Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 12

0

تازہ مردہ چاہیے از ام رباس – قسط نمبر 12

–**–**–۔

ڈور بیل کی آواز پر احمد صاحب نے شگفتہ بیگم سے کہا
اچھا شگفتہ اللہ حافظ ۔۔۔
فی امان اللہ احمد اچھا بہن اجازت دیں دعا کیجے گا۔
میں کامیاب ہو کر لوٹوں۔۔۔۔
جی بھائی ان شاء اللہ
آپ دونوں حریم کا بہت خیال رکھیے گا۔۔۔۔۔۔
جی آپ بے فکر رہیں ہم اُسکا بہت خیال رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
احمد صاحب نے باہر آکر دروازہ کھوُلا تو دروازہ کھولتے ہی دروازے کے سامنے کل والا ملنگ کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب کو دیکھ کر دھیمی سی مسکراہٹ سے بولا ۔۔۔
احمد باؤ تم انتظار بڑا کراتے ہو۔ ۔۔۔۔۔۔
معاف کرنا نور محمد بھائ ذرا دیر ہوگئ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو باؤاحمد اب بات سنو زرا غور سے ۔۔۔۔
اب ہم جس رستے پر ہیں وہ ذرا مشکل ہے تم نے بات نہیں کرنی کسی سے بھی جب میں تمھیں چھوڑ کر واپسی آونگا۔۔۔۔
اس کے بعد بھی کسی سے بات نہیں کرنی وہ تمھیں بہت ڈرا ے گا ، تم نے ہمت نہیں چھوڑنی ڈرنا نہیں ہے۔۔۔۔
صحیح ہے ۔۔۔۔۔
ہاں میں کچھ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔۔
چلو پھر بسم اللہ کرتے ہیں یہ بول کر نور محمد نے۔ سڑک پر قدم بڑھا دیے احمد صاحب اسکے ساتھ چلنے لگے ۔۔۔کچھ دور چل کر ایک ٹیکسی کے پاس نور محمد رُک گیا۔۔۔ ۔۔
ہاں بھئی فیصل کیا حال ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
کرم ہے مالک کا۔۔۔۔۔
یہ احمد سلطان باؤ ہیں
یہ سواری تم نے بس اسٹاپ پر بٹھانی ہے اور سات گھنٹے بعد وہیں بس اسٹاپ سے اُٹھانی ہے اور مرشد کے ڈیرے پر لانی ہے ۔۔۔۔
سمجھ گے۔۔۔۔۔۔؟
جی بھائی سمجھ گیا۔۔۔۔۔
معلوم ہے نا طریقہ۔۔۔۔۔۔؟
جی بھائی۔ ۔۔۔
احمد صاحب سے بات نہیں کرنی ساتھ جو لائیں وہ بھی ڈیرے پر چھُوڑنا ہے ۔۔۔۔۔۔
شوکت کی بس ہےنا ہاں ابھی ہے ۔۔۔
چلو پھر اڑاؤ اپنا جہاز ۔۔۔۔۔۔۔
نور محمد احمد صاحب کے ساتھ ٹیکسی میں سوار ہوگیا ۔۔۔اور ٹیکسی بس اڈے کی جانب روانہ ہو گئ
بس اڈے پر پہنچ کر نور محمد نے بس میں سوار ہوکر ڈرائیور سے خیریت دریافت کی ٹھیک ہو شوکت ۔۔۔۔۔؟
جی اللہ کا فضل ہے۔
دیکھو یہ احمد صاحب ہیں اِنکو۔ جہاں ُاتارو گے وہیں سے لیتے ہوے آنا ۔۔۔۔ چار گھنٹے بعد ۔۔۔۔۔آپ بھی ساتھ ہونگے نہیں میں نہیں ہونگا یہ اکیلے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں اِنکو بٹھا لونگا ۔۔۔۔
شکریہ شوکت۔۔۔
چلیں بھئ احمد باؤ آرام سے بیٹھ جائیں ۔۔۔۔۔
سارے راستے احمد صاحب۔ کھڑکی سے باہر دیکھتے رہے اور نور محمد۔ ان کے کاندھے پر َسر رکھ کر خواب ِخرگوش کے مزے لیتا رہا۔۔۔۔۔۔۔
رات کے ساڑھے گیارہ بجے بس نے ان دونوں کو ایک اسٹاپ پر اتار دیا۔۔۔۔
احمد صاحب نے ارد گِرد دیکھا تو یہ کوئ کم آبادی والا علاقہ معلوم ہوتا تھا ۔۔۔۔۔
بس اسٹاپ کی دیوار پر پاریو کوٹ لکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اڈے سے باہر آکر نور محمد سامنے موجود ایک بڑے سے میدان کے اندر داخل ہو گیا ۔۔
احمد صاحب اُسکے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔۔۔۔
میدان کو پار کر کے اب وہ ایک آبادی والے علاقے میں داخل ہوے جہاں بہت سی گلیاں ایک قطار میں موجود تھیں اور ان میں کچے پکے سے مکانات بنے تھے۔۔۔۔۔۔۔
سیدھے ہاتھ والی گلی کیطرف نور محمد نے مڑُتے ہوےسامنے اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے نور محمد کے ہاتھ کے اشارے کی جانب دیکھا ایک طرف کچھ گھانس پھونس اور بہت سا دلدلی مٹی والا راستہ تھا ۔۔۔۔۔
نور محمد اور احمد صاحب اب گلی سےگذر کر اس گھانس پھونس اور دلدلی مٹی والے راستے پر چل رہے تھے ۔۔۔۔۔
راستے کے اختتام پر نور محمد ُرک گیا ۔۔۔۔۔
بس باؤ اب میں آگے نہیں جا سکتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اب آپ کو اکیلے جانا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے اُسکی طرف پریشانی سے دیکھا۔۔۔
سامنے وہا ں جو ٹیلا ہے اس پر جاؤ گے تو مندر ہے پھر تم خود سارا رستہ جان لوگے ۔۔۔۔۔۔
اللہ کے حوالے ۔۔۔۔
مرشد نے جو کہا تھا یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔
پھر نور محمد نے واپس مڑ کر واپسی کا سفر اختیار کیا اور احمد صاحب کچھ لمحے سوچ کر سامنے اس ٹیلے کی طرف چلنے لگے ۔۔۔۔۔
ٹیلے پر چڑھ کر سامنے تین چار قدم چلنے پر پرانے سے ایک مندر کے کھنڈرات تھے آدھا مندر اپنی خستہ حالی کی وجہہ سے زمین بوس ہو چکا تھا اور آدھا حصہ اندھیرے اور عجیب سی پرسرار خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے ہمت کرکے مندر کے اندر قدم بڑھائے ۔۔۔۔۔مندر میں عجیب وغریب پتلے دیوار میں بناے گے تھے ۔۔۔۔
سامنے ہی ایک آٹھ ہاتھوں والی عورت کامجسمہ ٹانگیں موڑے کھڑا تھا جسکی زبان سُرخ رنگ میں َرنگی تھی ۔۔۔۔۔
اوروہ کالے رنگ کی عورت کا مجسمہ اپنی پھٹی آنکھیں کھوُلے سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے اس مجسمے کی طرف چلنا شروع کیا ۔۔۔۔
اچانک سے سارے کھنڈر میں سمیر کی آواز گونجنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو ۔۔۔۔۔
آگئے آپ ۔۔۔۔۔۔
سامنے ہی سمیر کھڑا تھا ۔۔۔ایک لمحے کے لیے تو احمد صاحب کو گمان ہوا کہ وہ سمیر ہی ہے مگر پھر مرشد صاحب کی بات احمد صاحب کے ذہن میں آئی۔۔۔۔۔۔
ابو ۔۔۔۔۔
مجھے گھر لے چلیں اب سمیر رونے لگا تھا ۔۔۔
ابو۔۔۔۔۔
ابو۔۔۔۔۔۔
اور سمیر کے ساتھ بہت سی عورتیں بھی رونے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے ساری آوازوں کو ان سنُا کر کے قدم آگے کی جانب بڑھا دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ُمورتی کے پیچھے ایک راستہ تھاجو سیڑھیوں پر مشتمل تھا اور نیچے زمین میں کسی کمرے کی طرف جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے سیڑھی سے اترنا شروع کیا اور نیچے ایک شمشان گھاٹ میں پہنچ گئے۔ بہت سی ہڈیاں اور خستہ لکڑیاں وہاں بکھری پڑی تھیں احمد صاحب چلہ ّ کاٹنے کے لیے کوی قدرے صاف جگہ ڈھونڈتے ہوے آگے بڑھے تو ایسا لگا کہ اُنکے پاؤں کو کسی نے پکڑ لیا ہو ۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے ہمت سے نیچے زمین کی طرف دیکھا تو ایک ہاتھ نے انکا پاؤں پکڑا رکھا تھا۔ ۔۔۔
احمد صاحب نے ہاتھ سے آگے نظر ڈالی تو احمد صاحب کو اپنے سارے جسم میں چونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں کیونکہ نیچے جس نے انکا پاؤں پکڑ رکھا تھا وہ ایک تازہ مردار عورت تھی جسکے بکھرے بال اسکے آدھے چہرے پر پڑے تھے اور ان بالوں کے درمیان سے وہ ایک آنکھ سے انکو دیکھ رہی تھی۔ کمر سے نیچے کا تمام دھڑ۔ غائب تھا اور گوشت کے ریشے اسکے باقی جسم سے لٹک رہے تھے اور خون بہہ بہہ کر زمین پر پھیل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد صاحب نے جھٹکے سے اس عورت سے اپنا پاؤں ُُچھڑوایا۔۔۔۔۔۔۔
،⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦⁩⁦
عفت جہاں اور شگفتہ بیگم نے احمد صاحب کے جانے کے بعد حریم کےکمرے میں پہنچیں تو حریم سامنے بستر پر پریشان بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں خواتین کو اندر کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر حریم بے قراری سے کھڑی ہوئی امی مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ آؤ بیٹا میں کھانا دے دیتی ہوں ۔۔۔
امی آپ نے کیا بنایا ہے۔۔۔۔۔
میں نے تو پالک گوشت بنایا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں مجھے وہ نہیں کھانا ۔۔۔۔۔ ۔۔
اچھا اور گوشت ہے ۔۔۔۔۔
ہاں گوشت ہے بتاؤ کیا کھاؤ گی بیٹا۔۔۔۔
میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔۔
نہیں میں بنا لونگی آپ باتیں کریں ۔۔۔۔۔۔
عفت جہاں اور شگفتہ بیگم کو باتیں کرتے جب کافی دیر ہوگئ تو بھی حریم واپس کمرے میں نہیں آئ تھی
عفت جہاں اور شگفتہ بیگم پریشانی سے کچن میں جانے کے لیے اٹُھیں کچن میں پہنچ کر سامنے حریم پیٹھ ُموڑ کر کھڑی تھی شگفتہ نے دل میں سر اٹُھاتے خدشے سے خوفزدہ ہوتے ہوے آگے بڑھ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو سامنے کھڑی حریم فرج سے سارا گوشت نکالے بہت شوق سے کچاّ گوشت کھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
شگفتہ کو سامنے دیکھ کر حریم نے اپنی کالی پتلیوں والی آنکھیں اٹھا کر شگفتہ کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: