود ہی دیکھیں گیں آب تمہیں۔۔۔۔۔”
چوکیدار فون نکالتا ہوا بولا۔
حرم جھرجھری لیتی اندر آ گئی۔
“یار ہمارے ہاسٹل میں کتنے واقعات ہو رہے ہیں نہ ایسے۔۔۔۔۔”
حرم کمرے میں آتی بیگ رکھتی ہوئی بولی۔
“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میں تمہیں ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی لڑکی کا بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔”
ذوناش آگے ہوتی ہوئی بولی۔
“کیا ہوا ذونی؟۔۔۔۔۔”
آمنہ اس کے سامنے بیٹھتی ہوئی تجسس سے بولی۔
“تم نے وہ لڑکی دیکھی ہے موٹی سی گوری سی جس نے ڈانس میں حصہ بھی لیا تھا۔۔۔۔۔”
ذوناش دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم اور آمنہ نفی میں سر ہلانے لگیں۔
“یار وہ جو عثمان نامی لڑکے کے ساتھ اکثر گھومتی نظر آتی ہے جو کوےُ جیسا ہے میرا مطلب کالا سا ڈھانچہ نما۔۔۔۔۔۔”
اب کی بار انشرح نقشہ کھینچتی ہوئی بولی۔
“ہاں یاد آ گیا۔۔۔۔۔”
حرم ہنستی ہوئی بولی۔
“میں نے تمہیں کہا تھا نہ کوےُ سے یاد آےُ گا۔۔۔۔۔”
انشرح ہمیشہ اس لڑکے کو کوا کہتی تھی۔
“اچھا سنو کل معلوم ہوا وہ لڑکی پریگنیٹ ہے۔۔۔۔۔۔”
ذوناش پوری آنکھیں کھولے دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم اور آمنہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔
“یار مذاق نہ کر۔۔۔۔۔”
آمنہ اعتباری سے بولی۔
“ایسا مذاق کوئی کرتا ہے کیا؟۔۔۔۔۔”
انشرح آمنہ کو گھورتی ہوئی بولی۔
“مجھے تو اپنی یونی کے سٹوڈنٹس کو دیکض کر ہی ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔”
حرم حونق ذدہ سی بولی۔
“تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے تمہارا شوہر بھی تو وہیں ہوتا ہے۔۔۔۔”
ذوناش طعنہ دیتی ہوئی بولی۔
“ہوتا تو ہے لیکن پھر بھی۔۔۔۔۔۔”
حرم ازلان کے ذکر پر خود میں سمٹ گئ۔
“اور ہاں میں بتانا بھول گئی ازلان کہہ رہا تھا آج پارٹی ہے اسکے فارم ہاؤس پر ہم ہاسٹل سے مارکیٹ جانے کا بولیں گے اور وہ ہمیں پک کر لیں گے۔۔۔۔۔”
ذوناش کہہ کر سب کو دیکھنے لگی۔
“ازلان مجھے بھی تو کہہ سکتا تھا نہ۔۔۔۔۔”
حرم دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھی۔
“اب ٹائم پر تیار ہو جانا سب یہ پارٹی وہ اپنی جیت کی خوشی میں دے رہا ہے۔۔۔۔۔”
ذوناش الماری کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ میں اپنے کپڑے ڈھونڈوں پتہ نہیں کون سے کونوں کھدروں میں پڑے ہوں گے۔۔۔۔۔” انشرح جست لگاتی بیڈ سے اتر گئ۔
حرم خاموش ہو گئی تھی۔
“اس طرح سے جانا مناسب ہے بھی یا نہیں، اللہ جانے۔۔۔۔۔”
حرم کے چہرے پر خوف کی لکریں تھیں۔
****///////****
“شکر ہے تم نے بھی شکل دکھائی ورنہ میں تو سوچ رہا تھا بھول گئے ہو۔۔۔۔۔۔”
برہان خفگی سے بولا۔
“آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں میں بس بھائی نے بزنس میں مصروف کر دیا ہے پھر خود نگرانی کر رہے میری۔۔۔۔۔”
شاہ ویز منہ بسورتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا پاؤں ٹیبل پر رکھ لئے اس طرح کہ دونوں پاؤں آپس میں ضرب کھا رہے تھے۔
“مصطفی ٹھیک نہیں کر رہا ویسے۔۔۔۔۔”
برہان سیگرٹ کا کش لیتا ہوا بولا۔
“یار بھائی بلکہ سب گھر والے کیوں آپ سے دور رکھتے ہیں مجھے؟۔۔۔۔۔”
شاہ ویز الجھ کر بولا۔
“جب سے وہ کار حادثہ ہوا کے اس کے بعد سے شاہ ایسے کرتا ہے جبکہ کسی زمانے میں ہم بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے۔۔۔۔۔”
برہان تاسف سے بولا۔
“پھر اب کیوں نہیں ہیں؟۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
“میں خود بھی لاعلم ہوں یہ تو شاہ بتا سکتا ہے۔۔۔۔۔”
برہان بےچارگی سے شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“ہماری اتنی اچھی دوستی ہے اور بھائی ہمیشہ میرے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔وجہ میں بھی جان کر رہوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز باغی ہو رہا تھا۔
“ہاں تمہیں ضرور پوچھنا چائیے۔۔۔۔۔”
برہان شاہ ویز کو دیکھتا ہوا بولا جس کے چہرے پر برہمی کا آثار تھے۔
شاہ ویز بنا کچھ کہے اٹھ کر چلا گیا۔
وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ عینی کی کال آنے لگی۔
“ہاں بولو عینی؟۔۔۔۔۔”
شاہ ویز کے چہرے پر خفگی طاری تھی۔
“شاہ ویز تم اپنے گھر کب بات کرو گے مجھے لگتا ہے ہمیں اب منگنی کر لینی چائیے۔۔۔۔۔”
عینی فکرمندی سے بولی۔
“عینی دیکھو فلحال میں یہ منگنی شادی ان مصیبتوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز بیزاری سے بولا۔
“شاہ ویز تمہارے لئے شادی مصیبت ہے!۔۔۔۔”
عینی کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
“اور کیا ہے یہ لائف اچھی ہے آرام سے مزے کرو وہ کیا ذمہ داری سر لے لو۔۔۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا ہوا بولا۔
“تم نے پہلے تو ایسا کبھی نہیں کہا۔۔۔۔”
عینی ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولی۔
“تو بےبی تم کیوں اس سب کے بارے میں سوچ رہی ہو میں تم سے پیار کرتا ہوں اور تم مجھ سے بس بات ختم یہ شادی ابھی سوچنے کی چیز نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز خود بھی الجھا ہوا تھا۔
“اچھا یہ بتا دو شادی مجھ سے ہی کرو گے نہ؟۔۔۔۔”
عینی نے خدشہ ظاہر کیا۔
“ظاہر ہے تم سے ہی کروں گا اور میں نے ہمسایوں کی لڑکی سے کرنی ہے۔۔۔۔۔”
شاہ ویز اکتا کر بولا۔
“بس پھر ٹھیک ہے میں انتظار کر لوں گی۔۔۔۔۔”
عینی خوشی سے نہال ہو گئی۔
“ابھی باہر ہوں گھر جا کر بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔”
شاہ ویز نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
“بیوقوف کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ہم شاہ لوگ خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے اور میں اس جیسی لڑکی سے شادی کروں گا جس کا کوئی کریکٹر ہی نہیں ہے پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے جو میرے ساتھ پوری پوری رات گزارتی ہے نجانے کس کس کو پھنسا رکھا ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ ویز ہنکار بھرتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
****///////****
“سن لو شاہ چھوٹا پھر اس برہان کے ساتھ ہے آج۔۔۔۔۔” کمال صاحب گرج دار آواز میں بولے۔
“جی میرے علم میں بھی آیا ہے آپ فکر مت کریں اس کا علاج کرتا ہوں یہ ایسے نہیں مانے گا۔۔۔۔۔”
شاہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“اور حرم کا بھی خیال رکھنا تھا ٹھیک ہے نہ وہ۔۔۔۔۔”
کمال صاحب ذومعنی جملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے بولے۔
“جی میں نے چوکیدار کو خاص تاکید کی ہے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ویسے بھی مجھے بھروسہ ہے اپنی بہن پر۔۔۔۔۔”
شاہ کے لہجے میں مان تھا۔
“یہ لو دودھ پی لو بادام والا۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کمرے میں آتی ہوئیں بولیں۔
ملازمہ نے ٹرے شاہ کے آگے کر دی۔
“امی میں بچہ نہیں ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“تم رکھ کر جاؤ باہر۔۔۔۔۔”
وہ ملازمہ کی جانب متوجہ ہوئی ہوئیں بولیں۔
“ماں باپ کے لئے بچے ساری عمر چھوٹے ہی رہتے ہیں سارا دن کام کاج میں لگو رہتے ہو دیکھو دبلے ہو گئے ہو اپنی صحت کا خیال ہی نہیں رکھتے بیوی ہو تو تمہارے کان کھینچے۔۔۔۔۔”
وہ خفگی سے بولیں۔
شاہ تیوری چڑھا کر انہیں دیکھنے لگا۔
گلاس پکڑتا ہاتھ ہوا میں معلق ہو گیا۔
“بیگم سوچ کر بولا کریں۔۔۔۔۔”
کمال صاحب ناراض ناراض سے بولے۔
ضوفشاں بیگم گڑبڑا کر شاہ کو دیکھنے لگی۔
“میرے بس منہ سے نکل جاتا ہے عمر ہو گئی ہے نہ۔۔۔۔۔”
وہ سنبھل کر بولیں۔
“اچھے سے جانتا ہوں باقی معاملات میں تو یہ عمر آڑے نہیں آتی۔۔۔۔۔”
شاہ انہیں گھورتا ہوا بولا۔
“اچھا اب پکڑ لو گلاس ہر وقت ماں کے پیچھے پڑے رہتے ہو۔۔۔۔”
وہ منہ بناتی ہوئیں بولیں۔
“بات وہی کریں جو بنتی ہو بلاوجہ اپنے دماغ پر زور مت ڈالا کریں۔۔۔۔۔”
شاہ گلاس اٹھاتا ہوا بولا۔
“میں سمجھاؤں گا تم پیو۔۔۔۔”
کمال صاحب شاہ کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوےُ بولے۔
“بابا سائیں آج مجھے کچھ کام ہے عشاء کی نماز پڑھ کر میں چلا جاؤں گا کل پھر چھوٹے کو دیکھوں گا۔۔۔۔۔”
شاہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“چلو ٹھیک ہے جیسے تمہارے لئے آسانی ہو۔۔۔۔۔”
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
شاہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
بازو آگے کر کے گھڑی پر ٹائم دیکھا۔
“پانج منٹ ہیں جماعت کھڑی ہونے میں نماز پڑھ کر مہر کے پاس جاتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا حویلی سے باہر نکل آیا۔
مسجد سے باہر نکل کر شاہ نے اپنی گاڑی کا رخ کیا۔
سردی کے باعث کندھے پر شال اوڑھ رکھی تھی۔
شاہ اپنی شال درست کرتا اندر کی جانب قدم بڑھانے لگا۔
آج شاہ سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا جو اس کی شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی۔
جونہی وہ لاؤنج میں آیا نظر مہر سے ٹکرائی جو کمرے کے دروازے کے باہر بیٹھی تھی۔
“مہر یہاں کیوں سو رہی ہے! ۔۔”
شاہ تعجب سے بولتا اس کے پاس آ گیا۔
“مہر؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کا رخسار تھپتھپاتا ہوا بولا۔
“مہر یہاں کیا کر رہی ہو؟۔۔۔۔۔۔”
شاہ کو اس کا یہاں بیٹھنا سمجھ نہ آیا۔
مہر ہلکی ہلکی آنکھیں کھول رہی تھی۔
مہر کا جسم برف ہو رہا تھا۔
شاہ نے مزید وقت کا ضیاع کئے بنا اس کو بازوؤں میں اٹھا لیا۔
شاہ کی خوشبو مہر کے نتھنوں سے اندر داخل ہونے لگی۔
شاہ کا لمس محسوس ہوا, مہر نے پوری آنکھیں کھول دیں۔
شاہ کا چہرہ اس کے چہرے کے قریب ترین تھا۔
مہر آنکھیں سکیڑ کر شاہ کو دیکھنے لگی جو بیڈ کے پاس آ رہا تھا۔
مہر کو بیڈ پر لٹایا، اس پر لحاف اوڑھ کر اس کے سرہانے بیٹھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: