Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 1

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 1

–**–**–

چلو حریم آبھی جاؤ 7 بج گئے ہیں ہمیں حیدرآباد پہنچتے پہنچتے بھی رات ہو جائے گی ،
او۔۔۔ ہو صائم رُکیں تو ، ذرا امی جی سے دعائیں تو لے لوں ، حریم نے ساس کے گلے لگتے ہوے کہا۔۔۔۔۔
جیتی رہو ہمیشہ خوش و آباد رہو ۔۔۔
آ۔۔۔۔ آمین۔ کہنے سے پہلے ہی صائم نے آکر حریم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا چلیں امی اب اجازت دیں پہنچتے پہنچتے رات ہو جاے گی ،
بیٹا تم بات تو کرتے تبادلے کی شاید کوئی حل نکل آتا عفت جہاں نے آبدیدہ ہو کر کہا ۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں امی وہاں بھی تو انسان ہی بستے ہیں ، آپ تو ایسے پریشان ہو رہی ہیں جیسے ہم حیدرآباد نہیں بھوتوں کے ڈیرے میں جارہے ہیں۔۔۔۔۔صائم کی بات سن کر حریم نے صائم کو کہا ۔۔، جناب آپکی فکر نہیں امی جی کو میری اور ہمارے آنے والے بچے کی فکر ہے ۔۔۔۔۔
ہا ویری فنی ۔۔۔۔۔۔، امی کو پہلے میری فکر ہے محترمہ امی کا اکلوتا چشم وچراغ جو ہوں ، ہاں بھئی تم دونوں کی فکر ہے لڑو نہیں اور تم دونوں سے زیادہ مجھے اپنے پوتا ،پوتی کی فکر ہے۔
اب خیر سے جاؤ۔ پہنچ کر فون ضرور کرنا مجھے فکر رہے گی ۔۔۔
اچھا امی اللہ حافظ ۔۔۔
اللہ حافظ بیٹا۔۔۔۔
حریم اور صائم دونوں نے گاڑی میں بیٹھ کر ہاتھ کے اشارے سے اللہ حافظ کیا اور زن سے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔۔۔
صائم کریم اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور حریم اسکی محبت اسکی بیوی جو امید سے تھی اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی کہ صائم کے ڈی سی آفس حیدر آباد میں تبادلے کا نوٹیفکیشن آگیا ،
اور حریم کی حالت دیکھتے ہوے بڑی مشکل سے امی نے اسکو ساتھ لے جانے کی اجازت دی تھی اب دونوں باتیں کرتے مہو سفر ہیں اور گاڑی سپر ہائی وے پر فراٹے بھرتی چل رہی ہے
حریم تو کافی دیر پہلے ہی سو گئ تھی طبیعت بھی عجیب تھی اسکی چلتی گاڑی میں بھی نیند پوری کر رہی تھی۔۔۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے دو بار گاڑی روک کر تھوڑا ریسٹ کیا تھا۔ سڑک کے ڈھابے پر کھانا کھا کر رات 12بجے پھر سے سفر کا آغاز کیا۔۔۔
گاڑی تقریباً 5 کلومیٹر دور ہوگی حیدرآباد سے کہ اچانک چلتے چلتے جھٹکے کھانے لگی اور رک گئی حریم نے چار سو اسقدر خاموشی اور اندھیرا دیکھ کر صائم سے پوچھا صائم کیا ہو گاڑی کیوں رک گئی یہاں تو اتنا اندھیرا ہے۔۔۔
ہمم اندھیرا اور سناٹا تو ہے مگر مجھے باہر جاکر دیکھنا پڑے گا کہ کیا ہوا ہے
صائم مجھے تو ڈر لگ رہا ہے آپ پلیز باہر نہ نکلیں گاڑی سے،
کیا ہوگیا یار ۔۔۔۔ باہر نہیں جاؤنگا تو پتہ کیسے چلے گا کہ کیا پرابلم ہے گاڑی رُک کیوں گئی۔۔۔ فیول تو ہے ابھی کافی ۔۔۔
حریم کو خوفزدہ دیکھ کر صائم نے اسکو گاڑی میں ہی بیٹھنے کا کہا اور گاڑی سے باہر اتر کر صائم نے بُونٹ کُھولا
ریڈیٹر میں پانی ختم ہو گیا تھا اسلیے انجن ہیٹ اپ ہو کربنخ ہو گیا۔۔۔
حریم گاڑی میں سے پانی کی بوتل تو دینا ذرا ۔۔۔ ۔
اچھا رُکیں دیتی ہوں۔۔۔
حریم پچھلی سیٹ پرُمڑ کر پانی کی بوتل اٹھانے لگی ، بوتل اٹھا کر دیکھی تو وہ بلکل خالی تھی۔۔۔۔ حریم نے صائم کو پکارا صائم بوتل تو
مل گئ مگر وہ خالی ہے ۔۔۔۔
حریم کی بات سن کر صائم کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔ خالی ہے ۔۔۔ میں نے تمھیں کہا تو تھا کہ بوتل بھی بھروا کر رکھوانا گاڑی میں ، جی مجھے رَکھوانا تو تھی مگر شاید میں بھول گئ ۔۔۔
اُ ف ۔۔۔ حریم اب کیا کروں میں اس ویرانے میں یہاں تو کہیں پانی بھی نہیں ملے گا اور ریڈیٹر میں پانی ڈالے بغیر گاڑی اسٹارٹ بھی نہیں ہوگی ۔۔۔۔
کچھ دیر صائم خاموشی سے باہر کھڑا
رہا ، اچھا سنو ایک کام کرتے ہیں تم گاڑی میں بیٹھ کر میرا انتظار کر و ، کچھ بھی ہو گاڑی سے باہر نہیں آنا اور نا ہی دروازے کھولنا او کے۔۔۔۔؟
جی ، صائم مجھے ڈر لگ رہا ث ، ڈرو نہیں بس میں جلدی پانی ڈھونڈ کر آتا ہوں یہ کہہ کر صائم سامنے
اندھیری پگڈنڈی پر چلتے چلتے غائب ہو گیا ، خوف سے حریم کی جان نکل رہی تھی،،، تقریباً آدھا گھنٹے بعد اُسی اندھیری پگڈنڈی پر صائم واپس آتا نظر آیا۔ ، صائم کو آتا دیکھ کر حریم کی جان میں جان آئی کھولو ،
حریم نے گاڑی کا دروازہ کھولا ،
یار یہاں سے کچھ دور ایک قبرستان دیکھا ہے میں نے گھر تو کوئی نظر نہیں آیا ، قبرستان میں تو پانی ہوتا ہے دونوں چلتے ہیں تمھیں چھوڑ کر گیا تھا تمھاری فکر ہو رہی تھی , قبرستان کا سُن کر تو حریم نے صاف منع کر دیا جانے سے، میں نہیں جاونگی ،
دیکھو یہاں اتنا سناٹا ہے جھاڑیاں ہیں ، ہمیں دو گھنٹےہو گے یہاں سے ایک گاڑی بھی نہیں گزری ،
اب کیا کریں کوئ ڈکیت یا جنگلی جانور نکل آیا تو تم کیسے خود کو بچاؤ گی میں بھی نہیں ہونگا،
بہت سمجھانے پر حریم مان گئ اور گاڑی کو اچھی طرح لاک کر کے صائم اور حریم اس اندھیری پگڈنڈی پر چل کر قبرستان کی جانب بڑھنے لگے رات کے تین بجے کو وقت چاروں جانب پراسراخاموشی اور اندھیرا ایک دم سے کتوں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں ، حریم نے صائم کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا، صائم جلدی سے پانی لیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے بس دو منٹ بوتل بھرنے والی ہے ، نل بہت ہلکا ہے رُکو بس ،لو بھر گئی ،
آؤ چلیں صائم نے مڑ کر حریم کو کہا کہ اچانک اسکی نظر نل سے کچھ دور بائیں جانب گئی رکو زرا،
کیا ہوا ۔۔۔۔۔ ایک منٹ رکو ۔۔۔! وہاں کچھ ہے ایسا لگ رہا ہے کوئی بیٹھا ہے ، دیکھو روشنی بھی ہے پیلی سی شاید آگ لگارکھی ہے،
چھوڑیں صائم واپس چلیں۔ ،مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ،
تم رکو میں دیکھ کر آتا ہوں ، منہ پر انگلی رکھ کر صائم نے کہا بس تم خاموش رہنا یہ کہہ کر صائم لمبے لمبے ڈھگ بھرتا ان لوگوں کے پاس پہنچا۔۔۔۔۔
اے ۔سنو۔۔۔۔۔، کوئی جواب نہیں آیا،
اے بات سنو۔۔۔ بہرے ہو کیا۔۔۔؟
صائم نے اُنکے بہت قریب جاکر بولا ،
کہتے ساتھ ہی صائم کی نظر سامنے پڑی تو دیکھا، ایک برہنہ مردہ قبر سے باہر پڑا تھا ،اور ایک لمبی داڑھی والا آدمی اسکے پیٹ کو پھاڑ کر بوٹیاں نوچ نوچ کر سامنے بیٹھے دو آدمیوں کو کھلا رہا تھا۔۔۔۔۔،سفید رنگت والے وہ دو آدمی جو تازہ خون سے لتھڑی ہوئی بوٹی دیکھ کر عجیب سی غراہٹ کے ساتھ اچھل اچھل کر منہ سے بوٹی پکڑ کر کھا رہے تھے۔۔۔۔۔۔

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 12

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: