Tawaif Urdu Novels

Tawaif Novel – Last Episode 24

Tawaif - Online Urdu Novel
Written by Peerzada M Mohin
طوائف – آخری قسط نمبر 24

–**–**–

ازلان نے ہاتھ بڑھا کر حرم کے رخسار پر رکھ دیا۔
ازلان نفی میں سر ہلاتا اسے دیکھ رہا تھا۔
“میری تو حسرت ہی رہ جاےُ گی میری بیوی کبھی مجھ پر رعب ڈالے گی۔۔۔”
ازلان آہ بھرتا اس کے آنسو چننے لگا۔
“تم ہمیشہ مجھے تنگ کرتے ہو۔۔۔”
حرم سوں سوں کرتی ہوئی بولی۔
“تم نے مجھے اتنا تنگ کیا ہے اس کا حساب کون دے گا جب سے اپنے گھر میں جا کر بیٹھی ہو پتہ ہے کیا حال تھا میرا کھانا بھی نہیں کھاتا تھا میں۔۔۔۔”
ازلان خفا خفا سا اسے دیکھنے لگا۔
“اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے؟”
حرم اسے گھورتی ہوئی بولی۔
“میرا تمہارے بغیر دل نہیں لگتا بیوقوف۔۔۔”
ازلان اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا۔
حرم مسرور سی اسے دیکھنے لگی۔
“جانتی ہو مجھے کب تم سے محبت ہوئی؟”
ازلان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
حرم نفی میں سر ہلانے لگی۔
“جب پہلے دن تم نے میرا فارم خراب کیا تھا یاد ہے؟ اسی دن مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی جسے لوگ کہتے ہیں پہلی نظر کا پیار ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا بول رہا تھا۔
حرم کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
“تم پہلے دن سے مجھ سے محبت کرتے تھے لیکن کبھی ظاہر ہی نہیں کیا تم نے؟”
حرم سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“مجھے اندازہ ہو گیا تھا حرم شاہ ایسی لڑکی نہیں ہے اسی لئے تم پر غصہ کرتا تھا تاکہ تمہیں معلوم نہ ہو سکے میرے دل میں کیا ہے۔۔۔۔”
حرم خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہیں اپنا گفٹ چائیے یا رہنے دوں؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
“ہاں دو نہ مجھے۔۔۔”
حرم اشتیاق سے بولی۔
“کیا کرو گی تم رہنے دو۔۔۔”
ازلان شریر لہجے میں بولا۔
“یہ کیا بات ہوئی؟”
حرم منہ بناتی ہوئی بولی۔
“اگر میں نہ دوں تو تم کیا کرو گی؟ مجھ سے زبردستی لو گی؟”
ازلان کہہ کر اسے دیکھنے لگا۔
“نہیں میں کیسے زبردستی لے سکتی ہوں لیکن میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی۔۔۔”
حرم نروٹھے پن سے بولی۔
“تمہیں ناراض نہیں کرنا یہ لو پھر۔۔۔”
ازلان اس کا ہاتھ پکڑ کر بریسلٹ پہنانے لگا۔
گولڈ اور وائٹ گولڈ سے بنا نفیس سا بریسلٹ حرم کی کلائی کی زینت بن چکا تھا۔
“بہت اچھا ہے ازلان۔۔۔”
حرم کلائی اوپر کرتی ہوئی بولی۔
ازلان کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ احاطہ کئے ہوۓ تھی۔
“حرم ایک بات ابھی کلئیر کر دینا چاہتا ہوں۔۔۔”
ازلان پرسوچ دکھائی دے رہا تھا۔
“کون سی بات؟”
حرم بریسلٹ کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“اگر تم یہ سوچتی ہو کہ میں نے تم سے جائیداد کی آڑ میں شادی کی تو اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو۔میری محبت تمہیں یہاں تک لائی ہے۔میں نے مصطفیٰ بھائی سے بھی سچ کہا تھا اور تم سے بھی سچ کہہ رہا ہوں میں نے ابو کا جائیداد کے لئے راضی کیا تاکہ انکار کی گنجائش نہ نکل سکے۔۔۔”
حرم مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“میں ایسا کبھی نہیں سوچ سکتی۔۔۔”
ایک دلفریب مسکراہٹ حرم کے چہرے پر احاطہ کئے ہوۓ تھی۔
“میں نے آج اسی لئے یہ بات واضح کر دی تاکہ ہمارا رشتہ کسی غلط فہمی کی نذر نہ ہو۔۔۔”
ازلان سنجیدگی سے بولتا ایک مختلف ازلان لگ رہا تھا۔
حرم نے مسکرانے پر اکتفا کیا اور اسی مسکراہٹ میں تو ازلان کو اپنا دنیا دکھائی دیتی تھی۔
****/////////****
“چلو حرم کے فرض سے بھی آزاد ہوۓ اب سکون سے آنکھیں بند کر سکوں گی میں۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کمرے میں آتی ہوئی بولیں۔
کمال صاحب ماناب کو لئے بیٹھے تھے۔
“ارے واہ ہماری گڑیا دادا جی کے ساتھ کھیل رہی ہے! “
ضوفشاں بیگم ماناب کو پیار کرتی ہوئی بولیں۔
“بھئ ہمیں تو اپنی گڑیا کی بھی شادی کرنی ہے۔ہمارا ابھی جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔”
کمال صاحب نم آنکھوں سے ماناب کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
ماناب فیڈر کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
“حرم بھی اتنی سی تھی اور دیکھیں آج اپنے گھر کی ہو گئی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماناب کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
“بلکل صحیح کہہ رہی ہو۔پتہ ہی نہیں چلتا بچے کب بڑے ہو جاتے۔۔۔”
کمال صاحب ماناب کو دیکھتے ہوۓ بول رہے تھے۔
“ماناب کے باعث حرم کی کمی ہمیں محسوس نہیں ہو گی۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماناب کو گود میں بٹھاتی ہوئی بولیں۔
ماناب انہیں دیکھتی ہوئی رونے لگی۔
“اسے اپنے داد کے ساتھ کھیلنا ہے۔۔۔”
کمال صاحب ہنستے ہوۓ بولے۔
“کوئی نہیں وہ اپنی دادی کے ساتھ آپ سے زیادہ کھیلتی ہے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم کہتی ہوئی ماناب کو بہلانے لگیں۔
“اللہ ان سب کے نصیب اچھے کرے۔۔۔”
کمال صاحب ماناب کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوےُ بولے۔
ماناب چہرہ موڑے انہیں دیکھنے لگی۔
“آمین آمین۔۔۔”
ضوفشاں بیگم خوشدلی سے بولیں۔
“ماما کے پاس جانا ہے؟”
ضوفشاں بیگم کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“ہاں لے جاؤ ورنہ ابھی اس کا باپ یہاں کھڑا ہو گا۔۔۔”
کمال صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔
“ظاہر ہے بھئ اس کی جان ہے کیسے دور رہ سکتا ہے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم ماناب کو بوسہ دیتی باہر نکل آئیں۔
حرم والے واقعے نے ضوفشاں بیگم کو بدل دیا تھا۔
کم از کم اپنی پوتی کے لئے وہ نرم پڑ گئی تھیں۔
زینے چڑھتے ہی شاہ انہیں دکھائی دیا۔
“تمہارے بابا سائیں ابھی یہی کہہ رہے تھے۔۔۔”
وہ شاہ کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“کیا؟”
شاہ ماناب کو پکڑتا ہوا بولا۔
“کہ ابھی تم آتے ہو گے ماناب کو لینے۔۔۔”
ضوفشاں بیگم مسکراتی ہوئی بولیں۔
“بس جی کیا کریں دل ہی نہیں لگتا اپنی شہزادی کے بغیر۔۔۔”
شاہ ماناب کے رخسار پر بوسہ دیتا ہوا بولا۔
ضوفشاں بیگم مسکراتی ہوئی واپس چل دیں۔
شاہ کمرے میں آیا تو مہر بال کھولے آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
“لے آےُ ماناب کو؟”
مہر شاہ کو دیکھے بنا بولی۔
“جی ہاں لے آیا ہوں اس شیطان کو۔۔۔”
شاہ اس کی ناک دباتا ہوا بولا۔
ماناب منہ بسورتی اسے دیکھنے لگی۔
مہر لوشن لئے بیڈ پر آ بیٹھی۔
“آج مجھے ماناب کے سونے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا۔۔۔”
شاہ ہشاش بشاش سی ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“اچھی بات ہے نہ آپ کو جگاےُ رکھے گی۔۔۔”
مہر پاؤں پر لوشن لگاتی ہوئی بولی۔
“اگر میرا ارادہ کسی اور کو جگاےُ رکھنے کا ہو پھر؟”
شاہ آنکھوں میں شرارت لئے مہر کو دیکھنے لگا۔
مہر نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔
“پھر آپ نے بیٹی نے اس پلان پر پانی پھیر دیا ہے۔۔۔”
مہر لب دباےُ مسکراتی ہوئی بولی۔
“ماناب گندی بچی بن گئی ہے۔۔۔”
شاہ ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“میری بیٹی تو اتنی اچھی ہے دیکھیں اپنے کھلونوں کے ساتھ تو کھیل رہی ہے۔۔۔”
مہر اسے خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔
شاہ نفی دھیرے سے مسکرانے لگا۔
****///////****
شاہ ویز الجھا الجھا سا کمرے میں آیا۔
حرائمہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔
شاہ ویز اسے بنا دیکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
جیب سے سیگرٹ اور لائٹر نکالا اور پینے لگا۔
حرائمہ متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
شاہ ویز نے اس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔
حرائمہ شش و پنج میں مبتلا ہو کر شاہ ویز کو دیکھ رہی تھی۔
ایسی صورتحال میں وہ کیا کرے؟ حرائمہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
کمرے میں سیگرٹ کی بو پھیلنے لگی تھی۔
شاہ ویز منہ سے دھواں خارج کرتا دروازے کو گھور رہا تھا۔
حرائمہ دھواں کے باعث کھانسنے لگی۔
شاہ ویز کا دھیان حرائمہ کی جانب گیا جو عروسی لباس پہنے بیٹھی تھی۔
اسے حرائمہ پر ترس آ رہا تھا۔
حرائمہ مسلسل کھانس رہی تھی۔
شاہ ویز اٹھا اور گلاس اٹھا کر اس کے سامنے کیا۔
ایک ہاتھ میں سیگرٹ پکڑ رکھی تھی۔
حرائمہ چہرہ اٹھاےُ اسے دیکھنے لگی۔
شاہ ویز اثبات میں گردن ہلانے لگا۔
حرائمہ نے جھجھکتے ہوۓ گلاس پکڑ لیا۔
شاہ ویز بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا۔
“شاہ ویز پلیز سیگرٹ مت پئیں۔۔۔”
حرائمہ آہستہ سے بولی۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا نہ بہت برا ہوں میں؟”
شاہ ویز ہونٹوں سے دھواں خارج کرتا ہوا بولا۔
“آپ برے نہیں ہیں۔۔۔”
حرائمہ اس کے ہاتھ سے سیگرٹ لیتی ہوئی بولی۔
غصہ کرنے کی بجاےُ شاہ ویز اس کی جرأت پر مسکرانے لگا۔
حرائمہ نے سیگرٹ نیچے پھینک دیا جو تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
“تم کچھ نہیں جانتی حرائمہ کچھ بھی نہیں۔۔۔”
شاہ ویز نفی میں سر ہلاتا بول رہا تھا۔
سیاہ ویلوٹ کی شیروانی پہنے وہ خوبرو لگ رہا تھا لیکن آنکھوں میں الجھن نمایاں تھی۔
“آپ پھر بھی اچھے ہیں۔۔۔”
حرائمہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔
اس بے اختیاری پر وہ خود بھی حیران تھی۔
شاہ ویز چہرہ موڑے اسے دیکھنے لگا۔
“جانتی ہو عینی نے آج مجھے فون کیا۔وہ تمہیں بد دعائیں دے رہی تھی۔تمہارے مرنے کی دعائیں کر رہی تھی۔صرف میری وجہ سے میں برا ہوں اس لئے وہ تمہیں برا بھلا بول رہی تھی۔۔۔”
شاہ ویز کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے۔
“نہیں شاہ ویز ایسا نہیں ہے۔کسی کے کہنے سے میں مر نہیں جاؤں گی۔۔۔”
حرائمہ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
“تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چائیے تھی۔تم مجھے ڈیذرو نہیں کرتی۔تمہیں کوئی اچھا انسان سوٹ کرے گا۔۔۔”
شاہ ویز نفی میں سر ہلاتا بول رہا تھا۔
“نہیں شاہ ویز۔میں جانتی ہوں آپ ایک اچھے انسان ہیں اور میں یہ ثابت کر کے دکھاؤں گی۔مصطفی بھائی کا انتخاب کبھی بھی غلط نہیں ہو سکتا۔۔۔”
شاہ ویز کا ہاتھ ابھی تک حرائمہ کے ہاتھوں میں تھا۔
وہ تعجب سے اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔
شاہ ویز دو انگلیوں سے پیشانی مسل رہا تھا۔
تھکے تھکے انداز میں اس نے حرائمہ کی گود میں سر رکھ دیا۔
“سچ میں ایسا ہو سکتا ہے کیا؟ میں ایک اچھا انسان بن سکتا ہوں؟”
شاہ ویز اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔
حرائمہ نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلا رہی تھی۔
“ہم دونوں ایک دوسروں کو بدلیں گے جہاں آپ کو بدلنا ہو گا آپ بدلیں گے اور جہاں مجھے بدلنا ہو گا میں بدلوں گی۔۔۔”
حرائمہ اس کی پیشانی پر منتشر بال ہٹاتی ہوئی بولی۔
شاہ ویز کو اس کی باتیں پرسکون کر رہی تھیں۔
حرائمہ جھکی اور شاہ ویز کی پیشانی پر اپنے مرمریں لب رکھ دئیے۔
شاہ ویز اس کے لمس پر مسکرانے لگا۔
“مجھے یقین ہے تم مجھے اپنا بنا لو گی۔۔۔”
شاہ ویز اس کے ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
حرائمہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔
اس نے اس رشتے کو دل سے قبول کیا تھا اور اسے سکھایا گیا تھا کہ اس رشتے کو ہر حال میں نبھانا پڑتا ہے شوہر جیسا بھی ہو عورت اپنی سمجھداری اور محبت سے اس رشتے میں رنگ بھر لیتی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔۔۔
****///////****
“حرم یار میری شرٹ نکال دو۔۔۔”
ازلان واش روم سے باہر نکلتا ہوا بولا۔
حرم جو مہر کے ساتھ فون پر محو گفتگو تھی ازلان کو بنا شرٹ کے دیکھ کر کھڑی ہو گئی۔
فون کان سے لگایا ہوا تھا۔
بات کرتی بےدھیانی میں اس نے اپنی شرٹ نکال کر ازلان کے سامنے کر دی۔
ازلان کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔
وہ سیاہ آنکھوں کو پورا کھولے حرم کو دیکھ رہا تھا جو انہماک سے مہر کو سن رہی تھی۔
ازلان اس کے قریب آیا۔
حرم چہرہ موڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
ازلان نے ہاتھ بڑھا کر حرم کے ہاتھ سے فون لیا اور بند کر کے بیڈ پر اچھال دیا۔
“یہ کیا ہے؟”
ازلان چہرے پر مصنوعی خفگی طاری کئے بولا۔
“کیا؟”
حرم نے کہتے ہوۓ ہاتھ میں پکڑا ہینگر دیکھا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“تم چاہتی ہو میں یہ پہنوں؟”
ازلان نے اس کی جانب ایک اور قدم بڑھایا۔
“نہ نہیں وہ غلطی سے آ گئی یہ میں نے سچ میں جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔”
ازلان کا ناراض چہرہ دیکھ کر حرم کے حواس جواب دے گئے۔
“اگر میں بھی غلطی سے یہ پہن کر باہر چلا جاتا پھر؟”
ازلان آبرو اچکا کر بولا۔
حرم لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔
“میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا سچ میں۔۔۔”
حرم معصومیت سے اسے یقین دلانے لگی۔
“تمہیں پتہ ہے تیزاب بہت تیز ہوتا ہے ایک لمحے میں جلا کر رکھ دیتا ہے۔ایک مووی دیکھی تھی میں نے اس میں شوہر اپنی بیوی پر تیزاب پھینک دیتا ہے۔۔۔”
ازلان معصومیت سے بولا۔
حرم تھوک حلق سے نیچے اتارتی خوفزدہ سی اسے دیکھنے لگی۔
“تم مجھ پر تیزاب گرانے کا سوچ رہے ہو؟”
حرم بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
“تم مجھے بہت تنگ کرتی ہو اس لئے سوچ رہا ہوں تمہیں ایک عدد سزا دے دی جاےُ کیا خیال ہے؟”
ازلان اس کے چہرے پر جھولتی لٹ کو انگلی سے کان کے پیچھے اُڑستے ہوۓ بولا۔
“نہیں۔تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔ہیں نہ؟”
حرم روہانسی ہو گئی۔
ازلان اس سے زیادہ اسے تنگ نہیں کر سکتا تھا۔
ازلان کی مسکراہٹ دیکھ کر حرم کو کچھ ڈھارس ملی۔
“میں اپنی ایک دن کی دلہن کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہوں؟”
ازلان اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا۔
“تم مجھے ہمیشہ تنگ کرتے ہو ازلان۔۔۔”
حرم کی پیشانی ازلان کی پیشانی سے مس ہو رہی تھی۔
“آغاز ہمیشہ تم کرتی ہو۔وہ بھی جان بوجھ کر نہیں۔۔۔”
ازلان منہ بناتا ہوا بولا۔
حرم نے مسکراتے ہوۓ چہرہ جھکا لیا۔
ازلان نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام لیا۔
ازلان حرم کی اٹھتی جھکتی پلکوں کو دیکھ رہا تھا۔
آہستہ سے اس کی جانب جھکا اور حرم کی پیشانی پر اپنے عنابی لب رکھ دئیے۔
ازلان کے لمس پر حرم کے رخسار گلابی ہو گئے۔
حیا کے رنگ اس کے چہرے پر بکھر گئے۔
ازلان کو اس کا یہ معصوم روپ ہی بھاتا تھا۔
****/////////****
پانچ سال بعد:
“ہادی؟”
“ہادی کہاں چھپ کر بیٹھے ہو؟”
حرم آوازیں دیتی چل رہی تھی۔
“امی آپ نے ہادی کو دیکھا ہے؟”
حرم کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔
“صبح ازلان کے ساتھ تھا اس کے بعد تو میں نے بھی نہیں دیکھا۔۔۔”
شمائلہ لاعلمی ظاہر کرتی ہوئی بولی۔
“برہان بھائی آپ پلیز باہر دیکھ کر آئیں گے؟ اکثر باہر نکل جاتا ہے۔۔۔”
حرم برہان کو دیکھتی ہوئی بولی جو اخبار پڑھ رہا تھا۔
“تم پریشان مت ہو یہیں کہیں ہو گا میں دیکھ آتا ہوں۔۔۔”
برہان اخبار رکھ کر باہر نکل گیا۔
“چھت پر دیکھا؟”
شمائلہ حرم کو دیکھتی ہوئی بولیں۔
“نہیں۔اب دیکھتی ہوں۔۔۔”
حرم کہتی ہوئی چل دی۔
“بھابھی میرا ناشتہ مت بنائیے گا۔۔۔”
حرم کچن کے دروازے میں کھڑی ہو کر بولی۔
“کیوں؟”
وہ چہرہ موڑے تعجب سے دیکھنے لگی۔
تین سالہ کشف سلیب پر بیٹھی تھی جو کہ برہان اور انیسہ کی بیٹی تھی۔
حرم اسے دیکھ کر مسکرانے لگی۔
“ازلان کہہ رہے تھے ان کے ساتھ کروں ناشتہ۔میں بعد میں بنا لوں گی۔۔۔”
حرم مسکراتی ہوئی بولی۔
“شوہر کی فرمائش ہے چلو ٹھیک ہے میں نہیں بناؤں گی۔۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
حرم بنا کچھ کہے چلی گئی۔
“یا اللہ یہ لڑکا مجھے سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی کمرے میں آ گئی۔
“ازلان آپ اتنی صبح تیار کیسے؟میں نے اب نوٹ کیا ہے۔۔۔”
حرم پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگی۔
“تم بھول گئی آج سنڈے ہے۔۔۔”
ازلان برش چلاتا ہوا بولا۔
“جی ہاں سنڈے ہے اور وہ آپ کی افلاطون اولاد غائب ہے۔۔۔”
حرم بولتی ہوئی اس کے سامنے آ گئی۔
“آج سنڈے ہے اس لئے تم نے سوچا نیند پوری کر لوں اور وہ ہماری افلاطون اولاد صبح سے میرا سر کھا رہی تھی اسی لیے میں اسے نانو گھر چھوڑ آیا۔۔۔”
ازلان اس کی جانب گھوم کر مسکرانے لگا۔
حرم کا منہ کھل گیا۔
“آپ اسے امی کی طرف چھوڑ آےُ؟ اور میں اتنی دیر سے اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔”
حرم اس کے اطمینان پر حیران تھی۔
“تمہیں کس نے کہا تھا پاگلوں کی طرح ڈھونڈوں؟ انسانوں کی طرح مجھ سے پوچھتی تو میں بتا دیتا۔۔۔”
ازلان اپنی ناک اس کی ناک سے رگڑتا ہوا بولا۔
“اب جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔۔”
“کیوں؟”
حرم آبرو اچکا کر بولی۔
“ہمیں بھی جانا ہے۔۔۔”
ازلان اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“اتنی صبح صبح میں نہیں جا رہی۔۔۔”
حرم منہ بناتی آگے چل دی۔
ازلان نے اس کی کلائی پکڑی کر واپس اپنے سامنے کھینچا۔
“میرے پاس آج بھی بہت سارے پلانز ہیں۔۔۔”
ازلان اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
“تم آج بھی مجھے ڈراتے ہو۔۔۔”
حرم اس کے پیٹ میں کہنی مارتی ہوئی بولی۔
“کیونکہ تم آج بھی ڈرتی ہو اب اگر تم دس منٹ میں تیار نہ ہوئی تو میں دوبارہ تمہیں وہاں جانے نہیں دوں گا۔۔۔”
ازلان کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔
“یہ اچھی بلیک میلنگ ہے۔۔۔”
حرم خفگی سے بولی۔
“بلکل تم ایسے ہی چلتی ہو۔۔۔”
ازلان مسکراتا ہوا فون پر انگلیاں چلانے لگا۔
حرم لب کاٹتی الماری کے پاس آ گئی۔
حرم امید سے تھی جس کے باعث ہادی کو زیادہ تر ازلان سنبھال رہا تھا۔
****////////****
“ہادی تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”
ماناب کمر پر دونوں ہاتھ رکھے چہرے پر خفگی سجاےُ ہادی کو دیکھ رہی تھی جو اس کے جھولے میں بیٹھا تھا۔
“کیوں تمہیں کیا ہے؟”
ہادی گھور کر بولا۔
“یہ میرا گھر ہے آےُ بڑے تمہیں کیا ہے۔۔۔”
ماناب منہ بسورتی ہوئی بولی۔
ارسل نے عقب سے ماناب کی پونی کھینچی تو ماناب گلا پھاڑتی اندر چل دی۔
ماناب کی چیخیں پورے گھر میں گونجتی تھیں۔
“کیا ہو گیا بھئ صبح صبح؟”
ضوفشاں بیگم اسٹک کا سہارا لئے چلتی ہوئی آئیں۔
ماناب سوں سوں کرتی زینے چڑھنے لگی۔
مہر جلدی جلدی اسکارف لیتی کمرے سے باہر نکلی۔
“کیا ہو گیا میرے بےبی کو؟”
مہر اسے گود میں اٹھاتی ہوئی بولی۔
“ماما وہ گندا ارسل۔۔۔”
ماناب روتی ہوئی مہر کے شانے پر سر رکھ کر بولنے لگی۔
“ماما ابھی پوچھتی ہیں ارسل سے۔میری بیٹی کو تنگ کرتا ہے وہ؟”
مہر اسے چپ کرواتی زینے اترنے لگی۔
ارسل اور ہادی مزے سے جھولا جھول رہے تھے۔
“ہادی آیا ہے؟”
مہر اسے دیکھتی خوشگواری سے بولی۔
ہادی مسکرا کر اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“ارسل تم نے پھر آپی کو تنگ کیا ہے؟”
مہر برہمی سے کہتی آگے بڑھی۔
“ماما میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔”
ارسل جھولے سے اتر کر پیچھے چھپ گیا۔
“ماما یہ پاگل ارسل جھوٹ بولتا ہے اتنی زور سے میرے بال کھینچے ہیں۔۔۔”
ماناب ابھی تک رو رہی تھی۔
“آ میرا بچہ۔۔۔”
مہر نقاب سے ہی اسے بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
“ارسل میں بہت پٹائی کروں گی تمہاری اور ارحم کہاں ہے؟”
مہر غصے سے دیکھتی ہوئی بولی۔
“مامی وہ چھوٹے ماموں کے ساتھ واک پر گیا ہے۔۔۔”
ہادی مہر کو دیکھتا ہوا بولا۔
“آپ یہاں کیوں بیٹھے ہو اندر آ جاؤ باہر ڈھنڈ ہے۔۔۔”
مہر اس کے سر پر ہاتھ رکھتی نرمی سے بولی۔
“ماما یہ بھی گندا ہے۔۔۔”
ماناب ہادی کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“اچھا جی ہم بابا کو بتائیں گے ٹھیک ہے؟”
مہر اس کا چہرہ صاف کرتی ہوئی بولی۔
“شاہ اب اٹھ بھی جائیں حرم آئی ہوئی ہے کب سے۔۔۔”
مہر اسے جھنجھوڑتی ہوئی بولی۔
“اچھا پانچ منٹ۔۔۔”
شاہ یہ بات دسویں مرتبہ بول چکا تھا۔
“شاہ اٹھ جائیں نہ ماناب بھی صبح سے رو رو کر بے حال ہو گئی ہے۔آپ کو جگانے آئی تھی لیکن آپ ایسے سو رہے ہیں جیسے پچھلے کئی سالوں سے سوےُ نہیں۔۔۔”
مہر اس کے منہ سے لحاف ہٹاتی ہوئی بولی۔
“کہاں ہے میری گڑیا؟”
شاہ کی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔
“آ رہی ہے ہاتھ دھونے گئی ہے۔۔۔”
مہر بولتی ہوئی سائیڈ پر آ گئی۔
اس وقت مہر کے چہرے پر سکارف نہیں تھا۔
“بابا آپ کب اٹھیں گے؟”
ماناب اس کے سینے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔
“جب میری گڑیا مجھے جگاےُ گی۔۔۔”
شاہ اس کے چہرے پر بوسہ دیتا بیٹھ گیا۔
“آپ کو پتہ ہے ارسل نے زور سے میرے بال کھینچے۔۔۔”
کچھ بھی ہو ماناب شاہ کو ضرور بتاتی تھی۔
مہر مسکراتی ہوئی شاہ کے کپڑے نکالنے لگی۔
“بابا ارسل کی پٹائی کریں گے میری گڑیا کو رُلاتا ہے وہ۔۔۔”
شاہ اسے سینے سے لگاتا ہوا بولا۔
“پھوپھو بھی آپ کو بلا رہی ہیں۔۔۔”
ماناب اس کا فون اٹھاتی ہوئی بولی۔
“اچھا جی بابا اٹھ گئے ہیں اب۔۔۔”
شاہ اس کے بال ٹھیک کرتا ہوا بولا۔
“آپ زین کے ساتھ کھیلا کرو نہ وہ تنگ نہیں کرتا کسی کو بھی۔۔۔”
شاہ مصروف سی ماناب کو دیکھتا ہوا بولا۔
“وہ سو رہا تھا بڑے چاچو بھی سو رہے تھے۔میں گئی تھی ان کے کمرے میں۔۔۔”
ماناب گیم کھیلتی ہوئی بول رہی تھی۔
“بابا کو ایک پیاری سی کِسی دو؟”
شاہ اپنا بائیں رخسار ماناب کے سامنے کرتا ہوا بولا۔
“اممما۔۔۔”
ماناب اس کا رخسار چومتی ہوئی بولی۔
شاہ مسکراتا ہوا بیڈ سے اتر گیا۔
“اچھا اب آپ گیم کھیلو بابا فریش ہو جائیں۔۔۔”
شاہ جمائی روکتا واش روم کی سمت چل دیا۔
“ماما ہم نانو گھر کیوں نہیں جاتے؟”
ہمیشہ کی طرح آج پھر سے ماناب نے وہی سوال داغا تھا۔
“کیونکہ آپ کا نانو گھر نہیں ہے۔۔۔”
مہر کہتی ہوئی اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“میرا نانو گھر کیوں نہیں ہے؟”
وہ چہرہ اٹھا کر مہر کو دیکھنے لگی۔
“سب کا نہیں ہوتا کسی کسی کا ہوتا ہے۔۔۔”
مہر اس کے بال سنوارتی ہوئی بولی۔
“ماما پونی پھر کریں ارسل نے ساری خراب کر دی ہے۔۔۔”
وہ پونی سے نکلتے بال ہاتھ میں پکڑتی ہوئی بولی۔
“ماما ابھی کر دیتی ہیں۔۔۔”
مہر اس کے سر پر بوسہ دیتی کھڑی ہو گئی۔
****////////****
“یہ دیکھو تمہاری سوتن کے میسج آ رہے ہیں۔۔۔”
شاہ ویز فون حرائمہ کے سامنے کرتا ہوا بولا۔
دونوں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاےُ کھڑے تھے۔
شام گہری ہو رہی تھی۔
اس سنسان سڑک پر ان کے سواء کوئی بھی نہیں تھا۔
سرد ہوا کے جھونکے آ کر ان سے ٹکرا رہے تھے۔
اندھیرا بڑھ رہا تھا۔
“سوتن کی تو ایسی کی تیسی۔اور آپ جو اتنے معصوم بن کر مجھے دکھا رہے ہیں نہ اپنا فون مجھے دے دیں میں سیٹ کرتی ہوں۔۔۔”
حرائمہ تاؤ کھاتی ہوئی بولی۔
“جب تم آئی تھی تو ایسا لگتا تھا بولنا نہیں آتا اور اب دیکھو اپنے معصوم سے شوہر کو کیسے آڑے ہاتھوں لیتی ہو۔۔۔”
شاہ ویز اس کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر بولا۔
حرائمہ مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“آپ کو بھی تو سدھارنا تھا نہ۔۔۔”
حرائمہ اس کی ناک دباتی ہوئی بولی۔
“یہ معرکہ تو تم نے سر کر لیا ہے پھر۔۔۔”
شاہ ویز اسے قریب کرتا ہوا بولا۔
حرائمہ سرشار سی ہو گئی۔
“ہم اتنی دیر سے باہر ہیں ابھی بھابھی کا فون آ جاےُ گا کہ زویا رو رہی ہے۔۔۔”
حرائمہ فکرمندی سے بولی۔
“اچھا نہ بچوں کے ساتھ ہی رہتی ہو ہمیشہ تھوڑا سا وقت میرے لئے بھی بچا لیا کرو۔۔۔”
شاہ ویز اپنی پیشانی اس کی پیشانی سے ساتھ لگاتا ہوا بولا۔
“میرا سارا وقت آپ ہی کے لئے ہے۔۔۔”
حرائمہ آہستہ سے بولی۔
مصنوعی روشنیوں میں سب گھر والے گارڈن میں بیٹھے تھے اردگرد بچے کھیل رہے تھے۔
شاہ اور مہر کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ان مسکراہٹوں کو دیکھ رہے تھے۔
حرائمہ اور شاہ ویز گیٹ سے اندر داخل ہوۓ تو مہر کے لب مسکرانے لگے۔
حرائمہ نے شاہ ویز کی جیکٹ پہن رکھی تھی۔
“سب کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے شاہ۔۔۔”
مہر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
“بلکل دیر سے ہی سہی لیکن سب ٹھیک ہو گیا۔۔۔”
شاہ مہر کی بازو پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
حرائمہ زویا کو اٹھا رہی تھی۔
شاہ ویز احمر سے باتیں کرتا مسکرا رہا تھا۔
مہر نے مسرت سے سر شاہ کے کشادہ سینے پر رکھ دیا۔
حرم ، ازلان ، عافیہ اور شہریار ضوفشاں بیگم اور کمال صاحب کے ساتھ محو گفتگو تھے۔
“اللہ ہمارے خاندان کو ایسے ہی ہنستا مسکراتا رکھے۔۔۔”
شاہ کے لب دھیرے دھیرے ہل رہے تھے۔
“آمین۔ بےشک ہر اندھیری رات کے بعد صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے۔۔۔”
مہر طمانیت سے بولی۔
مہر کا دل شکرگزار تھے اتنی خوشیوں کے لئے جو اس سے سنبھالے نہیں سنبھلتی تھیں۔
اگر اس نے برا وقت دیکھا تھا تو آج اللہ نے اس کا دامن خوشیوں سے بھر دیا تھا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: