Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 10

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 10

–**–**–

اس بچی کی مدد کریں یہ بہت تکلیف میں ہے آئیں جلدی کریں
وجاہت حسین اور احمد صاحب نے حریم کے پاؤں مضبوطی سے پکڑ لیے پھرعفت جہاں نے اور شگفتہ بیگم نے حریم کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ لیا ۔۔
جب تک انھوں نے حریم کو پکڑا عمر فاروق نے سات کالے دھاگے گن کر نکال لیے اور انکے حریم کو پکڑتے ہی پڑھائ شروع کر دی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر پڑھتے ہی پہلا دھاگہ انھوں نے حریم کے گلے میں ڈال دیا۔۔۔۔۔۔
گلے میں دھاگہ پڑتے ہی حریم کا جسم گرم ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
عمر فاروق صاحب نے حریم کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پھونک ماری اور پھر دوسرا دھاگہ بھی حریم کے گلے میں ڈال دیا ۔۔۔۔
ہر دھاگے کے گلے میں ڈالنے پر حریم کا جسم گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
چھٹا دھاگہ گلے میں پڑنے پر حریم کے جسم سے دھواں نکلنے لگا ۔۔۔۔۔کالا سیاہ بدبو دار دھواں۔۔۔
وجاہت حسین،احمد صاحب ،شگفتہ بیگم اور عفت جہاں کے ہاتھ اب اس تپش سے جلنا شروع ہوگے تھے ۔۔۔۔حریم کا جسم اس قدر گرم ہو رہا تھا جیسےبھٹی میں رکھی ہوئی کوئ لوہے کی چیز ۔۔۔۔۔سارے کمرے میں اچانک بہت سی عورتوں کے برونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں جیسے بہت سی عورتیں کسی مردے کے پاس بین ڈال رہی ہوں ۔۔۔۔ بین شروع ہوتے ہی حریم کے جسم کو جھٹکے لگنا شروع ہوگے اور اسکے ہاتھ پیر ٹیڑھے ہونے لگے ۔۔۔۔۔۔!
جیسے کسی مرگی کے مریض کے ہاتھ پیر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر فاروق کے ساتواں دھاگہ۔ حریم کے گلے میں ڈالتے ہی حریم کا جسم ٹھنڈا ہونےلگا اور کچھ ہی دیر میں اسکے جس
کا درجہ حرارت بلکل درست ہو گیا ۔۔۔
اور حریم اپنی نارمل حالت میں آچکی تھی مگر ابھی اسکے ناخن سیاہ ہی تھے۔۔۔ ۔۔۔!
عمر فاروق نے عرق گلاب کی شیشی پر کچھ پڑھ کر دم کیا اور حریم کے چہرے پر کچھ عرق گلاب چِھڑکا ،چہرے پر عرق گلاب کے چھیٹے پڑتے ہی حریم نے دونوں آنکھیں پٹ سے کھول دیں۔۔۔۔۔
عمر فاروق نے سب سے حریم کو چُھوڑنے کا کہا ۔۔۔
چھوڑ دیں اب یہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔سب نے عمر فاروق کی بات سن کر سکون کی سانس لی ۔۔۔۔
شکر ہے اللہ ۔۔۔
حریم نے سب کو دیکھا اور کوشش کرکے اٹھ کر بیٹھنے لگی رُکو بیٹا میں بٹھا دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
نہیں امی میں بیٹھ جاؤں گی۔ ۔ ۔۔۔۔
عفت جہاں نے چونک کر حریم کی جانب دیکھا کیا کہا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کچھ نہیں امی بس یہی کہا کہ میں بیٹھ جاونگی ۔۔۔ ۔۔اففففف۔ ۔۔۔یا اللہ شکر ہے تیرا ۔۔۔۔۔۔!
میری حریم ٹھیک ہوگئ ۔۔۔۔۔
امی صائم کہاں ہیں میں تو اُنکے ساتھ حیدر آباد جا رہی تھی تو میں یہاں کیسے آگئ ۔۔۔۔۔۔؟
بیٹا تم راستے میں بیہوش ہوگیں تھیں تو صائم تمھیں میرے پاس چھوڑ کر حیدر آباد چلا گیا۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔امی یہ لوگ کون ہیں ۔۔۔۔؟
بیٹا یہ صائم کے چچا چچی ہیں ۔۔۔۔۔
مگر میں نے تو کبھی نہیں دیکھا اِنکو۔۔۔ ۔۔۔؟
بیٹا یہ یہاں میں ہوتے حیدرآباد میں ہوتے ہیں۔۔۔۔
امی ٹائم کا ہو رہا ہے بیٹا رات کے آٹھ
بج رہے ہیں
اوہ اچھا۔۔۔
امی مجھے بہت نیند آرہی ہے میں سو جاؤں
ہا ں بیٹا تم آرام کرو ہم باہر ہیں ۔۔۔۔
سب لوگ حریم کے کمرے سے باہر آکر لاونج میں بیٹھ گے عمر فاروق نے باہر آکر ان سے اجازت چاہی بہن اب بچی ٹھیک ہے ۔۔۔۔
میں نے باندھ دیا ہےنا وک اسکو لے جا سکتے ہیں اور نا ہی قریب آسکتے ہیں۔۔۔
بس یہ دھاگہ جو پہنایا ہے گلے سے نہیں اتُرے اور یہ عرق گلاب بھی پانی کے ساتھ پلاتے رہیے گا ۔
اب اجازت دی۔ گھر بھی ہونے والی ہے
بہت مہربانی بھائ صاحب آپ کی نہیں بہن ایسے نہیں کہیں وہ بھی میری بیٹی ہے ۔۔۔۔۔
اچھا احمد بھائی اللہ حافظ ۔۔۔
بہت شکریہ عمر اللہ حافظ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجاہت حسین نے عمر فاروق کو گلی کے کونے پر اتارا اور وہ اپنے گھر روانہ ہوگٔے۔۔۔
عمر فاروق نے دروازے پر دستک دی مگر کوئی نہیں آیا کافی دیر زور زور سے دروازہ پیٹنے پر بھی کسی نے دروازہ نہیں کھولا پھر بجانے پر ایکدم سے خود ہی کُھل گیادروازہ ۔۔
عمر فاروق یہ سوچ کر حیران تھے کہ دروازہ کھولنے کی أوازتو کوئی نہیں آی ۔۔۔تو کیا دروازہ کھلاُ ہوا تھا ۔۔۔ اگر کھُلا ہوا تھا تو کُھل کیوں نہیں رہا تھا۔ ۔۔۔
عمر فاروق نے پریشانی سے گھر کے اندر قدم رکھا سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔جبکہ انکی بیوی تو رات کو گھر میں روشنی رکھنے کی عادی تھی ۔۔۔۔۔
عمر فاروق کے دل کو خدشے ستانے لگے ۔۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے عمرفاروق نے آیات کا ورد شروع کردیا انکے کانوں میں اب چپڑ چپڑ چبانے کی آوازیں آرہی تھیں جیسے ہی وہ کمرے کے سامنے پہنچے ۔۔۔۔۔
انہوں نے غصے سے کہا کون ہے کون ہے اندر انکی آواز سن کر گہری خاموشی پھیل گئی اور اچانک سے چار ہیولے اپنے چاروں ہاتھوں پیروں سے بھاگتے ہوئے خون میں لتھڑی زبانیں نکالے عمر فاروق سے ٹکراکر گھر سےباہر تیزی سے نکل گئے۔۔۔
عمر فاروق نے لڑکھڑاتے ہوے پیچھے ھے دیکھا تو وہاں کوئ نہیں تھا وہ تیزی سےکمرے داخل ہوئے تو اندر کا دلخراش منظرانکے لیے ناقابل برداشت تھا۔۔ ۔
اسماء اپنی پھٹی ہوئی منتظر آنکھوں سمیت دروازے کی جانب مردہ حالت میں آدھی کھائی لاش کی صورت میں پڑیں تھیں۔۔۔۔
ساری زمین تازہ خون میں ڈوبی ہوئی تھی اور کمرے سے بہت ہی غلیظ تعفن اُٹھ رہا تھا۔۔۔۔۔
عمر صاحب اپنی بیوی کو اس حالت میں دیکھ کر صدمے سے وہی۔ زمین پر بیٹھ گے اور بےبسی سےتورونے لگے یا اللہ۔۔۔۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
صبح احمد صاحب نے وجاہت حسین کو فون کیا۔۔۔۔۔ہاں ہیلو وجاہت گھر پہنچ گئے تھے
ہاں پہنچ گیا تھا
احمد ایک مسلٔہ ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔
کیا ہو ا خیریت ہے ۔۔۔۔؟
عمرکی بیوی کو کل رات وہ مار کر کھاگۓ
کیا بول رہے ہو وجاہت ۔۔۔۔۔۔؟
وہ ہی بول رہا ہوں جو ہوا ہے ظہر میں اسکی بیوی کی نماز ِ جنازہ ہے اگر آنا چاہو تو آجانا ۔۔۔۔۔ ہاں میں آؤنگا
بہت افسوس ہوا یار ۔۔ ۔۔۔مجھے سن کر
وہ خبیث وہاں بھی چلے گئے۔۔۔
ہاں عمر نے تمھاری مدد کی اس بچی کو ان سے بچایا بدلہ تو لینا ہی تھا انھوں نے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
چلو بعد میں بات کرتا ہوں اور سنو عمر نے کہا ہے کہ تمھیں بتا دوں ۔۔۔
کہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتا یہ اس کے علم سے باہر کی بات ہے ۔۔۔۔
مگر یا ر پھر میں کیا کرونگا ۔۔۔۔۔؟
عفت بہن کیا کریں گی ابھی تو اُنکے بیٹے کا بھی کچھ نہیں پتہ ۔۔۔۔۔۔
تم پریشان نہیں ہو اس نے کہا ہے کہ میں تم سے بولوں کے عبد اللہ شاہ غازی کے مزار سے تمھارا بلاوا آیا ہے ۔۔۔۔۔
کیا مطلب میرا بلاوا میں سمجھا نہیں ۔۔ ۔۔؟
احمد صاحب نے ناسمجھی سے کہا۔۔۔۔
مطلب میرے بھائ تمھیں مزار پر بلایا ہے مرشد نے۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: