Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 11

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 11

–**–**–

مرشد نے بلایا ہے کِس کے مرشد نے۔ ۔۔۔۔؟
یار احمد بات کو سمجھو عمر کے مرشد نے تمھیں بلایا ہے ۔
مگر میں انُکو ڈھونڈوں گا کہاں ۔۔۔۔؟
تم افکر مت کرو بس تم فوراً پہنچو۔۔۔
اچھا میں ابھی جاتا ہوں یہ کہہ کر احمد صاحب نے فون بند کردیا۔۔۔۔
احمد صاحب نے شگفتہ بیگم اور عفت جہاں کو بتایا کہ عمر کی اہلیہ کو مار دیا ہے اس خبیث اور اسُکےساتھیوں نے ۔۔۔۔
یا اللہ یہ کیوں ایسے کرتے پھر رہے ہیں کوئ تو انکو ُروکے ۔۔۔۔۔۔
شگفتہ بیگم دل گرفتگی سے بولیں ۔۔۔
بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔
عفت جہاں نے احمد صاحب کو مخاطب کیا ۔۔۔۔
ایک بات سمجھ نہیں آتی یہ ہیں کیا ۔۔۔۔ کوئ آدم خور انسان، کوئ جن،کوئ بھیڑیے یا خون چوسنے والی بلائیں ۔۔۔ ۔؟۔
آخر ہیں کون وہ۔۔۔۔۔۔۔؟
عفت جہاں نے احمد صاحب سے پوچھا ہی تھا کہ کمرے میں حریم داخل ہوئی ۔۔۔۔
اور عفت جہاں کے برابر بیٹھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ انُکے سامنے کرتے ہوے بولی ۔۔۔
امی یہ دیکھیں میرے ہاتھ کیسے ہو رہے ہیں عجیب پیلے سے اور دیکھیں یہ نشان بھی ہیں ہاتھوں پر شاید کسی کیڑے نے کاٹا ہے
حریم نے ہاتھ پر موجود دو ننھے سوراخ کے نشان ِدکھا کر کہا ۔۔۔۔
ارے یہ کیسے نشان ہیں ۔۔۔۔عفت جہاں نے تشویش سے بولا۔۔
شگفتہ بیگم نےدیکھتے ہوے کہا کسی کیڑے نے کاٹا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے احمد صاحب نے جب قریب آکر دیکھا تو وہ کسی کیڑے کے کاٹنے کے نشان نہیں لگتے تھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے دو نوکیلے کے نشان ہوںاحمد صاحب یہ دیکھ کر پریشان ہو اٹھے کیونکہ کل رات ہی تو عمر فاروق نے حریم کو حفاظتی دھاگہ پہنایا تھا ۔۔
تو کیا وہ سب بے اثر ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اور امی یہ ناخن بھی دیکھیں کیسے کالے ہو رہے ہیں پتہ نہیں میرے ناخن تو بلکل سفید تھے گلابی سے۔۔۔۔
حریم نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا ۔۔۔۔
کوئ بات نہیں بیٹا ایسا ہو جاتا ہے ایسی کنڈیشن میں تم پریشان نہیں ہو ہم تمھاری ڈاکٹر کے پاس جاکر کوئ کیلشیم سپلیمنٹ لے لیں گے تو ٹھیک ہو جائیں گے ناخن ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔!
جی امی۔۔۔
تمھارے بال کتنے خراب ہو رہے ہیں لاؤ میں بنا دوں عفت نے شفقت سے حریم سے کہا۔۔۔۔
جی امی بنا دیں ۔۔۔۔۔
لاؤ برش دو۔۔۔
ُ رکیں میں دے دیتی ہوں شگفتہ بیگم نے کمرے میں موجود سنگھار میز کی جانب بڑھتے ہوے کہا۔۔۔۔
یہ لیں ۔۔۔۔۔
شکریہ بہن ۔۔۔۔
آؤ بیٹا۔۔۔۔۔ بیٹھو۔۔۔۔
حریم کے بیٹھتے ہی عفت جہاں نے حریم کے بالوں میں برش کرنا شروع کیا۔۔۔۔
بال بہت اُلجھے ہوے تھے اسلیےکافی زیادہ مقدار میں ٹوٹ رہے تھے مگر جب بال سُلجھ گے تب بھی بال ہر بار برش کرنے پر اسقدر زیادہ مقدار میں ہاتھوں میں آرہے تھے کے عفت جہاں خوفزدہ ہونے لگیں ذرا سی دیر میں ہی عفت جہاں کے پیروں کے پاس ایک بڑا ڈھیر موجود تھا حریم کے اُترے ہوے بالوں کا۔۔۔
انہوں نے پریشانی سے احمد صاحب کو دیکھا یہ دیکھیں بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔!
پہلے توبال صرف ہاتھ لگانے پر ُاتر
رہے تھےاب یہ دیکھیں ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی اسکے بال نوچ رہا ہو ۔۔۔۔
احمد صاحب نے یہ سب دیکھا اور شگفتہ بیگم اور عفت جہاں سے کہا آپ دونوں اپنا اور حریم کا خیال رکھیے گا مجھے کہیں جانا ہوگا فوراً۔۔۔
کہاں جانا ہے احمد ۔۔۔۔ ۔
ضروری کام ہے ۔۔۔۔
شگفتہ حریم کا اور بہن کا خیال رکھنا میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں یہ کہہ کر احمد صاحب گھر سے باہر عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوگئے ۔۔۔۔
ادھر گھر میں موجود دونو ں خواتین خوفزدہ نظروں سے حریم کو دیکھ رہی تھیں ِجسکے سر پر اب دو مٹھی بال ہی رہ گے تھے تمام کمر تک کے بال زمین پر ٹوٹے ہوے پڑے تھے اور حریم پریشانی سے رو رہی تھی ۔۔۔۔
عفت جہاں نے حریم کو دلاسہ دے کر بہلایا
دیکھو ایسی حالت میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔
تم رُوو نہیں چپ ہو جاؤ۔۔۔۔۔
امی میرے سارے بال اتر گے میں تقریباً گنجی ہو گئ ہوں صائم کتنا پریشان ہونگے مجھے ایسے دیکھ کر ۔۔۔۔۔
تم صائم کی فکر مت کرو میں اس سے بات کر لونگی ۔۔۔۔۔
چلو ان بالوں کو میں سمیٹ کر رکھوں ذرا ۔۔۔۔
رکھیں گی کیوں امی پھینکیں انہیں ِِ۔۔۔۔۔
نہیں بیٹا پھینک نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔
کیوں امی۔۔۔۔۔۔؟
تم چھوڑو سب باتیں اپنی چچی سے باتیں کرو۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب جس وقت رکشہ سے مزار کے سامنے اُترے اس وقت دوپہر کے تقریباً سوابارہ کا وقت تھا مزار میں آج جمعرات ہونے کی وجہ سے کافی رش تھا۔۔۔۔
احمد صاحب نے سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں اور کچھ ہی دیر میں اردگرد دیکھتے ہوے وہ اوُپر پہنچ گئے عبداللہ شاہ غازی کے مزارپر پہنچ کر پہلے انھوں نے فاتحہ خوانی کی اور پھر وہاں موجود ایک مجاورِ سے پوچھا۔۔۔۔
سنو بھائ میرا نام احمد سلطان ہے میں مجھے بلایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کس نے بلایا تھا۔۔۔۔۔
مرشد نے ۔۔۔۔۔!
مجاور نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کہا بابا جی کیا ہوگیا ہے مرشد کی قبر پر پڑھ تو لی فاتحہ اب کیسی باتیں کرتے ہو بابا جی۔۔۔۔۔۔۔؟
مرشد نے بلایا آپ آگئے فاتحہ پڑھ لی اچھا رکوُ اور پیچھے کی جانب چلا گیا کچھ لمحوں بعد ایک لنگر کی تھیلی لا کر احمد صاحب کے ہاتھ پر رکھ دی یہ لو بابا جی اب مرشد کی طرف سے دعوت کھاؤ ۔۔۔بریانی ہے بکرے کی ۔۔۔۔۔
دیکھو میری بات سمجھو میں بہت پریشان ہوں مجھے بلایا تھا احمد صاحب پریشانی سے بولے۔۔۔
میری مدد کرو۔۔۔۔۔
او بابا ۔۔۔۔۔ جاؤ اب سَر نا کھاؤ وہاں بیٹھو دعوت کھاؤ جب تک دل کرے بیٹھو جب دل۔کرےتو یہاں سے چلے جانا۔۔۔۔۔
او بشیر ۔۔ ۔۔ ! بابے۔ نو ِبٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب ناکامی سے سیڑھیاں اترنے لگے اور کچھ سیڑھیاں اتر کر ہمت ہار کر بیٹھ گے اور بے بسی سے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔اے میرے اللہ میری مدد کر میرے ربّ۔۔۔۔ ،تُو تو سب جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔
میرا سمیر چلا گیا میں نے کوئ بے صبری نہیں کی کوئ شکایت نہیں کی۔ ۔۔۔اےاللہ۔۔۔۔۔
میرا بچہ تو چلا گیا میں جانتا ہوں تو چاہتا ہے میں اس بچی اور اُسکی آنے والی اولاد کی مدد کروں تبھی تو میں آج یہاں بیٹھا ہوں۔۔ مجھے بلایا تھا مرشد نے اب کوئ پتہ کوئ نشان نہیں مل رہا ۔۔۔
کہاں جاؤ ں کس سے پوچھوں۔۔ ۔۔۔،
تو ہی کوئ رَستہ دکھا دِے میرے ربّ ان خبیثوں سے جان چُھڑوانے کا۔۔۔یہ بول کر احمد صاحب نے دونوں ٹانگوں کو سمیٹا اور دونوں ہاتھ اُنکے گرِد لپیٹ کر سر اُن پر رکھ کر دل گرفتگی سے بیٹھ گئے۔۔۔۔۔
ایکدم سے اُنکو لگا کہ کسی نے انُکا نام پکارا ہے۔۔۔احمد تھک گے ۔۔۔۔۔ !
چلو آؤ۔۔۔۔۔۔۔!
احمد صاحب نے حیرانی سے اِدگرد دیکھا مگر کوئی نظر نہیں آیا جو انُکو پکار رہا ہو ۔۔۔
پھر آواز سنائی دی اٹھو احمد تمھارا بلاوا ہے مرشد منتظر ہیں ۔۔۔۔۔۔
آواز انُکے سامنے سیڑھی پر چادر اوڑھے بیٹھے ایک ملنگ کی جانب سے آرہی تھی احمد صاحب نے اسکی طرف دیکھا تو ُاسنے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
چلو احمد جلدی کرو مرشد کو انتظار کروانا اچھی بات نہیں۔۔۔۔۔
آؤ ساتھ چلو ۔۔۔۔۔یہ بول کر وہ ملنگ سیڑھیاں اترنے لگا اور مزار کے احاطے سے منسلک ایک پھول والے کے ٹھیےپر پہنچ کر رُک گیا۔ ۔
۔ احمد صاحب نے حیرانی سے اُسکو دیکھا۔۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔۔
جاؤ احمد اندر جاؤ ۔۔۔۔
تمھارا بلاوا ہے میرا نہیں ۔۔۔۔
ٹھیے پر زمین پر ایک کھجور کی چٹائی بچھی تھی اور ُاسکے بعد ایک آدھا کٹا ہوا پرانہ سا درخت لگا تھا اور اسکے پاس ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔
احمد صاحب نے اس آدمی کی طرف جھجھکتے ہوے قدم بڑھائے ۔۔۔
وہ آدمی ُانکو جھجھکتے رکُتے دیکھ کر بولا۔ ۔۔۔
آؤ احمد بہت انتظار کروایا تم نے ۔۔۔۔۔۔
اتنی دیر سے آۓ احمد۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے اُن سے پوچھا آپ کو میرا نام کیسے پتہ ہے آپ کو عمر فاروق نے بتایا ہوگا۔۔۔۔
ہمیں کوئ نہیں بتاتا ہمیں سب پتہ ہے تم بیٹھو اور غور سے میری بات سنو ُُ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہیں تو خطرناک مگر اتنے بھی نہیں کے جلاے نا جاسکیں یا مارے نا جا سکیں ۔۔۔۔
پہلے تو صرف وہیں تھے جہاں پیدا ہوے تھے تم اُنکو اپنے ساتھ یہاں بھی لے آئے ہو ۔۔۔۔
عمر نے جو کیا وہ اچھا تھا مگر اب میں نے اُسکو روکا ہے تم کرو گے اور میں بتاؤں گا ۔۔۔۔۔
تم سے بنی تو ٹھیک ورنہ پھر میں آؤنگا ۔۔۔
بہتر ہے کہ پہلے تم کوشش کرو کیونکہ احمد تمھاری غلطی سے وہ چِھڑ گے ہیں
رہا سوال اُس بچی کا اُسکا بچہ تو خطرے میں ہے اُسپر انہوں نے اپنے دانت گاڑے ہوے ہیں۔۔۔۔
ُاسمیں انُکے خون کی ملاوٹ کی ہے انہوں نے اُس رات قبرستان میں۔۔۔۔
صائم زندہ ہے ڈھونڈنا تمھیں ہوگا لاؤ گے بھی تم ہی۔۔۔ ۔ ۔
مگرمرشد صاحب میں تو کوئ علم نہیں جانتا میں تو بس دینیات کاپروفیسر تھا ۔
تم میں بات ہے احمد۔۔۔۔۔! تبھی تو تم نے ُاس رات اُنکو ُُروک لیا تھا۔۔۔۔
مگر ۔۔۔۔
اب تیاری کرو مغرب کے بعد نکلنا ہے ۔۔۔۔ “جو لایا تھا وہ چھوڑ کر آ”۔۔۔
کچھ سامان دونگا رَستہ تجھے ڈھونڈنا ہے کالی کا مندر ہے ُپرانا ، اسکے پیچھے شمشان گھاٹ ہے اُسمیں چّلہ کھینچ جاکر۔ ۔۔۔۔۔وہ رُوکے گا۔ ڈراے گا۔
ناٹک کرے گا ۔۔۔۔۔تجھے چلّہ روکنا نہیں ہے۔ اور نا ہی حِصار سے نکلنا ہے ۔۔
جب چلّہ پورا ہوجاے تو جو پہلا نظر آئے اُٹھا کر لانا ہوگا میرے پاس۔۔۔۔۔یہاں
کسی سے ایک لفظ بات نہیں کرنا ۔۔۔ کسی سے بھی راستے میں مدد نہیں مانگنا۔ وہ گھات میں بیٹھے ہونگے وار کر دیں گے توُ کوئ غلطی مت کر نا
۔۔۔۔۔ مگر کوئ مددگار ساتھ کردیں ۔۔۔
احمد صاحب نے گزارش پیش کی ۔۔۔
چل نور محمد تیرے ساتھ جاے گا مگر آدھے رستے سے وہ واپس آجاے گا کالی کے خبیثوں نے ُاسکو سوُنگھ لیا تو وہ تیرے کسی کام کا نہیں رہے گا ابھی اُسکو تیرے ساتھ بہت کام ہے ۔۔۔۔۔۔
جاکر تیاری کر نور محمد آۓ گا تجھے لینے۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے مرشد صاحب سے اجازت لی اور گھر کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔۔۔
گھر پر پہنچ کر انھوں نے شگفتہ بیگم کو بلا یا اور تمام معاملات اچھی طرح سمجھا دیے ۔۔۔۔
شگفتہ بیگم ساری بات سُن کر خوفزدہ ہوتے ہوے احمد صاحب سے کہنے لگیں۔۔۔
مگر احمد وہاں یہ سب کرتے ہوئے اگر آپ کو کچھ ہوگیا ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا اللہ مالک ہے۔ مجھے مغرب کے وقت نکلنا ہے ۔۔۔۔حریم بیٹی کہاں ہے۔۔۔۔؟
اب کیسی ہے وہ ۔۔۔۔۔؟
دوپہر سے الُٹیاں کر رہی ہے کچھ کھایا بھی نہیں اور ہر بار ایسے اُلٹی کرتی ہے جیسے پورا بکرا کھایا ہوا۔۔۔
افففف اللہ رحم کرے۔ ۔۔۔
اب جاتا ہو دیکھو اللّٰہ کامیابی دے دعا کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: