Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 8

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 8

–**–**–

شاہ نے تکیے پر بازو رکھی، اپنا چہرہ مہر کے چہرے کے قریب لے آیا۔
مہر پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہی تھی۔
“مجھے یہ بتاؤ وہ کون سی جگہ ہے سونے کی؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“تمہیں کیا میں جہاں مرضی سوؤں؟۔۔۔۔۔”
مہر خفا خفا سی بولی۔
شاہ اس کی بھوری جھیل سی گہری آنکھوں میں ڈوبتا جا رہا تھا۔
“تمہاری چھوٹی سی ناک پر ہمیشہ غصہ سوار رہتا ہے۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“پیچھے ہٹو۔۔۔۔”
مہر اس کے سینے پر شہادت کی انگلی رکھتی ہوئی بولی۔
“کیوں؟۔۔۔۔۔”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
“کیونکہ میں کہ رہی ہوں۔۔۔۔۔”
مہر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا بولے۔
شاہ کی قربت میں وہ پگھلنے لگتی تھی۔
تپتی دھوپ کے صحرا میں شاہ سائباں لگتا تھا بلکل اسی چشمے کی مانند جو صحرا میں آنکھوں کی ڈھنڈک محسوس ہوتا ہے۔
“میں تمہارا حکم ماننے کا پابند نہیں۔۔۔۔”
شاہ اس کے نرم و نازک ہاتھ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“میں بھی تمہارا حکم ماننے کی روادار نہیں۔۔۔۔۔”
مہر اپنا ہاتھ کھینچتی ہوئی بولی۔
“جب جب تم ایسا کرتی ہو نہ بہت بری لگتی ہو میں تمہارے پاس آتا ہوں سکون کی خاطر لیکن تم میرا رہا سہا سکون بھی غارت کر دیتی ہو۔۔۔۔۔”
شاہ برہمی سے بولتا پیچھے ہو گیا۔
مہر مسکراتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
“لیکن تم پھر بھی ڈھیٹ بن کر آ جاتے ہو۔۔۔۔۔”
مہر اپنے منتشر بالوں کو سمیٹتی ہوئی بولی۔
شاہ نے ایک قہر آلود نظر مہر پر ڈالی۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔”
مہر بال باندھتی ڈھٹائی سے بولی۔
“شاہ کلس کر دوسری جانب دیکھنے لگا۔
“کب تمہیں تمیز آےُ گئی؟۔۔۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑتا ہوا بولا۔
“جو تمہارا حال ہے اس لحاظ سے تو کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔”
مہر دل جلانے والی مسکراہٹ اچھالتی ہوئی بولی۔
شاہ دانت پیستا مہر کو گھورنے لگا۔
“کیا ہوا غصہ آ رہا ہے؟۔۔۔۔۔”
مہر پتلیاں سکیڑ کر بولی۔
آج مہر نے اسے ستانے کا قصد کر رکھا تھا۔
“بلکل بھی نہیں۔۔۔۔۔”
شاہ مسکرا کر اس کے بال کھولتا ہوا بولا۔
شاہ مہر کا چہرہ حرف بہ حرف پڑھ رہا تھا۔
مہر کی مسکان پھیکی پڑی پھر اشتعال انگیز آنکھوں سے شاہ کو گھورنے لگی۔
مہر اپنی بازو آزاد کروا کر بیڈ سے نیچے اتر گئی۔
اس سے قبل کہ وہ کمرے سے باہر نکلتی شاہ اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔
“کیا مسئلہ ہے؟۔۔۔۔۔”
مہر تیکھے تیور لئے بولی۔
“پتہ ہے میری چھٹی حس کہتی ہے تمہیں مجھ سے محبت ہو جاےُ گی۔۔۔۔۔۔”
شاہ اسے اپنے قریب کرتا ہوا بولا۔
“تمہاری خوش فہمی ہے۔۔۔۔۔۔”
مہر استہزائیہ ہنسی۔
شاہ نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھے اور اسے سینے سے لگا لیا۔
“ایک دن ایسا ضرور ہو گا اور تب تمہارے لبوں پر صرف شاہ کا نام ہو گا میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
بلا کا اعتماد تھا اس کے لہجے میں۔
مہر کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہیں تھیں۔
وہ معمول سے ہٹ کر عجیب ہی لے پر دھڑک رہیں تھیں۔
مہر کو اپنی دھڑکنیں سنائیں دے رہیں تھیں مانو دل ابھی باہر نکل آےُ گا۔
“اگر سچ میں مجھے شاہ سے محبت ہو گئی پھر؟ یہ نزدیکیاں کسی تباہی کا پیش خیمہ ہیں۔۔۔۔۔”
مہر اس کے سینے سے لگی سوچ رہی تھی۔
عجیب ہی فطور تھا شاہ کی قربت کا،
مہر ریزہ ریزہ ہو رہی تھی وہ شکست نہیں چاہتی تھی لیکن شاہ کی قربت میں دل بے قابو ہو رہا تھا بغاوت پر اتر رہا تھا۔
مہر کی دھڑکنیں شاہ کی دھڑکنوں کے سنگ چلنا سیکھنے لگیں تھیں۔
یہ شاہ کا سرور تھا جو مہر کو چاروں شانے چت کر رہا تھا ستم ظریفی یہ کہ وہ مزاحمت بھی نہ کر پا رہی تھی چونکہ دل ہی دشمن جاں سے جا ملا تھا۔
“شاہ مجھے چھوڑو۔۔۔۔۔”
مہر آنکھیں کھولتی اس کی گرفت میں کسمسائی۔
“یہ شاہ کی گرفت ہے آزاد کروا سکتی ہو تو کروا لو۔۔۔۔۔”
شاہ کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ احاطہ کئے ہوۓ تھی۔
“پلیز۔۔۔۔”
مہر ایک جنگ شاہ سے لڑ رہی تھی تو دوسری اپنے دل سے اور ان دونوں کے بیچ وہ نڈھال ہو رہی تھی۔
“جب شاہ کا دل کرے گا تمہیں آزاد کر دے گا ابھی میں ایسا قصد نہیں رکھتا۔۔۔۔۔”
شاہ کو اس کا جھکنا لطف دے رہا تھا۔
اس کا غرور ہی تو توڑنا چاہتا تھا وہ۔
“کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔”
مہر اس کی دھڑکنیں سن رہی تھی۔
“تمہیں زیر کرنا۔۔۔۔۔۔”
شاہ محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“ایسا کبھی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔”
شاہ کی گرفت کمزور ہوتی دیکھ کر مہر نے اسے خود سے پرے کر دیا۔
“بہت غلط بات ہے۔۔۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“مجھے بھوک لگی ہے خبردار اگر مجھے روکا تو۔۔۔۔۔”
مہر پیشانی پر بل ڈالے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑتی ہوئی بولی۔
شاہ نے مسکراتے ہوۓ اسے راستہ دے دیا۔
مہر سر جھٹکتی باہر نکل گئی۔
****////////****
حرم آس پاس نگاہ دوڑاتی قدم اٹھا رہی تھی۔
تیز روشنیوں میں اسے سب کھڑے دکھائی دئیے۔
“آمنہ اگر کوئی مسئلہ ہو گیا پھر۔۔۔۔”
حرم خوف کے زیر اثر بولی۔
“یار نہیں کچھ ہوتا تم کیوں فکر کر رہی ہو اور ذونی بتا رہی تھی ازلان نے کہا تھا کہ حرم لازمی آےُ۔۔۔۔۔”
حرم بےبسی سے دیکھتی چلنے لگی۔
حرم،آمنہ اور انشرح کرسیوں پر ٹک گئیں ان کے برعکس ذوناش ازلان کے گروپ کے آس پاس دکھائی دے رہی تھی۔
زیادہ سٹوڈنٹس نہیں تھے کچھ کلاس فیلو تھے اور کچھ دوسرے۔
ازلان سب کے ساتھ کھڑا تھا۔
ازلان گاہے بگاہے حرم پر ایک نگاہ ڈالتا اور پھر سے محو گفتگو ہو جاتا۔
حرم خود کو ان فٹ محسوس کر رہی تھی۔
ازلان مسکراتا ہوا ان کے پاس آیا۔
“ہیلو!۔۔۔۔”
حرم کو دیکھتا ہوا بولا جو چہرہ جھکاےُ بیٹھی تھی۔
“حرم؟۔۔۔۔۔”
آمنہ اور انشرح نے ازلان سے رسمی جملوں کا تبادلہ کر لیا تو ازلان اسے گھورتا ہوا بولا۔
حرم سیاہ بالوں کو کھولے ہوۓ تھی لائٹ سی لپ اسٹک لگا کر ہی وہ جاذب نظر لگ رہی تھی۔
ازلان کا دل چاہ رہا تھا اسے قریب سے دیکھے شاید یہ رشتے کے باعث تھا دل عجیب عجیب خواہشیں کرنے لگا۔
حرم چہرہ جھکاےُ انگلیاں مڑور رہی تھی۔
“حرم میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔”
ازلان ضبط کرتا ہوا بولا۔
حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
جھوٹ بول کر پارٹی میں آنا حرم کو مناسب نہیں لگ رہا تھا اس کا ذمہ دار وہ ازلان کو ٹھرا رہی تھی تبھی اس کی جانب دیکھنے سے بھی گریز برت رہی تھی۔
ازلان پیچ و تاب کھاتا وہاں سے چل دیا۔
“ہاسٹل کب جائیں گے؟۔۔۔۔۔”
ازلان کے جاتے ہی حرم دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“پتہ نہیں ذوناش کو معلوم ہو گا۔۔۔۔۔”
انشرح لا علمی سے شانے اچکاتی ہوئی بولی۔
حرم فکرمندی سے فون کو دیکھنے لگی۔
گھڑی کی سوئیاں چل رہیں تھیں اور وقت بیت رہا تھا۔
سب کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
حرم کی شرٹ پر بوتل گر گئی تو وہ صاف کرنے کی غرض سے اندر کی جانب چلنے لگی۔
ازلان کی نظروں سے وہ محفوظ نہ رہ سکی۔
ازلان بھی اس کے پیچھے چل دیا۔
“واش روم اسی سائیڈ پر کہا تھا۔۔۔۔۔”
حرم سمت کا تعین کرتی ہوئی بولی۔
اسی اثنا میں کسی نے حرم کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچا۔
حرم اس افتاد پر بوکھلا گئی۔
آنکھوں کی پتلیوں میں تحیر سمٹ آیا،
دھڑکنیں تیز ہو گئیں لیکن جیسے ہی نظر ازلان کے خفگی بھرے چہرے پر پڑی تو اعصاب ڈھیلے پڑے۔
“تم!۔۔۔۔۔۔”
حرم ششدہ سی بولی دائیں بائیں دیکھنے لگی۔
ازلان نے اسے ستون کے ساتھ لگا رکھا تھا۔
“جب میں تمہیں مخاطب کر رہا تھا جواب کیوں نہیں دیا تم نے؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان اس کی دونوں بازو دبوچتا ہوا بولا۔
ازلان کی گرفت پر حرم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
حرم خاموش اسے دیکھنے لگی۔
“پارٹی میری تھی تم مجھ سے ملنے نہیں آئی اور جب میں خود چل کر آیا تم نے جواب دینا گوارا نہیں کیا۔۔۔۔۔”
ازلان برہمی کا اظہار کر رہا تھا۔
“می مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔”
حرم کی کمزور سی آواز گونجی۔
“مجھ سے؟۔۔۔۔۔”
ازلان اپنے سینے پر شہادت کی انگلی رکھتا ہوا بولا۔
حرم نم آنکھوں سے دیکھتی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“پھر؟۔۔۔۔۔۔”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
حرم گھبراتی ہوئی ہاتھ مسلنے لگی۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟۔۔۔۔۔”
ازلان زور سے بولا۔
حرم نفی میں سر ہلاتی الٹے قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔
“کیا؟۔۔۔۔۔”
ازلان حرم کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
ازلان کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
حرم عقب میں دیکھے بنا قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔
ازلان نے آگے بڑھ کر حرم کا ہاتھ تھام لیا ورنہ وہ سوئمنگ پول میں گر جاتی۔
حرم گردن موڑ کر عقب میں دیکھتی پھر ازلان کو دیکھنے لگی۔
“چھوڑ دوں؟۔۔۔۔۔”
ازلان خفگی سے دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نے پھر سے چہرہ موڑ کر نیلے شفاف پانی کو دیکھا۔
“مجھے تیرنا نہیں آتا۔۔۔۔۔”
حرم ازلان کی جانب رخ موڑتی ہوئی بولی۔
“میں سیکھا دوں گا۔۔۔۔”
ازلان شرارت سے بولا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
ازلان نے مسکراتے ہوۓ اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔
“یہاں بیٹھو میرے ساتھ۔۔۔۔۔”
ازلان نیچے بیٹھتا ہوا بولا۔
شوز اتار کر سائیڈ پر رکھے اور پاؤں پانی میں ڈال دئیے۔
حرم کشمکش میں مبتلا تھی۔
“حرم میں خود تمہیں پانی میں پھینک دوں گا بیٹھوں جلدی۔۔۔”
ازلان اسے گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔
“مجھے ہاسٹل جانا ہے۔۔۔۔”
حرم التجائیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“میں خود چھوڑ آؤں گا ابھی دو منٹ کے لئے بیٹھو۔۔۔۔”
ازلان نرمی سے بولا۔
حرم ہچکچاتی ہوئی اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
“پہلے مجھے بتاؤ ڈر کیوں لگ رہا ہے؟”
ازلان ایک نظر حرم پر ڈالتا پانی کو دیکھنے لگا۔
“ہم جھوٹ بول کر آئیں ہیں نہ اگر چوکیدار انکل کو معلوم ہو گیا اور بھائی کو بتا دیا پھر؟”
حرم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“کچھ نہیں کرتا وہ چوکیدار میں دیکھ لوں گا اسے۔۔۔۔”
ازلان سر جھٹکتا ہوا بولا۔
“نہیں اسے کچھ مت کہنا میں جانتی ہوں بھائی نے اس سے بات کی ہو گی پلیز۔۔۔۔”
حرم اس کی جیکٹ کی آستین کھینچتی ہوئی بولی۔
“اپنے پاؤں ڈالو اس میں۔۔۔۔”
ازلان کا دل عجیب و غریب سی خواہشیں دھر رہا تھا۔
حرم پتلیاں سکیڑے اسے تعجب سے دیکھنے لگی۔
“سردی لگ جاےُ گی۔۔۔۔۔”
حرم نے بہانہ بنایا۔
“پانی گرم ہے پاؤں ڈال کر دیکھو؟”
ازلان بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نے اسے دیکھتے ہوۓ پاؤں پول میں ڈال دئیے۔
“اب مجھے یہ بتاؤ مجھ سے اتنے فاصلے پے کیوں بیٹھی ہو؟”
ازلان اس کی جانب جھکتا آنکھیں چھوٹی کرتا ہوا بولا۔
“ابھی اس نکاح کا کسی کو علم نہیں اس لئے۔۔۔۔”
حرم مختصر کہہ کر اسے دیکھنے لگی۔
ازلان یک ٹک حرم کے چہرے کو دیکھ رہا تھا وہ معصوم بھولی سی گڑیا اسے اچھی لگنے لگی تھی۔
“لیکن اگر میں تھوڑا سا حق استعمال کر لوں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔۔۔۔”
ازلان اس کا بائیاں ہاتھ اپنے میں لیتا ہوا بولا۔
ازلان کے لمس پر حرم اچھل پڑی۔
“میرا ہاتھ کیو کیوں پکڑ لیا ہے؟”
حرم بوکھلا کر اسے دیکھنے لگی۔
“کیوں گناہ کر دیا ہے؟”
ازلان معصومیت سے بولا۔
حرم نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال لیا۔
“مجھے یہ سب نہیں پسند نا ہی مناسب لگتا ہے۔۔۔۔”
حرم چہرہ جھکا کر بولی۔
“پھر کیا پسند ہے تمہیں؟”
بے اختیار ازلان کے لبوں سے پھسلا۔
“بھائی کے ساتھ کھیتوں میں جانا، ان کے ساتھ مل کر پھل کھانا۔۔۔۔”
حرم پرانے دن یاد کرتی حسرت سے بولی۔
“اور میرے ساتھ؟”
ازلان اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔
“آپ کے ساتھ؟”
حرم نے زیر لب دہرایا۔
ازلان اس کے جواب کا منتظر تھا۔
“پتہ نہیں۔۔۔۔”
حرم شانے اچکاتی پانی کو دیکھنے لگی۔
“تمہیں پانی میں گرا دینا ہے میں نے پھر بچانے بھی نہیں آؤں گا۔۔۔۔”
ازلان خفگی سے دیکھتا ہوا بولا۔
“مجھے اب ہاسٹل چھوڑ آئیں زیادہ دیر ہو گئی تو مسئلہ ہو جاےُ گا۔۔۔”
حرم اس کی بات نظر انداز کرتی ہوئی بولی۔
ازلان لمحہ بھر کو رکا پھر پاؤں باہر نکال لیے۔
“ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔”
حرم کو دیکھتا ہوا بولا جس کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
حرم ازلان کے ہمراہ چل رہی تھی۔
وہ بار بار اپنے ہاتھ کو دیکھتی جا رہی تھی۔
ازلان کا لمس وہ ابھی تک محسوس کر رہی تھی جیسے ہاتھ ابھی بھی اس کی گرفت میں ہو۔
****///////****
‘”تیار ہو گئی ہے یہ؟”
زلیخا بیگم سرد مہری سے بولیں۔
“جی بیگم صاحبہ۔۔۔۔”
بانی کی بجاےُ حرائمہ بولی۔
زلیخا بیگم تعجب سے اسے دیکھنے لگیں۔
“آخر سیدھی ہو ہی گئی تم۔ اور ہاں بانی آج مجرا نہیں کرنا اس نے۔ تو اسے کمرے میں لے جا چودھری عنایت حسین کے لئے جو تیار ہے۔۔۔”
وہ بانی کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔
حرائمہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔
پھر مہر کی بات یاد آئی کہ یہاں سے نکلنے کے عوض انہیں خوش کرنا ہو گا۔
خون کے آنسو پیتی حرائمہ خود پر قفل لگانے لگی۔
بانی حرائمہ کی بازو پکڑے چلنے لگی۔
“اللہ پاک پلیز کوئی معجزہ ہو جاےُ میں اس درندے سے بچ جاؤں پلیز۔۔”
حرائمہ دل ہی دل میں دعا گو تھی۔
“یاد رکھنا اگر کوئی الٹی سیدھی حرکت کی تو؟”
بانی انگلی اٹھاےُ تنبیہ کرنے لگی۔
“کچھ نہیں کرتی۔۔۔۔”
حرائمہ چہرہ جھکاےُ اندر کی جانب چلتی ہوئی بولی۔
اپنے سامنے ایک عمر رسیدہ آدمی کو دیکھ کر حرائمہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا وہ اس کے باپ کی عمر کا ہو گا۔
“اللہ پاک کیا ایسے لوگوں کو آپ کا خوف نہیں ہوتا؟”
حرائمہ نم ہوتی آنکھوں سے اس آدمی کو دیکھ رہی تھی جو قمیض اتارے بیڈ پر بیٹھا تھا۔
ضبط کے باوجود آنسو نکلنے کو بےتاب ہو رہے تھے۔
حرائمہ نے چہرہ جھکا کر آنکھیں صاف کیں اور قدم بڑھانے لگی۔
****///////****
“شاہ کسی انجان نمبر سے کال آئی تھی؟”
مہر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔
“میں انجان نمبر سے کم ہی کال اٹینڈ کرتا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ لاپرواہی سے بولا۔
“شاہ میں نے حرائمہ کو نمبر دیا تھا تاکہ وہ فون کرے۔۔۔۔”
مہر کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئیں۔
“تو؟”
شاہ بولتا ہوا اس کے مقابل آ بیٹھا۔
“آپ کتنے بے حس ہیں؟”
بےساختہ مہر کے لبوں سے آپ نکلا تو وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی۔
البتہ چہرے پر ناگواری تھی۔
“تمہیں لے کر آیا ہوں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باقی ساری دنیا کو بھی اٹھا لاؤں۔۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“پھر اپنا فون مجھے دو؟”
مہر اس کی بازو کھینچتی ہوئی آرزدگی سے بولی۔
“تمہارے سارے مطالبے مسترد کرتا ہوں میں۔۔۔۔”
شاہ چہرہ موڑ کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔
مہر آنکھوں کی پتلیاں سکیڑے اسے گھورنے لگی۔
“دوبارہ اس گھر میں نظر نہ آؤ۔۔۔۔”
مہر اس کی آنکھوں میں دیکھتی پلیٹ پرے کرتی چلی گئی۔
“نخرے تو ایسے دکھاتی ہو جیسے ملکہ ہو۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا اس کے پیچھے چل دیا۔
اس سے پہلے شاہ کمرے میں قدم رکھتا مہر نے اس کے منہ پر دروازہ بند کر دیا۔
شاہ ناک رگڑتا پیچھے ہو گیا۔
“مہر دروازہ کھولو۔۔۔۔”
شاہ دروازہ بجاتا ہوا بولا۔
مہر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔
“مہر تمہیں سنائی نہیں دے رہا دروازہ کھولو۔۔۔۔۔”
شاہ تاؤ کھاتا ہوا بولا۔
مہر نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
نا چار شاہ کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔
“اچھا یار نکال لینا اسے باہر اب کھولو دروازہ۔۔۔۔”
شاہ کے کہنے کی دیر تھی کہ مہر نے دروازہ کھول دیا۔
شاہ اسے گھورتا ہوا اندر آ گیا۔
****////////****
گناہوں کی اندھیری رات ڈھلی تو صبح کا اجالا چاروں سمت پھیلنے لگا۔
اپنی کرنوں سے ہر شے کو روشن کرنے لگا۔
حرائمہ جو سویرے کی منتظر تھی اپنی ذات کے ٹکڑے سمیٹتی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔
موت سے پہلے نجانے کتنی بار اسے مرنا تھا۔
“روز روز مرنے سے تو بہتر ہے میں ایک ہی بار مر جاؤں کم از کم اس دلدل سے تو نکل سکوں گی۔۔۔۔”
حرائمہ بپھر گئ۔
تکلیف ایسی تھی جس کا کوئی مداوا نہیں کیا جا سکتا۔
روح پر لگے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوتے۔
یہ ہماری سوچ ہوتی ہے کہ وقت کے ساتھ یہ بھر جائیں گے لیکن سالوں بعد بھی ان سے ویسے ہی خون رستا ہے جیسے پہلی بار بہ رہا تھا۔
****///////****
شاہ ہاتھ صاف کر رہا تھا جب شاہ ویز آیا۔
“کل رات کہاں تھے تم؟”
لہجے میں تمس ، چہرے پر سختی،
وہ چہرے موڑے شاہ ویز کو دیکھ رہا تھا۔
“کہیں بھی نہیں بھائی۔۔۔۔”
شاہ ویز اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا بولا۔
“اب تم جھوٹ بھی بولوں گے مجھ سے؟”
شاہ غرایا۔
“بھائی میں سچ بول رہا ہوں۔۔۔۔۔”
شاہ ویز چہرے پر معصومیت طاری کئے اپنی بات پر قائم رہا۔
“دیکھ لو شاہ تمہاری شہ پر کتنا بگڑ گیا ہے یہ۔۔۔۔”
کمال صاحب طیش میں بولے۔
“تم کل برہان کے ساتھ نہیں تھے؟”
شاہ اس کا گریبان پکڑتا ہوا بولا۔
“جی بھائی۔۔۔۔۔”
شاہ ویز سر جھکاتا ہوا بولا۔
“کن الفاظ میں کہوں جن میں تمہیں سمجھ آ جاےُ؟”
شاہ اسے گریبان سے جھنجھوڑتا ہوا بولا۔
“بھائی آپ کیوں مجھے منع کرتے ہیں بتائیں آج مجھے؟ برہان اتنا اچھا ہے پھر آپ کیوں اس کے مخالف ہیں تو وہ آپ کے بارے میں بھی اچھا بولتا ہے۔۔۔۔”
شاہ ویز ضدی انداز میں بولا۔
“نکلو دوبارہ اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔۔”
شاہ اسے دروازے کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی آپ ٹھیک نہیں کر رہے۔۔۔۔”
شاہ ویز چہرہ موڑ کر بولا۔
“شاہ اسے گھر سے تو مت نکالو۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ان کی آوازیں سن کر اِدھر کو آ نکلیں۔
“جب تمہاری عقل میں ہماری بات آ جاےُ تو واپس آ جانا۔۔۔۔۔”
شاہ چبا چبا کر بولا۔
شاہ ویز گریبان درست کرتا باہر نکل گیا۔
“چھوٹے میری بات سن۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم شاہ ویز کے پیچھے لپکی۔
شاہ نے ماریہ کو اشارہ کیا تو وہ ضوفشاں بیگم کو لے آئی۔
“میرے بچے کو نکال دیا کہاں جاےُ گا وہ؟”
وہ کمال صاحب کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔
“وہ دو سال کا بچہ نہیں ہے دو دن باہر رہے گا عقل ٹھکانے آ جاےُ گی اس برہان نے دماغ خراب کر دیا ہے اس کا۔۔۔۔”
شاہ برہمی سے کہتا زینے چڑھنے لگا۔
برہان کے نام پر ہی اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔
گھڑی کی سوئیاں چلتی جا رہیں تھیں،
لمحے بیت رہے تھے، پرندے اپنی اڑان بھر رہے تھے، حال ماضی بنتا جا رہا تھا کچھ خوبصورت اور کچھ تلخ یادیں کو پیچھے چھوڑتا جا رہا تھا۔
شاہ مسکراتا ہوا کمرے میں آیا۔
دائیں بائیں دیکھا لیکن مہر دکھائی نہ دی۔
کچھ سوچ کر وہ کچن میں آ گیا۔
مہر کو دیکھ کر عنابی لب دم بخود مسکرانے لگے۔
مہر برتن دھو رہی تھی شاہ کی جانب اس کی پشت تھی۔
قدموں کی آہٹ اور شاہ کی خوشبو مہر پہچان گئی۔
مہر کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
لیکن آنکھوں میں حیرانی کا عنصر بھی تھا کیونکہ دوپہر میں وہ آتا نہیں تھا۔
شاہ اس کے عقب میں کھڑا ہو گیا۔
“اس ٹائم، خیریت؟”
مہر اس کی موجودگی محسوس کرتی ہوئی بولی۔
“کیوں اس وقت میرا داخلہ ممنوع ہے؟”
شاہ اس کے شانے پر تھوڑی رکھتا ہوا بولا۔
“جی ہاں ہر چیز اپنے وقت پر اچھی لگتی ہے۔۔۔۔”
مہر اس کی جانب رخ موڑتی ہوئی بولی۔
“لیکن شاہ ہے جو ہر وقت اچھا لگتا ہے۔۔۔۔”
شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اس کی بات مکمل کر دی۔
“خوش فہمی۔۔۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی اس کے سینے پر مکہ جھڑتی ہوئی بولی۔
“کبھی تو ہو گا ایسا۔۔۔۔”
شاہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
مہر نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“ویسے میں سوچ رہا تھا ایک ملازمہ رکھ دوں تمہارے ہاتھ خراب ہو جائیں گے۔۔۔۔”
شاہ اس کے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
“شکر ہے اگر آپ کو خیال آ گیا۔۔۔۔”
مہر خفگی سے بولی۔
شاہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔
“پیچھے ہٹیں مجھے سالن بنانا ہے۔۔۔۔”
مہر اسے خود سے دور کرتی ہوئی بولی۔
“جب میں جاؤں گا پھر بنا لینا۔۔۔۔”
شاہ اس کے قریب ہوتا ہوا بولا۔
“شاہ؟”
مہر اسے گھورتی ہوئی پیچھے ہو گئی۔
عین اسی لمحے شاہ کا فون رنگ کرنے لگا۔
“فون دیکھیں کس کا ہے۔۔۔۔”
مہر اسے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
“میں نہیں اٹھا رہا۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“شاہ اٹھائیں ہو سکتا ہے حرائمہ کا ہو۔۔۔۔”
مہر یاس سے بولی۔
شاہ پیچھے ہوتا پینٹ کی جیب سے فون نکالنے لگا۔
“ہیلو می میں حرائمہ مہر آپی نے کہا تھا فون کرنا میں پارلر آئی ہوئی ہوں۔۔۔۔۔”
ایک ہی سانس میں اس نے سب کہہ ڈالا۔
شاہ نے فون مہر کی جانب بڑھا دیا۔
چہرے پر اکتاہٹ تھی۔
مہر کا چہرہ کھل اٹھا۔
“حرائمہ تم فکر مت کرو میں ابھی آتی ہوں بس تم شک مت ہونے دینا کسی کو۔۔۔۔”
مہر نے عجلت میں کہ کر فون بند کر دیا۔
“چلیں شاہ۔۔۔۔”
مہر اس کی بازو پکڑے چلنے لگی لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلا۔
“شاہ! “
مہر چہرہ موڑے ششدہ سی بولی۔
شاہ منہ بناتا چل دیا۔
مہر نے کمرے سے چادر اٹھائی اور شاہ کے عقب میں چل دی۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں پارلر کے سامنے کھڑے تھے جہاں مہر آیا کرتی تھی۔
“شاہ میں آپ کو کال کر دوں گی۔۔۔۔”
مہر گاڑی کا دروازہ کھولتی ہوئی بولی۔
“دھیان سے۔۔۔۔”
شاہ اس کی بازو پکڑتا ہوا بولا۔
مہر اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔
شاہ سانس خارج کرتا اسے دیکھنے لگی۔
مہر اندر آئی تو حرائمہ سے نظر ٹکرائی۔
بیوٹیشن سے مل کر مہر حرائمہ کو اشارہ کرتی واش روم میں چلی گئی۔
حرائمہ سمجھ کر واش کی جانب چلنے لگی۔
“آپ مجھے لے جائیں گیں نہ؟”
حرائمہ کی آنکھوں میں التجا تھی۔
“ہاں، لیکن پہلے مجھے یہ بتاؤ تمہارے ساتھ اور کون آیا ہے؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“میرے ساتھ سائرہ ہے لیکن ابھی وہ فیشل کرواےُ گی تو نکلنا آسان ہو گا۔۔۔”
“اور جو چھوڑنے آیا تھا وہ؟”
مہر پوری تسلی کرنا چاہتی تھی۔
“اعجاز تھا وہ واپس چلا گیا ہے کیونکہ زیادہ وقت لگے گا تین گھنٹے بعد آےُ گا وہ۔۔۔”
حرائمہ کہہ کر اسے دیکھنے لگی۔
“ٹھیک ہے تم جا کر اپنا کام کرواؤ پھر جیسے ہی موقع ملے گا ہم نکل جائیں گے۔۔۔”
مہر رازداری سے بولی۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔”
حرائمہ کہہ کر باہر نکل گئی۔
“شاہ آپ باہر ہی ہیں نہ؟”
مہر فون کان سے لگاےُ آہستہ سے بولی۔
“ہاں مہر میں گاڑی میں بیٹھا ہوں تم بے فکر ہو کر آ جاؤ۔۔۔۔”
“شاہ میں تقریباً دس منٹ تک آؤں گی آپ گاڑی سٹارٹ رکھنا۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے بس تم آ جاؤ اور خیال سے۔۔۔۔۔”
شاہ کے چہرے پر فکروں نے گھر کر رکھا تھا۔
“جی ٹھیک ہے۔۔۔”
مہر نے کہ کر فون بند کر دیا۔
مہر کو اچھا لگ رہا تھا شاہ کا اس کے لئے فکرمند ہونا۔
دس منٹ بعد مہر باہر نکلی تو حرائمہ فارغ بیٹھی تھی اور سائرہ فیشل کروا رہی تھی۔
مہر نے حرائمہ کو اشارہ کیا تو وہ بنا چاپ پیدا کئے مہر کے آگے نکل گئی۔
وہاں موجود لوگوں کو احساس ہی نہ ہو سکا کہ سب اپنے اپنے کام میں محو تھے۔
مہر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
حرائمہ کو پیچھے بٹھا کر مہر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
شاہ نے گاڑی بھگا دی۔
گاڑی سبک رفتاری سے منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
حرائمہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں، خوف کے باعث چہرہ کا رنگ فق ہو گیا تھا۔
مہر نے بیک مرر سے حرائمہ کو دیکھا۔
“فکر مت کرو بس ابھی ہم پہنچ جائیں گے۔۔۔۔”
مہر نرم مسکراہٹ لئے بولی۔
“حرائمہ آنکھوں میں نمی لئے اثبات میں سر ہلانے لگی۔
شاہ بلکل خاموش تھا۔
مہر نے حرائمہ کو اپنے کمرے سے اگلا کمرہ کھول دیا۔
“اب تم میرے ساتھ رہو گی۔۔۔”
مہر کمرے میں قدم رکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن آپ کے شوہر انہیں شاید ناگوار گزرے۔۔۔”
حرائمہ پریشانی سے گویا ہوئی۔
“تم فکر مت کرو۔ آرام کرو میں شام میں تم سے بات کروں گی۔۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔
شاہ بیڈ پر بیٹھا مہر کا منتظر تھا۔
“اِدھر آؤ۔۔۔”
مہر کو اندر آتے دیکھ کر شاہ گھور کر بولا۔
مہر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے سامنے آ گئی۔
شاہ نے اس کی بازو پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
چہرے پر خفگی طاری تھی۔
“کیا ہوا؟”
مہر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“تم اسے اس گھر میں رکھو گی؟”
شاہ گھورتا ہوا بولا۔
“ظاہر سی بات ہے شاہ وہ کہاں جاےُ گی؟”
مہر ششدہ سی بولی۔
“میں نے تمہیں اپنے پاس رکھا ہے باقی سب میری ذمہ داری نہیں۔۔۔۔”
شاہ بیزاری سے بولا۔
“شاہ اگر وہ بھی دو وقت کا کھانا کھا لے گی تو آپ کے خزانے میں کمی تو نہیں آےُ گی۔۔۔۔”
مہر اس کے شانے پر سر رکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن اس کی وجہ سے ہماری۔۔۔۔”
“کچھ نہیں ہو گا شاہ وہ اپنے کام سے کام رکھے گی ویسے بھی میں اکیلی ہوتی ہوں سارا دن میرا بھی وقت گزر جاےُ گا۔۔۔۔”
مہر اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“اپنی بات منوانے کا ہنر آتا ہے تمہیں۔۔۔۔”
شاہ خفگی سے بولا۔
“آپ کی بھی مانتی ہو نہ؟”
مہر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔۔۔۔”
شاہ سنجیدگی سے بولا۔
“کیا؟”
مہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“میں سوچ رہا تھا تمہیں حویلی لے جاؤں۔۔۔۔”
شاہ اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“لیکن شاہ کس حیثیت سے؟”
مہر الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں چاہتا ہوں تم ہر وقت میرے ساتھ رہو چھپ کر تم سے ملنا وہ بھی تھوڑے سے وقت کے لئے۔۔۔۔”
شاہ بولتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا۔
“مہر نے چہرہ جھکا لیا۔
“کیا ہوا؟”
شاہ دو انگلیوں سے اس کی تھوڑی اوپر کرتا ہوا بولا۔
“شاہ محبت اور پسندیدگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔۔۔۔”
مہر کے لہجے میں چوٹ تھی۔
“مہر میں کچھ نہیں جانتا بس مجھے تم اپنے پاس چائیے۔۔۔۔”
شاہ بضد ہوا۔
“شاہ آپ کو میری خوبصورتی سے مطلب ہے جبکہ ایک فیملی میں رہنے کے لیے شوہر کا ساتھ اور عزت سب سے پہلے ہے۔۔۔۔”
مہر سر جھکاےُ بول رہی تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں عزت نہیں دوں گا؟”
شاہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“ایک طوائف کی عزت کون کرے گا؟”
مہر تلخی سے بولی۔
“جانتی ہو آج میں اس وقت کیوں آیا؟”
شاہ کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ تھی۔
“کیوں؟
مہر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“ڈاکٹر نے رپورٹس بھیجیں تھیں میرے آفس۔ تم ماما بننے والی ہو۔۔۔”
شاہ اس کے چہرے سے بال ہٹاتا ہوا بولا۔
مہر خوشگوار حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“لیکن شاہ۔۔۔
شاہ نے اس کے نازک ہونٹوں پر انگلی رکھ کے خاموش کروا دیا۔
“مہر کبھی مجھ سے بیوفائی مت کرنا۔
مجھ سے محبت کرو یا نہ کرو لیکن مجھ سے وفا ضرور نبھانا۔۔۔۔”
شاہ کی پیشانی مہر کی پیشانی کے ساتھ تھی۔
“شاہ ہمارا رشتہ کیسے چلے گا؟”
مہر فکرمندی سے بولی۔
“میں کچھ دن تک تمہیں حویلی لے جاؤں گا اور تمہیں وہ عزت وہ مان دوں گا جس کی تم حقدار ہو۔۔۔۔”
شاہ نے اپنے تشنہ لب اس کی پیشانی پر اپنے رکھ دئیے۔
شاہ کے لمس پر مہر نے آنکھیں بند کر لیں۔
مہر کا چہرے پرسکون تھا۔
ایک طویل سفر کے بعد میسر آنے والا سکون۔
****////////****
“ازلان پیپر دے دو۔۔۔۔”
حرم اس کا پیپر پکڑتی ہوئی بولی۔
ازلان نے گھورنے پر اکتفا کیا۔
حرم شش و ہمیں مبتلا ہو گئی۔
“پروفیسر ازلان پیپر نہیں دے رہا۔۔۔”
ناچار حرم نے پروفیسر کو مخاطب کیا۔
“کھینچ لیں۔۔۔۔”
وہ پیپرز دیکھتے مصروف سے انداز میں بولے۔
حرم نے پیپر کھینچا تو وہ دو حصوں میں بٹ گیا۔
حرم کا منہ کھل گیا۔
ازلان ششدہ سا پھٹے ہوۓ حصے کو دیکھ رہا تھا۔
نگاہیں پیپر سے ہو کر حرم کی جانب کیں۔
حرم اسے دیکھ کر گھبرا گئی۔
“تم نے میرا پیپر۔۔۔۔”
ازلان بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
حرم تھوک نگلتی اسے دیکھنے لگی۔
ازلان دانت پیستا اسے گھور رہا تھا۔
حرم نے بھاگ جانے میں عافیت جانی۔
پیپر پھینک کر حرم نے دوڑ لگا دی۔
“تمہیں میں بخشوں گا نہیں حرم۔۔۔۔”
ازلان خطرناک تیور لئے اس کے پیچھے لپکا۔
“ازلان پیپر؟۔۔۔۔”
پروفیسر اسے باہر کی جانب بڑھتے دیکھ کر بولے۔
“وہاں سے اٹھا لیں جسے بولا تھا نہ دیکھیں کیا حال کیا ہے اس نے۔۔۔”
ازلان ضبط کرتا ہوا باہر نکل گیا۔
وہ تعجب سے اسے جاتا دیکھنے لگے۔
ازلان باہر نکلا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔
حرم سامنے جاتی دکھائی دی۔
ازلان بھی چلنے لگا۔
حرم نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو آنکھیں پھیل گئیں۔
چہرے پر خوف بڑھنے لگا۔
“ہاےُ وہ تو میرے پیچھے آ رہا ہے۔۔۔”
حرم نے تقریباً بھاگنا شروع کر دیا۔
حرم کو دیکھ کر ازلان نے بھی بھاگنے لگا۔
آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس تعجب سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
حرم بھاگتی ہوئی زینے چڑھنے لگی۔
ازلان بھی اس کے عقب میں تھا۔
“آج تم میرے ہاتھ سے بچ کے دکھاؤں۔۔۔”
ازلان غرایا۔
حرم کا حلق خشک ہو گیا اور سپیڈ ڈبل کر دی۔
ازلان اس سے کچھ فاصلے پر تھا۔
دونوں تقریباً بھاگتے ہوۓ گول گول زینے چڑھ رہے تھے۔
حرم اوپر پہنچی تو کلاس میں بھاگ گئی۔
اس سے پہلے کہ وہ دروازہ بند کرتی ازلان نے دروازے کے آگے اپنا پاؤں رکھ دیا۔
حرم رونے والی شکل بناےُ اسے دیکھنے لگی۔
ازلان خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
“بچ کے جاؤ گی کہاں تم؟”
ازلان بولتا ہوا اندر آ گیا۔
حرم تھوک نگلتی پیچھے ہوتی جا رہی تھی۔
“ازلان سچ میں، میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔”
حرم معصومیت سے بولی۔
“نہیں تم تو جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کرتی سب میں کرتا ہوں نہ؟”
ازلان خطرناک تیور لئے آگے بڑھ رہا تھا۔
حرم کھڑکی کے سامنے رک گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: