Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Episode 9

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – قسط نمبر 9

–**–**–

“دیکھو ازلان میں نے تمہیں شرٹ بھی لا کر دی تھی دو بار۔۔۔”
حرم زور دے کر بولی۔
“تو؟
ازلان سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“تو،، تمہیں مجھے کچھ نہیں کہنا چائیے۔۔۔”
حرم سوچتی ہوئی بولی۔
“واہ بڑی اچھی بات کہی ویسے میں سوچ رہا ہوں اس کھڑکی سے تمہیں نیچے پھینک دوں۔۔۔”
ازلان آگے ہوتا کھڑکی سے نیچے جھانکتا ہوا بولا۔
حرم کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
ترچھی نظر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“پا پاگل ہو گئے ہو کیا؟ مر جاؤں گی میں۔۔۔”
حرم صدمے سے بولی۔
“پھر کیا ہوا؟”
ازلان طمانیت سے بولا۔
ازلان کے اطمینان سے حرم کا رہا سہا سکون بھی غارت ہو گیا۔
“تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے مجھے تنگ کرنے کا؟”
ازلان انگلی اٹھاتا ہوا بولا۔
“نہ نہیں میں کیوں ایسا کروں گی سب خود بخود ہو جاتا۔۔۔”
وہ معصومیت کی انتہا کو چھوتی ہوئی بولی۔
ازلان قہر برساتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“میں نے تمہیں۔۔۔”
حرم بول رہی تھی کہ ازلان نے اسے ٹوک دیا۔
“کیا نیا پیپر لا دو گی؟”
ازلان دانت پیستا ہوا بولا۔
“نہیں۔۔۔۔”
حرم تاسف سے بولی۔
“پھر اب کیا سزا دی جاےُ تمہیں کھڑکی سے پھینک دوں یا پھر بجلی کی تار تمہارے ہاتھ میں دے دوں۔۔۔۔”
ازلان اس خوفزدہ سی لڑکی کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔
“خدا کا خو خوف کرو میری جان بھی جا سکتی ہے۔۔۔۔”
حرم اٹک اٹک کر بولی رہی تھی مانو کسی نے سولی پر لٹکا رکھا ہو۔
“زیادہ نہیں بس تھوڑی سی۔۔۔”
ازلان محظوظ ہوتا ہوا بولا۔
“تھوڑی سی کیسے جاتی ہے؟”
حرم صدمے سے بولی۔
“جب تمہاری جاےُ گی پھر معلوم ہو جاےُ گا۔۔
ازلان بمشکل مسکراہٹ روکتا ہوا بولا۔
“می میں بھائی کو بلا لوں گی ہاں۔۔۔”
حرم سوچتی ہوئی بولی۔
“اچھا بلاؤ بھائی کو میں بھی اپنے سالے سے مل لوں گا۔۔۔۔”
ازلان اس کے ہاتھ میں پکڑے فون کی جانب نگاہوں سے اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“میرے بھائی کو گالی دے رہے ہو؟”
حرم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“پاگل ہو کیا میں اپنے سالے صاحب کی بات کر رہا۔ ہمارے نکاح کے باعث۔۔۔”
ازلان زور دے کر بولا۔
“اچھا میں جاؤں؟”
حرم مظلومیت سے بولی۔
“ایسے کیسے پہلے سزا پھر جانا۔۔۔”
ازلان اس کے قریب ہو گیا۔
حرم رونے والی شکل بناےُ اسے دیکھ رہی تھی۔
ازلان قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔
اس سے زیادہ اس میں سکت نہ تھی۔
حرم نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جو منہ کھول کر ہنس رہا تھا۔
“اب کیا ہوا؟”
حرم منہ بسور کر بولی۔
“تمہاری شکل ایسی ہے دیکھ کر۔۔۔۔”ازلان نے قہقہ لگاتے بات ادھوری چھوڑ دی۔
حرم برا مان گئی۔
حرم نے جانے کے لیے قدم بڑھا دئیے۔
“اچھا سنو۔۔۔”
ازلان اسکی کلائی پکڑتا ہوا بولا۔
“کیا؟”
حرم منہ بناتی اسے دیکھنے لگی۔
“آج چلی جاؤں گی تم؟”
ازلان اسے اپنے سامنے لاتا ہوا بولا۔
“ہاں بھائی لینے آئیں گے۔۔۔”
حرم دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔
“مجھے مس کرو گی؟”
ازلان بغور اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“پتہ نہیں۔۔۔”
حرم گڑبڑا کر بولی۔
“میں تمہاری ان الٹی سیدھی حرکتوں کو بہت مس کروں گا۔۔۔
ازلان شرارت سے بولا۔
“تمہیں تو شکر کرنا چائیے۔۔۔”
حرم خفا خفا سی بولی۔
“اچھا سنو؟”
“سن تو رہی ہوں اور کیسے سنوں؟”
حرم خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“مجھ سے رابطے میں رہنا اور اگر تم نے نخرے دکھاےُ تو تمہارے گھر آ جاؤں گا۔۔۔”
ازلان دھمکانے والے انداز میں بولا۔
“تمہیں میرا گھر معلوم ہے؟”
حرم ششدہ سی بولی۔
“آج جاؤں گی نہ تم تو میں بھی دیکھ لوں گا تمہارا گھر۔۔۔”
ازلان بائیں آنکھ دباتا ہوا بولا۔
حرم کا چہرہ حیا کے باعث سرخ ہو گیا۔
“میں جاؤں؟”
حرم نے اپنی کلائی آزاد کروانی چاہی۔
“اگر میں کہوں نہیں۔ پھر؟”
ازلان اس کی جھکی پلکوں کو دیکھتا ہوا بولا۔
“بھائی آ جائیں گے پلیز جانے دو مجھے۔۔۔۔”
حرم التجائیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
ازلان نے مسکراتے ہوۓ اس کی کلائی آزاد کر دی۔
حرم پیچھے مڑے بنا نکل گئی۔
ازلان مسکراتا ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
“جی بھائی آج آؤں گا میں۔ اگر کام نہیں تو آپ آ جائیں ورنہ ڈرائیور کو بھیج دیں۔۔۔۔”
ازلان فون کان سے لگاےُ چل رہا تھا۔
“چلیں ٹھیک ہے بابا کو بتا دینا آپ میں کچھ دیر میں نکلتا ہوں۔۔۔۔”
ازلان نے کہتے ہوۓ فون رکھ دیا۔
****///////****
“کیا مطلب ہے حرائمہ غائب ہو گئی؟ آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی؟”
زلیخا بیگم حلق کے بل چلائیں۔
“بیگم صاحبہ میں فیشل کروا رہی تھی اور وہ رفو چکر ہو گئی۔۔۔۔”
سائرہ گھبراتی ہوئی بولی۔
“آگ لگے تمہارے فیشل کو عقل کی اندھی اس کو بھگا دیا تو نے۔۔۔۔”
زلیخا بیگم نے بولتے ہوۓ اس کے بال دبوچ لیے۔
“قسم لے لیں بیگم صاحبہ جو میرا ہاتھ ہو اس میں۔۔۔۔”
تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
“ایسے کیسے بھاگ گئی وہ اتنے وقت سے تو اچھے سے کام کر رہی تھی پھر؟”
زلیخا بیگم اسے پرے کرتی ہوئیں بولیں۔
بانی حقہ بقہ سی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
“کس کا کام ہو سکتا ہے یہ؟”
وہ بانی کو دیکھتی ہوئیں بولیں۔
“بیگم صاحبہ میں تو آپ کو کہتی تھی وہ چھپی رستم ہے آج موقع دیکھ کر بھاگ نکلی اور کیا۔۔۔”
بانی منہ بناتی ہوئی بولی۔
“منہ بند کر لے اپنا۔۔۔”
زلیخا بیگم طیش میں چلائیں۔
بانی دو قدم دور ہو گئی۔
“اس آئمہ کو فون لگا ابھی تک کچھ نہیں کیا اس بیوقوف نے۔۔۔۔”
وہ غصے میں دھاڑ رہیں تھیں۔
بانی گھبراتے ہوۓ فون ملانے لگی۔
“بیگم صاحبہ اٹھا نہیں رہی وہ۔۔۔”
بانی مایوسی سے بولی۔
زلیخا بیگم بے چینی سے پہلو بدلتی باہر نکل گئیں۔
****////////****
“سنبل تم بھی چلو گی نہ میرے ساتھ۔۔۔”
آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“لیکن میں کیا کروں گی تمہارے گھر؟”
سنبھل معصومیت سے بولی۔
“میں نے تمہیں بتایا نہیں ہمارا گھر بہت بڑا ہے بہت سارے نوکر ہیں۔ کچھ دن ہمارے گھر رہ لو پھر اپنے گاؤں چلی جانا۔۔۔”
آئمہ نے جال پھینکا۔
سنبل جو کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی آئمہ کی آن بان دیکھ کر مرعوب ہو گئی تھی اس پر اس کی آفر۔ وہ کشمکش میں مبتلا ہو گئی۔
دل چاہ رہا تھا کہ کچھ دن وہ بھی ملکہ کی مانند رہے جبکہ دماغ ناموزوں قرار دے رہا تھا کسی کے گھر جا کر رہنے کو۔
ہمیشہ دل ہی مات دیتا ہے دماغ کو۔
“ٹھیک ہے میں تین دن تمہارے گھر رہ کر پھر اپنے گاؤں چلی جاؤں گی یہ بتاؤ تمہارا ڈرائیور مجھے چھوڑ آےُ گا نہ؟”
سنبل نے تصدیق کرنا چاہی۔
“ہاں یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے کیا؟ میرے ایک اشارے پر ساری فوج قطار میں کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔”
آئمہ تفاخر سے بولی۔
معصوم سی سنبل جس نے دنیا کے رنگ بھی نہ دیکھے تھے وہ آئمہ جیسی تیز طرار لڑکی کی چکنی چپڑی باتیں کیسے سمجھ پاتی۔
“ٹھیک یے پھر تم مجھے میرے ہاسٹل سے پک کر لینا۔۔۔”
سنبل خوشی سے چہکی۔
“تم بس تیار رہنا۔۔۔”
آئمہ ہاتھ ہلاتی مسکراتی ہوئی نکل گئی۔
بلآخر اس کی محنت رنگ لے ہی آئی۔
“بیگم صاحبہ اب مجھ سے خوش ہوں گی اس سے نہیں۔۔۔۔”
وہ کدورت سے بولی۔
****///////****
“اب تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ۔۔۔۔”
مہر کھانے سے فارغ ہو کر بولی۔
“آپی آپ کے شوہر کو کوئی مسئلہ تو نہیں میرے یہاں آنے سے؟”
آئمہ نے گھبراتے ہوۓ استفسار کیا۔
“میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہ رہیں ہوں ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہے تم بے فکر ہو کر رہو یہاں۔۔۔۔”
مہر مسکراتی ہوئی بولی۔
“بہت شکریہ آپ نے مجھے اس جہنم سے نکال دیا۔۔۔۔”
وہ مہر کے ہاتھ پکڑتی تشکرانہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“شکریہ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔”
مہر مسکراتی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“آپی ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”
“ہاں پوچھو؟”
مہر نرمی سے بولی۔
“آپ نے مجھے کیوں نکالا وہاں سے میرا مطلب آپ کی اپنی زندگی ہے لیکن آپ نے میرا سوچا اور اپنی بات پر عمل درآمد کیا کیوں؟”
وہ آنکھوں میں نمی لئے بولی۔
“کیونکہ میری کسی نے مدد نہیں کی تھی۔
میں نے تمہاری مدد کی تاکہ کل کو تم بھی کسی کی مدد کرنے کے قابل ہو سکو۔۔”
مہر کی آنکھوں میں کرب دکھائی دے رہا تھا۔
درد ناک ماضی کی اذیت ناک یادیں۔
مہر نے آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں۔
“سوری۔۔۔”
حرائمہ نادم سی بولی۔
“ارے نہیں تم سوری مت بولو۔
وہ شعر شاید پڑھا ہو۔۔
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
بس ایسا ہی کچھ حال ہے۔۔۔۔”
مہر نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
حرائمہ کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
شہادت کی انگلی سے وہ آنکھ صاف کرنے لگی۔
“اب تم بتاؤ کچھ اپنے بارے میں۔۔۔۔”
مہر خود کو سنبھالتی ہوئی بولی۔
“ہمارے گھر میں صرف میری امی اور میں، ہم دو افراد رہتے ہیں۔ابو بہت پہلے دنیا سے منہ موڑ گئے لیکن انہوں نے میرے مستقبل اور شادی سب کی تیاری کر رکھی تھی۔۔۔۔”
حرائمہ اشک بہاتی بول رہی تھی۔
مہر نے اسے رونے دیا تاکہ دل کا بوجھ ہلکا ہو جاےُ۔
“پھر دو سال پہلے میری امی کا گردہ فیل ہو گیا تب سے وہ ڈائلائسز پر ہیں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کا کام اور امی کو سنبھالتی تھی لیکن میری کلاس فیلو نے بہانے سے مجھے اس کوٹھے پر پہنچا دیا۔ پتہ نہیں امی کس حال میں ہوں گی انہیں ہاسپٹل بھی میں ہی لے جاتی تھی۔۔۔۔”
حرائمہ کا چہرہ اشکوں سے تر ہو چکا تھا۔
مہر بھی اشک بہاتی اسے دیکھ رہی تھی۔
ان کا دکھ سانجھا نہیں تھا لیکن مہر کے کچھ زخم ہرے ہو گئے تھے مانو کسی نے نمک چھڑک دیا ہو اور اب وہ رسنے لگے تھے۔
“آپ کے جانے کے بعد ان لوگوں نے مجھ سے مجرے کرواےُ اور تین بار۔۔۔۔”
حرائمہ کے الفاظ دم توڑ گئے۔
“میں سمجھ گئی ہوں۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“لیکن میں شکر گزار ہوں اللہ کی اس پاک ذات نے مجھے اس جہنم سے نکال دیا۔۔۔”
مہر ششدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
“وہ جس کی عصمت کو تار تار کیا گیا تھا آج رہا ہونے پر وہ شکر کر رہی تھی اور میں؟ اللہ نے میری عزت کی حفاظت کی لیکن میں آج بھی اس رب کا شکر نہیں کرتی میں آج بھی اس سے منہ موڑے ہوۓ ہوں۔۔۔۔”
حرم خود کلامی کر رہی تھی۔
حرائمہ چہرہ صاف کر کے مہر کو دیکھنے لگی جو غائب دماغی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ اپنے بارے میں بتائیں؟ آپ کیسے وہاں پہنچیں؟”
مہر سانس خارج کرتی کچن کے دروازے کو گھورنے لگی۔
“میرے بابا نے۔۔۔”
گلے میں آنسوؤں کا پھندا پھنس گیا۔
آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار کو بھگو رہے تھے۔
تیزی سے بہتے اشک، سرخ ہوتیں آنکھیں اور چہرے پر عیاں کرب، مہر پر بیتی قیامت خیز داستاں کے گواہ تھے۔
“وہ نشہ کرتے تھے ایک دن جب پیسے نہ ملے قرضہ پہاڑ برابر ہو گیا تو مجھے زلیخا بیگم کے ہاتھ چند کھوٹے سکوں کے عوض بیچ دیا۔۔۔۔”
مہر ٹھر ٹھر کر بول رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں دکھائی دیتا کرب آج زباں پر آ ہی گیا تھا۔
“مجھ سے زیادہ بد قسمت اور کوئی نہیں ہو گا جسے اس کے باپ نے ایسے جہنم میں دھکیل دیا، میری امی نے ساری زندگی روکھی سوکھی کھائی، روتے سسکتے گزار لی کپڑے سلائی کر کے مجھے پالا، گھر کو چلایا
لیکن اس انسان کو رحم نہیں آیا اور مجھے اٹھا کر پھینک آیا۔اس کے بعد زلیخا بیگم نے مجھے امی کی موت کی اطلاع دی۔۔۔۔۔”
مہر سانس لینے کو رکی۔
“بس اس طرح میں پہنچ گئی وہاں۔۔۔”
مہر حرائمہ کو دیکھتی ہوئی بولی جس کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
“میں دوائی کھا لوں۔۔”
مہر بہانہ بناتی اٹھ گئی۔
حرائمہ شاید سمجھ چکی تھی اس لئے خاموش رہی۔
مہر نے دروازہ لاک کر لیا اور زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
اشک تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
سسکتے ہوۓ اس نے چہرہ گھٹنوں پر گرا لیا۔
زبان خاموش تھی کیونکہ آنسو بول رہے تھے۔
اس کی آنکھیں بول رہیں تھیں۔
اس کا دل بول رہا تھا۔
درد کی زباں نہیں ہوتی وہ اپنے آپ عیاں ہو جاتا ہے۔
بلکل اسی طرح جیسے ہر بات کہنے کے لیے الفاظ درکار نہیں ہوتے۔
درد کو بیان کرنے کے لیے بھی الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا۔
آج وہ پھر سے خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔
اسے سمیٹنے والا کوئی بھی نہیں تھا جیسے کچھ سال قبل کوئی نہیں تھا۔
تب بھی اس نے خود اپنی ذات کے ٹکڑے سمیٹے تھے اور آج بھی اسے خود ہی سمیٹنے تھے۔
“شاہ آپ کے ہونے سے بھی مجھے تقویت نہیں ملی کیونکہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے۔ آپ مجھے پسند کرتے ہیں اور پسند تو ہر دوسری تیسری چیز آ جاتی ہے۔ پسند تو کبھی بھی بدل جاتی ہے۔
آپ میرا سہارا نہیں ہیں آپ میرے سائباں نہیں ہیں۔ میں آپ کی ضرورت ہوں اور جب ضرورت پوری ہو جاےُ تو چیزیں بے مول ہو جاتی ہیں۔
ہو سکتا ہے ہمارا بچہ لے کر آپ بھی مجھے بے مول کر دیں۔ کیسے آپ پر اعتبار کروں آپ نے تو کبھی اعتبار کروایا ہی نہیں۔
آپ کو مجھ سے مطلب ہے میری خوبصورتی سے۔ اس مطلب کی بہت اہمیت ہوتی ہے کسی بھی رشتے میں کیونکہ جب مطلب نکل جاےُ تو رشتہ باقی نہیں رہتا۔ میں نہیں چاہتی کہ مجھے آپ سے محبت ہو کیونکہ آپ نے مجھے جھکانے کا قصد کر رکھا ہے یہ رشتہ صرف ایک مذاق ہے اور مذاق جب دل چاہے ختم کر سکتے ہیں۔
کاش آپ مجھے سنبھال لیتے شاہ کاش آپ میرا درد بانٹتے
آپ میرے ہمدرد بنتے۔
کاش ایسا ہوتا شاہ آپ کو مجھ سے محبت ہوتی تاکہ میں بھی اس کھلی فضا میں سانس لے پاتی مجھے بھی تسلی ہوتی کوئی چاہنے والا ہے میرا۔ لیکن نہیں آپ بھی اس گندی دنیا کا ایک حصہ ہیں کیونکہ عزت دار تو آپ بھی نہیں جو مرد کوٹھے پر جاتا ہے اس پر اعتبار سراسر بیوقوفی ہے۔۔۔”
مہر سر جھٹکتی ہوئی بولی۔
“اور میں یہ بیوقوفی کبھی نہیں کروں گا شاہ، اپنا دل اپنے جذبات بے مول نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔۔”
مہر مرمریں ہاتھوں سے رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔
****////////****
“شاہ ویز تمہیں معلوم ہے شاہ کوٹھے پر جاتا ہے؟”
برہان فون سے نظریں ہٹا کر بولا۔
شاہ ویز سکتے میں آ گیا۔
“میں نہیں مان سکتا بھائی ایسے نہیں ہیں ضرور تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔”
شاہ ویز کا سکتا ٹوٹا تو نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے میں جھوٹ بولوں گا؟ شاہ کا حال تمہارے سامنے ہے وہ خود نجانے کیا کرتا رہتا ہے اور تمہیں گھر سے نکال رکھا ہے صرف اسی لئے کہ تم مجھ سے دوستی رکھنا چاہتے ہو۔۔۔”
برہان تاسف سے بولا۔
“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بھائی ایسا نہیں کر سکتے یار وہ بہت مختلف مزاج کے مالک ہیں ایسی توقع کم از کم میں نہیں رکھتا ان سے۔۔۔”
شاہ ویز ماننے سے انکاری تھا۔
“تم بیوقوف ہو شاہ ویز وہ شاہ سب کو اپنے اشاروں پر چلا رہا ہے۔
اور سب چل بھی رہے ہیں حتیٰ کہ تم بھی۔مجھے بتاؤ کیا کوئی تمہاری خبر لینے آیا بس یہی اہمیت ہے کیا تمہاری؟ جبکہ شاہ کے تو آگے پیچھے گھومتے ہیں سب تمہیں سمجھ ہی نہیں آتا یہ سب۔۔۔”
برہان تاسف سے بولا۔
“پھر مجھے کیا کرنا چائیے؟”
شاہ ویز برہان کو دیکھتا ہوا بولا۔
“جیسے میں کہتا ہوں ویسا کرو پھر دیکھنا تم بھی شاہ کی مانند خود مختار ہو گے اپنے فیصلوں میں۔۔۔۔”
برہان فاتحانہ مسکراہٹ لئے بولا۔
شاہ ویز اثبات میں سر ہلانے لگا۔
****////////****
ذوناش ازلان کی منتظر تھی۔
جونہی ازلان باہر نکلتا دکھائی دیا وہ اس کی جانب لپکی۔
“ازلان مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے؟”
ذوناش کے لہجے میں بے چینی تھی۔
ازلان کے چہرے پر بیزاری نمایاں تھی۔
“اچھا چلو۔۔۔۔”
وہ احسان کرنے والے انداز میں بولا۔
“ازلان کیا ہوا ہے تم مجھ سے اب بات بھی نہیں کرتے؟”
ذوناش ناراض ناراض سی بولی لیکن مقابل پر اس کی ناراضگی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
“ٹائم نہیں ہوتا میرے پاس؟۔۔۔”
ازلان اکتا کر بولا۔
“ازلان تم حرم کو طلاق دے کر مجھ سے شادی کر لو۔۔۔۔”
ذوناش اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتی ہوئی بولی۔
“تم پاگل ہو گئی ہو کیا؟”
ازلان کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔
اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکال لیے۔
چہرے پر خفگی سجاےُ وہ ذوناش کو گھورنے لگا۔
“مجھے بھی تم سے بات کرنی تھی۔اور کان کھول کر سن لو میں تنگ آ چکا ہوں اس ریلیشن سے اس لئے میں آج ہمارا ریلیشن ختم کرتا ہوں اب دوبارہ میرا سر مت کھانا۔۔۔۔”
ازلان چبا چبا کر بول رہا تھا۔
ذوناش کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟”
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“میں نے تم سے کبھی کوئی وعدے نہیں کئے ان فیکٹ تم ہی میرے پاس آئی تھی تم سب پر یہ ظاہر کرنے کے عوض کہ میرا اور حرم کا کوئی رشتہ نہیں میں نے تم سے حرم کا نمبر لینے کے لیے بات کی اور تم تو پھیل ہی گئی۔۔۔۔”
ازلان کے چہرے پر اکتاہٹ تھی۔
“تمہیں وہ حرم مجھ سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے؟ اِدھر میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو۔۔۔۔”
ازلان جو دائیں بائیں دیکھ رہا تھا مانو اس کی بات کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو، ذوناش اس کا چہرہ اپنی جانب کرتی ہوئی بولی۔
“ہاں مجھے وہ تم سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے اور کسی شرط پر اسے نہیں چھوڑوں گا میں اور کچھ؟”
ازلان اس کی جانب جھکتا آنکھیں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“تم ایسا نہیں کر سکتے تمہاری شادی مجھ سے۔۔۔۔”
“میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔”
ازلان اسے ٹوکتا ہوا بولا۔
ایک نظر ذوناش پر ڈالی اور چلنے لگا۔
ذوناش ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے دور جاتا دیکھنے لگی۔
“حرم تمہیں اب اس دنیا سے جانا پڑے گا بہت مزے کر لئے تم نے۔ تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں۔
ازلان کو میں کسی قیمت پر نہیں کھو سکتی مجھے کسی بھی طرح ازلان سے شادی کرنی ہو گی۔۔۔۔”
وہ چہرہ رگڑتی ہوئی بولی۔
****////////****
ہاسٹل کے باہر شاہ گاڑی میں بیٹھا حرم کا منتظر تھا۔
حرم ایک بیگ اٹھاےُ نمودار ہوئی۔
بیگ پچھلی سیٹ پر رکھ کر فرنٹ سیٹ پر آ گئی۔
شاہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا حویلی آ گیا۔
حرم نم آنکھوں سے حویلی کی در و دیوار کو دیکھ رہی تھی۔
“یہ دیکھو ذرا سلوٹیں تو نکلی نہیں ہیں پھر کہیں گیں کہ بولوں بھی نہ۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماتھے پر بل ڈالے ملازمہ پر برس رہیں تھیں۔
“امی۔۔۔”
حرم ان سے لپٹتی ہوئی بولی۔
“میری جان تو آ گئی؟”
ضوفشاں بیگم حرم کی پیشانی چومتی ہوئیں بولیں۔
“جی امی۔۔۔۔”
حرم نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی بولی۔
“آ جا بیٹھ میرے ساتھ تجھ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔۔۔”
وہ صوفے پر بیٹھتی ہوئیں بولیں۔
شاہ دوسرے صوفے پر بیٹھا فون میں محو تھا۔
“امی بابا سائیں کہاں ہیں؟”
حرم بے چینی سے بولی۔
“یہیں ہیں کہاں جانا ہے انہوں نے۔
کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہے جا جا کر بلا کر لا صاحب کو اور جیرو کو بول میری دھی آئی ہے اچھا اچھا کھانا بناےُ۔۔۔”
وہ ملازمہ کو خفگی سے دیکھتی ہوئیں بولیں۔
حرم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
اس پیار کو شدت سے یاد کرتی تھی۔
“ارے واہ تم آ گئی؟”
ماریہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“جی بھابھی۔۔۔”
حرم اٹھ کر ماریہ سے ملی۔
“کسی سے لڑائی لڑوئی تو نہیں کی وہاں؟”
ضوفشاں بیگم فکرمندی سے بولیں۔
“امی آپ کو لگتا ہے میں کسی سے لڑائی کروں گی؟”
حرم خفگی سے بولی۔
“نہ نہ میری حرم تو بہت معصوم ہے۔ بس اسی معصومیت سے بھی ڈر لگتا ہے نہ۔۔
وہ پریشانی سے گویا ہوئیں۔
“اور سناؤ حرم شہر کا رنگ نہیں چڑھا تمہیں؟”
ماریہ طنز کرتی ہوئی بولی۔
“نہیں بھابھی امی کی تربیت ہی ایسی ہے کہ کسی شہر یا کسی ملک کا رنگ نہیں چڑھ سکتا۔۔۔”
حرم ضوفشاں بیگم کے ساتھ لگتی ہوئی بولی۔
“میری بچی ہے ہی بہت پیاری۔۔۔”
وہ خوشی سے چہکیں۔
“شہریار بھائی اور شاہ شاہ ویز بھائی کہاں ہیں؟”
حرم کی زبان لڑکھڑا گئی۔
“شہریار تو تم جانتی ہو اس ٹائم آفس اور چھوٹا فلحال گھر سے باہر ہے۔۔۔”
ماریہ تاسف سے بولی۔
“باہر ہے مطلب؟”
حرم الجھ کر انہیں دیکھنے لگی۔
“مصطفیٰ بھائی نے نکالا ہے چھوٹے کو برہان کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔”
ماریہ نے مختصر سمجھا دیا۔
شاہ آبرو اچکا کر ماریہ کو دیکھنے لگا۔
“میرا مطلب بابا سائیں نے بولا تھا مصطفیٰ بھائی کو چھوٹے کو سمجھانے کا تو جو انہیں بہتر لگا۔۔۔”
ماریہ سنبھل کر بولی۔
حرم کے ہینڈ بیگ میں پڑا فون وائبریٹ کر رہا تھا۔
“یہ جیرو پتہ نہیں کہاں مر گئی ہے کتنی دیر سے حرم آئی ہوئی۔۔۔۔”
ضوفشاں بیگم چلاتی ہوئیں باورچی خانے کی جانب چل دیں۔
“بھابھی امی سے کہیے گا میں کچھ دیر نیند لوں گی پھر کچھ کھانے کو۔۔۔”
حرم بیگ اٹھاتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے میں کہ دیتی ہوں۔۔”
ماریہ جانچتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
حرم مسکراتی ہوئی چلنے لگی۔
“ہاں عدیل بول؟”
شاہ فون کان سے لگاےُ باہر کی جانب چلنے لگا۔
“یار ایسا کرتے ہیں پارٹی کے چئیرمین کے ساتھ ایک ٹاک شو رکھتے ہیں چینل کی ریٹنگ بڑھے گی باقی نیوز چینل بھی تو کر رہے ہیں نہ؟”
“تو بات کر کے دیکھ میرے پاس ابھی زیادہ وقت نہیں ہے اگر بات نہ بنے تو مجھے بتا دینا میں خود بات کروں گا پھر۔۔۔”
شاہ دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“نکاح کے بعد کچھ زیادہ ہی مصروف نہیں ہو گیا؟”
عدیل شرارت سے بولا۔
“فیملی والے لوگ مصروف ہی ہوتے ہیں اب میں بھی تو فیملی والا ہو گیا ہوں۔۔۔”
بولتے بولتے شاہ کے لب دم بخود مسکرانے لگے۔
“کوئی پیش رفت ہوئی؟”
عدیل کا لہجہ تجسس سے بھرا تھا۔
“ہاں تجھ سے ملتا ہوں پھر بتاؤں گا۔۔۔”
شاہ نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
حرم کمرے میں آئی دروازہ بند کر کے احتیاط سے فون نکالا اور چیک کرنے لگی۔
“ازلان کی مسڈ کالز! “
حرم تعجب سے بولی۔
حرم ابھی سوچ ہی رہی تھی اسے میسج کرنے کا کہ پھر سے فون آنے لگا۔
حرم دروازے کی جناب دیکھتی کال اٹھا کر فون کان سے لگا لیا۔
“ہیلو؟”
حرم محتاط انداز میں بولی۔
“پہنچ گئی ہو گھر؟”
ازلان کی ہشاش بشاش آواز ابھری۔
“جی۔ لیکن فون کیوں کر رہے تھے بار بار؟”
حرم کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔
“تمہیں کہا تو تھا فون کروں گا میں بھی گھر آ گیا ہوں بور ہو رہا تھا سوچا تم سے بات کر لوں۔۔۔”
ازلان پاؤں میز پر رکھتا ہوا بولا۔
“اچھا۔۔۔”
حرم کہہ کر خاموش ہو گئی۔
“میں نے تمہارا گاؤں دیکھا ہے آج۔۔۔”
ازلان نے خاموشی کو توڑا۔
“تم سچ میں آےُ تھے؟”
حرم متحیر سی بولی۔
“ہاں تو تمہیں کیا لگا میں مذاق کر رہا ہوں؟”
ازلان خفگی سے بولا۔
“پھر ہماری حویلی بھی دیکھ لی؟”
“نہیں میں بس گاؤں دیکھ کر چلا گیا تھا۔
تمہارے گاؤں تو میں اکثر آتا رہا ہوں۔۔۔”
“اچھا مجھے تو کبھی نظر نہیں آےُ!”
حرم تعجب سے بولی۔
“تم گلیوں میں رہتی ہو کیا؟”
ازلان مسکراتا ہوا بولا۔
“نہیں میں تو اپنی حویلی میں ہوتی ہوں۔۔۔”
حرم سنبھل کر بولی۔
اپنی بیوقوفی پر سر جھٹک کر رہ گئی۔
“ہاں تو پھر تمہیں کیسے پتہ چلتا۔۔
ازلان ہنستا ہوا بولا۔
حرم کو قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
“ازلان میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔”
حرم نے کہہ کر فون بند کر دیا۔
ازلان فون کو گھورنے لگا۔
****///////****
آئمہ گاڑی میں بیٹھی تھی۔
چہرہ کی مسکراہٹ ایک لمحے کے لیے بھی غائب نہیں ہوئی تھی۔
سنبھل پرجوش سی اس کے ہمراہ بیٹھی تھی۔
زلیخا بیگم کو وہ اطلاع دے چکی تھی اپنی آمد کی۔
“یہ تمہارا گھر ہے؟”
گاڑی رکی تو سنبل باہر دیکھتی استفسار کرنے لگی۔
“ہاں آؤ اندر چلتے ہیں باہر سے اتنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔۔”
آئمہ باہر نکلتی ہوئی بولی۔
سنبل بھی مسرور سی باہر نکل آئی۔
آئمہ چلتی ہوئی اندر آئی۔
سنبل اردگرد نگاہ دوڑانے لگی۔
میک اپ سے لبریز چہرے،
“آئمہ تمہارے گھر میں اتنی ساری لڑکیاں ہیں! “
وہ تعجب سے بولی۔
“ہاں بہت ساری ہیں اور اب تو تم بھی آ گئی ہو۔۔۔”
آئمہ کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ تھی۔
سنبل نا سمجھی سے آئمہ کو دیکھنے لگی۔
آئمہ زلیخا بیگم کے کمرے میں آ گئی۔
“لیں آپ کے لئے نیا شکار ڈھونڈ لائی ہوں۔۔۔”
آئمہ دروازہ بند کرتی ہوئی بولی۔
سنبل ششدہ سی کبھی آئمہ کو دیکھتی تو کبھی زلیخا بیگم کو۔
“کیا مطلب آئمہ؟”
سنبل کی کمزور سی آواز نکلی۔
“مطلب میری جان آب تم یہیں پر رہوں گی ہمارے ساتھ ہماری محفلوں میں رنگ بھرنے کی خاطر۔۔۔۔”
آئمہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“یہ یہ کون سی جگہ ہے؟”
سنبل گھبرا کر ان دونوں کو دیکھنے لگی۔
“ابھی تک تمہیں اندازہ ہی نہیں ہوا یہ کوٹھہ ہے مطلب جانتی ہوں نہ جہاں مجرے کرواےُ جاتے ہیں۔۔۔”
زلیخا بیگم بے حسی سے بولیں۔
“مجھے گھر جانا ہے۔۔۔”
سنبل دروازے کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“نہ میری جان اب تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی۔ ہمارے ساتھ رہنا اور مزے کرنا۔۔۔”
آئمہ بائیں آنکھ دباتی ہوئی بولی۔
سنبل حونق ذدہ سے دونوں کو دیکھنے لگی۔
“تم نے اب واپس جانا ہے؟”
زلیخا بیگم سنبل کو نظرانداز کرتی ہوئیں بولیں۔
“جی ایک لڑکی ہے ہاسٹل میں رنگ سفید نہیں لیکن تیار ہو کر قیامت لگتی ہے اسے قابو کرنا ہے اور آسانی سے لے آؤں گی اسے میں۔۔۔۔”
آئمہ طے کیا ہوا لائحہ عمل بتاتی بیٹھ گئی۔
“زنیرہ نہیں آئی ابھی تک؟”
آئمہ سنبل پر ایک نگاہ ڈالتی زلیخا بیگم کو دیکھنے لگی۔
“نہیں ابھی تک تو نہیں لیکن آنے والی ہو گی۔ افسوس اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں لگا۔
زلیخا بیگم تاسف سے بولیں۔
سنبل دھیرے دھیرے دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“بانی باہر نکل اور اسے لے کر جا۔۔۔”
زلیخا بیگم سنبل کو گھورتی ہوئیں چلائیں۔
سنبل ابھی جگہ پر منجمد ہو گئی۔
بانی باہر نکلی اور اسے گھسیٹتی ہوئی اندر لے گئی۔
****///////****
“شاہ آج حرائمہ کو اس کے گھر لے جائیں اس کی امی سے ملاقات کی غرض سے؟”
مہر شاہ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“مہر مجھے آج کام ہے آفس میں کسی اور دن چلی جانا۔۔۔”
شاہ نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
“شاہ پلیز میں نے اسے بول دیا ہے اب ایسے مت کریں آپ کا آفس بھی تو شہر میں ہے نہ ہمیں بھی شہر جانا ہے پلیز۔۔۔”
مہر اس کے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔
“بلیک میلر ہو تم۔۔۔”
شاہ اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا۔
مہر دھیرے سے مسکرا دی۔
“اچھا یہ بتاؤ جو دوائی میں دے کر گیا تھا کل تم نے لی؟”
شاہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔
“جی میں نے لی تھی لیکن طبیعت کچھ عجیب سی ہو رہی ہے۔۔۔۔”
مہر کے چہرے پر بیزاری تھی۔
“پھر ایسا کریں گے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا اور حرائمہ کو اس کے گھر چھوڑ دیں گے ٹھیک ہے؟”
شاہ اس کے بال درست کرتا ہوا بولا۔
“ٹھیک ہے۔۔”
مہر اس کے روشن چہرے کو دیکھتی ہوئی بولی۔
مہر نے سر اس کے شانے پر رکھ دیا۔
“ابھی بھی مجھ سے محبت نہیں ہوئی؟”
شاہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
“نہیں۔۔”
مہر سپاٹ انداز میں بولی۔
“جھوٹ بولتی ہو تم مجھ سے۔۔۔۔”
شاہ خفا خفا سا بولا۔
مہر نے بنا کچھ بولے آنکھیں موند لیں۔
کچھ پل خاموشی کی نذر ہوےُ۔
“تم ٹھیک ہو؟”
شاہ فکرمند سا بولا۔
“ہممم ٹھیک ہوں۔۔”
مہر پیچھے ہوتی ہوئی بولی۔
“تم چینج کر لو پھر چلتے ہیں۔۔”
شاہ اس کا منہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
حرائمہ آئینے کے سامنے کھڑی چادر اوڑھ رہی تھی جب اسے دروازے پر دستک سنائی دی۔
وہ جلدی سے آئینے کے سامنے سے ہٹی اور دروازہ کھول دیا۔
سامنے مہر کا چہرہ تھا جہاں بلا کی نرمی تھی۔
“چلیں؟”
مہر بغور اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“جی آپی۔۔۔” وہ بولتی ہوئی مہر کے عقب میں چل دی۔
حرائمہ کے بتاےُ گئے ایڈریس پر شاہ اسے لے آیا۔
“یہاں تو تالا لگا ہے!”
حرائمہ ششدہ سی بولی۔
“کیا ہوا؟”
مہر کہتی ہوئی باہر نکل آئی۔
“پتہ نہیں امی کہاں چلی گئیں؟”
حرائمہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“تم ایسا کرو ہمسایوں سے پوچھو تمہیں تو جانتے ہوں گے۔۔۔”
مہر اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
حرائمہ آنکھیں مسلتی ہوئی اپنے گھر کے ساتھ والے گھر میں داخل ہو گئی۔
مہر شاہ کو صورتحال سے آگاہ کرنے لگی۔
“آنٹی امی کہاں گئی ہیں؟”
حرائمہ اندر آتی ہوئی بولی۔
“تم کہاں سے آئی ہو؟”
وہ آنکھوں میں حیرت سموےُ بولیں۔
“ام امی کہاں ہیں گھر میں تالا لگا ہوا ہے؟”
حرائمہ ان کا سوال نظرانداز کرتی ہوئی بولی۔
“ہاےُ تم گھر سے بھاگ گئی تھی تو پھر واپس کیوں آئی ہو اب تمہارے ماں بیچاری کہاں یہ صدمہ برداشت کر پاتی۔۔۔۔”
وہ تاسف سے بولیں۔
“کیا مطلب امی؟”
شدت غم سے حرائمہ کے الفاظ دم توڑ گئے۔
سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔
آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار کو بھگونے لگے۔
“تمہارے جانے کے بعد سارے محلے والوں نے اس بیچاری کو خوب طعنے دئیے اور کیا تھا تمہاری جدائی اور اس رسوائی کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ اس دنیا سے چل بسی۔۔۔”
وہ افسردگی سے بولیں۔
“بیگم کس سے باتیں کئے جا رہی ہو؟”
حرائمہ نے چہرہ اٹھا کر ان کے شوہر کو دیکھا۔
“تم نے اس بےغیرت کو گھر میں کیوں بلایا ہے جانتی نہیں ہو کیا اس کی وجہ سے ہماری بچیوں پر بھی اثر پڑے گا۔
نکلو تم یہاں سے چلو شرافت سے کہہ رہا ہوں ورنہ سارا محلہ اکٹھا کر لوں گا۔۔۔”
وہ زور زور سے بولنے لگے۔
حرائمہ جو پتھر کی مورت بنے کھڑی تھی ان کے چلانے پر ہوش میں آئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نہیں گئی۔
“آئیندہ اگر تم نے اسے گھر میں گھسایا تو خیر نہیں۔۔۔”
وہ ہنکار بھرتے واپس کمرے میں چلے گئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: